Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • واضح مؤقف ہے کہ افغان سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہو،پاکستان

    واضح مؤقف ہے کہ افغان سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہو،پاکستان

    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ افغانستان سے ہونے والی سرحدی کشیدگی کے معاملے پر پاکستان نے شواہد پر مبنی مطالبات ترکیے میں ثالثوں کے حوالے کر دیے ہیں۔

    صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرانی کا کہنا تھا ہمارا مذاکراتی وفد استنبول میں موجود ہے، استنبول میں پاکستانی مذاکراتی وفد نے ثالثوں کو اپنی لوجیکل معلومات شیئر کی ہیں، ثالث افغان طالبان کیساتھ ہمارے مطالبات پر نکتہ بہ نکتہ بات چیت کر رہے ہیں،ا تھا دفتر خارجہ کی نمائندگی کے لیے ایڈیشنل سیکرٹری علی اسد گیلانی استنبول مذاکراتی وفد میں شامل ہیں جبکہ ڈی جی آئی ایس آئی عاصم ملک بھی مذاکراتی وفد میں شریک ہیں،پاکستان کی جانب سے ثالثوں کو فراہم کردہ معلومات مصنفانہ اور فتنہ الخوارج سے متعلق ہیں، ہمارے مطالبات نہایت سادہ، واضح، مصنفانہ اور شواہد پر مبنی ہیں، مذاکرات کی تکمیل اور نتائج تک ہم کوئی بیان یا تبصرہ نہیں کریں گے، مذاکرات میں ثالثوں نے پاکستان کے مؤقف کی مکمل تائید کی ہے، سوشل میڈیا پر جاری ہونے والے کسی قسم کے بیان پر دھیان نہ دیا جائے، پاکستان کا واضح مؤقف ہے کہ افغان سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہو، پاکستان نے ثالثوں کو شواہد پر مبنی مطالبات حوالے کردیے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کسی صورت قبول نہیں ہے، مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگ بھارتی سرپرستی یافتہ دہشتگردی کا سامنا کر رہے ہیں، بھارتی میڈیا کی انٹلیجنس افسران کی ملاقاتوں اور پیسےکی افواہیں پریوں کی کہانیاں ہیں۔

    ایک سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا چمن واقعے پر ہم افغانستان کے دعوے کو مسترد کرتے ہیں، فائرنگ کا آغاز افغانستان کی جانب سے کیا گیا، گزشتہ روز یا آج کے چمن کے واقعات سرحد کھولنے کے حوالے سے مثبت جائزہ نہیں ہیں، مثبت جائزے کے بعد ہی سرحدیں کھولنے پر بات کی جاسکتی ہے، مذاکرات میں افغانستان کی جانب سے چمن سرحد پر خلاف ورزی کا معاملہ بھی اٹھایا جائے گا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ہماری بہادر فضائیہ نے جتنے بھی طیارے گرائے وہ اب تاریخ کا حصہ ہیں، ہم اپنی فضائیہ کی طرف سے گرائے جانے والے طیاروں کی تعداد پر کھڑے ہیں، پاک فضائیہ نے اپنے سےکئی گنا بڑےدشمن کو شکست دی، بھارت نے امریکی صدر سے جنگ بندی کے لیے درخواست کی، امریکی صدر کا مؤقف انتہائی اہم ہے، بھارت کے گرائے جانے والے طیاروں میں رافیل اور دیگر طیاروں کے ماڈل پر کنفیوژن ہوتی ہے، گرائے جانے والے طیاروں کی تعداد وہی ہے جو بتائی گئی ہے، ہم اپنے عوام کی جانوں کو ہر صورت محفوظ بنائیں گے۔

  • 50 لاکھ روپے انعام،انتہائی مطلوب ڈاکو سمیت 12 ہلاک

    50 لاکھ روپے انعام،انتہائی مطلوب ڈاکو سمیت 12 ہلاک

    رونتی کے کچے کے علاقوں میں ڈاکووں کے خلاف آپریشن کے دوران اب تک انتہائی مطلوب ڈاکو سمیت 12 ڈاکوؤں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔

    ڈی آئی جی سکھر فیصل عبداللہ چاچڑ نے بتایا کہ رونتی کے کچے کے علاقے میں آپریشن کے دوران ڈاکو شاہو کوش مارا گیا، وزیر داخلہ پنجاب نے ڈاکو شاہو کوش پر 50 لاکھ روپے انعام روپے رکھا تھا،ڈی آئی جی سکھر کا کہنا ہے کہ شاہو کوش رحیم یار خان میں12 پولیس اہلکاروں کی شہادت کا ملزم تھا، ہلاک ڈاکو سندھ اور پنجاب پولیس کو 30 سے زائد سنگین مقدمات میں مطلوب تھا، گھوٹکی میں کچے کے علاقے میں پولیس اور رینجرز کی جانب سے ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن جاری ہے۔

  • نوجوان ہلاکت کیس، عدالت کا ڈمپر ڈرائیور کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم

    نوجوان ہلاکت کیس، عدالت کا ڈمپر ڈرائیور کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم

    شہر قائد کراچی میں عدالت نے ڈمپر سے کچل کرنوجوان کی ہلاکت کیس کے ڈمپر ڈرائیور کو 30لاکھ روپےکی ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیدیا۔

    کراچی کے جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں گارڈن میں ڈمپر سے نوجوان کو کچلنے کے کیس کی سماعت ہوئی جس دوران ڈمپر ڈرائیور نیاز اللہ کی زرضمانت عدالت میں جمع کرائی گئی،دوران سماعت عدالت نے 30لاکھ روپےکی ضمانت پر ملزم کورہاکرنےکاحکم جاری کردیا۔

    واضح رہے کہ چند روز قبل ملزم نےگارڈن کےعلاقے میں شاہ زیب نامی نوجوان کوکچل دیا تھا، حادثے کے بعد ملزم کو لوگوں نے پکڑ کرپولیس کے حوالے کیا تھا اس دوران ملزم کو مشتعل لوگوں نے تشدد کا نشانہ بھی بنایاتھا۔

  • طالبہ سے زیادتی ،برہنہ تصاویر،ویڈیوز، دو وین ڈرائیور گرفتار

    طالبہ سے زیادتی ،برہنہ تصاویر،ویڈیوز، دو وین ڈرائیور گرفتار

    فیصل آباد میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں دو وین ڈرائیوروں نے یونیورسٹی کی طالبہ کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے دونوں ملزمان کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق متاثرہ طالبہ یونیورسٹی جانے کے لیے روزانہ ایک نجی وین سروس استعمال کرتی تھی۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اسی دوران دو وین ڈرائیوروں نے منصوبہ بندی کے تحت طالبہ کو اغوا کرکے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ ملزمان نے واقعے کے بعد طالبہ کے موبائل فون سے ذاتی تصاویر چرا لیں اور ان تصاویر کے ذریعے اسے بلیک میل کرکے زیورات بھی ہتھیا لیے۔پولیس کے مطابق ملزمان کی یہ بلیک میلنگ کئی ماہ تک جاری رہی۔ طالبہ نے خوف اور شرمندگی کے باعث کسی کو کچھ نہ بتایا، تاہم مسلسل ہراسانی اور دباؤ کے بعد آخرکار اس نے اپنے والدین کو تمام حقیقت سے آگاہ کیا۔ والدین کی شکایت پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دونوں وین ڈرائیوروں کو گرفتار کرلیا۔

    ترجمان پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جبکہ متاثرہ طالبہ کا میڈیکل ٹیسٹ بھی مکمل کرلیا گیا ہے۔ مزید تفتیش جاری ہے اور پولیس اس معاملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ کسی اور متاثرہ لڑکی کے ساتھ ایسا واقعہ نہ دہرایا جا سکے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ خواتین کے خلاف اس قسم کے جرائم ناقابل برداشت ہیں اور مجرموں کو سخت سے سخت سزا دلوانے کے لیے کیس کو چالان کے مرحلے تک پہنچایا جائے گا۔

