Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • چلاس،لینڈ سلائیڈنگ،6 گاڑیاں ملبے تلے دب گئیں

    چلاس،لینڈ سلائیڈنگ،6 گاڑیاں ملبے تلے دب گئیں

    چلاس میں ہولناک لینڈ سلائیڈنگ، 6 گاڑیاں ملبے تلے دب گئیں، 2 دریا میں جا گریں

    گلگت بلتستان کے علاقے چلاس میں شدید لینڈ سلائیڈنگ کے باعث چھ گاڑیاں ملبے تلے دب گئیں جبکہ دو گاڑیاں دریا میں جا گریں، جس کے نتیجے میں متعدد افراد کے زخمی اور لاپتہ ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    یہ افسوسناک واقعہ چلاس کے علاقے گندلو میں پیش آیا، جہاں پہاڑی تودہ اچانک سڑک پر آ گرا۔ لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں شاہراہ مکمل طور پر بند ہوگئی، جس سے آمدورفت معطل ہو گئی اور علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ متاثرہ مقام پر کم از کم چھ گاڑیاں ملبے تلے دب گئیں، جب کہ دو گاڑیاں لینڈ سلائیڈنگ کے دھکے سے نیچے دریا میں جا گریں۔ عینی شاہدین کے مطابق حادثہ اتنا اچانک پیش آیا کہ ڈرائیور حضرات کو گاڑیاں پیچھے لینے کا موقع بھی نہ ملا۔میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) ریجنل ہیڈ کوارٹر اسپتال چلاس نے تصدیق کی ہے کہ اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق زخمیوں کے علاج کے لیے اضافی عملہ طلب کر لیا گیا ہے، جب کہ خون کے عطیات کے لیے اپیل بھی کی گئی ہے۔ریسکیو ذرائع کے مطابق ریسکیو 1122 کی تین گاڑیاں اور سات اہلکار جائے حادثہ پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ علاقے میں بھاری مشینری کی مدد سے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے، تاہم دشوار گزار پہاڑی علاقہ اور مسلسل پتھروں کے گرنے سے آپریشن میں مشکلات درپیش ہیں۔

    انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ حادثے کی جگہ کے قریب نہ جائیں تاکہ ریسکیو عملے کو کارروائی میں رکاوٹ نہ ہو۔یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں مسلسل بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جس سے شاہراہ قراقرم کے کئی مقامات پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی ہے۔ذرائع کے مطابق مقامی انتظامیہ نے علاقے میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے اور مسافروں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت دی گئی ہے۔

  • اسلام آباد جی الیون سیکٹر ،گاڑی میں دھماکہ،12 افراد شہید،متعدد زخمی

    اسلام آباد جی الیون سیکٹر ،گاڑی میں دھماکہ،12 افراد شہید،متعدد زخمی

    اسلام آباد: جی الیون سیکٹر کی کچہری میں کھڑی گاڑی میں دھماکے سے 12 افراد شہید متعدد افراد زخمی ہوگئے۔

    ا سلام آباد میں منگل کی دوپہر تقریباً ساڑھے بارہ بجے جی الیون سیکٹر کی کچہری میں کھڑی گاڑی میں زور دار دھماکا ہوا جس کی آواز دور دور تک سنی گئی جب کہ دھماکے سے گاڑی میں آگ لگ گئی اور قریب کھڑی گاڑیاں بھی آگ کی لپیٹ میں آگئیں۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں 12افراد شہید جبکہ 20 سے زائد زخمی ہوئے ہیں جن میں وکلا اور سائلین بھی شامل ہیں۔پولیس کا کہنا ہےکہ دھما کے کے وقت کچہری ایریا میں لوگوں کی آمدورفت زیادہ تھی جس سے سائلین بھی زخمی ہوئے، زخمیوں کو فوری طبی امداد کے لیے پمز اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق دھماکے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے اور دھماکے کی نوعیت معلوم کی جارہی ہے۔

    پولیس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق دھماکہ پولیس کی گاڑی کے قریب ہوا، حملہ آور موٹر سائیکل سے پولیس وین کے قریب آیا، بیک وقت دو دھماکوں کی آواز سنائی دی،موٹر سائیکل اور کار میں بیک وقت دھماکے سے آگ بھڑکی، ڈی آئی جی اسلام آباد، ضلعی انتظامیہ اور فرانزک ٹیم موقع پر موجودہے

