Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • اخباری خبروں کے لیے عدالت میں ڈائیلاگ نہ ماریں، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

    اخباری خبروں کے لیے عدالت میں ڈائیلاگ نہ ماریں، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

    لاہور ہائیکورٹ میں پراپرٹی اونر شپ ایکٹ کے تحت کی گئی کارروائیوں کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے ڈی آر سی کمیٹی کے ذریعے حاصل کیا گیا قبضہ فوری طور پر واپس کرنے کا حکم دے دیا۔

    لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے محمد علی کی درخواست پر سماعت کی جس دوران پراپرٹی اونر شپ ایکٹ کے تحت قبضہ حاصل کرنے والا شہری بھی عدالت میں پیش ہوا، سماعت کے دوران چیف جسٹس نے قبضہ حاصل کرنے والے شہری کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ غلط فیصلے کا دفاع کیسے کر سکتے ہیں ،وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈی سیز کے ماتحت قائم کمیٹیوں نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پہلے قبضہ واپس کریں، پھر مزید بات ہوگی، کیوں نہ کمیٹی ممبران کے خلاف کارروائی شروع کی جائے، وکیل خود تسلیم کر رہا ہے کہ ڈی سیز نے اختیارات سے تجاوز کیا، اگر پٹواری وقت پر کام کرتا تو یہ معاملہ پیدا ہی نہ ہوتا،سسٹم کو بائی پاس کیا جائے گا تو ایسے مسائل جنم لیں گے۔

    سماعت کے دوران وکیل نے کہا کہ اگر سسٹم سے انصاف نہیں ملے گا تو لوگ کہاں جائیں؟ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اخباری خبروں کے لیے عدالت میں ڈائیلاگ نہ ماریں، وہ جانتی ہیں کہ عدالتوں میں کتنے پرانے کیسز زیر التوا ہیں،وکیل نے بتایا کہ دیپالپور میں 40 ایکڑ پراپرٹی پر مخالفین قابض ہیں جبکہ مخالف فریق کے وکیل نے کہا کہ ڈی آر سی کمیٹیز نے 27 دن میں قبضہ دلایا، اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ قبضے کا آرڈر پاس کس نے کیا؟ کمیٹی کا قبضے کا آرڈر مس کنڈکٹ کے زمرے میں آتا ہے، وکیل نے تسلیم کیا کہ ڈی سیز نے غلط فیصلہ دیا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ خود مان رہے ہیں کہ ان کے پاس قانون کے تحت فیصلے کا اختیار ہی نہیں تھا،عدالت نے واضح کیا کہ ڈی سی اس معاملے میں فیصلہ کرنے کا مجاز نہیں اور اصل سوال یہ نہیں کہ درخواست گزار پراپرٹی کا مالک ہے یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ کیا ڈی سیز کو ایسے فیصلوں کا اختیار حاصل ہے یا نہیں۔

  • خیبر پختونخوا،بلوچستان،دہشتگردوں کیخلاف کاروائیاں جاری،کوہلو میں‌7 ہلاک

    خیبر پختونخوا،بلوچستان،دہشتگردوں کیخلاف کاروائیاں جاری،کوہلو میں‌7 ہلاک

    خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگردوں کیخلاف سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری ہیں

    ضلع نصیرآباد کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی میں ریلوے ٹریک پر حالیہ تخریب کاری کا تعلق بلوچ لبریشن آرمی کے سابق رہنما اسلم بلوچ اور ان کے ساتھیوں کی برسی سے ہو سکتا ہے، جو کل منائی جا رہی ہے۔ حکام نے اعلان کیا ہے کہ احتیاطی تدبیر کے طور پر آج بلوچستان میں ٹرین سروس معطل رہے گی، جبکہ سیکیورٹی فورسز متاثرہ ریلوے ٹریک پر تحقیقات اور مرمتی کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حکام نے تصدیق کی کہ متعلقہ اداروں کے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور مسافروں کی حفاظت اور جلد از جلد ٹرین آپریشن کی بحالی کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ اہم تنصیبات کے تحفظ اور عوامی سلامتی کو برقرار رکھنا ان کی اولین ترجیح ہے۔