  • جکارتہ: اسکول کی مسجد میں نماز جمعہ کے دوران دھماکہ، 54 افراد زخمی

    جکارتہ: اسکول کی مسجد میں نماز جمعہ کے دوران دھماکہ، 54 افراد زخمی

    انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک اسکول کی مسجد میں نمازِ جمعہ کے دوران ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 54 افراد زخمی ہوگئے۔ واقعے کے فوراً بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق، دھماکہ اس وقت ہوا جب نمازی جمعہ کی نماز ادا کر رہے تھے۔ دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی، جبکہ مسجد کے شیشے ٹوٹ گئے اور عمارت کے کچھ حصے کو بھی نقصان پہنچا۔ عینی شاہدین کے مطابق، دھماکے کے فوراً بعد مسجد میں چیخ و پکار مچ گئی اور لوگ زخمیوں کی مدد کے لیے دوڑ پڑے،پولیس اور امدادی اداروں نے تمام زخمیوں کو نزدیکی اسپتالوں میں منتقل کر دیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے،پولیس حکام نے بتایا کہ دھماکے کی نوعیت اور محرکات کا ابھی تعین نہیں کیا جا سکا، تاہم بم ڈسپوزل اسکواڈ اور فرانزک ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کر رہی ہیں۔ ابتدائی طور پر یہ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دھماکہ گیس سلنڈر یا برقی خرابی کے باعث ہوا ہو سکتا ہے، لیکن دہشت گردی کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا جا رہا۔

    جکارتہ کے گورنر نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت زخمیوں کے علاج اور متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی۔مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، پولیس نے مسجد کے اطراف کے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور تمام داخلے کے راستے بند کر دیے گئے ہیں تاکہ شواہد ضائع نہ ہوں۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف سرکاری اطلاعات پر اعتماد کریں۔

  • سموگ،دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم

    سموگ،دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ نے دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دے دیا۔

    عدالت نے حکم جاری کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اب لاہور میں دھواں چھوڑنے والی کوئی گاڑی نظر نہیں آنی چاہیے، شہر میں بینرز لگادیں کہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں بند کر دی جائیں گی، محکمہ ماحولیات کے افسروں کو آج کل سڑکوں پر نظر آنا چاہیے، جو بھی آلودگی پھیلائے اس کیخلاف کارروائی کریں۔لاہور ہائیکورٹ نے درخت کاٹنے کے معاملے پر تشویش اور ڈائریکٹر ماحولیات کے پیش نہ ہونے پر ناراضگی کا اظہار کیا، اسموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کیس کی سماعت میں جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ اگر عدالتی احکامات پر عمل کیا جاتا تو لاہور کی صورتحال مختلف ہوتی، پنجاب میں آلودگی کا پھیلاؤ روکنے کے لیے سخت انتظامات کریں، لاری اڈوں پر محکمہ ماحولیات کے افسر کے ساتھ پولیس اہلکار بھی تعینات کریں۔

    عدالت نے پرانے ٹائروں کو پراسس کرنے والے پلانٹس کے خلاف بھی کارروائی کا حکم دے دیا، عدالتی معاون کو موقع پر جا کر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔لاہور ہائی کورٹ نے ریمارکس میں کہا کہ ڈی جی پی ایچ اے عدالتی حکم پر عمل درآمد یقینی بنائیں اور آئندہ سماعت پر رپورٹ پیش کریں،عدالت نے اسموگ اور ماحولیاتی آلودگی تدارک کیس کی سماعت 10 نومبر تک ملتوی کردی۔

  • پاکستان اور ایران  مسلم امہ کے اتحاد کے لیے پرعزم ہیں. وزیراعظم

    پاکستان اور ایران مسلم امہ کے اتحاد کے لیے پرعزم ہیں. وزیراعظم

    اسلامی جمہوریہ ایران کے پارلیمنٹ کے سفیر عزت ماب ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے وفد کے ہمراہ وزیراعظم محمد شہباز شریف سے اسلام آباد میں ملاقات کی۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایران کے ساتھ برادرانہ باہمی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے، سپیکر ایرانی پارلیمنٹ اور وفد کا استقبال کیا۔ وزیراعظم نے مسائل کے لیے بات چیت اور سفارتکاری جیسے پرامن طریقوں پر دونوں ممالک کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خمینی اور صدر مسعود پزیکشیاں کے لیے عزت و تکریم اور خیر سگالی کے پیغامات دیے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک ریاستی دہشت گردی اور خود مختار ممالک کے خلاف بلا اشتعال حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ پاکستان اور ایران بد قسمتی سے دہشت گردی کا شکار رہے ہیں. دونوں ممالک پوری دنیا کے لیے امن و خوشحالی اور علاقائی تعاون کے علمبردار ہیں۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان اور ایران مسلم امہ کے اتحاد و یگانگت کے لیے مشترکہ عزم رکھتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ باہمی مفاد کے مختلف شعبوں بالخصوص معاشی تعاون اور دو طرفہ تجارت کو بڑھانے کا خواہش مند ہے۔

