Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پاکستان بھی ہمارا ،فوج بھی ہماری،ایک دوسرے کو تسلیم کریں،بیرسٹر گوہر

    پاکستان بھی ہمارا ،فوج بھی ہماری،ایک دوسرے کو تسلیم کریں،بیرسٹر گوہر

    چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ میں ہمیشہ سےامیدکرتاآیاہوں کہ تناؤکم اور تعلقات میں بہتری آئے، آج آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس سے مایوسی ہوئی ہے، ملک کا دفاع اہم ہے،پی ٹی آئی کا بیانیہ کبھی ملک دشمن نہ ہے ،نہ ہوگا،

    بیرسٹر گوہر نے ایکس پر کہا کہ ریاستی ادارےاورسیاسی لوگ ایک دوسرےکوذہنی مریض کہے یاخطرہ سمجھیں تو یہ افسوسناک ہے، پاکستان بھی ہمارا اور فوج بھی ہماری ہے،ہم نے اس کا عملی مظاہرہ کیا اور کریں گے،یہ وقت ہے کہ سب ایک دوسرے کو تسلیم کریں،جگہ دیں اور اعتماد کے فقدان کو ختم کریں، مین تمام جمہوریت پسندقوتوں سے اپیل کرتا ہوں کہ تناؤ کو کم کرنے میں کردار ادا کریں، میں اپیل کر تا ہوں کہ کچھ نان اسٹیک ہولڈرز کا طرز عمل پی ٹی آئی اور اداروں کے درمیان تناؤ کا سبب نہیں بنناچاہیے، بانی پی ٹی آئی اوربشریٰ بی بی جیل میں ہے،ان سے ملاقاتوں کی اجازت ہو تو ہم بہتری کی طرف چلے جائیں گے- ملک تناؤ اور انتشار کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے

    فیصلہ ہو گیا،پاگل کو نشان عبرت بنا دیا جائے گا،ڈی جی آئی ایس پی آر کی دھواں دھار پریس کانفرنس

  • بابری مسجد کے بعد بھارتی مسلمان عدم تحفظ ،ذہنی تکلیف کا شکار ہیں، ترجمان دفترخارجہ

    بابری مسجد کے بعد بھارتی مسلمان عدم تحفظ ،ذہنی تکلیف کا شکار ہیں، ترجمان دفترخارجہ

    ترجمان دفترخارجہ نے بابری مسجد کی شہادت سے متعلق بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ بابری مسجد ہماری اجتماعی یادداشت کا حصہ ہے۔

    ترجمان دفتر خار جہ کا کہنا تھا کہ 6 دسمبر 1992 کا واقعہ آج بھی دکھ اور تشویش کا باعث ہے، بابری مسجد کی شہادت عدم برداشت اور مذہبی تعصب کی علامت ہے، مذہبی ورثے کا تحفظ عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے، مسلمانوں کے مذہبی مقامات کو نقصان پہنچانے کے واقعات پراحتساب ضروری ہے، بابری مسجد کے بعد بھارتی مسلمان عدم تحفظ اور ذہنی تکلیف کا شکار ہیں، ہندو انتہا پسند تنظیمیں ریاستی سرپرستی سے اقلیتوں کو مزید محدود کرناچاہتی ہیں، پاکستان بین المذاہب ہم آہنگی اور پُرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے، عالمی برادری مسلمانوں کے مذہبی ورثے کے تحفظ کے لیےکردارادا کرے، بھارت تمام شہریوں کے لیے مساوی حقوق اور مذہبی رواداری کو یقینی بنائے۔

  • فیصلہ ہو گیا،پاگل کو نشان عبرت بنا دیا جائے گا،ڈی جی آئی ایس پی آر کی دھواں دھار پریس کانفرنس

    فیصلہ ہو گیا،پاگل کو نشان عبرت بنا دیا جائے گا،ڈی جی آئی ایس پی آر کی دھواں دھار پریس کانفرنس

