Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • مدینہ کی ریاست میں تو ایک چادر پر بھی سوال ہوتا تھایہاں سارا توشہ خانہ ڈکار گئے،طلال چوہدری

    مدینہ کی ریاست میں تو ایک چادر پر بھی سوال ہوتا تھایہاں سارا توشہ خانہ ڈکار گئے،طلال چوہدری

    وفاقی وزیرِ مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے کہا ہے کہ توشہ خانہ ٹو بہت واضح کیس تھا، اس میں سزا ہونی ہی تھی، ان کے پاس صفائی موجود نہیں تھی۔

    طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی اور بانی پی ٹی آئی نے توشہ خانہ ون میں نہ ڈنر سیٹ چھوڑا، نہ فون سیٹ، یہ تو دنیا بھر کا نایاب اربوں روپے کا ہار تھا، اس کی غلط قیمت لگوائی، توشہ خانہ حکمران کے پاس امانت کے طور پر ہوتا ہے، اس میں خیانت کی گئی، چند روپے دے کر اربوں روپے کا ہار اپنے پاس رکھا، کیس میں 14، 15مہینے لگے، فیصلہ چند ہفتوں میں ہو سکتا تھا، خیر دیر آئے درست آئے، یہ فیصلے جلد ہونا چاہیے تھے، انہیں سوال اٹھانے کا موقع نہیں ملتا، گڈ ٹو سی تھا، کسی کی ساس پریشان رہتی تھی، اندر سے سپورٹ رہتی تھی،توشہ خانہ پورے کا پورا چوری کیا گیا اور کہا جاتا تھا کہ یہ مدینہ کی ریاست ہے مدینہ کی ریاست میں تو ایک چادر پر بھی سوال ہوتا تھا یہاں تو سب چوری کر لیا گیا،کوئی جواب ان کے پاس نہیں تھا،سیاسی کیس کہا گیا ،سیاسی کیس کہنے سے کچھ نہیں ہوتا، ایک سیاستدان نے توشہ خانہ کھایا، فیصلے وقت پر آ جائیں تو یاد دہانی نہ کروانی پڑے کہ یہ کتنی بڑی ڈکیتی تھی،

  • عالمی بینک نے پاکستان کے لیے 700 ملین ڈالر فنانسنگ کی منظوری دے دی

    عالمی بینک نے پاکستان کے لیے 700 ملین ڈالر فنانسنگ کی منظوری دے دی

    عالمی بینک نے پاکستان کے لیے 700 ملین ڈالر کی فنانسنگ کی منظوری دے دی ہے، جو پاکستان پبلک ریسورسز فار انکلوژو ڈیولپمنٹ پروگرام (PRIDE) کے تحت فراہم کی جائے گی۔ اس پروگرام کا مقصد ملک میں میکرو اکنامک استحکام کو مضبوط بنانا، عوامی خدمات کے معیار کو بہتر کرنا اور مالی نظم و نسق میں شفافیت کو فروغ دینا ہے۔

    عالمی بینک کے مطابق اس پروگرام کے تحت مجموعی طور پر 1.35 ارب ڈالر تک فنانسنگ فراہم کی جائے گی، جس میں موجودہ مرحلے میں 700 ملین ڈالر کی منظوری دی گئی ہے۔ اس رقم میں سے 600 ملین ڈالر وفاقی حکومت کے لیے جبکہ 100 ملین ڈالر صوبہ سندھ کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ فنڈز کی فراہمی مختلف اصلاحاتی اہداف کے حصول سے مشروط ہوگی، تاکہ وسائل کا مؤثر اور شفاف استعمال یقینی بنایا جا سکے۔بیان کے مطابق صوبہ سندھ میں اس پروگرام کے تحت صحت اور تعلیم کے شعبوں کے لیے وسائل میں نمایاں اضافے کی توقع ہے، جس سے بنیادی سہولیات کی بہتری، تعلیمی اداروں کی استعداد میں اضافہ اور صحت کی خدمات تک عوام کی بہتر رسائی ممکن ہو سکے گی۔ عالمی بینک کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات کے نتیجے میں حکومتی نظام میں شفافیت بڑھے گی اور عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد مضبوط ہوگا۔

