Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • عثمان ہادی کی میت ڈھاکاپہنچا دی گئی، قومی سوگ کا اعلان

    عثمان ہادی کی میت ڈھاکاپہنچا دی گئی، قومی سوگ کا اعلان

    بنگلادیش کے معروف طالب علم رہنما اور سیاسی پلیٹ فارم انقلاب منچہ کے ترجمان شریف عثمان ہادی کی میت سنگاپور سے ڈھاکا پہنچا دی گئی ہے۔

    بنگلادیشی میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلادیش ائیرلائن کا خصوصی طیارہ آج شام سنگاپور سے روانہ ہو کر ڈھاکا ایئرپورٹ پر اترا، جس میں شریف عثمان ہادی کی میت لائی گئی۔ایئرپورٹ پر ان کی میت کو مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ بنگلادیش کے قومی پرچم میں لپیٹ کر وصول کیا گیا۔ اس موقع پر سیاسی، سماجی اور طلبہ تنظیموں کے نمائندوں سمیت مرحوم کے اہلِ خانہ بھی موجود تھے۔

    بنگلادیش کے چیف ایڈوائزر کے پریس ونگ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق شریف عثمان ہادی کی نمازِ جنازہ کل دوپہر 2 بجے بنگلادیشی پارلیمنٹ کے ساؤتھ پلازا میں ادا کی جائے گی۔ بیان میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر جنازے میں شرکت کرنے والوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے ساتھ کسی قسم کے بیگ یا بھاری اشیا نہ لائیں۔اس کے علاوہ پارلیمنٹ ہاؤس اور اس کے گردونواح میں ڈرون اڑانے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

    دوسری جانب بنگلادیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس نے شریف عثمان ہادی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ہفتے کے روز ایک روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اس موقع پر سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔

    واضح رہے کہ شریف عثمان ہادی جمعرات کی شب سنگاپور جنرل اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے تھے۔ انہیں 12 دسمبر کو ڈھاکا کے علاقے پرانا پلٹن میں انتخابی مہم کے دوران نامعلوم حملہ آوروں کی فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں ان کے سر پر شدید زخم آئے تھے۔

    واقعے کے فوراً بعد انہیں ڈھاکہ میڈیکل کالج اسپتال منتقل کیا گیا، بعد ازاں ایور کیئر اسپتال میں بھی علاج کیا گیا، تاہم حالت تشویشناک ہونے کے باعث 15 دسمبر کو بہتر علاج کے لیے سنگاپور منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ زندگی کی بازی ہار گئے۔شریف عثمان ہادی کے انتقال کو بنگلادیشی طلبہ سیاست اور جمہوری جدوجہد کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ ان کے قتل کے واقعے نے ملک میں سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔

    ہادی اسکوائر ، شاہ باغ میں عثمان ہادی کی شہادت پرمظاہرین کا شدید احتجاج اب بھی جاری ہے،بنگلہ دیشی سیاسی کارکن عثمان ہادی کی ڈھاکہ میں قاتلانہ حملہ میں شہادت کے بعد حالات کشیدہ ہیں،مظاہرین نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کیخلاف شدید نعرے بازی کی، احتجاج کے دوران مودی مخالف سخت نعروں نے فضا کشیدہ کردی،مظاہرین نے نریندر مودی کو ’’گجرات کا قصاب‘‘ قرار دے دیا،مظاہرین کا کہنا تھا کہ مودی انسانیت کے جرائم کا ذمہ دار ہے،ہمارے بھائی ہادی نے ایک جنگ لڑی ہے اور انقلاب کلچرل سنٹر قائم کیا، اس انقلاب کلچرل سنٹرنے مودی کے سینے میں آگ لگادی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ نریندی مودی اس آگ میں جلے، اب ہم شیخ مجیب کے گھر کو انقلاب کلچرل سنٹر بنادیں گے، شیخ مجیب کے گھرکی ایک اینٹ بھی نہیں بچے گی،

  • تلہ گنگ میں تعلیمی و ہم نصابی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے آرٹ مقابلوں کا اعلان

    تلہ گنگ میں تعلیمی و ہم نصابی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے آرٹ مقابلوں کا اعلان

    چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی تلہ گنگ محمد عیسیٰ لالی نے ضلع بھر کے سرکاری و نجی سکولوں میں آرٹ مقابلہ جات کے انعقاد کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ صحت مند اور مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھنا ہے تاکہ ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کیا جا سکے۔

    نمائندہ خصوصی باغی ٹی وی خصوصی گفتگو کرتے ہوئے محمد عیسیٰ لالی کا کہنا تھا کہ ہمارا ویژن صرف نئی نسل کو پڑھانا نہیں بلکہ سکھانا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ بچے رٹا سسٹم کے بجائے سیکھنے کی بنیاد پر تعلیم حاصل کریں اور عملی زندگی میں کامیاب ہوں۔انہوں نے کہا کہ جب تک وہ تلہ گنگ میں تعینات ہیں، طلبا اور اساتذہ کی بہتری کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کو یقینی بنائیں گے۔ ضلع میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے کئی تعلیمی اور ہم نصابی منصوبے زیرِ تکمیل ہیں اور 2026 ان شاء اللہ تلہ گنگ کے لیے تعلیمی انقلاب کا سال ثابت ہو گا۔

    چیف ایگزیکٹو آفیسر نے مزید بتایا کہ اساتذہ کو جدید طریقۂ تدریس کی باقاعدہ ٹریننگ دی جا رہی ہے تاکہ وہ بچوں کو جدید تقاضوں کے مطابق تعلیم دے سکیں۔ اب بچوں کو محض امتحان پاس کروانے کے بجائے سیکھنے اور سمجھنے کی بنیاد پر پڑھایا جائے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ امتحانی نتائج مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر ہوں گے اور کسی قسم کی کوتاہی یا سفارش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح اساتذہ کو بھی ان کی کارکردگی کی بنیاد پر سہولیات اور مراعات فراہم کی جائیں گی تاکہ محنت کرنے والے اساتذہ کی حوصلہ افزائی ہو سکے،والدین، اساتذہ اور تعلیمی انتظامیہ کے باہمی تعاون سے ہی تلہ گنگ کو ایک مثالی تعلیمی ضلع بنایا جا سکتا ہے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی پوری تندہی سے کام کر رہی ہے۔

  • پورے ملک کی طرح سندھ کی بیٹیاں بھی آگے بڑھ رہی ہیں،آصفہ بھٹو

    پورے ملک کی طرح سندھ کی بیٹیاں بھی آگے بڑھ رہی ہیں،آصفہ بھٹو

    خاتون اول آصفہ بھٹوزرداری نے کہا ہےکہ نو جوان خواتین کو بااختیار بنانا پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔

    خاتون اول عکس بینظیر بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے بختاور کیڈٹ کالج برائے طالبات کی پانچویں پاسنگ آؤٹ پریڈ اور سالانہ پیرنٹس ڈے کی تقریب میں شرکت کی۔ اس موقع پر کیڈٹس نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا اور بی بی آصفہ نے طالبات کی محنت، لگن اور نمایاں کارکردگی کو سراہا۔ شہید بے نظیر آبادمیں بختاورکیڈٹ کالج برائے طالبات میں یوم والدین اور پانچویں پاسنگ آوٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خاتون اول نے کہا کہ طلبا کو نظم وضبط ،احترام اور استقامت کو اپنائیں،پورے ملک کی طرح سندھ کی بیٹیاں بھی مسلسل امتیاز کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں،بے پناہ چیلنجز سے عبارت شہید بے نظیر بھٹو کی زندگی ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔

    اس سے قبل خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے بختاور کیڈٹ کالج میں جمنازیم اور سوئمنگ پول کا افتتاح کیا۔ انہوں نے کالج میں آرٹ اور سائنس کی نمائش کا بھی باضابطہ افتتاح کیا،آصفہ بھٹو زرداری نے مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی کیڈٹس میں انعامات تقسیم کیے۔

  • سڈنی حملہ،ساجد اکرم کے بھارت میں خاندانی تنازعات کی تفصیلات سامنے آ گئیں

    سڈنی حملہ،ساجد اکرم کے بھارت میں خاندانی تنازعات کی تفصیلات سامنے آ گئیں

    آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں 14 دسمبر کو ہونے والے فائرنگ کے افسوسناک واقعے سے متعلق نئی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں،

