Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سیاسی مذاکرات اور ملاقاتیں جمہوری عمل کا حصہ ہیں،بیرسٹر گوہر

    سیاسی مذاکرات اور ملاقاتیں جمہوری عمل کا حصہ ہیں،بیرسٹر گوہر

    لاہور: اپوزیشن جماعتوں نے مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم کی بھرپور مخالفت کا اعلان کردیا ہے، جبکہ چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ یہ ترمیم صوبائی خودمختاری پر حملہ ہے اور اس کی ہر سطح پر مزاحمت کی جائے گی۔

    لاہور ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ابھی تک ترمیم کا مسودہ سامنے نہیں آیا، لیکن اطلاعات کے مطابق اس کے ذریعے صوبوں کے اختیارات کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو کہ وفاقی اکائیوں کے درمیان توازن کو متاثر کرے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ “ہم صوبائی خودمختاری کے اصول پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ یہ آئین کا بنیادی ڈھانچہ ہے جسے چھیڑنا ملکی یکجہتی کے لیے نقصان دہ ہوگا۔” سیاسی مذاکرات اور ملاقاتیں جمہوری عمل کا حصہ ہیں، اگر کسی کی شاہ محمود قریشی سے ملاقات ہوئی ہے تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔ جب سیاست دان ملتے ہیں تو یقیناً بات ایوان اور ملک کے مفاد میں ہی ہوتی ہے بیرسٹر گوہر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ترمیمی بل کا اصل مسودہ عوام اور سیاسی جماعتوں کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ شفاف بحث ممکن ہو سکے۔

  • 27 وین آئینی ترمیم، وزیراعظم سے چوہدری سالک حسین،علیم خان کی ملاقات

    27 وین آئینی ترمیم، وزیراعظم سے چوہدری سالک حسین،علیم خان کی ملاقات

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے وفاقی وزیر برائے سمندر پار مقیم پاکستانی، چوہدری سالک حسین کی قیادت میں مسلم لیگ ق کے چار رکنی وفد کی ملاقات ہوئی ہے

    وفد میں سینیٹر کامل علی آغا اور ارکان قومی اسمبلی چوہدری محمد الیاس اور فرخ خان شامل تھے.اجلاس میں مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم پر گفتگو اور مشاورت ہوئی،اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیرِ پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری اور مشیرِ وزیرِ اعظم رانا ثناء اللہ بھی شریک تھے۔

    قبل ازیں وزیراعظم محمد شہباز شریف سے استحکام پاکستان پارٹی کے صدر اور وفاقی وزیر مواصلات عبد العلیم خان اور وزیر مملکت برائے سمندر پار مقیم پاکستانی، عون چوہدری کی ملاقات ہوئی ہے،اجلاس میں مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم پر گفتگو اور مشاورت ہوئی

  • یہ لاہور ہے.. ڈی ایس پی  کی اہلیہ اور بیٹی مبینہ طور پر اغوا

    یہ لاہور ہے.. ڈی ایس پی کی اہلیہ اور بیٹی مبینہ طور پر اغوا

    لاہور پولیس کے شعبہ تفتیش سے وابستہ ڈی ایس پی کاہنہ انویسٹی گیشن محمد عثمان حیدر گجر کی فیملی کو مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق ڈی ایس پی عثمان حیدر گجر کی اہلیہ سمیعہ عثمان اور بیٹی خنسا عثمان کو برکی کے علاقے گرین سٹی سوسائٹی سے اغوا کیا گیا۔ اس واقعے نے پولیس اور عوامی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔

    ذرائع کے مطابق ڈی ایس پی عثمان حیدر نے پولیس کو دی گئی تحریری درخواست میں بتایا کہ وہ سرکاری ملازمت کے باعث 27 ستمبر 2025 کو رات گئے گھر پہنچے تو گھر کے دروازے پر تالا لگا ہوا تھا۔ جب انہوں نے اپنی اہلیہ اور بیٹی کے موبائل فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کی تو دونوں کے فون بند تھے۔ انہوں نے علاقے میں موجود ہمسایوں اور اپنے سسرالی رشتہ داروں سے بھی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی مگر دونوں خواتین کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ڈی ایس پی عثمان حیدر نے اپنی درخواست میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان کی اہلیہ اور بیٹی کو کسی نے اغوا کر لیا ہے۔ان کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ نمبر 1127/25 بجرم دفعہ 365 تعزیراتِ پاکستان (اغوا) درج کر لیا گیا ہے۔