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے آج بڑی دھواں دھار پریس کانفرنس کی ہے،لگتا ہے بڑے غصے میں کی ہے، انکے جذبات امڈ کر آ رہے تھے ،ہونا بھی ایسا ہی چاہئے،کافی لوگ اس پر سوال کر رہے تھے، فوج کا کام امپلیمنٹ کرنا ہوتا ہے اس پریس کانفرنس کو اسی تناظر میں لیا جائے

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ فوج کا کام رولز،ریگولیشن کو امپلیمنٹ کرنا ہوتا ہے، فوج سیاسی جملے نہیں بول سکتی انکو دوٹوک بات کرنی ہوتی ہے جو بھی انکا مؤقف ہوتا ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر نے دو تین باتیں بڑی واضح بتا دیں، لاقانونیت بالکل نہیں چلے گی، جس نے اس ملک کو مذاق سمجھا ہوا جمہوریت یا صحافت کے نام پر،اسکی وہ کاروائی نہیں چلے گی، تیسرا دہشتگردوں کے لئے کسی قسم کی کوئی گنجائش نہیں، دہشتگردی صرف بندوق اٹھانا نہیں بلکہ زبان ،قلم،مائیک سے بھی پاکستان، ریاست کو کمزور کرنا یہ بھی دہشتگردی ہے،

    مبشر لقمان کا مزیدکہنا تھا کہ بہت سارے ادارے حکومت کے ماتحت ہیں ان میں سے فوج ایک ہے، فوج سب سے اہم ادارہ ہے اور بھی ادارے ہیں،ایف آئی اے، آئی بی بھی اسٹیبلشمنٹ ہے،کچھ چیزیں جو نظر آئی ہیں وہ یہ ہیں کہ آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی کی قلابازیاں چلیں گی،انڈیا کو انٹرویو دینے والے یہ کون لوگ ہیں،ڈکلیئرڈ دشمنوں کا جب بیانیہ مضبوط کرتے ہیں تو آپ ریاست پاکستان کے خلاف جرم کے مرتکب ہو رہے ہوتے ہیں،اس پر کوئی معافی نہیں ہوتی، بلکہ معافی کو ریاست کی کمزوری سمجھوں گا، ایسے لوگ جو باہر بیٹھے ہوئے ہیں اور پاکستان کے خلاف زہر اگل رہے ہیں انکا بھی سد باب ہونا چاہئے،ہو سکتا ہے کسی نے فارن پاسپورٹ لیا ہو لیکن کافیوں کے پاس نہیں انکا صرف شناختی کارڈ منسوخ کرنا ہے،پھر جو دوسرے ہیں انکے ریڈ وارنٹ نکال سکتے ہیں، جو جرائم کرتے ہیں لوگ انکے لئے وہاں بھی جگہ تنگ ہونا شروع ہوجاتی ہے،سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ ایک پاگل شخص جس کو پہلے نیم پاگل کہتے تھے آج ڈی جی آئی ایس پی آر نے اسے پاگل کہہ دیا میں اتفاق کرتا ہوں،پاگل تو ہے وہ، پاگل اسلئے نہیں کہ ذہنی توازن اسکا خراب ہے،پاگل اسلئے کہ وہ پاکستانی ہوتے ہوئے پاکستان کے خلاف ایجنڈا چلا رہا ہے، میں آج اپنی ٹیم کو بتا رہا تھا سیاسی جماعت بناتے ہں اور اسرائیل و انڈیا سے فنڈز آنا شروع ہو جائیں تو اس کا کیا مطلب ہے، فنڈ ملے گا تو کچھ واپسی بھی ہو گی، انڈیا و اسرائیل فنڈ دیں گے تو توڑ پھوڑ، ملک کی جڑیں کمزور کرنا ہی انکا ہدف ہونا ہے کیونکہ وہ ڈکلیئرڈ دشمن ہے، اسکو یہ احساس نہیں کہ یہ دشمن ہے،اور یہ خود آج میر جعفر،میر صادق بنا ہوا ہے.اسکی کرپشن کی داستانیں بھی سب کو پتہ ہیں.

