Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سندھ ہائیکورٹ کا  لوڈشیڈنگ سے متعلق معاملہ نیپرا کو بھیجنے کی ہدایت

    سندھ ہائیکورٹ کا لوڈشیڈنگ سے متعلق معاملہ نیپرا کو بھیجنے کی ہدایت

    سندھ ہائیکورٹ نے کراچی میں لائن لاسز کی بنیاد پر لوڈشیڈنگ کے خلاف امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر کی درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کردی۔

    سندھ ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ لائن لاسز کی بنیاد پر لوڈشیڈنگ غیر قانونی ہے، شہر میں طویل لوڈ شیڈنگ سے معاملات زندگی متاثر ہوتے ہیں،سندھ ہائیکورٹ نے امیر جماعت اسلامی کی درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے لوڈشیڈنگ سے متعلق معاملہ نیپرا کو بھیجنے کی ہدایت کر دی،عدالت نے کہا کہ نیپرا شکایت پر ایک ماہ میں فیصلہ کرکے ایم آئی ٹی 2 میں رپورٹ جمع کروائے،سندھ ہائیکورٹ نے کہا مشاہدہ کیا تھا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق لوڈشیڈنگ سے متعلق درخواست قابل سماعت نہیں، نیپرا ایکٹ کے سیکشن 39 کے تحت درخواست گزار کے پاس نیپرا سے رجوع کرنے کا آپشن موجود ہے۔

  • بلوچستان میں 30،خیبر پختونخوا میں 7 دہشتگرد جہنم واصل،اغوا کیے گئے ملازمین بازیاب

    بلوچستان میں 30،خیبر پختونخوا میں 7 دہشتگرد جہنم واصل،اغوا کیے گئے ملازمین بازیاب

    بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں، متعدد ہلاک، گرفتاریاں، اور اہم کامیابیاں

    بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں سیکیورٹی فورسز کی دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔ متعدد دہشت گرد مارے گئے، کچھ گرفتار ہوئے جبکہ حساس مقامات پر بم حملوں کی کوششیں ناکام بنادی گئیں۔ فورسز کے مطابق کارروائیاں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئیں جن کا مقصد امن و استحکام کو یقینی بنانا ہے۔

    سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ایک بڑے دہشت گردی کے منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ کارروائی کے دوران ایک مشتبہ دہشت گرد کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ پانچ دیسی ساختہ بم (IEDs) برآمد ہوئے۔ذرائع کے مطابق یہ دھماکا خیز مواد پہاڑی سرنگوں اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں سے ملا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے تمام بموں کو کامیابی سے ناکارہ بنادیا۔ گرفتار شخص سے تفتیش جاری ہے تاکہ اس کے نیٹ ورک اور سہولت کاروں کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جاسکیں۔

    سیکیورٹی فورسز نے قلات کے زری علاقے میں ایک بڑے آپریشن کے دوران 30 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کا تعلق ایک کالعدم گروہ "فتنہ الہندستان” سے تھا۔ کارروائی کے دوران پہاڑی علاقے میں گھمسان کا مقابلہ ہوا، جس کے بعد اسلحہ، گولہ بارود، اور جدید مواصلاتی آلات برآمد ہوئے۔فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن مزید تیز کردیا ہے تاکہ باقی ماندہ عناصر کو بھی پکڑا جا سکے۔

    مقامی ذرائع کے مطابق آواران کے جھاؤ علاقے میں مبینہ طور پر ڈرون حملے کیے گئے۔رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے تین زور دار دھماکے سنے، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اس واقعے کی تصدیق نہیں کی گئی۔ ہلاکتوں یا نقصان کے حوالے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

    پنجگور کے شاپاتان علاقے میں نامعلوم موٹرسائیکل سواروں کی فائرنگ سے دو افراد جاں بحق ہوگئے۔جاں بحق ہونے والوں کی شناخت ظفر ولد استاد علی اور نعیم ولد حاجی اعظم کے نام سے ہوئی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور تحقیقات شروع کردی ہیں۔

