Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • میجر شبیر شریف شہید(نشانِ حیدر)کا54واں یومِ شہادت

    میجر شبیر شریف شہید(نشانِ حیدر)کا54واں یومِ شہادت

    میجر شبیر شریف شہید(نشانِ حیدر)کا54واں یومِ شہادت، 1965 اور 1971 کی جنگوں میں اپنی جانفشانی ،بے لوث محبت اور صلاحیتوں کا لوہا منوانے والے میجر شبیر شریف کا آج 54واں یومِ شہادت انتہائی عقیدت و احترام سے منایا جارہا ہے

    جرأت وبہادری کا استعارہ بننے والے میجر شبیر شریف 28 اپریل 1943ء کو ضلع گجرات کے گاؤں کُنجاہ میں پیدا ہوئے،میجر شبیر شریف نے اپریل 1964 میں کمیشن حاصل کیا،آپ کی قابلیت اور قائدانہ صلاحیتوں کے اعتراف میں آپکی پاسنگ آؤٹ پریڈ میں سب سے بڑے فوجی تربیتی اعزاز ”اعزازی شمشیر” سے نوازا گیا،میجر شبیر شریف واحد فوجی جوان ہیں جنھیں بالترتیب دو سب سے بڑے فوجی اعزاز ات یعنی نشانِ حیدر اور ستارہ جرات سے نوازا گیا،شبیر شریف پاک فوج میں اپنی پیشہ ورانہ خدمات کا سفر طے کرتے ہوئے اپریل 1970ء میں میجر کے رینک پر فائز ہوئے،3دسمبر1971 کومیجر شبیر شریف کو سلیمانکی ہیڈ ورکس کے بالمقابل دشمن کی حدود میں واقع ایک بلند ٹیلے پر قبضہ کرنے کا حکم ملا، آپ اپنے ساتھیوں کی راہنمائی کرتے ہوئے دُشمن کی بارودی سرنگوں کو عبور کر کے مسلسل آگ برساتی آرٹلری اور مشین گنوں کے فائر کے درمیان سبونہ نہر کے پار جا پہنچے،اِس دلیرانہ حملے کے دوران آپ نے دُشمن کو اپنے مضبوط خندقوں سے نکل بھاگنے پر مجبور کر دیا ، اس دوان آپ کی جرات و شجاعت کے نتیجہ میں 43 بھارتی فوجی ہلاک جبکہ38جنگی قیدی اور4 ٹینک تباہ ہوئے

    5اور6دسمبر کی درمیانی شب میجر شبیر شریف نے4جاٹ رجمنٹ کے کمپنی کمانڈر میجر نارائن سنگھ کو دست بدست لڑائی میں ہلاک کیا ،6دسمبر کو میجر شبیر شریف نے دشمن کا ایک اور جوابی حملہ پسپا کیا اور بذاتِ خود ایک ریکائل لیس رائفل کے فائر سے کئی ٹینک تباہ کر دئیے، اپنے مطلوبہ ہدف کے حصول اور پے در پے جوابی حملوں کو ناکام بناتے ہوئے بالآخر میجر شبیر شریف ایک بھارتی ٹینک کے گولے کا نشانہ بن کر شہادت کے اعلیٰ ترین مقام پر فائز ہوئے ،میجر شبیر شریف شہیدکی اس بے مثال جرات اور بہادری کے صلے میں حکومت پاکستان نے آپ کو نشان حیدرکےاعزاز سے نوازا ،میجرشبیرشریف شہید کے یادگار الفاظ ہمیشہ ہر پیر و جوان کیلئےمشعلِ راہ رہیں گے کہ "انسان کی زندگی باعزت اور موت باوقار ہونی چاہیے”

  • بابری مسجد کی شہادت کو 33 برس مکمل

    بابری مسجد کی شہادت کو 33 برس مکمل

    بابری مسجد کی شہادت کو 33 سال مکمل،6دسمبر 1992 کو اتر پردیش کے شہر ایودھیا میں انتہا پسند ہندوؤں نے بابری مسجد کو شہید کر دیا تھا

