Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • نسیم شاہ کے حجرے پر فائرنگ

    لوئردیر میں قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر نسیم شاہ کے حجرے پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔

    پولیس کے مطابق فائرنگ سے حجرے کا مین گیٹ،کھڑکیاں اور گاڑی کو جزوی طور پر نقصان پہنچا،پولیس نے بتایا کہ فائرنگ واقعے کا مقدمہ درج کرلیاگیا ہے،پولیس کے مطابق فائرنگ واقعے کے بعد 5 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔سیاسی رہنماؤں نے نسیم شاہ کے حجرے پر فائرنگ کے واقعہ کی مذمتکی ہے اور ملزمان کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے

  • نئی دہلی دھماکہ سلنڈر دھماکہ ،دہشتگردی کے شواہد نہیں ملے،نئی دہلی پولیس کی تصدیق

    نئی دہلی دھماکہ سلنڈر دھماکہ ،دہشتگردی کے شواہد نہیں ملے،نئی دہلی پولیس کی تصدیق

    نئی دہلی پولیس کا ابتدائی بیان سامنے آ گیا، نئی دہلی میں سلینڈر دھماکہ ہوا

    دہلی پولیس کے مطابق دھماکہ میں کسی قسم کی دہشتگردی کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ دھماکہ کا ابتدائی تجزیہ ثابت کر رہا ہے کہ گاڑی میں موجود گیس سلینڈر میں دھماکہ ہوا۔ گیس سلینڈر دھماکے سے نئی دہلی میں 8 افراد ہلاک ہوئے،زرائع کے مطابق دہلی پولیس پر ابتدائی بیان تبدیل کرنے کے لئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔دہلی پولیس اپنے بیان پر ڈٹ گئی۔ یہ سلینڈر دھماکہ ہی ہے۔ بھارتی میڈیا دہلی پولیس کا ابتدائی بیان نشر کرنے کے بعد بلیک آؤٹ کرنے لگا۔

    واضح رہے کہ بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کےقریب دھماکے کی اطلاع موصول ہوئی ہے ،لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے گیٹ نمبر 1 کے قریب گاڑی میں دھماکہ ہونےکی اطلاعات ہیں دھماکے کی اطلاع پر قانون نافذ کرنے والے ادارے موقع پر پہنچ گئے

  • 27ویں آئینی ترمیم سینیٹ سے منظور

    27ویں آئینی ترمیم سینیٹ سے منظور

    سینیٹ نے 27 ویں آئینی ترمیم منظور کرلی

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سینیٹ میں آئینی ترمیمی بل پیش کرنے کی تحریک پیش کی۔ اس دوران پی ٹی آئی ارکان نے چیئرمین سینیٹ کے ڈائس کے سامنے احتجاج کیا،پی ٹی آئی کے سیف اللہ ابڑو نشست پر بیٹھے رہے اور احتجاج میں شریک نہیں ہوئے،ستائیسویں آئینی ترمیمی پیش کرنے کی تحریک پر ایوان میں ووٹنگ ہوئی تو سیف اللہ ابڑو آئینی ترمیم پیش کرنے کی تحریک کے حق میں کھڑے ہوئے،جے یو آئی کے احمد خان بھی تحریک کے حق میں کھڑے ہو ئے۔ 64 ارکان سینیٹ نے ستائسیویں آئینی ترمیم کی 59 شقوں کی مرحلہ وار منظوری دی۔ سینیٹ ارکان نے نشستوں سے کھڑے ہوکر ووٹنگ میں حصہ لیا، 27 ویں آئینی ترمیمی بل سینیٹ سے حتمی منظوری کیلئے پیش کیا گیا، آئینی ترمیمی بل منظوری کیلئے اعظم نذیر تارڑ نے پیش کیا،سینیٹ اراکین نے 27 ویں ترمیم کے حق یا مخالفت میں لابیز میں جا کر ووٹ دیا اور یوں 64 ارکان نے ترمیمی بل کے حق میں ووٹ دیا جبکہ مخالفت میں کوئی ووٹ نہ آیا۔

    چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے رولنگ دی کہ 27 ویں آئینی ترمیمی بل سینیٹ سے منظور کرلیا، 27 ویں آئینی ترمیمی بل کے حق میں 64 ووٹ آئے جبکہ آئینی ترمیم کے خلاف کوئی ووٹ نہیں آیا،آئینی ترمیمی بل پر ووٹنگ کے بعد سیف اللہ ابڑو اور احمد خان ایوان میں واپس نہیں آئے۔