    کالعدم بلوچ ریپبلکن گارڈز (بی آر جی) کے ترجمان، جس نے اپنا نام دوستین بلوچ بتایا، نے ضلع نصیرآباد کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی میں ریلوے ٹریک پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ بیان کے مطابق گروہ کے مسلح افراد نے ریلوے لائن پر بارودی مواد نصب کر کے دھماکہ کیا جس سے ٹریک کو نقصان پہنچا۔ سیکیورٹی فورسز اور متعلقہ اداروں کا عملہ موقع پر پہنچ گیا ہے، علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے اور دھماکے کی نوعیت اور ملوث افراد کی شناخت کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ حکام نے کہا کہ اہم تنصیبات کے تحفظ اور عوامی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔

    سیکیورٹی فورسز نے ضلع کوہلو میں انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن کے دوران سات دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر آپریشن شروع کیا گیا۔ کارروائی کے دوران سات دہشت گرد مارے گئے جبکہ متعدد شدید زخمی ہوئے جو فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ آپریشن کے دوران دہشت گردوں سے اسلحہ اور بڑی مقدار میں گولہ بارود برآمد کیا گیا۔ سیکیورٹی فورسز کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بعد ازاں علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف ایسی کارروائیاں جاری رہیں گی، جبکہ دہشت گردوں کی شناخت اور وابستگی جانچنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

    ذرائع کے مطابق رات کے وقت ضلع ٹانک کے علاقے شادی خیل کے قریب گاؤں مغزی/رغزی میں ایک دینی مدرسے کو نامعلوم ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں مدرسے کے نو طالب علم زخمی ہو گئے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ زخمیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کر کے قریبی اسپتالوں منتقل کیا۔ مقامی حکام نے حملے کی مذمت کی اور مکمل تحقیقات کا اعلان کرتے ہوئے بچوں اور تعلیمی اداروں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ حملے کا مقصد اور ذمہ داران کی شناخت تاحال زیرِ تفتیش ہے۔

    حکام کے مطابق میران علی کے علاقے فقیران چوک کے قریب سیکیورٹی فورسز کی گشت پر آئی ای ڈی دھماکہ کیا گیا۔ دھماکے کے بعد دونوں جانب سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ دھماکے کے نتیجے میں چار سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے جنہیں قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے۔ واقعے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا اور سیکیورٹی سخت کر دی گئی۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور پولیس نے ضلع لکی مروت میں مشترکہ انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن کے دوران ایک انتہائی مطلوب دہشت گرد کمانڈر کو ہلاک کر دیا۔ ہلاک ہونے والے دہشت گرد کی شناخت برکت عرف برکتی اور ابوذر کے نام سے ہوئی، جو متعدد جعلی شناختوں کے تحت منظم دہشت گرد نیٹ ورک چلا رہا تھا۔ وہ دہشت گردی، سیکیورٹی فورسز پر حملوں، قتل، اقدامِ قتل اور بھتہ خوری سمیت دس سے زائد مقدمات میں مطلوب تھا۔ ذرائع کے مطابق وہ سابق لیویز اہلکار ہدایت اللہ، کانسٹیبل حافظ زینت اللہ اور دیگر افراد کے ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھا۔ آپریشن وانڈہ امیر خان کے نواحی علاقے میں کیا گیا۔ امن کمیٹی کے مقامی رضاکاروں نے بھی امن و امان برقرار رکھنے میں مدد کی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بعد ازاں علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔

    ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کلاچی میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن کیا جس میں دو دہشت گرد ہلاک ہو گئے، جن میں ان کا سرغنہ دلاور بھی شامل تھا۔ دلاور متعدد دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے باعث قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھا اور اس کی گرفتاری پر حکومت نے 40 لاکھ روپے انعام مقرر کر رکھا تھا۔ ہلاک دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق شمالی وزیرستان میں انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن کے دوران کالعدم گل بہادر گروپ سے وابستہ ایک خودکش بمبار ہلاک ہو گیا۔ ہلاک ہونے والے دہشت گرد کی شناخت مہدی کے نام سے ہوئی، جو گزشتہ دو سال سے خودکش حملوں کی تربیت اور منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ وہ تنظیم جیشِ فرسانِ محمد اور اس کی خودکش ونگ خالد بن ولید یونٹ کا رکن تھا۔ ذرائع کے مطابق وہ دیگر ساتھیوں کے ساتھ گھات لگا کر حملے کی تیاری کر رہا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کر کے اسے ہلاک کر دیا، جبکہ دیگر دہشت گرد فرار ہو گئے۔ سیکیورٹی فورسز کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بعد ازاں علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔

    سیکیورٹی فورسز نے ضلع خیبر کے علاقے بارہ میں انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن کیا جس کے دوران کالعدم تنظیم کے مقامی کمانڈر خمیم کے گھر سمیت متعدد دہشت گرد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔ ذرائع کے مطابق دہشت گردوں اور ان کے نیٹ ورک کی موجودگی کی مصدقہ اطلاعات پر کارروائی کی گئی۔ آپریشن کا مقصد دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کا خاتمہ اور ان کی سرگرمیوں کو ناکام بنانا تھا۔ سیکیورٹی فورسز کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بعد ازاں علاقے میں سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق بنوں کے علاقے بسی خیل تھانے کی حدود میں پولیس نے دہشت گرد حملے کو ناکام بنا دیا۔ حکام کے مطابق نامعلوم دہشت گردوں نے حملے کی کوشش کی، تاہم بروقت کارروائی پر وہ پسپا ہو گئے۔ پولیس کی بھاری نفری جدید اسلحے اور بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ موقع پر پہنچی، جس پر حملہ آور موٹر سائیکلیں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ پولیس نے موٹر سائیکلیں تحویل میں لے کر ملزمان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بعد ازاں مقامی افراد اور پولیس اہلکاروں نے سیکیورٹی فورسز سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ریلی نکالی اور دہشت گردی کی مذمت کی۔ حکام کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

  • امریکا کا نائجیریا میں داعش کے خلاف فضائی حملہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا نے شمال مغربی نائجیریا میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف ایک طاقتور اور مہلک فضائی حملہ کیا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے جمعرات کی شب اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ یہ کارروائی ان کی ہدایت پر بطور کمانڈر اِن چیف انجام دی گئی۔صدر ٹرمپ کے مطابق داعش کے جنگجو شمال مغربی نائجیریا میں “بے گناہ شہریوں، خصوصاً مسیحی برادری” کو نشانہ بنا رہے تھے اور ان حملوں کی شدت ایسی تھی جو کئی برسوں بلکہ صدیوں میں نہیں دیکھی گئی۔ انہوں نے کہا، “میں نے پہلے ہی ان دہشت گردوں کو خبردار کیا تھا کہ اگر انہوں نے مسیحیوں کے قتلِ عام کو نہ روکا تو اس کی سخت قیمت چکانا پڑے گی، اور آج رات وہ وقت آ گیا ہے۔”

    امریکی فوج کے افریقہ میں آپریشنز کی ذمہ دار کمان افریقہ کمانڈ (AFRICOM) نے بھی اس فضائی حملے کی تصدیق کی ہے۔ افریکوم کے مطابق یہ کارروائی نائجیریا کی حکومت کی درخواست پر کی گئی، جس میں داعش کے متعدد دہشت گرد مارے گئے۔ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے سوشل میڈیا پر نائجیریا کی حکومت کے تعاون اور اشتراکِ عمل پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور “مزید اقدامات” بھی متوقع ہیں، تاہم انہوں نے اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

    یہ امریکی عسکری کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند ہفتے قبل صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ نائجیریا میں مسیحیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اسی بنیاد پر انہوں نے پینٹاگون کو ممکنہ فوجی کارروائی کی منصوبہ بندی کی ہدایت دی تھی۔ تاہم نائجیریا کی حکومت نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک میں سرگرم مسلح گروہ مسلم اور مسیحی دونوں برادریوں کو نشانہ بناتے ہیں اور یہ صورتحال محض مذہبی بنیادوں تک محدود نہیں بلکہ ایک پیچیدہ سکیورٹی مسئلہ ہے۔

