Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • دہلی دھماکہ گیس سلنڈر دھماکہ ہی تھا،ماہرین کی رپورٹ

    دہلی دھماکہ گیس سلنڈر دھماکہ ہی تھا،ماہرین کی رپورٹ

    دہلی کے لال قلعے کے قریب ہونے والے حالیہ دھماکے کے بارے میں ایک بیلسٹک ماہر کی ابتدائی تکنیکی رپورٹ سامنے آئی ہے جس کے مطابق دھماکہ کسی ہائی ایکسپلوسِو مواد کا نتیجہ نہیں بلکہ گیس سلنڈر یا ایندھن کے دھماکے سے مشابہ ہے۔

    ماہر کے مطابق، جائے وقوعہ سے حاصل شواہد اور دھماکے کے اثرات "دہشت گردی کے بم دھماکے” کے عمومی مظاہر سے مطابقت نہیں رکھتے۔رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ اگر یہ ہائی ایکسپلوسِو جیسے RDX یا TNT پر مبنی دھماکہ ہوتا تو اس کے اثرات کچھ اس طرح ہوتے،
    زمین پر گہرا گڑھا (crater) بنتا۔اردگرد کی عمارتیں اور گاڑیاں شدید جھٹکے سے تباہ ہوتیں۔ہر سمت میں شاک ویو (Shockwave) کے اثرات نمایاں ہوتے۔دھاتوں پر مائیکرو سوراخ اور ٹکڑوں کے نشانات پائے جاتے۔ماہر کا کہنا ہے کہ دہلی دھماکے کی جگہ پر ان میں سے کوئی علامت نہیں ملی۔ زمین محفوظ ہے، کوئی گڑھا نہیں بنا، اور نقصان زیادہ تر آگ اور حرارت سے ہوا ہے۔

    جائے وقوعہ کے شواہد کیا بتاتے ہیں؟
    دھماکے کے بعد شدید آگ اور دھواں اٹھا۔گاڑیوں پر جلنے کے نشانات اور شیشے ٹوٹنے کے آثار ملے۔کوئی لوہے کے ٹکڑے یا شریپنل (shrapnel) نہیں ملے جو دہشت گردی کے بموں میں عام طور پر استعمال ہوتے ہیں۔دھماکے کا دائرہ محدود اور سمتی (directional) تھا، جبکہ ہائی ایکسپلوسِو دھماکوں میں نقصان چاروں طرف یکساں ہوتا ہے۔

    ماہر کے مطابق "ہائی ایکسپلوسِو دھماکے 7000 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے پھٹتے ہیں، جب کہ گیس سلنڈر یا ایندھن کے دھماکے میں یہ عمل نسبتاً سست ہوتا ہے اور زیادہ تر حرارت و شعلوں کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ دہلی کے واقعے میں "دھماکہ نہیں بلکہ آتشزدگی نما دھماکہ (Deflagration)” ہوا ، یعنی جلنے کا عمل تیز ہوا مگر کسی قسم کی فوجی یا دہشت گردانہ نوعیت کی تباہی نہیں ہوئی۔

    رپورٹ کے آخر میں ماہر نے کہا "تمام فزیکل شواہد ایک ہی سمت اشارہ کرتے ہیں، یہ گیس سلنڈر یا ایندھن کے دھماکے کا نتیجہ ہے، نہ کہ کسی دہشت گردی کے بم کا۔ جب تک فرانزک لیبارٹری (FSL) کی رپورٹ میں RDX، PETN یا TNT کے شواہد نہ مل جائیں، اسے ‘دہشت گرد حملہ’ قرار دینا سائنسی طور پر درست نہیں۔”

  • گووندا بے ہوش ہو گئے، ہسپتال منتقل

    گووندا بے ہوش ہو گئے، ہسپتال منتقل

    بالی وڈ سپر اسٹار گووندا کو ممبئی میں واقع اپنی رہائش گاہ میں بے ہوش ہوجانے کے بعد اسپتال منتقل کردیا گیا۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق 61 سالہ گووندا کی گزشتہ رات ان کے گھر پر اچانک طبیعت بگڑگئی جس کے بعد انہیں جوہو کے کریٹیکل کیئر اسپتال میں داخل کروایا گیا ہے،گووندا کے دیرینہ دوست اور قانونی مشیر للت بندل نے بھارتی میڈیا کو بتایا کہ گزشتہ شب انہیں گووندا کے گھر پر بے ہوش ہوجانے کی اطلاع دی گئی ، طبیعت اچانک بگڑنے پر گووندا کو اسپتال منتقل کیا گیا، اس دوران ان کے چند ٹیسٹ بھی کیے گئے جن کے نتائج کا انتظار ہے، گووندا فی الحال ڈاکٹروں کی نگرانی میں ہیں اور ان کی طبیعت بہتر ہورہی ہے‘۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل گووندا لیجنڈری اداکار دھرمیندر کی عیادت کرنے بریچ کینڈی اسپتال پہنچے تھے جس کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر سامنے آئی تھی۔