    حملے کا مرکزی ملزم ساجد اکرم گزشتہ تقریباً تین دہائیوں کے دوران چھ مرتبہ بھارت کا سفر کر چکا تھا۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ دورے زیادہ تر خاندانی جائیداد سے متعلق تنازعات کے حل کے لیے کیے گئے تھے۔تلنگانہ پولیس کے مطابق 50 سالہ ساجد اکرم بھارتی پاسپورٹ کا حامل تھا اور اتوار کے روز اپنے بیٹے کے ہمراہ سڈنی کے علاقے بونڈی بیچ پر فائرنگ کے واقعے کے دوران پولیس کارروائی میں ہلاک ہو گیا۔ اس واقعے میں کم از کم 15 افراد جان سے گئے، جبکہ ساجد اکرم کا بیٹا نوید شدید زخمی ہو کر کومے میں چلا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دو روز بعد نوید کو ہوش آ گیا ہے اور اس کا علاج جاری ہے۔

    تلنگانہ کے ڈائریکٹر جنرل پولیس بی شیوادھر نے بتایا کہ ساجد اکرم کی پیدائش حیدرآباد میں ہوئی تھی۔ وہ 1998 میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے آسٹریلیا منتقل ہوا اور اس کے بعد وہیں مستقل طور پر مقیم رہا۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق ساجد اکرم نے 2000، 2004، 2009، 2012، 2016 اور 2022 میں حیدرآباد کے دورے کیے، جبکہ ایک دورہ 2006 میں اپنے والد کی وفات کے ایک ماہ بعد بھی کیا گیا تھا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ساجد اکرم کے خاندانی تعلقات برسوں قبل جائیداد کے تنازعات کے باعث خراب ہو چکے تھے، جس کے نتیجے میں اہلِ خانہ نے اس سے قطع تعلق کر لیا تھا۔ اگرچہ وہ تقریباً تین دہائیوں سے آسٹریلیا میں مقیم تھا، تاہم اس نے اپنا بھارتی پاسپورٹ برقرار رکھا۔ دوسری جانب، آسٹریلیا میں پیدا ہونے والے اس کے بچوں کو وہاں مستقل رہائش حاصل تھی۔

    سرکاری ذرائع کے مطابق ساجد اکرم نے آسٹریلیا میں مستقل رہائش حاصل کرنے کے لیے 27 مرتبہ درخواست دی، تاہم اسے کامیابی نہیں مل سکی۔ البتہ اسے ریزیڈنٹ ریٹرن ویزا جاری کیا گیا تھا، جس کے تحت وہ آسٹریلیا میں قیام کر رہا تھا۔تلنگانہ پولیس نے واضح کیا ہے کہ اس واقعے کے حوالے سے آسٹریلوی حکام یا کسی بھی غیر ملکی ایجنسی نے براہِ راست رابطہ نہیں کیا۔ مقامی سطح پر کی جانے والی تحقیقات مرکزی بھارتی ایجنسیوں سے موصول ہونے والی معلومات کی بنیاد پر مکمل کی گئیں۔حکام کے مطابق واقعے کی وجوہات اور پس منظر سے متعلق مزید پہلوؤں کی جانچ جاری ہے، تاہم اب تک کی تحقیقات میں کسی بین الاقوامی نیٹ ورک یا تنظیم سے تعلق کے شواہد سامنے نہیں آئے۔

  • نامعلوم شخص پنجاب اسمبلی ایم پی اے ہوسٹلز کی زیر تعمیر عمارت پر لگی کرین پر چڑھ گیا

    نامعلوم شخص پنجاب اسمبلی ایم پی اے ہوسٹلز کی زیر تعمیر عمارت پر لگی کرین پر چڑھ گیا

    لاہور: پنجاب اسمبلی کے ایم پی اے ہوسٹلز کی زیرِ تعمیر عمارت پر اُس وقت ہنگامی صورتحال پیدا ہوگئی جب ایک نامعلوم شخص اچانک عمارت پر نصب کرین پر چڑھ گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی اسمبلی سٹاف، سکیورٹی حکام اور ریسکیو اداروں کے اہلکار فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے۔