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب سوال یہ ہے آج اگر فرض کریں اس آدمی کے ذہن میں خیال آتا ہے کہ میں نے سمت کو درست کرنا ہے، اپنے سپورٹر،فالورز کے لیے کچھ اچھا کرنا ہے تو اسکے لئے کیا آپشن ہیں، آج بھی اسکے پاس راستے ہیں، وہ تمام جدوجہد کو ملی ٹینسی سے نکال کر سیاسی جدوجہد میں لائے، قومی اسمبلی میں اکثریت تھی، حکومت اڑا دی، اسی طرح پنجاب اور خیبر پختونخوا پھر کشمیر میں، آپ پھر حکومت میں آتے آئے کیوں ہیں، الیکشن کیوں لڑتے ہیں، اسکا مطلب ہے کہ آپ ملک میں جمہوریت کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں،آپکا مقصد کچھ اور ہے وہی ڈونر اور فنڈنگ دینے والے جو ..وہی کریں گے،پی ٹی آئی کے پاس دو تین راستے ہیں مولانا فضل الرحمان سے ہاتھ ملا لیں یا بلاول سے ،اچکزئی وغیرہ پی ٹی آئی کو کچھ نہیں دے سکتے،انکی کوئی ویلیو نہیں،لیکن جے یو آئی، پیپلز پارٹی یہ کوئی نہ کوئی راستہ نکال سکتے ہیں.

  • قانون ہر حال میں نافذ ،مگر عوام کیساتھ رویہ ہمیشہ دوستانہ اور باعزت ہو،وزیراعلیٰ پنجاب

    قانون ہر حال میں نافذ ،مگر عوام کیساتھ رویہ ہمیشہ دوستانہ اور باعزت ہو،وزیراعلیٰ پنجاب

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹر اتھارتی سے متعلق خصوصی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں پیرا فورس کی کارکردگی، نگرانی اور اصلاحات پر مکمل بریفنگ لی گئی اور نئے فیصلے بھی کیے گئے۔

    اجلاس میں بتایا گیا کہ پیرا فورس میں رشوت، بدسلوکی اور الزام کی کوئی گنجائش نہیں جس کیلئے ہر کارروائی اب کیمرے میں ریکارڈ کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے پیرا فورس کی کارکردگی اور شفافیت بڑھانے کیلئے جلد از جلد باڈی کیم لگانے کا حکم دے دیا۔ پیرا فورس کی کارکردگی مزید بہتر بنانے کیلئے خصوصی ٹریننگ سیشنز بھی شروع ہونگے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے خصوصی طورپر پیرا فورس کے اہلکاروں کو اپنے پیغام میں کہا کہ قانون ہر حال میں نافذ ہو مگر عوام کیساتھ رویہ ہمیشہ درست اور دوستانہ اور باعزت ہو۔ وزیر اعلی مریم نواز شریف نے ہر شہری کے لیے تیز، محفوظ اور ماحول دوست خدمت کیلئے پیرا فورس کیلئے الیکٹرک وہیکلز کا حکم بھی دیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے سٹیٹ دی آرٹ پیرا ٹریننگ سنٹر قائم کرنے کی اصولی منظوری دے دی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پیرا اچھا کام کررہی ہے، عوام میں نیک نامی کمانے کیلئے نتائج پر توجہ دی جائے۔ قانون ضرور نافذ کیا جائے مگر عوام کیساتھ رویہ درست ہونا چاہیے۔ عوام کیلئے سہولت اور خدمت کرنیوالوں کو تاریخ یاد کرتی ہے۔

