Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • مقبوضہ کشمیر،امرناتھ یاترا کیلئے حفاظتی اقدامات کی آڑ میں پیراملٹری کی سینکڑوں اِضافی کمپنیاں تعینات

    مقبوضہ کشمیر،امرناتھ یاترا کیلئے حفاظتی اقدامات کی آڑ میں پیراملٹری کی سینکڑوں اِضافی کمپنیاں تعینات

    بھارت کے غیرقانونی زیرِقبضہ جموں کشمیر میں بھارتی انتظامیہ نے سالانہ امرناتھ یاترا کے لیے حفاظتی اقدامات کی آڑ میں پیراملٹری کی اِضافی سینکڑوں کمپنیوں اور ایلیٹ کمانڈو یونٹس کی تعیناتی کے علاوہ نگرانی کا جدید نظام قائم کر دیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یاترا 3 جولائی کو شروع ہو گی اور 28 اگست تک جاری رہے گی۔ یاترا کے راستے پر ہزاروں پیراملٹری اہلکاروں کی تعیناتی کے علاوہ 4 سوسے زائد سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں ۔
    فوج ، سی آر پی ایف ، بی ایس ایف اور آئی ٹی بی پی کے ساتھ ساتھ سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز کی تقریباً 700 کمپنیاں جموں سری نگر شاہراہ ، بیس کیمپوں اور ٹرانزٹ پوائنٹس پر تعینات کی گئی ہیں۔بھارتی فورسز کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مسلسل فرضی مشقیں کر رہی ہیں۔

    یاد رہے کہ حالیہ برسوں کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سالانہ امرناتھ یاترا میں شرکت کرنے والوں کی تعداد تقریباً ساڑھے 3 لاکھ سے 5 لاکھ کے درمیان رہی ہے۔ہر برس لاکھوں ہندو یاتریوں کی مقبوضہ وادیِ کشمیر میں آمد سے یہاں کا قدرتی ماحول بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ بھارت یاترا کے انعقاد کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات کر رہا ہے اور تمام وسائل بروئے کار لاتا ہے جبکہ دوسری طرف وہ دیگر بنیادی حقوق کے ساتھ ساتھ کشمیری مسلمانوں کے مذہبی حقوق بھی سلب کر رہا ہے۔ بھارتی انتظامیہ سرینگر کی تاریخی جامع مسجد اکثر جمعہ کے روز سیل کر کے کشمیری مسلمانوں کو اس میں نمازِ جمعہ کے اہم دینی فریضے سے روک دیتی ہے۔ بھارت نے مقبوضہ علاقے میں محرم الحرام کے بڑے جلوسوں پر بھی پابندی عائد کر رکھی ہے۔

  • پنجاب،صحت کے شعبے میں تین بڑے منصوبے افتتاح کے لیے تیار

    پنجاب،صحت کے شعبے میں تین بڑے منصوبے افتتاح کے لیے تیار

    پنجاب کے عوام کے لیے صحت کے شعبے میں تین بڑے منصوبے افتتاح کے لیے تیار ہیں۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ کے اجلاس میں نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی سرگودھا، نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ اور جناح انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لاہور کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی سرگودھا کا تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے اور اس کا افتتاح 15 جولائی کو متوقع ہے۔ نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ کا افتتاح 31 جولائی جبکہ جناح انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لاہور کا افتتاح 15 اگست کو کیا جائے گا۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں 22 ملین مریضوں کو مفت علاج فراہم کیا گیا، جبکہ چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام کے تحت بچوں کے دل کی 13 ہزار 550 مفت سرجریاں مکمل کی گئیں۔ ادویات کی فراہمی کے پروگرام کے تحت 7 لاکھ 28 ہزار مریضوں کو ان کی دہلیز پر مفت ادویات فراہم کی گئیں۔وزیر اعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ پنجاب میں بہترین ہیومن ریسورس لانا ان کا مشن ہے۔ اجلاس میں ڈائیسپورا ڈاکٹر لوکم پروگرام کی منظوری بھی دی گئی، جس کے تحت بیرون ملک پاکستانی اور غیر ملکی ماہر ڈاکٹرز کو پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں شارٹ ٹرم سروس کے لیے شامل کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ بیرون ملک سے آنے والے ماہر ڈاکٹرز اور نرسز کو بہترین پیکیج دیا جائے گا جبکہ نرسنگ کیئر کے معیار کو مزید بہتر بنایا جائے گا

