Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • عمران،بشریٰ کو سزا،سیاسی اختلاف نہیں قانون کی عملداری

    عمران،بشریٰ کو سزا،سیاسی اختلاف نہیں قانون کی عملداری

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ ٹو کیس میں سز،یہ معاملہ کسی فرد یا جماعت کے خلاف نہیں، بلکہ ریاستی امانت کے تحفظ کا ہے۔ جب عدالت کسی عوامی عہدے دار کے بارے میں یہ نتیجہ نکالے کہ ریاستی تحائف کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال کیا گیا، تو پھر فیصلہ شخصیات سے اوپر، اصول سے جڑا ہوتا ہے۔ اسی اصول کو عوام کے سامنے رکھیں کہ یہ سزا “سیاسی اختلاف” نہیں، قانون کی عمل داری ہے۔

    ریکارڈ کے مطابق توشہ خانہ طریقہ کار 2018 میں بنیادی شرط یہ ہے کہ ہر تحفہ، قیمت سے قطع نظر، فوری طور پر رپورٹ اور ڈپازٹ ہونا چاہیے۔ جب قانون ایک ڈیوٹی واضح کر دے تو پھر اس کی خلاف ورزی “غلطی” نہیں رہتی، وہ قواعد کی توہین اور ریاستی نظام پر ضرب بن جاتی ہے۔ اسی لیے عدالت کی سزا کو “قواعد کے نفاذ” کے طور پر پیش کیا جائے۔یہ بیانیہ رکھیں کہ استغاثہ کے مطابق کیس مبہم نہیں، یہ ایک خاص لین دین پر کھڑا ہے، یعنی Bvlgari جیولری سیٹ اور اس سے متعلق non deposit، undervaluation، اور retention کا معاملہ۔ جب مقدمہ ایک واضح واقعے، واضح تحفے، اور واضح طریقہ کار کی خلاف ورزی کے گرد گھومتا ہو تو اسے “سیاسی” کہہ کر کمزور نہیں کیا جا سکتا، یہ ریکارڈ اور قواعد کی بنیاد پر چلتا ہے۔

    اگر عدالت نے جرم ثابت پایا تو وہ کسی ایک بیان پر نہیں، بلکہ متعدد ذرائع کی باہمی تائید پر ہے، جیسے ریکارڈ میں ڈیپازٹ کی عدم موجودگی، valuation چین، اور بیرونی تصدیق کا ذکر۔ جب شواہد مختلف سطحوں پر ایک ہی سمت اشارہ کریں تو اسے “کہانی” نہیں کہا جاتا، وہ corroboration بن جاتی ہے۔ریکارڈ میں قومی خزانے کے نقصان کی quantification کی گئی ہے، جسے undervaluation اور retention کے فرق سے جوڑا گیا۔ اس نکتے کو جذباتی مگر قانونی انداز میں کہیں کہ یہ عوام کے پیسے اور ریاست کے وقار کا معاملہ ہے۔ جب نقصان ناپا جا سکے اور طریقہ کار کی خلاف ورزی واضح ہو تو سزا کا مقصد صرف سزا نہیں، روک تھام اور مثال قائم کرنا بھی ہوتا ہے۔

    سزا ہوئی تو وہ عدالتی نگرانی میں مکمل پراسیس کے بعد ہوئی، تفتیشی مراحل، گواہوں کا طریقہ کار، چالان، اور ریکارڈ کی فراہمی جیسے اقدامات ریکارڈ میں آتے ہیں۔ عدالتیں اسی لیے ہوتی ہیں کہ الزام صرف “الزام” نہ رہے، ثبوت اور قانون کے معیار پر پرکھا جائے۔ اس لیے فیصلے کو “غیر منصفانہ” کہنا، عدالتی عمل کی نفی کے مترادف ہوگا۔

    ریکارڈ میں دفاعی حقوق کے حوالے سے اقدامات موجود ہیں، مثلاً درخواستیں، کارروائیاں، اور عدالت کی ہدایت پر questionnaire کے ذریعے دفاعی مواد سامنے لانے کا موقع۔ یہ پوائنٹ بہت طاقتور ہے کہ قانون دفاع کا حق دیتا ہے، اور اسی حق کے ساتھ فیصلہ مضبوط بنتا ہے۔ اگر دفاع کے مواقع فراہم ہوں اور پھر بھی عدالت جرم ثابت پائے تو سزا کی اخلاقی اور قانونی بنیاد مزید مضبوط ہو جاتی ہے۔