  • ایئر انڈیا کو بھولا ہوا طیارہ  مہنگا پڑ گیا ، 10 ملین روپے کا پارکنگ بل

    ایئر انڈیا کو بھولا ہوا طیارہ مہنگا پڑ گیا ، 10 ملین روپے کا پارکنگ بل

    ایک طویل عرصے سے کھوئے ہوئے بوئنگ 737-200 کو دوبارہ دریافت کرنے کے بعد ایئر انڈیا کو تقریباً 10 ملین روپے (تقریباً $120,000) کا حیرت انگیز پارکنگ بل موصول ہوا جو ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے بھارت کے کولکتہ ہوائی اڈے کے ایک دور دراز کونے میں کھڑا تھا

    رپورٹس کے مطابق رجسٹریشن نمبر VT-EHH والا یہ 43 سالہ طیارہ 2012 میں سروس سے نکال کر کولکتا ایئرپورٹ کے ایک ریموٹ ایریا میں پارک کیا گیا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ عملے کی تبدیلی، ریکارڈ کی کمزور دیکھ بھال اور انتظامی غلطیوں کے باعث یہ طیارہ آہستہ آہستہ ایئر انڈیا کی دستاویزات سے ہی غائب ہوگیا۔یہاں تک کہ جب ایئرپورٹ حکام نے ایئر انڈیا سے رابطہ کرکے طیارہ ہٹانے کا مطالبہ کیا تو ایئرلائن نے پہلے پہل یہ کہہ کر انکار کردیا کہ یہ جہاز ان کا ہے ہی نہیں۔بھارت کے اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق، ایئر انڈیا کے اندرونی آڈٹ سے بالآخر تصدیق ہوئی کہ VT-EHH واقعی ایئر انڈیا کی ملکیت تھا، حالانکہ یہ نہ تو فکسڈ ایسٹ رجسٹر میں تھا اور نہ ہی کسی جدید ریکارڈ میں۔یہ گڑبڑ دراصل ان انتظامی خامیوں کا نتیجہ بتائی جا رہی ہے جو برسوں پہلے انڈین ایئرلائنز اور ایئر انڈیا کے انضمام کے دوران پیدا ہوئیں، ساتھ ہی اس طیارے کے مختلف ادوار میں انڈیا پوسٹ کے کارگو طیارے کے طور پر استعمال ہونے سے بھی معاملہ پیچیدہ ہوا۔

    کولکتا ایئرپورٹ نے ان 13 برسوں کے دوران حسبِ ضابطہ پارکنگ فیس وصول کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ ملکیت کی تصدیق کے بعد ایئر انڈیا نے یہ رقم ادا کی اور طیارے کو ہٹانے کا انتظام کیا۔طیارے کو بڑے ٹرانسپورٹ وہیکل پر لاد کر بینگلورو کے کیمپے گوڈا انٹرنیشنل ایئرپورٹ منتقل کیا گیا جہاں اسے اب اڑنے کے بجائے ایوی ایشن مینٹیننس ٹیکنیشنز کی تربیت کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

    1982 میں تیار ہونے والا یہ بوئنگ 737-200 مختلف ادوار سے گزرتا ہوا انڈین ایئرلائنز کے بیڑے میں شامل ہوا،1998 میں لیز پر الائنس ایئر کو دیا گیا،2007 میں کارگو سروس میں واپس آیا،آخری بار انڈیا پوسٹ کے لیے کارگو طیارہ بنا،اور 2012 میں ہمیشہ کے لیے گراؤنڈ کردیا گیا،دلچسپ بات یہ ہے کہ رپورٹ کے مطابق حالیہ برسوں میں ریٹائر ہونے والے ایئر انڈیا کے 10 طیاروں میں سے یہی واحد جہاز تھا جس پر Pratt & Whitney JT8D انجن ہٹائے بغیر موجود تھے۔

    ایئرپورٹ حکام کے مطابق VT-EHH کی روانگی کے ساتھ گزشتہ پانچ سال میں کولکتا ایئرپورٹ سے ہٹایا جانے والا یہ 14واں “چھوڑا گیا” طیارہ ہے۔

