Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بسنت،پنجاب حکومت کا فری بس،رکشے چلانے کا اعلان

    بسنت،پنجاب حکومت کا فری بس،رکشے چلانے کا اعلان

    لاہور: پنجاب حکومت نے بسنت کے موقع پر امن و امان، شہری سہولت اور ٹریفک کے مسائل کے پیش نظر ایک اہم اجلاس منعقد کیا، جس میں بسنت کے دوران شہریوں کی نقل و حرکت کو محفوظ اور سہل بنانے کیلئے متعدد فیصلے کیے گئے۔

    اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے اعلان کیا کہ پنجاب حکومت نے 6، 7 اور 8 فروری کو لاہور میں بسیں اور رکشے فری چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تین روز کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کو مفت کرنے کا مقصد شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنا اور سڑکوں پر ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنا ہے۔عظمیٰ بخاری نے واضح کیا کہ حکومت چاہتی ہے کہ شہری ان دنوں میں موٹر سائیکلوں کا کم سے کم استعمال کریں تاکہ حادثات، ٹریفک جام اور دیگر مسائل سے بچا جا سکے۔ ان کے مطابق بسنت کے دوران شہریوں کی بڑی تعداد گھروں کی چھتوں پر موجود ہوتی ہے، جس کے باعث سڑکوں پر ٹریفک کے غیر ضروری دباؤ سے گریز ناگزیر ہے۔

    وزیر اطلاعات نے مزید بتایا کہ حکومت نے بسنت سے قبل 30 دسمبر سے پتنگوں اور ڈوروں کی مینوفیکچرنگ کی اجازت دے دی ہے، تاکہ اس عمل کو منظم، قانونی اور سرکاری نگرانی میں رکھا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر قانونی اور خطرناک ڈوروں کے استعمال کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی اور اس حوالے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سخت ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔عظمیٰ بخاری نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پنجاب حکومت بسنت کو محفوظ، منظم اور خوشگوار انداز میں منانے کیلئے تمام ضروری انتظامات کر رہی ہے، جبکہ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ حکومتی ہدایات پر عمل کریں اور اپنی اور دوسروں کی جان کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔انہوں نے کہا کہ ٹریفک پولیس، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ ادارے مکمل طور پر متحرک ہوں گے تاکہ بسنت کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

  • اسلام آباد میں یو اے ای صدر کی آمد،لاہور میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا،سیکورٹی سخت

    اسلام آباد میں یو اے ای صدر کی آمد،لاہور میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا،سیکورٹی سخت

    متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، جس کے پیشِ نظر وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی کے سخت انتظامات نافذ کر دیے گئے ہیں۔ ریڈ زون، سفارتی انکلیو اور اہم شاہراہوں کے اطراف خصوصی سکیورٹی اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ سرکاری نقل و حرکت کو سہل بنانے کے لیے ٹریفک مینجمنٹ پلان بھی فعال کر دیا گیا ہے۔

    علاوہ ازیں، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے قافلے کو بھیرہ کے مقام پر بغیر کسی رکاوٹ کے رسائی حاصل رہی، جہاں مختصر قیام کیا گیا۔ قافلہ بعد ازاں حافظ آباد عبور کر چکا ہے اور اس وقت لاہور کی جانب رواں دواں ہے۔قافلے کی آمدورفت اور متعلقہ سکیورٹی انتظامات کے باعث آئندہ چند گھنٹوں کے دوران لاہور کے داخلی راستوں پر ٹریفک جام کا خدشہ ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ سفر سے قبل اپنے راستوں اور اوقاتِ سفر کی منصوبہ بندی کریں، ممکنہ تاخیر کو مدِنظر رکھیں اور مقامی ٹریفک ڈائیورشنز پر عمل کریں۔

  • برطانیہ میں پی ٹی آئی اور بیرونی آقاؤں کا گٹھ جوڑ

    برطانیہ میں پی ٹی آئی اور بیرونی آقاؤں کا گٹھ جوڑ

    برطانیہ میں پی ٹی آئی اور بیرونی آقاؤں کا گٹھ جوڑ ، بین الاقوامی قوانین پر عملداری کے لیے کڑا امتحان بن گیا،
    پی ٹی آئی نے اپنے مذموم سیاسی مقاصد کی خاطر پاکستان مخالف ایجنڈے کے لئے تمام حدود وقیود اور بین الاقوامی قوانین کو پس پشت ڈال دیا

