Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • اجیت ڈوول کے دور میں بھارت سے 30 سے زائد حملے

    اجیت ڈوول کے دور میں بھارت سے 30 سے زائد حملے

    بھارت کے قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوول، جنہوں نے مئی 2014 میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں، نے ملک کو "آہنی سکیورٹی” دینے کا وعدہ کیا تھا۔ مگر ایک دہائی گزرنے کے بعد ملک خون میں نہا گیا ہے۔ کشمیر سے کیرالا تک، نکسلیوں سے لے کر داعش کے حامیوں تک، درجنوں دہشت گرد حملوں نے بھارت کو لرزا کر رکھ دیا ہے۔

    80 سالہ ڈوول اب بھی عہدے پر براجمان ہیں،مسلسل حملے ہو رہے ہیں لیکن مودی اجیت کو نہیں ہٹا رہے،
    اہم دہشت گرد حملوں کی فہرست (2014 تا 2025)
    بنگلور بم دھماکہ (دسمبر 2014): چرچ کے قریب دھماکہ، 1 ہلاک، 5 زخمی۔
    جموں حملہ (مارچ 2015): اسکول پر حملہ، 6 ہلاک، 10 زخمی۔
    گرداسپور (جولائی 2015): پولیس پوسٹ پر فائرنگ، 10 ہلاک۔
    پٹھانکوٹ ایئربیس محاصرہ (جنوری 2016): 7 فوجی ہلاک۔
    پلوامہ، پمپور، اور اُڑی حملے (2016): درجنوں فوجی مارے گئے۔
    سکما نکسلی حملہ (اپریل 2017): 26 اہلکار ہلاک۔
    پلوامہ خودکش حملہ (فروری 2019): 40 سی آر پی ایف اہلکارہلاک
    گچھی رولی بم حملہ (مئی 2019): 16 ہلاک۔
    سکما-بیجاپور جھڑپ (اپریل 2021): 22 فوجی مارے گئے۔
    جموں ڈرون حملہ (جون 2021): فوجی ہوائی اڈے پر دھماکے۔
    کوچی کنونشن بم دھماکہ (اکتوبر 2023): 3 ہلاک، 36 زخمی۔
    ریاسی یاتریوں پر حملہ (جون 2024): 9 ہلاک، 41 زخمی۔
    پہلگام قتلِ عام (اپریل 2025): 26 سیاح ہلاک۔
    دہلی لال قلعہ دھماکہ (نومبر 2025): 8 ہلاک، 30 زخمی۔

    گزشتہ دس برسوں میں 500 سے زائد افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔2015 سے 2025 کے دوران وادی کشمیر میں درجنوں کشمیری پنڈت نشانہ بنے، جس سے اقلیتی برادری کا اعتماد بری طرح متزلزل ہو گیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اجیت ڈوول کے دور میں داخلی حملوں میں کمی کے بجائے اضافہ دیکھنے میں آیا۔

  • دہلی کار دھماکہ،کانگریس نے مودی سرکار پر اٹھائے سوالات

    دہلی کار دھماکہ،کانگریس نے مودی سرکار پر اٹھائے سوالات

    کانگریس پارٹی کے ایم ایل اے ایچ ڈی راگناتھ نے دہلی کار دھماکے کی تحقیقات پر مودی حکومت پر سوالات اٹھا دیے۔

    راگناتھ نے کہا کہ کار میں سی این جی سلنڈر دھماکےکی جگہ پر وزیر داخلہ کا دورہ غیر متوقع تھا،انہوں نے کہا کہ امونیم نائٹریٹ کی باقیات کی تحقیقات غلط طریقے سے کی گئی کیونکہ اس علاقے کو سیل نہیں کیا گیا تھا، راگناتھ نے سوال اٹھایا کہ جب دہلی میں سی سی ٹی وی کی وسیع نگرانی ہے تو کئی گھنٹے بعد بھی کار سے متعلق معلومات جاری کیوں نہیں کی گئیں،انہوں نے مودی سرکار سے واقعے کی تحقیقات کے حوالے سے اصل حقائق سامنے لانے کا مطالبہ کردیا۔

  • دہلی دھماکے کے بعد بھارتی میڈیا کی بوکھلاہٹ، ثبوتوں کے بغیر پاکستان پر الزام تراشی

    دہلی دھماکے کے بعد بھارتی میڈیا کی بوکھلاہٹ، ثبوتوں کے بغیر پاکستان پر الزام تراشی