  • یورپی یونین کا ایلون مسک کے پلیٹ فارم X پر 120 ملین یورو جرمانہ

    یورپی یونین کا ایلون مسک کے پلیٹ فارم X پر 120 ملین یورو جرمانہ

    یورپی یونین کے ٹیک ریگولیٹرز نے امریکی بزنس مین ایلون مسک کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر 120 ملین یورو (140 ملین ڈالر) کا بھاری جرمانہ عائد کردیا۔

    یہ اقدام ڈیجیٹل سروسز ایکٹ (DSA) کے تحت پہلی بڑی کارروائی ہے، جس کے باعث ماہرین کے مطابق امریکہ کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے۔ یورپی حکام کے مطابق پلیٹ فارم X نے کئی اہم قواعد کی خلاف ورزی کی، جن میں بلیو چیک مارک کے ڈیزائن میں گمراہ کن طریقہ کار،اشتہارات کے ذخیرے میں شفافیت کی کمی،محققین کو عوامی ڈیٹا تک رسائی فراہم نہ کرناشامل ہیں،اسی دوران سوشل میڈیا حریف ٹک ٹاک جرمانے سے اس وقت بچ گیا جب اس نے مطلوبہ ترامیم پر رضامندی ظاہر کردی۔

    یورپی یونین طویل عرصے سے بڑی ٹیک کمپنیوں کے مقابلے میں چھوٹے پلیٹ فارمز کے حقوق کے تحفظ اور صارفین کے لیے زیادہ انتخاب یقینی بنانے کے لیے سرگرم ہے۔ تاہم امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ ان پابندیوں کو امریکی کمپنیوں کے خلاف جانبداری قرار دے کر تنقید کرتی رہی ہے۔یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ اس کے قوانین کا تعلق کسی مخصوص قومیت سے نہیں بلکہ "ڈیجیٹل اور جمہوری معیارات” کے تحفظ سے ہے۔

    یورپی ٹیک چیف ہینا وِرکونین نے کہا کہ X پر جرمانہ خلاف ورزیوں کی نوعیت، شدت اور مدت کو مدنظر رکھ کر لگایا گیا ہے۔انہوں نے کہا“ہم یہاں سب سے بڑا جرمانہ لگانے نہیں آئے، ہمارا مقصد قوانین پر عمل کروانا ہے۔ اگر پلیٹ فارم قواعد کا احترام کرے تو جرمانہ نہیں ہوگا۔”ورکونین نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ دیگر کمپنیوں کے خلاف جاری تحقیقات پر فیصلے X کیس کی نسبت جلد سنائے جائیں گے۔

    یورپی فیصلے سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے X پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ “افواہیں ہیں کہ EU کمیشن X پر سینکڑوں ملین ڈالر کا جرمانہ اس لیے عائد کرنے والا ہے کہ وہ سنسرشپ میں حصہ نہیں لیتا۔ یورپی یونین کو آزادیِ اظہار کا ساتھ دینا چاہیے، نہ کہ امریکی کمپنیوں پر فضول حملے کرنے چاہئیں۔”

    Meta اور TikTok پر اکتوبر میں DSA کی شفافیت کی شرائط کی خلاف ورزی کے چارجز لگائے گئے تھے۔چینی مارکیٹ پلیس Temu پر غیر قانونی مصنوعات کی فروخت روکنے میں ناکامی کا الزام ہے۔X کو 60 سے 90 ورکنگ دن دیے گئے ہیں کہ وہ DSA پر مکمل عملدرآمد کے لیے اقدامات پیش کرے۔TikTok نے اپنے اشتہاری نظام میں اصلاحات پر رضامندی ظاہر کرتے ہوئے ریگولیٹرز سے مطالبہ کیا کہ قانون تمام پلیٹ فارمز پر یکساں طور پر لاگو کیا جائے۔یورپی کمیشن کے مطابق X پر غیر قانونی مواد کے پھیلاؤ اور غلط معلومات کے خلاف اقدامات کی تحقیقات جاری ہیں۔TikTok کے ڈیزائن، الگورتھمز اور بچوں کے تحفظ سے متعلق الگ تحقیقات بھی چل رہی ہیں۔ کمپنی کی عالمی سالانہ آمدنی کے 6 فیصد تک جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے، جس سے بڑی ٹیک کمپنیوں کے لیے یہ قانون نہایت سخت اور بااثر سمجھا جارہا ہے۔

