امریکی اخبار فنانشل ٹائمز کا کہنا ہے کہ امریکا ایران میں ہتھیاروں کا کئی سال کا ذخیرہ استعمال کرچکا، ٹوماہاک جیسے مہنگے میزائلوں کے ذخائر تیزی سے کم ہورہے ہیں۔
اخبار نے لکھا ہے کہ امریکا میں اسلحے کے ذخائر، جنگ کے بڑھتے اخراجات پر تشویش ہے، پینٹاگون اضافی 50 ارب ڈالر کی فنڈنگ کی درخواست کرنے کا ارادہ رکھتا ہے،امریکی کانگریس میں ایک بڑا سیاسی تنازع کھڑا ہونے کا امکان ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل و امریکا کے درمیان جاری جنگ کے باعث خطے کی سیاحت کی صنعت کو روزانہ تقریبا 60 کروڑ ڈالر کے نقصان کا سامنا ہے۔ فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی سیاحت کے ایک ادارے کے اندازوں کے مطابق، جنگ کے نتیجے میں پروازوں کی منسوخی، فضائی حدود کی بندش اور مسافروں میں بڑھتی ہوئی تشویش نے خطے کی سیاحتی معیشت کو شدید متاثر کیا ہے۔ یہ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہوئی جب تہران نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد خلیجی ممالک کے متعدد مقامات کو نشانہ بنایا
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے اعتراف کیا ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کا تقریباً 40 فیصد حصہ اسرائیل کو نشانہ بنانے کے لیے تھا، اب تک 2000 سے زائد میزائل اور ڈرون خلیجی ریاستوں کی طرف داغے جا چکے ہیں،تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا مقصد خلیجی ممالک کو واشنگٹن سے دور کرنا ہے، جبکہ امریکا اور اسرائیل ان حملوں کو عرب حکومتوں پر جنگ میں شامل ہونے کے لیے دباؤ بڑھانے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں،ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر کمال خرازی نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک پر حملے جاری رہیں گے تاکہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جنگ سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کریں۔
خلیجی ریاستیں اس جنگ میں براہِ راست شامل ہونے سے گریز کر رہی ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ اس کے طویل مدتی اثرات انہیں ہی بھگتنا پڑیں گے، ایک اماراتی عہدیدار کے مطابق ایران خطے کا مستقل ہمسایہ ہے اور بالآخر تعلقات کو بحال کرنا پڑے گا،ماہرین کے مطابق خلیجی ممالک کو یہ بھی خدشہ ہے کہ امریکا مستقبل میں خطے سے اپنی فوجیں واپس بلا سکتا ہے، جبکہ ایران ہمیشہ ان کا پڑوسی رہے گا،جنگ کے باعث عالمی توانائی منڈی بھی متاثر ہو رہی ہے، خلیج کو عالمی منڈیوں سے ملانے والی اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل تقریباً رک گئی ہے، جس سے دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل سپلائی خطرے میں پڑ گئی ہے،اسی دوران قطر انرجی نے بھی اپنے کچھ گیس منصوبوں کی پیداوار روک دی ہے جس کے بعد یورپ میں گیس کی قیمتوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا،قطر کے توانائی وزیر کے مطابق اگر جنگ جاری رہی تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
حالیہ دنوں میں ایران کے قشم جزیرہ پر واقع پانی صاف کرنے کے پلانٹ پر حملہ ہوا جس کے جواب میں ایران نے بحرین میں ایک ڈی سیلینیشن پلانٹ کو ڈرون حملے سے نقصان پہنچایا، اس واقعے کے بعد خلیجی ممالک میں پانی کی فراہمی کے نظام کو لاحق خطرات پر تشویش بڑھ گئی ہے،ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک دنیا کی ڈی سیلینیشن صلاحیت کا تقریباً نصف حصہ رکھتے ہیں، اس لیے پانی کے انفرا اسٹرکچر پر حملے خطے کے لیے سنگین بحران پیدا کر سکتے ہیں،تجزیہ کاروں کے مطابق خلیجی حکومتیں ابھی تک جنگ میں شامل ہونے سے گریز کر رہی ہیں، لیکن مسلسل حملوں کی صورت میں ان کے لیے غیر جانبدار رہنا بھی مشکل ہو سکتا ہے۔