    بھارت کے دارالحکومت دہلی میں ہونے والے دھماکے کے بعد بھارتی میڈیا اور سیاسی حلقوں کی جانب سے حسبِ روایت پاکستان پر الزام تراشی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ دھماکے کی تحقیقات ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں، تاہم بھارتی چینلز اور تجزیہ کاروں نے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانا شروع کر دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق دہلی کے حساس علاقے میں ہونے والا یہ دھماکہ شام کے وقت پیش آیا، جس میں چند افراد زخمی ہوئے۔ پولیس اور تفتیشی ادارے جائے وقوعہ کا جائزہ لے رہے ہیں، مگر ابھی تک کوئی حتمی شواہد سامنے نہیں آئے۔ اس کے باوجود بھارتی میڈیا نے واقعے کو سیاسی رنگ دیتے ہوئے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا مہم شروع کر دی ہے۔سوشل میڈیا صارفین نے بھارتی میڈیا کے اس رویے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ مختلف صارفین نے کہا کہ بھارت ہر داخلی مسئلے کا الزام پاکستان پر ڈال کر اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایک صارف نے لکھا “ہر بار جب بھارت کے اندر کوئی واقعہ ہوتا ہے، فوراً پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرا دیا جاتا ہے، مگر بعد میں حقیقت کچھ اور نکلتی ہے۔”کئی صارفین نے دہلی دھماکے کو “فالس فلیگ آپریشن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت اپنے سیاسی مقاصد کے لیے ایسے واقعات کو استعمال کرتی ہے تاکہ عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹائی جا سکے۔

    پاکستانی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کے اس طرزِ عمل سے خطے میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بغیر ثبوت الزام تراشی نہ صرف غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین کے منافی بھی ہے۔

  • دہلی دھماکہ،بھارتیوں نے بھی انتخابی فالس فلیگ قرار دے دیا

    دہلی دھماکہ،بھارتیوں نے بھی انتخابی فالس فلیگ قرار دے دیا

    بھارتی سیاسی رہنماؤں اور صحافیوں نے نئی دہلی دھماکے کو انتخابی فالس فلیگ قرار دے دیا، بی جے پی حکومت پر انگلیاں اٹھنے لگیں

    بھارتی صحافی شالنی شکلہ نے کہا: "ہر بار جب بی جے پی بحران میں آتی ہے، دہشتگردی یا بلاسٹ کا نیا ڈرامہ رچایا جاتا ہے، فوراً پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرا دیا جاتا ہے”،کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ پردیوت بوردولوی کا انکشاف: "یہ سب بہار انتخابات سے پہلے کا ایک متوقع سیاسی اقدام تھا”،صحافی روی نیر نے لکھا: "بہار الیکشن کے دوران بی جے پی کمزور پوزیشن پر ہے، مزید ایسے دھماکوں کی توقع ہے”بھارتی شہری سوال اٹھانے لگے: "ہر انتخاب سے پہلے بم دھماکے کیوں ہوتے ہیں؟ آخر فائدہ کس کو ہوتا ہے؟”

    سوشل میڈیا پر ہزاروں صارفین نے بی جے پی پر سیاسی مفاد کے لیے فالس فلیگ آپریشنز کے الزامات لگا دیے،بھارتی صحافی رویندر کپور اور سربھی ایم نے تمام بڑے دہشت گرد حملوں کو ’’بی جے پی حکومت‘‘ سے جوڑا، پٹھان کوٹ، پلوامہ، پہلگام اور اب لال قلعہ دھماکہ،سابق آر ایس ایس رہنما یشونت شنڈے کے عدالتی حلفیہ بیان کا حوالہ دوبارہ زیرِ بحث "سنگھ پریوار نے انتخابی فائدے کے لیے بم دھماکے کروائے”بھارتی اخبار Coastal Digest نے بھی تصدیق کی تھی کہ "سنگھ پریوار ملک بھر میں دھماکے کروا کر بی جے پی کو فائدہ پہنچاتا رہا ہے”بھارتی صحافی کلکی نے کہا: "بی جے پی حکومت نے دہلی میں اپنے ہی شہریوں پر بم گرائے تاکہ احتجاج روکے جائیں۔ یہ دہشتگردی ہے”

