Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • اسلام آباد دھماکا کیس میں اہم پیشرفت،حملہ آور کو لانے والا رائیڈر گرفتار

    اسلام آباد دھماکا کیس میں اہم پیشرفت،حملہ آور کو لانے والا رائیڈر گرفتار

    اسلام آباد کے جی الیون سیکٹر میں جوڈیشل کمپلیکس کے قریب ہونے والے خودکش دھماکے کی تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنے آ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق پولیس نے یہ پتہ لگا لیا ہے کہ خودکش حملہ آور جوڈیشل کمپلیکس تک کیسے پہنچا۔

    تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ حملہ آور کو کچہری تک ایک آن لائن موٹرسائیکل رائیڈر نے پہنچایا، جسے محض 200 روپے کرایہ ادا کیا گیا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ رائیڈر کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور اس سے تفتیش جاری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا وہ حملہ آور کے منصوبے سے باخبر تھا یا نہیں۔ذرائع کے مطابق حملہ آور کے گولڑہ سے جی الیون تک پہنچنے کے سفر کے تمام راستوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور سیف سٹی کیمروں کی مدد سے اس کی نقل و حرکت کو ٹریس کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔اس سے قبل تحقیقاتی اداروں کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ خودکش حملہ آور جمعہ کے روز اسلام آباد پہنچا تھا اور پیرودھائی کے علاقے سے موٹر سائیکل پر سوار ہو کر جی الیون کی کچہری پہنچا۔

    یاد رہے کہ یہ دل دہلا دینے والا واقعہ گزشتہ روز دوپہر ساڑھے بارہ بجے پیش آیا جب جی الیون سیکٹر کی کچہری کے قریب ایک زوردار دھماکا ہوا۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی، جب کہ موقع پر بھگدڑ مچ گئی۔پولیس کے مطابق حملہ آور موٹرسائیکل پر سوار تھا اور پولیس کی گاڑی کے قریب پہنچتے ہی اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ اس ہولناک دھماکے میں 12 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے، جب کہ قریب کھڑی گاڑیوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ خودکش حملہ آور کے اعضا دور تک بکھر گئے، جو کچہری کے اندر بھی جاگرے۔سیکیورٹی اداروں نے واقعے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کر لیے ہیں، جبکہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (JIT) تشکیل دینے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ دہشت گرد نیٹ ورک اور سہولت کاروں کا سراغ لگایا جا سکے۔

    ابتدائی شواہد کی روشنی میں یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حملے کے پیچھے منظم دہشت گرد نیٹ ورک ملوث ہے، جس کے روابط ملک کے دیگر حصوں تک پھیل سکتے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس تعاون حاصل کیا جا رہا ہے۔

  • 27 ویں‌ترمیم،قومی اسمبلی  سے دو تہائی اکثریت سے منظور

    27 ویں‌ترمیم،قومی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت سے منظور

    قومی اسمبلی نے 234ووٹوں کے ساتھ 27ویں آئینی ترمیم منظور کرلی، جےیوآئی ف کے 4ارکان کا مخالف میں ووٹ ، پی ٹی آئی ،پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نےبائیکاٹ کیا،27 ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور کر لی گئی

    قبل ازیں قومی اسمبلی میں 27 ویں آئینی ترامیم کی شق وارمنظوری کا عمل مکمل ہوگیا اور تمام 59 شقیں منظور کرلی گئیں۔قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیرصدارت جاری ہے جس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27 ویں آئینی ترمیم کی تحریک پیش کی اور کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم کے خدوخال سینیٹ میں پیش کردیے تھے، قانون اور آئین میں ترمیم ایک ارتقائی عمل ہے۔انہوں نے کہا کہ جسٹس یحییٰ آفریدی ہی چیف جسٹس پاکستان رہیں گے۔اس کے بعد 27 ویں آئینی ترامیم پر شق وار ووٹنگ کی گئی اور تمام 59 شقیں منظور کرلی گئیں، ترمیم کی حمایت میں 233 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ مخالفت میں 4 ووٹ آئے۔جمعیت علمائے اسلام نے مخالفت میں ووٹ دیا۔حکومتی بینچز پر 233 اراکین موجود ہیں اور حکومت کو ترمیم کیلئے224 اراکین کی حمایت درکار ہے۔حکومت کی قومی اسمبلی سے آئینی ترمیم منظور کرانےکیلئے پوزیشن مستحکم ہے