    یہ فیصلہ کسی فرد کو طاقتور یا کمزور کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اداروں کو مضبوط کرنے کے لیے ہے۔ عوامی عہدہ ایک امانت ہے، اور تحائف ریاست کے نام پر آئیں تو وہ ریاست کے ہیں، ذاتی ملکیت نہیں۔ اس لیے اگر عدالت نے سزا سنائی ہے تو اسے ایک واضح پیغام سمجھیں کہ عہدہ فائدے کے لیے نہیں، خدمت کے لیے ہے۔

  • بانی پی ٹی آئی قانون شکنی کے مرتکب ہوئے،بیرسٹر عقیل ملک

    بانی پی ٹی آئی قانون شکنی کے مرتکب ہوئے،بیرسٹر عقیل ملک

    وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے عمران وبشریٰ پر سزا کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ آج کا فیصلہ آئین و قانون کے عین مطابق آیا ہے۔

    بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ نے بلگری جیولری سیٹ کی کم قیمت لگوا کر واضح طور پر قانون کی خلاف ورزی کی۔ عدالت میں پیش کیے گئے شواہد سے یہ ثابت ہوا کہ بانی پی ٹی آئی قانون شکنی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ادھر وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے بھی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ توشہ خانہ کے تحائف کو قواعد کے مطابق جمع کرانا لازمی تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ تحفہ انتہائی کم قیمت پر خرید کر قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا، جو کہ فراڈ کے زمرے میں آتا ہے۔حکومتی وزراء کے مطابق، توشہ خانہ قوانین کی خلاف ورزی پر یہ فیصلہ ایک نظیر ثابت ہوگا اور اس سے یہ پیغام جائے گا کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں، چاہے اس کا عہدہ یا حیثیت کچھ بھی ہو۔

    واضح رہے کہ توشہ خانہ ٹو کیس میں احتساب عدالت نے بڑا فیصلہ سناتے ہوئے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو مجموعی طور پر 17، 17 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ عدالت نے دونوں پر ایک کروڑ 64 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔احتساب عدالت کے اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی موجودگی میں کیس کا محفوظ فیصلہ سنایا۔ فیصلے کے مطابق، دونوں ملزمان کو توشہ خانہ سے حاصل کیے گئے تحائف کے معاملے میں بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا مرتکب قرار دیا گیا۔عدالتی فیصلے کے تحت بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ ٹو کیس میں 10، 10 سال قید کی سزا سنائی گئی، جبکہ پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی دفعہ 409 کے تحت مزید 7، 7 سال قید کی سزا دی گئی۔ اس طرح مجموعی طور پر دونوں کو 17، 17 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

  • بلوچستان،خیبرپختونخوا،دہشتگردوں کیخلاف سیکورٹی فورسز متحرک،بلوچستان سے بھاری منشیات برآمد

    بلوچستان،خیبرپختونخوا،دہشتگردوں کیخلاف سیکورٹی فورسز متحرک،بلوچستان سے بھاری منشیات برآمد

    خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگردوں کیخلاف سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری ہیں

    ذرائع کے مطابق ضلع واشک کے بسمہ علاقے میں حکام نے دو افراد کی لاشیں برآمد کیں، جنہیں تحویل میں لے کر شناخت کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکام اموات کے حالات کی تحقیقات کر رہے ہیں اور جاں بحق افراد کی شناخت معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    پولیس ذرائع کے مطابق کوئٹہ کے سبزل روڈ کے علاقے میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک نوجوان جاں بحق جبکہ اس کا بھائی زخمی ہو گیا۔ حکام نے بتایا کہ ملزمان کی شناخت اور واقعے کے محرکات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ضلع قلات کے پٹک اور شیرینزا علاقوں میں سیکیورٹی آپریشن کے دوران 2 بی ایل ایف کے عسکریت پسند مارے گئے جبکہ 3 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ حکام کے مطابق یہ آپریشن گزشتہ چند ماہ کے دوران سیکیورٹی فورسز پر حملوں اور آئی ای ڈی نصب کرنے میں ملوث عسکریت پسندوں کے خلاف کیا گیا۔ گرفتار افراد پر عسکری سرگرمیوں کی معاونت کا الزام ہے۔ علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے اور خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔

    دہشت گردوں نے کالیم شہید پوسٹ کے قریب ناکہ نمبر 1 کے پاس آئی ای ڈی دھماکے کے ذریعے کوئٹہ ریلوے لائن کو اڑانے کی کوشش کی۔ پولیس ذرائع کے مطابق دھماکے سے ریلوے ٹریک کو جزوی نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ اطلاع ملتے ہی ایف سی اور بم ڈسپوزل اسکواڈ موقع پر پہنچ گئے، علاقے کو گھیرے میں لے کر کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا گیا۔ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے تربت میں کارروائی کے دوران منشیات اسمگلنگ کی ایک بڑی کوشش ناکام بنا دی اور عالمی منڈی میں تقریباً 54 ملین ڈالر مالیت کی منشیات ضبط کر لیں۔ اے این ایف ذرائع کے مطابق یہ کارروائی سیٹلائٹ ٹاؤن کے علاقے خلیل آباد کے قریب کی گئی، جہاں پنجگور سے تربت لے جائی جانے والی منشیات سے بھری ایک غیر رجسٹرڈ زمید گاڑی کو روکا گیا۔ کارروائی کے دوران ایک ملزم گرفتار جبکہ گاڑی تحویل میں لے لی گئی۔ گاڑی کی تلاشی کے دوران 222 کلوگرام منشیات برآمد ہوئیں جن میں آئس (میٹھ ایمفیٹامین)، افیون اور چرس شامل ہیں۔ حکام کے مطابق ضبط شدہ منشیات کی مجموعی ملکی مالیت 3 کروڑ 80 لاکھ روپے سے زائد جبکہ عالمی مالیت 54 ملین ڈالر ہے۔ برآمد منشیات میں 99 کلوگرام آئس (ملکی مالیت 2 کروڑ 57 لاکھ 40 ہزار روپے، عالمی مالیت 26.12 ملین ڈالر)، 50 کلوگرام افیون (ملکی مالیت 70 لاکھ روپے، عالمی مالیت 24.75 ملین ڈالر) اور 73 کلوگرام چرس (ملکی مالیت 54 لاکھ 70 ہزار روپے، عالمی مالیت 4.02 ملین ڈالر) شامل ہیں۔ اے این ایف حکام کے مطابق اسمگلنگ نیٹ ورک میں ملوث دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں، جبکہ گرفتار ملزم کے خلاف قانونی کارروائی بھی شروع کر دی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق وسطی کرم کے علاقے مناتو میں دہشت گردوں کی جانب سے نصب بارودی سرنگ پھٹنے سے دو بچے شدید زخمی ہو گئے، جنہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ کلیئرنس آپریشنز کے باوجود باقی رہ جانے والے دھماکہ خیز آلات کے مسلسل خطرے کی نشاندہی کرتا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق 19 دسمبر 2025 کو شمالی وزیرستان کے بویا علاقے میں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گرد حملہ ناکام بنا دیا اور بھارتی پراکسی فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھنے والے چاروں عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا۔ حملہ آوروں نے سیکیورٹی فورسز کے کیمپ کی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم بروقت جوابی کارروائی سے انہیں پسپا کر دیا گیا۔ بعد ازاں انہوں نے بارودی مواد سے بھری گاڑی بیرونی دیوار سے ٹکرا دی، جس سے دیوار منہدم ہو گئی اور قریبی شہری انفراسٹرکچر، بشمول ایک مسجد، کو نقصان پہنچا۔ دھماکے میں خواتین اور بچوں سمیت پندرہ شہری زخمی ہوئے۔ کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز کے چار جوان غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔ وزارتِ دفاع اور آئی ایس پی آر نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں موجود خوارج کی جانب سے کیے جانے والے یہ دہشت گردانہ اقدامات افغان طالبان حکومت کے ان دعوؤں کے منافی ہیں جن میں ان گروہوں کی عدم موجودگی کا کہا جاتا ہے۔ پاکستان نے عبوری افغان حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے اور واضح کیا کہ شہریوں کے تحفظ کے لیے حملہ آوروں اور ان کے سہولت کاروں کے تعاقب کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

    کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران خیبر پختونخوا میں عسکریت پسند اور مجرمانہ سرگرمیوں میں تشویشناک اضافہ دیکھا گیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں آٹھ خودکش حملے ہوئے جبکہ 14 اضلاع میں فائرنگ کے 557 واقعات رپورٹ ہوئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ عسکریت پسندوں نے 54 ڈرون حملے، 160 بم دھماکے، 68 دستی بم حملے اور 27 میزائل یا راکٹ لانچر کے واقعات کیے۔ سیکیورٹی آپریشنز کے دوران 348 عسکریت پسند مارے گئے جو گزشتہ سال کے 212 کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دہشت گردی میں سہولت کاری کے 183 مقدمات درج ہوئے، جبکہ دہشت گردی کی مالی معاونت کے 30 کیسز سامنے آئے۔ مزید یہ کہ عسکریت پسندوں نے 84 افراد کو اغوا کیا، بھتہ خوری کے 138 اور ٹارگٹ کلنگ کے 116 واقعات رپورٹ ہوئے۔ احتیاطی اقدامات کے طور پر چار مشتبہ افراد کو فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا۔