    مقامی ذرائع کے مطابق خاران-جنگل روڈ پر بادو پل کے قریب مسلح افراد نے ایک عارضی ناکہ لگا کر گزرنے والی گاڑیوں کی تلاشی لی۔انتظامیہ نے واقعے کی تاحال تصدیق نہیں کی تاہم سیکیورٹی فورسز علاقے کی نگرانی کر رہی ہیں۔

    مامند خیل میں پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان مقابلے میں5دہشت گرد مارے گئے۔ہلاک دہشت گردوں میں افغان شہری عابد عرف فتح اور کالعدم گربز گروپ سے تعلق رکھنے والا عظمت اللہ عرف طوفان شامل ہیں۔واقعے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے تاکہ باقی دہشت گردوں کو بھی گرفتار کیا جاسکے۔

    اسی ضلع میں ایک اور کارروائی کے دوران 55 روز قبل اغوا ہونے والے واپڈا کے پانچ ملازمین کو بحفاظت بازیاب کرالیا گیا۔بازیاب افراد میں عدنان، نقیب الرحمان، فرہاد، عبدالوہاب اور جاوید اللہ شامل ہیں۔ اہل خانہ نے سیکیورٹی فورسز اور ضلعی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔

    بنوں ہی میں اغوا کیے گئے ایک شخص کی لاش آزاد منڈی کے قریب سے ملی۔ مقتول کی شناخت محب اللہ کے نام سے ہوئی جو مبینہ طور پر پولیس اور سی ٹی ڈی کا مخبر تھا۔ ذرائع کے مطابق قتل سے قبل اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر جاری کی گئی۔ علاوہ ازیں خفیہ اطلاع پر کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے کالعدم تنظیم کے سب سے مطلوب دہشت گرد "عبیدہ” کو ہلاک کردیا۔ذرائع کے مطابق تنظیم نے خود اس کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔ علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن مزید تیز کردیا گیا ہے۔

    گزشتہ شب شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں نے سیکیورٹی چوکی پر حملہ کیا۔فائرنگ کے تبادلے میں ٹی ٹی پی کمانڈر عمران عرف چمتو کی قیادت میں آنے والے دہشت گردوں کو فورسز نے منہ توڑ جواب دیا۔ ایک دہشت گرد نور سعید عرف عبیدہ مارا گیا جبکہ دیگر فرار ہوگئے۔فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا۔

    ایک غیر معمولی اور جرات مندانہ اقدام میں ایک باپ نے اپنے زخمی بیٹے کو، جو دہشت گردی میں ملوث تھا، خود پولیس کے حوالے کردیا۔انتظامیہ نے اس اقدام کو ’’قومی ذمہ داری اور اخلاقی ہمت‘‘ کی اعلیٰ مثال قرار دیا ہے۔ مقامی عمائدین نے اس باپ کو ’’امن کا سفیر‘‘ قرار دیتے ہوئے خراجِ تحسین پیش کیا۔

    طورخم بارڈر ساتویں روز بھی انسانی بنیادوں پر افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے کھلا رہا۔حکام کے مطابق 6 نومبر کو 3,863 افغان شہری جن میں مرد، خواتین اور بچے شامل تھے افغانستان واپس گئے۔گزشتہ چھ روز میں مجموعی طور پر 32,989 افغان شہری رضاکارانہ طور پر وطن واپس جاچکے ہیں۔تجارت اور معمول کی آمدورفت فی الحال معطل ہے، تاہم انسانی ہمدردی کے تحت واپسی کا عمل روزانہ صبح سے رات گئے تک جاری ہے۔

    ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں پائیدار امن قائم رکھا جا سکے۔

  • سر میں خشکی،تیل مفید ہے یا نہیں؟ماہرین کی رائے

    سر میں خشکی،تیل مفید ہے یا نہیں؟ماہرین کی رائے

    دنیا بھر میں سب سے عام مگر پریشان کن مسئلوں میں سے ایک “خشکی” یا “ڈینڈرف” ہے، وہ سفید ذرات جو کندھوں پر گر کر شرمندگی کا باعث بنتے ہیں۔ بعض لوگوں کے لیے یہ وقتی مسئلہ ہوتا ہے، جبکہ کئی افراد کے لیے یہ برسوں جاری رہنے والی کیفیت بن جاتی ہے جس پر کوئی بھی “اینٹی ڈینڈرف شیمپو” کارگر ثابت نہیں ہوتا۔