    عوامی ردِعمل میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ امت شاہ کے وزیرِ داخلہ بننے کے بعد ہر بڑا حملہ بی جے پی حکومت کے دور میں ہی کیوں ہوتا ہے؟تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لال قلعہ دھماکے کے فوراً بعد پاکستان کو ملوث ٹھہرانا بی جے پی کا پرانا حربہ ہے۔ مقصد صرف انتخابی ہمدردی حاصل کرنا ہے،بھارتی عوام کا نیا بیانیہ اب سامنے آ گیا: ’’یہ دھماکے پاکستان نہیں، سیاست کی فیکٹریاں کروا رہی ہیں‘‘

  • لال قلعہ کے قریب دھماکہ،بھارتی حکومت،میڈیا کا پروپیگنڈہ ایک بار پھر بے نقاب

    لال قلعہ کے قریب دھماکہ،بھارتی حکومت،میڈیا کا پروپیگنڈہ ایک بار پھر بے نقاب

    گزشتہ چند گھنٹوں میں ہندوستانی سرکاری اور پرو حکومتی میڈیا میں شائع ہونے والے الزامات نے ایک بار پھر سرحد پار “دہشت گردی” کے بیانیے کو زور پکڑنے کا موقع فراہم کیا۔ دہلی کے لال قلعے کے قریب کار دھماکے اور اسی کے بعد جاری کیے گئے دعوؤں کے تناظر میں یہ رپورٹ اُن دعوٰیوں، شواہد کی کمی، اعداد و شمار میں تضاد اور ممکنہ پروپیگنڈا پیٹرن کا تجزیہ پیش کرتی ہے۔

    ہندوستانی اداکاروں اور میڈیا کے مطابق بھارتی فورسز نے ایل او سی کے قریب دراندازی کی ایک کوشش ناکام بنائی، دو عسکریت پسند ہلاک ہوئے اور بعد ازاں بڑے پیمانے پر چھاپوں میں مجموعی طور پر 2,563 کلو گرام امونیم نائٹریٹ اور تقریباً 2,900 کلو گرام IED/دھماکہ خیز مواد ضبط کیا گیا ، جسے باضابطہ طور پر ایک “جال” یا ماڈیول کا حصہ قرار دیا گیا اور اس کا تعلق مبینہ طور پر جیشِ محمد سے جوڑا گیا ہے۔ اسی اثنا میں دہلی میں ایک کار دھماکہ بھی ہوا جس نے متعدد ہلاکتیں ہوئیں

    بھارتی مختلف نیوز سروسز اور پرو حکومتی اکاؤنٹس نے ضبط کیے جانے والے مادّوں کی مقدار کے بارے میں مختلف اعداد دیے ، کچھ نے 2,563 کلو گرام، دوسرے نے 2,900 کلو گرام اور تیسری جگہ مختلف اعداد سامنے آئے۔ ان دعووں کے ساتھ جو شکلیں اور بیانات شائع کیے گئے، ان میں کسی بھی طرح کی آزاد، غیرجانبدار فرانزک رپورٹس، لیبارٹری کے نتائج، یا چین آف کسٹڈی کی دستاویزات منظر عام پر نہیں آئیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے کلپس اور تصاویر کی صداقت بھی تفتیش کے بغیر ثابت نہیں کی گئی۔ اس تضاد اور شواہد کی عدم موجودگی نے حقائق کی آزاد تصدیق میں رکاوٹ کھڑی کر دی ہے۔

    یہ وہی حکمتِ عملی معلوم ہوتی ہے جو ماضی میں بھی دیکھی گئی: دھمکی کا شور ، ایک منظر نامہ (انکاؤنٹر/دراندازی) مبینہ شہادتیں/ثبوت کا اعلان، بڑے پیمانے پر چھاپے اور گرفتاریاں۔ پچھلے سالوں میں سوپور، پلوامہ اور پہلگام جیسے واقعات کے بعد بھی اسی رنگ میں بیانات اور کارروائیاں سامنے آئیں، جن پر بین الاقوامی سطح پر آزاد تصدیق طلب رہی یا بعد ازاں سوال اٹھائے گئے۔ کئی مبصرین اور حقوقِ انسانی گروپس کا ماننا ہے کہ ایسے واقعات کو مقامی آبادی اور اختلافِ رائے کو دباتے ہوئے داخلی ایجنڈے کو تقویت دینے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    ان دعووں کے فوراﹰ بعد کشمیری علاقوں میں بڑے پیمانے پر چھاپے، گرفتاریوں اور تفتیشی کارروائیوں کی خبریں آئیں۔ ایسے آپریشنز میں اکثر آزاد اور غیرجانبدار مبصرین کی رسائی محدود رہتی ہے، جس کی وجہ سے انسانی حقوق کے حلقے خدشات ظاہر کرتے رہے ہیں کہ “دہشت گردی” کا لیبل مقامی آبادی کے خلاف اجتماعی سزا کے تناظر میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں شفافیت اور ثالثی جانچ کا فقدان خطرناک نتائج کو جنم دے سکتا ہے۔