    عالمی بینک نے مزید وضاحت کی کہ یہ منصوبہ ٹیکس نظام میں بہتری، محصولات کے مؤثر حصول اور شفاف مالی نظم و نسق پر مرکوز ہے۔ ڈیجیٹل ڈیٹا کے استعمال اور مالیاتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے ذریعے سروس ڈیلیوری کو بہتر بنانا اس پروگرام کا ایک اہم ہدف ہے، تاکہ عوامی خدمات بروقت اور مؤثر انداز میں فراہم کی جا سکیں۔عالمی بینک کے مطابق یہ پروگرام بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی پروگرام سے ہم آہنگ ہے، جس کا مقصد پاکستان کی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنا، مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنانا اور اقتصادی اصلاحات کے عمل کو آگے بڑھانا ہے۔

  • اسلام آباد ایئرپورٹ پر سپریم کورٹ کے جج کے ساتھ مبینہ بدسلوکی

    اسلام آباد ایئرپورٹ پر سپریم کورٹ کے جج کے ساتھ مبینہ بدسلوکی

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک معزز جج کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کا واقعہ پیش آیا ہے،

    نجی ٹی وی چینل ہم نیوز نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس سید حسن اظہر رضوی نجی ایئرلائن کی ایک پرواز کے ذریعے اسلام آباد سے کراچی روانہ ہو رہے تھے۔ ذرائع کے مطابق پرواز سے قبل ایئرپورٹ پر تعینات نجی ایئرلائن کے ڈیوٹی منیجر نے جج کے ساتھ غیر پیشہ ورانہ اور نامناسب رویہ اختیار کیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کے دوران ڈیوٹی منیجر کا طرزِ عمل قواعد و ضوابط اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کے منافی تھا، جس پر جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ذرائع کے مطابق جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے اس مبینہ بدسلوکی کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اہلکار کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم دے دیا ہے، جبکہ واقعے کی تفصیلات سے متعلق اعلیٰ حکام کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔

  • دشمن فوج اور عوام کے مضبوط ،ناقابلِ شکست رشتے سے پریشان ہے،کورکمانڈرلاہور

    دشمن فوج اور عوام کے مضبوط ،ناقابلِ شکست رشتے سے پریشان ہے،کورکمانڈرلاہور

    کور کمانڈر لاہور نے نیشنل کالج آف آرٹس لاہور کا خصوصی دورہ کیا

    کور کمانڈر لاہور نے نیشنل کالج آف آرٹس لاہور کے دورے کے دوران طلبہ اور اساتذہ سے ملاقات کی،خصوصی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کور کمانڈر لاہور نے کہا کہ پوری قوم پاک فوج کا فخر ہے اور دشمن پاک فوج اور عوام کے مضبوط اور ناقابلِ شکست رشتے سے پریشان ہے،آپریشن بنیان المرصوص نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ قوم اور پاک فوج سیسہ پلائی دیوار کی مانند متحد ہیں،

    کور کمانڈر لاہور نے دورے کے دوران نیشنل کالج آف آرٹس میں آپریشن بنیان المرصوص ہالز کا باضابطہ افتتاح کیا،کور کمانڈر لاہور نے پاک افواج کے اعزاز میں طلبہ کی جانب سے تیار کردہ شاندار پینٹنگز کی نمائش کا جائزہ لیا،نمائش میں معرکۂ حق کی کامیابیوں اور شہداء کی عظیم قربانیوں کو نمایاں انداز میں پیش کیا گیا،نشست کے اختتام پر طلبہ نے پاک فوج سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا،طلبہ کا کہنا تھا کہ معرکۂ حق کے بعد پاکستان عالمی بیلنس آف پاور میں ایک مؤثر طاقت کے طور پر ابھرا ہے،پاک افواج کی قربانیوں کی بدولت پاکستان آج دنیا میں عزت ووقار کے ساتھ کھڑا ہے،ہم دشمن کے ہر قسم کے پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے ہمیشہ پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے،

  • بلوچستان کی ترقی کے سفر کا نیا باب،بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو، بھرپور انداز سے جاری