    آئینی آئینی ترمیم کے تحت صدر کے خلاف تاحیات ،گورنر کے خلاف اس کی مدت تک کوئی کرمنل کارروائی نہیں ہوگی۔آئینی ترمیم میں کہا گیا کہ صدر کو تاحیات اور گورنر کے خلاف اس کی مدت تک کسی عدالت سے گرفتاری کا آرڈر جاری نہیں ہوگا، صدر پر استثنا کا اطلاق تب نہیں ہوگاجب صدارتی مدت کے بعد کسی پبلک آفس کا عہدیدار بن جائیں۔آئینی ترمیم کے مطابق وفاقی آئینی عدالت میں صوبوں سے برابر ججز اور اسلام آباد ہائیکورٹ سے کم از کم ایک جج ہوگا، اسلام آباد سے ججز کی تعداد ، صوبوں کے ججز سے زیادہ نہیں ہو گی۔آئینی ترمیم کے مطابق آئینی عدالت تب از خود نوٹس لے گی جب کوئی اس کے لیے درخواست دے، ہائیکورٹ جج کی ایک ہائیکورٹ سے دوسری میں ٹرانسفرجوڈیشل کمیشن کے ذریعے ہو گی،جج ٹرانسفر سے انکار کرے تو سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس ریفرنس فائل ہو گا، جج کو ٹرانسفر سے انکار کی وجوہات بتانے کا موقع دیا جائے گا۔

  • خیبر پختونخوا، سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں،20 خارجی ہلاک

    خیبر پختونخوا، سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں،20 خارجی ہلاک

    سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا میں 2 مختلف کارروائیاں کرتے ہوئے 20 خوارجی ہلاک کردیے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے مطابق کارروائیاں 8 اور 9 نومبر کو کی گئیں، شمالی وزیرستان کے ضلع شوال میں آپریشن کے دوران بھارتی سپانسرڈ 8 خارجی مارے گئے،ترجمان پاک فوج کاکہنا ہے کہ درہ آدم خیل میں شدید فائرنگ کے تبادلے میں 12 خوارج ہلاک کر دیے گئے، مزید بھارتی سپانسرڈ دہشت گردوں کی موجودگی کے خدشے کے باعث کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

  • جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس کو خط،آئینی ترمیم پرعدلیہ سے باضابطہ مشاورت کا مطالبہ

    جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس کو خط،آئینی ترمیم پرعدلیہ سے باضابطہ مشاورت کا مطالبہ

    سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ نے27 ویں آئینی ترمیم پر چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کو ایک اور خط لکھا ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے خط میں مجوزہ آئینی ترمیم پرعدلیہ سے باضابطہ مشاورت کا مطالبہ کیا ہے.خط میں جسٹس منصور کا کہنا ہےکہ چیف جسٹس پاکستان بطور عدلیہ سربراہ فوری ایگزیکٹو سے رابطہ کریں، واضح کریں آئینی عدالتوں کے ججز سے مشاورت کے بغیر ترمیم نہیں ہو سکتی، آئینی عدالتوں کے ججز پر مشتمل ایک کنونشن بھی بلایا جاسکتا ہے، آپ اس ادارے کے اینڈمنسٹریٹر نہیں گارڈین بھی ہیں، یہ لمحہ آپ سے لیڈرشپ دکھانے کا تقاضہ کرتا ہے۔ عدلیہ اگر متحد نہ ہوئی تو اس کی آزادی اور فیصلے دونوں متاثرہوں گے۔ تاریخ خاموش رہنے والوں کو نہیں، آئین کی سربلندی کے لیےکھڑے ہونے والوں کو یاد رکھتی ہے۔

    خط میں چیف جسٹس پاکستان سےتمام آئینی عدالتوں کے جج صاحبان کا اجلاس بلانےکی سفارش کی گئی ہے۔ خط میں سپریم کورٹ،ہائی کورٹس اور وفاقی شرعی عدالت سے باضابطہ مشاورت کی تجویز دی گئی ہے،خط میں جسٹس منصور نے کہا ہےکہ عدلیہ کا ادارہ جاتی مؤقف تحریری طور پر حکومت اور پارلیمان کوبھجوایا جائے۔ جب تک مشاورت مکمل نہ ہو،حکومت کو ترمیم پیش نہ کرنے سے آگاہ کیاجائے، میری گزارش اختلاف نہیں، ادارہ جاتی یکجہتی کی اپیل ہے۔ یہ خط کسی فرد کےخلاف نہیں،آئین کی سربلندی اور عدلیہ کی خودمختاری کے حق میں ہے۔ آئین پرخاموشی اختیارکرنا آئینی حلف کی روح کو مجروح کرےگا۔ آئندہ نسلوں کے لیے خودمختار اور باوقار عدلیہ کی حفاظت سب کی ذمہ داری ہے،