    ڈکیتوں نے درابن کے قریب قومی شاہراہ پر ناکہ لگا کر شہریوں کو لوٹنا شروع کر دیا۔ رپورٹس کے مطابق انہوں نے شاہراہ بند کر کے گزرنے والی گاڑیوں سے لوٹ مار کی۔ اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کی، جس کے نتیجے میں متعدد ڈکیت زخمی ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق ایک حساس ادارے سے تعلق رکھنے والے سرکاری افسر نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ذاتی اسلحے سے بروقت فائرنگ کی اور ڈکیتوں کو فرار ہونے پر مجبور کر دیا، تاہم فائرنگ کے تبادلے میں افسر خود بھی زخمی ہو گیا۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ مزید تحقیقات جاری ہیں۔

  • پاکستان نے غزہ میں اپنے فوجی دستے بھیجنے سے متعلق کچھ سوال پوچھے ہیں،امریکی وزیر خارجہ

    پاکستان نے غزہ میں اپنے فوجی دستے بھیجنے سے متعلق کچھ سوال پوچھے ہیں،امریکی وزیر خارجہ

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ پاکستان سمیت دوسرے ملکوں نے غزہ میں اپنے فوجی دستے بھیجنے سے متعلق کچھ سوال پوچھے ہیں اور اس کے بعد غزہ میں فوجی دستے بھیجنے پر غور کرنے کی پیش کش کی ہے جس پر امریکا پاکستان کا شکر گزار ہے۔

    امریکی وزارت خارجہ میں پریس کانفرنس کے دوران مارکو روبیو سے سوال کیا گیا کہ کیا پاکستان نے امریکا کو اس بات پر اپنی رضامندی سے آگاہ کر دیا ہے کہ پاکستان غزہ میں امن و امان کے قیام کے لیے اپنے فوجی دستے بھیجے گا،اس پر مارکو روبیو نے کہا کہ ہم پاکستان کے بہت شکرگزار ہیں کہ اس نے غزہ امن منصوبے کا حصہ بننے یا کم از کم اس پر غور کرنے کی پیش کش کی ہے، ان کے خیال میں پاکستان سمیت دیگر ملک ابھی کچھ سوالوں کے جواب چاہتے ہیں اور ان کے بعد ہی ہم کسی ملک سے یہ کہہ سکیں گے کہ وہ غزہ امن منصوبے کے لیے اپنی خدمات پیش کرے،لیکن مجھے پورا یقین ہے کہ بہت سے ملک ایسے ہیں جو اس تنازعے میں شریک ہر فریق کے لیے قابل قبول ہیں اور جو آگے بڑھ کر غزہ استحکام فورس کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔

  • توشہ خانہ ٹوکیس،عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 17،17سال قید کی سزا

    توشہ خانہ ٹوکیس،عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 17،17سال قید کی سزا

    خصوصی عدالت نے توشہ خانہ ٹو کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 17، 17 سال قید اور ایک کروڑ روپے سے زائد جرمانہ عائد کر دیا۔