    ابتدائی اطلاع کے مطابق مقدمہ تھانہ برکی لاہور میں 18 اکتوبر 2025 کو رات 11 بج کر 40 منٹ پر درج کیا گیا۔ مقدمہ اے ایس آئی کامران نے تحریر کیا جبکہ ابتدائی تفتیش اے ایس آئی صابر علی کے سپرد کی گئی۔پولیس کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وقوعہ کا وقت 27 ستمبر 2025 کی رات کا ہے، یعنی واقعے کے بعد سے اب تک تاحال مغوی خواتین کا سراغ نہیں لگایا جا سکا۔

    پولیس فارم نمبر 24-5(1) کے مطابق جائے وقوعہ گرین سٹی سوسائٹی سے تقریباً 7 کلومیٹر شمال مغرب میں ہے۔رپورٹ میں درج تفصیلات کے مطابق مقدمہ اندراج کے بعد کیس کی تفتیش انویسٹیگیشن ونگ کے حوالے کر دی گئی ہے تاکہ جلد از جلد مغوی ماں بیٹی کو بازیاب کرایا جا سکے۔

    پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز اور موبائل ڈیٹا حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جب کہ علاقے کے تمام داخلی و خارجی راستوں کی نگرانی سخت کر دی گئی ہے۔ادھر شہریوں نے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اعلیٰ حکام فوری طور پر مغوی خواتین کی بازیابی کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دیں اور ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔پولیس ترجمان کے مطابق واقعے کی تحقیقات تمام پہلوؤں سے جاری ہیں اور جلد پیش رفت متوقع ہے۔

  • سائبر کرائم،سینیٹر بھی فراڈیوں کے ہاتھوں لٹ گئے،کہانی بتا دی

    سائبر کرائم،سینیٹر بھی فراڈیوں کے ہاتھوں لٹ گئے،کہانی بتا دی

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں چار چار سینیڑز کے فراڈیوں کے ہاتھوں لٹنے کا انکشاف ہوا ہے۔سینیٹرز اپنے ساتھ ہونے والے فراڈز پر پھٹ پڑے۔ سینیٹر بلال خان مندوخیل، سینیٹر سیف اللہ ابڑو، سینیٹر دلاور خان اور سینیٹر فلک ناز چترالی کے ساتھ فراڈ ہونے کا انکشاف ہوا۔

    سیینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں این سی سی آئی اے کے کرپشن کے معاملات بھی پہنچ گئے۔این سی سی آئی کے افسران کے معاملات پر ایجنڈا ان کیمرا کیا گیا، ان کیمرا ایجنڈے میں پاکستانی شہریوں کا ڈیٹا آن لائن فروخت کرنے کا معاملہ بھی شامل تھا،اجلاس کی سربراہی چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل سلیم رحمانی نے کی۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل سلیم نے بتایا کہ مجھے بھی فراڈیوں کی کال آئی، ہیکرز نے مختلف اراکین پارلیمنٹ کو آن لائن فراڈ کے ذریعے لاکھوں روپے کا چونا لگایا،سینیٹر سیف اللہ ابڑو کے مطابق ہیکرز کا یہ گروہ صرف پانچ یا ساڑھے پانچ لاکھ روپے کی ڈیمانڈ کرتا ہے، ہیکرز ٹیلی فون کالز کے ذریعے سینیٹرز کو مکمل ڈیٹا بتا کر لاکھوں روپے کا چونا لگا گئے،سینیٹر دلاور خان سے ساڑھے 8لاکھ روپے لوٹ لیے گئے جبکہ سینیٹرز فلک ناز چترالی سے دو قسطوں میں ہیکرز پانچ لاکھ کا فراڈ کر گئے،خاتون سینیٹر کو فیصل نام کے بندے نے کال کرکے پیسے بٹورے،سینیٹر فلک ناز چترالی نے انکشاف کیا کہ ہیکرز نے کونسلنگ سینٹر بنانے کے نام پر کال کے ذریعے فراڈ کیا، ہیکرز کے پاس خاندان اور بچوں سے متعلق مکمل ڈیٹا موجود تھا،ممبر سینیٹ داخلہ کمیٹی نے بتایا کہ این سی سی آئی اے میں شکایات کے باوجود کوئی شنوائی نہ ہوئی۔