  • ایرانی وزیر ٹرانسپورٹ  فرزانہ صادق کی علیم خان سے ملاقات

    ایرانی وزیر ٹرانسپورٹ فرزانہ صادق کی علیم خان سے ملاقات

    اسلام آباد: پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی ایران کی وزیر ٹرانسپورٹ فرزانہ صادق نے وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان ٹرانسپورٹ، تجارت اور سرحدی روابط کے فروغ سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات میں پاکستان کی جانب سے وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی، وفاقی وزیر تجارت جام کمال اور وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار بھی شریک تھے، جبکہ دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔اس موقع پر وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے خطے میں امن کے قیام پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایرانی عوام کے پختہ عزم، حوصلے اور استقامت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں پاکستان اور ایران کے درمیان سڑک اور ریل کے ذریعے روابط مزید مضبوط ہوں گے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیوں اور معاشی تعاون میں نمایاں اضافہ ہوگا۔عبدالعلیم خان نے کہا کہ زمینی رابطوں کے فروغ سے نہ صرف دوطرفہ تجارت کو وسعت ملے گی بلکہ خطے میں اقتصادی انضمام اور ترقی کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان ٹرانسپورٹ کے شعبے میں درپیش مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔

    اجلاس میں مختلف تجاویز پر غور کیا گیا اور دونوں وفود نے پاک ایران مشترکہ ٹرانسپورٹ کمیٹی کو فعال بنانے پر اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ سرحدی علاقوں میں ٹرانسپورٹ اور تجارتی سرگرمیوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مشترکہ اقدامات کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

    ایرانی وزیر ٹرانسپورٹ فرزانہ صادق نے جنگ بندی اور امن معاہدے کے حوالے سے پاکستان کے مثبت اور تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے حکومتِ پاکستان اور پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام پاکستان کی بھرپور حمایت اور تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ملاقات کے دوران فرزانہ صادق نے دونوں ممالک کے درمیان ٹرکوں اور کنٹینرز کی کلیئرنس میں حائل مشکلات کا معاملہ بھی اٹھایا، جس پر فریقین نے باہمی تعاون کے ذریعے ان مسائل کے جلد حل کے عزم کا اظہار کیا۔اجلاس کے اختتام پر دونوں ممالک نے پاک ایران بارڈر پر موجود حل طلب امور کو مشترکہ کوششوں سے نمٹانے اور ٹرانسپورٹ، تجارت اور مواصلات کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

  • ہنگری میں انسانی اعضا جمع کرنے، انسانی گوشت کھانے والا ملزم گرفتار

    ہنگری میں انسانی اعضا جمع کرنے، انسانی گوشت کھانے والا ملزم گرفتار

    ہنگری پولیس نے 30 سالہ شخص کو گرفتار کر لیا ہے جس پر الزام ہے کہ وہ اسپتال اور متروک قبرستانوں سے انسانی جسم کے اعضا جمع کرکے اپنے گھر میں محفوظ رکھتا تھا۔

    ہنگری کے نیشنل بیورو آف انویسٹی گیشن کے مطابق ملزم کو 17 جون کو دارالحکومت بوڈاپیسٹ سے گرفتار کیا گیا۔ پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ وہ انسانی اعضا اپنے گھر اور اسپتال میں ذخیرہ کر رہا ہے۔ ملزم ایک اسپتال میں وارڈ اٹینڈنٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔پولیس نے ملزم کے اپارٹمنٹ پر چھاپے کے دوران کئی انسانی کھوپڑیاں، ایک مکمل نچلی ٹانگ، ایک ہاتھ اور انسانی چہرے کی جلد سے تیار کردہ چہرے کا نمونہ برآمد کیا۔ اس کے علاوہ ایک سوٹ کیس میں مزید ہڈیاں بھی رکھی ہوئی تھیں۔تحقیقات کے دوران ایک مرتبان میں محفوظ دل بھی برآمد ہوا، جس کے بارے میں ماہرین یہ تعین کر رہے ہیں کہ آیا وہ انسانی ہے یا کسی جانور کا۔

    پولیس کے مطابق ملزم نے دورانِ تفتیش انسانی اعضا جمع کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ اسے انسانی جسم کے اعضا میں غیرمعمولی دلچسپی تھی۔ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ بعض انسانی اعضا سے کھانا تیار کر کے کھا چکا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کو انسانی باقیات کے غیرقانونی استعمال کے شبہے میں حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق وہ اناٹومی اور پیتھالوجی کا شوقین ہے اور جانوروں کی چیر پھاڑ بھی کرتا رہا ہے۔تفتیش کاروں کا شبہ ہے کہ ملزم نے کچھ اعضا اپنے اسپتال کے کام کے دوران حاصل کیے جبکہ بعض انسانی باقیات ہنگری اور سلواکیہ کے متروک قبرستانوں سے قبریں کھود کر نکالی گئیں۔