    اہم بین الاقوامی خبر رساں ادارے اور غیر جانبدار تجزیہ کار اس وقت تک مکمل، آزادانہ تصدیق کی تائید نہیں کر رہے جن بیانات کو بھارتی سرکاری ذرائع بڑے پیمانے پر پیش کر رہے ہیں۔ لال قلعہ کے واقعہ کی خبریں تو بین الاقوامی سطح پر رپورٹ ہو رہی ہیں، مگر منسلک دعووں ، خصوصاً ضبط ہونے والے مادّوں اور ان کے مبینہ روابط کی آزاد تصدیق ابھی دستیاب نہیں ہے۔ لہٰذا دعووں کو بطورِ حقائق قبول کرنے سے پہلے شواہد کا باضابطہ، شفاف اعلان ضروری ہے۔

    بھارتی حکام نے بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مادّہ ضبط کیے جانے اور دراندازی ناکام بنانے کے بارے میں دعوے کیے ہیں، تاہم اعداد و شمار میں مستقل مزاجی اور آزاد فرانزک شواہد دستیاب نہیں۔ دہلی کے ریڈ فورٹ کے نزدیکی کار دھماکے کی خبریں بین الاقوامی ایجنسیوں نے رپورٹ کی ہیں، مگر اس واقعہ اور ضبطی/انکاؤنٹر کے بیچ تعلق کو ثابت کرنے کے لیے مزید شفاف شواہد درکار ہیں۔ گذشتہ تجربات اور بیانیے دیکھ کر امکان ہے کہ سیاسی/سیکیورٹی ایجنڈے کے تناظر میں بیانیے کو ایک خاص سمت میں ہموار کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آبادی اور انسانی حقوق پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ حقیقت جاننے کا واحد راستہ ہے، آزاد، غیرجانبدار فرانزک جانچ، شواہد کی مکمل دستاویزات، اور چین آف کسٹڈی کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھی جائیں۔ جب تک یہ شفافیت نہیں آتی، مباحثے اور قانونی کارروائیوں کو جذبات یا پراپیگنڈا پر مبنی بیانیوں کے بجائے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر چلانا چاہیے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں اور آزاد میڈیا کو بھی آزادانہ رسائی دینی چاہیے تاکہ حقائق کو چھان کر عوام تک پہنچایا جا سکے۔

    بھارت اپنی ناکامیوں کو چھپانے اور الزام تراشی کے لیے آپر یشن سندور کے خاتمے کے فوراً بعد اس بیانیے کو آگے بڑھا رہا ہے نام نہاد ایل او سی کی دراندازی اور د ھماکہ خیز مواد کا قبضہ ایک من گھڑت پرو پیگنڈہ ہے جس کا مقصد پاکستان کو ایک جارح کے طور پر پیش کرنا اور مقبو ضہ کشمیر میں ہندوستان کی فوجی تعمیر کو جائز قرار دینا ہے۔ دھمکیاں تیار کرکے اور شہریوں کو مجرم بنا کر، بھارت کا مقصد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو چھپانا اور کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی جدوجہد کو دبانا ہے۔

  • مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر اور معروف کالم نگار عرفان صدیقی چل بسے

    مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر اور معروف کالم نگار عرفان صدیقی چل بسے

    حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر اور معروف کالم نگار عرفان صدیقی طبعی مشکلات کے باعث انتقال کر گئے۔

    عرفان صدیقی دو ہفتے سے علیل تھے اور اسلام آباد کے نجی اسپتال میں زیر علاج تھے۔عرفان صدیقی پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں حکمران جماعت کے پارلیمانی لیڈر کے فرائض سرانجام دے رہے تھے اور ان کی سینیٹ میں مدت مارچ 2027ء تک تھی۔ ان کی وفات سے نہ صرف پارلیمانی حلقوں میں غم کا ماحول ہے بلکہ سیاسی اور ادبی دنیا بھی سوگوار ہے۔

    عرفان صدیقی صدر مسلم لیگ (ن) نواز شریف کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے اور پارٹی میں ایک اہم کردار ادا کرتے آئے۔ وہ خارجہ امور کی سینیٹ کمیٹی کے چیئرپرسن بھی تھے اور اس کے علاوہ بزنس ایڈوائزری، ہیومن رائٹس، انفارمیشن و براڈ کاسٹنگ، داخلہ اور منشیات کنٹرول سمیت مختلف سینیٹ کمیٹیوں کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔سینیٹر عرفان صدیقی کی سیاسی بصیرت اور ادبی خدمات کو نہ صرف مسلم لیگ (ن) بلکہ ملک بھر میں سراہا جاتا رہا ہے۔ ان کے انتقال پر سیاسی و سماجی حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

    صدر مملکت آصف علی زرداری کا سینیٹر عرفان صدیقی کے انتقال پر اظہارِ تعزیت
    صدر مملکت آصف علی زرداری نے سینیٹ میں پاکستان مسلم لیگ ( ن) کے پارلیمانی قائد عرفان صدیقی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔صدر مملکت نے ان کے خاندان سے اظہار ھمدردی کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم کی پاکستان میں جمہوریت کے لیے بے پناہ خدمات ہیں۔صدر نے عرفان صدیقی کے ایصالِ ثواب کیلیے دعا کی اور ان کے خاندان سے اظہارِ ہمدردی کیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، حمزہ شہباز،وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں نے بھی عرفان صدیقی کی وفات پر اظہار افسوس کیا ہے.

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نےسینیٹر عرفان صدیقی کے انتقال پر اظہار افسوس کیا ہے،وزیرداخلہ نے سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کیا ہے،وزیرداخلہ نے سینیٹر عرفان صدیقی کی صحافتی و سیاسی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ سینیٹر عرفان صدیقی مرحوم صحافت کے ساتھ سیاست میں بھی اعلی روایات کے علمبردار تھے،عرفان صدیقی مرحوم کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔اللہ تعالٰی مرحوم کی روح کو جوار رحمت میں جگہ دے اور سوگوار خاندان کو صبر جمیل عطافرمائے۔

    سینیٹر عرفان صدیقی صاحبزادے عمران صدیقی نے بتایا ہے اسلام آباد کے ایچ الیون قبرستان میں نماز جنازہ ہو گا اور نماز جنازہ کے وقت کا اعلان صبح کیا جائے گا

  • لال قلعہ کے قریب دھماکہ کے بعد ممبئی،بہار سمیت بھارت بھر میں ہائی الرٹ جاری

    لال قلعہ کے قریب دھماکہ کے بعد ممبئی،بہار سمیت بھارت بھر میں ہائی الرٹ جاری

    پیر کی شب بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے تاریخی لال قلعہ کے قریب ایک کار میں ہونے والے شدید دھماکے کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک اور 24 زخمی ہوگئے۔ دھماکہ اتنی شدت کا تھا کہ اردگرد کھڑی گاڑیاں بھی شعلوں کی لپیٹ میں آگئیں، جبکہ جائے وقوعہ پر تباہی کے دل دہلا دینے والے مناظر دیکھنے میں آئے۔

    عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے گیٹ نمبر 1 کے باہر کھڑی ایک سفید ہنڈائی i20 کار میں ہوا جس کا رجسٹریشن نمبر ہریانہ کا تھا اور وہ ایک شخص ندیم کے نام پر رجسٹرڈ تھی۔ دھماکے کے فوراً بعد قریبی گاڑیوں میں آگ لگ گئی، ایک وین کے دروازے اڑ گئے جبکہ کئی لاشیں بری طرح جھلس گئیں۔دہلی پولیس کمشنر ستیش گولچا نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا “شام 6 بج کر 52 منٹ پر ایک گاڑی لال بتی پر رکی تھی کہ اچانک دھماکہ ہوا۔ دھماکے سے قریبی گاڑیاں بھی متاثر ہوئیں۔ کچھ افراد ہلاک ہوئے ہیں، کچھ زخمی۔ صورتحال پر مکمل نظر رکھی جارہی ہے۔ وزیر داخلہ امیت شاہ نے رابطہ کیا ہے اور تمام معلومات انہیں فراہم کی جارہی ہیں۔”وزیر داخلہ امیت شاہ نے اس واقعے پر فوری طور پر وزیر اعظم نریندر مودی کو بریفنگ دی۔ مودی نے دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین سے اظہارِ افسوس اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی۔

    ذرائع کے مطابق ترجیح زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کی ہے۔ تقریباً دو درجن ایمبولینسز موقع پر پہنچ گئیں جبکہ علاقے کو مکمل طور پر سیل کردیا گیا ہے۔ بعد ازاں فورینزک اور ٹیکنیکل ٹیمیں شواہد اکٹھے کریں گی۔

    نئی دہلی کے تاریخی لال قلعے کے قریب کار میں ہونے والے دھماکے کے بعد ملک بھر میں ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔دھماکے کے بعد ممبئی سمیت پورے مہاراشٹرا میں سیکیورٹی سخت کردی گئی ہے۔ سیکیورٹی اداروں کے مطابق اہم تنصیبات، ریلوے اسٹیشنوں، ایئرپورٹس، اور مذہبی مقامات پر اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے۔ حساس مقامات پر چیکنگ کے عمل میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔الیکشن کے پیشِ نظر بہار میں بھی ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔ اسی طرح اترپردیش اور دہرہ دون کے تمام اضلاع کی پولیس کو گشت بڑھانے، حساس علاقوں میں چوکسی رکھنے اور غیر معمولی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ لکھنؤ سے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ہر ضلع میں گشت اور ناکہ بندی میں اضافہ کیا جائے۔دھماکے کے بعد بھارت۔نیپال سرحد پر بھی سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ بارڈر سیکیورٹی فورس (BSF) اور مقامی پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ سرحد پار کرنے والے تمام افراد کی سخت نگرانی کی جائے۔ انٹیلی جنس اداروں نے بھی سرحدی علاقوں میں اپنی موجودگی بڑھا دی ہے۔راجستھان میں بھی ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے ڈی جی پی راجیو شرما نے تمام ریجنل انسپکٹر جنرلز، ضلع پولیس سربراہان اور حساس تھانوں کو چوکنا رہنے کی ہدایت دی ہے۔ سرحدی اضلاع میں خصوصی نگرانی کی جا رہی ہے جبکہ دوسرے صوبوں سے آنے والی گاڑیوں کی مکمل تلاشی لی جا رہی ہے۔

  • پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی،جے یو آئی کا ایکشن،سینیٹر کو پارٹی سے نکال دیا

    پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی،جے یو آئی کا ایکشن،سینیٹر کو پارٹی سے نکال دیا

    جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) نے سینیٹر احمد خان کو پارٹی سے نکال دیا۔

    جے یو آئی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق 27 ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے پر احمد خان کو پارٹی سے خارج کیا گیا ہے۔جے یو آئی کا کہنا ہےکہ احمد خان فوری طور پر سینیٹ کی نشست سے مستعفی ہوجائیں، احمد خان نے استعفیٰ نہ دیا تو نااہلی کے لیے الیکشن کمیشن سے رجوع کریں گے۔

    خیال رہےکہ سینیٹ نے 27 ویں آئینی ترمیم منظور کرلی ہے۔ 64 ارکان نے ترمیمی بل کے حق میں ووٹ دیا جب کہ مخالفت میں کوئی ووٹ نہ آیا،پی ٹی آئی کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو اور جے یو آئی کے احمد خان نے بھی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا،بعد ازاں سینٹ میں خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے مستعفی ہونےکا اعلان کردیا اور اب جے یو آئی نے احمد خان کو پارٹی سے نکال دیا.

  • دہلی سلنڈر دھماکہ،مودی سرکار کا ایک اور فالس فلیگ آپریشن

    دہلی سلنڈر دھماکہ،مودی سرکار کا ایک اور فالس فلیگ آپریشن

    بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں اسرائیلی سفارتخانے کے قریب دھماکہ ہوا ہے

    سوشل میڈیا اور بعض سیاسی و صحافتی حلقوں میں یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ یہ واقعہ کسی بیرونی حملے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک "فالس فلیگ آپریشن” ہو سکتا ہے، جسے مبینہ طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت نے سیاسی مقاصد کے لیے ترتیب دیا۔ذرائع کے مطابق، دھماکہ سفارتخانے کے قریب ایک مصروف سڑک پر ہوا، جس کی آواز دور تک سنی گئی۔ پولیس اور بم ڈسپوزل اسکواڈ نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی بھارتی حکومت نے انتخابی ادوار میں ایسے مشتبہ واقعات کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا۔ ان کے مطابق، حالیہ دھماکہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب بہار کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں بی جے پی کو غیر متوقع نتائج کا سامنا کرنا پڑا۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ممکن ہے اس واقعے کو عوامی ہمدردی حاصل کرنے اور اپوزیشن کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔

    یاد رہے کہ بھارت میں 2019 کے پلوامہ حملے کے بعد بی جے پی نے قومی سلامتی کے بیانیے کو بھرپور طریقے سے انتخابی مہم میں شامل کیا تھا، جس کے نتیجے میں اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔ اب ایک بار پھر انتخابی ماحول میں اسی نوعیت کا واقعہ سامنے آنا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔دہلی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ یہ سلنڈر دھماکہ تھا تاہم اسکے بعد بھارتی میڈیا پر بلیک آؤٹ کر دیا گیا،واقعہ کے بعداسرائیلی سفارتخانے کی سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

  • کیڈٹ کالج وانا پر دہشت گرد حملے کی کوشش ناکام

    کیڈٹ کالج وانا پر دہشت گرد حملے کی کوشش ناکام

    جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں فتنۂ خوارج کی جانب سے کیڈٹ کالج وانا پر دہشت گرد حملے کی کوشش سیکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دی۔

    جنوبی وزیرستان کے کیڈٹ کالج وانا پر دہشت گردوں نے بزدلانہ حملہ کیا جسے سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا اور 2 خوارج ہلاک کر دیے۔ترجمان پاک فوج کے مطابق بھارتی سرپرستی یافتہ گروپ فتنہ الخوارج نے جنوبی وزیرستان کے کیڈٹ کالج وانا پر حملہ کیا،حملہ آوروں نے پریمیئر سکیورٹی کو توڑنے کی کوشش کی، تاہم سکیورٹی فورسز نے حملہ آور کے منصوبوں کو تیزی سے ناکام بنایا،مایوسی میں حملہ آوروں نے مین گیٹ پر ایک بارودی گاڑی ٹکرادی، دھماکے سے مرکزی گیٹ اور ملحقہ انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا، بھارتی سرپرستی یافتہ 2 خوارج ہلاک کردیے گئے، 3 خوارج کالج کے احاطے میں داخل ہوئے ، تینوں خوارج اب کالج کے ایڈمنسٹریٹو بلاک میں محصور ہیں، خوارج اے پی ایس میں وحشیانہ اقدام کی طرز پر دہشت گردی دہرانے کی کوشش کررہے تھے۔

    خوارج نے اے پی ایس میں وحشیانہ اقدام کی طرز پر دہشت گردی دہرانے کی کوشش کی،ترجمان پاک فوج
    آئی ایس پی آر کے مطابق کالج کے اندر چھپے خوارج افغانستان میں اپنے آقاؤں اور ہینڈلرز کے ساتھ رابطے میں ہیں، خوارج افغانستان اپنے ہینڈلرز سے ہدایات وصول کر رہے ہیں، پاکستان دہشت گردوں اور افغانستان میں موجود ان کی قیادت کے خلاف جواب کا حق محفوظ رکھتا ہے۔خوارج کا ہدف قبائلی علاقوں کی نوجوان نسل میں خوف پھیلانا ہے، افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی افغان طالبان کے دعوؤں کے برعکس ہے،بھارتی سرپرستی یافتہ خوارج کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے، عزمِ استحکام کے تحت بلا روک ٹوک انسدادِ دہشت گردی اقدامات جاری رکھیں گے، ملک سے بیرونی سرپرستی یافتہ دہشت گردی کا خاتمہ ممکن بنایا جائے گا۔

    یاد رہے کہ کیڈٹ کالج وانا مقامی قبائل کی درخواست پر قائم کیا گیا ایک اہم تعلیمی ادارہ ہے جہاں محسود اور وزیر قبائل کے بچے بڑی تعداد میں زیرِ تعلیم ہیں۔ ادارہ نوجوانوں کو اعلیٰ معیار کی تعلیم فراہم کر رہا ہے اور اس کے فارغ التحصیل طلبہ ملک کے مختلف شعبوں میں اہم عہدوں پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