    اسلام آباد کاردھماکہ خود کش نکلا،حملہ آور کا سر مل گیا،5 افراد شہید
    اسلام آباد جی الیون کچہری کے باہر ہندوستانی سپانسرڈ اور افغان طالبان کی پراکسی فتنہ الخوارج کا خودکش دھماکہ
    ابتدائی رپورٹ کے مطابق دھماکہ کچہری کے باہر ہوا جس کی زد میں آس پاس کھڑے لوگ آئے۔ ابتک کی رپورٹ کے مطابق پانچ شہید اور تیرہ سے چودہ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے،مبینہ خودکش بمبار کر سر سڑک پر پڑا ہوا مل گیا۔

  • پاک فوج نے انٹر سروسز مقابلے جیت کر کامبیٹ شوٹنگ چیمپئن شپ 2025 اپنے نام کرلی

    پاک فوج نے انٹر سروسز مقابلے جیت کر کامبیٹ شوٹنگ چیمپئن شپ 2025 اپنے نام کرلی

    45ویں پاکستان آرمی رائفل ایسوسی ایشن (PARA) سینٹرل میٹ کی اختتامی تقریب جہلم میں منعقد ہوئی۔آرمی مارکسمین شپ یونٹ میں ہونے والی تقریب کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نے بطورمہمان خصوصی شرکت کی۔شوٹنگ کے مقابلے یکم اکتوبر تا 10 نومبر 2025 تک جاری رہے جن میں پاکستان آرمی، فضائیہ، بحریہ، سول آرمڈ فورسز کے علاوہ پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان اور وفاقی رائفل ایسوسی ایشنز سے تعلق رکھنے والے دو ہزار سے زائد نشانہ بازوں نے بھرپور جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا۔

    پاک فوج نے تمام چار انٹر سروسز مقابلے جیت کر تیسری انٹر سروسز کامبیٹ شوٹنگ چیمپئن شپ 2025 اپنے نام کی۔پنجاب رجمنٹ نے یونٹ فائرنگ پروفیشنسی میچ گروپ-I میں کامیابی حاصل کی۔سپاہی محمد عرفان (پنجاب رجمنٹ) نے ماسٹر ایٹ آرمز کا اعزاز جیتا۔نائب صوبیدار عمر فاروق (آرمی مارکسمین شپ یونٹ) نے آرمی ہنڈریڈ رائفل میچ ٹرافی حاصل کی۔

    تقریب کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ان کی شاندار نشانہ بازی کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ’’نشانہ بازی میں مہارت حاصل کرنا فوجی تربیت کا بنیادی ہدف ہونا چاہیے۔‘‘بعد ازاں آرمی چیف نے ملٹری کالج جہلم کی سو سالہ تقریبات میں بطورِ مہمانِ خصوصی شرکت کی۔اس موقع پر فیلڈ مارشل نے صد سالہ یادگار اور کالج میوزیم کا افتتاح کیا، ادارے کی ایک صدی پر محیط شاندار خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا، اور یادگارِ شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھائی

  • 27 ویں آئینی ترمیم قومی اسمبلی میں بھی پیش

    27 ویں آئینی ترمیم قومی اسمبلی میں بھی پیش

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیرتارڑ نے 27 ویں آئینی ترمیم کا بل پیش کردیا۔

    اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی اجلاس میں 27ویں آئینی ترمیم کا بل منظوری کے لیے پیش کیا، اس کے موقع پر اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج اور شور شرابہ کیا جا رہا ہے،وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا 27 ویں آئینی ترمیم کا بل سینیٹ سے 2 تہائی اکثریت سے منظور ہوا، مشترکہ پارلیمانی کمیٹی میں اپوزیشن کو بیٹھنا چاہیے تھا، دنیا بھر میں آئینی معاملات کے لیے آئینی عدالتیں ہوتی ہیں، دیگر ممالک میں ججز کی تقرری جوڈیشل کمیشن کے ذریعے کی جاتی ہے، میثاق جمہوریت میں بھی آئینی نظام کا بنیادی نکتہ شامل تھا۔