  • اسلام آباد دھماکا،7 لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل،10 شہدا کی شناخت

    اسلام آباد دھماکا،7 لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل،10 شہدا کی شناخت

    منگل کو جی الیون کچہری میں ہونے والے خودکش حملے میں جاں بحق 7 افراد کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا گیا۔

    پمز انتظامیہ کے مطابق پوسٹ مارٹم کے بعد میتیں ورثا کے حوالے کردی گئیں جن میں وکیل زبیر اسلم گھمن کی میت بھی ورثا کے حوالے کردی گئی ہے،اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہےکہ 10 شہدا کی شناخت ہوچکی ہے اور تاحال 2 کی شناخت نہیں ہوسکی، 36 زخمیوں کو پمزاسپتال لایا گیا اور 18 زخمیوں کو طبی امداد کے بعد ڈسچارج کردیا گیا، 14 زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔پمز اسپتال کے ڈاکٹر مبشر کے مطابق دھماکے میں زخمی ہونے والے 4 افراد کی حالت تشویشناک ہے۔

    دوسری جانب اسلام آباد کچہری میں دھماکے کے بعد ریڈ زون میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ اور اطراف میں سکیورٹی ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ہے، چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے مرکزی گیٹ پر رک کر سکیورٹی کا جائزہ لیا جہاں انہوں نے ہائیکورٹ کے دوسرے گیٹ پر بھی پولیس کی گاڑی کھڑی کرنے کی ہدایت کی،اسلام آباد ہائیکورٹ کےباہر کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو کھڑے ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔

  • صدرِ مملکت اور وزیراعظم کی اہم ملاقات، ملکی سیاسی،سیکورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال

    صدرِ مملکت اور وزیراعظم کی اہم ملاقات، ملکی سیاسی،سیکورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال

    اسلام آباد میں ایوانِ صدر میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی جس میں ملک کی مجموعی سیاسی، اقتصادی اور سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق ملاقات نہایت پُرمغز اور نتیجہ خیز رہی، جس میں ملک میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ صدرِ مملکت اور وزیراعظم نے ان واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ غیر ملکی پشت پناہی یافتہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی، اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک یہ آپریشنز نہیں رکیں گے۔دونوں قائدین نے ملک میں امن و امان کے قیام کے لیے قومی اتفاقِ رائے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اس مقصد کے لیے تمام ادارے، حکومت اور عوام ایک پیج پر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے دشمن ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کے درپے ہیں لیکن قوم کے اتحاد، حوصلے اور عزم کے سامنے ان کی تمام سازشیں ناکام ہوں گی۔

    ملاقات میں چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وفاقی وزراء سید محسن رضا نقوی، چوہدری سالک حسین، اعظم نذیر تارڑ، خالد حسین مگسی اور عبدالعلیم خان بھی موجود تھے۔شرکاء نے حالیہ دنوں میں دہشت گردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں اور خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ریاست دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھے گی۔

  • اسلام آباد خودکش حملے پر   چین، ایران اور آسٹریلیا کی مذمت

    اسلام آباد خودکش حملے پر چین، ایران اور آسٹریلیا کی مذمت

    اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس کے قریب ہونے والے خودکش حملے کی عالمی سطح پر شدید مذمت کی جا رہی ہے۔ چین، ایران اور آسٹریلیا نے اس المناک واقعے پر گہرے دکھ اور متاثرین سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ حملے میں اب تک 12 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں

    اسلام آباد میں چینی سفارت خانے کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ “چین کار بم دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں کے لیے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتا ہے۔”بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ حملہ “قابلِ مذمت اور انسانیت دشمن عمل ہے”۔ ترجمان نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چین پاکستان کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شانہ بشانہ کھڑا ہے۔