    نائجیریا کی وزارتِ خارجہ نے صدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد جاری بیان میں تصدیق کی کہ نائجیریا دہشت گردی اور پرتشدد انتہاپسندی کے مستقل خطرے سے نمٹنے کے لیے امریکا سمیت بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ منظم سکیورٹی تعاون میں مصروف ہے۔ وزارت کے مطابق مذہبی آزادی کے تحفظ اور شہریوں کے جان و مال کے دفاع کے لیے نائجیریا کی حکومت بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔

    ماہرین کے مطابق شمالی اور شمال مغربی نائجیریا میں داعش سے منسلک گروہوں اور دیگر شدت پسند تنظیموں کی سرگرمیاں خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بنی ہوئی ہیں، جس کے باعث بین الاقوامی تعاون میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

  • لائیو پروگرام کے دوران مداخلت،احسن اقبال کی وضاحت آ گئی

    لائیو پروگرام کے دوران مداخلت،احسن اقبال کی وضاحت آ گئی

    وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے نجی ٹی وی پر لائیو پروگرام کے دوران ہونے والی مداخلت پر وضاحت پیش کردی۔

    گزشتہ روز وفاقی وزیر احسن اقبال نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں شریک تھے اور گفتگو کر رہے تھے کہ اسی دوران کسی کی مداخلت کی وجہ سے ان کا موبائل بند ہوگیا،یہ ویڈیو جیسے ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو صارفین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ آخر کار وفاقی وزیر کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا۔،اس پر صحافی اجمل جامی کے ٹوئٹ کا جواب دیتے ہوئے احسن اقبال نے لکھا کہ ایک شخص کی بحث کے باعث اس وقت ایک مختصر سی رکاوٹ آگئی تھی جب میں لائیو شو میں گفتگو کر رہا تھا اور وہ شخص اس سے لاعلم تھا، احسن اقبال نے کہا کہ کچھ ہی دیر بعد میں نے شو کو دوبارہ جوائن کر لیا تھا، مجھے امید ہے کہ اس معاملے پر غیرضروری سیاست نہیں کی جائے گی۔

    دوسری جانب وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بھی سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا میری بھی بات ہوئی ہے احسن اقبال سے تو انہوں نے کہا کہ کوئی بچہ غیر متوقع طور پر کمرے میں داخل ہوگیا تھا، سب کچھ ٹھیک ہے اور انہوں نے دوبارہ شو بھی جوائن کیا۔

    واضح رہے کہ نجی ٹی وی شو پر وفاقی وزیر احسن اقبال کی ویڈیو کال بند کروا دی گئی تھی، واقعہ اے آر وائی نیوز پر اینکر وسیم بادامی کے شو کی براہ راست نشریات کے دوران پیش آیا،احسن اقبال پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے گفتگو کر رہے تھے۔ وہ بذریعہ ویڈیو کال پروگرام میں شریک تھے۔ 11:16 بجے اچانک کوئی نامعلوم شخص آیا۔ احسن اقبال نے گفتگو کرتے ہوئے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔ اگلے ہی لمحے اس شخص کی آواز آئی بند کرو، بند کرو اسے،” اسی کے ساتھ اس نے موبائل پر جھپٹنے کی کوشش کی لیکن احسن اقبال نے اچانک ہڑبڑاہٹ میں موبائل فون اٹھایا اور کال منقطع ہوگئی،اس اچانک واقعے سے وسیم بادامی بھی پریشان ہوگئے اور انہوں نے سوال کیا کہ کیا احسن اقبال اپنے گھر سے پروگرام میں شریک تھے۔ انہوں نے اپنی ٹیم سے کہا کہ معاملے کا پتا کروائیں۔ اس کے بعد وہ وقفے پر چلے گئے۔ تقریباً سات منٹ کے وقفے کے بعد وسیم بادامی دوبارہ لائیو ہوئے لیکن انہوں نے احسن اقبال کے معاملے پر کوئی بات نہیں کی،

