Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • خصوصی بچوں کا ہاتھ تھامنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری  ہے، وزیراعظم

    خصوصی بچوں کا ہاتھ تھامنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے، وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی دارالحکومت میں خصوصی بچوں کی بحالی سے متعلق آٹزم سینٹر آف ایکسیلنس کا سنگ بنیاد رکھ دیا ۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہا ہے کہ خصوصی بچوں کی تعلیم و تربیت اور انہیں ہنر سے آراستہ کر کے معاشرے کا فعال شہری بنانا ضروری ہے،خصوصی بچوں کا ہاتھ تھامنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے، حکومت کا فرض ہے کہ خصوصی بچوں کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے خصوصی بچوں کی بحالی سے متعلق آٹزم سینٹر آف ایکسیلنس کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ خصوصی بچوں کی خدمت کے لئے کئی ادارے دہائیوں سے کام کر رہے ہیں ،آٹزم کے لئے سینٹر آف ایکسیلنس کا یہاں سنگ بنیاد رکھا گیا ہے ،دو سال میں یہ ادارہ مکمل ہو گا لیکن میں نے ہدایت کی ہے کہ دو سال کی بجائے ایک سال میں یہ مکمل ہونا چاہئے، اس سلسلہ میں وفاقی وزیر تعلیم اور سیکرٹری تعلیم نے یقین دہانی کرائی ہے کہ یہ ادارہ ایک سال میں مکمل ہو جائے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ اگر ایک بچہ کسی ایک صلاحیت سے محروم ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بے پناہ دوسری صلاحیتوں حکمت ، بصیرت اور قابلیت سے نوازتا ہے، خصوصی بچے قوم کے بچے ہیں، حکومت کا فرض ہے کہ ان کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لا کر انہیں معاشرے میں اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کے قابل بنائے، ان کیلئے بہترین تربیتی مراکز، اساتذہ، جدید آلات اور ٹیکنالوجی کا انتظام کرے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج جن خصوصی بچوں نے یہاں پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے وہ کسی بھی عام بچوں کی صلاحیتوں سے کم نہیں ہیں، انہوں نے یہاں پر پورے ملک کیلئے محبت، یکجہتی اور ایثار کے پھول بکھیرے ہیں، بچوں نے جس کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے وہ لائق تحسین ہے، چیئرمین بیت المال کو بھی اس سلسلہ میں اپنے ادارہ کی طرف سے تعاون کرنا چاہئے، اس کے علاوہ بھی جو اس کارخیر میں حصہ لے گا اسے دنیا و آخرت میں اس کا اجر ملے گا، خصوصی بچوں کا ہاتھ پکڑنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے، خاص طور پر بچوں تربیت کیلئے کاوشیں کرنے والے والدین کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کیونکہ وہ چیلنجوں کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔ اس موقع پر وزیراعظم نے خصوصی بچوں کی آمدورفت کیلئے ادارہ کیلئے 15 کوچز کی فراہمی کا بھی اعلان کیا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ 15 کوچز گرانٹ کے طور پر دی ہیں تاکہ سرخ فیتے کی رکاوٹ نہ ہو۔

    اس موقع پر وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ آج ہم قومی ارادے کو قومی ادارے میں تبدیل کر رہے ہیں ،حکومت خصوصی بچوں کی تعلیم و تربیت اور معاشی شمولیت یقینی بنانے کے لئے جامع اقدامات کر رہی ہے، اللہ کسی بھی شخص کو معذوری کے ساتھ طاقت اورصلاحیت بھی دیتا ہے، جن کو قوم بوجھ سمجھتی ہے ہمارا یہ ادارہ ان کو باصلاحیت بناتا ہے۔

    آٹزم ایکسپرٹ عائشہ ہارون نے کہا کہ آٹزم کے شکار بچوں کی خدمت کرتے ہوئے مجھے 15 سال ہو گئے ہیں،اولاد دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہے،ایسے تعلیمی ادارے اور سہولیات بہت کم ہیں جہاں ان کی خصوصی ضروریات کو پورا کیا جائے،میرا بچہ آٹزم کا شکار ہوا جس سے میری زندگی کا رخ بدل گیا،2009ء میں اللہ تعالیٰ نے ان بے زبان بچوں کی مجھے آواز بنایا ،برطانیہ میں خصوصی بچوں کے ادارے سے سیکھنے کا موقع ملا،اس وقت ہمارے پاس 55 سٹاف ارکان ہیں ،وطن واپسی پر 2009ء میں خصوصی بچوں کے لئے اوئیسس سکول قائم کیاجہاں ایک ہی چھت کے نیچے تمام سہولیات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سکول میں بین الاقوامی معیار کے مطابق خصوصی بچوں کو تعلیم فراہم کی جا رہی ہے ، ہمارا خواب اوئیسس سکول کو کالج اور ماڈل سٹی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس سکول کی بنیاد خوشی، خود مختاری اور تحفظ کی بنیاد پر رکھی گئی ہے ،ہمارے ادارے میں 70 سے زائد بچوں کو مختلف سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