    گزشتہ کافی عرصہ سے برطانیہ کی سر زمین کو پی ٹی آئی کے بھگوڑے یو ٹیوبرز اور شر پسند عناصر بیرونی آقاؤں کی ایما پر پاکستان اور فوج مخالف بیانیہ کے لئے استعمال کر رہے ہیں،پی ٹی آئی برطانیہ کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ سے 23دسمبر 2025 کو ایک انتہائی اشتعال انگیزویڈیو جاری کی گئی،ویڈیو میں برطانوی سرزمین پر کھڑے مظاہرین نے کھلے عام فیلڈ مارشل کو بم دھماکہ میں قتل کی دھمکی دے رہے ہیں،خاتون نے اشتعال انگیز گفتگو کے دوران کہا کہ کوئی بھی فیلڈ مارشل کو کاربم دھماکہ میں قتل کردےگا، یہ نہ تو آزادی اظہار رائے ہے اور نہ ہی سیاسی اختلاف بلکہ یہ اشتعال انگیزی اور براہ راست دہشتگردی پر اکسانے کے مترادف ہے ،انتہائی افسوسناک امر یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ٹرولز نے اس کھلم کھلا اشتعال اور دھمکی آمیز ویڈیو کو آگے پھیلایا اور اپنے آفیشل اکاونٹ سے شیئرکیا،برطانیہ میں اس طرح کی دھمکی آمیز گفتگو بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1373 میں دہشتگردی ،اشتعال انگیزی، مالی معاونت یا حمایت کو روکنے کی ذمہ داری عائد کی گئی ہے ، برطانیہ کا انسدادی دہشگردی ایکٹ 2006 بھی دہشتگردی کی حوصلہ افزائی سنگین جرم قرار دیتاہے،اس طرح کا انتہا پسندانہ ، پرتشدد اور دہشتگردی پر اُکسانے والی اشتعال انگیز تقاریر قابل مذمت ہے،مصدقہ ذرائع کے مطابق پاکستان نے اشتعال انگیز اور پرتشدد تقاریر کے لیے برطانوی سرزمین کے غلط استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے

    یہ واقعہ پی ٹی آئی کی منافقانہ پالیسی کو بے نقاب کرتا ہے، جہاں ایک طرف مذاکرات کا دعویٰ کیا جاتا ہے اور دوسری طرف یہ جماعت ریاست مخالف ایجنڈے پر عمل پیرا ہے،مصدقہ ذرائع کے مطابق ،پاکستان نے برطانیہ سےمطالبہ کیا ہے کہ اس واقع میں ملوث افرادکی شناخت اورتحقیقات کےبعدان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے،یہ واقعہ بین الاقوامی قوانین، انسداد دہشتگردی کی ذمہ داریوں، اور ذمہ دار ریاستی طرز عمل کے لیے برطانیہ کے عزم کا امتحان ہے

  • ایران میں سابق افغان پولیس افسر قتل

    ایران میں سابق افغان پولیس افسر قتل

    ایران کے دارالحکومت تہران میں افغان صوبے تخار کے سابق اعلیٰ پولیس افسر اکرم الدین سریع کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔ واقعہ تہران کے ایک رہائشی علاقے میں اس وقت پیش آیا جب اکرم الدین سریع اپنے گھر کے قریب موجود تھے۔

    ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق حملہ آوروں نے سابق افغان پولیس چیف کو انتہائی قریب سے نشانہ بنایا اور ان کے سر پر گولی ماری، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ فائرنگ کے اس واقعے میں ان کے ہمراہ موجود ایک ساتھی بھی ہلاک جبکہ ایک اور شخص شدید زخمی ہو گیا، جسے فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا،تہران پولیس ڈپارٹمنٹ نے واقعے کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ قتل کی وجوہات جاننے اور حملہ آوروں کی شناخت کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور قریبی علاقوں میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بھی حاصل کی جا رہی ہے، تاہم تاحال کسی مشتبہ شخص کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق اکرم الدین سریع افغانستان کے صوبہ تخار میں پولیس چیف کے طور پر خدمات انجام دے چکے تھے اور سیکیورٹی معاملات میں ایک اہم شخصیت سمجھے جاتے تھے۔ 2021 میں افغان طالبان کے اقتدار میں واپس آنے کے بعد انہوں نے افغانستان چھوڑ دیا تھا اور بعد ازاں ایران میں رہائش اختیار کر لی تھی۔