    حملہ کرنے والوں کا تعلق بھارتیہ جنتا پارٹی، راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ، وشوا ہندو پریشاد اور بجرنگ دل سے تھا،انتہا پسندوں نے کلہاڑیوں، ہتھوڑوں اور دیگر اوزاروں سے بابری مسجد کو نشانہ بنایا،بابری مسجد کی شہادت کے دوران مسلمانوں کی طرف سے شدید احتجاج اور مزاحمت کی گئی،فسادات کے نتیجے میں 2 ہزار سے زائد مسلمان شہید جبکہ ہزاروں زخمی ہوئے،بی جے پی رہنما ایل کے ایڈوانی اور منوہر جوشی نے انتہا پسند ہندوؤں کو بابری مسجد شہید کرنے کے لئے اشتعال دلایا،2009 میں جسٹس منموہن سنگھ کی تحقیقاتی رپورٹ میں بی جے پی رہنماؤں سمیت 68 لوگوں کو موردالزام ٹھہرایا گیا

    سربراہ بھارتی انٹیلی جنس بیورو ملوئے کرشنا کا کہنا تھا کہ بابری مسجد کی شہادت کا منصوبہ بی جے پی، راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ اور وشوا ہندو پریشاد نے 10 ماہ پہلے بنایا، بابری مسجد کی شہادت کے بعد بی جے پی کی لوک سبھا میں سیٹیں 121 سے بڑھ کر 188 ہوگئیں،9 نومبر 2019 کو بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی شہادت میں ملوث تمام ملزمان کو بری کر دیا، ہیومن رائٹس واچ کے مطابق ایودھیا میں بابری مسجد کی بے حرمتی بین الاقوامی اصولوں کے منافی اور اقلیتوں کے مذہبی حقوق کی سنگین خلاف ورزی تھی،1992 سے اب تک صرف بھارتی ریاست گجرات میں 500 مساجد شہید اور ان گنت مزارات ڈھائے جا چکے ہیں،

  • افغان ڈیموکریٹک اپوزیشن کا دورہ برسلز،خطے کوبڑھتے خطرے سے کیا آگاہ

    افغان ڈیموکریٹک اپوزیشن کا دورہ برسلز،خطے کوبڑھتے خطرے سے کیا آگاہ

    افغان ڈیموکریٹک اپوزیشن کا دورہ برسلز، طالبان پالیسیوں سے یورپ سمیت خطے کو بڑھتے ہوئے خطرے سے آگاہ کر دیا

    افغان ڈیموکریٹک اپوزیشن کے وفد نے 3 سے 5 دسمبر تک برسلز کے دورے میں یورپی قیادت کو خبردار کر دیا ،وفد نے انڈیپنڈنٹ ڈپلومیٹ اور یورپین فاؤنڈیشن فار ڈیموکریسی کے اشتراک سے ہونے والی نشستوں میں اپنا موقف بیان کیا،افغان ڈیموکریٹک اپوزیشن وفد کے مطابق طالبان کی حکمرانی افغانستان کو ناکام ریاست کی طرف دھکیل رہی ہے،طالبان حکومت کے اثرات براہِ راست یورپ کی سلامتی تک بھی پہنچ رہے ہیں،افغانستان کی سرزمین خطے میں حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والے گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکی ہے، خواتین کے حقوق کی شدید پامالی، امدادی اداروں پر پابندیوں اور سیاسی عدم شمولیت بنیادی خطرات ہیں،

    افغان ڈیموکریٹک اپوزیشن وفد نے زور دیا کہ طالبان نے دوحہ معاہدے سمیت تمام وعدے توڑتے ہوئے جامع حکومت بنانے کے بجائے محدود گروہ کو اقتدار دیا، طالبان کی پالیسیوں کے باعث غیر قانونی نقل مکانی انتہا پسندی کے پھیلاؤ بالخصوص یورپ میں سیکورٹی خدشات بڑھا رہی ہے،افغان ڈیموکریٹک اپوزیشن نے واضح مطالبہ کیا کہ؛ خطے کو مزید تباہی سے بچانے کے لئیے یورپ اور عالمی برادری دباؤ ، پابندیوں اور سفارتی تنہائی کے ذریعے طالبان کو مجبور کرے ، صرف سخت اور مربوط عالمی حکمتِ عملی ہی افغانستان کو مکمل تباہی سے بچا سکتی ہے،

    افغانستان سے پنپتی دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان بھی متعدد بار ناقابل تردید شواہد پیش کر چکا ہے،دہشتگردوں کی سرپرستی اور بدترین انسانی حقوق کی پامالی کے باعث طالبان رجیم حکومت امن کی کوششوں کے لئیے شدید خطرہ ہے

  • سی ٹی ڈی کی کاروائی، کالعدم تنظیموں کے   24 دہشت گرد  گرفتار

    سی ٹی ڈی کی کاروائی، کالعدم تنظیموں کے 24 دہشت گرد گرفتار

    صوبہ پنجاب میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے پنجاب کے مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے دوران مختلف کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 24 دہشت گردوں کو گرفتار کر کے دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا۔