    ماہرینِ امراضِ جلد کے مطابق خشکی صرف صفائی یا بالوں کی خشکی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طبی حالت ہے جس کے کئی اسباب ہیں۔ طبّی زبان میں اسے Seborrheic Dermatitis یا ہلکے درجے میں Pityriasis Capitis کہا جاتا ہے۔ جرنل آف کلینیکل اینڈ انویسٹی گیٹو ڈرمیٹولوجی (2019) کے مطابق، دنیا کی بالغ آبادی میں سے تقریباً 50 فیصد افراد کسی نہ کسی درجے کی خشکی کا شکار ہیں۔بھارت اور برصغیر کے دیگر ممالک میں جہاں نمی، آلودگی اور بالوں میں تیل لگانے کا رواج عام ہے، وہاں ماہرین کہتے ہیں کہ خشکی عموماً سردیوں اور برسات کے بعد کے مہینوں میں بڑھ جاتی ہے۔عام تاثر کے برعکس خشکی کا تعلق “میل کچیل” یا صفائی کی کمی سے نہیں ہے۔یہ ایک خوردبینی فنگس Malassezia globosa کی زیادتی سے پیدا ہوتی ہے، جو سر کی جلد کے قدرتی تیل (Sebum) پر پرورش پاتی ہے۔یہ فنگس ان تیلوں کو توڑ کر Oleic Acid پیدا کرتی ہے جو بعض افراد کی جلد کو جلا دیتا ہے، نتیجتاً خارش، سرخی اور سفید ذرات پیدا ہوتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق خشکی اچانک نہیں آتی۔ذہنی دباؤ (Stress) اور ہارمونل تبدیلیاں تیل کی پیداوار بڑھا دیتی ہیں، جو فنگس کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتی ہے۔اسی وجہ سے نوجوانوں اور بلوغت کے دوران یہ مسئلہ زیادہ عام ہے۔سرد، خشک موسم سر کی جلد کو ڈی ہائیڈریٹ کر دیتا ہے جبکہ گرم، مرطوب موسم میں پسینہ اور تیل دونوں بڑھ جاتے ہیں، جس سے فنگس تیزی سے پھیلتی ہے۔تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ مرطوب یا آلودہ شہری علاقوں میں رہنے والے افراد کو مستقل خشکی زیادہ ہوتی ہے۔

    بھارت اور پاکستان میں بالوں میں تیل لگانے کی روایت صدیوں پرانی ہے، مگر ماہرین کے مطابق یہ ہر کسی کے لیے مفید نہیں۔بھاری تیل جیسے ناریل یا سرسوں کا تیل اگر خشکی والے سر پر لگایا جائے تو یہ فنگس کو خوراک فراہم کرتا ہے، جس سے خارش اور سوزش بڑھ جاتی ہے۔ ایسے افراد کو چاہیے کہ وہ ہلکے وزن والے، دوائی دار یا اینٹی فنگل تیل،سیریم استعمال کریں اور رات بھر تیل لگا کر نہ چھوڑیں کیونکہ یہ گرمی اور نمی کو بند کر کے فنگس کو بڑھاتا ہے۔

    جرنل آف کاسمیٹک ڈرمیٹولوجی (2022) کے مطابق، دو مختلف اجزاء والے شیمپوؤں کو باری باری استعمال کرنے سے فنگس مزاحمت نہیں کرتی اور بہتر نتائج ملتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق علاج میں تسلسل ضروری ہے۔اکثر دوائی دار شیمپوؤں کو 4 تا 6 ہفتے تک ہفتے میں 2-3 مرتبہ استعمال کرنا پڑتا ہے تاکہ نمایاں بہتری آئے۔