    پولیس نے ملزم کے کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹس، موبائل فونز، سم کارڈز اور دیگر ڈیجیٹل مواد بھی قبضے میں لے لیا ہے۔ تمام برآمد شدہ انسانی باقیات فرانزک ماہرین کے حوالے کر دی گئی ہیں، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات آگے بڑھنے کے ساتھ مقدمے میں مزید سنگین الزامات بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔

  • ایران جنگ کے بعد خلیجی ممالک کی نئی حکمتِ عملی، امریکہ پر اعتماد میں کمی

    ایران جنگ کے بعد خلیجی ممالک کی نئی حکمتِ عملی، امریکہ پر اعتماد میں کمی

    ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ بندی معاہدے کے بعد خلیجی عرب ممالک ایک نئے سکیورٹی اور سفارتی دوراہے پر کھڑے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ نے نہ صرف خطے کے سکیورٹی ڈھانچے کو متاثر کیا ہے بلکہ امریکہ کی جانب سے فراہم کی جانے والی سکیورٹی ضمانتوں پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔خلیجی ممالک کئی دہائیوں سے امریکہ کو اپنا سب سے اہم سٹریٹجک اتحادی تصور کرتے رہے ہیں، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور سے واشنگٹن اور خلیجی ریاستوں کے تعلقات میں ایک زیادہ "لین دین” پر مبنی سوچ نمایاں ہونے لگی تھی۔ ٹرمپ نے 2018 میں سعودی عرب کے بارے میں کہا تھا کہ امریکہ کے بغیر سعودی قیادت زیادہ دیر تک محفوظ نہیں رہ سکتی، جسے خلیجی ممالک میں مختلف انداز سے دیکھا گیا۔

    2019 میں سعودی عرب کی اہم تیل تنصیبات پر حملے کے بعد، جس کا الزام ایران پر عائد کیا گیا، خلیجی ممالک میں یہ خدشات پیدا ہوئے کہ امریکہ کس حد تک ان کے دفاع کے لیے عملی اقدامات کرنے کو تیار ہے۔ یہی خدشات حالیہ ایران جنگ کے بعد مزید گہرے ہو گئے ہیں۔رواں سال امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی اور اس کے بعد ایران کے جوابی حملوں نے خلیجی ریاستوں کو براہ راست متاثر کیا۔ متحدہ عرب امارات، بحرین،سعودی عرب اور کویت ان ممالک میں شامل ہیں جنہیں جنگ کے دوران ایرانی حملوں کے خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔اسی پس منظر میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کویت، بحرین اور متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے خلیجی قیادت کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ امریکہ کی سکیورٹی وابستگیاں برقرار ہیں۔ روبیو نے کہا کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ مذاکرات میں اپنے خلیجی اتحادیوں کے مفادات کو نظر انداز نہیں کرے گا اور ہر اہم فیصلے پر انہیں اعتماد میں لیا جائے گا۔

    ماہرین کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان ابھرنے والا نیا معاہدہ خلیجی دارالحکومتوں میں تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ خلیجی ممالک کا مؤقف ہے کہ معاہدہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور اس کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں جیسے اہم مسائل کا مکمل حل پیش نہیں کرتا۔مزید برآں، معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیوں کی نگرانی میں ایران کو ایک باضابطہ کردار دیا جا رہا ہے۔ چونکہ خلیجی ممالک کی توانائی برآمدات اور سمندری تجارت کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے، اس لیے کئی حلقے اسے اپنے اقتصادی مفادات کے لیے خطرہ سمجھ رہے ہیں۔ معاہدے میں ایران کی تعمیر نو کے لیے 300 ارب ڈالر کے خصوصی فنڈ کی تجویز بھی شامل ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اس منصوبے کے لیے خلیجی ممالک کی مالی معاونت کا عندیہ دیا ہے، تاہم اب تک سعودی عرب اور دیگر ریاستوں نے اس حوالے سے واضح عزم کا اظہار نہیں کیا۔سعودی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں اس منصوبے کی مکمل تفصیلات موصول نہیں ہوئیں، جبکہ قطر نے دلچسپی ظاہر کی ہے لیکن باضابطہ شمولیت اختیار نہیں کی۔