    تقریب میں خصوصی بچوں نے قومی ترانہ پڑھ کر وطن سے والہانہ محبت کا اظہار کیا اور اپنے فن کا بھرپور مظاہرہ کرنے کے علاوہ ٹیبلوز پیش کئے۔وزیراعظم نے بھرپور دادی۔وزیراعظم نے خصوصی بچوں سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ شفقت کا اظہار کیا۔

  • جدہ ٹاور، دنیا کی بلند ترین عمارت بننے کےقریب

    جدہ ٹاور، دنیا کی بلند ترین عمارت بننے کےقریب

    جدہ: سعودی عرب کا مشہور جدہ ٹاور، جو دنیا کی بلند ترین عمارت بننے کے لیے تیار ہے، جنوری 2025 میں دوبارہ تعمیر شروع ہونے کے بعد تقریباً 80 منزلوں تک پہنچ گیا ہے۔ ٹاور کی تعمیر انتہائی تیزی سے جاری ہے اور ہر 3 سے 4 دن میں ایک نیا فلور شامل کیا جا رہا ہے۔ گلف نیوز کے مطابق یہ عمارت 2028 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔

    یہ اسکائی سکریپر برج خلیفہ سے تقریباً 172 سے 180 میٹر بلند ہوگا، جس کی موجودہ اونچائی 828 میٹر ہے۔ پہلے اسے کنگڈم ٹاور کہا جاتا تھا، اور اب یہ سعودی عرب کی کوشش ہے کہ دنیا کی بلند ترین عمارت کا اعزاز دبئی کے برج خلیفہ سے حاصل کرے۔ مکمل ہونے کے بعد یہ دنیا کی پہلی عمارت ہوگی جو ایک کلومیٹر کی اونچائی تک پہنچے گی۔جدہ ٹاور جدہ اکنامک سٹی میں واقع ہوگا اور 160 سے زائد منزلوں پر مشتمل ہوگا۔ اس میں فور سیزنز ہوٹل، لگژری رہائشیں، سروسڈ اپارٹمنٹس اور اعلیٰ معیار کے دفاتر شامل ہوں گے۔ سب سے متوقع خصوصیات میں ایک آسمانی مشاہداتی ڈیک شامل ہے، جو ریڈ سی اور شہر کے شاندار مناظر پیش کرے گا۔جدید انجینئرنگ اور فن تعمیر کا ایک شاندار شاہکار، برج خلیفہ اس وقت کئی عالمی ریکارڈز رکھتا ہے، جن میں بلند ترین عمارت، بلند ترین آزاد کھڑی ساخت، اور بلند ترین زیر استعمال فلور شامل ہیں۔ اس میں 163 منزلیں ہیں، اور مشاہداتی ڈیکس 124، 125، اور 148 ویں منزلوں پر ہیں، جو دبئی کے حیرت انگیز مناظر پیش کرتے ہیں۔ زائرین 122 ویں منزل پر دنیا کے بلند ترین ریسٹورنٹ، At.mosphere میں عمدہ کھانے کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔ عمارت کے بیرونی حصے میں 26,000 سے زائد شیشے کے پینلز ہیں، جن کا ڈیزائن دبئی کی شدید گرمی برداشت کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔برج خلیفہ کی تعمیر 2004 میں شروع ہوئی اور تقریباً چھ سال میں مکمل ہوئی، جس میں 12,000 سے زائد مزدور اور انجینئر شامل تھے۔ اس منصوبے کی لاگت تقریباً 1.5 بلین ڈالر تھی، جو اسے تاریخ کی سب سے مہنگی عمارتوں میں سے ایک بناتی ہے۔

    اس عمارت کا ڈیزائن ایڈریان اسمتھ نے کیا ہے، جنہوں نے برج خلیفہ کا بھی ڈیزائن کیا تھا۔ ٹاور میں جدید توانائی بچانے والے نظام اور صحرائی ماحول کے مطابق کولنگ سسٹمز بھی موجود ہوں گے، جبکہ ہائی-اسپیڈ لفٹیں 10 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے اوپر نیچے جائیں گی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جدہ ٹاور نہ صرف سعودی عرب کے وژن 2030 کا حصہ ہے بلکہ یہ دنیا کے تعمیراتی معیار اور انجینئرنگ کی دنیا میں ایک نیا سنگ میل قائم کرے گا۔

  • چار جوانوں کی شہادت،افغان ڈپٹی ہیڈ آف مشن کی دفترخارجہ طلبی

    چار جوانوں کی شہادت،افغان ڈپٹی ہیڈ آف مشن کی دفترخارجہ طلبی

    پاکستان کی جانب سے افغان سرزمین سے خوارج کے حملے میں 4 پاکستانی فوجیوں کی شہادت پر افغان ڈپٹی ہیڈ آف مشن کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا۔

    دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق افغان ڈپٹی ہیڈ آف مشن کو دفتر خارجہ طلب کرکے باضابطہ ڈی مارش دیا گیا، پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان طالبان فتنہ الخوارج اور ٹی ٹی پی کی معاونت کررہے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے افغانستان میں دہشت گردوں کو حاصل محفوظ پناہ گاہوں پرتشویش کا اظہار کیا گیا ہے،پاکستان نے افغان سرزمین سے دہشتگردی پر مکمل تحقیقات اور کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ افغان طالبان تمام دہشتگرد گروہوں کے خلاف فوری اورقابل تصدیق اقدامات کریں، پاکستان اپنی خود مختاری کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے.