  • بنگلہ دیشی سابق وزیراعظم کے صاحبزاد ے17 سال بعد بنگلہ دیش پہنچ گئے

    بنگلہ دیشی سابق وزیراعظم کے صاحبزاد ے17 سال بعد بنگلہ دیش پہنچ گئے

    سابق بنگلادیشی وزیرِاعظم خالدہ ضیا کے صاحبزادے، بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے قائم مقام چیئرمین اور ملک کی اپوزیشن سیاست کے اہم ترین رہنما طارق رحمان 17 سالہ طویل جلاوطنی کے بعد وطن واپس پہنچ گئے۔ ان کی واپسی کو بنگلادیش کی سیاست میں ایک بڑی پیش رفت اور اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

    طارق رحمان کی ڈھاکا آمد پر پارٹی کارکنوں اور حامیوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی۔ شہر کے مختلف علاقوں میں بی این پی کے جھنڈے، بینرز اور پوسٹرز آویزاں کیے گئے، جبکہ کارکنوں نے نعرے بازی کرتے ہوئے طارق رحمان کا والہانہ استقبال کیا۔ ڈھاکا کی کئی مرکزی شاہراہیں عوامی اجتماع کی وجہ سے بھر گئیں اور فضا سیاسی جوش و خروش سے گونجتی رہی۔سیاسی مبصرین کے مطابق طارق رحمان کی وطن واپسی کو فروری 2026 میں متوقع عام انتخابات کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی موجودگی بی این پی کو ایک بار پھر منظم اور متحرک کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے، جبکہ حکمران جماعت کے لیے بھی یہ ایک بڑا سیاسی چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔ طارق رحمان کو پارٹی کی انتخابی حکمتِ عملی کا معمار سمجھا جاتا ہے اور ان کی قیادت میں بی این پی آئندہ انتخابات میں بھرپور کردار ادا کرنے کی کوشش کرے گی۔

    طارق رحمان کی سیاسی زندگی اتار چڑھاؤ سے بھرپور رہی ہے۔ وہ 2008 میں مختلف مقدمات کے تناظر میں 18 ماہ قید کاٹنے کے بعد علاج اور دیگر وجوہات کی بنا پر برطانیہ منتقل ہو گئے تھے، جہاں وہ طویل عرصے تک مقیم رہے۔ اس دوران انہوں نے جلاوطنی میں رہتے ہوئے بھی پارٹی امور اور سیاسی بیانات کے ذریعے بنگلادیشی سیاست میں اپنی موجودگی برقرار رکھی۔بی این پی رہنماؤں نے طارق رحمان کی واپسی کو “جمہوری جدوجہد کی نئی شروعات” قرار دیا ہے، جبکہ عوامی حلقوں میں بھی اس پیش رفت پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے مہینوں میں طارق رحمان کا سیاسی کردار، بی این پی کی حکمتِ عملی اور حکومت کے ردعمل سے بنگلادیش کی سیاست میں ایک نئی سمت متعین ہو سکتی ہے۔

  • ریاست کے ساتھ کوئی نہیں لڑ سکتا ، وزیراعلیٰ پنجاب

    ریاست کے ساتھ کوئی نہیں لڑ سکتا ، وزیراعلیٰ پنجاب

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہےکہ پنجاب میں کسی کو اجازت نہیں دوں گی کہ اقلیتوں سے ٹکر لے کیونکہ آپ کی حفاظت اور آپ کا تحفظ میری ذمہ داری ہے۔

