Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • کیڈٹ کالج وانا، دہشت گردوں کےبزدلانہ حملہ  کیخلاف طلبہ کےحوصلے بلند

    کیڈٹ کالج وانا، دہشت گردوں کےبزدلانہ حملہ کیخلاف طلبہ کےحوصلے بلند

    وانا کیڈٹ کالج پر فتنہ الخوارج کی جانب سے ناکام حملہ ،ریسکیو کیے گئے کیڈٹس کی ویڈیو منظر عام پر آ گئی

    کیڈٹ کالج وانا میں فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کےبزدلانہ حملہ کیخلاف طلبہ کےحوصلے بلند ہیں،کیڈٹ کالج وانا کے طالب علم کا کہنا ہے کہ میں 12ویں جماعت کا طالبعلم اور وزیرستان کے ایک معمولی خاندان سے تعلق رکھتا ہوں، پاک فوج نے ہمارے لیے یہ کیڈٹ کالج بنایا ہے تاکہ ہمیں تعلیم، امن اور ترقی مل سکے، یہ بزدل دہشت گرد ہمیشہ چاہتے تھے کہ وزیرستان کے بچے تعلیم سے محروم رہیں ، یہ بزدل دہشت گرد ہمیشہ چاہتے ہیں کہ بچوں کو تعلیم سے محروم رکھ کر اپنے شیطانی خیالات نافذ کر سکیں،ان دہشت گردوں نے ایک بار پھر کوشش کی مگر ناکام رہے اور ہمیشہ ناکام رہیں گے،

    طلبا کا کہنا ہے کہ پاک آرمی نے ہماری حفاظت کی اور الحمدللہ تمام طلباء محفوظ ہیں ،طلباء کے مطابق کیڈٹ کالج پر فتنہء الخوارج کے شرپسندوں کو سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ہلاک کیا، سیکیورٹی فورسز نہیں بہادری سے دہشت گردوں کا حملہ پسپا کیا۔ پاک آرمی نے ہماری حفاظت کی اور الحمدللہ، تمام طلباء محفوظ ہیں۔

    کیڈٹ کالج وانا میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کو فتنہ الخوارج کی جانب سے بزدلانہ حملے کا نشانہ بنانے پر مقامی افراد کا شدید ردعمل سامنے آیا ہے،مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ دہشت گرد دراصل پختونوں اور قبائل کو تعلیم سے دور رکھنا چاہتے ہیں، فوج نے بروقت کارروائی کرکے سینکڑوں طلباء کو ریسکیو کیا اور معصوم جانو کی حفاظت کو ممکن بنایا،افغانستان میں موجود طالبان ریجیم ہم پختونوں کو تعلیم سے محروم رکھنا چاہتی ہے، پاک فوج کی جانب سے قبائلی علاقوں میں نوجوان کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لیے کیڈٹ کالج بنائے گئے ہیں۔اس حملے کی کوشش سے یہ واضح ہوگیا کہ دشمن (فتنہ الخوارج ) وانا اور قبائلی عوام کو تعلیم سے محروم رکھنا چاہتے ہیں،

    دوسری جانب کیڈٹ کالج وانا کی صورتحال کے تازہ ترین ویڈیو مناظرسامنے آ گئے،سیکورٹی فورسز کی جانب سے بچوں کو ریسکیو کرتے دیکھا جا سکتا ہے ،اب تک 350 افراد کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا ہے، جبکہ تمام کیڈٹس محفوظ ہیں، سیکیورٹی فورسز کا آپریشن نہایت احتیاط اور حکمتِ عملی سے جاری ہے۔ آئی جی فرنٹیئر کور خیبر پختونخوا ساؤتھ ، کیڈٹ کالج وانا میں آپریشن کی خود نگرانی کر رہے ہیں،کالج میں اس وقت بھی 300 کے قریب افراد موجود ہیں ،افغان خوارج کی کالج میں موجودگی کے باعث کیڈٹس کی جانوں کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے سیکیورٹی فورسز دہشتگردوں کے خلاف نہایت احتیاط سے آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔آخر دہشتگرد کے خاتمے تک سیکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری رہے گا،

  • کیڈٹ کالج وانا،تمام طلبا،اساتذہ کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا

    کیڈٹ کالج وانا،تمام طلبا،اساتذہ کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا

    کیڈٹ کالج وانا کی صورتحال کے تازہ ترین ویڈیو مناظرسامنے آگئے اور سکیورٹی فورسز نے کالج میں موجود تمام طلبہ اور اساتذہ کو بحفاظت ریسکیو کر لیا۔