    قبل ازیں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ 27 ویں آئینی ترمیم پر ووٹ دینے کے لیے وھیل چیئر پر پارلیمنٹ پہنچ گئے۔مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف اپنی نشست سے اٹھ کر خورشید شاہ کے پاس گئے اور ان کا حال احوال دریافت کیا۔ان کے علاوہ وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بھی خورشید کے پاس جا کر انہیں خوش آمدید کہا اور ان کی خیریت دریافت کی۔خیال رہے کہ خورشید شاہ گزشتہ کچھ ماہ سے علیل ہیں۔ 2 ماہ قبل انہیں این آئی سی وی ڈی سکھر میں داخل کیا گیا تھا جس کے بعد انہیں مزید علاج کے لیے کراچی منتقل کیا گیا تھا۔انہیں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی خصوصی ہدایت پر حکومت سندھ کے خصوصی طیارے کے ذریعے کراچی بھیجا گیا تھا۔

  • آئینی ترمیم کو کسی کا باپ بھی ختم نہیں کرسکتا، بلاول

    آئینی ترمیم کو کسی کا باپ بھی ختم نہیں کرسکتا، بلاول

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ ہم فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئینی تحفظ دلا رہے ہیں، مودی کو شکست دینے پر پاکستان کے فیلڈ مارشل کو دنیا بھر میں سراہا جارہا ہے ، کسی قانون سازی کی مضبوطی اکثریت سے نہیں اتفاق رائے سے ظاہر ہوتی ہے۔

    قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ دہشتگرد ایک بار پھر سر اٹھا رہے ہیں، پاکستانی قوم نے پہلے بھی دہشتگردی کو شکست دی تھی ایک بار پھر شکست دینگے، دہشتگردوں اور ملک دشمنوں کے خلاف متحد ہونا ہوگا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ 26ویں ترمیم میں کئی ماہ محنت کی کہ اتفاق رائے سے قانون سازی ہو، مولانا فضل الرحمان نے 26ویں ترمیم پر ووٹ ڈالنے کیلیے پی ٹی آئی سے اجازت مانگی تھی، اٹھارویں ترمیم سے صوبائی خود مختاری اور صوبوں کو حقوق ملے ، کسی کا باپ بھی اٹھارویں ترمیم ختم نہیں کر سکتا، اٹھارویں ترمیم پر پیپلزپارٹی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے دستخط ہیں۔آئینی عدالت میں تمام صوبوں کو برابرنمائندگی دینے کی پیپلزپارٹی کی تجویز منظور کرنے پر حکومت وقت کے شکر گزار ہیں،انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی سی ای سی نے 27ویں ترمیم پر حکومت کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا، ہم نے فیصلہ کیا آئینی عدالت قائم کرکے رہیں گے۔

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ وانا اور اسلام آباد میں دہشتگردی کی شدید مذمت کرتے ہیں، دہشتگردوں کیخلاف سب کو متحد ہونا ہوگا، قوم فتنہ الخوارج کیخلاف متحد ہے، دہشتگردوں کو پہلے بھی شکست دی، اب بھی دیں گے، 26 ویں آئینی ترمیم بھی اتفاق رائے سے منظور کرائی تھی، 27 ویں آئینی ترمیم میں میثاق جمہوریت کے نامکمل وعدے پورے کرنے جارہے ہیں، کسی آئینی ترمیم کی مضبوطی کثرت رائے سے نہیں، اتفاق رائے سے ہوتی ہے، کسی کا باپ بھی چاہے تو 18ویں ترمیم کو ختم نہیں کرسکتا، اپوزیشن کا کام صرف اپنے قیدی کو رہا کرانا نہیں، آئینی عدالت قائم کرکے رہیں گے، 27 ویں آئینی ترمیم تاریخی کامیابی ہے، 26 ویں ترمیم میں پی ٹی آئی کی رضا مندی سے آئینی بینچ بنے، مولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی سے اجازت لے کر حمایت کی تھی، آئینی عدالت میں تمام صوبوں کی نمائندگی ہوگی، محمود اچکزئی سمیت سب کو ماننا پڑے گا آئینی عدالت میں تمام صوبوں کی نمائندگی ہماری کامیابی ہے،سوموٹو کی تلوار ہر حکومت پر لٹکائی گئی، 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد اب کوئی سوموٹو نہیں لے سکے گا، میثاق جمہوریت کے دیگر نکات پر بھی عملدرآمد کیا جائے،وزیراعظم شہبازشریف محنت کررہے ہیں، ڈیلیور بھی کررہے ہیں، جب تک سیاستدان اپنی قسمت کا فیصلہ خود نہیں کریں گے یہ ملک نہیں چلے گا، اپوزیشن احتجاج کرے لیکن سیاسی میدان نہ چھوڑے، پی پی نے این ایف سی میں صوبوں کا حصہ کم کرنے کی تجویز مسترد کی، ایف بی آر کی ناکامی صوبوں پر نہ ڈالی جائے، صوبوں کو اختیار ملا تو ایف بی آر سے زیادہ ٹیکس جمع کریں گے۔