    آج کے اجلاس میں دو تعلیمی اداروں کے قیام کے حکومتی بل بھی منظوری کے لیے پیش کیے جائیں گے،
    خیال رہے کہ گزشتہ روز حکومت نے 27 ویں آئینی ترمیم کا بل سینیٹ سے دو تہائی اکثریت سے منظور کروایا تھا، بل کی حمایت میں 64 ووٹ پڑے تھے جبکہ مخالفت میں ایک بھی ووٹ نہیں پڑا تھا،دوسری جانب متحدہ اپوزیشن نے سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا ہے۔

    حکمران اتحاد کو قوم می اسمبلی میں دو تہائی واضح اکثریت حاصل ہے،آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے 224 ووٹ درکار ہیںَحکمران اتحاد کے پاس 237 کی اکثریت موجود ہے،مسلم لیگ ن کے 126، پیپلزپارٹی کے 74 ارکان کی ترمیم کو حمایت حاصل ہے،ایم کیو ایم کے 22، مسلم لیگ ق 5 ، اور استحکام پارٹی کے 4 اراکین بھی ترمیم کے حق میں ،مسلم لیگ ضیاء 1، باپ پارٹی 1 اور 4 آزاد اراکین بھی آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیں گے،حکمران اتحاد میں شامل نیشنل پارٹی نے آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے.

  • پاکستان میں دہشت گردی میں اضافہ ،افغان سرزمین سے دراندازی کے مستند اعداد و شمار

    پاکستان میں دہشت گردی میں اضافہ ،افغان سرزمین سے دراندازی کے مستند اعداد و شمار

    پاکستان نے طالبان کے اگست 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد دہشت گردی میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا۔ 2021 میں 207 حملے، 2022 میں 262، 2023 میں 306 اور 2024 میں 1099 حملے ہوئے، جو بگڑتی صورتحال کی واضح نشاندہی کرتے ہیں۔

    پاکستان نے افغانستان کے اندر ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے 58 تربیتی مراکز، اسٹیجنگ پوائنٹس اور رہائشی ٹھکانے شناخت کیے ہیں، جن کے بارے میں کابل انتظامیہ کو مکمل علم ہے۔جون 2025 سے تقریباً 4,000 جنگجو (172 تشکیلیں) افغانستان سے خیبر پختونخوا میں داخل ہوئے، جو گروہوں میں 36 فیصد اور جنگجوؤں کی تعداد میں 48 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔بلوچستان میں دراندازی کے لیے زابل، پکتیکا، قندھار، ہلمند اور نیمروز سے 83 تشکیلیں (تقریباً 1,200 جنگجو) استعمال ہوئیں۔اپریل سے ستمبر 2025 کے دوران پاکستانی فورسز نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں 135 افغان شہریوں کو ہلاک کیا، جس کے بعد مجموعی طور پر 267 افغان باشندوں کی شناخت اور ہلاکت کی تصدیق ہوئی۔2022 سے 2025 کے دوران افغان شہریوں نے پشاور، بنوں، بشام، میر علی اور ڈیرہ اسماعیل خان میں خودکش حملے کیے، جن میں درجنوں پاکستانی شہری نشانہ بنے۔

  • سنگجانی جلسہ کیس،عمر ایوب اور زرتاج گل کا پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم

    سنگجانی جلسہ کیس،عمر ایوب اور زرتاج گل کا پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم

    انسداد دہشتگردی عدالت نے سنگجانی جلسہ کیس میں پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب اور زرتاج گل کا پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم دے دیا۔

    اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف سنگجانی جلسہ کیس کی سماعت کی،عدالت نے مقدمے میں عمر ایوب اور زرتاج گل کا پاسپورٹ بلاک کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا،اس کے علاوہ انسداد دہشتگردی عدالت نے کیس میں شیخ وقاص اکرم کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کردیے اور مزید سماعت 3 دسمبر تک ملتوی کردی۔