    سفارتی ذرائع کے مطابق خلیجی ممالک اب اپنی دفاعی ضروریات کے لیے متبادل شراکت داروں پر بھی غور کر رہے ہیں۔ ترکی کو اس سلسلے میں ایک ممکنہ دفاعی سپلائر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ کئی ریاستیں اپنی مقامی دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کے منصوبوں پر کام کر رہی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک مستقبل میں ایک ایسے علاقائی سکیورٹی نظام پر غور کر سکتے ہیں جس میں ایران کے ساتھ "عدم جارحیت معاہدہ” بھی شامل ہو۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کے کسی معاہدے کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ خلیجی ممالک اپنی دفاعی طاقت اور مشترکہ سکیورٹی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنائیں۔

    علاقائی مبصرین کا خیال ہے کہ خلیجی ممالک اب نہ صرف ایران بلکہ امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کا بھی ازسرِنو جائزہ لے رہے ہیں۔ کئی ماہرین کے مطابق امریکہ پر مکمل انحصار کی پالیسی کمزور پڑ رہی ہے اور خلیجی ریاستیں مستقبل میں زیادہ خودمختار سکیورٹی حکمت عملی اختیار کرنے کی کوشش کریں گی۔تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں پائیدار امن کے لیے صرف سفارت کاری کافی نہیں ہوگی بلکہ دفاعی تیاری، علاقائی تعاون اور مؤثر بازدار قوت بھی ناگزیر ہوگی۔ ایران جنگ کے بعد پیدا ہونے والی نئی صورتحال نے مشرق وسطیٰ کے سکیورٹی منظرنامے کو تبدیل کر دیا ہے اور آنے والے برسوں میں اس کے اثرات مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

  • پاکستان میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی تجویز

    پاکستان میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی تجویز

    اسلام آباد: پاکستان میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کرنے کی تجویز پر عوامی اور سماجی حلقوں میں بحث تیز ہوگئی ہے۔ ماہرین، والدین اور مختلف سماجی تنظیمیں اس معاملے کو بچوں کی ذہنی، اخلاقی اور سماجی نشوونما سے جوڑتے ہوئے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

    تجویز کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ سوشل میڈیا پر موجود مواد اکثر مذہبی اور اخلاقی اقدار سے متصادم ہوتا ہے، جبکہ بیرونی ثقافتی اثرات خاندانی نظام اور معاشرتی روایات کو کمزور کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ ان کے مطابق بچوں میں مسلسل اسکرولنگ کی عادت علمی اور فکری صلاحیتوں کی نشوونما کو متاثر کر رہی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کی لت اضطراب، ڈپریشن، نیند کی خرابی اور توجہ میں کمی جیسے مسائل کو جنم دے رہی ہے۔ اس کے علاوہ پرتشدد مواد کے باعث تشدد کو معمول سمجھنے کا رجحان بڑھ رہا ہے، جس سے انتہاپسندی اور نقل پر مبنی خطرناک رویوں کے فروغ کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق جھوٹی خبروں اور پروپیگنڈے کے تیزی سے پھیلاؤ میں بھی سوشل میڈیا اہم کردار ادا کر رہا ہے، جس سے سماجی اور فرقہ وارانہ تقسیم میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ بچوں اور کم عمر افراد کے جنسی استحصال اور نامناسب مواد تک رسائی کے خدشات کو بھی پابندی کے حق میں اہم دلائل قرار دیا جا رہا ہے۔بین الاقوامی سطح پر بھی متعدد ممالک کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی یا سخت ضوابط متعارف کرا رہے ہیں۔ آسٹریلیا نے 16 سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کرنے کا قانون منظور کیا، جبکہ برطانیہ، ملائیشیا اور یونان سمیت کئی ممالک اس حوالے سے مختلف اقدامات کر رہے ہیں۔ فرانس، اسپین، ڈنمارک، اٹلی، ترکیہ، آسٹریا، انڈونیشیا اور دیگر ممالک میں بھی متعلقہ قوانین پر غور یا قانون سازی کا عمل جاری ہے۔