    بلوچستان کی ترقی کے سفر کا نیا باب،بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو، بھرپور انداز سے جاری

    بلوچستان کی ترقی کے سفر کا نیا باب ’’بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو‘‘ بھرپور انداز سے جاری ہے

    حکومت بلوچستان کا بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (بی ایس ڈی آئی) صوبہ میں پائیدار ترقی کا مؤثر ذریعہ بن گیا.بی ایس ڈی آئی کے تحت جنوبی بلوچستان کے پانچ اضلاع کیچ، خاران، واشک، چاغی اور پنجگُور میں 137 منصوبوں کیلئے پانچ ارب روپے مختص ہیں،اب تک بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کے تحت 13 ترقیاتی منصوبے کامیابی سے مکمل ہو چکے ہیں ،10 ویں منصوبہ کے تحت خاران کے علاقوں مسکان، قلات اور کلی مبارک شلتاک میں دو جنازہ گاہوں کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے،11ویں منصوبہ کے تحت کے تحت ضلع واشک کے آر ایچ سی ناگ میں جدید سولر سسٹم نصب کر دیا گیا،12 منصوبہ میں واشک کے 10 رجسٹرڈ مدارس میں سولر سسٹمز کی تنصیب سے توانائی بحران میں نمایاں کمی واقع ہوئی ،13ویں منصوبہ میں واشک میں 40 سولر اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب عوامی سہولت اور سکیورٹی میں اضافہ کا باعث بنی ،بلوچستان ترقیاتی پروگرام کا مقصد دورافتادہ پسماندہ علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہے ،بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو صوبہ کی ترقی، خوشحالی اور عوامی فلاح کا ضامن ہے

  • ایئر انڈیا بزنس کلاس میں کھانے سے مکھیاں نکل آئیں

    ایئر انڈیا بزنس کلاس میں کھانے سے مکھیاں نکل آئیں

    نئی دہلی: ایئر انڈیا کی بزنس کلاس فلائٹ میں سفر کرنے والی معروف بھارتی فوڈ ولاگر پاویترا کور نے اپنے سفر کے تجربے کو انتہائی مایوس کن قرار دیتے ہوئے ایئرلائن پر سخت تنقید کی ہے۔

    پاویترا کور نے نئی دہلی سے سان فرانسسکو جانے والی ایئر انڈیا کی بزنس کلاس ٹکٹ کے لیے تقریباً 4 لاکھ روپے خرچ کیے، تاہم ان کے مطابق سہولتیں، سروس اور صفائی اس رقم کے معیار پر پورا نہیں اتریں۔پاویترا کور نے یوٹیوب پر شیئر کیے گئے اپنے تازہ ولاگ میں بتایا کہ وہ اس بزنس کلاس کے سفر کو 10 میں سے صرف 6 نمبر دیتی ہیں۔ ان کے مطابق سفر کے آغاز میں ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جب پہلی سیٹ میں تکنیکی خرابی سامنے آئی۔ عملے نے انہیں دوسری نشست فراہم کی، مگر بدقسمتی سے وہاں بھی وہی مسئلہ موجود تھا، جس سے ان کی مایوسی میں مزید اضافہ ہوا۔فوڈ ولاگر نے کہا کہ اتنی بڑی رقم ادا کرنے کے باوجود بنیادی سہولتوں کا فقدان حیران کن اور ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے خاص طور پر صفائی کے ناقص انتظامات پر سخت ناراضی کا اظہار کیا اور سوال اٹھایا کہ اگر بزنس کلاس کا یہ حال ہے تو اکانومی کلاس میں سفر کرنے والے مسافروں کے حالات کیسے ہوں گے؟

    اپنے ولاگ میں پاویترا کور نے دعویٰ کیا کہ ان کی سیٹ پر دو مردہ مکھیاں موجود تھیں، جبکہ پیش کیا گیا پھل اور کھانا باسی تھا۔ ان کے مطابق پلیٹ میں بھی مکھیاں نظر آئیں، جو کہ ایک بین الاقوامی بزنس کلاس فلائٹ کے لیے انتہائی تشویشناک بات ہے۔ میٹھا ان کے لیے سب سے بڑی مایوسی ثابت ہوا، یہاں تک کہ انہوں نے اسے کھانا بھی مناسب نہ سمجھا۔انہوں نے مزید بتایا کہ چاکلیٹ موز انتہائی خراب تھا اور پھل بھی تازہ نہیں تھے، جس سے مجموعی طور پر کھانے کا تجربہ نہایت ناقص رہا۔