    اسپیشل جج سینٹرل ارجمند شاہ نے اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی موجودگی میں کیس کا فیصلہ سنایا، تاہم دونوں کے وکلاء عدالت میں موجود نہیں تھے۔ عدالت نے دونوں ملزمان کو پی پی سی دفعہ 409 کے تحت 7، 7 سال اضافی قید بھی سنائی، جس کے نتیجے میں مجموعی سزا 17 سال ہو گئی، اور جرمانے کی ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں مزید 6 ماہ قید کا اطلاق کرنے کی ہدایت کی گئی۔ یاد رہے کہ توشہ خانہ ٹو کیس کی شروعات 13 جولائی 2024 کو ہوئی تھی، جب نیب نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اڈیالہ جیل میں گرفتار کیا تھا۔ ملزمان 37 دن تک نیب کی تحویل میں رہے، جس کے بعد 20 اگست 2024 کو احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کیا گیا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے نیب ترامیم کی بحالی کے فیصلے کے بعد کیس 9 ستمبر 2024 کو ایف آئی اے اینٹی کرپشن عدالت کو منتقل ہوا، جہاں اینٹی کرپشن ایکٹ کی دفعہ 5 اور پی پی سی کی دفعہ 409 شامل کی گئی۔ ٹرائل 16 ستمبر 2024 کو شروع ہوا اور اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے پہلی سماعت اڈیالہ جیل میں کی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے 23 اکتوبر 2024 کو بشریٰ بی بی کی ضمانت منظور کی جبکہ عمران خان کی ضمانت 20 نومبر 2024 کو منظور ہوئی۔ 12 دسمبر 2024 کو ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی، اور ٹرائل تقریباً ایک سال جاری رہا، جس میں 21 گواہان پیش ہوئے اور 18 گواہان کے بیانات قلمبند کیے گئے۔ اہم گواہان میں سابق ملٹری سیکرٹری بریگیڈئیر (ر) محمد احمد، پرائیویٹ اپریزر صہیب عباسی اور سابق پرنسپل سیکرٹری انعام اللہ شامل تھے، جبکہ چار گواہان کو ایف آئی اے نے ترک کر دیا۔

    عمران خان اور بشریٰ بی بی پر الزام ہے کہ انہوں نے 2021 میں سعودی ولی عہد سے بلغاری جیولری سیٹ وصول کی، جس کی کل مالیت 7 کروڑ 15 لاکھ روپے سے زائد تھی، لیکن انہوں نے اسے توشہ خانہ میں جمع نہیں کروایا اور پرائیویٹ اپریزر اور کسٹم حکام کے ذریعے اس کی قیمت کم ظاہر کرائی۔ پرائیویٹ اپریزر صہیب عباس کے مطابق درخواست گزار کے پرائیویٹ سیکرٹری انعام شاہ نے کم قیمت ظاہر کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔ اس کیس کی 80 سے زائد سماعتیں اڈیالہ جیل میں ہوئیں، جبکہ وفاقی پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی، بیرسٹر عمیر مجید ملک، بلال بٹ اور شاہویز گیلانی نے کیس کی پیروی کی۔ ملزمان کے وکلاء میں ارشد تبریز، قوثین فیصل مفتی اور بیرسٹر سلمان صفدر شامل تھے۔

    عدالت نے فیصلے میں کہا کہ استغاثہ نے ٹھوس اور قابل اعتبار شواہد پیش کیے، جن کی بنیاد پر دونوں ملزمان کو مجرم قرار دیا گیا۔ عدالت نے سزا سناتے وقت عمران خان کی عمر اور بشریٰ بی بی کے خاتون ہونے کے پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے نسبتاً نرم رویہ اختیار کیا۔ دونوں کو سیکشن 382-B ضابطہ فوجداری کے تحت رعایت دی گئی اور فیصلے کی نقول مفت فراہم کرنے کا حکم دیا گیا۔ یہ فیصلہ ملکی سیاست اور عدالتی تاریخ میں ایک سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، اور توشہ خانہ ٹو کیس کے ذریعے پاکستان میں کرپشن کے خلاف عدالتی کارروائی کی مثال قائم ہوئی ہے۔

  • 9مئی،پی ٹی آئی رہنماؤں کو سزائیں، ریاستی رٹ کی بحالی کی طرف اٹھایا جانے والا اہم قدم

    9مئی،پی ٹی آئی رہنماؤں کو سزائیں، ریاستی رٹ کی بحالی کی طرف اٹھایا جانے والا اہم قدم

    لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کی طرف سے 9 مئی کو کلب چوک جی او آر گیٹ پر حملے کے جرم میں تحریک انصاف کے عمر چیمہ، اعجاز چودھری، میاں محمود الرشید اور یاسمین راشد کو دس دس سال قید کی سزائیں سنا دی گئیں۔