  • 27ویں آئینی ترمیم، نواز شریف قومی اسمبلی پہنچ گئے

    27ویں آئینی ترمیم، نواز شریف قومی اسمبلی پہنچ گئے

    حکومت نے 27ویں آئینی ترمیم میں 3 نئی ترامیم شامل کرنے پر غور شروع کردیا، مسودے کی شقیں 59 سے بڑھ کر 62 باسٹھ ہونے کا امکان ہے۔

    رپورٹ کے مطابق 27 ویں آئینی ترمیم کی شقوں میں اضافے کی تجویز سامنے آئی ہے، حکومت نے 3 نئی ترامیم شامل کرنے پر غور شروع کردیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مسودے کی شقیں 59 سے بڑھ کر 62 ہونے کا امکان ہے۔

    دوسری جانب مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف قومی اسمبلی اجلاس میں پہنچ گئے۔سابق وزیراعظم نواز شریف 27ویں آئینی ترمیم پر بحث کے دوران قومی اسمبلی پہنچ گئے، انہوں نے اراکین سے مصافحہ کیا۔ لیگی رہنماؤں نے پارلیمنٹ پہنچنے پر نواز شریف کا ڈیسک بجاکر شاندار استقبال کیا،نواز شریف نے ایوان میں ارکان اسمبلی سے ہاتھ ملایا جبکہ بلاول بھٹو زرداری نے نواز شریف کی نشست پر جا کر ان سے مصافحہ کیا۔اس سے قبل نواز شریف آج اسلام آباد پہنچے اور اپنے قریبی ساتھی سینیٹر عرفان صدیقی کے انتقال پر ان کے گھر گئے اور اہل خانہ سے تعزیت کی۔

    اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے جس میں آج 27 آئینی ترمیم، مختلف ترامیم کے ساتھ منظور ہونے کا امکان ہے۔

  • جب اداروں پر انگلی اٹھائی جاتی ہے تو بہت دکھ ہوتا ہے،عطا تارڑ

    جب اداروں پر انگلی اٹھائی جاتی ہے تو بہت دکھ ہوتا ہے،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمان ملک کا سب سے بڑا ادارہ ہے،اپوزیشن حقائق پس پشت ڈال رہی ہے، حقیقی قانون سازی اپوزیشن کو برداشت نہیں ہو رہی،

    عطاء اللہ تارڑکا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی دور میں آئین کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا، جب قاسم سوری آئین شکنی کر رہے تھے تو یہ کیوں چپ تھے؟، نفرت کے بیج بونے والوں کو کوئی فراموش نہیں کر سکتا، پی ٹی آئی والے مشرف کے ریفرنڈم میں پیش پیش تھے، کاش ہمیں سیاسی اپوزیشن ملی ہوتی، پی ٹی آئی نے 27 ویں ترمیم کے لئے کوئی بھی تجویز پیش نہیں کی، کاش اپوزیشن والے شق وار مزید بہتری کی تجاویز دیتے، پی ٹی آئی نے اپنے دور حکومت میں ہمیں دیوار کے ساتھ لگائے رکھا،اداروں کی تضحیک کرنے والے کس منہ سے گفتگو کر رہے ہیں، جب اداروں پر انگلی اٹھائی جاتی ہے تو بہت دکھ ہوتا ہے، اپوزیشن والے صرف ہیڈ لائن کے چکر میں اسمبلی کا فلور استعمال کرتے ہیں، کوئی تو رکن بتائے کہ اس نے آئین کو پڑھا ہو،کوئی تو بتائے کہ آئین میں عدلیہ اور مقننہ کا کیا کردار ہے؟ ویڈیو بنا کر صرف فیض احمد فیض کے چند اشعار وائرل کرتے ہیں،میثاق جمہوریت کے لئے گزشتہ تیس سال سے کام جاری ہےوانا میں 500 سے زائد کیڈٹس کو بحفاظت بازیاب کرایا گیا ہے، کیا کسی پی ٹی آئی والے نے وانا کیڈٹ کالج حملے پر مذمتی بیان دیا؟پی ٹی آئی والے اپنی محدود یادداشت سے باہر نکلیں، نو مئی کا سانحہ پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے، کور کمانڈر ہاوس، ریڈیو پاکستان پر حملوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا، شہداء کی یادگاروں کی بے حرمتی کو قوم کبھی بھول نہیں پائے گی، یہ وہ سیاسی کردار ہیں جن کے گناہوں کی فہرست بہت طویل ہےصرف سوشل میڈیا پر ویوز، لائیک اور سبسکرائب کے لئے یہ لوگ بولتے