  • سوئی،علیحدگی پسند رہنما نور علی چاکرانی نے ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈال دیئے

    سوئی،علیحدگی پسند رہنما نور علی چاکرانی نے ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈال دیئے

    ڈیرہ بگٹی ۔ پاکستان ہاؤس سوئی میں بی آر اے(براہمداغ بگٹی) کے سب سے بڑے کمانڈر وڈیرہ نور علی چاکرانی نے اپنے 100 سے زائد فراریوں کے ہمراہ سرنڈر ہوکر ہتھیار ڈال دئیے

    سوئی میں ایک اہم اور تاریخی لمحہ اس وقت رقم ہوا جب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی امن دوست اور دوراندیش قیادت کے زیرِ اثر وڈیرا نور علی چاکرانی اپنے 100 سے زائد ساتھیوں سمیت قومی دھارے میں شامل ہو گئے، ہتھیار رکھے اور پاکستان کا پرچم اٹھا کر اس کے ساتھ وفاداری نبھانے کا عہد کیا۔ اس شاندار اور پروقار تقریب کی صدارت وزیراعلیٰ کے بھائی میر آفتاب احمد بگٹی نے کی، جبکہ بگٹی قوم کے چیف صاحبان، معزز وڈیرگان، نوٹیبلز اور نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کر کے اس دن کو واقعی ایک تاریخی موقع بنا دیا۔

    ٹاؤن چیئرمین سوئی عزت اللہ امان بگٹی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم اپنے ان بھائیوں کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے خیرمقدم کرتے ہیں اور یہ تقریب اس بات کی واضح گواہی ہے کہ وزیراعلیٰ میر سرفراز احمد بگٹی اور ان کا خاندان ہمیشہ امن، استحکام اور بلوچستان کی اجتماعی ترقی کے علمبردار رہے ہیں۔

    آخر میں میر آفتاب احمد بگٹی نے پیغام دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اب بھی پہاڑوں میں بھٹکے ہوئے ہیں اور بیرونی عناصر کے ہاتھوں استعمال ہو رہے ہیں، وہ واپس آ کر قومی دھارے میں شامل ہوں اور ڈیرہ بگٹی و بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور ایک پرامن مستقبل کی جدوجہد میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔

    یہ اقدام دہشتگرد تنظیم BRA کے ایک کلیدی کمانڈر سمیت دیگر افراد کی واپسی کی علامت ہے اور بلوچستان میں امن کی جانب ایک مضبوط قدم ہے۔وزیراعلیٰ میر سرفراز احمد بگٹی اور سیکیورٹی فورسز کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں یہ ممکن ہوا، اور نوجوانوں، وڈیروں اور معززین کی شرکت نے اس دن کو واقعی تاریخی بنا دیا۔

  • خیبر پختونخوا کابینہ نے 9 مئی کیسز کے خاتمے کی منظوری دے دی

    خیبر پختونخوا کابینہ نے 9 مئی کیسز کے خاتمے کی منظوری دے دی

    خیبر پختونخوا کابینہ نے 9 مئی کیسز کے خاتمے کی منظوری دے دی ہے، کابینہ نے 9 مئی واقعات کی انکوائری کیلئے کمیٹی تشکیل دینے کی بھی منظوری دی۔