    مریم نواز نے لاہور میں کرسمس کی تقریب میں شرکت کی جہاں انہوں نے مسیحی رہنماؤں کے ہمراہ کرسمس کیک کاٹا اور کرسمس گرانٹ کے چیک تقسیم کیے،اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ جو کسی کا حق مارے گا اس کو معاف نہیں کیاجائے گا، جو کسی کے ساتھ زیادتی کرے گا اس کا مقابلہ ریاست سےہے، ریاست کے ساتھ کوئی نہیں لڑ سکتا ہے، پنجاب میں کسی کو اجازت نہیں دوں گی کہ اقلیتوں سے ٹکر لے، آپ کی حفاظت، آپ کا تحفظ میری ذمہ داری ہے،کسان کارڈ، ہونہار اسکالر شپ دیتے ہوئے کبھی کسی سے مذہب کا نہیں پوچھا، ہاؤسنگ اسکیم میں سوا لاکھ گھر دیے جن میں بڑی تعداد اقلیتوں کی ہے اقلیتوں کا بجٹ 600 فیصد بڑھایا ہے، اقلیت دوست پنجاب خواب ہے، سکھ اپنی پگڑی نہیں اتارتے، انہیں ہیلمٹ پہننے سے استثنیٰ دیا، ہم نے اقلیتوں کو سر کا تاج بنایا ہے، بھارتی وزیراعلیٰ نے مسلم خاتون کا نقاب اتار کر مسلمانوں کی تذلیل کی ہے۔قائد اعظم محمد علی جناح وہ عظیم رہنما ہیں جنہوں نے منتشر قوم کو یکجا کر کے انکی تقدیر بدل دی،ہم ہندو، عیسائی یا سکھ نہیں ہم پاکستانی ہیں، میرے سامنے کیس آتا ہے تو میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ تعلق کس مذہب سے ہے، میں انصاف کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہوں،پنجاب اب اقلیتوں کے لیے محفوظ جگہ ہے۔ میں یقین دلاتی ہوں کہ جب تک میں وزیر اعلیٰ ہوں کسی اقلیتی شہری کے ساتھ زیادتی پر میں مضبوط دیوار بن کر کھڑی ہوں گی قبرستان سمیت ہر ضرورت پر فوری اقدام ہوگا آپ کے پاس مکمل اختیار ہے

  • افغانستان سے تاجکستان پردہشتگردوں کا حملہ،دو تاجک بارڈر گارڈ ہلاک

    افغانستان سے تاجکستان پردہشتگردوں کا حملہ،دو تاجک بارڈر گارڈ ہلاک

    تاجکستان اور افغانستان کی سرحد پر ایک بار پھر کشیدگی دیکھنے میں آئی ہے جہاں افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں نے تاجکستان میں سرحد پار حملہ کر دیا۔ مسلح جھڑپ کے دوران تاجک بارڈر گارڈ کے دو اہلکار جاں بحق ہو گئے، جبکہ جوابی کارروائی میں سیکیورٹی فورسز نے تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

    تاجک حکام کے مطابق حملہ آور بھاری اسلحے سے لیس تھے اور انہوں نے سرحدی پوسٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ جھڑپ کے بعد دہشت گردوں کے قبضے سے بڑی تعداد میں خودکار ہتھیار، دستی بم، گولہ بارود اور جدید نائٹ ویژن ڈیوائسز برآمد کی گئی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ حملہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تھا،حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ نہ صرف تاجکستان کی خودمختاری پر حملہ ہے بلکہ خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی سنگین خطرہ ہے۔ تاجکستان نے الزام عائد کیا ہے کہ افغان طالبان نے بین الاقوامی ذمہ داریوں اور تاجکستان کے ساتھ ریاستی سرحد پر سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کے وعدوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

    تاجک حکام نے واضح کیا ہے کہ افغانستان کی جانب سے چند روز کے دوران یہ تیسرا سرحد پار حملہ ہے، جس سے صورتحال مزید تشویشناک ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دہشت گرد گروہ اور اسمگلرز سرحدی علاقوں میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں،تاجکستان کی حکومت نے دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی علاقائی سالمیت، قومی سلامتی اور سرحدی تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

  • پاکستانی مسیحیوں کی قومی ترقی اور دفاع میں خدمات قابلِ فخر ہیں،فیلڈ مارشل عاصم منیر

    پاکستانی مسیحیوں کی قومی ترقی اور دفاع میں خدمات قابلِ فخر ہیں،فیلڈ مارشل عاصم منیر

    آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورس فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے راولپنڈی کے چرچ میں کرسمس کی تقریبات میں شرکت کی اور مسیحی برادری کو کرسمس کی مبارکباد دی۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امن، ہم آہنگی اور خوشحالی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور قائداعظم کے وژن پر زور دیا جس میں مساوات، آزادی اور مذہبی رواداری کو اہمیت دی گئی تھی۔آئی ایس پی آر کے مطابق انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ پاکستان کے نظریے کی بنیاد ہے اور پاکستانی مسیحیوں کی قومی ترقی اور دفاع میں خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ پاکستان کے نظریے کی بنیاد ہے،پاکستانی مسیحیوں کی قومی ترقی اور دفاع میں خدمات قابلِ فخر ہیں، بین المذاہب ہم آہنگی اور اتحاد پاکستان کی اصل طاقت ہے،پاک فوج تمام شہریوں کے وقار، سلامتی اور مساوی حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے،