  • ترقی اسی معاشرے میں ممکن ہے جہاں امن اور سلامتی ہو،وزیراعظم

    ترقی اسی معاشرے میں ممکن ہے جہاں امن اور سلامتی ہو،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ افغان حکومت کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرے تو پاکستان تعاون کیلئے تیار ہے۔

    بین الاپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا امن و استحکام ہی پائیدار ترقی کی بنیاد ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ ترقی اسی معاشرے میں ممکن ہے جہاں امن اور سلامتی ہو،پاکستان نے بھی کئی بار امن دشمن کارروائیوں کا سامنا کیا، ہم نے ہمیشہ استحکام اور دفاع وطن میں عزم کا مظاہرہ کیا، ہماری مسلح افواج نے بہترین پیشہ وارانہ کارکردگی سے دشمن کے عزائم ناکام بنائے، اس سال مئی میں مشرقی سرحد پر بلا اشتعال جارحیت کی گئی جبکہ گزشتہ ماہ افغان سرزمین سے پاکستانی چوکیوں پر حملے ہوئے جن کا پاکستان نے ٹھوس اور فیصلہ کن جواب دیا، دنیا بھر میں جاری تنازعات نے امن کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے، افغانستان کو سمجھنا ہو گا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کی حمایت سے امن حاصل نہیں ہوگا، افغان حکومت ٹی ٹی پی و دیگر گروہوں کے خلاف موثر کارروائی کرے تو پاکستان تعاون کیلئے تیار ہے۔

    خیال رہے کہ اسلام آباد میں جاری دو روزہ بین الاپارلیمانی کانفرنس میں آذربائیجان، ازبکستان، کینیا، فلسطین، مراکش، روانڈا، لائبیریا، بارباڈوس اور نیپال کے وفود کانفرنس میں شریک ہیں، کانفرنس کا مقصد عالمی امن، ترقی اور بین الاقوامی پارلیمانی روابط کے فروغ کو مضبوط بنانا ہے۔

  • بھارتی فالس فلیگ آپریشنز کی تاریخ پھر بے نقاب،ہر حملے کے پیچھے خود بھارت

    بھارتی فالس فلیگ آپریشنز کی تاریخ پھر بے نقاب،ہر حملے کے پیچھے خود بھارت

    بھارتی فالس فلیگ آپریشنز کی تاریخ پھر بے نقاب۔ ہر بڑے حملے کے پیچھے خود بھارتی ہاتھ سامنے آنے لگے

    بھارتی پولیس رپورٹ کے مطابق 2007 کی سمجھوتہ ایکسپریس پر حملہ دراصل ہندو انتہا پسندوں نے کیا، جس کا الزام جھوٹا پاکستان پر لگایا گیا، ہندو انتہا پسند اسیمانند کی گرفتاری نے سنسنی پھیلا دی۔ اس نے عدالت میں اعتراف کیا کہ سمجھوتہ ایکسپریس، اجمیر دھماکوں اور مالیگاؤں بلاسٹ سب ’’ہندو تنظیموں‘‘ کے پلان تھے، سابق بھارتی سی بی آئی افسر نے انکشاف کیا کہ بھارتی حکومتیں خود پارلیمنٹ اور 26/11 ممبئی حملے منظم کرتی رہیں،خصوصی تفتیشی ٹیم (SIT) کے افسر نے حلفاً عدالت کو بتایا کہ ان حملوں کا مقصد سیاسی فائدہ اور عالمی ہمدردی حاصل کرنا تھا،سابق گورنر جموں و کشمیر ستیاپال سنگھ نے پلوامہ حملے کو "منصوبہ بند سازش” قرار دیا، ان کے بقول حملے کا فائدہ براہِ راست بی جے پی کو پہنچا،چٹّی سنگھ پورہ قتل عام، جس میں 35 سکھ مارے گئے، اس کا الزام بھی پاکستان پر لگایا گیا، مگر دہلی کی عدالت نے دونوں پاکستانی شہریوں کو بری کر دیا، سابق ڈی جی پنجاب پولیس کے ایس گِل نے بیان دیا تھا کہ "بھارتی ایجنسیاں داخلی سیاست کے لیے فالس فلیگ آپریشنز میں ملوث رہی ہیں”