    وفاقی وزیر علیم خان سے شدید تلخ کلامی،وجہ کیا بنی،پلوشہ کی زبانی

    ویڈیو:بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے زبردستی خاتون کا نقاب کھینچنے پر اسلام آباد میں احتجاج

  • شمالی وزیرستان،بویا میں خوارج کے حملے میں 4 جوان شہید

    شمالی وزیرستان،بویا میں خوارج کے حملے میں 4 جوان شہید

    خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں سکیورٹی فورسز کے کیمپ پر حملے میں 4 خواج ہلاک ہوگئے جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں وطن کے 4 بہادر جوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان بویا میں فتنہ الخوارج نے 19دسمبرکو سکیورٹی فورسز کے کیمپ پر حملہ کیا اور کیمپ کی حفاظتی حصار کو توڑنے کی کوشش کی لیکن سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ناپاک عزائم کو بروقت ناکام بنادیا، حملہ آوروں نے بارود سے بھری گاڑی کو بیرونی حفاظتی دیوار سے ٹکرادیا، بارود سے بھری گاڑی ٹکرانے کے نتیجے میں دیوار گرگئی جس سے قریبی شہری انفرااسٹرکچر اور ایک مسجد کو شدید نقصان پہنچا جبکہ خوارج کی سفاکانہ کارروائی میں شہریوں کے گھروں کو نقصان پہنچا،خوارج کے حملے میں بچوں اورخواتین سمیت 15 بے گناہ شہری زخمی ہوگئے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فورسز نے نہایت بہادری سے دہشتگردوں کا مقابلہ کیا اور بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج کے تمام 4 خوارج کو ہلاک کردیا گیا، خوارج سے فائرنگ کے تبادلے میں وطن کے 4 بہادر جوانوں نے جام شہادت نوش کیا جن میں حوالدارمحمد وقاص، نائیک خان ویز، سپاہی سفیان حیدر اور سپاہی رفعت شامل ہیں۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دہشتگردی کی کارروائیاں افغانستان میں موجودخوارج کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے، دہشتگردوں کی یہ کارروائی افغان طالبان رجیم کے دعوے کی نفی ہے، افغان طالبان رجیم دہشتگرد گروہوں کی عدم موجودگی کا دعویٰ کرتے ہیں، پاکستان افغان طالبان رجیم سے توقع کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، افغان طالبان رجیم خوارج کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہ دے، پاکستان کے عوام کی سلامتی اور تحفظ سب سے مقدم ہے، پاکستان خوارج اوران کے سہولت کاروں کا تعاقب اورخاتمے کا حق رکھتا ہے،

    وفاقی وزیر علیم خان سے شدید تلخ کلامی،وجہ کیا بنی،پلوشہ کی زبانی

    ویڈیو:بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے زبردستی خاتون کا نقاب کھینچنے پر اسلام آباد میں احتجاج

  • ایف سی بلوچستان نارتھ کے زیر اہتمام ضلع نصیر آباد میں گرینڈ جرگہ،گورنر،وزیراعلیٰ کی شرکت

    ایف سی بلوچستان نارتھ کے زیر اہتمام ضلع نصیر آباد میں گرینڈ جرگہ،گورنر،وزیراعلیٰ کی شرکت

    ایف سی بلوچستان نارتھ کے زیر اہتمام ضلع نصیر آباد میں ایک گرینڈ جرگہ منعقد ہوا، جس میں مہمانِ خصوصی گورنر بلوچستان جعفر خان مندو خیل ، وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی، کور کمانڈر 12 کور لیفٹینینٹ جنرل راحت نسیم احمد خان ،آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) میجر جنرل محمد عاطف مجتبٰی،آئی جی پولیس، کمشنر نصیر آباد ڈویژن اور کثیر تعداد میں قبائلی عمائدین نے شرکت کی۔

    جرگے کے دوران علاقے کی سلامتی، ہم آہنگی، قبائلی روابط اور ترقیاتی امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ مقامی قبائل نے پاک فوج ،فرنٹیئر کور بلوچستان نارتھ کی جانب سے امن کے قیام اور بحالی کے لیے کی گئی عملی کوششوں کو سراہا.
    گورنر بلوچستان نے عمائدین سے خطاب میں کہا کہ قبائلی عوام ہمیشہ سے ریاستی اداروں کے مضبوط شراکت دار رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امن کے تسلسل، ترقیاتی منصوبوں کی کامیابی اور نوجوانوں کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہے۔

    وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج اور فرنٹیئر کور خطے میں پائیدار امن، سماجی استحکام اور بنیادی سہولیات کی بہتری کے لیے اپنے تمام وسائل بروئے کار لاتی رہے گی۔ اور علاقے میں امن قائم رکھنے میں قبائلی عمائدین کا کردار نہایت اہم ہے ۔ کمانڈر 12 کور لیفٹینینٹ جنرل راحت نسیم احمد خان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ، بلوچستان کی ترقی و خوشحالی کا راستہ امن و اتحاد سے وابستہ ہے ۔ عوام نے دہشت گردوں کے عزائم کو ناکام بنانا ہے اور ہم سب نے مل کر وطن دشمن عناصر کی سازشوں کو شکست دینی ہے۔

    جرگے کے اختتام پر تمام قبائلی عمائدین نے حکومت بلوچستان ,پاک فوج اور فرنٹیئر کور بلوچستان کی جانب سے امن کے قیام بالخصوص کوہان سروے پروجیکٹ اور این 65 کی سیکیورٹی کو خوش ائند قرار دیا اور اس عزم کو دہرایا کہ وہ علاقائی امن، سماجی اتحاد اور ترقی کے سفر میں ریاستی اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔

  • وفاقی وزیر علیم خان سے شدید تلخ کلامی،وجہ کیا بنی،پلوشہ کی زبانی

    وفاقی وزیر علیم خان سے شدید تلخ کلامی،وجہ کیا بنی،پلوشہ کی زبانی

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پلوشہ خان کمیٹی اجلاس میں تھیں علیم خان وفاقی وزیر بھی تھے وہاں‌جھڑپ ہو گئی،اتنی شدید کہ وہاں سوشل میڈیا پر ویڈیو ڈلنا شروع ہو گئی ،ہم قائدین کی طرف دیکھتے ہیں کہ وہ ہمیں رہنمائی دیں گے لیکن یہ دونوں آپس میں کیوں لڑے، ایک ایسی پارٹی کے ساتھ جس کے اتنے زیادہ ممبر بھی نہیں،کوئی اتنے اختلاف بھی نہیں،تو آج پلوشہ خان نے مجھے جوائن کیا ہے ان سے پوچھیں گے

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر پیپلز پارٹی کی رہنما،سینیٹر پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ کوئی ایسی بات نہیں تھی، بطور رکن پارلیمنٹ ہم کارکردگی، ایشوز پر سوال کرتے ہیں، سوال کرنا ہر ممبر کا حق ہے، پہلا گھنٹہ سوال جواب کا ہوتا ہے اور اس میں وزیر ہی جواب دیتا ہے، میں نے کمیٹی میں سوال ڈالا لیکن جواب نہیں ملا، سوال بھی کئی ماہ قبل ڈالنا پڑتا ہے، سینیٹ کے سوالات وجوابات کے سیشن میں سوال کا جواب نہیں آیا تو میں نے چیئرمین کمیٹی کو کہا کہ اس کو ایجنڈے کا حصہ بنائیں، آج سوال ایجنڈا آئٹم تھا وہ ایک روڈ پر تھا،ایک روڈ تھی ہڈیارہ کے اوپر سے جو ان کی سوسائٹی سے بھی ملتی ہے، میں نے سوال کیا کہ آپکی سوسائٹی کو فائدہ ہے یا نہیں، این ایچ اے نے عوامی پیسہ لگایا،اس پر وفاقی وزیر نے بریفنگ شروع کی اور اپنا بتایا ،انہوں نے گوگل میپ کھولا اور بتایا کہ روڈ کے دس گیارہ کلومیٹر کے بعد میری سوسائٹی آتی ہے، اس پر میرے سمیت کسی نے کوئی مزید سوال نہیں کیا،اسکے بعد انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں کچھ ایسے لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ منسٹری میں ایسے چلاتا ہوں جیسے ہاؤسنگ سوسائٹی ،پھر انہوں نے کہا کہ میری ذات پر سوال کیسے کیا گیا، اس وقت مجھے یاد آیا کہ میرا ایجنڈا آئٹم تھا میں نے کہا کہ میرا حق ہے سوال کرنا اور آپ کا کام ہے جواب دینا، اب پتہ نہیں ان کو کیا مسئلہ تھا وہ بتاتے تو شاید ہم کوئی مدد کر سکتے، لیکن پھر انہوں نے کہا کہ اگر آپ سوال کریں گے تو میں آپ کی ذات پر بات کروں گا جس پر میں نے کہا کہ فورم موجود ہےبولیں ،میں کوئی وزیر نہیں ہوں میرے اوپر اربوں کی کرپشن نہیں ہے، سوال کرنے کا حق میرا آپ وزیر ہیں، اس بات پر وہ تمام حدود پار کر گئے،وزیراعظم کی کابینہ ہے تو وزیراعظم کو بنیادی جمہوری اصول انہیں بتانا چاہئے کہ تمام وزرا پارلیمنٹ کو جواب دہ ہیں، میں نے کبھی ذاتی فیور لی ہوتی،کبھی انکے دفتر گئی ہوتی تو وہ بات کرتے، میں نے عوامی مفاد میں بات کی،میرا کبھی ان سے کوئی اختلاف نہیں ہوا،سمجھ نہیں آئی کہ ایسی صورتحال کیوں بنی.