    پشاور میں ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا شاہ فیصل اتمان خیل نے نجی ٹی وی جیو نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ صوبائی کابینہ اجلاس میں 9 مئی کیسز کے خاتمے کی منظوری دے دی گئی ہے اور 51 مقدمات میں ریاست کابینہ کی منظوری کے بعد دستبردار ہوگی،ایڈووکیٹ جنرل کے مطابق 9 مئی کے واقعات کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری بھی دے دی گئی ہے، کابینہ اجلاس میں شرکت کے لیے وزیر اعلیٰ نے انہیں خصوصی طور پر طلب کیا تھا۔

    سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ایڈووکیٹ جنرل آفس نے 51 مقدمات واپس لینے کی سفارشات بھیج دیں، پی ٹی آئی اراکین اور کارکنان 9 اور 10 مئی کے مقدمات میں نام زد ہیں، مقدمات میں سزا کی صورت میں اراکین اسمبلی کو نااہلی کا خدشہ ہے۔

  • وفاق کےلیے ٹیکس جمع کرکے ان کی مشکلات دور کرسکتے ہیں۔بلاول

    وفاق کےلیے ٹیکس جمع کرکے ان کی مشکلات دور کرسکتے ہیں۔بلاول

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وفاق صوبوں کو مزید اختیارات دے،وفاق کی مشکلات سمجھتے، سندھ نے اِس سال ریکارڈ ٹیکس اکٹھا کیا،ہمارے پنجاب کے ٹکٹ ہولڈر رابطہ کر کے کہتےہیں سندھ میں عوام کو دی جانے والی مفت سہولیات ہمارے علاقوں میں بھی دی جائیں۔

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں قومی ادارہ برائے امراض قلب میں جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ نئےاو پی ڈی بلاک کا افتتاح کردیا۔ اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول کا کہنا تھا کہ ہم وفاق کی مشکلات دور کرنا چاہتے ہیں، وفاق صوبوں کو مزید ذمے داریاں دے، سندھ سیلز ٹیکس آن سروس جمع کرنے کے لئے تیار ہے، این آئی سی وی ڈی دنیا میں سب سے بڑا دل کے علاج کا نیٹ ورک بن چکا ہے، مالی وسائل صوبوں کو دینا غلطی نہیں تھی، اس کی مثال این آئی سی وی ڈی ہے،پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا، کراچی میں چندہ دینے والی کمیونٹی دنیا کی سب سے بڑی کمیونٹی ہے، 18ویں ترمیم کے بعد سندھ کو محکمہ صحت کی ذمے داری ملی تھی، ترمیم کے بعد ہم نے ثابت کردیا کہ ہم وفاقی حکومت سے بہتر یہ ادارہ چلا سکتے ہیں، ہم وفاق کےلیے ٹیکس کلیکشن کرکے ان کی مشکلات دور کرسکتے ہیں۔ کچھ حکومتی وزرا صوبوں سے وسائل لینا چاہتے ہیں ،ہم وفاق کی مشکلات بھی سمجھتے ہیں، سندھ حکومت سیلز ٹیکس کلیکشن کےلیے تیار ہے، اگر ہم کسی وجہ سے ایف بی آر کا ٹارگٹ پورا نہ کرسکے تو اپنے پیسوں سے رقم کاٹ کر وفاق کو دینے کو تیار ہوں گے، پچھلا وزیراعظم شہر شہر جا کر کہتا تھا وفاق دیوالیہ ہوچکا ہے،پیپلز پارٹی مفت اور معیاری علاج شہریوں کو فراہم کررہی ہے، سکھر، حیدرآباد میں بھی این آئی سی وی ڈی موجود ہے، مٹھی، سیہون اور شہید بے نظیرآباد میں بھی این آئی سی وی ڈی ہے،ورونا وبا کے دوران ثابت کیا کہ ہم عالمی وبا کا بھی مقابلہ کرسکتے ہیں، ہم نے ثابت کردیا کہ ہم وفاقی حکومت کے بغیر یہ ادارہ چلا سکتے ہیں۔