    ولاگ کے اختتام پر پاویترا کور نے طنزیہ انداز میں کہا، ’’لیکن یہ ایئر انڈیا ہے‘‘۔ ان کے مطابق ان کے پاس کوئی اور بہتر آپشن موجود نہیں تھا، اسی لیے انہیں اسی فلائٹ کا انتخاب کرنا پڑا۔

    وفاقی وزیر علیم خان سے شدید تلخ کلامی،وجہ کیا بنی،پلوشہ کی زبانی

    عمران،بشریٰ کو سزا،مقدمہ کی کامیاب پیروی پرتفتیشی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہیں،ایف آئی اے

  • عمران،بشریٰ کو سزا،مقدمہ کی کامیاب پیروی پرتفتیشی ٹیم  کی کارکردگی کو سراہتے ہیں،ایف آئی اے

    عمران،بشریٰ کو سزا،مقدمہ کی کامیاب پیروی پرتفتیشی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہیں،ایف آئی اے

    ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آج عمران خان اور بشری بی بی کو علیحدہ سے توشہ خانہ ٹو کیس میں سات سات سال علیحدہ سزا ہوئی

    ترجمان کے مطابق یہ مقدمہ ایف آئی اے کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے جس میں سابق وزیرِاعظم اور ان کی اہلیہ کو خالصتاً دستاویزی شواہد کی بنیاد پر سزا سنائی گئی۔خصوصی عدالت سینٹرل-I، اسلام آباد نے توشہ خانہ-II کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے سابق وزیرِاعظم عمران احمد خان نیازی اور ان کی اہلیہ بشرٰی عمران کو مختلف دفعات کے تحت سزا سنا دی ہے۔ عدالت نے ملزمان کو دفعہ 409 تعزیراتِ پاکستان کے تحت 10 سال قیدِ سادہ اور دفعہ 5(2) بمعہ دفعہ 47 انسدادِ بدعنوانی ایکٹ 1947 کے تحت 7 سال قیدِ سادہ کی سزا سنائی، جبکہ دونوں ملزمان پر 16,405,000 روپے فی کس جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔ یہ فیصلہ عدالت نے 21 گواہوں کے بیانات قلمبند کرنے اور فریقین کے دلائل سننے کے بعد صادر کیا۔

    ترجمان کے مطابق مقدمہ کا پس منظر یہ ہے کہ ملزمان نے مملکتِ سعودی عرب کے سرکاری دورے کے دوران موصول ہونے والا Bvlgari جیولری سیٹ توشہ خانہ میں جمع نہ کروایا، حالانکہ وہ اس کے قانونی طور پر پابند تھے۔ تفتیش کے دوران یہ بات ثابت ہوئی کہ ملزمان نے باہمی ملی بھگت اور بدنیتی سے مذکورہ جیولری سیٹ کی انتہائی کم قیمت لگوائی، جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو 32.851 ملین روپے کا نقصان پہنچا۔فیصلے کے بعد دونوں ملزمان کو ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے تحویل میں لے کر اڈیالہ جیل منتقل کر دیا تاکہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد بدعنوانی کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے اور اس مقدمہ کی کامیاب پیروی پر متعلقہ تفتیشی ٹیم اور افسران کی کارکردگی کو سراہتا ہے۔