    وزیراعظم کو تمام وزرا کو تاکید کرنی چاہئے کہ وہ وزرا کو سوالات کا جواب دینے کا پابند بنائیں،پلوشہ خان
    ایک سوال کے جواب میں پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ میں نے سوال کیا این ایچ اے نے روڈ بنائی،آیا اس روڈ سے پارک ویو سوسائٹی کو فائدہ پہنچتا ہے یا نہیں، بس یہی سوال تھا ، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں اگر ہوتا تو مجھے بھی غصہ چڑھتا،میں یہ ضرور کہتا کہ صرف میری سوسائٹی نہیں دو ہزار سوسائٹیوں کو روڈ جا رہی ہے، جس پر پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ وہ بھی کہہ سکتے تھے ،ہر وزیر کو جواب دینا ہوتا ہے، انہوں نے جو بھی کیا وہ بہتر بتا سکتے ہیں لیکن میں سمجھتی ہوں کہ وزیراعظم کو تمام وزرا کو تاکید کرنی چاہئے کہ وہ وزرا کو سوالات کا جواب دینے کا پابند بنائیں، سینیٹ کے اراکین میرے آنے کے بعد آ گئے، علیم خان نے یہ بھی کہا کہ سب بلیک میلر اور بے ایمان لوگ اکٹھے ہو کر سوال کرتے ہو ،جس کے بعد اراکین آ گئے، پارٹی نے بھی میرا ساتھ دیا، شازیہ مری نے مذمت کی، خواتین کا ذاتیات سے سوالوں سے کیا تعلق ہے، یہ ایک ایسی تڑی ہے جو دے کر سمجھیں گے کہ اگلے چپ کر جائیں گے، ہم نے تو سوال کیا کسی نے بلیک میل کیا ہے تو وہ علیم خان ہی بتا سکتے ہیں،وہ خود ہی بتا سکتے ہیں کہ لوگ انکو بلیک میلر کیوں کہتے ہیں،

    این ایچ اے پر سوال کیا،جو میرا حق اور جواب دینا وزیر کا کام ہے،پلوشہ خان
    پلوشہ خان کا مزید کہنا تھا کہ جب انہوں نے بدتمیزی کی تو میرا کام بھی جواب دینا تھا میں نے بھی اونچا بول کر جواب دیا، میں اپر ہاؤس کی ممبر ہوں، دوسری پارٹی کی ممبرہوں ،میں این ایچ اے پر سوال کر رہی تھی، ان کی ذات پر نہیں کر رہی تھی،وہ مجھے روک نہیں سکتے میں کل بھی دس سوال لے کر آجاؤں گی،وزیر کا کام جواب دینا ہے کہ کیا حقیقت ہے کیا نہیں،میں سوسائٹی پر سوال نہیں کر سکتی، کر بھی سکتی ہوں اگر عوامی نوعیت کا ہو، میں نے ان کی سوسائٹی کے ڈوبنے پر سوال نہیں کیا، این ایچ اے کے پیسوں سے بنے روڈ پر سوال کیا وہ بہتر بتا سکتے ہیں،ایک اور بات بتاؤں یہ اس وقت ایجنڈا کا آئٹم تھا،قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کا،پرویز رشید اس دوران خاموش رہے، اسکے بعد معاملے کو سنبھالنے کی کوشش کی اور کہا کہ سوال آیا تو جواب آ گیا،مبشر لقمان صاحب میں آپ سے بھی سوال کر سکتی ہیں آپ عوامی فورم پر ہیں آپ نے یہ والاپروگرام کیا،لیکن میں یہ کہوں کہ جرات کیسے ہوئی،یہ تو نہیں ہو سکتا، سوال کرنا میرا حق،جواب آ گیا، اوکے، میں نے کاؤنٹر سوال بھی نہیں کیا، اسکے باوجود غصے میں آ جانا، یہ کیا ہے،لوگ ہوں گے بلیک میلر ،لیکن ہم ان میں شامل نہیں

    علیم خان آج صرف دوسری بار قائمہ کمیٹی اجلاس میں آئے،پلوشہ خان کا انکشاف
    پلوشہ خان کا مزید کہنا تھا کہ جب روٹین کی میٹنگ ہوتی ہے تو بہت سوال اٹھتے ہیں،وہ آج دوسری بار آئے ہیں صرف، کسی ممبر نے کہا بھی تو انہوں نے کہا کہ جب میں پاکستان میں ہوں تو آ جاتا ہوں، اب آپ یہ دیکھ لیں، قائمہ کمیٹی میں تو بہت سخت سوال ہوتے ہیں، میں خود ایک کمیٹی چیئر کرتی ہوں، ہم ہر ایک چیز ادھیڑ دیتے ہیں لیکن ہمیں جواب ملتا ہے یہ نہیں کہا جاتا کہ ذاتیات آپ کی کھول دیں گے،میری ذاتیات کا این ایچ اے سے کیا تعلق ہے