    اسلام آباد میں آسٹریلوی ہائی کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آسٹریلیا اس سانحے پر پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا کہ “ہم اس المناک واقعے میں جاں بحق ہونے والوں کے اہلِ خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں، اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔”ہائی کمیشن نے عوام کے تحفظ کے لیے سرگرم پاکستانی سیکیورٹی اداروں اور اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    ایرانی سفیر کی جانب سے جاری سخت ترین الفاظ میں مذمتی بیان میں کہا گیا ہے کہ “میں اسلام آباد کے علاقے جی-11 میں ہونے والے اس غیر انسانی اور بزدلانہ دہشت گرد حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں جس نے 12 معصوم شہریوں کی جان لی اور 36 کو زخمی کر دیا۔”ایرانی بیان میں مزید کہا گیا کہ “دہشت گردی دراصل ان بزدل عناصر کا مذموم ہتھکنڈہ ہے جو خطے کے امن اور پائیدار ترقی کے راستے میں رکاوٹ ڈالنا چاہتے ہیں۔ یہ لعنت ایک مشترکہ علاقائی چیلنج ہے جسے بیرونی سازشوں اور بین الاقوامی دہشت گردی کے نیٹ ورکس نے مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔”ایران نے زور دیا کہ تمام ممالک کو “دہشت گردی اور انتہا پسندی کی جڑیں اکھاڑنے کے لیے اجتماعی اور متحدہ اقدامات” کرنے ہوں گے تاکہ خطے میں دیرپا امن و استحکام قائم ہو سکے۔ایرانی حکومت نے جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے گہری ہمدردی اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ “اللہ تعالیٰ شہداء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور غمزدہ خاندانوں کو صبر و استقامت دے۔”

    دفاعی تجزیہ کاروں نے اسلام آباد اور وانا میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملوں کو بھارت اور افغان طالبان کے گٹھ جوڑ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق خطے میں حالیہ واقعات پاکستان کے امن کو غیر مستحکم کرنے کی منظم کوششوں کا تسلسل ہیں، جن کا مقصد علاقائی سطح پر انتشار اور پاکستان کے اندر عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ “پاکستان کے دشمن عناصر ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کو بطور ہتھیار استعمال کر کے ہمارے امن اور ترقی کے سفر کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن قوم اور ریاستی ادارے متحد ہیں اور ان سازشوں کو ناکام بنائیں گے۔”

  • اسلام آباد دھماکے کے بعد لاہور میں سکیورٹی مزید سخت، شہر بھر میں کڑی نگرانی

    اسلام آباد دھماکے کے بعد لاہور میں سکیورٹی مزید سخت، شہر بھر میں کڑی نگرانی

    اسلام آباد دھماکے کے بعد لاہور پولیس نے شہر میں سکیورٹی کے غیر معمولی اقدامات کرتے ہوئے حساس مقامات کے گرد حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے ہیں۔ اس سلسلے میں شہر کے تمام داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی میں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے سرچ اینڈ سویپ آپریشنز میں مزید تیزی لانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

    پولیس کے مطابق ڈولفن اسکواڈ اور پیرو فورس کو شہر کے مختلف علاقوں میں اضافی گشت کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ تخریب کاری یا غیر معمولی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔ڈی آئی جی آپریشنز نے فیلڈ ٹیموں کو پارکنگ ایریاز، عوامی مقامات اور تجارتی مراکز میں گاڑیوں کی سخت چیکنگ یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ اسی طرح عدالتوں، سرکاری دفاتر اور دیگر حساس عمارتوں کے اطراف بھی چیکنگ کے عمل میں مزید سختی کا حکم دیا گیا ہے۔احکامات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تمام ڈویژنل ایس پیز اور فیلڈ افسران خود سکیورٹی انتظامات کی مانیٹرنگ فیلڈ میں موجود رہ کر کریں، تاکہ کسی بھی غفلت یا لاپرواہی کا فوری سدباب ہو سکے۔

    ڈی آئی جی فیصل کامران نے واضح کیا کہ مشکوک افراد یا گاڑیوں کے بغیر شناخت داخلے پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور پولیس شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر الرٹ ہے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے تمام فورسز ہائی الرٹ ہیں۔انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی، مشکوک شخص یا لاوارث اشیاء کی اطلاع فوری طور پر پولیس ہیلپ لائن 15 پر دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔

  • گورنمنٹ ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ میں یوم اقبال کے سلسلہ میں تقریب