  • من گھڑت خبروں اور بے بنیاد رپورٹنگ کے باعث بھارتی میڈیا کی ساکھ زمین بوس

    من گھڑت خبروں اور بے بنیاد رپورٹنگ کے باعث بھارتی میڈیا کی ساکھ زمین بوس

    من گھڑت خبروں اور بے بنیاد رپورٹنگ کے باعث بھارتی میڈیا کی ساکھ زمین بوس ہو گئی

    غیر مصدقہ خبروں کی بھرمار کی وجہ سے بھارتی میڈیا ایک مرتبہ پھر کڑی تنقید کی زد میں ہے،دہلی دھماکہ کے دوران کی گئی غیر ذمہ دار رپورٹنگ نے بھارت کےفالس فلیگ بیانیہ کا پول کھول دیا ،میڈیا ریٹنگ کی لالچ میں بھارتی نیوز رپورٹرز نے اہم شواہد کو جائے وقوعہ سے اٹھا لیا ، بھارتی عوام کی کڑی تنقید سامنے آ گئی،

    مودی سرکار کے جھوٹے بیانیہ کو رد کر کے بھارتی عوام کا کہنا تھا کہ ایسے نازک وقت میں جب لوگ پہلے ہی خوف و ہراس میں مبتلا تھے بھارتی چینل نے ایک نہیں دو دھماکوں کی خبر پھیلا دی،کسی سرکاری ادارے، پولیس یا قابلِ اعتماد ذرائع نے اب تک اصل صورتحال کے بارے میں کوئی انکشاف نہیں کیا ،بھارتی شہری ڈاکٹر دیوندر سنگھ نے بھی نااہل مودی کی سازش اور فالس فلیگ آپریشن کا پردہ چاک کر دیا،بھارتی شہری ڈاکٹر دیوندر سنگھ کا کہنا تھا کہ دہلی اوربہار والو !اگر کوئی شخص جلسے میں دہلی دھماکہ کے نام پر ووٹ مانگے تو سمجھ جانا دھماکہ اسی نے کرایا ہے ،اگر دہلی دھماکہ کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں تو اس کے تانے بانے حکومت سے جڑتے نظر آئیں گے، دہلی دھماکہ کوئی دہشت گرد حملہ نہیں بلکہ کرایا گیا ہے، عوام نے سیاسی ریلیوں میں دھماکہ کے نام پر ووٹ مانگنے والوں پر نظر رکھنی ہے،آپ (عوام) نے سیاسی جلسوں پر نظر رکھنی ہے کہ یہ دھماکہ کو کس طرح کسی اور سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں،

    آپریشن سندور میں بھی من گھڑت اور بے بنیاد رپورٹنگ کے باعث گودی میڈیا دنیا بھر میں جگ ہنسائی کرا چکا ہے ،گودی میڈیا اب خبروں کا نہیں بلکہ جھوٹ اور مضحکہ خیز خبروں کا تھیٹر بن چکا ہے،بھارت کے عوام سفاک مودی کے مکروہ عزائم اور اوچھے ہتھکنڈوں کو پہچان چکے ہیں

  • بلاول زرداری قومی اسمبلی پہنچ گئے

    بلاول زرداری قومی اسمبلی پہنچ گئے

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی پر ہمیشہ ہی سب سے زیادہ تنقید ہوتی ہے۔