    سپیکر ایرانی پارلیمنٹ ڈاکٹر باقر نے وزیراعظم ،حکومت اور پاکستان کی عوام کا حالیہ ایران ایران۔اسرائیل جنگ میں بھرپور تعاون اور حمایت پر دلی اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران۔ اسرائیل جنگ میں پاکستان کی حمایت کو ایرانی عوام کی تحسین اور خصوصی پزیرائی حاصل ہے۔ پاکستان اور ایران دنیا کے امن اور مسلم امہ کے اتحاد پہ یقین رکھتے ہیں۔ ایرانی سپیکر نے پاکستانی پارلیمنٹ کے ساتھ مثبت تعاون کو سراہتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے،پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں بشمول معیشت اور تجارت میں تعاون کو مزید بڑھانے کے ایرانی عزم کا اظہار کیا۔ ایرانی سپیکر نے ایران کے صدر مسعود پزیکشیاں کی طرف سے وزیراعظم اور پاکستانی عوام کے لیے جذبہ خیر سگالی کا بھی اظہار کی۔ انہوں نے پاکستان میں دورے کے دوران مہمان نوازی پر بھی خصوصی شکریہ ادا کیا۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور وزیراعظم کے خصوصی برائے خارجہ امور سید طارق فاطمی بھی ملاقات میں موجود تھے۔

  • عمارت کے تبدیل ہونے سے اختیارات کم نہیں ہوں گے،جسٹس جمال مندوخیل

    عمارت کے تبدیل ہونے سے اختیارات کم نہیں ہوں گے،جسٹس جمال مندوخیل

    سپریم کورٹ میں مجوزہ آئینی ترمیم پر ججز اور وکلاء کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا۔

    آئینی بینچ میں سول سروس رولز سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آئینی بینچ نے کی،دورانِ سماعت جسٹس امین الدین خان نے وکیل سے سوال کیا کہ کیا یہ کیس آج ختم ہو جائے گا،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میرے خیال سے آج شائد کیس ختم نہ ہو پائے،وکیل فیصل صدیقی نے نام لیے بغیر 27 ویں آئینی ترمیم کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ میری درخواست ہے کہ کیس کا آج فیصلہ کیا جائے، میں وفاقی شرعی عدالت کی بلڈنگ میں کیس پر دلائل دینا نہیں چاہتا، بلڈنگ ہی لے لینی تھی تو وفاقی شرعی عدالت کی کیوں؟ بلڈنگ لینی تھی تو ساتھ والی عمارت لے لیتے،وکیل فیصل صدیقی کی بات پر آئینی بینچ کے ججز مسکرا دیے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے مسکراتے ہوئے وکیل سے کہا کہ رات آپ کے حق میں کچھ پیشرفت ہوئی ہے،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ مجھے کوئی شبہ نہیں سپریم کورٹ کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر یہی ایمان ہے تو پھر فکر کی کیا بات ہے،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ ہم تو آئین کے پابند ہیں،وکیل فیصل صدیقی نے ججز سے کہا کہ آپ کو معلوم ہے کہ وفاقی شرعی عدالت کیوں بنائی گئی تھی، آپ ججز اس کمرہ عدالت میں کتنے گرینڈ لگتے ہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ عمارت کے تبدیل ہونے سے اختیارات کم نہیں ہوں گے۔

  • دہلی ایئرپورٹ پر تکنیکی خرابی کے باعث پروازیں تاخیر کا شکار

    دہلی ایئرپورٹ پر تکنیکی خرابی کے باعث پروازیں تاخیر کا شکار

    نئی دہلی: جمعہ کی صبح دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ (آئی جی آئی اے) پر شدید بدنظمی دیکھنے میں آئی جب ایئر ٹریفک کنٹرول (اے ٹی سی) سسٹم میں اچانک تکنیکی خرابی کے باعث 100 سے زائد پروازیں تاخیر کا شکار ہوگئیں۔

    ایئرپورٹ حکام کے مطابق خرابی کو دور کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور مسافروں سے پیش آنے والی مشکلات پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔ایئرپورٹ انتظامیہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا “ایئر ٹریفک کنٹرول (اے ٹی سی) سسٹم میں تکنیکی مسئلے کے باعث دہلی ایئرپورٹ پر فلائٹ آپریشنز میں تاخیر ہو رہی ہے۔ ہماری ٹیم ڈی آئی اے ایل سمیت تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر اس مسئلے کو جلد از جلد حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔”حکام نے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی پروازوں کے تازہ ترین شیڈول کے لیے اپنی ایئرلائنز سے رابطے میں رہیں۔

    ائیرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا (AAI) نے وضاحت کی کہ یہ تاخیر خودکار میسج سوئچنگ سسٹم میں تکنیکی خرابی کے باعث پیدا ہوئی ہے۔ یہ نظام ایئر ٹریفک کنٹرول کے لیے اہم ڈیٹا فراہم کرتا ہے۔بیان کے مطابق،“اے ٹی سی کنٹرولرز اب فلائٹ پلانز کو دستی طور پر پراسیس کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں تاخیر ہو رہی ہے۔ تکنیکی ٹیمیں نظام کو بحال کرنے میں مصروف ہیں۔”کئی ایئر لائنز نے اپنے مسافروں سے کہا ہے کہ وہ ایئرپورٹ جانے سے پہلے اپنی پرواز کی حیثیت چیک کر لیں۔ ایئر انڈیا نے صبح کے وقت جاری اپنے بیان میں کہا کہ تاخیر اور انتظار کے بڑھنے سے مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے، تاہم ان کی کیبن کریو اور زمینی عملہ فوری مدد فراہم کر رہے ہیں۔

    ایئر انڈیا نے کہا “دہلی میں اے ٹی سی سسٹم کی تکنیکی خرابی کے باعث تمام ایئر لائنز کی پروازیں متاثر ہوئی ہیں، جس کے نتیجے میں ایئرپورٹ اور طیاروں کے اندر انتظار کا وقت بڑھ گیا ہے۔ یہ صورتحال ہمارے کنٹرول سے باہر ہے، تاہم ہم مسافروں کے صبر کے شکر گزار ہیں۔”

    ذرائع کے مطابق، گزشتہ شب بھی اے ٹی سی سسٹم کے سرور میں خرابی کے باعث کم از کم 20 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں، تاہم اس خرابی کو بعد میں دور کر لیا گیا تھا۔اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ ملک کا مصروف ترین ہوائی اڈہ ہے جہاں روزانہ تقریباً 1,550 پروازیں آتی جاتی ہیں۔ گزشتہ ہفتے ایئرپورٹ کو متعدد جی پی ایس (GPS Spoofing) واقعات کا سامنا رہا، جس نے جہازوں کے نیوی گیشن سسٹم میں خلل ڈال دیا اور کئی پروازوں کو متبادل راستوں پر موڑنا پڑا۔جی پی ایس اسپوفنگ میں جعلی سیٹلائٹ سگنلز کے ذریعے نیوی گیشن سسٹم کو دھوکہ دیا جاتا ہے، جس سے طیارے غلط مقام یا بلندی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ جمنگ سے مختلف عمل ہے، کیونکہ اسپوفنگ میں سگنلز کو مکمل طور پر بند کرنے کے بجائے غلط ڈیٹا فراہم کیا جاتا ہے، جو نظام کو جھوٹے راستے دکھاتا ہے۔

    حالیہ برسوں میں ایسے واقعات صرف جنگی علاقوں تک محدود نہیں رہے بلکہ بین الاقوامی فضائی سفر کے لیے بھی خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ پچھلے ماہ ویانا سے دہلی آنے والی ایک پرواز کو اسی طرح کے اسپوفڈ سگنلز کے باعث دبئی کی طرف موڑنا پڑا تھا۔

  • ایئر انڈیا طیارہ حادثہ،پائلٹ کو قصور وار نہیں دیا جا سکتا،بھارتی عدالت

    ایئر انڈیا طیارہ حادثہ،پائلٹ کو قصور وار نہیں دیا جا سکتا،بھارتی عدالت

    بھارتی سپریم کورٹ نے احمد آباد میں جون میں ہونے والے ایئر انڈیا بوئنگ 787 ڈریم لائنر کے ہولناک طیارہ حادثے میں ہلاک ہونے والے پائلٹ اِن کمانڈ کی ذمہ داری مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ "اس سانحے کا الزام پائلٹ پر نہیں ڈالا جا سکتا۔” اس حادثے میں 260 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