  • توشہ خانہ ٹوفیصلہ، ریاستی تحائف ذاتی  نہیں بلکہ قومی امانت ہوتے ہیں

    توشہ خانہ ٹوفیصلہ، ریاستی تحائف ذاتی نہیں بلکہ قومی امانت ہوتے ہیں

    توشہ خانہ ٹو کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور انکی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 17 سترہ برس قید کی سزا سنائی گئی ہے، توشہ خانہ سے متعلق زیرِ سماعت مقدمہ محض ایک سیاسی تنازع نہیں بلکہ عوامی اعتماد، ریاستی ملکیت اور قانون کی حکمرانی سے جڑا ایک سنجیدہ قانونی معاملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق یہ کیس خصوصی عدالت میں پاکستان پینل کوڈ (PPC) کی دفعات 409 اور 109 اور پریونشن آف کرپشن ایکٹ 1947 کی دفعہ 5(2) کے تحت درج کیا گیا ہے۔

    قانونی ماہرین کے مطابق توشہ خانہ کے قواعد کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ سرکاری عہدے کے ذریعے موصول ہونے والے تحائف ذاتی فائدے کے لیے استعمال نہ ہوں، کیونکہ ایسے تمام تحائف ریاستی ملکیت تصور کیے جاتے ہیں۔استغاثہ کے مطابق یہ مقدمہ کسی عمومی یا مبہم الزام پر نہیں بلکہ ایک مخصوص لین دین پر مبنی ہے۔ الزام ہے کہ مئی 2021 میں موصول ہونے والا بلغاری (Bvlgari) زیورات کا قیمتی سیٹ توشہ خانہ میں جمع نہیں کرایا گیا، اسے کم قیمت پر ظاہر کیا گیا اور بعد ازاں نہایت کم لاگت پر اپنے پاس رکھا گیا۔ریکارڈ کے مطابق یہ اقدام دانستہ طور پر اس لیے کیا گیا تاکہ تحفے کی اصل مارکیٹ ویلیو کا درست تعین نہ ہو سکے۔

    رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اس کیس پر توشہ خانہ طریقۂ کار 2018 لاگو ہوتا ہے، کیونکہ تحفہ 2021 میں موصول ہوا تھا۔ بعد میں آنے والی 2023 کی ترامیم اس معاملے پر لاگو نہیں ہوتیں۔قواعد کی شق-I کے مطابق، قیمت سے قطع نظر ہر سرکاری تحفہ فوری طور پر رپورٹ کرنا اور توشہ خانہ میں جمع کرانا لازمی ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں تادیبی اور قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔استغاثہ نے مختلف جرائم کے اجزاء کو حقائق کے ساتھ جوڑتے ہوئے درج ذیل الزامات عائد کیے ہیں
    PPC 409: سرکاری ملازم کی جانب سے خیانتِ امانت، الزام ہے کہ تحفہ بطور امانت موصول ہوا مگر جمع نہ کرا کے ذاتی فائدے کے لیے رکھا گیا۔
    PPC 109: اعانتِ جرم ، مبینہ طور پر اس عمل میں نجی افراد اور ویلیوایٹرز نے کردار ادا کیا۔
    PCA 1947 دفعہ 5(2): مجرمانہ بدعنوانی ، استغاثہ کے مطابق سرکاری عہدے کا غلط استعمال کر کے مالی فائدہ حاصل کیا گیا۔

    تحقیقات میں پیش کیے گئے ثبوت کو کثیر ذرائع سے حاصل اور باہم تصدیق شدہ قرار دیا گیا ہے،سرکاری ریکارڈ کے مطابق تحفہ جسمانی طور پر توشہ خانہ میں جمع نہیں کرایا گیا، جبکہ رجسٹر میں اندراج کا الزام بھی سامنے آیا ہے۔نجی ویلیوایٹر کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس نے خود کو ماہر تسلیم نہیں کیا اور ہدایات کے تحت کم قیمت لگانے کا اعتراف کیا۔ماڈل کسٹمز کے سرکاری ویلیوایٹرز نے بھی معائنہ نہ کرنے اور فراہم کردہ قیمت فہرست پر انحصار کرنے کا اعتراف کیا۔وزارتِ خارجہ کے ذریعے حاصل کردہ بین الاقوامی قانونی معاونت (MLA) کے تحت بلغاری اٹلی نے زیورات کی انوائس قیمتیں €300,000 اور €80,000 فراہم کیں، جو اصل ویلیو کے تعین میں اہم قرار دی جا رہی ہیں۔رپورٹ کے مطابق قومی خزانے کو مبینہ طور پر 32 کروڑ 85 لاکھ 13 ہزار روپے سے زائد کا نقصان پہنچا۔ تحقیقات میں بتایا گیا کہ جن زیورات کی قیمت چند لاکھ روپے لگائی گئی، ان کی اصل مارکیٹ ویلیو تقریباً 7 کروڑ 15 لاکھ روپے سے زیادہ بنتی ہے۔استغاثہ نے اس کم قیمت لگانے کے عمل کو غیر قانونی اور بدنیتی پر مبنی قرار دیا ہے، جس سے مجرمانہ نیت ثابت ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