    عینی شاہدین کے مطابق نامعلوم شخص نے کرین پر چڑھ کر مبینہ طور پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے ملاقات کا مطالبہ کیا۔ واقعے کے باعث علاقے میں کچھ دیر کے لیے خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ سکیورٹی اداروں نے فوری طور پر حفاظتی اقدامات سخت کرتے ہوئے عمارت اور اطراف کے علاقوں کو گھیرے میں لے لیا۔ریسکیو اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیا اور نامعلوم شخص کو بحفاظت نیچے اتارنے کے لیے مذاکرات کا عمل شروع کیا۔ سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    تاحال نامعلوم شخص کی شناخت اور اس کے کرین پر چڑھنے کی وجوہات سامنے نہیں آ سکیں۔ حکام کے مطابق معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں جبکہ صورتحال پر مکمل نظر رکھی جا رہی ہے۔ واقعے کے باعث کچھ دیر کے لیے پنجاب اسمبلی کے اطراف سکیورٹی الرٹ رہی۔

  • تائیوان کے دارالحکومت تائی پے سب وے اسٹیشن پر حملہ، 9 افراد زخمی

    تائیوان کے دارالحکومت تائی پے سب وے اسٹیشن پر حملہ، 9 افراد زخمی

    تائیوان کے دارالحکومت تائی پے میں واقع ایک مصروف سب وے (میٹرو) اسٹیشن پر دھواں چھوڑنے والے بم کے حملے اور بعد ازاں مسافروں پر حملے کے نتیجے میں کم از کم 9 افراد زخمی ہو گئے، جن میں سے چار کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    تائیوان کے سرکاری خبر رساں ادارے سینٹرل نیوز ایجنسی کے مطابق حملہ آور نے پہلے سب وے اسٹیشن کے اندر دھواں چھوڑنے والا بم پھینکا، جس سے پورا پلیٹ فارم دھوئیں سے بھر گیا۔ دھوئیں کے باعث مسافروں میں بھگدڑ مچ گئی، اسی دوران مبینہ طور پر حملہ آور نے متعدد مسافروں پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہو گئے۔پانچ افراد کو چاقو کے وار اور جسم کے مختلف حصوں پر کند ضربوں سے چوٹیں آئی ہیں،عینی شاہدین کے مطابق دھماکے جیسی آواز اور دھوئیں کے اچانک پھیلنے سے لوگ شدید خوف کا شکار ہو گئے اور جان بچانے کے لیے مختلف سمتوں میں دوڑنے لگے۔ بعض مسافروں نے اسٹیشن سے باہر نکلنے کے لیے ایمرجنسی راستے استعمال کیے جبکہ سیکیورٹی اہلکاروں اور ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر کارروائی شروع کی۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، فائر بریگیڈ اور طبی امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں چار افراد کی حالت نازک قرار دی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق زخمیوں میں مرد اور خواتین دونوں شامل ہیں۔

    تائیوان کے وزیرِاعظم چو جنگ تائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر جاری اپنے بیان میں واقعے کی تصدیق کی، تاہم انہوں نے اس مرحلے پر مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ ادارے صورتحال پر قابو پانے اور تحقیقات میں مصروف ہیں۔سینٹرل نیوز ایجنسی کے مطابق حملہ آور کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس نے حملے کے بعد خودکشی کر لی، تاہم اس حوالے سے بھی سرکاری سطح پر حتمی تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

  • دھمکی نہیں چلے گی،جواب دینا کابینہ اراکین کی ذمہ داری،وزیراعظم نوٹس لیں،پلوشہ خان

    دھمکی نہیں چلے گی،جواب دینا کابینہ اراکین کی ذمہ داری،وزیراعظم نوٹس لیں،پلوشہ خان

    سینیٹر پلوشہ خان نے کہا ہے کہ منتخب نمائندوں کے سوالات کا جواب دینا کابینہ اراکین کی ذمہ داری ہے، دھمکیوں اور نامناسب زبان سے پارلیمانی روایت مجروح ہوتی ہے۔

    قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ میں نے ایک سوال سینیٹ میں ڈالا تھا سوال میرا حق ہے، اس کا جواب سینیٹ میں نہیں آیا، جس پر میں نے چیئرمین کمیٹی کو کہا تھا کہ اس سوال کو ایجنڈے پر ڈال دیں جس پر انہوں نے شامل کر لیا،سوال تھا کہ رنگ روڈ، یہ سڑک سوسائیٹی سے 10 کلومیٹر کے فاصلے پر بن رہی، میں نے پوچھا کہ یہ سڑک کسی کو فائدہ پہنچانے کے لیے تو نہیں بن رہی؟ اب اس سوال پر وفاقی وزیر کا رویہ سب نے دیکھ لیاوہ بھڑک اٹھے، کابینہ اور وزیراعظم شہباز شریف کو اس واقعہ کا نوٹس لینا چاہئے،تمام میڈیا کے سامنے وہ بھڑکتے ہیں،میں اس معاملے کو پارٹی کی سطح پر اٹھاؤں گی وزیر اعظم کو بھی اس طرح کے وزرا کو کابینہ سے نکلنا چاہیے اس طرح کے وزرا وزیر اعظم کے بدنامی کا باعث بنتے ہیں این ایچ کی کرپشن کسی سےڈھکی چھپی نہیں ہے،

    قائمہ کمیٹی اجلاس،سینیٹر پلوشہ خان اور وفاقی وزیر علیم خان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ

  • بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے خاتون کا زبردستی نقاب کھینچنے   ملک گیر احتجاج

    بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے خاتون کا زبردستی نقاب کھینچنے ملک گیر احتجاج

    مرکزی مسلم لیگ، مسلم ویمن لیگ اور سول سوسائٹی کے زیر اہتمام بھارتی بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے خاتون کا زبردستی نقاب کھینچنے پر ملک گیر احتجاجی مظاہرے کئے گئے، اسلام آباد،کراچی،پشاور، قصور ،ملتان، وہاڑی، راولپنڈی،بہاولپور ،پاکپتن،ننکانہ صاحب،حیدرآباد،ایبٹ آباد،ہری پور،مردان،راجن پور،ڈیرہ اسماعیل خان سمیت دیگر شہروں میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں خواتین سمیت ہزاروں افراد شریک ہوئے،شرکا نے بھارت کو دہشتگرد اسٹیٹ قرار دینے کا مطالبہ کیا اور کہا خاتون کا نقاب کھینچنا دہشتگردی ہے،بھارت میں اقلیتوں کو تحفظ فراہم کیا جائے،