    گورنمنٹ ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ میں یوم اقبال کے سلسلہ میں تقریب

    گورنمنٹ ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ لاہور میں یوم اقبال کے سلسلہ میں ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا ،
    تقریب میں طالبات نے ٹیبلو ،تقریری مقابلوں میں حصہ لیا، تقریری مقابلوں میں پہلی پوزیشن سکول کونسل راجگڑھ کی صدر ام حبیبہ نے لی،تقریب کے اختتام پر انعامات تقسیم کئے گئے

    یوم اقبال کے سلسلہ میں تقریب سے گورنمنٹ ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ کی پرنسپل ڈاکٹر شوکت اقبال نے خطاب کیا، اس موقع پر طالبات اور انکے والدین کی بڑی تعداد موجود تھی، سکول کونسل راجگڑھ کی صدر ام حبیبہ کی والدہ نے بطور مہمان خصوصی تقریب میں شرکت کی، تقریب میں اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مائرہ شیخ نے سرانجام دیئے، سعدیہ روحی کی زیر نگرانی تقریب میں طالبات نے مفکر پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی مسلم امہ اور پاکستان کے لیے کی جانے والی خدمات پر انہیں اپنے انداز میں خراج عقیدت پیش کیا۔منعقدہ تقریب میں علامہ اقبال کی زندگی کے مختلف موضوعات پر طالبات نے اپنے فن خطابت کے جوہر دکھائے۔تقریری مقابلے میں سکول کونسل راجگڑھ کی صدر ام حبیبہ نے اول پوزیشن حاصل کی،دوسری پوزیشن قرت العین، تیسری پوزیشن عائشہ نے حاصل کی،انگریزی میں تقریر کرنے والی طالبہ خدیجہ کو بھی خصوصی انعام دیا گیا،تقریب کے اختتام پر پوزیشن ہولڈرز میں انعامات تقسیم کئے گئے،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پرنسپل ڈاکٹر شوکت اقبال،عذرا پروین،سدرہ و دیگر نے کہا کہ علامہ اقبال نے مسلمانوں کو خود ہی کا درس دیا اور کہا کہ موجودہ تمام مسائل کا حل قران اور سیرت النبی پر عمل پیرا ہونے میں پنہاں ہے۔مفکر پاکستان ڈاکٹر علامہ اقبال ہر زمانے کے شاعر ہیں اور ان کا کلام افاقی ہے۔ کلام اقبال خوابوں کے تحفظ کا نام ہے۔اقبال کے نظریات کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔آج کے سوشل میڈیا دور میں علامہ اقبال کے نظریات کے پرچار کے لیے ہر سطح پر ہنگامی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

  • اسلام آباد میں دہشت گردی کا حملہ ریاست کو پیغام سمجھنا چاہیے،خواجہ آصف

    اسلام آباد میں دہشت گردی کا حملہ ریاست کو پیغام سمجھنا چاہیے،خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردانہ کارروائیوں کا بھرپور جواب دے گا، دہشت گردانہ کارروائیاں نہ سرحدی اور نہ ہی شہری علاقوں میں برداشت کی جائیں گی۔

    اسلام آباد کچہری دھماکے پر صحافیوں سے گفتگو میں خواجہ آصف کا کہنا تھاکہ اندازہ تھا ہم پر پریشر ڈالنے کےلیے اس قسم کی کوئی حرکت کی جائےگی،اب تک دہشتگردی سرحدی علاقوں تک محدود تھی، اسلام آباد میں دہشت گردی کا حملہ ریاست کو پیغام سمجھنا چاہیے، افغان حکومت افغانستان میں بیٹھے دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہی ہے، اسلام آباد میں دہشت گردانہ حملےسے ہمیں پیغام دیا گیا آپ کے تمام علاقے ہماری زد میں ہیں، ہماری عوام اور افواج دہشت گردی کےخلاف قربانیاں دے رہے ہیں، پاکستان دہشت گردانہ کارروائیوں کا بھرپور جواب دے گا، دہشت گردانہ کارروائیاں نہ سرحدی اور نہ ہی شہری علاقوں میں برداشت کی جائیں گی، افغان حکومت سے کامیاب ڈائیلاگ کی تھوڑی سے امید تھی لیکن اس حملے کے بعد دیکھنا پڑے گا، ان حالات میں ریاست کو سنجیدہ ہوکر سوچنا ہوگا، کالعدم ٹی ٹی پی کے سارے چیلے کابل میں بیٹھے ہیں، کابل حکومت کس طرح ان کی ذمہ داری قبول نہیں کرسکتی۔