  • 27ویں آئینی ترمیم،پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے ایک ایک سینیٹر کا حق میں ووٹ

    27ویں آئینی ترمیم،پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے ایک ایک سینیٹر کا حق میں ووٹ

    مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے کی منظوری کے لیے سینیٹ کا اجلاس جاری ہے، وزیر قانون اعظم نذیر تاررڑ نے آئینی ترمیمی بل پیش کرنے کی تحریک پیش کر دی۔

    سینیٹ میں 27 ویں آئینی ترمیم کی شق وار منظوری کا عمل مکمل۔ 59 شقوں کی منظوری دی گئی،شق وار منظوری کے بعد وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر نے 27ویں آئینی ترمیمی بل حتمی منظوری کے لیے پیش کر دیا ہے، ووٹ ڈالنے کے لئے ارکان الگ الگ لابی میں جائیں گے، چیئرمین نے ڈویژن سے پہلے دو منٹ کے لیے گھنٹیاں بجانے کا حکم دیدیا، دو منٹ بعد ایوان کے دروازے بند کردیے جائیں گے ۔

    چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی سینیٹ اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں، ستائیسویں آئینی ترمیم پیش کرنے کی تحریک پر ایوان میں ووٹنگ جاری ہے، 64 ارکان سینیٹ نے ستائسیویں آئینی ترمیم کی شق 2 کے حق میں ووٹ دے دیا، اپوزیشن ارکان بائیکاٹ کرکے سینیٹ سے واک آؤٹ کرگئے، پی ٹی آئی سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو اور احمد خان نے ترمیم کے حق میں ووٹ دیا،

    اپوزیشن نے سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی اجلاس میں بھی ووٹنگ کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے، اپوزیشن ارکان نے کہا کہ ایوان میں گنتی کے بغیر کیسے ترمیم ہو سکتی ہے؟پی ٹی آئی ارکان نے چیئرمین سینیٹ کے ڈائس کے سامنے احتجاج کیا، سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو نشست پر بیٹھے رہے، احتجاج میں شریک نہیں ہوئے، پی ٹی آئی سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو آئینی ترمیم پیش کرنے کی تحریک کے حق میں کھڑے ہوئے، جے یو آئی کے احمد خان بھی تحریک کے حق میں کھڑے ہو گئے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ 27 ویں ترمیم پر ووٹنگ کے بائیکاٹ کا فیصلہ اپوزیشن مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں کیا گیا، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں ووٹنگ سے قبل احتجاج کیا جائے گا۔اس سے قبل قائمہ کمیٹی قانون و انصاف نے رپورٹ سینیٹ میں پیش کی جس میں 27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ بھی شامل ہے۔ رپورٹ فاروق ایچ نائیک نے پیش کی۔اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ مسودہ میں کچھ ترامیم کی گئی ہیں، سپریم کورٹ کے پاس از خود نوٹس کا اختیار تھا، ازخود نوٹس کے لیے تجویز کیا ہے کہ آئینی عدالت تب اس پر کام کرے گی جب کوئی اس کے لیے درخواست دے۔انہوں نے کہا کہ جج کی ہائی کورٹ سے دوسری ہائی کورٹ ٹرانسفر جوڈیشنل کمیشن پاکستان کے ذریعے ہوگی، اگر جج ٹرانسفر سے انکار کرے تو سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس ریفرنس فائل ہوگا، جج کو انکار کی وجوہات بتانے کا موقع دیا جائے گا، صدارتی استثنیٰ تب قابل عمل نہیں ہوگا جب وہ پبلک آفس ہولڈر ہو جائے۔

  • "عطائے ارمغانِ عقیدت”   آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی تقریب

    "عطائے ارمغانِ عقیدت” آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی تقریب

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کے زیرِ اہتمام اپنی نوعیت کی منفرد اور باوقار ادبی و روحانی تقریب "عطائے ارمغانِ عقیدت” لاہور کے معروف ہوٹل پاک ہیری ٹیج میں منعقد ہوئی۔