    ۹ مئی کےواقعات میں سزائیں عوام کو اشتعال دلانے اور سرکاری املاک پر حملے کیلئے اکسانے جیسے جرائم ثابت ہونے پہ دی گئیں،لاہور کی مقامی قیادت کو دی گئی سزائیں پس پردہ سہولت کاروں اور اشتعال انگیز قیادت کے خلاف کارروائی کا اشارہ ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے 7 مئی 2024 کو پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ 9 مئی کا مقدمہ پوری قوم کا مقدمہ ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر نے امید ظاہر کی کہ اس میں ملوث تمام سہولت کاروں اور اشتعال انگیز عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق اس سطح کی قیادت کو ملنے والی سزاؤں کے بعد بانی پی ٹی آئی بھی ایسے مقدمات کا سامنا کر سکتے ہیں، کیونکہ پارٹی کے متعدد رہنماؤں نے انکے ملوث ہونے کے بارے میں بیانات موجود ہیں،پارٹی قیادت کو دی جانے والی سزائیں ریاستی رٹ کی بحالی کی طرف اٹھایا جانے والا ایک اہم قدم ہے ،فیض حمید کے فیصلے کے بعد سیاسی تجزیہ نگار بانی پی ٹی آئی اورفیض حمید کے ان واقعات پیچھے باہمی گٹھ جوڑ کا ذکر بھی کر چکے ہیں،تجزیہ کاروں کے مطاق آئی ایس پی آر کی فیض حمید کے فیصلے پر پریس ریلیز میں سیاسی گٹھ جوڑ سے مراد بانی پی ٹی آئی ہو سکتے ہیں ،تجزیہ نگاروں کے مطابق آنے والے دنوں میں مزید فیصلے بھی متوقع ہیں۔

  • اپووا کا اجلاس،ادبی سرگرمیوں ،ملک یعقوب اعوان کی کتاب کی تقریب رونمائی پر مشاورت

    اپووا کا اجلاس،ادبی سرگرمیوں ،ملک یعقوب اعوان کی کتاب کی تقریب رونمائی پر مشاورت

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کا ایک اہم اور اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایسوسی ایشن کے بانی اپووا ایم ایم علی ، سینئر نائب صدر حافظ محمد زاہد اور نائب صدور محمد اسلم سیال اور سفیان علی فاروقی نے شرکت کی۔

    اجلاس کا مقصد تنظیمی امور، آئندہ ادبی سرگرمیوں اور مستقبل کی منصوبہ بندی کا جائزہ لینا تھا۔ اس موقع پر تین جنوری کو منعقد ہونے والی ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین کی کتاب کی باوقار تقریبِ رونمائی کے حوالے سے تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا اور انتظامی امور پر مشاورت کی گئی۔مزید برآں اپووا کے زیرِ اہتمام ہونے والی دیگر آئندہ ادبی و فلاحی تقریبات کے حوالے سے بھی مختلف تجاویز زیرِ غور آئیں۔ اجلاس میں خاص طور پر سال2026 میں تنظیمی ڈھانچے کو مزید مؤثر بنانے کے لیے نئے عہدیداران کی تعیناتی کے عمل پر جامع اور سنجیدہ گفتگو کی گئی، تاکہ ایسوسی ایشن کے مقاصد کو بہتر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔ اجلاس اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ اپووا ادبی خدمت اور قلم کاروں کی فلاح و بہبود کے لیے اپنی کاوشیں مزید تیز کرے گا۔ان شاءاللہ

  • خصوصی بچوں کا ہاتھ تھامنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری  ہے، وزیراعظم

    خصوصی بچوں کا ہاتھ تھامنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے، وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی دارالحکومت میں خصوصی بچوں کی بحالی سے متعلق آٹزم سینٹر آف ایکسیلنس کا سنگ بنیاد رکھ دیا ۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہا ہے کہ خصوصی بچوں کی تعلیم و تربیت اور انہیں ہنر سے آراستہ کر کے معاشرے کا فعال شہری بنانا ضروری ہے،خصوصی بچوں کا ہاتھ تھامنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے، حکومت کا فرض ہے کہ خصوصی بچوں کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے خصوصی بچوں کی بحالی سے متعلق آٹزم سینٹر آف ایکسیلنس کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ خصوصی بچوں کی خدمت کے لئے کئی ادارے دہائیوں سے کام کر رہے ہیں ،آٹزم کے لئے سینٹر آف ایکسیلنس کا یہاں سنگ بنیاد رکھا گیا ہے ،دو سال میں یہ ادارہ مکمل ہو گا لیکن میں نے ہدایت کی ہے کہ دو سال کی بجائے ایک سال میں یہ مکمل ہونا چاہئے، اس سلسلہ میں وفاقی وزیر تعلیم اور سیکرٹری تعلیم نے یقین دہانی کرائی ہے کہ یہ ادارہ ایک سال میں مکمل ہو جائے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ اگر ایک بچہ کسی ایک صلاحیت سے محروم ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بے پناہ دوسری صلاحیتوں حکمت ، بصیرت اور قابلیت سے نوازتا ہے، خصوصی بچے قوم کے بچے ہیں، حکومت کا فرض ہے کہ ان کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لا کر انہیں معاشرے میں اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کے قابل بنائے، ان کیلئے بہترین تربیتی مراکز، اساتذہ، جدید آلات اور ٹیکنالوجی کا انتظام کرے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج جن خصوصی بچوں نے یہاں پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے وہ کسی بھی عام بچوں کی صلاحیتوں سے کم نہیں ہیں، انہوں نے یہاں پر پورے ملک کیلئے محبت، یکجہتی اور ایثار کے پھول بکھیرے ہیں، بچوں نے جس کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے وہ لائق تحسین ہے، چیئرمین بیت المال کو بھی اس سلسلہ میں اپنے ادارہ کی طرف سے تعاون کرنا چاہئے، اس کے علاوہ بھی جو اس کارخیر میں حصہ لے گا اسے دنیا و آخرت میں اس کا اجر ملے گا، خصوصی بچوں کا ہاتھ پکڑنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے، خاص طور پر بچوں تربیت کیلئے کاوشیں کرنے والے والدین کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کیونکہ وہ چیلنجوں کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔ اس موقع پر وزیراعظم نے خصوصی بچوں کی آمدورفت کیلئے ادارہ کیلئے 15 کوچز کی فراہمی کا بھی اعلان کیا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ 15 کوچز گرانٹ کے طور پر دی ہیں تاکہ سرخ فیتے کی رکاوٹ نہ ہو۔