    ڈی جی این سی سی آئی اے سید خرم علی نے سائبر کرائم افسروں پر رشوت اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات پر بریفنگ دی، بریفنگ میں ڈی جی این سی آئی اے نے بتایا کہ تین ماہ کے اندر نئے لوگ ڈیپارٹمنٹ میں لے کر آئیں گے، جو ضرورت ہوگی اس کے مطابق بندے رکھے جائیں گے اور پرانے لوگوں کا بھی دیکھ رہے ہیں ان کا کیا کرنا ہے۔ این سی سی آئی اے کو مکمل بہتر کرنے میں چھ ماہ لگیں گے، ہماری کوشش ہے نیا ادارہ ہے بندے بھی نئے رکھیں جائیں،سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ این سی سی آئی اے میں پراسیکیوشن کا فقدان ہے، مقدمات تو درج ہو جاتے ہیں مگر آگے کچھ نہیں ہوتا۔

    شہریوں کا ڈیٹا لیک ہونے کا معاملہ بھی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی داخلہ میں پہنچ گیا۔ چیئرمین کمیٹی نے سوال کیا کہ شہریوں کا ڈیٹا لیک ہونے کے معاملے پر آپ نے کیا کیا ہے؟ڈی جی این سی سی آئی اے نے بتایا کہ اس معاملے میں متعدد مقدمات درج ہوئے ہیں، 851 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے، ٹیلی کام کمپنیوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور ہم ان کا آڈٹ بھی کر رہے ہیں، اس معاملے کو حل کرنے کے لیے تین ماہ کا وقت لگ سکتا ہے،ڈیٹا لیک کے معاملے پر وزیر داخلہ کی بنائی جانے والی تفتیشی کمیٹی کے معاملے پر اسپیشل سیکرٹری داخلہ اور ڈی جی این سی سی آئی اے لاعلم نکلے،سینیٹر پلوشہ خان نے پوچھا کہ ڈیٹا لیک کے معاملے پر وزیر داخلہ نے تفتیشی کمیٹی بنائی تھی، اس کا کیا بنا؟ ڈی جی این سی سی آئی اے اور اسپیشل سیکرٹری داخلہ نے جواب دیا کہ اس طرح کی کوئی کمیٹی میرے علم میں نہیں۔

    سینیٹر محمد اسلم ابڑو کے بھائی اور بھتیجے کے قاتلوں کی عدم گرفتاری پر چیئرمین کمیٹی نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئی جی سندھ اور آئی جی بلوچستان کا کمیٹی میں نا آنا انتہائی نامناسب ہے، سندھ اور بلوچستان کے آئی جیز کو سخت نوٹسز جاری کرتے ہیں، اگر یہ دونوں آئی جیز آئندہ کمیٹی میں بھی نا آئے تو ہم سینیٹرز مل کر فیصلہ دیں گے،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سینیٹر اسلم ابڑو اور سینیٹر سیف اللہ ابڑو کو فوری طور پر سیکیورٹی فراہم کی جائے، فوری کا مطلب ہے آج ہی ان دونوں سینیٹرز کو سیکیورٹی فراہم کریں۔

  • حیرت ہے آپ سے ایک خاتون ریکور نہیں ہورہی،عدالت کا آئی جی سے مکالمہ

    حیرت ہے آپ سے ایک خاتون ریکور نہیں ہورہی،عدالت کا آئی جی سے مکالمہ

    لاہور ہائیکورٹ نے مبینہ طور پر اغوا خاتون کو زندہ یا مردہ برآمد کر کے پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