    ترجمان کے مطابق سی ٹی ڈی پنجاب نے دہشت گردی کے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے صوبے کے مختلف اضلاع میں انٹیلی جنس پر مبنی 364 کارروائیاں کیں، جن میں 366 مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی گئی اور 24 دہشت گردوں کو اسلحہ، دھماکہ خیز مواد اور دیگر ممنوعہ مواد سمیت گرفتار کیا ، گرفتار دہشت گردوں شکیل احمد ۔محب اللہ ۔حیات ۔عجب خان ۔شعیب ۔عرفان ۔امجد ۔علی رضا ۔نعمان ۔رشید خان ۔شاکر وغیرہ شامل ہیں ، ان گرفتار دہشت گردوں کا تعلق فتنہ الخوارج اور دیگر دہشت گرد تنظیموں سے ہے گرفتار دہشت گردوں کا تعلق لاہور ۔ساہیوال ۔ٹوبہ ٹیک سنگھ ۔راولپنڈی ۔فیصل اباد ۔شیخوپورہ ۔ننکانہ صاحب ۔سرگودھا ۔مظفرگڑھ ۔سیالکوٹ ۔راجن پور ۔جہلم ۔منڈی بہاؤدین ۔اٹک سے ہیں، دھماکہ خیز مواد4915 گرام،
    ڈیٹونیٹرز 24، سیفٹی فیوز وائر 58 فٹ، ای ائی ڈی بم 4. کالعدم تنظیم کے پمفلٹ ، میگزین.پرائمہ کارڈ .موبائل فون اور نقدی دہشت گردوں کے قبضے سے برآمد کر لی ہے

    ترجمان نے کہا کہ دہشت گردوں نے مختلف شہروں میں اہم عمارتوں کو ٹارگٹ کرنے کا منصوبہ بنا رکھا تھا انہوں نے مزید کہا کہ گرفتار دہشت گردوں کے خلاف 24 مقدمات درج کر کے ان سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ مقامی پولیس اور سیکیورٹی اداروں کے تعاون سے 5604 کومبنگ آپریشنز بھی کیے گئے، 229138 افراد کو چیک کیا گیا، 501 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا، 473 ایف آئی آر درج کی گئیں اور 357 بازیابیاں کی گئیں۔ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ پنجاب مستعدی سے محفوظ پنجاب کے اپنے ہدف پر عمل پیرا ہے اور دہشت گردوں اور ریاست دشمن عناصر کو سلاخوں کے پیچھے پہنچانے کی کوششوں میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی، انہوں نے کہا کہ کسی بھی متعلقہ معلومات کی صورت میں ہیلپ لائن پر کال کریں۔ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ پنجاب 0800 11111 پر۔

  • روضہ رسول ﷺ کی زیارت اور ریاض الجنۃ میں نوافل کی ادائیگی کیلیے  اوقات کا اعلان

    روضہ رسول ﷺ کی زیارت اور ریاض الجنۃ میں نوافل کی ادائیگی کیلیے اوقات کا اعلان

    مدینہ منورہ: ادارہ امورِ حرمین شریفین نے مسجدِ نبوی ﷺ میں روضۂ رسول ﷺ کی زیارت اور ریاض الجنۃ میں نوافل کی ادائیگی کے لیے نئے اوقات کار جاری کر دیے ہیں۔ نئے اوقات کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جن کا مقصد زائرین کی سہولت، ہجوم کی بہتر مینجمنٹ اور عبادت کے لیے پر سکون ماحول فراہم کرنا ہے۔

    ادارہ امورِ حرمین کے مطابق مرد زائرین شب 2 بجے سے نمازِ فجر تک،دن 11 بجے سے لے کر نمازِ عشاء تک زیارت کر سکیں گے،اضافی طور پر جمعہ کے دن نمازِ جمعہ کے بعد سے نمازِ عشاء تک مرد زائرین کو زیارت کی اجازت ہوگی۔
    خواتین زائرین کے لیے دو مخصوص اوقات مقرر کیے گئے ہیں ،نمازِ فجر کے بعد سے دن 11 بجے تک،نمازِ عشاء کے بعد سے شب 2 بجے تک.جمعہ کے روز خواتین کے لیے نمازِ فجر کے بعد سے صبح 9 بجے تک کا وقت مقرر ہے،زیارت کے ساتھ ساتھ ریاض الجنۃ میں داخلے اور نوافل کی ادائیگی بھی انہی اوقات کے تحت ہوگی، تاکہ مرد و خواتین کو الگ اوقات میں سہولت کے ساتھ عبادت کا موقع مل سکے۔