  • برطانوی سرزمین پر کھڑے مظاہرین کی کھلے عام فیلڈ مارشل کو بم دھماکہ میں  قتل کی دھمکی

    برطانوی سرزمین پر کھڑے مظاہرین کی کھلے عام فیلڈ مارشل کو بم دھماکہ میں قتل کی دھمکی

    کار بم دھماکے میں قتل کردو،یو کے برطانیہ میں پی ٹی آئی کے مظاہرے اور سوشل میڈیا پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کو دھمکیاں ،حکومت پاکستان نے برطانوی حکومت کو فیصلہ کن کارروائی کے لیے خط لکھ دیا

    برطانوی سرزمین پر کھڑے مظاہرین نے کھلے عام فیلڈ مارشل کو بم دھماکہ میں قتل کی دھمکی دی،برطانیہ میں پی ٹی آئی اور بیرونی آقاؤں کا گٹھ جوڑ ، بین الاقوامی قوانین پر عملداری کے لیے کڑا امتخان ہے،پی ٹی آئی نے اپنے مذموم سیاسی مقاصد کی خاطر پاکستان مخالف ایجنڈے کے لئے تمام حدود وقیود اور بین الاقوامی قوانین کو پس پشت ڈال دیا ،گزشتہ کافی عرصہ سے برطانیہ کی سر زمین کو پی ٹی آئی کے بھگوڑے یو ٹیوبرز اور شر پسند عناصر بیرونی آقاؤں کی ایما پر پاکستان اور فوج مخالف بیانیہ کے لئے استعمال کر رہے ہیں،پی ٹی آئی برطانیہ کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ سے 23دسمبر 2025 کو ایک انتہائی اشتعال انگیزویڈیو جاری کی گئی،ویڈیو میں برطانوی سرزمین پر کھڑے مظاہرین نے کھلے عام فیلڈ مارشل کو بم دھماکہ میں قتل کی دھمکی دے رہے ہیں،خاتون نے اشتعال انگیز گفتگو کے دوران کہا کہ کوئی بھی فیلڈ مارشل کو کاربم دھماکہ میں قتل کردےگا، یہ نہ تو آزادی اظہار رائے ہے اور نہ ہی سیاسی اختلاف بلکہ یہ اشتعال انگیزی اور براہ راست دہشتگردی پر اکسانے کے مترادف ہے ،انتہائی افسوسناک امر یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ٹرولز نے اس کھلم کھلا اشتعال اور دھمکی آمیز ویڈیو کو آگے پھیلایا اور اپنے آفیشل اکاونٹ سے شیئرکیا،برطانیہ میں اس طرح کی دھمکی آمیز گفتگو بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے ،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1373 میں دہشتگردی ،اشتعال انگیزی، مالی معاونت یا حمایت کو روکنے کی ذمہ داری عائد کی گئی ہے ، برطانیہ کا انسدادی دہشگردی ایکٹ 2006 بھی دہشتگردی کی حوصلہ افزائی سنگین جرم قرار دیتاہے،اس طرح کا انتہا پسندانہ ، پرتشدد اور دہشتگردی پر اُکسانے والی اشتعال انگیز تقاریر قابل مذمت ہے،مصدقہ ذرائع کے مطابق پاکستان نے اشتعال انگیز اور پرتشدد تقاریر کے لیے برطانوی سرزمین کے غلط استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے ،یہ واقعہ پی ٹی آئی کی منافقانہ پالیسی کو بے نقاب کرتا ہے، جہاں ایک طرف مذاکرات کا دعویٰ کیا جاتا ہے اور دوسری طرف یہ جماعت ریاست مخالف ایجنڈے پر عمل پیرا ہے،مصدقہ ذرائع کے مطابق ،پاکستان نے برطانیہ سےمطالبہ کیا ہے کہ اس واقع میں ملوث افرادکی شناخت اورتحقیقات کےبعدان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے،یہ واقعہ بین الاقوامی قوانین، انسداد دہشتگردی کی ذمہ داریوں، اور ذمہ دار ریاستی طرز عمل کے لیے برطانیہ کے عزم کا امتحان ہے