    بلاول بھٹو زرداری اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی ملاقات ہوئی،میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج تقریر میں ہی تمام گفتگو کروں گا۔بعد ازاں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور خاتون اول و رکن قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے

    علاوہ ازیں اعظم نذیر تارڑ نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایوان میں آج ترمیم کے حوالے سے ووٹنگ ہوگی، اگر اس میں ترمیم کی ضرورت ہوئی تب سینیٹ میں پیش ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کہیں پر ابہام ہے تو بہتر ہے کہ اس پر بحث ہو، آج اس کو ایوان میں لے جائیں گے اور اس پر بحث ہوگی، آئین کو تبدیل کرنے کا اختیار صرف پارلیمان کے پاس ہے۔وزیر قانون کا کہنا تھا کہ آئینی کورٹ بھی اس کو دوبارہ نہیں لکھ سکتی۔

  • قومی اسمبلی اجلاس، محمود اچکزئی نے ترمیمی بل کی کاپی پھاڑ دی

    قومی اسمبلی اجلاس، محمود اچکزئی نے ترمیمی بل کی کاپی پھاڑ دی

    قومی اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن رہنما محمود خان اچکزئی نے 27 ویں ترمیم کے بل کی کاپی پھاڑ دی۔

    27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے قومی اسمبلی کے اجلاس میں محمود خان اچکزئی اظہار خیال کے لیے کھڑے ہوئے تو انہوں نے 27 ویں ترمیم کے بل کی کاپی پھاڑ دی۔محمود اچکزئی نے کہا کہ یہ حکومت فارم 47 پر قائم کی گئی ہے، اب یہ بتائیں ایسی پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم کا اختیار دیا جا سکتا ہے۔

    دوسری جانب میڈیا سے گفتگو میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ترامیم کا حصہ نہیں بنیں گے، واک آوٹ اور احتجاج بھی کریں گے جب کہ تقریریں بھی کریں گے۔نواز شریف کی پارلیمنٹ میں متوقع آمد کے سوال پر بیرسٹر گوہر نے جواب دیا کہ نواز شریف آئیں نا آئیں وہ اب پاکستانی سیاست سے غیر متعلق ہو چکے ہیں، پارلیمان میں نواز شریف کے لیے کسی نے بھی ریڈ کارپٹ نہیں بچھائی۔

  • ٹک ٹاک کا کری ایٹرز کو محفوظ تر، بااختیار بنانے کا نیا فیچرز متعارف

    ٹک ٹاک کا کری ایٹرز کو محفوظ تر، بااختیار بنانے کا نیا فیچرز متعارف

    ٹک ٹاک نے حال ہی میں اپنے پلیٹ فارم کو تمام صارفین کے لیے مزید محفوظ، معاون اور بااختیار بنانے کے لیے نئے فیچرز کا ایک جامع سلسلہ متعارف کرایا ہے۔ ٹک ٹاک پاکستان میں کری ایٹرز کو حفاظتی اور پیداواری ٹولز فراہم کر رہا ہے تاکہ وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں پر توجہ مرکوز کر سکیں، اپنے مداحوں سے بہتر رابطہ قائم کر سکیں، اور پلیٹ فارم پر زیادہ کنٹرول محسوس کریں۔ یہ فیچرز کری ایٹرز کو غیر مطلوب رویوں سے محفوظ رکھتے ہیں اور انہیں اپنے کنٹنٹ اور مداحوں کے تعاملات کو بہتر طور پر منظم کرنے کے قابل بناتے ہیں۔

    ٹک ٹاک نے "کری ایٹر کیئر موڈ” کے نام سے ایک نیا فیچر متعارف کرایا ہے، جو پاکستانی کری ایٹرز کو اپنے کمنٹس سیکشن کو بہتر طور پر منظم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ جب یہ فیچر فعال کیا جاتا ہے تو کری ایٹر کیئر موڈ خودکار طریقے سے اُن تبصروں کو چھپا دیتا ہے جو توہین آمیز، ہراساں کرنے والے یا فحش نوعیت کے ہوں، خاص طور پر ایسے کمنٹس جنہیں کری ایٹرز پہلے ہی رپورٹ یا حذف کر چکے ہوں۔اس سے کری ایٹرزکو یہ سہولت ملتی ہے کہ وہ تبصروں کی نگرانی میں زیادہ وقت ضائع کرنے کی بجائے ویڈیوز بنانے توجہ دیں۔اس فیچر کواسمارٹ ٹیکنالوجی کی طاقت حاصل ہے جو ہر کری ایٹرسے سیکھتی ہے اور طرزِ عمل کے نمونوں کی بنیاد پر ایک محفوظ اور زیادہ مثبت کمیونٹی ماحول کو یقینی بناتی ہے۔