    عام آدمی اگر کوئی سوال کرے تو اس کے ساتھ کیا ہو گا،وزیر کوجواب تو دینا پڑے گا،پلوشہ خان
    پلوشہ خان کا مزید کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی رپورٹس میں نہیں بناتی ،نہ میرا ہاتھ تھا اب اگر کل میں اٹھاؤں جو کچھ اس میں ہے تو کیا کہا جائے گا کہ میرا حق نہیں،اتنا بھی آسمان نہیں ٹوٹ پڑا کہ سبھی فرعون بن جائیں، وزیر کو جواب دینا پڑے گا، میں سوال کرتی رہوں گی، میں مختلف وزارتوں پر سوال ڈالتی ہوں، سب سوال کرتے ہیں،اگلی میٹنگ میں علیم خان نے نہیں آنا تو نہ آئیں، چیئرمین کمیٹی کا کام ہے کہ اپنےا راکین کی عزت کا لحاظ کریں، میں سینیٹ کی ممبر ہوں، عام آدمی اگر کوئی سوال کرے تو اس کے ساتھ کیا ہو گا، ریاست مدینہ بنانے والوں کے ساتھ بھی تھے تو بتائیں سوال کیوں نہیں ہو سکتا، اصل مدینہ کی ریاست میں تو سوال ہوتے تھے،یہ کوئی اتنا بڑا ذاتیات کا سوال نہیں تھا، این ایچ اے کسی کی ملکیت تھوڑی ہے،ایک حکومتی ادارہ ہے،

    چیخیں، چلائیں،مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا، علیم خان کے لہجے سے نہیں ڈرتی،پلوشہ خان
    پلوشہ خان کا مزید کہنا تھا کہ کرپشن کے حوالہ سے رپورٹس ہیں، باتیں ہیں، ہمارا کام ہے سوال کرنا ،میں سوال نہ کروں، بولوں نہ، گائے بن کر بیٹھ جاؤں تو کیا کروں، آپ چیخیں، چلائیں،مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا، میں علیم خان کے لہجے سے نہیں ڈرتی،میری ذات پر بات کرنی ہے تو فورم موجود ہے، ذات کی دھمکی دینا فضول بات ہے،وہ ایک پارٹی کے ہیڈ ہیں، مجھے پتہ ہوتا کہ انکو کیا مسئلہ ہے تو شاید ان کی مدد کر دیتے، یہ آپ ان سے پوچھیں کیا ایشو ہے.

    ذات کی بات کر کے عورت کو دبا لیں گے ایسا سوچنے والوں کو منہ کی کھانی پڑے گی،پلوشہ خان
    پلوشہ خا ن کا مزید کہنا تھا کہ میں حیران ہوں کہ آج ایسا ہوا اور بھی وزیر ہیں جو سخت سوالات کا جواب بھی دیتے ہیں، آپ کابینہ کے ممبر ہیں، حکومت کے ممبر ہیں،میں جب حکومت میں‌ تھی تو آپ مجھ سے بھی انٹرویو میں سخت سوالات کرتے تھے لیکن میں نے کبھی نہیں کہا کہ جرات کیسے ہوئی، سوال کرنا ہمارا حق ،جواب دینا ان کاکام، اس میں برائی کیاہے،میں نے انکی سوسائٹی کا جو نقصان ہوا اس پر تو سوال نہیں کیا،مجھے علم نہیں تھا کہ ایسا ہو گا ورنہ میں آج کی میٹنگ میں نہ آتی، میں کسی سے نہیں ڈرتی سوائے اللہ کے ذات کے، چیخنا چلانا،یہ ڈرانا ہی ہوتا ہے، ذات کی بات کر کے عورت کو دبا لیں گے ایسا سوچنے والوں کو منہ کی کھانی پڑے گی،انہوں نے کہا کہ مجھ سے سوال کریں گی تو چار انگلیاں آپ کی طرف ہیں میں نے کہا میں کوئی وزیر ہوں یہ چار انگلیاں بھی وزیر کی طرف جاتی ہیں، میں کسی ادارے کو ہیڈ نہیں کرتی نہ میں وزیر ہوں تو میں کس بات کا جواب دوں،صرف اس بات کا کہ میں نے سوال سینیٹ میں ڈال دیا،اب وہ بہتر بتا سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو ناگوار گزری، میں ہرروز تو نہیں لیکن کبھی کبھار سوال ڈالتی ہوں، محسن نقوی سے کئی بار سوال کر چکی ہوں انہوں نے تو کبھی نہیں کیا کہ جرات کیوں کی،کبھی کسی وزیر نے ایسی بات نہیں کی ،سب جواب دیتے ہیں لیکن یہ بدتمیزی…اگلے کو بھی فورس کریں کہ وہ جواب دے،میرا ان سے کبھی بھی کوئی اختلاف نہیں رہا.ان کا ذاتی مسئلہ،کوئی دباؤ ہو سکتا ہے،