  • یومِ قائد کی تقریب قائداعظم ریزیڈنسی زیارت میں شایانِ شان انداز میں منعقد

    یومِ قائد کی تقریب قائداعظم ریزیڈنسی زیارت میں شایانِ شان انداز میں منعقد

    بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناحؒ کے یومِ قائد کے موقع پر زیارت میں واقع تاریخی قائداعظم ریزیڈنسی میں ایک پروقار اور شایانِ شان تقریب منعقد کی گئی۔

    تقریب میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، کمانڈر 12 کور لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم خان، آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) میجر جنرل عاطف مجتبیٰ، اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی، قبائلی عمائدین، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سے آئے ہوئے معزز مہمانوں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔تقریب کے دوران مقامی بچوں نے ملی نغمے اور تقاریر پیش کر کے بابائے قوم کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا، جسے شرکاء نے بے حد سراہا۔

    اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اپنے خطاب میں قائداعظم محمد علی جناحؒ کی بے مثال قومی خدمات، اصولی قیادت اور جدوجہدِ آزادی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ قائد کے افکار، ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط پر عمل پیرا ہو کر ہی پاکستان کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔ خیبرپختونخوا کے شہر کوہاٹ سے آئے ہوئے ایک شہری نے کہا “میں یومِ قائد کی اس تقریب میں شرکت کے لیے کوہاٹ سے آیا ہوں۔ بلوچستان کے عوام کی پاکستان سے محبت دیکھ کر دل خوش ہو گیا ہے۔آج ہم عظیم قائد بابائے قوم کو خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں جنہوں نے دنیا کو ایک آزاد اور عظیم اسلامی ریاست کا تحفہ دیا۔تقریب کا اختتام ملک کی سلامتی، استحکام، ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعا کے ساتھ ہوا۔

  • پولیس وردی پہننے پر مقدمہ کی درخواست،صبا قمر کا ردعمل آ گیا

    پولیس وردی پہننے پر مقدمہ کی درخواست،صبا قمر کا ردعمل آ گیا

    اداکارہ صبا قمر زمان نے اپنے خلاف مقدمے کی درخواست کے بعد پہلی بار خاموشی توڑ دی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق صبا قمر کے خلاف لاہور کی سیشن کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ اداکارہ نے بغیر اجازت پولیس کی وردی پہنی،یہ معاملہ اس وقت سوشل میڈیا پر زیرِ بحث آیا جب ایک زیر گردش ویڈیو میں صبا قمر کو ڈریسنگ روم میں ایس پی کی وردی پہنے دیکھا گیا، اس کے بعد اداکارہ نے میگزین کی ایک پوسٹ ری شیئر کی جس میں انہوں نے صبا قمر کا دفاع کیا،میگزین کے ایڈیٹر ان چیف نے نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ ڈیئر کیا آپ توقع کر رہے تھے کہ وہ پولیس افسر کا کردار دلہن کے لباس یا لان کے سوٹ کے ساتھ ادا کریں گی، کیونکہ کردار ہمیشہ رول کے مطابق لباس پہنتے ہیں، نہ کہ آپ کی بے وقوفانہ تخلیق کے مطابق۔

    اس بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے صبا قمر نے مزاحیہ انداز اپناتے ہوئے لکھا کہ اوہ خدایا! آج کل میں بہت زیادہ مشہور ہوگئی ہوں،جس کے ساتھ انہوں نے مسکراتے ہوئے ایموجیز بھی شامل کیے۔

    واضح رہے کہ یہ درخواست وکیل آفتاب باجوہ نے شہری وسیم زوار کی جانب سے دائر کی ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کسی بھی فرد کو سرکاری اجازت کے بغیر پولیس کی وردی یا ایس پی کے عہدے کا بیج استعمال کرنے کی اجازت نہیں۔