    پاکستان میں اس تجویز پر عملدرآمد کو ایک بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ بیشتر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز غیر ملکی ملکیت ہیں اور ان کے مقامی دفاتر موجود نہیں۔ ماہرین کے مطابق مؤثر قانون سازی، نگرانی کے جدید نظام اور متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون کے بغیر پابندی پر عملدرآمد مشکل ہوگا۔تجویز کے تحت والدین کو بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی، تعلیمی اداروں میں ڈیجیٹل خواندگی کے فروغ، مذہبی و سماجی اداروں کی آگاہی مہمات اور انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے عمر کی بنیاد پر فلٹرنگ جیسے اقدامات اختیار کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کے تحفظ اور صحت مند معاشرتی ماحول کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق مؤثر پالیسی سازی وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے، جس پر حکومت کو ترجیحی بنیادوں پر غور کرنا چاہیے۔

  • شمالی وزیرستان میں فتنہ الخوارج کی جانب سے معصوم بچوں کے جنسی استحصال کا انکشاف

    شمالی وزیرستان میں فتنہ الخوارج کی جانب سے معصوم بچوں کے جنسی استحصال کا انکشاف

    پلنگ زئی،شمالی وزیرستان میں فتنہ الخوارج کی جانب سے معصوم بچوں کے جنسی استحصال کے ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں

    پاک فوج کے آپریشن کے دوران خوارج کے چنگل سے بازیاب ہونے والے بچے نے خوارج کی جنسی درندگی کو بے نقاب کردیا،جنسی زیادتی کے شکار بچے اکرام اللہ نے بتایا کہ؛ اس کے والد کی وفات کے بعد خوارج اسے اپنے ساتھ منظر خیل مرکز لے گئے جہاں وہ اس کا جنسی استحصال کرتے تھے،مرکز میں اور بھی تین سے چار بچے تھے ،انکے ساتھ خارجی بدفعلی کرتے تھے، زیادہ تر خارجی افغانی تھے، کچھ عرصہ بعد مجھے پلنگزئی لایا گیا جہاں ایک خارجی نے مسجد میں قائم مرکز میں مسلسل بدفعلی کا نشانہ بنایا، متاثرہ بچے نے بتایا کہ اسے کئی خارجی متعدد بار زیادتی کا نشانہ بناتےرہے،بعد ازااں پاک فوج نے اسے بازیاب کرایا

    سماجی ماہرین کے مطابق؛خوارج کی طرف سے بچوں کا جنسی استحصال اور اس کیلئے مساجد کا استعمال انتہائی مکروہ فعل ہے ،مساجد کی بے حرمتی پر ہر مسلمان انتہائی دکھی ہے،معصوم لوگوں کے قتل عام اور بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والا فتنہ کسی رعایت کا مستحق نہیں ہو سکتا ،

  • یورپ شدید گرمی کی لپیٹ میں، فرانس میں لاکھوں مرغیاں ہلاک، برطانیہ میں ہنگامی صورتحال

    یورپ شدید گرمی کی لپیٹ میں، فرانس میں لاکھوں مرغیاں ہلاک، برطانیہ میں ہنگامی صورتحال

    یورپ کے مختلف ممالک شدید گرمی کی لہر کی زد میں ہیں، جہاں ریکارڈ توڑ درجہ حرارت نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ فرانس میں شدید گرمی کے باعث پولٹری فارمز پر لاکھوں مرغیاں ہلاک ہو گئی ہیں جبکہ لاشیں ٹھکانے لگانے کی خدمات بھی دباؤ کا شکار ہو گئی ہیں۔

    فرانس کے علاقے پیدیلا لوائر کے ایک پولٹری فارمر کلیمنٹ بلانشارڈ کے مطابق چند روز کے دوران ان کے تقریباً 700 مرغے مر گئے، جبکہ عام حالات میں روزانہ صرف ایک یا دو مرغیاں ہلاک ہوتی تھیں۔دیگر علاقوں میں‌بھی مختلف پولٹری فارمز پر لاکھوں مرغیاں شدید گرمی کی وجہ سے ہلاک ہو چکی ہیں، حکام متاثرہ علاقوں میں مردہ پرندوں کو فارموں پر ہی دفنانے کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔دوسری جانب برطانیہ میں شدید گرمی کے باعث متعدد تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے ہیں۔ مختلف علاقوں میں سیکڑوں اسکول مکمل یا جزوی طور پر بند ہیں جبکہ طلبہ کو گرمی سے بچاؤ کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔برطانیہ کے شہر پورٹس ماؤتھ میں واقع کوئین الیگزینڈرا اسپتال نے کولنگ سسٹم میں خرابی کے بعد "کریٹیکل انسیڈنٹ” کا اعلان کر دیا۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق خرابی سے آپریشن تھیٹرز، تشخیصی اسکیننگ اور دیگر اہم طبی خدمات متاثر ہوئی ہیں، تاہم ہنگامی اور ضروری طبی سہولیات بدستور جاری ہیں۔