    سکیورٹی فورسز کی جانب سے بچوں کو ریسکیو کرتے ہوئےدیکھا جاسکتا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق کالج میں موجود تمام طلبہ اور اساتذہ کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا۔سکیورٹی نے بتایاکہ کیڈٹ کالج پر حملے کے وقت 525 کیڈٹس سمیت تقریباً 650 افراد موجود تھے۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسزکا آپریشن نہایت احتیاط اورحکمتِ عملی سے جاری ہے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان خوارج کی کالج میں موجودگی اور کیڈٹس کی جانوں کی حفاظت کے پیش نظر آپریشن احتیاط سے کیا جارہا تھا۔سکیورٹی ذرائع نے بتایاکہ اب آپریشن جامع طریقے سے حتمی انجام کو پہنچایا جائے گا، آخری خوارج کو ہلاک کرنے تک سکیورٹی آپریشن جاری رہے گا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق تمام طلبہ اور اساتذہ کے حوصلے بلند ہیں۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز افغان خوارج نےکالج کے مرکزی گیٹ سے بارود سےبھری گاڑی ٹکرا دی تھی، دھماکے سےکالج کا مرکزی گیٹ گرگیا اورقریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچاتھا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق وانا کیڈٹ کالج پر حملہ کرنے والے خوارجیوں کا تعلق افغانستان سے بتایاگیا ہے اور حملہ آور ٹیلیفون پر وہیں سے ہدایات لے رہے ہیں، خوارج ایک عمارت میں چھپے ہیں جو کیڈٹس کی رہائش سے بہت دور ہے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کے جوانوں نے فوری کارروائی میں 2 خوارجیوں کو ہلاک کردیا تھا، سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر فیصلہ کن کلیئرنس آپریشن شروع کر رکھا ہے، آخری دہشتگرد کے خاتمے تک سکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری رہے گا۔

  • اسلام آباد دھماکےکی ابتدائی رپورٹ تیار،حملہ آور نے چادر اوڑھ رکھی تھی

    اسلام آباد دھماکےکی ابتدائی رپورٹ تیار،حملہ آور نے چادر اوڑھ رکھی تھی

    اسلام آباد کچہری خودکش حملے کی ابتدائی رپورٹ تیار کرلی گئی۔

    تحقیقاتی اداروں نے خودکش حملے کی ابتدائی رپورٹ تیار کرلی جس کے مطابق خودکش حملہ آور باجوڑ میں رہائش پذیر تھا،ابتدائی رپورٹ کے مطابق خودکش حملہ آور جمعہ کے روز اسلام آباد پہنچا، حملہ آور پیرودھائی سے موٹر سائیکل پر جی الیون کچہری آیا،ذرائع کےمطابق ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا کہ خودکش حملہ آور نے چادر اوڑھی ہوئی تھی۔

    دوسری جانب آئی جی اسلام آباد کا کہنا ہے کہ دھماکے میں 8 کلو گرام تک بارودی مواد اور بال بیرنگز استعمال کیے گئے ، ابھی تک جو شواہد اکٹھے کیے گئے اس کے مطابق حملہ آور ایک ہی تھا،ایک موٹر سائیکل اور گاڑی کو مشکوک تصور کیا جا رہا ہے، کیمروں کی بیک ٹریکنگ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں، فارنزک، سی ٹی ڈی، انویسٹی گیشن، سیف سٹی اور حساس ادارے شواہد کا جائزہ لے رہے ہیں۔

    خیال رہے کہ اسلام آباد کے جی الیون سیکٹر میں کچہری کے نزدیک خودکش دھماکے کے نتیجے میں 12 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوگئے اسلام آباد میں منگل کی دوپہر تقریباً ساڑھے بارہ بجے جی الیون سیکٹر کی کچہری کے نزدیک زور دار دھماکا ہوا جس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔پولیس کا کہنا ہےکہ موٹر سائیکل پر سوار خودکش حملہ آور پولیس کی گاڑی کے قریب پہنچا اور اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، دھماکے سے قریب کھڑی گاڑیوں میں آگ لگ گئی جب کہ خودکش حملہ آور کے اعضا اڑ کر کچہری کے اندر جاگرے

  • اسلام آباد دھماکہ سے قبل افغانستان سے سوشل میڈیا پوسٹس،سوالات کھڑے ہو گئے

    اسلام آباد دھماکہ سے قبل افغانستان سے سوشل میڈیا پوسٹس،سوالات کھڑے ہو گئے

    اسلام آباد کچہری دھماکے سے قبل افغانستان سےکی جانے والی سوشل میڈیا پوسٹس نےکئی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

    اسلام آباد کچہری میں دھماکا لگ بھگ سہ پہر 12 بج کر 45 منٹ پر ہوا، لیکن افغانستان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر صبح سویرے سے بازگشت سنائی دی جارہی تھی،ذرائع کے مطابق طالبان کے ایک ایکس اکاؤنٹ خراسان العربی کی طرف سے اسلام آباد دھماکے کے ساتھ ہی جاری ہونے والی پوسٹ گھناؤنے عزائم کی عکاسی کرتی ہے۔ 6 بج کر 45 منٹ پر افغان طالبان سے منسلک ایکس اکاؤنٹ سے "coming soon Islamabad” جیسی پوسٹ دیکھی گئیں۔ذرائع کے مطابق اسی طرح کے دھمکی آمیز پیغامات افغان ملٹری پریڈ کے موقع پربھی کیے گئے تھے، جس میں لاہور پر افغان جھنڈا لہرانے اور اسلام آبادکو جلانےکی باتیں کی گئی تھیں۔

    ذرائع کا کہنا ہےکہ افغان ایکس اکاؤنٹ “آماج نیوز” نےاپنی 2 نومبر کو کی جانے والی پوسٹ میں ان دھمکی آمیز پیغامات کوپوسٹ کیا تھا۔ذرائع کا کہنا ہےکہ اسلام آباد اور نئی دہلی میں دھماکے پاکستان مخالف ممالک کی ملی بھگت ہے جن کا مشترکہ مقصد پاکستان کو نقصان پہچانا ہے۔

  • اسلام آباد دھماکہ قابل مذمت ، دشمن عناصر کی سازشیں ناکام بنائیں گے، خالد مسعود سندھو

    اسلام آباد دھماکہ قابل مذمت ، دشمن عناصر کی سازشیں ناکام بنائیں گے، خالد مسعود سندھو

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ اسلام آباد جی الیون کچہری کے قریب دھماکہ قابل مذمت ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ اتحاد سے ہی جیتی جا سکتی ہے، شہدا کے لئے دعائے مغفرت،زخمیوں کی صحتیابی کے لئے دعا گو ہیں

    خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ اسلام آباد دھماکہ دشمنوں کی پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی مذموم کوشش ہے،تاہم پوری قوم متحد ہے اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیکورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے،ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلام آباد سمیت تمام صوبوں میں سیکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کیے جائیں،دہشتگردی ناقابلِ معافی جرم ہے اور اس کے مرتکب عناصر کو کسی قسم کی رعایت نہیں ملنی چاہیے، دھماکے میں شہید ہونے والے افراد کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار،زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعاگو ہیں۔

  • آپریشن سندور میں ہزیمت کے بعد بھارتی فالس فلیگ ڈرامہ بے نقاب

    آپریشن سندور میں ہزیمت کے بعد بھارتی فالس فلیگ ڈرامہ بے نقاب

    پرانی ( Playbook) کے مطابق بھارتی فالس فلیگ ڈرامہ بے نقاب

    10 اکتوبر 2025 کو نئی دہلی میں لال قلعے کے قریب ایک کار میں دھماکہ ہوا، سیکورٹی ذرائع کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں آٹھ افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے,اس واقعہ کو بی بی سی سمیت بین الاقوامی میڈیا اداروں نے بھی رپورٹ کیا، حسبِ روایت، بغیر کسی ٹھوس شواہد کے بھارتی میڈیا اور را سے منسلک سوشل میڈیا اکاونٹس نے فوری طور پر الزام پاکستان پر لگانا شروع کر دیا، واقعہ کے فوری بعد بھارتی میڈیا نے ایک منظم انداز میں گمراہ کن پروپیگنڈا مہم کا آغاز کر دیا، اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب محض ایک اتفاق تھا یا ایک منظم کارروائی یا پرانی ( Playbook)، ابتدائی طور پر پولیس نے اس دھماکے کو گیس سلنڈر پھٹنے کا نتیجہ قرار دیا، وقت گزرنے کے ساتھ پولیس کے بیانات میں تضادات سامنے آنے لگے,ابتدائی تحقیقات میں یہ بھی کہا گیا کہ جائے وقوعہ سے آر ڈی ایکس اوراسپلنٹرزکے شواہد نہیں ملے، واقعے کے فوراً بعد را سے منسلک سوشل میڈیا پر ایسے اکاؤنٹس فعال ہوئے جو ماضی میں بھی پاکستان کے خلاف گمراہ کن مہمات کا حصہ رہے ہیں،بھارتی سیاسی اور عسکری قیادت کے حالیہ بیانات سے واضح ہے کہ بھارت ایک اور فالس فلیگ کی تیاری میں مصروف ہے,

    2 اکتوبر کو بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے سرکریک کے حوالے سے جارحانہ اور گمراہ کن بیان دیا, 3 اکتوبر کو بھارتی آرمی چیف نے پاکستان کے خلاف دھمکی آمیز بیانات دیے, 3 اکتوبرکو بھارتی ایئر فورس چیف نے جہازوں کے بارے میں بے بنیاد پروپیگنڈا کیا، اسی دن بھارتی وزارتِ خارجہ نے کشمیر کی صورتحال پر جھوٹے اور گمراہ کن بیانات جاری کیے, 7 اکتوبر 2025کو بھارتی میڈیا نے لشکرِ طیبہ اور(ISKP) کے مابین مبینہ اتحاد کی جھوٹی خبریں نشر کرنا شروع کر دیں،5 نومبر کو این ڈی ٹی وی اور دیگر بھارتی چینلز نے جھوٹے حملوں کی خبریں نشر کر کے پاکستان مخالف مہم تیز کر دی, 9 نومبر کو آر ایس ایس کے سربراہ نے ایک اشتعال انگیز تقریر میں پاکستان کے خلاف انتہائی سخت اور دھمکی آمیز لہجہ اختیار کیا ,30 اکتوبر سے 10 نومبر تک بھارت نے مغربی سرحد کے قریب ٹرائی سروسز کے نام سے فوجی مشقوں کا آغاز کیا، 10 نومبر کو بھارتی میڈیا نے 29 کلوگرام بارودی مواد برآمد ہونے اور سری نگر میں ممکنہ دہشتگرد حملے کی وارننگ پوسٹروں کی خبریں چلانا شروع کر دیں،ان تمام اقدامات کے بعد بھارتی میڈیا نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ مختلف ریاستوں سے چار ڈاکٹروں کو گرفتار کیا گیا ہے، یہ تمام شواہد ایک ہی سمت اشارہ کرتے ہیں کہ بھارت اپنی اندرونی ناکامیوں اور بہار کے انتخابات میں کمزور سیاسی پوزیشن سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے ایک نئی مہم چلا رہا ہے, ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک بار پھر جھوٹے بیانیے کے ذریعے عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے, پاکستان مخالف منظم پروپیگنڈا کا مقصد آپریشن سندور میں ہزیمت کے بعد ایک اور فالس فلیگ کا ڈرامہ ہے,

  • اسلام آباد دھماکہ،ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچا کردم لیں گے۔وزیراعظم

    اسلام آباد دھماکہ،ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچا کردم لیں گے۔وزیراعظم

    وزیر اعظم شہباز شریف نے اسلام آباد ضلع کچہری کے باہر ہونے والے خودکش دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں اسلام آباد ضلع کچہری میں بھارتی اسپانسرڈ فتنہ الخوارج کے دہشتگرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہید افراد کے درجات کی بلندی اور اہل خانہ کیلئے صبر کی دعا کی۔شہباز شریف کا کہنا تھا مجھ سمیت پوری قوم کی تمام تر ہمدردیاں شہداء کے اہلخانہ کے ساتھ ہیں، زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا گو ہوں اور حکام کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ بھارتی دہشتگرد پراکسیز کے پاکستان کے نہتے شہریوں پر دہشتگرد حملے قابل مذمت ہیں، واقعےکی تحقیقات کی ہدایت کی ہے اور ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچا کردم لیں گے۔افغانستان سےکارروائی کرتے فتنہ الخوارج نے وانا میں معصوم بچوں پر بھی حملہ کیا، بھارتی پشت پناہی اور افغان سرزمین سے جاری حملوں کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، نہتے و معصوم پاکستانیوں کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔

  • کیڈٹ کالج حملہ،115 افراد ریسکیو،535 اندر موجود،دو حملہ آورہلاک،تین گھیرے میں

    کیڈٹ کالج حملہ،115 افراد ریسکیو،535 اندر موجود،دو حملہ آورہلاک،تین گھیرے میں

    کیڈٹ کالج پر حملے کے وقت 525 کیڈٹس سمیت تقریباً 650 افراد موجود تھے۔ سیکیورٹی فورسز نے اب تک 115 افراد کو بحفاظت ریسکیو کر لیا ہے۔