    کاہنہ سے مبینہ اغوا خاتون کی بازیابی کی درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ حیرت ہے آپ سے ایک خاتون ریکور نہیں ہورہی، فوزیہ کا سراغ اس کے گھر سے ملے گا،آئی جی پنجاب نے کہا کہ انہیں چاروں صوبوں اور گینگز کو چیک کرنے کی مہلت دیں، فوزیہ بی بی جاتے ہوئے خود سامان پیک کر کے لے گئی تھی،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس میں کہا کہ آپ نے خدشہ ظاہر کیا کہ فوزیہ کو جن اٹھا کر لے گئے۔

    آئی جی نے کہا کہ 109 فون نمبرز کی سی ڈی آر لے کر چیک کیا جن سے فوزیہ کی ساس کے رابطے تھے، فوزیہ پر گھر میں تشدد کیا جاتا رہا، خدشہ ہے کہ فوزیہ کو قتل کردیا گیا ہے، لاہور ہائیکورٹ نےخاتون کی بازیابی کے لیے آئی جی پنجاب کو مہلت دے دی

  • وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کی مرکزی مسلم لیگ ہاؤس آمد

    وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کی مرکزی مسلم لیگ ہاؤس آمد

    وزیرِ مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری کی مرکزی مسلم لیگ ہاؤس فیصل آباد آمد ہوئی،مرکزی مسلم لیگ وسطی پنجاب کے صدر چوہدری حمید الحسن،ضلعی سیکرٹری جنرل محمد احسن تارڑ نے طلال چوہدری کا استقبال کیا، طلال چوہدری نے مرکزی مسلم لیگ کے رہنماؤں سے ملاقات کی ،ملاقات کے دوران ملکی سیاسی صورتحال اور قومی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ موجودہ حالات میں قومی یکجہتی، سیاسی استحکام اور جمہوری تسلسل کے فروغ کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو مشترکہ حکمتِ عملی اپنانی چاہیے۔چوہدری حمید الحسن اور محمد احسن تارڑ نے سینیٹر طلال چوہدری کی آمد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی مسلم لیگ ملک میں مثبت سیاسی کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے.

  • کوشش ہے دسمبر تک ای وی ٹیکسی سروس شروع کر دی جائے،شرجیل میمن

    کوشش ہے دسمبر تک ای وی ٹیکسی سروس شروع کر دی جائے،شرجیل میمن

    سندھ حکومت کی جانب سے شہری سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ایک اہم ترین فیصلہ کیا گیا ہے

    سندھ حکومت کی جانب سے پیپلز بس سروس اور ای وی ٹیکسی سروس کے ان ڈور اور آئؤٹ ڈور کیمراؤں کو سیف سٹی نیٹ ورک سے منسلک کرنے کا بڑا فیصلہ کیا گیا ہے، سندھ کے سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ پیپلز بس سروس اور ای وی ٹیکسی سروس میں نصب انٹیلی جنٹ ٹرانسپورٹ سسٹم (ITS) کو سیف سٹی پروجیکٹ سے جوڑا جائے گا،فیصلے کا مقصد عوامی ٹرانسپورٹ کے نظام کو محفوظ بنانا ، شہری علاقوں میں سکیورٹی کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے، کیمروں کے انضمام کے بعد کراچی سمیت دیگر بڑے شہروں میں ٹریفک مینجمنٹ، سیکیورٹی مانیٹرنگ، اور عوامی تحفظ کے اقدامات میں نمایاں بہتری آئے گی، حکومت سندھ دسمبر میں جدید ای وی ٹیکسی سروس کے آغاز کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے،کراچی سمیت سندھ کے شہریوں کو سستی، محفوظ اور ماحول دوست سفری سہولت حاصل ہوگی،