    ادھر فرانس میں گرمی کی شدت کے باعث 50 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جن میں 48 افراد ڈوبنے کے واقعات اور دو کم سن بچے گرم گاڑی میں دم گھٹنے سے ہلاک ہوئے۔ پیرس میں درجہ حرارت 40.9 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا جبکہ بعض علاقوں میں 44 ڈگری سے زائد ریکارڈ کیا گیا، جو ملکی تاریخ کے گرم ترین دنوں میں شمار ہو رہا ہے۔ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی کے باعث صحت، ٹرانسپورٹ، توانائی اور دیگر بنیادی سہولیات متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

  • کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کوایک اوربڑا جھٹکا،کور ممبرفیصل جمیل کشمیری کا لاتعلقی کا اعلان

    کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کوایک اوربڑا جھٹکا،کور ممبرفیصل جمیل کشمیری کا لاتعلقی کا اعلان

    آزاد کشمیر میں افراتفری و قتل وغارت کرنے والی انتشاری کمیٹی سے اپنے ارکان بھی لاتعلقی کا اعلان کررہے ہیں

    کور ممبر فیصل جمیل کشمیری نے نوجوانوں سے کالعدم کمیٹی کے انتشار کو مسترد کرنے کی اپیل کر دی،کہا کالعدم قرار دی جانے والی تنظیم عوامی ایکشن کمیٹی سے علیحدگی کا اعلان کرتا ہوں، عوامی حقوق اور آٹے بجلی کی قیمتوں سے شروع ہونیوالی تحریک کا رخ موڑ دیا گیا ہے ، کالعدم کمیٹی کیطرف سے ریاست اور اداروں کیخلاف کی جانے والی باتوں سے میراکوئی تعلق نہیں ، کالعدم کمیٹی کیجانب سے ہونے والی باتیں آزاد کشمیرکے لوگوں کا مؤقف ہرگز نہیں ہو سکتا ،کالعدم انتشاری کمیٹی کا ریاست مخالف ایجنڈا افسوسناک ہے ، اس سے متفق نہیں ہو سکتا ، چیزوں کو باہمی مذاکرات اور بات چیت سے حل کیا جانا چاہیے، امن کو خراب نہ کیا جائے،

    کور ممبر فیصل جمیل سے قبل بلال شیخ ،رضوان کرامت،افتخار محمود،انجم زمان اور امجد علی خان ایڈووکیٹ بھی کالعدم کمیٹی سےاظہار لاتعلقی کر چکےہیں ،ماہرین کا کہنا ہے کہ عوامی حقوق کے نام پر انتشار پھیلانے والی کمیٹی کے ارکان بھی ان سےمتنفر ہو چکےہیں، کالعدم کمیٹی کے مہرے بیرونی ایماء پر چلنے والی انتشاری تحریک سے لاتعلقی کا اعلان کر رہےہیں،

  • صدر مملکت،وزیراعظم کا وینزویلا زلزلے میں تباہی پر گہرے دکھ،افسوس کا اظہار

    صدر مملکت،وزیراعظم کا وینزویلا زلزلے میں تباہی پر گہرے دکھ،افسوس کا اظہار

    صدر مملکت آصف علی زرداری اوروزیراعظم محمد شہباز شریف ے وینزویلا میں آنے والے شدید زلزلے کے نتیجے میں ہونے والی تباہی، جانی نقصان اور زخمیوں پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی وینزویلا میں شدید زلزلوں کے باعث ہونے والی تباہی اور انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے سوگوار خاندانوں سے تعزیت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی اور متاثرہ افراد کے لیے ہمت، حوصلے اور استقامت کی دعا کی۔صدر مملکت نے امید ظاہر کی کہ وینزویلا کے عوام اس سانحے کا بہادری اور عزم کے ساتھ مقابلہ کریں گے، جبکہ امدادی اور ریسکیو سرگرمیاں ضرورت مند افراد تک بروقت مدد پہنچانے میں کامیاب ہوں گی۔ انہوں نے اس مشکل وقت میں وینزویلا کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ بھی کیا۔

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے وینزویلا کی حکومت اور عوام، بالخصوص متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام اس مشکل گھڑی میں وینزویلا کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے زلزلے میں جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ سے اظہارِ افسوس کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان مشکل اور کٹھن وقت میں متاثرہ افراد کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور اس قدرتی آفت سے متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کا شریک ہے۔