    خیال رہے کہ اسلام آباد کچہری کے باہر خودکش دھماکے میں 12 افراد شہید اور 30 زخمی ہوگئے۔ کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔

  • دہشتگردی کیخلاف جنگ، صفوں میں اتحاد پیدا کریں،تابش قیوم

    دہشتگردی کیخلاف جنگ، صفوں میں اتحاد پیدا کریں،تابش قیوم

    مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم نے کہا ہے کہ اسلام آباد کچہری خود کش حملہ،وانا کیڈٹ کالج پر حملہ قابل مذمت ہیں،دہشت گردی کے خلاف قوم متحد ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک ہو کر ہی جیتی جا سکتی ہے،شہدا کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی صحتیابی کےلئے دعا گو ہیں

    تابش قیوم کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک بار پھر دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے،اسلام آباد کچہری کے اندر ایک خوفناک خود کش حملہ ہوا جس میں معصوم لوگوں کو شہید کیا گیا، وانا کے اندر کیڈٹ کالج پر حملہ کیا گیا جس میں سینکٹروں کیڈٹس،بچے جن میں سے کئی کو نکال لیا گیا، کئی محصور ہیں،یہ دونوں واقعات قابل مذمت ہیں،ضرورت اس امر کی ہے کہ ان حالات میں صفوں میں اتحاد پیدا کریں،بیانیوں، گفتگو،جذبات کے اظہار میں یہ یاد رکھیں کہ پاکستان کو پہلے دن سےجو قوتیں تسلیم نہیں کرتی تھیں وہی آج اس دہشت گردی کی پشت پناہی پر موجود ہیں،وہ لوگ جو اسلام کے دائرہ کار سے نکل چکے ہیں، مسلمانوں کا قتل عام کرتے ہیں، وہی پاکستانیوں پر بھی حملے کر رہے ہیں، ہم حالت جنگ میں ہیں، اپنی صفوں میں‌اتحاد پیدا کرنا ہے،ہمیں منظم، متحد ہو کر ایک قوم بن کر سیکورٹی اداروں کے پیچھے کھڑا ہونا ہے، اللہ تعالیٰ پاکستان کی حفاظت فرمائے، شہدا کے اللہ تعالیٰ درجات بلند، لواحقین کو صبر جمیل دے، آمین

  • جارجیا میں ترک فوجی طیارہ تباہ، سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری

    جارجیا میں ترک فوجی طیارہ تباہ، سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری

    ترک وزارتِ دفاع کے مطابق ترکیے کا ایک فوجی کارگو طیارہ سی 130 (C-130) جارجیا میں المناک حادثے کا شکار ہو کر تباہ ہو گیا۔

    وزارتِ دفاع نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ یہ طیارہ آذربائیجان سے اڑان بھرنے کے بعد ترکیے واپس جا رہا تھا جب وہ جارجیا کی فضائی حدود میں گر کر تباہ ہوگیا۔وزارتِ دفاع کے مطابق جارجیا کے حکام کے تعاون سے سرچ اینڈ ریسکیو (تلاش و بچاؤ) کارروائیاں فوری طور پر شروع کر دی گئی ہیں۔ ترک فوج اور جارجین ایمرجنسی سروسز کے اہلکار جائے حادثہ پر پہنچ کر ملبے تک رسائی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔تاہم اب تک حادثے کی وجوہات یا ممکنہ جانی نقصان کے بارے میں کوئی تفصیلی معلومات جاری نہیں کی گئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر حادثے کی جگہ کو سیل کر دیا گیا ہے اور تفتیشی ٹیمیں پرواز کے ڈیٹا ریکارڈر (بلیک باکس) کی تلاش میں ہیں تاکہ حادثے کی نوعیت اور اسباب کا تعین کیا جا سکے۔

    دفاعی ماہرین کے مطابق سی 130 طیارہ فوجی نقل و حمل اور انسانی امداد کی فراہمی میں استعمال ہونے والا مضبوط اور بھروسہ مند جہاز سمجھا جاتا ہے، تاہم خراب موسم، فنی خرابی یا نیویگیشنل غلطی جیسی وجوہات کسی بھی حادثے کا سبب بن سکتی ہیں۔ترک وزارتِ دفاع نے اس افسوسناک واقعے پر غم و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جیسے ہی مزید تفصیلات سامنے آئیں گی، عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