  • خیبر پختونخوا ،غیر قانونی افغان مہاجرین  کے کیمپ خالی نہ ہوئے

    خیبر پختونخوا ،غیر قانونی افغان مہاجرین کے کیمپ خالی نہ ہوئے

    خیبر پختونخوا (کے پی) میں غیر قانونی طور پر مقیم لاکھوں غیر دستاویزی افغان باشندوں کی موجودگی اب محض دہشت گردی ہی نہیں بلکہ سنگین معاشی و سماجی چیلنجز بھی پیدا کر رہی ہے۔

    غیر قانونی افغان مہاجرین کی بڑی تعداد نے صوبے کے وسائل پر شدید بوجھ ڈال دیا ہے۔ ان کی مسلسل موجودگی کے پی کے وسائل، سیکیورٹی نظام، معاشرتی ڈھانچے اور عوامی خدمات کے انفراسٹرکچر کو براہِ راست متاثر کر رہی ہے۔بین الاقوامی جریدے یوریشیا ریویو کے مطابق پاکستان میں تقریباً 17 لاکھ غیر دستاویزی اور 13 لاکھ رجسٹرڈ افغان مہاجرین رہائش، صحت، تعلیم اور روزگار کے شعبوں پر منفی اثرات ڈال رہے ہیں۔ایس ڈی پی آئی کی تحقیق کے مطابق افغان مہاجرین کی آمد کے بعد کے پی کی 30 فیصد آبادی نے تعلیمی سہولیات تک رسائی میں کمی کی شکایت کی، جبکہ 58 فیصد نے صحت کی خدمات میں کمی کو نمایاں مسئلہ قرار دیا۔

    ساؤتھ ایشیا ٹائمز کے مطابق اضافی مہاجر بوجھ نے خیبر پختونخوا میں بے روزگاری بڑھا کر صوبائی معیشت کو دباؤ میں دے دیا ہے۔کے پی میں متعدد افغان تاجروں نے ٹیکس ادا کیے بغیر خطیر دولت جمع کی، جس سے پاکستان کو بھاری ریونیو نقصان ہوا۔مجموعی طور پر افغان مہاجرین کی آمد نے پاکستان کی قلیل مدتی اور طویل مدتی معاشی ترقی کو متاثر کیا۔صوبے میں معاشی سرگرمیوں میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی۔قدرتی وسائل کے حد سے زیادہ استعمال نے ماحولیات پر سنگین اثرات چھوڑے۔

    وفاقی حکومت نے اپنے مرحلہ وار منصوبے کے تیسرے مرحلے کے تحت ملک بھر میں 54 افغان مہاجر کیمپ ختم کر دیے ہیں۔ان میں سے 43 کیمپ خیبر پختونخوا، 10 بلوچستان اور ایک پنجاب میں واقع تھا۔تاہم، دیگر صوبوں کی نسبت کے پی کی صورتحال کہیں زیادہ تشویشناک ہے۔وفاقی حکومت کے غیر قانونی افغان باشندوں کی واپسی کے احکامات کے باوجود کے پی کی صوبائی حکومت اُن پر عملدرآمد سے گریزاں ہے۔کے پی میں ختم کیے گئے 43 افغان کیمپوں میں سے صرف دو کو مکمل طور پر خالی کرایا گیا ہے۔نوشہرہ، پشاور، خیبر، کوہاٹ، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان کے کیمپ اب بھی بجلی، پانی، صحت اور دیگر سہولیات سے استفادہ کر رہے ہیں۔اس کے برعکس پنجاب نے میانوالی میں اپنا واحد افغان کیمپ مکمل طور پر خالی کرا لیا۔بلوچستان نے اپنے 10 میں سے تمام کیمپوں میں واضح پیش رفت دکھائی اور 88 ہزار سے زائد افغان مہاجرین کے حوالے سے مؤثر کارروائی کی۔