    کنٹنٹ چیک لائٹ (Content Check Lite) کے نام سے بھی ، کری ایٹرز کے لیے، ایک اور مفید ٹول متعارف کرایا گیا ہے، جو صرف ٹک ٹاک اسٹوڈیو کے ویب ورژن میں دستیاب ہے۔یہ فیچر کری ایٹرز کو یہ چیک کرنے کی سہولت دیتا ہے کہ اُن کی ویڈیوز کی رسائی محدود تو نہیں ہوگی یعنی ان کی ویڈیوز”فور یو(For You) “ پیج پر ظاہر ہوں گی یا نہیں، تاکہ وہ پوسٹ کرنے سے پہلےاُن میں ضروری تبدیلیاں کر سکیں۔ممکنہ مسائل کی ابتدائی نشاندہی کے ذریعے، کری ایٹرز اپنے کنٹنٹ میں ایسی تبدیلیاں کر سکیں گے جو کمیونٹی گائیڈ لائنزکے مطابق ہوں، جبکہ اُن کی تخلیقی آزادی بھی برقرار رہے۔اس کے علاوہ، پلیٹ فارم نے کری ایٹر اِن باکس (Creator Inbox) بھی متعارف کرایا ہے جو یہ ایک پیشہ ورانہ میسجنگ ہب ہے، جس میں فوری جوابات کے ٹیمپلیٹس اور میسیجز جو ابھی تک پڑھے نہیں گئے ہیں اور اسٹار لگائے گئے پیغامات کے لیے الگ فولڈرز شامل ہیں۔یہ سہولت کری ایٹرزکے لیے اپنے مداحوں کے ساتھ رابطے کو مزید آسان اور تیز بناتی ہے۔

    یہ ٹولز اِس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ٹک ٹاک کری ایٹرز کو آن لائن کمیونٹیز بنانے کے سفر میں محفوظ، بااعتماد اور معاون ماحول فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔پلیٹ فارم پاکستانی کری ایٹرزکو ترغیب دیتا ہے کہ وہ اِن ٹولز سے فائدہ اٹھائیں، اِن کے استعمال کا طریقہ سیکھیں، اور پھر اِنہیں استعمال کرتے ہوئے ایک مثبت، بامقصد اور محفوظ تخلیقی تجربہ تشکیل دیں۔

  • نواز شریف پاکستانی سیاست سے غیر متعلقہ ہو چکے ہیں،بیرسٹر گوہر

    نواز شریف پاکستانی سیاست سے غیر متعلقہ ہو چکے ہیں،بیرسٹر گوہر

    تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ ہم واک آؤٹ بھی کریں گے، احتجاج بھی کریں گے اور تقریریں بھی کریں گے۔ ہم نے اعلان کیا ہوا ہے کہ ہم ان ترامیم کا حصہ نہیں بنیں گے۔

    اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کے دوران بیرسٹر گوہر سے ایک صحافی نے سوال پوچھا کہ نواز شریف کی پارلیمنٹ آمد پر پر پی ٹی آئی کیسے ویل کم کرے گی،اس پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ نواز شریف آئیں یا نہ آئیں وہ اب پاکستانی سیاست سے غیر متعلقہ ہو چکے ہیں۔ نواز شریف تو خیال کر رہے تھے کہ مجھے لا کر ریڈ کارپٹ بچھائی جائے گی، پارلیمان میں نواز شریف کے لیے کسی نے بھی ریڈ کارپٹ نہیں بچھائی، نواز شریف نے پارلیمان میں صرف تین الفاظ بولے ہیں، جو بندہ ریٹائر ہو جاتا ہے یہ اس کے خلاف ہو جاتے ہیں، خواجہ آصف سے پوچھیں پرویز اشرف حکومت کے خلاف کیا آپ پٹیشن لے کر افتخار چوہدری کے پاس نہیں گئے؟ میاں صاحب خود وکیل بن کر ممیو گیٹ کمیشن بنوانے نہیں گئے؟