    اس موقع پر وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ آج ہم قومی ارادے کو قومی ادارے میں تبدیل کر رہے ہیں ،حکومت خصوصی بچوں کی تعلیم و تربیت اور معاشی شمولیت یقینی بنانے کے لئے جامع اقدامات کر رہی ہے، اللہ کسی بھی شخص کو معذوری کے ساتھ طاقت اورصلاحیت بھی دیتا ہے، جن کو قوم بوجھ سمجھتی ہے ہمارا یہ ادارہ ان کو باصلاحیت بناتا ہے۔

    آٹزم ایکسپرٹ عائشہ ہارون نے کہا کہ آٹزم کے شکار بچوں کی خدمت کرتے ہوئے مجھے 15 سال ہو گئے ہیں،اولاد دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہے،ایسے تعلیمی ادارے اور سہولیات بہت کم ہیں جہاں ان کی خصوصی ضروریات کو پورا کیا جائے،میرا بچہ آٹزم کا شکار ہوا جس سے میری زندگی کا رخ بدل گیا،2009ء میں اللہ تعالیٰ نے ان بے زبان بچوں کی مجھے آواز بنایا ،برطانیہ میں خصوصی بچوں کے ادارے سے سیکھنے کا موقع ملا،اس وقت ہمارے پاس 55 سٹاف ارکان ہیں ،وطن واپسی پر 2009ء میں خصوصی بچوں کے لئے اوئیسس سکول قائم کیاجہاں ایک ہی چھت کے نیچے تمام سہولیات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سکول میں بین الاقوامی معیار کے مطابق خصوصی بچوں کو تعلیم فراہم کی جا رہی ہے ، ہمارا خواب اوئیسس سکول کو کالج اور ماڈل سٹی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس سکول کی بنیاد خوشی، خود مختاری اور تحفظ کی بنیاد پر رکھی گئی ہے ،ہمارے ادارے میں 70 سے زائد بچوں کو مختلف سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

    تقریب میں خصوصی بچوں نے قومی ترانہ پڑھ کر وطن سے والہانہ محبت کا اظہار کیا اور اپنے فن کا بھرپور مظاہرہ کرنے کے علاوہ ٹیبلوز پیش کئے۔وزیراعظم نے بھرپور دادی۔وزیراعظم نے خصوصی بچوں سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ شفقت کا اظہار کیا۔

  • جدہ ٹاور، دنیا کی بلند ترین عمارت بننے کےقریب

    جدہ ٹاور، دنیا کی بلند ترین عمارت بننے کےقریب

    جدہ: سعودی عرب کا مشہور جدہ ٹاور، جو دنیا کی بلند ترین عمارت بننے کے لیے تیار ہے، جنوری 2025 میں دوبارہ تعمیر شروع ہونے کے بعد تقریباً 80 منزلوں تک پہنچ گیا ہے۔ ٹاور کی تعمیر انتہائی تیزی سے جاری ہے اور ہر 3 سے 4 دن میں ایک نیا فلور شامل کیا جا رہا ہے۔ گلف نیوز کے مطابق یہ عمارت 2028 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔

    یہ اسکائی سکریپر برج خلیفہ سے تقریباً 172 سے 180 میٹر بلند ہوگا، جس کی موجودہ اونچائی 828 میٹر ہے۔ پہلے اسے کنگڈم ٹاور کہا جاتا تھا، اور اب یہ سعودی عرب کی کوشش ہے کہ دنیا کی بلند ترین عمارت کا اعزاز دبئی کے برج خلیفہ سے حاصل کرے۔ مکمل ہونے کے بعد یہ دنیا کی پہلی عمارت ہوگی جو ایک کلومیٹر کی اونچائی تک پہنچے گی۔جدہ ٹاور جدہ اکنامک سٹی میں واقع ہوگا اور 160 سے زائد منزلوں پر مشتمل ہوگا۔ اس میں فور سیزنز ہوٹل، لگژری رہائشیں، سروسڈ اپارٹمنٹس اور اعلیٰ معیار کے دفاتر شامل ہوں گے۔ سب سے متوقع خصوصیات میں ایک آسمانی مشاہداتی ڈیک شامل ہے، جو ریڈ سی اور شہر کے شاندار مناظر پیش کرے گا۔جدید انجینئرنگ اور فن تعمیر کا ایک شاندار شاہکار، برج خلیفہ اس وقت کئی عالمی ریکارڈز رکھتا ہے، جن میں بلند ترین عمارت، بلند ترین آزاد کھڑی ساخت، اور بلند ترین زیر استعمال فلور شامل ہیں۔ اس میں 163 منزلیں ہیں، اور مشاہداتی ڈیکس 124، 125، اور 148 ویں منزلوں پر ہیں، جو دبئی کے حیرت انگیز مناظر پیش کرتے ہیں۔ زائرین 122 ویں منزل پر دنیا کے بلند ترین ریسٹورنٹ، At.mosphere میں عمدہ کھانے کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔ عمارت کے بیرونی حصے میں 26,000 سے زائد شیشے کے پینلز ہیں، جن کا ڈیزائن دبئی کی شدید گرمی برداشت کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔برج خلیفہ کی تعمیر 2004 میں شروع ہوئی اور تقریباً چھ سال میں مکمل ہوئی، جس میں 12,000 سے زائد مزدور اور انجینئر شامل تھے۔ اس منصوبے کی لاگت تقریباً 1.5 بلین ڈالر تھی، جو اسے تاریخ کی سب سے مہنگی عمارتوں میں سے ایک بناتی ہے۔

    اس عمارت کا ڈیزائن ایڈریان اسمتھ نے کیا ہے، جنہوں نے برج خلیفہ کا بھی ڈیزائن کیا تھا۔ ٹاور میں جدید توانائی بچانے والے نظام اور صحرائی ماحول کے مطابق کولنگ سسٹمز بھی موجود ہوں گے، جبکہ ہائی-اسپیڈ لفٹیں 10 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے اوپر نیچے جائیں گی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جدہ ٹاور نہ صرف سعودی عرب کے وژن 2030 کا حصہ ہے بلکہ یہ دنیا کے تعمیراتی معیار اور انجینئرنگ کی دنیا میں ایک نیا سنگ میل قائم کرے گا۔

  • چار جوانوں کی شہادت،افغان ڈپٹی ہیڈ آف مشن کی دفترخارجہ طلبی

    چار جوانوں کی شہادت،افغان ڈپٹی ہیڈ آف مشن کی دفترخارجہ طلبی

    پاکستان کی جانب سے افغان سرزمین سے خوارج کے حملے میں 4 پاکستانی فوجیوں کی شہادت پر افغان ڈپٹی ہیڈ آف مشن کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا۔

    دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق افغان ڈپٹی ہیڈ آف مشن کو دفتر خارجہ طلب کرکے باضابطہ ڈی مارش دیا گیا، پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان طالبان فتنہ الخوارج اور ٹی ٹی پی کی معاونت کررہے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے افغانستان میں دہشت گردوں کو حاصل محفوظ پناہ گاہوں پرتشویش کا اظہار کیا گیا ہے،پاکستان نے افغان سرزمین سے دہشتگردی پر مکمل تحقیقات اور کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ افغان طالبان تمام دہشتگرد گروہوں کے خلاف فوری اورقابل تصدیق اقدامات کریں، پاکستان اپنی خود مختاری کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے.

    وفاقی وزیر علیم خان سے شدید تلخ کلامی،وجہ کیا بنی،پلوشہ کی زبانی

    ویڈیو:بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے زبردستی خاتون کا نقاب کھینچنے پر اسلام آباد میں احتجاج