    کراچی میں سرمایہ کاروں کے ایک وفد کی سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن سے ملاقات ہوئی،ملاقات میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کی منیجنگ ڈائریکٹر کنول نظام بھٹو سمیت دیگر حکام بھی شریک تھے،نجی سرمایہ کاروں نے ای وی ٹیکسی منصوبے کے ڈھانچے، چارجنگ اسٹیشنز کے قیام اور آپریٹنگ ماڈلز سے متعلق تجاویز پیش کیں،شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ سندھ، خصوصاً کراچی جیسے بڑے شہر میں جدید سفری نظام کی اشد ضرورت ہے، حکومت سندھ چاہتی ہے کہ دسمبر تک ای وی ٹیکسی سروس شروع کر دی جائے تاکہ شہریوں کو روایتی ٹرانسپورٹ کے مقابلے میں ایک بہتر اور جدید متبادل فراہم کیا جا سکے،ای وی ٹیکسی سروس سے شہریوں کو کم کرایوں میں آرام دہ سفر میسر آئے گا ،ای وی ٹیکسی سروس سرمایہ کاروں کے لیے یہ منصوبہ ایک پرکشش موقع ثابت ہوگا،ابتدائی مرحلے میں یہ سروس کراچی میں شروع کی جائے گی، بعد ازاں دیگر بڑے شہروں تک اس کا دائرہ بڑھایا جائے گا، حکومت خواتین کے لیے پنک ای وی ٹیکسی سروس بھی متعارف کروا رہی ہے، جس سے خواتین مسافروں کو محفوظ اور آرام دہ سفری سہولت فراہم کی جائے گی، سروس کی کارکردگی، شفافیت اور حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے ای وی ٹیکسی سروس میں انٹیلی جنٹ (ITS) سمیت جدید ٹیکنالوجی اور مانیٹرنگ سسٹم شامل ہوں گے،سندھ حکومت پائیدار ٹرانسپورٹ کے فروغ اور ماحولیاتی بہتری کے لیے نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری کو اہم سمجھتی ہے، ای وی ٹیکسی سروس کا منصوبہ نہ صرف عوامی سہولت بلکہ صوبے کی معاشی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا،

  • ہمیں علم ہونا چاہیے کہ بچے کہاں جارہے ہیں،وزیراعلیٰ سندھ

    ہمیں علم ہونا چاہیے کہ بچے کہاں جارہے ہیں،وزیراعلیٰ سندھ

    سندھ حکومت کا انقلابی تعلیمی اقدام، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ اسکول ایجوکیشن کے SELECT پروجیکٹ کا افتتاح کر دیا

    افتتاحی تقریب کراچی کے مقامی ہوٹل میں منعقد کی گئی ،پروگرام میں وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ، ورلڈ بینک کی کنٹری ڈائریکٹر Bolormaa Amgaabazar s, سیکریٹری اسکول ایجوکیشن زاہد عباسی و دیگر شریک ہوئے،وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سلیکٹ (SELECT) سندھ میں طلبہ کی حاضری کو مانیٹر کرنے کا پہلا ڈیجیٹل نظام متعارف ہو گیا ،پروجیکٹ کا مقصد پرائمری طلبہ کی ریڈنگ اسکلز میں اضافہ کرنا ہے ، ہمیں علم ہونا چاہیے کہ بچے کہاں جارہے ہیں، بچوں کی مانیٹرنگ کا نظام ہر اسکول میں ہونا چاہیے،ضروری تھا کہ ہم بچوں کو ٹریک کرسکیں تاکہ درست معلومات مل سکیں،اس حاضری سسٹم کے منصوبے کو اسکول کے بعد کالجز و جامعات میں نافذ کریں گے۔

    پروجیکٹ کا نفاذ 12 اضلاع کے 600 اسکولوں میں پائلٹ پروجیک کے تحت شروع ہو گیا،سید سردار شاہ کا کہنا تھا کہ ابتدائی جماعتوں میں تدریسی معیار میں بہتری اور اساتذہ کی تربیت ہوگی، پرائمری سے مڈل سطح تک تعلیمی ماحول کی اپ گریڈیشن ممکن ہوگی، اسکول مینجمنٹ اور لیڈرشپ میں ڈیجیٹل نظام کا نفاذ ہوگا،ریفارم سپورٹ یونٹ کی نگرانی میں مکمل مانیٹرنگ اور شفاف نظام رائج ہوگا، سیمرز نظام کے تحت طلبہ و اساتذہ کی حاضری، رجسٹریشن اور گریڈ پروموشن کو ڈیجیٹلائزیشن کیا گیا ہے،غیر حاضر طلبہ کی وجوہات کی نشاندہی اور بروقت اصلاحی کارروائی ہوگی، 600 اسکولز میں نفاذ مکمل جن میں 120 پرائمری، 480 مڈل، 79 ہائی اسکول شامل ہیں،کل 1 لاکھ 37 ہزار طلبہ کا اندراج جن میں79730 بچیاں اور 57501 بچے شامل ہیں،72 فیصد اسکولز کو ایجوکیشن لڑکے اور لڑکیاں دونوں (Mixed) ہونگےاپریل سے مئی 2025 تک حاضری میں 16 فیصد بہتری ریکارڈ ہوئی،ہائی رسک طلبہ کی شرح 32.5 فیصد سے کم ہو کر 23 فیصد رکارڈ ہوئی