    یاد رہے: امریکی صدر کلنٹن کے دورہ بھارت کے دوران چٹہ سنگھ پورہ سانحہ پیش آیا، جسے عالمی توجہ حاصل کرنے کے لیے سیاسی طور پر استعمال کیا گیا،دفاعی ماہرین کے مطابق اُڑی حملہ بھی اندرونی منصوبہ بندی کا حصہ تھا. وفاقی وزیر خواجہ آصف کے مطابق "اُڑی اٹیک ایک اندرونی کارروائی تھی”ٹائمز آف انڈیا کے مطابق سابق آر ایس ایس کارکن یشونت شنڈے نے عدالت میں حلفیہ بیان دیا کہ "سنگھ پریوار نے بم دھماکوں کے ذریعے بی جے پی کو جتوانے میں کردار ادا کیا”رابرٹ وادرا نے حالیہ بیان میں پہلگام حملے کو "ہندوتوا ایجنڈا” سے جوڑا، بی جے پی حکومت نے ان کے بیان پر سخت ردعمل دیا،پہلگام حملے میں بھی بغیر کسی ثبوت کے بھارت نے پاکستان سے جنگ کا آغاز کردیا۔ تمام حملے حیران کن طور پر بھارتی انتخابات کے قریب ہوتے ہیں

    حقائق واضح ہیں: پارلیمنٹ حملہ، پلوامہ، اُڑی، سمجھوتہ ایکسپریس، چٹہ سنگھ پورہ، سب ایک ہی کہانی کے مختلف ابواب ہیں.مقصد، سیاسی فائدہ اور پاکستان پر الزام،عالمی ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کے فالس فلیگ آپریشنز کی آزاد بین الاقوامی تحقیقات کرائی جائیں تاکہ خطے کا امن یرغمال نہ رہے

  • نئی دہلی دھماکہ،اگلےروز مودی کی ووٹ کی اپیل،سیاسی فائدے کی کوشش

    نئی دہلی دھماکہ،اگلےروز مودی کی ووٹ کی اپیل،سیاسی فائدے کی کوشش

    بھارت میں ایک بار پھر سیاسی اور سکیورٹی واقعات کے درمیان حیران کن مماثلت سامنے آ رہی ہے۔ نئی دہلی میں ہونے والے دھماکے کے اگلے ہی روز بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ووٹ مانگنے شروع کر دیئے،مودی نے ایکس پوسٹ میں بہار انتخابات کے لئے ووٹ مانگے ہیں

    سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ دھماکے کے فوراً بعد مودی کا "قومی سلامتی” اور "دہشت گردی کے خطرے” کو موضوع بنانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موجودہ حکومت ایک بار پھر سکیورٹی واقعات کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ذرائع کے مطابق بہار اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو واضح شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اسی کے بعد اچانک ایک مبینہ "دہشت گرد نیٹ ورک” کے پکڑے جانے کا اعلان کیا گیا، اور پھر نئی دہلی کے لال قلعہ کے قریب کار دھماکہ پیش آیا۔

    اس دھماکے نے نہ صرف دارالحکومت میں خوف و ہراس پھیلا دیا بلکہ بھارتی میڈیا، "گودی میڈیا” نے فوراً "پاکستانی ہاتھ” اور "دہشت گردی کے بڑھتے خطرات” کے بیانیے کو نمایاں انداز میں پیش کرنا شروع کر دیا۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تمام واقعات ایک طے شدہ بیانیہ تشکیل دیتے ہیں یعنی پہلے کسی سکیورٹی خطرے یا واقعے کو ابھارا جائے، پھر میڈیا کے ذریعے جذبات کو بھڑکایا جائے، اور آخر میں حکمران جماعت "قومی سلامتی” کے نام پر عوام سے ووٹ مانگے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر اس طرح کے واقعات پر اب سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ کئی غیر ملکی میڈیا اداروں نے حالیہ دھماکے، اس کے بعد کی سیاسی سرگرمیوں اور حکومت کے فوری ردعمل کو "ممکنہ فالس فلیگ آپریشن” کے تناظر میں دیکھنا شروع کر دیا ہے۔