    علیم خان پارٹی ہیڈ،کیا انکی پارٹی میں لوگ سوال نہیں کر سکتے؟پلوشہ خان
    پلوشہ خان کا مزید کہنا تھاکہ میں کمیٹی اجلاس کی تمام ریکارڈنگ بھیج دوں گی،سب سن لیجیے گا،ہماری کمیٹی کی تمام میٹنگز کی ریکارڈنگ ہوتی ہے، پھر دیکھیے گا کہ کس نے بدتمیزی کی، چار انگلیاں میری طرف اٹھتی ہیں یا نہیں،میری کئی وزیروں کے ساتھ بات ہوئی کسی بھی وزیر کا رویہ ایسا نہیں رہا،یہ تو پارٹی کے ہیڈ بھی ہیں، کیا ان کی پارٹی میں لوگ سوال نہیں کر سکتے، اچھی پارٹی ہے، میں خود حیران ہوں بحرحال میری ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں،انہوں نے اپنے طور پر بدتمیزی کی یہ بدتمیزی اگر سمجھتے ہیں کہ مجھے دبا لے گی یا میں ڈر جاؤں گی تو سب کو پتہ ہے میں ڈرتی ورتی نہیں ہوں.

  • نچلی سطح پر مضبوط اور خودمختار بلدیاتی نظام قائم کرنا ہوگا،فاروق ستار

    نچلی سطح پر مضبوط اور خودمختار بلدیاتی نظام قائم کرنا ہوگا،فاروق ستار

    ایم کیو ایم پاکستان کے مرکزی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ جب تک قانون میں میئر کے اختیارات اور کردار کو واضح طور پر متعین نہیں کیا جاتا، اس وقت تک کمیونٹی پولیسنگ کا نظام مؤثر اور نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکتا۔

    کراچی ایکسپو سینٹر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ملک میں امن و امان کی بہتری، شہری مسائل کے حل اور عوامی سطح پر قانون نافذ کرنے کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے مقامی حکومتوں کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ میئر اور بلدیاتی نمائندوں کو واضح قانونی اختیارات دیے بغیر کسی بھی اصلاحاتی ماڈل کی کامیابی ممکن نہیں۔ڈاکٹر فاروق ستار نے 28ویں آئینی ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس ترمیم کے ذریعے ملک میں نئے انتظامی یونٹس بنانے سے متعلق فیصلے ہونے چاہئیں، کیونکہ موجودہ آبادی اور شہری پھیلاؤ کے پیشِ نظر بڑے صوبے اب انتظامی بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی آبادی، شہری مسائل اور انتظامی پیچیدگیوں نے ثابت کر دیا ہے کہ موجودہ نظام ناکافی ہو چکا ہے۔

    ویڈیو:بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے زبردستی خاتون کا نقاب کھینچنے پر اسلام آباد میں احتجاج

    ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ بہتر حکمرانی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور عوام کو ان کی دہلیز پر سہولیات فراہم کرنے کے لیے نئے انتظامی یونٹس کا قیام وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں مؤثر طرزِ حکمرانی کے لیے انتظامی اکائیوں کو آبادی اور جغرافیے کے مطابق منظم کیا جاتا ہے، جبکہ پاکستان میں اس اصول کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ڈاکٹر فاروق ستار نے مطالبہ کیا کہ ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے پیش کردہ آئینی ترمیمی بل، جو آرٹیکل 148 سے متعلق ہے، کو 28ویں آئینی ترمیم کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے۔ ان کے مطابق اس بل کا مقصد وفاق، صوبوں اور مقامی حکومتوں کے درمیان اختیارات اور ذمہ داریوں کو واضح کرنا ہے تاکہ انتظامی خلاء ختم ہو سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ مقامی حکومتوں کو اختیارات اور وسائل دیے بغیر نہ تو امن و امان کی صورتحال بہتر بنائی جا سکتی ہے اور نہ ہی شہری مسائل کا پائیدار حل ممکن ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ اگر حکومت واقعی عوامی مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہے تو اسے نچلی سطح پر مضبوط اور خودمختار بلدیاتی نظام قائم کرنا ہوگا۔