    حکومت پاکستان نے برطانوی حکومت کو خط لکھ کر سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی، تشدد اور عدم استحکام پیدا کرنے کی کرنے والوں کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے،حکومت پاکستان نے برطانوی حکومت سے منفی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کیلئے ہوم آفس کو خط لکھ دیا، خط میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ایسی ویڈیو زیرگردش ہیں جس میں آرمی چیف کو قتل کرنےکا مطالبہ کیا جارہا ہے، یہ مواد نہ بیان بازی اور نہ ہی سیاسی ہے، یہ واضح طور پر اقوام متحدہ کے رکن ملک کی اعلیٰ فوجی شخصیت کے قتل پر اکساتا ہے،خط میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی سے منسلک پلیٹ فارمز سے مسلسل انتشار، تشدد کی کالز دی جا رہی ہیں، خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ برطانیہ، قتل اور تشدد کی کالز دینے والوں کو شناخت اور تحقیقات کرکے ان کے خلاف مقدمہ چلائے،حکومت پاکستان کی جانب سے لکھے گئے خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی اور اس سے منسلک پلیٹ فارمز کے پاکستان میں تشدد، نفرت اور بڑے پیمانے پر بےامنی پھیلانے کی تحقیقات کی جائے، پاکستان میں تشدد پر اکسانے اور بے امنی پھیلانے پر پی ٹی آئی پرفیصلہ کن قانونی وانتظامی کارروائی کی جائے جس میں اس پرپابندی بھی شامل ہو۔

    خط میں مزید کہا گیا ہے کہ برطانیہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف تشدد، بےامنی اور دہشت گردی کو ہوا دینے کیلئے استعمال نہ ہو، یہ معاملہ برطانیہ کی انسداد دہشت گردی، بین الاقوامی قانون اورذمہ دار ریاستی طرز عمل کیلئے عزم کا امتحان بھی ہے، برطانیہ کی خاموشی کو غیر جانبداری نہیں سمجھا جائے گا اور اس کے باہمی اعتماد اور تعاون پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے، پاکستان برطانیہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور توقع ہے کہ اس معاملے سے فوری قانونی طور پر نمٹا جائے گا۔

  • اسلام آباد بلدیاتی انتخابات، کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع

    اسلام آباد بلدیاتی انتخابات، کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع

    اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی سہولت کے پیشِ نظر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع کا اعلان کر دیا ہے۔

    اس فیصلے کا مقصد زیادہ سے زیادہ امیدواروں کو انتخابی عمل میں شرکت کا موقع فراہم کرنا اور کاغذاتِ نامزدگی کی تکمیل کے لیے مناسب وقت مہیا کرنا ہے۔ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق کاغذاتِ نامزدگی جمع کروانے کی مدت میں دو دن کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اب امیدوار 30 دسمبر 2025 تک اپنے کاغذاتِ نامزدگی متعلقہ ریٹرننگ افسران کے دفاتر میں جمع کرا سکیں گے۔ اس سے قبل کاغذاتِ نامزدگی جمع کروانے کی آخری تاریخ 27 دسمبر 2025 مقرر کی گئی تھی۔

    الیکشن کمیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ متعدد امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے اضافی وقت دینے کی درخواستیں موصول ہو رہی تھیں، جس کے پیشِ نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔ حکام کے مطابق اس توسیع سے نہ صرف انتخابی عمل میں شفافیت بڑھے گی بلکہ مقامی سطح پر جمہوری سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔

  • متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان اسلام آباد پہنچ گئے

    متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النیہان ایک اعلیٰ سطحی سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے،

    یو اے ای کے صدر کی پاکستان آمد پر ان کا شاندار تاریخی استقبال کیا گیا، پاکستانی حدود میں داخل ہوتے ہی پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے یو اے ای کے صدر کے طیارے کو حصار میں لیا اور فضائی سلامی دی،بعد ازاں نور خان ائیر بیس پہنچنے پر وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وفاقی وزرا نے معزز مہمان کا پرتپاک استقبال کیا، متحدہ عرب امارات کے صدر کو 21 توپوں کی سلامی دی گئی اور گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔

    دورے کے دوران شیخ محمد بن زید النیہان صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم محمد شہباز شریف اور دیگر اہم حکومتی و ریاستی رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ، اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری، توانائی، تجارت، دفاع، اور علاقائی و عالمی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال متوقع ہے۔

    حکام کے مطابق اس دورے کو پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف باہمی تعاون کو مزید تقویت ملے گی بلکہ مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبوں اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور عوامی سطح پر تعلقات پہلے ہی مضبوط ہیں، اور یہ دورہ ان رشتوں کو مزید مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔

  • پنجاب، مین ہول کے ڈھکن چوری کرنے والوں کے خلاف کاروائی کا فیصلہ

    لاہور: پنجاب کے سیکریٹری ہاؤسنگ نور الامین مینگل نے مین ہول کے ڈھکن چوری کرنے کے واقعات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس سنگین مسئلے میں ملوث افراد کے خلاف قید اور بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے۔

    سیکریٹری ہاؤسنگ نے اس حوالے سے تمام اضلاع کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ مین ہول کے ڈھکن چوری کرنے والے عناصر کی نشاندہی کے لیے اسپیشل برانچ کی ٹیموں کی مکمل معاونت حاصل کی جائے۔ نور الامین مینگل نے مزید ہدایت کی کہ تمام منیجنگ ڈائریکٹرز واسا (واٹر اینڈ سینیٹیشن ایجنسیاں) اپنے اپنے اضلاع میں سرگرم مافیا کا سراغ لگانے اور ان کے خلاف مؤثر کارروائی میں بھرپور کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ واسا حکام فیلڈ میں نگرانی بڑھائیں، حساس مقامات کی نشاندہی کریں اور پولیس و دیگر اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں۔سیکریٹری ہاؤسنگ نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مین ہول کے ڈھکن چوری کرنے میں نشے کے عادی افراد کی تعداد نسبتاً کم جبکہ منظم اور پیشہ ور مافیا زیادہ ملوث ہے، جو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت یہ ڈھکن چوری کر کے انہیں فروخت کرتے ہیں۔

    انہوں نے اعلان کیا کہ مین ہول مافیا کو قابو میں لانے کے لیے سخت قوانین متعارف کرائے جائیں گے، جن کے تحت نہ صرف چوری میں ملوث افراد بلکہ خرید و فروخت میں شامل تمام عناصر کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔ نور الامین مینگل کا کہنا تھا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی غفلت یا نرمی برداشت نہیں کی جائے گی۔سیکریٹری ہاؤسنگ نے شہریوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے علاقوں میں کھلے یا غائب مین ہول ڈھکنوں کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں تاکہ بروقت اقدامات کیے جا سکیں اور کسی بڑے حادثے سے بچا جا سکے۔

  • پشاور ہائیکورٹ، پی ٹی آئی رہنماؤں کے 22 مقدمات کی تفصیلات طلبی،سماعت ملتوی

    پشاور ہائیکورٹ، پی ٹی آئی رہنماؤں کے 22 مقدمات کی تفصیلات طلبی،سماعت ملتوی

    پشاور ہائیکورٹ، پی ٹی آئی رہنماؤں کے 22 مقدمات کی تفصیلات طلبی کیسز پر لارجر بینچ کی سماعت ملتوی کر دی گئی