    حالیہ تحقیق کے مطابق، خشکی کا تعلق صرف بیرونی عوامل سے نہیں بلکہ جسم کے اندرونی توازن سے بھی ہے۔Frontiers in Microbiology (2020) میں شائع شدہ تحقیق کے مطابق، جن افراد کو دائمی خشکی ہوتی ہے، ان کے آنتوں کے بیکٹیریا میں تنوع کم اور جسم میں سوزش کے آثار زیادہ پائے گئے۔ ذہنی دباؤ پر قابو پانا بھی ضروری ہے۔ یوگا، ورزش اور نیند کی کمی دور کرنے سے ہارمونل توازن بہتر ہوتا ہے۔

    اگر خشکی کے ساتھ سرخی کانوں، بھنوؤں یا سینے تک پھیل جائے تو یہ عام خشکی نہیں بلکہ Seborrheic Dermatitis ہو سکتا ہے۔اسی طرح اگر موٹی تہیں یا شدید خارش ہو تو یہ Psoriasis یا Eczema کی علامت بھی ہو سکتی ہے، جس کے لیے خود علاج کے بجائے ماہرِ جلد سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ گھریلو ٹوٹکوں پر اندھا دھند انحصار، یا ضرورت سے زیادہ تیل لگانا فائدے کے بجائے نقصان دیتا ہے۔

  • امریکا نے ہنگری کو روسی تیل و گیس کی خریداری پر چھوٹ دے دی

    امریکا نے ہنگری کو روسی تیل و گیس کی خریداری پر چھوٹ دے دی

    امریکا نے اپنے قریبی نیٹو اتحادی ہنگری کو روسی تیل اور گیس کی خریداری پر عائد پابندیوں سے ایک سال کے لیے استثنیٰ دے دیا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق، وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ فیصلہ ہنگری کے توانائی بحران اور یورپی مارکیٹ میں سپلائی کے توازن کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔اہلکار کے مطابق، ہنگری نے اس رعایت کے بدلے تقریباً 600 ملین ڈالر مالیت کی امریکی قدرتی گیس خریدنے کا وعدہ کیا ہے۔ اس معاہدے کے ذریعے امریکا یورپ میں اپنی توانائی کی برآمدات کو فروغ دینا چاہتا ہے تاکہ روس پر انحصار کم کیا جا سکے۔

    خبر ایجنسیوں کے مطابق، یہ پیش رفت اُس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربن کے درمیان وائٹ ہاؤس میں اہم ملاقات ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے توانائی تعاون، نیٹو کے کردار اور مشرقی یورپ کی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ہنگری کو یقین دلایا ہے کہ امریکا یورپی توانائی کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرے گا، جب کہ ہنگری نے اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے امریکی کمپنیوں کے ساتھ مزید معاہدے کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

    واضح رہے کہ امریکا نے یوکرین جنگ کے بعد روس پر سخت معاشی پابندیاں عائد کی تھیں اور مختلف ممالک کو روسی تیل و گیس کی خریداری سے باز رہنے کی ہدایت دی تھی۔ تاہم ہنگری، جو یورپی یونین کا رکن ہونے کے باوجود روسی توانائی پر خاصا انحصار رکھتا ہے، بارہا ان پابندیوں کے خلاف نرمی کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ چھوٹ ہنگری اور امریکا کے درمیان تعلقات میں بہتری کا اشارہ ہے، تاہم اس فیصلے پر یورپی یونین کے دیگر رکن ممالک کے تحفظات سامنے آنے کا امکان بھی ہے۔

  • ڈان میڈیا گروپ کا اردو ویب سائٹ بند کرنے کا اعلان، تمام عملہ فارغ

    ڈان میڈیا گروپ کا اردو ویب سائٹ بند کرنے کا اعلان، تمام عملہ فارغ

    پاکستان کے معروف اور بڑے میڈیا گروپس میں سے ایک ڈان میڈیا گروپ نے اپنی اردو ویب سائٹ ڈان اردو بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت ادارے نے ویب سائٹ سے وابستہ تمام 12 ملازمین کو فارغ کر دیا ہے۔