    ایک غیر ملکی تجزیہ کار نے لکھا "یہ حیرت انگیز اتفاق نہیں بلکہ ایک مخصوص سیاسی حکمتِ عملی دکھائی دیتی ہے ، پہلے شکست، پھر دھماکہ، اور پھر انتخابی نعروں میں وطن پرستی کا شور،دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے مودی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ انتخابی نقصان سے توجہ ہٹانے کے لیے "خوف اور دشمنی” کی سیاست کر رہی ہے۔

  • دہلی کار دھماکہ، عینی شاہدین اور سرکاری بیانیہ میں تضاد

    دہلی کار دھماکہ، عینی شاہدین اور سرکاری بیانیہ میں تضاد

    10 نومبر کی شام تقریباً سات بجے دہلی کے تاریخی لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے قریب ایک کار میں ہونے والے زوردار دھماکے نے دارالحکومت کو لرزا دیا۔ اس واقعے میں آٹھ افراد جاں بحق اور چوبیس سے زائد زخمی ہوئے۔

    دھماکے کے بعد فائر بریگیڈ، پولیس اور این ایس جی کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں، جبکہ علاقے کو فوراً سیل کر کے دہلی، اتر پردیش اور ہریانہ میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا۔سرکاری ذرائع کے مطابق دھماکہ ایک Hyundai i20 کار میں ہوا جس کی نمبر پلیٹ ہریانہ کی تھی۔ وزیرِ داخلہ امیت شاہ نے واقعے کو "سنگین واقعہ” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام پہلوؤں دہشت گردی، حادثہ یا تکنیکی خرابی پر تحقیقات جاری ہیں۔تاہم، عینی شاہدین کے بیانات میں قابلِ ذکر تضاد سامنے آیا ہے۔ ایک مقامی شہری، جو جائے وقوعہ پر سب سے پہلے پہنچا، نے دعویٰ کیا کہ دھماکہ جس گاڑی میں ہوا وہ Maruti Suzuki تھی، نہ کہ i20۔ اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے جس میں وہ گاڑی کے چھوٹے سائز اور ماڈل کی وضاحت کرتا ہے۔

    گاڑی کی ملکیت پر بھی ابہام پایا جاتا ہے۔ابتدائی رپورٹس میں کہا گیا کہ کار نڈیم نامی شخص کے نام پر رجسٹرڈ تھی جو فرید آباد (ہریانہ) کا رہائشی ہے۔ بعد ازاں بعض میڈیا اداروں نے دعویٰ کیا کہ گاڑی سلمان نامی شخص کی تھی، جس نے حال ہی میں اسے فروخت کیا تھا لیکن رجسٹریشن اب تک تبدیل نہیں ہوئی تھی۔دوسری جانب، سرکاری بیانیہ میں اچانک ایک نیا نام سامنے آیا – طارق (پلوامہ، جمّوں و کشمیر) جس سے واقعے کو دہشت گردی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم، اس دعوے کی کوئی حتمی تصدیق اب تک نہیں کی گئی۔

    ابتدائی طور پر کئی عینی شاہدین نے شبہ ظاہر کیا کہ ممکن ہے یہ دھماکہ CNG سلنڈر پھٹنے سے ہوا ہو، کیونکہ جائے وقوعہ سے کسی واضح دھماکہ خیز مواد یا "آئی ای ڈی” کے آثار نہیں ملے۔ماہرین کے مطابق اگر یہ دہشت گرد حملہ ہوتا تو عام طور پر حملہ آور موقع سے فرار ہوتے، مگر اس واقعے میں گاڑی میں سوار تمام افراد موقع پر ہلاک ہو گئے۔

    سوالات جو ابھی تک جواب طلب ہیں،گاڑی کا درست ماڈل اور مالک کون ہے؟دھماکہ بم سے ہوا یا سلنڈر پھٹا؟اگر دہشت گردی تھی تو حملہ آوروں کی شناخت کیا ہے؟جائے وقوعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج اب تک کیوں جاری نہیں کی گئی؟

    سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ واقعے کی تفتیش میں تضادات اور جلدبازی نے عوامی شکوک کو بڑھا دیا ہے۔ بعض حلقے خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ انتخابات سے قبل خوف اور نفرت کا ماحول پیدا کرنے کے لیے واقعے کو سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے۔