    مسلم ویمن لیگ،سول سوسائٹی کے زیر اہتمام بھارتی وزیراعلیٰ کے خلاف ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے دوران شرکا نے بینرز و پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر انڈیا پردے کی توہین بند کرو،خواتین کو تحفظ دو، سمیت دیگر تحریریں درج تھیں،شرکا بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اوربھارتی وزیراعلیٰ کے خلاف نعرے بھی لگا رہے تھے، اسلام آباد میں مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام بھارت میں مسلم خاتون کا نقاب کھینچے جانے کے واقعہ پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا،بھارتی ریاست بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے مسلم خاتون کا نقاب نوچنے کے خلاف سول سوسائٹی و مسلم ویمن لیگ کا کراچی پریس کلب پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا،مظاہرہ میں شہر بھر سے خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی،وہاڑی میں مذمتی ریلی نکالی گئی جس کی قیادت ممبر صوبائی اسمبلی میاں ثاقب خورشید نے کی ،ریلی میں سیاسی و سماجی رہنماؤں، سول سوسائٹی اراکین نے بڑی تعداد میں شرکت کی،اس موقع پر ایم پی اے میاں ثاقب خورشید نے کہا کہ خاتون کا حجاب کھینچنا اس کے وقار اور مذہبی شناخت پر براہ راست حملہ ہے، حجاب و نقاب پر حملہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے خاتون کے ساتھ بدسلوکی عالمی ضمیر کے لیے چیلنج ہے ، سیکولر سٹیٹ کہلانے والے ہندوستان نےبے حیائی کا مظاہرہ کیا ہے کوئی بھی مذہب ایسی حرکت کو پسند نہیں کرتا،سی او بلدیہ راؤ نعیم خالد ،صدر انجمن تاجران طاہر شریف گجر ،جنرل سیکرٹری انجمن تاجران راؤ خلیل احمد ،ایم این اے تہمینہ دولتانہ کے نمائندے ناصر دولتانہ،شیخ عبدالطیف،رانا محمد شفیق،چوہدری سعید اختر، شاہد سنی گجر،ریاض مسیح سمیت دیگر نے کہا کہ بھارتی صوبہ بہار کے وزیراعلیٰ نے جو گھٹیا اقدام کیا ہے اس کی اسے ضرور سزا ملنی چاہیے۔مرکزی مسلم لیگ پشاور اور سول سوسائٹی پشاور کے زیرِ اہتمام فوارہ چوک تا پریس کلب پشاور احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا،پریس کلب پشاور کے سامنے مظاہرے سے سول سوسائٹی کے سرپرست پیر عطاء اللہ درانی،صدر سول سوسائٹی پشاور نوید شہزاد، مرکزی مسلم لیگ کے پی کے صدر دعوتِ اصلاح ابو عکاشہ منظور،سینئر نائب صدر پشاور سمیع اللہ نے خطاب کیا ،مقررین نے کہا کہ مسلم خواتین کے مذہبی تشخص پر حملے کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔نقاب عزت، شناخت اور مذہبی آزادی کی علامت ہے، اس کی توہین دراصل پوری انسانیت کی توہین ہے۔ مرکزی مسلم لیگ قصور کے زیرِ اہتمام احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں سینکڑوں شہریوں نے شرکت کی۔ احتجاج کی قیادت جنرل سیکرٹری پاکستان مرکزی مسلم لیگ رانا محمد اشفاق نے کی، رانا محمد اشفاق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نتیش کمار کو اس عمل کی سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ کسی بھی بہن بیٹی کے ساتھ ایسا ناروا سلوک کرنے کی کوئی جرات نہ کرے،بہاولپور کے ون یونٹ چوک پر بھی احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس کی قیادت مرکزی مسلم لیگ کے رہنما رانا سیف اللہ نے کی۔ مظاہرے میں کارکنان، طلبہ، خواتین، اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔پاکپتن میں مرکزی مسلم لیگ، انجمن تاجران اور سول سوسائٹی کے زیرِاہتمام احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔مظاہرے میں مذہبی، سماجی، تاجر رہنماؤں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ، مرکزی مسلم لیگ شعبہ خواتین ننکانہ صاحب کی طرف سے خواتین نے احتجاجی ریلی نکالی، جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین اور طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی،راولپنڈی میں مرکزی مسلم لیگ کے زیرِ اہتمام پریس کلب مری روڈ کے باہر پرامن احتجاجی مظاہرہ کیا گیا،مظاہرے کی قیادت عبدالرحمٰن، محمد مظہر قادر، عرفان احمد، احسان اللہ اور مبین احمد نے کی، مظاہرے کے دوران عالمی انسانی حقوق تنظیموں اور اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ واقعے کا فوری نوٹس لیں اور بھارت میں مذہبی اقلیتوں، بالخصوص مسلمان خواتین کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے،مرکزی مسلم لیگ ایبٹ آباد کے زیرِ اہتمام مسلم خواتین کا نقاب کھینچنے کے واقعے کے خلاف ایبٹ آباد پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مرکزی مسلم لیگ ملتان کے زیر اہتمام بھارت میں بہار کے وزیر اعلیٰ کا مسلم خاتون کا نقاب کھینچے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، مرکزی مسلم لیگ ضلع رحیم یار خان کے جنرل سیکرٹری نوید قمر نے بھی رحیم یارخان میں احتجاجی مظاہرے سے خطاب کیا،

  • قائمہ کمیٹی اجلاس،سینیٹر پلوشہ خان اور وفاقی وزیر علیم خان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ

    قائمہ کمیٹی اجلاس،سینیٹر پلوشہ خان اور وفاقی وزیر علیم خان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس کے دوران وفاقی وزیر مواصلات علیم خان اور سینیٹر پلوشہ خان کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوئی جو سخت جملوں اور ذاتی نوعیت کے الزامات تک جا پہنچی۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر علیم خان نے کہا کہ سینیٹ میں ان پر ہاؤسنگ سوسائٹی کو فائدہ پہنچانے کا الزام لگایا گیا ہے اور وہ اس سوال کو اپنی ذاتی تذلیل سمجھتے ہیں، جس پر سینیٹر پلوشہ خان نے جواب دیا کہ سوال کرنا الزام لگانا نہیں ہوتا اور یہ بھی پوچھا کہ آپ اس سوال کو اتنا ذاتی نوعیت کا کیوں سمجھ رہے ہیں؟ اس دوران سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ سوال کرنے پر وفاقی وزیر سیخ پا ہیں، جبکہ وفاقی وزیر نے جواباً کہا کہ دنیا جہاں کے بے ایمان یہاں اکٹھے ہوگئے ہیں۔ سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ آپ سوال کرنے پر اس لیے سیخ پا ہیں کیونکہ آپ گلٹی ہیں، جس پر وفاقی وزیر نے سخت لہجے میں کہا کہ میں تمہارے کرتوت سب کے سامنے رکھوں اور یہ بھی کہا کہ مجھ سے ایسے بات کرنے کی تمہاری جرأت کیسے ہوئی۔

    سینیٹر پلوشہ خان نے بھی جواب میں کہا تمھاری جرات کیسے ہوئی، دونوں نے ایک دوسرے کو شٹ اپ کالز بھی دیں،پلوشہ خان نے چیئرمین کمیٹی پرویز رشید سے وفاقی وزیر کے رویے پر رولنگ دینے اور سخت ایکشن لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر وفاقی وزیر میری ذات پر بات کرنا چاہتے ہیں تو کریں۔ صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے سیکرٹری مواصلات اپنی نشست سے اٹھ کر سینیٹر پلوشہ خان کو منانے آئے، جبکہ دیگر کمیٹی ممبران نے بھی مداخلت کرتے ہوئے سینیٹر پلوشہ خان کو خاموش کرا کے اجلاس کو آگے بڑھانے کی کوشش کی۔

    ارکان کی آپس میں لڑائی کے بعد چیئرمین کمیٹی نے مداخلت کی اور وفاقی وزیر عبد العلیم خان نے چئیرمین کمیٹی کے کہنے پر معذرت کر لی،اس دوران سینیٹر پرویز رشید سینیٹر پلوشہ خان اور علیم خان کو خاموش کرواتے رہے تاہم سینیٹر پرویز رشید کی بیچ بچاو کرانے کی کوششیں بھی رائیگاں گئیں۔

  • ڈی آئی خان،دہشتگردوں کا ناکہ،فوجی افسر کے نہ رکنے پر فائرنگ

    ڈی آئی خان،دہشتگردوں کا ناکہ،فوجی افسر کے نہ رکنے پر فائرنگ

    ڈیرہ اسماعیل خان،این ۔50 شاہراہ پر تحصیل درابن کے علاقے میں دہشت گردوں کی جانب سے فوجی افسر پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں افسر زخمی ہو گئے۔

    واقعہ گاؤں نیو گڑہ خان کے قریب پیش آیا جہاں نامعلوم دہشت گردوں نے ایک فوجی افسر کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔سیاہ ویگو گاڑی میں سوار فوجی افسر کوئٹہ سے اسلام آباد کی جانب سفر کر رہے تھے کہ راستے میں دہشت گردوں نے سڑک پر عارضی چیک پوسٹ،رکاوٹ قائم کر کے گاڑی روکنے کی کوشش کی۔ گاڑی نہ روکنے پر دہشت گردوں نے فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں گاڑی میں موجود فوجی افسر زخمی ہو گئے۔زخمی ہونے والے افسر کی شناخت میجر مشتاق مروت کے نام سے ہوئی ہے، جو ای ایم ای کوئٹہ میں تعینات ہیں۔ فائرنگ کے بعد حملہ آور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے موقع پر پہنچ گئے، علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا جبکہ زخمی افسر کو فوری طور پر قریبی طبی مرکز منتقل کر دیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