    پشاور ہائیکورٹ، سماعت چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ، جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس محمد فہیم ولی نے کی،ایڈوکیٹ جنرل، ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور درخواست گزاران کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ پراسیکیوٹر جنرل اسلام آباد نے درخواستوں پر سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کی ہے، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے کہا کہ آپ نے وقت پر کیوں سماعت ملتوی کرنے کی درخواست جمع نہیں کرائی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ان کے بیٹے کی شادی ہے اس لیے ملتوی کرنے کی درخواست کی ہے،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ وکیل درخواست گزاران کیا چاہتے ہیں،وکیل اسد قیصر نے کہا کہ اگر پراسیکیوٹر جنرل ملتوی کرنا چاہتے ہیں، کوئی اعتراض نہیں،بس ہماری حفاظتی ضمانت میں توسیع کی جائے،ہمیں نہیں معلوم کہ لارجر بینچ کو کس پر گائیڈ کرنا ہے، جسٹس ارشد علی نے کہا کہ آپ کی جو درخواستیں ہیں، اس پر ہی لارجر بینچ کو اسسٹ کیا جائے، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے کہا کہ ہمیں ضمانت درخواست کی وجوہات اور ٹیریٹوریل جریسڈکشن پر اسسٹ کیا جائے، جسٹس ارشد علی نے کہا کہ اس سے قبل بھی پنڈی سے لوگ آئے اور مقدمات کی تفصیلات ہم سے مانگ رہے تھے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ درخواست گزاران کو جب ریلیف دیا جاتا ہے وہ کیا متعلقہ اداروں کے آگے پیش ہوتے ہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہاں سے ریلیف لے کر سب پیش نہیں ہوتے، کچھ درخواست گزاران ہی ہوئے تھے، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے کہا کہ اگر کوئی یہاں سے ضمانت لیتا ہے اور اس کو صحیح استعمال نہیں کرتا، وہ سزا کا مرتکب ہوگا، عدالت نے کہا کہ پراسیکیوٹر جنرل اسلام آباد کی غیر موجودگی کی وجہ سے سماعت ملتوی کی جاتی ہے، وکیل درخواست گزاران اگلی سماعت پر اپنی مکمل رپورٹس جمع کروائیں،جو درخواست گزاران نے متعلقہ عدالت سے رجوع کر چکے ہیں، ان کی حفاظتی ضمانت میں توسیع کی جاتی ہے،جن درخواست گزاران نے متعلقہ عدالتوں سے رجوع نہیں کیا وہ تین دن میں وہاں پیش ہو جائیں،

  • بلوچستان میں انسدادِ پولیو مہم، 3 ہزار والدین کے انکار کا انکشاف

    بلوچستان میں انسدادِ پولیو مہم، 3 ہزار والدین کے انکار کا انکشاف

    بلوچستان میں بچوں کو پولیو جیسے موذی مرض سے بچانے کے لیے جاری انسدادِ پولیو مہم کے دوران قطرے پلانے سے انکار کرنے والے والدین کی تعداد سامنے آ گئی ہے۔

    ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) حکام کے مطابق صوبے بھر میں 15 سے 21 دسمبر تک جاری رہنے والی سات روزہ انسدادِ پولیو مہم کامیابی کے ساتھ مکمل کی گئی۔ای او سی حکام کا کہنا ہے کہ اس مہم کے دوران صوبے میں مقررہ ہدف کا 99 فیصد حاصل کر لیا گیا، جو مجموعی طور پر ایک بڑی کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق پولیو ٹیموں نے دور دراز، حساس اور دشوار گزار علاقوں میں بھی گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے۔تاہم اس کامیابی کے باوجود ایک تشویشناک پہلو بھی سامنے آیا ہے۔ ای او سی حکام کے مطابق بلوچستان میں مجموعی طور پر 3 ہزار والدین ایسے رپورٹ ہوئے جنہوں نے اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے انکار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ انکاری والدین کی بڑی تعداد مختلف وجوہات کی بنا پر ویکسینیشن سے گریز کرتی ہے، جن میں غلط فہمیاں، افواہیں اور آگاہی کی کمی شامل ہیں۔

    صوبائی حکام کے مطابق انکاری کیسز پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور متعلقہ علاقوں میں علماء، مقامی عمائدین اور صحت کے ماہرین کے ذریعے آگاہی مہم تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ والدین کو پولیو ویکسین کی افادیت اور بچوں کی صحت پر اس کے مثبت اثرات سے آگاہ کیا جا سکے۔ پولیو کے مکمل خاتمے تک انسدادِ پولیو مہمات جاری رکھی جائیں گی اور انکاری والدین کو قائل کرنے کے لیے مربوط حکمتِ عملی اپنائی جائے گی۔ حکام کے مطابق پولیو ایک لاعلاج بیماری ہے جس سے بچاؤ کا واحد مؤثر ذریعہ بروقت ویکسینیشن ہے، اس لیے والدین کا تعاون نہایت ضروری ہے۔