  • محنتی اور باکردار نوجوان ہی مضبوط پاکستان کی ضمانت ہیں،ڈاکٹر سبیل اکرام

    محنتی اور باکردار نوجوان ہی مضبوط پاکستان کی ضمانت ہیں،ڈاکٹر سبیل اکرام

    معروف سیاسی و سماجی رہنما ڈاکٹر سبیل اکرام نے آج یہاں نوجوانوں کے مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں اور انہی کے کردار، سوچ اور عمل سے ملک و قوم کا مستقبل تشکیل پاتا ہے۔ باشعور، محنتی اور باکردار نوجوان ہی مضبوط پاکستان کی ضمانت ہے، اس لیے نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کو مثبت سمت میں بروئے کار لانا ہوگا۔ نوجوان کامیابی کے حصول کے لیے محنت، سچائی اور صداقت کو اپنا شعار بنائیں، کیونکہ یہی وہ بنیادی اقدار ہیں جو انسان کو عزت، وقار اور مستقل کامیابی سے ہمکنار کرتی ہیں۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ جن قوموں کے نوجوان دیانت داری، اخلاص اور اصول پسندی کے راستے پر چلتے ہیں، وہی قومیں ترقی کی منازل طے کرتی ہیں۔موجودہ دور میں نوجوانوں کو تعلیمی، معاشی اور سماجی سطح پر مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم اگر نوجوان مضبوط کردار، مثبت سوچ اور مسلسل جدوجہد کو اپنا لیں تو کوئی رکاوٹ ان کے راستے میں حائل نہیں ہو سکتی۔ صرف ڈگری حاصل کرنا ہی کامیابی کی ضمانت نہیں بلکہ عملی زندگی میں اخلاقیات، ذمہ داری اور پیشہ ورانہ دیانت کا مظاہرہ کرنا اصل کامیابی ہے۔انہوں نے نوجوانوں کو تلقین کی کہ وہ وقتی مفادات، منفی رجحانات اور غیر تعمیری سرگرمیوں سے دور رہیں اور اپنی توانائیاں تعلیم، تحقیق، ہنر سیکھنے اور خدمتِ خلق میں صرف کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک باشعور نوجوان نہ صرف اپنی ذات بلکہ پورے معاشرے کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    ڈاکٹر سبیل اکرام نے سوشل میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان ان ذرائع کا مثبت اور بامقصد استعمال کریں اور انہیں علم، آگہی اور کردار سازی کا ذریعہ بنائیں، نہ کہ وقت کے ضیاع یا منفی پروپیگنڈے کا۔ انہوں نے کہا کہ قومیں اسی وقت ترقی کرتی ہیں جب ان کے نوجوان مقصدِ حیات کو پہچان کر آگے بڑھتے ہیں۔آخر میں ڈاکٹر سبیل اکرام نے کہا کہ انہیں پاکستان کے نوجوانوں پر مکمل اعتماد ہے اور اگر یہ نسل محنت، سچائی اور دیانت کو اپنا شعار بنا لے تو پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہونے سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔

  • ڈاکٹر عمران فاروق کی بیوہ شمائلہ عمران فاروق لندن میں چل بسیں

    ڈاکٹر عمران فاروق کی بیوہ شمائلہ عمران فاروق لندن میں چل بسیں

    متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی مقتول رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کی بیوہ شمائلہ عمران فاروق لندن میں وفات پا گئیں

    ایم کیو ایم ذرائع کا کہنا ہے کہ شمائلہ عمران فاروق کینسر کے باعث لندن کے اسپتال میں زیرِ علاج تھیں ،ایم کیو ایم کی جانب سےجاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ہم انتہائی افسوس کے ساتھ تحریک کے تمام کارکنان اورعوام کویہ خبردے رہے ہیں کہ شہید انقلاب ڈاکٹرعمران فاروق شہید کی بیوہ شمائلہ عمران فاروق طویل علالت کے بعد آج مورخہ 19دسمبر2025ء بروز جمعہ انتقال فرما گئی ہیں۔ اناللہ واناالیہ راجعون۔شمائلہ عمران کینسر کے مرض کے باعث بہت علیل تھیں اوروہ لندن کے مقامی اسپتال میں زیرعلاج تھیں جہاں ان کاانتقا ل ہوگیا۔ ہم تمام اراکین رابطہ کمیٹی متحدہ قومی موومنٹ شمائلہ عمران کے انتقال پر ان کے صاحبزادوں عالی شان فاروق، وجدان فاروق اورتمام اہل خانہ سے انتہائی دکھ اور تعزیت کااظہارکرتے ہیں۔

    ایم کیو ایم کے رہنما فیصل سبزواری نے ایکس پر لکھا کہ خدا شمائلہ عمران باجی کی مغفرت فرمائے اور دونوں صاحبزادوں کو یہ صدمہء عظیم سہنے کی ہمت دے۔ ڈاکٹر عمران فاروق بھائی کی شہادت کے بعد یہ گھرانا روز نئے صدمے سہتا رہا، کاش مجھ سمیت پوری تنظیم ان کے دکھوں کو کچھ کم کرنے کے لیے کارآمد ثابت ہو پاتی۔ ۲۰۱۶-۱۷ میں ان سے آخری ملاقات میں جو کرب دیکھا تھا وہ وقت کے ساتھ ناقابل بیان ہوتا رہا۔