    ریکارڈ کے مطابق یہ کیس مکمل طور پر عدالتی نگرانی میں آگے بڑھا،دائرۂ اختیار کی منتقلی عدالت کے حکم سے ہوئی۔ایف آئی اے کی تفتیش، شواہد کی ضبطگی اور ضمنی رپورٹس عدالت کی ہدایات کے مطابق تیار کی گئیں۔گواہوں کے بیانات ضابطۂ فوجداری کی دفعات 160، 161 اور 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے۔ملزم کو سوالنامہ فراہم کیا گیا اور اسے مکمل دفاع پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔آئین کے آرٹیکل 10A اور 10(1) کے تحت منصفانہ ٹرائل اور وکیل کے حق کی ضمانت دی گئی۔

    قانونی ماہرین کے مطابق PPC 409 کے تحت سزا انتہائی سخت ہے، جس میں عمر قید یا دس سال تک قید اور جرمانہ شامل ہو سکتا ہے۔ استغاثہ کا مؤقف ہے کہ مبینہ جرم کی نوعیت، دانستہ اقدام، مالی نقصان اور بین الاقوامی تصدیق اس بات کی متقاضی ہے کہ سزا محض علامتی نہ ہو،

    ماہرین کے مطابق یہ مقدمہ کسی فرد یا جماعت سے بڑھ کر ریاستی نظام، سرکاری تحائف کے شفاف انتظام اور عوامی اعتماد کے تحفظ کا معاملہ ہے۔ فیصلے کو مستقبل کے سرکاری عہدہ داروں کے لیے ایک نظیر سمجھا جا رہا ہے کہ ریاستی تحائف ذاتی مراعات نہیں بلکہ قومی امانت ہوتے ہیں۔

    عمران ،بشریٰ کو سزا،فیصلہ انصاف پر مبنی ہے،عطا تارڑ

    عمران ،بشریٰ کو سزا، حقائق واضح ہوں تو انہیں سیاست کہہ کر رد نہیں کیا جا سکتا

    عمران،بشریٰ کو سزا،سیاسی اختلاف نہیں قانون کی عملداری

    بانی پی ٹی آئی قانون شکنی کے مرتکب ہوئے،بیرسٹر عقیل ملک

    توشہ خانہ ٹوکیس،عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 17،17سال قید کی سزا

  • عمران ،بشریٰ کو سزا،فیصلہ انصاف پر مبنی ہے،عطا تارڑ

    عمران ،بشریٰ کو سزا،فیصلہ انصاف پر مبنی ہے،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے کہا ہے کہ توشہ خانہ ٹو کی سزا 190 ملین پاؤنڈ کی سزا کی مدت ختم ہونے کے بعد شروع ہوگی۔

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ 14 سال کی سزا ختم ہو گی تو اس کے بعد 17 سال کی سزا شروع ہو گی،فراڈ کے تحت تحائف کی قیمت کم لگوائی گئی، فیصلہ انصاف پر مبنی ہے، تحائف کی قیمت کم لگوا کر سرکار کو کم رقم دی گئی، اسٹیٹ کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا کر تحائف اپنی ذات کے لیے رکھ لیے، بشریٰ بی بی نے تحائف روک لیے اور مالی فائدہ لیا، 3 کروڑ اور 7 کروڑ کا اسٹیٹ کو نقصان پہنچایا، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو 10 سال اور 7 سال کی سزا سنائی گئی ہے۔