    متاثرہ ملازمین کے مطابق، انہیں انتظامیہ کی جانب سے ہدایت دی گئی ہے کہ یا تو وہ فوری طور پر استعفیٰ دے دیں یا ایک ماہ کا نوٹس پیریڈ مکمل کریں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈان اردو ویب سائٹ 6 دسمبر 2025 کو مکمل طور پر بند کر دی جائے گی۔انتظامیہ کی جانب سے اس فیصلے کی وجہ مالی مشکلات بتائی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ادارے کو حالیہ برسوں میں آمدنی میں مسلسل کمی اور اشتہارات کی عدم دستیابی کا سامنا ہے۔

    مارچ 2025 میں، ڈان گروپ نے اپنے ایک اداریے میں دعویٰ کیا تھا کہ وفاقی اور پنجاب حکومتوں نے گزشتہ پانچ ماہ سے ڈان گروپ کو سرکاری اشتہارات نہیں دیے، جس کی وجہ سے ادارے کو مالی بحران کا سامنا ہے۔کئی سالوں سے ڈان اردو ویب سائٹ کو اردو زبان میں خبریں، تجزیے اور رپورٹنگ کے لیے ایک معتبر ڈیجیٹل پلیٹ فارم سمجھا جاتا رہا ہے۔ اس ویب سائٹ کے ذریعے لاکھوں قارئین تازہ ترین ملکی و بین الاقوامی خبریں پڑھتے تھے۔

    میڈیا انڈسٹری کے ماہرین کے مطابق، یہ فیصلہ پاکستان کے ڈیجیٹل صحافتی منظرنامے کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔یہ حالیہ دنوں میں میڈیا انڈسٹری میں ہونے والی دوسری بڑی پیش رفت ہے۔ اس سے قبل، نجی ڈیجیٹل پلیٹ فارم نُکتہ نے بھی اپنے 37 ملازمین کو فارغ کر دیا تھا۔ تاہم بعد ازاں وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے اعلان کیا تھا کہ نُکتہ کے تمام 37 ملازمین کو حکومتی نوکریاں فراہم کی جائیں گی۔صحافتی برادری نے ڈان اردو کی بندش پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ میڈیا اداروں کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے فوری اقدامات کرے تاکہ صحافیوں کے روزگار محفوظ رہ سکیں۔

  • خشک سالی،بارشیں نہ ہوئیں تو تہران کو خالی کرنا پڑے گا،ایرانی صدر

    خشک سالی،بارشیں نہ ہوئیں تو تہران کو خالی کرنا پڑے گا،ایرانی صدر

    ایرانی صدر نے کہا ہے کہ بارشیں نہ ہوئیں تو خشک سالی کے باعث تہران کو خالی کرنا پڑے گا

    ایران کے دارالحکومت تہران کو شدید آبی بحران کا سامنا ہے جس کے نتیجے میں شہر کو خالی کرانے کی نوبت بھی آسکتی ہے۔تہران کو پانی فراہم کرنیوالے مرکزی ڈیم میں صرف 2 ہفتوں کا پانی باقی رہ گیا ہے،ایرانی صدر نے قحط سالی کے باعث پیدا ہونے والے پانی کے بحران کو ملک کے سنگین ترین قدرتی چیلنجز میں سے ایک قرار دیا، ان کا کہنا تھا کہ اگر بارش نہ ہوئی تو اگلے ماہ تہران میں پانی کی فراہمی محدود کرنی پڑے گی،اگر خشک سالی جاری رہی تو ہم پانی سے محروم ہو جائیں گے اور شہر کو خالی کرانا پڑے گا،تہران واٹر اتھارٹی نے خبردار کر رکھا ہے کہ دارالحکومت کو پانی فراہم کرنے والے ذخائر گزشتہ ایک صدی کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔

    ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی آر این اے کے مطابق تہران واٹر کمپنی کے ڈائریکٹر بہزاد پارسا نے بتایا کہ امیر کبیر ڈیم، جو تہران کو پانی فراہم کرنے والے پانچ بڑے ڈیموں میں سے ایک ہے، میں صرف 1 کروڑ 40 لاکھ مکعب میٹر پانی باقی رہ گیا ہے، جو اس کی مجموعی گنجائش کا صرف 8 فیصد ہے،پارسا کے مطابق اس مقدار کے ساتھ ڈیم صرف دو ہفتوں تک ہی شہر کو پانی فراہم کر سکتا ہے۔

    10 ملین سے زائد آبادی والا تہران برف پوش البرز پہاڑی سلسلے کے دامن میں واقع ہے، جن سے بہنے والی ندیاں اور دریا شہر کے متعدد ذخائر کو پانی فراہم کرتے ہیں۔

  • وزیراعلیٰ کو بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے علاوہ کسی چیزکی فکرنہیں،ایمل ولی خان

    وزیراعلیٰ کو بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے علاوہ کسی چیزکی فکرنہیں،ایمل ولی خان

    عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر و سینیٹر ایمل ولی خان نے خیبر پختونخوا حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں ایمل ولی کا کہنا تھاکہ خیبر پختونخوا پچھلے 12 سال سے ایک کمپرومائزڈ صورتحال سے گزر رہا ہے، صوبے میں دہشتگردی، بدامنی اور طالبانائزیشن ہے، صوبے کے وزیراعلیٰ کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے علاوہ کسی چیزکی فکرنہیں،صوبہ خیبرپختونخوا میں حکومت نظر ہی نہیں آرہی، کچھ لوگ عشق قوم والے ہوتے ہیں، ان کو اپنی زمین اورقوم سے عشق ہوتا ہے، کچھ ہوتےہیں عشق ریاست والے جن کو ریاست اور ریاستی اداروں سے عشق ہوتا ہے،اب ایک نئی نسل آگئی ہے، ان کو بانی پی ٹی آئی سے عشق ہے، ان کونہ قوم کی پرواہ ہے نہ ملک کی۔

  • پاک فوج مساجد ومدارس کی محافظ ہے،علامہ طاہر اشرفی

    پاک فوج مساجد ومدارس کی محافظ ہے،علامہ طاہر اشرفی

    پاکستان علما کونسل کے چیئرمین علامہ طاہراشرفی نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے بیان کی مذمت کی ہے

    طاہر اشرفی کا کہنا تھاکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے مساجد کے حوالے سے جوگفتگوکی وہ قابلِ افسوس ہے، سہیل آفریدی کا بیان نہ صرف قابل مذمت بلکہ پاکستان کے تشخص کوخراب کرنے کی کوشش ہے، پاک فوج مساجد ومدارس کی محافظ ہے جوکہ کبھی بھی غیرمحفوظ نہیں ہوں گے، پی ٹی آئی کے لوگوں کواس طرح کی بات پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کوعقل وشعور دینا چاہیے،سیاسی مخالفت میں اِس انتہا تک نہ جائیں جس سے ملک، قوم اورپاک فوج کاوقارمجروح ہو، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے نفرت میں جوبات کی اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

    دوسری جانب گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا تحمل سے کام لیں، سیاست کو قومی سلامتی کے اداروں کو کمزور کرنے کا ذریعہ نہ بنایا جائے،تمام سیاسی قوتوں کو دیرپا امن کے لیے مسلح افواج کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، فوج کے عزائم پر سوال اٹھانا عوامی سلامتی کو نقصان پہنچاتا ہے۔

  • آرٹیکل 243 سے متعلق جمہوریت پر اثر پڑے گا تو قابل قبول نہیں ہوگا۔مولانا فضل الرحمان

    آرٹیکل 243 سے متعلق جمہوریت پر اثر پڑے گا تو قابل قبول نہیں ہوگا۔مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علمائے اسلام( جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہےکہ آئینی ترمیم کا کوئی مسودہ تاحال منظرعام پر نہیں آیا، اگر صوبوں کے اختیارات میں کمی کی بات کی گئی تو ہم مخالفت کریں گے۔

    مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہماری پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، قومی اسمبلی، سینیٹ اراکین نے شرکت کی، ترمیم کا کوئی مسودہ تاحال منظر عام پر نہیں آیا، 27 ویں ترمیم پر تو فی الحال بات نہیں کرسکتے،26ویں آئینی ترمیم میں حکومت 35 شقوں سے دستبردار ہوئی، اگر دستبردار شقوں میں سے کوئی شق 27ویں ترمیم میں پاس ہوئی تو آئین کی توہین سمجھی جائے گی، 26 ویں ترمیم کے دستبردار ہونے والے نکات 27ویں ترمیم میں قابل قبول نہیں، 18 ویں ترمیم میں صوبوں کو اختیارات دیے گئے تھے، اگر صوبوں کے اختیارات میں کمی کی بات کی گئی تو ہم مخالفت کریں گے،18 ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات میں کمی کی کوشش قابل قبول نہیں، جمیعت علمائے اسلام صوبوں کو مزید با اختیار بنانے کی بات کرتی ہے، صوبوں کے حق میں اضافہ کیا جاسکتا، کمی نہیں۔

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ آرٹیکل 243 سے متعلق جمہوریت پر اثر پڑے گا تو قابل قبول نہیں ہوگا۔26 ویں ترمیم کے دوران تمام پارلیمنٹ باہمی طور پر رابطے میں تھی، کئی نکات اپنی مرضی سے 26 ویں آئینی ترمیم میں ڈلوائے تھے، سود کے حوالے سے حکومت کی طرف سے کوئی پیشرفت نظر نہیں آرہی، دینی مدارس کی رجسٹریشن بھی نہیں کی جا رہی، دینی مدارس کے ہاتھ مروڑ کر وزارتِ تعلیم کے تحت رجسٹر کرنے پر زور دیا جا رہا ہے، اپنے ملک کے بچوں کو اپنی سگی اولاد کی طرح سمجھتا ہوں، ٹھیک تو کچھ بھی نہیں ہو رہا،ٹھیک کرنے کیلئے اجتماعی سوچ کی ضرورت ہے۔

  • سیاست خدمت خلق کا سب سے بڑا ذریعہ ،دین پر عمل سے کامیابیاں ملتی ہیں،سیف اللہ قصوری

    سیاست خدمت خلق کا سب سے بڑا ذریعہ ،دین پر عمل سے کامیابیاں ملتی ہیں،سیف اللہ قصوری

    مرکزی مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل سیف اللہ قصوری نے کہا ہے کہ سیاست خدمت خلق کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، دین اسلام پر عمل کرنے سے کامیابیاں ملیں گی،قوموں کو عزت قرآن مجید کے نظام پر چلنے سے ملتی ہے، مرکزی مسلم لیگ خدمت کی سیاست پر عمل پیرا ہے،

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے اجتماع سے خطاب ،بعد ازاں عمائدین سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا، سیف اللہ قصوری کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کےو اقعات بڑھ رہے ہیں، پاکستان میں ہونےو الی دہشت گردی میں بیرونی قوتیں ملوث ہیں،اسلام سلامتی اور امن کا دین ہے، اس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں، اسلام نے ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے،مسلمانوں کو اس وقت بہت بڑے چیلنجز درپیش ہیں، فتنہ تکفیر کا علمی سطح پر رد کرنے کی ضرورت ہے،علماءکرام انبیاءکے وارث ہیں، وہ کفار کی سازشوں کو سمجھتے ہوئے نوجوانوں کو گمراہ ہونے سے بچائیں۔سیف اللہ قصوری کامزید کہنا تھا کہ سیاستدان ملک کے لئے ،قوم کے لئے سیاست کریں گے تو عزت اور کامیابی مقدر بنے گی ،بے روزگاری کے خاتمے کے لئے اپنا کماؤ کے زیر اہتمام لاکھوں افراد کو آئی ٹی کی تربیت دے چکے ہیں،خواتین،اقلیتوں کے حقوق کا بھی مرکزی مسلم لیگ تحفظ کرے گی، مرکزی مسلم لیگ خدمت کی سیاست، اتحادامت اور استحکام پاکستان کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی