Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بلاول زرداری سے علیم خان کی وفد کے ہمراہ ملاقات

    بلاول زرداری سے علیم خان کی وفد کے ہمراہ ملاقات

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول زرداری اور صدر استحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان کے درمیان پارلیمنٹ ہاؤس میں اہم ملاقات ہوئی، جس میں گلگت بلتستان میں حکومت سازی سمیت باہمی سیاسی تعاون اور دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان خوشگوار ماحول میں گفتگو ہوئی اور باہمی دلچسپی کے مختلف سیاسی معاملات پر خیالات کا اظہار کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی اور استحکام پاکستان پارٹی نے گلگت بلتستان میں آئندہ بھی سیاسی تعاون جاری رکھنے اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا۔اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف بھی موجود تھے، جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کی جانب سے عون چوہدری، گل اصغر بگھور اور منزہ حسن نے ملاقات میں شرکت کی۔سیاسی حلقوں میں اس ملاقات کو گلگت بلتستان کی آئندہ سیاسی صورتحال اور حکومت سازی کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جہاں دونوں جماعتوں کے درمیان تعاون کے امکانات مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔

  • پاک بحریہ جدیدیت، خود انحصاری اور مشترکہ آپریشنز کے عزم پر کاربند ہے،نیول چیف

    پاک بحریہ جدیدیت، خود انحصاری اور مشترکہ آپریشنز کے عزم پر کاربند ہے،نیول چیف

    پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف نے کہا ہے کہ مستقبل کی جنگوں میں کامیابی کے لیے نہ صرف روایتی جنگی حکمت عملیوں پر نظرثانی ضروری ہے بلکہ ایسی افرادی قوت کی تیاری اور تربیت بھی ناگزیر ہے جو فکری طور پر مضبوط اور جدید ٹیکنالوجی میں مہارت رکھتی ہو۔

    پاک بحریہ کے ترجمان کے مطابق چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے پاکستان نیوی وار کالج لاہور کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے 55ویں پاکستان نیوی اسٹاف کورس کے شرکاء سے خطاب کیا۔اپنے خطاب میں نیول چیف نے جدید جنگوں کی بدلتی ہوئی نوعیت اور ابھرتے ہوئے بحری سلامتی کے خطرات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور کے روایتی اور غیر روایتی سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عسکری حکمت عملیوں میں جدت اور موافقت ضروری ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاک بحریہ جدیدیت، مقامی سطح پر دفاعی صلاحیتوں کے فروغ اور مشترکہ آپریشنز کے اصولوں پر عمل پیرا ہے۔ایڈمرل نوید اشرف نے کہا کہ شرکاء کو اپنی تزویراتی سوچ اور عملی بصیرت کو مزید نکھارنا ہوگا تاکہ وہ مستقبل میں درپیش پیچیدہ چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرسکیں۔

    پاکستان کو درپیش بحری چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے نیول چیف نے کہا کہ بحرِ ہند کا خطہ مسلسل تبدیلیوں اور مسابقتی ماحول سے گزر رہا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ خطے میں نئی جغرافیائی و سیاسی صف بندیاں اور طاقت کے حصول کی دوڑ بحرِ ہند کے سیکیورٹی ماحول پر اثرانداز ہورہی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جدید جنگی تصورات میں مختلف شعبوں پر مشتمل آپریشنز (ملٹی ڈومین آپریشنز) کا مؤثر نفاذ مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے پاک بحریہ کے مختلف ترقیاتی منصوبوں اور اقدامات پر بھی روشنی ڈالی، جن کا مقصد پاک بحریہ کو ایک مضبوط اور مؤثر علاقائی بحری قوت کے طور پر مزید مستحکم کرنا ہے۔

    خطاب کے اختتام پر چیف آف دی نیول اسٹاف نے 55ویں پاکستان نیوی اسٹاف کورس کے شرکاء کو کامیاب تکمیل پر مبارکباد دی اور انہیں ہدایت کی کہ وہ اپنے آئندہ فرائض میں باریک بینی، تجزیاتی صلاحیت، جدت پسندی اور پیشہ ورانہ مہارت کو اپنا شعار بنائیں۔

  • وزیراعظم کابینہ کو کنٹرول کریں،ایم کیو ایم حکومت سے کیوں نہیں نکلتی،بلاول

    وزیراعظم کابینہ کو کنٹرول کریں،ایم کیو ایم حکومت سے کیوں نہیں نکلتی،بلاول

    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول زرداری نے ایم کیو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کے مطالبات نہیں مانے جاتے تو حکومت سے نکل جائے، پورے ملک میں صرف سندھ میں بلدیاتی نظام ہے، آئین میں ترمیم کراؤ، اسلام آباد میں الیکشن کراؤ، بلدیاتی نظام صرف بہانہ ہے، ملک بھر میں بلدیاتی الیکشن کرائے جائیں۔

    بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ آئی پی پی اور ن لیگ کی مدد سے گلگت بلتستان میں حکومت بنائیں گے، گلگت بلتستان میں 90 دن کے اندر بلدیاتی الیکشن کرائیں گے۔کراچی کے دوستوں کو بتانا چاہتا ہوں پیپلز پارٹی سے آپ کا کوئی مسئلہ نہیں،آپ کے کابینہ کے دوست آپ سے غلط بیانی کرتے ہیں ،اگر حکومت آپ کا مطالبہ پورا نہیں کرتی تو نکلو حکومت سے، یہ آپ کو ہم سے لڑوانا چاہتے ہیں،چند ایسے وزیر ہیں جو وزیر اعظم کی مدد کی بجائے مشکلات پیدا کرتے ہیں،سندھ میں منتخب ضلعی حکومتوں کو با اختیار بنانے کے لئے آئین میں ترمیم کرنے کی باتیں ن لیگ کا کراچی کے لوگوں کے لئیے ایک لالی پاپ ہیں، اگر ایم کیو ایم اپنے مطالبات میں سنجیدہ ہے تو وفاقی حکومت سے الگ ہو کر دکھائے۔وزیراعظم شہبازشریف اپنی کابینہ کو کنٹرول کریں ،اپنی ٹیم کو کنٹرول کریں ،اس وقت صرف جہاں پیپلزپارٹی کی حکومت ہے وہاں بلدیاتی نظام ہے ، جہاں مسلم لیگ ن کی حکومت وہاں وہ خوف زدہ ہے ایک یونین کونسل کے الیکشن کیلئے تیار نہیں،بڑی بڑی باتیں کررہے ہیں آئین میں ترمیم ،یہاں اسلام آباد تک میں بلدیاتی نظام نہیں ہے

    بلاول زرداری نے خواجہ آصف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیر دفاع کشمیریوں کے بارے میں ایسا بیان کیسے دے سکتا ہے ؟ کہ راولا کوٹ کے لوگ کشمیری نہیں ہے۔ایسا شخص اب تک وزیر کیسے ہے۔ کہ غلط بیان دیتا ہے اور اس پر معافی بھی نہیں مانگتا،ایک وفاقی وزیر نے کشمیر کے الیکشن سے متعلق کہا کہ ہم اپنی جیب میں 12 سیٹیں لے کر آتے ہیں، اِن کے اِس جیسے بیانات نے کشمیر میں یہ حالات پیدا کیے ہیں۔ تجویز ہے مولانا فضل الرحمان کی پیشکش کو قبول کیا جائے، حکومت کو سیاسی راستہ نکالنا چاہئے، ہمیں کشمیر کاز کو نقصان نہیں پہنچانا چاہئے۔

  • خواجہ آصف کے بیانات سے اشتعال میں اضافہ ہو سکتا ہے،مولانا فضل الرحمان

    خواجہ آصف کے بیانات سے اشتعال میں اضافہ ہو سکتا ہے،مولانا فضل الرحمان

    اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت پر زور دیا ہے کہ آزاد کشمیر کی عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ فوری مذاکرات کیے جائیں اور صورتحال کو افہام و تفہیم کے ذریعے حل کیا جائے۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی نے ان سے رابطہ کیا ہے اور انہیں اپنا آئندہ لائحہ عمل دینا تھا، تاہم تاحال اس حوالے سے کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے بتایا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کا باضابطہ خط موصول ہوا تھا جسے حکومت کو بھجوا دیا گیا، لیکن اب تک اس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ راولاکوٹ میں بڑی تعداد میں لوگ موجود ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ حکومت مظاہرین کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے اور ان کے چارٹر آف ڈیمانڈ کا جائزہ لے۔ ان کا کہنا تھا کہ محض تقاریر کی بنیاد پر مظاہرین کے خلاف تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا جانا چاہیے۔

    جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے مظفرآباد کی طرف اعلان کردہ مارچ مؤخر کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ مثبت پیش رفت ہے جس سے مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو سکتا ہے۔انہوں نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے حالیہ بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات ایک ذمہ دار وزیر کو زیب نہیں دیتے اور ان سے اشتعال میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ایک طرف مصالحت کی ذمہ داری نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو دی گئی ہے جبکہ دوسری طرف سخت بیانات دیے جا رہے ہیں، جو صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔اپوزیشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کی کوشش نہ کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ جے یو آئی (ف) نے چارسدہ میں لاکھوں افراد کا اجتماع منعقد کیا اور حکومتی جماعتیں بھی ایسے عوامی اجتماعات کر کے دکھائیں۔مولانا فضل الرحمٰن نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں تحمل، برداشت اور سنجیدگی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کا ردِعمل جذباتی ہوگا تو یہ اس کے منصب اور ذمہ داریوں کے شایانِ شان نہیں ہوگا۔

  • کیری بولان میں ڈلیوری کیس، شوکاز نوٹس، تین رکنی انکوائری کمیٹی قائم

    کیری بولان میں ڈلیوری کیس، شوکاز نوٹس، تین رکنی انکوائری کمیٹی قائم

    غفلت کے الزامات پر ایم ایس ٹی ایچ کیو گوجرخان کا فوری ایکشن، متعلقہ ڈاکٹر اور نرسنگ اسٹاف کو شوکاز نوٹس جاری وضاحت طلب
    گاڑی میں ڈلیوری کے واقعہ پر محکمہ صحت متحرک سی ای او ہیلتھ راولپنڈی نے حقائق جاننے کیلئے انکوائری کمیٹی قائم کر دی، رپورٹ طلب
    گوجرخان (قمرشہزاد) ٹی ایچ کیو ہسپتال گوجرخان سے ریفر کی جانے والی زچہ کی روات کے قریب جی ٹی روڈ پر ایک کیری بولان میں ڈلیوری کے واقعہ کے بعد محکمہ صحت متحرک ہوگیا۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ٹی ایچ کیو ہسپتال گوجرخان ڈاکٹر عمر فاروق مرزا نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ڈیوٹی پر موجود ویمن میڈیکل آفیسر ڈاکٹر سارونہ اسحاق اور چارج نرس حفضہ رسول کو مبینہ غفلت، ناقص مریض نگہداشت اور گائنی یونٹ سے غیر ضروری ریفرل کے الزام میں شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے۔ جاری نوٹس کے مطابق خاتون کو تشویشناک حالت میں مناسب طبی اور انتظامی پروٹوکول کے بغیر ریفر کیا گیا، جس کے نتیجے میں مریضہ نے راولپنڈی جاتے ہوئے نجی گاڑی میں بچے کو جنم دیا۔ نوٹس میں اس واقعہ کو غیر پیشہ ورانہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس سے ماں اور نومولود کی جان خطرے میں پڑی جبکہ ہسپتال کی ساکھ بھی متاثر ہوئی۔ متعلقہ ڈاکٹر اور نرس کو تین روز کے اندر تحریری وضاحت جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے، بصورت دیگر پیڈا رولز کے تحت مزید محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    دوسری جانب چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی راولپنڈی ڈاکٹر احسان غنی نے بھی واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے تین رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کمیٹی میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (میڈیکل سروسز) راولپنڈی کو کنوینر جبکہ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر گوجرخان اور ٹی ایچ کیو ہسپتال کلر سیداں کی کنسلٹنٹ گائناکالوجسٹ ڈاکٹر عاصمہ صدف کو بطور اراکین شامل کیا گیا ہے۔ کمیٹی کو شکایت، متعلقہ ریکارڈ، ڈیوٹی روسٹر، مریضہ کے اندراجات، ریفرل دستاویزات اور دستیاب سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت تمام شواہد کا جائزہ لے کر واقعہ کے حقائق معلوم کرنے، ذمہ داریوں کا تعین کرنے اور تین روز کے اندر اپنی سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں غفلت، بدانتظامی یا فرائض میں کوتاہی ثابت ہونے کی صورت میں متعلقہ ڈاکٹر نرسسز سٹاف کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔

  • قومی اسمبلی اجلاس میں سپیکر ایاز صادق اور اپوزیشن لیڈر  محمود اچکزئی پھر آمنے سامنے

    قومی اسمبلی اجلاس میں سپیکر ایاز صادق اور اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی پھر آمنے سامنے

    قومی اسمبلی اجلاس میں سپیکر ایاز صادق اور اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی پھر آمنے سامنے آ گئے

    سپیکر قومی ایاز صادق نےاپوزیشن لیڈر کو آج بھی سخت جواب دیا ہے،ایاز صادق نے کہا کہ 98 میں پی ٹی آئی چھوڑ دی تھی،2001 کو ن لیگ جوائن کی تھی۔ اقتدار کی پارٹی کو جوائن نہیں کیا تھا اسے جوائن کیا جو مشکل میں تھی ،آپ نے مجھ پر بات کی اور کہا تم حوالدار ہو ، میں دو حوالداروں کو جانتا ہوں ،ایک بارڈر والے اور دوسرا چوروں ڈاکوں منشیات فروشوں کو پکڑتا ہے ،میں بھی ایک انسان ہوں، ہم ایک لائن ڈرا کر دیتے ہیں ،یہ عہدہ یا ایم این اے شپ تاحیات نہیں،نہیں معلوم کب تک سپیکر ہوں ،کسی کی دل آزاری کی بات نہیں کرتا،آپ کا جتنا وقت تھا اس سے دو گنا دیا ،67 اپوزیشن ارکان بولے،آپ لوگوں پر پینا ڈال والا افیکٹ ہوتا ہے،آپ لوگوں پر تین چار گھنٹے میں اثر اتر جاتا ہے ، باہر جا کر کہتے ہیں سپیکر بولنے نہیں دیتا۔

    قومی اسمبلی اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان میں دلچسپ نوک جھونک ہوئی، وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ میں مولانا فضل الرحمان کا بہت احترام کرتا ہوں،میں مولانا فضل الرحمان کے پاس جاتا رہتا ہوں، جو میری ان کے ساتھ تخلیہ میں گفتگو ہوئی ہے وہ ہمیشہ میرے سینے میں راز کی طرح رہے گی، جس پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میری آج تک جو بھی گفتگو ہوئی ہے میں اجازت دیتا ہوں وزیر اعظم بتا دیں،وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ میں مولانا فضل الرحمان کی اجازت کے باوجود نہیں یہ باتیں سامنے نہیں لاؤں گا،کیونکہ اگر میں نے یہ باتیں کر دیں تو بات بہت آگے تک چلی جائے گی .

    مہاجرین کی سیٹوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، سیٹیں ختم کرنے کا فیصلہ آزاد کشمیر اسمبلی کر سکتی ہے،رانا ثناء اللہ
    قومی اسمبلی اجلاس میں ن لیگی رکن رانا ثناء اللہ نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔مولانا فضل الرحمان نے ثالثی کی بات کی ہے جس کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں،میں چند حقائق مولانا فضل الرحمان کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں،جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے 38 مطالبات پیش کیے تھے،وزیراعظم نے مذاکرات کے لیے کمیٹی قائم کی، ہم مظفر آباد جا کر ان سے مذاکرات کر چکے ہیں، بجلی کے ریٹ سے متعلق وزیراعظم نے فوری طور پر مطالبہ منظور کیا، گندم پر 2000 روپے سبسڈی دی جا رہی ہے، ہسپتالوں میں مختلف مشینوں کے حوالے سے مطالبات بھی منظور کیے گئے، مہاجرین کی سیٹوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، سیٹیں ختم کرنے کا فیصلہ آزاد کشمیر اسمبلی کر سکتی ہے،اس حوالے سے 6 رکنی کمیٹی بنائی گئی،جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اس کمیٹی کا بائیکاٹ کیا، 9 جون کے احتجاج کا اعلان انتخابات کو روکنے کے لیے تھا،

  • افغان رجیم کی اندرونی صفوں میں بڑی دراڑ؛ امیرِ طالبان کا اپنے ہی کمانڈر کیخلاف آپریشن کا حکم

    افغان رجیم کی اندرونی صفوں میں بڑی دراڑ؛ امیرِ طالبان کا اپنے ہی کمانڈر کیخلاف آپریشن کا حکم

    افغان رجیم کی اندرونی صفوں میں بڑی دراڑ؛ امیرِ طالبان نے اپنے ہی کمانڈر کیخلاف آپریشن کا حکم دے دیا

    صوبہ بدخشاں کے معدنیاتی وسائل پر قبضے کی جنگ نے سنگین عسکری و سیاسی بحران کی شکل اختیار کر لی،افغان طالبان رجیم اور مقامی تاجک کمانڈر جمعہ خان فاتح کے درمیان معدنیات تقسیم پر اختلافات شدید ہو گئے،طالبان امیر ملا ہیبت اللہ نےمقامی کمانڈر جمعہ خان فاتح کو باغی قرار دے کر فوجی کاروائی کا حکم دے دیا، طالبان اسپیشل فورسز کا قافلہ جمعہ فاتح کی گرفتار ی کیلئے بدخشاں کے ضلع شغنان روانہ کیا گیا،کمانڈر جمعہ کی گرفتاری کیلیے 50 عسکری گاڑیوں پر مشتمل طالبان رجیم کا بھاری دستہ متحرک ہے،کمانڈر جمعہ فاتح نےمقامی افراد کو طالبان رجیم کیخلاف ہتھیار اٹھانے اور کانوں کا کنٹرول سنبھالنے کا حکم دے دیا، جمعہ فاتح نے طالبان رجیم کیخلاف باقاعدہ عسکری کارروائیوں کی منصوبہ بندی شروع کر دی ،کمانڈر جمعہ کادعو ی ہے طالبان رجیم کیخلاف بدخشاں میں 10 ہزار اور ضلع نسی میں 2500 جنگجو تیار ہیں

    افغانستان کے ناراض کمانڈروں کی عسکری مزاحمت طالبان رجیم کے نظریاتی خاتمے کی شروعات ہے،عسکری مزاحمت ملک کو دوبارہ شدید خانہ جنگی میں دھکیل دے گی،افغان رجیم کی جابرانہ پالیسیوں کیخلاف بڑھتی عسکری بغاوتیں داخلی انتشار کا واضح ثبوت ہیں

  • بانی پی ٹی آئی  نے پارلیمانی نظام کو نقصان پہنچایا،خواجہ آصف

    بانی پی ٹی آئی نے پارلیمانی نظام کو نقصان پہنچایا،خواجہ آصف

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ آئیں ماضی کی غلطیاں درست کریں، ماضی سے سبق سیکھ کر 2 پارٹیوں نے میثاق جمہوریت کیا، پی ٹی آئی والے بھی اپنے ماضی پر نظر دوڑائیں۔

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایوان کا تقدس یقینی بنانا سب کی ذمہ داری ہے، نوے کی دہائی کی سیاست سب کے سامنے ہے، آئیں ماضی کی غلطیاں درست کریں، میثاق جمہوریت کریں۔ان کا کہنا ہے کہ اسپیکر کی کرسی پر بیٹھ کر پارٹی کے حق میں فیصلے دئیے گئے، ماضی سے سبق سیکھ کر 2 پارٹیوں نے میثاق جمہوریت کیا، پی ٹی آئی والے بھی اپنے ماضی پر نظر دوڑائیں۔خواجہ آصف نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے پارلیمانی نظام کو نقصان پہنچایا، پی ٹی آئی نے سیاست میں تہذیب ختم کردی، محمود اچکزئی پی ٹی آئی میں بیٹھے ہوئے عجیب لگتے ہیں، محمود اچکزئی کی کچھ روایات ہیں، پی ٹی آئی کی کوئی روایت نہیں،یہ ایوان گواہ ہے کہ انہوں نے اپوزیشن میں رہتے ہوئے کیا کچھ نہیں کیا،مراد سعید ان میزوں پر دوڑتے تھے،زیراعظم شہباز شریف اور وزیرخزانہ اپوزیشن کے پاس گئے وہاں کھڑے ہوکر ان سے بات کی، لیکن جب عمران خان وزیراعظم تھے تو ان کے رہنما ہم سے بات بھی نہیں کرتے تھے کہ کہیں عمران خان ناراض نہ ہوجائیں کہ یہ اپوزیشن سے بات کررہے ہیں۔ ہمارے پارلیمانی نظام اور سیاست کو جتنا عمران خان نے نقصان پہنچایا اتنا پچھلے 78 سال میں کسی شخص نے نہیں پہنچایا۔

    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ افغان سرزمین بھارت کے ہاتھوں پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی آرہی ہے جو کہ پاکستان کے لیے ناقابل برداشت عمل ہے ۔

  • اسلام آباد،بازار میں لگنے والی ہولناک آگ نے سینکڑوں خاندانوں کی روزی چھین لی

    اسلام آباد،بازار میں لگنے والی ہولناک آگ نے سینکڑوں خاندانوں کی روزی چھین لی

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ایچ نائن اتوار بازار میں لگنے والی ہولناک آگ نے سینکڑوں خاندانوں کی روزی روٹی چھین لی۔

    سی ڈی اے کے زیرِ انتظام ملک کے سب سے بڑے ہفتہ وار بازار میں گزشتہ پانچ برس کے دوران یہ چوتھا بڑا آتشزدگی کا واقعہ ہے، جس نے حفاظتی انتظامات اور انتظامی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ریسکیو حکام کے مطابق آگ گزشتہ رات تقریباً 9 بج کر 50 منٹ پر بھڑکی اور صرف چند منٹوں میں بڑے پیمانے پر پھیل گئی۔ ابتدائی تحقیقات میں آگ لگنے کی ممکنہ وجہ شارٹ سرکٹ قرار دی گئی ہے، جبکہ دکانوں میں موجود بیٹریوں کے پھٹنے سے شعلوں کی شدت میں مزید اضافہ ہوا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ آتشزدگی کے نتیجے میں 300 سے 335 کے درمیان دکانیں اور اسٹالز متاثر ہوئے، جبکہ تاجروں کو مجموعی طور پر کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا۔ متاثرہ اسٹال ہولڈرز کا کہنا ہے کہ ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی اور روزگار کا واحد ذریعہ چند گھنٹوں میں جل کر خاکستر ہوگیا۔ابتدائی رپورٹ کے مطابق آگ لگنے کے وقت ایک فائر بریگیڈ گاڑی موقع پر موجود تھی، تاہم بازار بند ہونے سے قبل اسے گیٹ کے باہر منتقل کر دیا گیا تھا اور بازار کو تالے لگا دیے گئے تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آگ کی شدت کے مقابلے میں ایک فائر بریگیڈ گاڑی ناکافی ثابت ہوئی، جس کے باعث شعلے تیزی سے پھیلتے چلے گئے۔تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ متعدد اسٹالز کو کپڑے، ترپالوں اور ٹینٹوں سے ڈھانپا گیا تھا، جس کی وجہ سے آگ ایک اسٹال سے دوسرے اسٹال تک منتقل ہوتی رہی۔ مزید برآں، اسٹال ہولڈرز کی جانب سے فائر سیفٹی کے معیاری ضوابط (ایس او پیز) کی خلاف ورزی بھی رپورٹ کا حصہ بنی ہے۔ریسکیو ذرائع کے مطابق اتوار بازار میں فائر ہائیڈرنٹ یا ہنگامی پانی کے ذخیرے کی عدم موجودگی کے باعث امدادی ٹیموں کو آگ بجھانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی گھنٹوں کی مسلسل کوششوں کے بعد آگ پر قابو پا لیا گیا، تاہم کولنگ کا عمل جاری ہے۔

    دریں اثنا، اسلام آباد انتظامیہ نے واقعے کی وجوہات، ممکنہ غفلت اور نقصانات کا تعین کرنے کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کمیٹی اپنی رپورٹ مرتب کرکے ذمہ داروں کے تعین اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سفارشات پیش کرے گی۔متاثرہ تاجروں نے حکومت اور سی ڈی اے سے فوری مالی امداد اور متبادل کاروباری سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بار بار پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعات کے باوجود مؤثر حفاظتی اقدامات نہ کرنا انتظامیہ کی سنگین ناکامی ہے۔

  • رخصتی نہ ہونے یا ازدواجی تعلق قائم نہ ہونے سے بھی مہر کا قانون ختم نہیں ہوتا،عدالت

    رخصتی نہ ہونے یا ازدواجی تعلق قائم نہ ہونے سے بھی مہر کا قانون ختم نہیں ہوتا،عدالت

    لاہورہائیکورٹ کے جسٹس مرزا وقاص روف کا خلع کی صورت میں حق مہر کی واپسی سے متعلق بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے

    جسٹس مرزا وقاص روف نے حق مہر سے متعلق نیا قانونی نکتی طے کردیا،لاہور ہائیکورٹ کے مطابق رخصتی نہ ہونے یا میاں بیوی کے ساتھ نہ رہنے کے باوجود بھی خاتون حق مہر کی حقدار ہے، رخصتی نہ ہونے یا ازدواجی تعلق قائم نہ ہونے سے بھی مہر کا قانون ختم نہیں ہوتا، لاہورہائیکورٹ کے جسٹس مرزا وقاص روف نے اذکا آفرین کی درخواست پر 9صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا،فیصلے میں کہا گیا کہ اگر نکاح نامے میں مہر کی ادائیگی کا وقت نہ لکھا ہو تو پورا مہر فوری طور پر دیناہو گا،مہر کی تفصیل واضح نہ ہونے پر قانون کے مطابق سارا مہر جب مانگا جائے تب ہی واجب الادامانا جائے گا،نکاح نامے میں لکھا گیا 10 تولہ سونا، ایک کنال زمین اور مکان فوری ادائیگی والا مہر ہے،خلع یعنی عورت کی طرف سےشادی ختم کرنے پر وہ مہر کا 25 فیصد حصہ شوہر کو واپس کرنے کی پابند ہے،خلع کی بنیاد پر شادی اس صورت میں فوری ختم ہوگی بشرطیکہ خاتون مہر کا 25 فیصد حصہ شوہر کو واپس کرے،ہائیکورٹ نے ماتحت عدالتوں کی غلطی دور کرتے ہوئے ازکا افرین کی درخواست منظور کر لی