    کیڈٹ کالج میں موجود 3 افغان خوارجین کو کالج کی ایک مخصوص عمارت تک محدود کر دیا گیا ہے، سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق جس عمارت میں افغان خوارج موجود ہیں، وہ کیڈٹس کی رہائشی عمارتوں سے کافی فاصلے پر واقع ہے۔ ابھی تک تمام کیڈٹ محفوظ ہیں،افغان خوارجیوں کی کالج میں موجودگی کے باعث کیڈٹس کی جانوں کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے آپریشن نہایت احتیاط سے جاری ہے۔ کالج کی حدود سے کیڈٹس کو نکالنے کا عمل بتدریج جاری ہے۔اس وقت بھی کالج کے اندر تقریباً 535 افراد موجود ہیں۔ وانا کیڈٹ کالج میں موجود 3 افغان خوارجیوں کے خلاف آپریشن پوری شدت سے جاری ہے۔

    واضح رہے کہ 10 نومبر کو افغان خوارجیوں نے کالج کے مرکزی گیٹ پر بارود سے بھری گاڑی ٹکرا دی تھی۔ دھماکے سے کالج کا مرکزی دروازہ مکمل طور پر منہدم ہو گیا، جبکہ قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔پاک فوج کے جوانوں نے فوری اور بہادری سے کارروائی کرتے ہوئے دو خوارجیوں کو موقع پر ہی جہنم واصل کر دیا تھا۔معصوم قبائلی بچوں پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں کا نہ اسلام سے کوئی تعلق ہے، نہ پاکستان کی خوشحالی سے۔ہشتگردوں کے مکمل خاتمے تک سیکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری رہے گا

  • پہلی ترجیح میں خودکش حملہ آور کی شناخت کریں گے ،وزیرداخلہ

    پہلی ترجیح میں خودکش حملہ آور کی شناخت کریں گے ،وزیرداخلہ

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ 12 بج کر 39 منٹ پر خودکش حملہ ہوا، 12افراد شہید اور 27زخمی ہوئے ،خود کش حملہ آور کچہری کے اندر جانا چاہ رہا تھا

    جائےوقوعہ کا دورہ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ہمیں اندازہ ہے کہ افغانستان کیا کررہا ہے مگر سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ،جس نے کچہری واقعہ کیا اسے بھگتنا پڑے گا،پہلی ترجیح میں خودکش حملہ آور کی شناخت کریں گے ،کل وانا میں بھی گاڑی سوار خود حملہ آور انٹری پوائنٹ پر پھٹا ،وہاں بھی علاقے کی کلیئرنس جاری ہے ،وانا اٹیک میں افغانستان ملوث ہے افغانستان میں۔ کمیونیکیشن ہوتی رہی ،کچہری حملہ میں ملوث کرداروں کو بھی سامنے لایا جائے گا، افغانستان گئے ہیں اور ان کو شواہد دیئے ہیں کہ کیسے لوگ وہاں ٹرینڈ ہو رہے ہیں اور اس کے بعد حملے ہوتے ہیں ،افغانستان کے شر پسند عناصر کو نہ روکنے پر کوئی چارہ نہیں کہ ان کا بندوبست کریں۔

  • بھارت کار دھماکہ،بارودی مواد ملا نہ دھواں،زمین پھٹی نہ دھماکا خیز مواد کے شواہد ملے

    بھارت کار دھماکہ،بارودی مواد ملا نہ دھواں،زمین پھٹی نہ دھماکا خیز مواد کے شواہد ملے

    بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں لال قلعہ کے قریب ہونے والے دھماکے نے تفتیشی اداروں کو سخت اُلجھن میں ڈال دیا ہے۔

    بھارتی جریدہ دی ٹریبیون انڈیا کے مطابق کسی دھماکا خیز مواد کے ٹکڑے، بارودی مواد اور بارودی دھوئیں کے کوئی آثار نہیں ملے۔ جائے وقوعہ پر نہ کوئی اسپلنٹر ملا، نہ زمین پھٹی اور نہ ہی کسی دھماکا خیز مواد کے شواہد ملے،دی ٹریبیون انڈیا کے مطابق بھارتی پولیس نے خودکش دھماکے کے امکانات کو مسترد کردیا ہے، بھارتی پولیس افسر کے مطابق ابتدائی شواہد خودکش حملے کی تردید کرتے ہیں۔ بھارتی جریدہ اس حوالے سے مزید کہتا ہے کہ دہلی پولیس نے واقعے کو مقبوضہ کشمیر اور فریدآباد میں برآمد اسلحہ سے جوڑنے سے گریز کیا ہے۔یاد ہے کہ 10 نومبر کو بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں لال قلعہ کے قریب ہونے والے دھماکے میں 12 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