  • سوسائٹی آف ایئر کرافٹ انجینئرز کے صدر اور سیکریٹری جنرل ملازمت سے برطرف

    سوسائٹی آف ایئر کرافٹ انجینئرز کے صدر اور سیکریٹری جنرل ملازمت سے برطرف

    ایئر کرافٹ انجینئرز اور قومی ایئر لائن کے تنازع کے بعد سوسائٹی آف ایئر کرافٹ انجینئرز کے صدر اور سیکریٹری جنرل کو ملازمت سے برطرف کردیا گیا ہے

    عبداللّٰہ جدون اور اویس جدون کی ملازمت سے برطرفی کے احکامات جاری کردیے گئے ہیں۔نوٹیفکیشن کے مطابق دونوں عہدیداران کو گزشتہ برس شروع ہونے والی انکوائریز میں 4 اور 5 نومبر کو ذاتی سنوائی کا موقع دیا گیا تھا،عبداللّٰہ جدون اور اویس جدون سی ای او قومی ایئر لائن کے پاس ذاتی سنوائی کے لیے پیش نہیں ہوئے تھے،حکم نامے کے مطابق دونوں عہدیداران کے خلاف کارروائی قومی ایئر لائن کے متعلقہ قوانین کے تحت کی گئی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ 2024ء کی انکوائری میں برطرفی کا فیصلہ انجینئرز کے جاری حالیہ احتجاج کے تناظر میں کیا گیا۔سیکریٹری جنرل سیپ اویس جدون نے الزام لگایا کہ برطرفی کی بنیادی وجہ طیاروں میں فنی خرابیوں سمیت قوانین کی خلاف ورزی کی نشاندہی ہے، انجینئرز کی جانب سے خرابیوں کے ساتھ طیاروں کو کلیئرنس نہ دینا بھی برطرفی کی وجہ ہے۔

  • فلم کے دوران ڈائریکٹر بیڈ تک پہنچ گیا تھا، فرح خان

    فلم کے دوران ڈائریکٹر بیڈ تک پہنچ گیا تھا، فرح خان

    فرح خان کو بالی وڈ میں چار دہائیوں سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن ایک تلخ یاد اب بھی ان کے ذہن میں نقش ہے جب ایک فلم میکر نے انہیں ہراساں کیا۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلم ساز سے کوریوگرافر بننے والی فرح نے ٹوئنکل اور کاجول کے کے پروگرام میں کافی موضوعات پر گفتگو کی، اسی شو میں انہوں نے اعتراف کیا کہ ایک فلم کے دوران ڈائریکٹر نے انہیں جنسی ہراساں کیا،انہوں نے بتایا کہ میں اس ڈائریکٹر کی فلم میں کوریوگرافی کررہی تھی، اسی دوران میں اپنے کمرے میں گئی اور بستر پر بیٹھی تھی، وہ فلم ساز گانے پر گفتگو کرنے میرے کمرے میں آیا اور بالکل پاس بیٹھ گیا، اس نازیبا حرکت پر مجھے فوری طور پر اسے اپنے کمرے سے نکالنا پڑا۔

    فرح خان نے دوران انٹرویو میں کہا کہ مجھے ہر حال میں کام کرنا تھا، کیونکہ ہمارے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے تھے اور اب میرا یہ ذہن ہے کہ میں اتنے پیسے کماؤں کہ میرے بچوں کو کسی قسم کی کوئی پریشانی نہ اٹھانی پڑے،اس منظر کی عینی شاہد ٹوئنکل کھنہ نے واقعے پر مزید کہا کہ وہ فلم ساز فرح کے پیچھے پڑا تھا، فرح کو چاہیے تھے کہ اسے مارتی پیٹتی، میں اس واقعے کی گواہ ہوں، ایسا واقعی ہوا تھا۔