    یہ فیصلہ آج سپریم کورٹ نے پائلٹ سمیت سبھروال کے والد، پشکراج سبھروال کی درخواست پر دیا، جنہوں نے اپنے 91 سال کی عمر میں عدالت سے انصاف کی اپیل کی تھی۔ اس کے ساتھ فیڈریشن آف انڈین پائلٹس (FIP) نے بھی ایک مشترکہ درخواست دائر کر رکھی تھی۔ جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ یہ حادثہ المناک تھا، مگر آپ کے بیٹے کو قصوروار نہ سمجھا جائے،کیس کی سماعت کرنے والے جسٹس سوریہ کانت نے دورانِ سماعت بزرگ والد سے مخاطب ہو کر کہا "یہ حادثہ بے حد افسوسناک تھا، مگر آپ کو یہ بوجھ نہیں اٹھانا چاہیے کہ آپ کے بیٹے کو الزام دیا جا رہا ہے۔ ہندوستان میں کوئی نہیں مانتا کہ یہ پائلٹ کی غلطی تھی۔ ابتدائی رپورٹ میں بھی اس قسم کا کوئی اشارہ نہیں،ایک پائلٹ نے پوچھا کہ کیا دوسرے پائلٹ نے فیول کٹ آف کیا؟ تو دوسرے نے نفی میں جواب دیا۔”

    پائلٹ کے والد کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ “دی وال اسٹریٹ جرنل” نے اس حادثے پر ایک رپورٹ شائع کی ہے، جس میں ایک بھارتی سرکاری ذریعے کا حوالہ دیا گیا ہے۔اس پر جسٹس کانت نے ریمارکس دیے کہ ہمیں غیر ملکی رپورٹس سے کوئی سروکار نہیں۔ اگر آپ کو ان سے شکایت ہے تو آپ کا چارہ غیر ملکی عدالت میں ہے۔ یہ محض منفی رپورٹنگ ہے،

    ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو (AAIB) کی جولائی میں جاری ابتدائی رپورٹ کے مطابق، پرواز کے کچھ دیر بعد ہی دونوں انجنوں کی فیول سپلائی بند ہو گئی تھی۔رپورٹ کے مطابق دونوں فیول کنٹرول سوئچز تیزی سے "کٹ آف” پوزیشن پر لے جائے گئے۔تقریباً 10 سیکنڈ بعد انہیں دوبارہ "آن” کیا گیا، مگر تب تک انجن بند ہو چکے تھے۔اس کے نتیجے میں طیارہ نے طاقت کھو دی اور چند لمحوں بعد گر کر تباہ ہو گیا۔

    پائلٹ کے والد کے وکیل گوپال شنکرناراین نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ AAIB کی تحقیق آزاد نہیں، اس لیے ایک عدالتی کمیشن کے ذریعے علیحدہ اور شفاف انکوائری کی ضرورت ہے۔”بوئنگ طیاروں میں دنیا بھر میں تکنیکی مسائل سامنے آئے ہیں، لہٰذا آزادانہ تفتیش ناگزیر ہے۔ سپریم کورٹ نے مرکز، DGCA اور AAIB کو نوٹس جاری کر دیے،عدالت نے حکومتِ ہند، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (DGCA) اور ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو (AAIB) کو نوٹس جاری کرتے ہوئے معاملے کی سماعت 10 نومبر کو مقرر کر دی ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اس نوعیت کی ایک اور درخواست موصول ہوئی ہے جسے اسی تاریخ کو سنا جائے گا۔

    ایئر انڈیا کے منیجنگ ڈائریکٹر اور سی ای او کیمبل ولسن نے 30 اکتوبر کو ایک بیان میں کہا کہ "AAIB رپورٹ میں ایئرلائن کے آپریشن یا نظام میں کسی خرابی کی نشاندہی نہیں کی گئی، تاہم ہم مسلسل اپنے طریقہ کار کا جائزہ لے رہے ہیں۔””ہوائی صنعت میں جو کچھ ہوتا ہے، چاہے وہ ہم سے متعلق ہو یا کسی اور سے، وہ ہمارے لیے غور و فکر کا موقع ہوتا ہے۔ ہم ہر واقعے سے سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔”

    یہ حادثہ احمد آباد سے دہلی کے لیے پرواز بھرنے والے ایئر انڈیا بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارے کے اڑان بھرتے ہی پیش آیا تھا، جس میں عملے سمیت 260 افراد جاں بحق ہوئے۔ حادثے نے بھارت سمیت عالمی ہوا بازی کی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