    عمران ،بشریٰ کو سزا، حقائق واضح ہوں تو انہیں سیاست کہہ کر رد نہیں کیا جا سکتا

    عمران،بشریٰ کو سزا،سیاسی اختلاف نہیں قانون کی عملداری

    توشہ خانہ ٹوکیس،عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 17،17سال قید کی سزا

  • عمران ،بشریٰ کو سزا، حقائق واضح ہوں تو انہیں سیاست کہہ کر رد نہیں کیا جا سکتا

    عمران ،بشریٰ کو سزا، حقائق واضح ہوں تو انہیں سیاست کہہ کر رد نہیں کیا جا سکتا

    اسپیشل جج شاہ رخ ارجمند نے توشہ خانہ 2 کیس میں دفعہ 409 PPC کے تحت عمران خان کو 10 سال قیدِ کی سزا سنائی ہے، جبکہ 16,425,650 روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ یہ فیصلہ کسی سیاسی اختلاف کا نہیں بلکہ ریاست امانت کے تحفظ اور قانون کی عمل داری کا معاملہ ہے۔ توشہ خانہ کا طریقۂ کار واضح ہے کہ ہر تحفہ فوری طور پر رپورٹ اور ڈپازٹ ہونا لازم ہے؛ اس کی خلاف ورزی ذاتی غلطی نہیں بلکہ ریاستی نظم و ضبط پر ضرب سمجھی جاتی ہے،توشہ خانہ میں عمران خان کو ۱۰ سال کی سزا مکمل عدالتی عمل اور دفاع کے حقوق کی فراہمی کے بعد سنائی گئی،اس فیصلے کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ عوامی عہدہ فائدے کے لیے نہیں، امانت اور خدمت کے لیے ہوتا ہے۔ Bvlgari جیولری سیٹ، اس کی non-deposit، undervaluation اور retention۔ جب حقائق واضح ہوں تو انہیں سیاست کہہ کر رد نہیں کیا جا سکتا۔

    اسپیشل جج شاہ رخ ارجمند کے توشہ خانہ ٹو (TK-2) کیس کے فیصلے کی مطابق دفعہ 409 PPC اور سیکشن 5(2) PCA 1947 کے تحت عمران خان کو ۱۰ جبکہ بشرا بی بی کو 7 سال کی سزائیں سنائی گئیں، کیونکہ عوامی عہدہ امانت ہے، اور ریاست کے نام پر آنے والے تحائف ریاست کے ہوتے ہیں۔ ذاتی ملکیت نہیں۔ یہ کیس سیاست نہیں بلکہ Rule of Law اور public trust کا معاملہ ہے۔ ریاست کے نام پر آنے والے تحائف ذاتی ملکیت نہیں ہوتے، اور توشہ خانہ قوانین اسی لیے بنائے گئے کہ عوامی عہدہ ذاتی فائدے کا ذریعہ نہ بنے۔ ریکارڈ کے مطابق شواہد multi-source اور corroborated ہیں۔ سرکاری ریکارڈ، نجی و سرکاری appraisers کے بیانات، اور اٹلی سے MLA کے ذریعے حاصل شدہ تصدیق جن کی بنیاد پر قومی خزانے کے نقصان کی quantification کی گئی اور سزا کو تناسب، deterrence اور عوامی اعتماد کے تحفظ سے جوڑا گیا۔

    توشہ خانہ ٹو جس کا تعلق Bvlgari جیولری سیٹ (مئی 2021) سے ہے اور اس میں PPC 409، PPC 109 کے ساتھ PCA 1947 کی دفعہ 5(2) کے تحت کارروائی اور فیصلہ کے مطابق عمران خان کو دس سال کی سزا ہوئی ہے- یہ فیصلہ مکمل due process کے بعد سامنے آیا،عدالتی نگرانی، تفتیشی تسلسل، گواہوں کا قانونی طریقہ، approver کا مجسٹریٹ کے سامنے بیان، اور دفاع کو سوالنامے کے ذریعے مؤقف دینے کا موقع،جو اسے قانونی اور اخلاقی دونوں لحاظ سے مضبوط بناتا ہے۔ جب خلاف ورزی واضح واقعے اور واضح قواعد پر کھڑی ہو تو اسے سیاسی بیانیہ نہیں کہا جا سکتا۔