    یہ تقریب خصوصی طور پر مقابلہ "آپ ﷺ کے نام خط” میں شریک ہونے والے نمایاں پوزیشن ہولڈرز اور شرکاء کی حوصلہ افزائی کے لیے منعقد کی گئی، جس میں ممتاز ادبی، صحافتی اور علمی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی سعادت حافظ محمد زاہد نے حاصل کی، جبکہ فائزہ شہزاد اور حفصہ خالد نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کر کے محفل کو روحانیت سے معطر کر دیا۔ نظامت کے فرائض معروف اینکر و لکھاری سمیرا شفق نے نہایت وقار اور سلیقے سے انجام دیے۔مقابلے کے نتائج کے اعلان کے موقع پر یہ خوشخبری بھی سنائی گئی کہ شرکاء میں مجموعی طور پر 1,95,000 روپے کے انعامات تقسیم کیے جائیں گے، جن میں 85,000 روپے نقد اور 1,15,000 روپے مالیت کی کتابیں شامل ہیں۔بانی تنظیم ایم ایم علی نے اپنے افتتاحی خطاب میں اس ادبی و روحانی روایت کو آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “اپووا کا مقصد قلمکاروں کو عزت، پہچان اور فکری ہم آہنگی فراہم کرنا ہے۔”تقریب کی صدارت معروف ادبی شخصیت ناصر بشیر نے کی جبکہ سرپرستی سینئر وائس چیئرمین ملک یعقوب اعوان نے انجام دی۔

    مہمانانِ خصوصی میں محمد مرتضیٰ کھوکھر، رائے منظور ناصر، کاشف منظور، ایم اے شہزاد خان، اشفاق احمد خان، راشد محمود، ڈاکٹر فضیلت بانو، شہزاد چوہدری، اختر عباس، شہزاد نیر، ریاض احمد احسان، ندیم نظر اور چوہدری غلام غوث شامل تھے۔تقریب میں ثوبیہ راجپوت، قرۃ العین خالد اور ماہ نور طاہر سمیت کئی ادبی شخصیات نے پُراثر خطابات کیے، جن میں عشقِ رسول ﷺ، ادب کی سماجی ذمہ داری اور نوجوان نسل میں فکری بیداری جیسے اہم موضوعات زیرِ بحث آئے۔آخر میں بانی اپووا ایم ایم علی نے تقریب کے کامیاب انعقاد میں معاونت کرنے والی تمام شخصیات کا شکریہ ادا کیا،

    تقریب سے قبل شرکاء کے لیے پرتکلف لاہوری ناشتے کا اہتمام کیا گیا، جبکہ اختتامی لمحات میں یومِ اقبال کی مناسبت سے کیک کاٹا گیا۔ اس موقع پر تنظیم کی فعال رکن فرسہ رانا کی سالگرہ کا کیک بھی کاٹا گیا،

  • اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں جلد بلدیاتی الیکشن کرانے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے وفاقی دارالحکومت میں جلد بلدیاتی انتخابات کروانے کی درخواست پر سماعت کی جس دوران الیکشن کمیشن کے ڈی جی لاء اور اسسٹنٹ اٹارنی سمیت دیگر متعلقہ حکام عدالت میں پیش ہوئے،دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ لوکل گورنمنٹ الیکشن نہ ہونے سے نظام کا بیڑا غرق ہوگیا، نہ کوئی پراپرٹی ٹیکس لگ سکتاہے اور نہ ہی کوئی کام سیدھا ہورہا ہے، عدالتی فیصلوں کی مسلسل خلاف ورزی ہورہی ہے۔

    اس موقع پر الیکشن کمیشن کے ڈی جی لاء نے عدالت کو بتایا کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 میں کی گئی ترامیم میں کچھ پیچیدگیاں ہیں،اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے کہا کہ بلدیاتی الیکشن سے متعلق قانون سازی کی وجہ سے الیکشن تاخیر کا شکار ہوا، ترمیم اور قانون سازی کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے،جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ابھی پارلیمان آئین کی تشریح میں مصروف ہے اور کوئی ترمیم مشکل ہے، اےجی صاحب، ہرغلط کام کا دفاع نہیں کیاجاسکتا، جب غلط قانون بنتے ہیں تو بعد میں انہیں صفر پر واپس لانا ہوتا ہے جس قانون میں بہت غلطیاں ہوتی ہیں اسے واپس لانے میں وقت لگتا ہے،بعد ازاں عدالت نے اسلام آباد میں جلد بلدیاتی الیکشن کرانے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

  • 27 ویں آئینی ترمیم،قائمہ کمیٹی کی رپورٹ سینیٹ میں پیش

    27 ویں آئینی ترمیم،قائمہ کمیٹی کی رپورٹ سینیٹ میں پیش

    27 ویں آئینی ترمیم سے متعلق پارلیمان کے دونوں ایوانوں کی مشترکہ قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کی رپورٹ سینیٹ میں پیش کردی گئی۔

    چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں 27 ویں ترمیم کے معاملے پر سینیٹ کا اجلاس جاری ہے،دوران اجلاس سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کی رپورٹ سینیٹ میں پیش کی جس میں 27 ویں آئینی ترمیم کا بل شامل ہے،اس موقع پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ مسودے میں کچھ ترامیم کی گئی ہیں، آئینی ترمیم تھی کہ آئینی عدالت قائم کی جائے، کمیٹی نے آئینی کورٹ بنانے کو متفقہ طور پر منظور کیا تاہم کچھ ترامیم کیں،آئینی ترامیم میں تمام صوبوں کی کورٹ شامل ہیں، ہائیکورٹ کا بھی آئینی کورٹ میں حصہ ہو گا، ہائیکورٹ کا جج آئینی عدالت کے لیے نامزد ہوگاجس کےلیے کمیٹی نےکہا ہے اس کی اہلیت 7کی بجائے 5سال ہوگی، سپریم کورٹ کے پاس از خود نوٹس کا اختیار تھا ، ازخود نوٹس کے لیے تجویزکیا ہےکہ آئینی عدالت تب اس پرکام کرےگی جب کوئی اس کے لیے درخواست دے،جج کی ہائیکورٹ سے دوسری ہائیکورٹ ٹرانسفر جوڈیشل کمیشن پاکستان کے ذریعے ہوگی، اگرجج ٹرانسفر سے انکار کرے تو سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس ریفرنس فائل ہوگا جب کہ جج کو انکار کی وجوہات بتانے کا موقع دیا جائے گا، صدارتی استثنیٰ تب قابل عمل نہیں ہوگا جب وہ پبلک آفس ہولڈر ہوجائے۔

    دوسری جانب اپوزیشن نے سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی اجلاس میں بھی ووٹنگ کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے،ذرائع کا کہنا ہےکہ 27 ویں ترمیم پر ووٹنگ کے بائیکاٹ کا فیصلہ اپوزیشن مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں کیا گیا، سینیٹ اور قومی اسمبلی میں ووٹنگ سے قبل احتجاج کیا جائے گا۔

  • پاک فوج کیخلاف وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا بیان غلیظ ترین ہے ،اختیار ولی خان

    پاک فوج کیخلاف وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا بیان غلیظ ترین ہے ،اختیار ولی خان

    وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان نے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخواسہیل آفریدی کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے

    اختیار ولی خان کا کہنا تھا کہ پاک فوج کیخلاف وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا بیان غلیظ ترین ہے ،وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا اُس پاک فوج پر الزام لگا رہے ہیں جس کو حرمین شریفین کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے ،وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا اُس فوج کی توہین کر رہے ہیں، جس نے ماضی میں بھی حرمین شریفین کی خدمت کی اور حملے ناکام بنائے ،وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا پاکستان کیلئے جانیں قربان کرنے والوں کی توہین کر رہے ہیں ،پاک فوج کے سینکڑوں افسران اور ہزاروں جوان پاکستان کے پرچم میں لپٹے گھر جاتے ہیں تو ان کی مائیں فخر محسوس کرتی ہیں ،یہ وہ فوج ہے جو دشمنوں کے خلاف سینہ تان کر لڑتی ہے،وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا ان کے خلاف نفرت پھیلانا چاہتے ہیں ،وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے بیان میں دشمنوں خصوصاََ انڈیا اور اسرائیل کی بو آ رہی ہے ،وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا ملک کے دشمنوں کیساتھ کھڑے نظر آ رہے ہیں، خیبر پختونخوا اور پاکستان کے ساتھ نہیں ،وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا پاکستان کے عوام، پاک فوج اور خیبر پختونخوا کے لوگوں سے معافی مانگیں ،وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا ڈیورنڈ لائن کے پار کی ترجمانی بند کریں ،تیراہ میں تیار منشیات نوجوانوں کو تباہ کر رہی ہے اور وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا اس میں ملوث ہیں پہلےاس کاروبار کو بند کروائیں ،آپ کی کابینہ کے وزراء کی گاڑیاں منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہیں پہلے ان کو برطرف کریں ،پاک فوج کیخلاف بیانات قابلِ برداشت نہیں، اپنے محافظوں کیخلاف کسی کو بولنے نہیں دیں گے ،