    ادارہ امورِ حرمین شریفین نے زائرین سے اپیل کی ہے کہ وہ مقررہ اوقات کی پابندی کریں، منظم انداز میں داخلے اور خروج کو یقینی بنائیں، اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں تاکہ تمام زائرین پرسکون ماحول میں اپنی عبادات ادا کرسکیں۔

  • کراچی ،سفاک شوہر نے بیوی اور بیٹی کی جان لے لی

    کراچی ،سفاک شوہر نے بیوی اور بیٹی کی جان لے لی

    کراچی کے علاقے ڈیفنس گزری میں شوہر نے بیوی اوربیٹی کو قتل کردیا۔

    پولیس نے بتایا کہ ملزم اپنی بیوی پر الزامات لگاتا رہتا تھا جس پر جھگڑا ہوتا رہتا تھا، ملزم نے جھگڑے کے دوران تیز دھار آلے سے بیوی پر حملہ کیا، بیٹی ماں کو بچانے قریب آئی تاہم اس دوران دونوں شدید زخمی ہوگئیں، دونوں کو اسپتال منتقل کیا جارہا تھا تاہم ماں اور بیٹی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں، ملزم حملے کے بعد فرار ہوا تاہم کارروائی کے دوران ملزم کو گزری سے گرفتار کرلیا گیا،علاقہ مکینوں نے بھی بتایا کہ ملزم سمیع کا اپنی اہلیہ سے جھگڑا ہوتا رہتا تھا،ملزم سے تحقیقات جاری ہیں،۔

  • خیبر پختونخوا ،بلوچستان میں دہشتگردوں کیخلاف سیکورٹی فورسز کا بھرپور ایکشن،متعدد ہلاک

    خیبر پختونخوا ،بلوچستان میں دہشتگردوں کیخلاف سیکورٹی فورسز کا بھرپور ایکشن،متعدد ہلاک

    پاکستان نے افغان طالبان کی درخواست پر پاک،افغان سرحد پر فائرنگ روک دی ہے، اور دونوں فریقوں نے جھڑپیں عارضی طور پر بند کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

    جمعہ کی رات چمن بارڈر پر بھاری فائرنگ کا تبادلہ رپورٹ ہوا، پاکستانی حکام کے مطابق افغان فورسز نے بدانی کے علاقے میں مارٹر گولے فائر کیے، جبکہ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ پاکستان نے اسپین بولدک پر حملہ کیا۔ سکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی کہ افغان جارحیت کے بعد پاکستانی فورسز نے جوابی کارروائی کی۔ غیر مصدقہ اطلاعات میں چمن–قندھار ہائی وے پر بھی جھڑپوں کا ذکر ہے۔ کوئٹہ کے ایک سینئر افسر کے مطابق فائرنگ رات تقریباً 10 بجے شروع ہوئی اور دیر رات تک جاری رہی۔ چمن ڈسٹرکٹ ہسپتال میں تین زخمی افراد لائے گئے، جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے،

    گنداوہ علاقے میں کوٹری پولیس اسٹیشن اور گجان پولیس اسٹیشن پر ہونے والا دہشت گرد حملہ پولیس نے ناکام بنا دیا۔ پولیس کے مطابق مسلح دہشت گردوں نے دونوں تھانوں پر راکٹ لانچرز سے فائرنگ کی، جس پر سکیورٹی اہلکاروں نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کی، جس کے بعد حملہ آور فرار ہوگئے۔ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انٹیلیجنس بنیاد پر کی جانے والی کارروائیوں کے دوران 32 شدت پسندوں کو ہلاک اور 41 سہولت کاروں کو گرفتار کر لیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق مارے جانے والوں میں کئی اہم ہائی ویلیو ٹارگٹس شامل ہیں، جن میں ایک سینئر آئی ای ڈی ماہر، اسلحہ و بارودی مواد کی سپلائی کے نیٹ ورک کا مرکزی کوآرڈینیٹر، بڑی دہشت گرد کارروائیوں کا ماسٹر مائنڈ، مختلف گروہوں کے لیے لاجسٹکس نیٹ ورک چلانے والے عناصر، شہریوں پر حملوں میں ملوث افراد، اور ٹارگٹ کلنگ، اغوا اور بھتہ خوری میں ملوث مرکزی کارندے شامل ہیں۔ حکام کے مطابق ان کارروائیوں نے دہشت گرد تنظیموں کی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا اور متعدد منصوبہ بند حملے بھی ناکام بنائے، جس سے صوبے میں امن و استحکام کے اقدامات کو تقویت ملی ہے۔

    سوئی میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک قافلے پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق اور دو زخمی ہو گئے، پولیس کے مطابق۔ واقعہ دربار سید عنایت شاہ کے قریب پیش آیا، جہاں قبائلی سردار نور علی چکرانی کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔ جاں بحق افراد کی شناخت شہزادہ اور اسانی خان کے نام سے ہوئی، جبکہ دو زخمیوں کو سوئی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق قبائلی سردار محفوظ رہے۔ واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس سے قبل سوئی میں ایک مقامی پروگرام کے دوران نور علی چکرانی اور ان کے 100 سے زائد ساتھیوں نے ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شمولیت اختیار کی تھی۔

    کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے ملیر کے تاریخی بلوچ علاقے شرافی گوٹھ سے چھ افراد کو دہشت گردی اور دہشت گردوں کی معاونت کے شبہے میں گرفتار کیا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق سی ٹی ڈی اہلکاروں نے شاہ علی گوٹھ میں گھروں پر چھاپے مارے اور مشتبہ افراد کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔ گرفتار افراد میں زبیر شفیع، نذیر حنیف، حذیفہ عرفان، منور عاطف، اسحاق اور احمد گل شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس سے قبل سی ٹی ڈی نے شرافی گوٹھ کے ایک ہوٹل پر بھی کارروائی کی، جہاں سے ایک اور نوجوان کو دہشت گرد نیٹ ورک سے تعلق کے شبہے میں پکڑا گیا۔ حکام کے مطابق یہ تمام کارروائیاں علاقے میں جاری انسداد دہشت گردی اقدامات کا حصہ ہیں۔

    چارسدہ کے دو صحافیوں نے بتایا ہے کہ انہیں فیس بک میسنجر پر ایک نامعلوم شخص کی جانب سے جان سے مارنے اور بم حملے کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں، جو خود کو ایک عسکریت پسند تنظیم کا رکن ظاہر کرتا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ دھمکیاں ان صحافیوں کے سوشل میڈیا ٹاک شو کی وجہ سے دی گئیں، جس میں پاک افغان تعلقات، دہشت گردی اور افغان مہاجرین کے مسائل پر گفتگو ہوتی ہے۔ چارسدہ پریس کلب نے اس واقعے کی شدید مذمت کی اور گواہی کے باوجود کیس کو ایف آئی آر میں تبدیل نہ کرنے پر پولیس کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے صحافیوں کو نقل و حرکت محدود کرنے اور سخت سکیورٹی اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے، جبکہ سکیورٹی ادارے معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ صحافیوں کا کہنا ہے کہ وہ خوفزدہ نہیں ہوں گے اور اپنا کام جاری رکھیں گے۔

    ٹانک میں داؤد بیتنی گروہ سے تعلق رکھنے والے ہلاک دہشت گردوں کی تعداد بڑھ کر سات ہو گئی ہے، حکام کا کہنا ہے کہ یہ دہشت گرد ایک گھر میں روپوش تھے اور سکیورٹی فورسز پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ مصدقہ اطلاع پر سکیورٹی اہلکاروں نے کارروائی کی، جس کے دوران دہشت گرد مارے گئے۔ حکام کے مطابق کارروائی سے گروہ کی منصوبہ بندی اور کارروائی کی صلاحیت کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔

    بنوں پولیس نے ممند خیل اور ممش خیل کے رہائشیوں کے لیے اہم سکیورٹی ہدایات جاری کی ہیں اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے عوام سے مکمل تعاون کی اپیل کی ہے۔ پولیس نے کہا کہ کسی بھی مشکوک شخص یا سرگرمی کی فوری اطلاع دی جائے۔ اگر کوئی نامعلوم فرد یا مشتبہ شخص کسی مقام پر کھڑا ہو یا چیک پوسٹ بنانے کی کوشش کرے تو شہری گاڑیاں وہاں نہ روکیں اور بچوں کو محفوظ فاصلے پر رکھیں۔ پولیس نے مزید کہا کہ اگر کوئی مشکوک فرد مسجد میں داخل ہونا چاہے تو امام فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اطلاع دے۔

    پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سابق بلدیاتی نمائندے آصف اقبال خان لتھانی، جو تین روز قبل مسلح اغوا کی کوشش کے دوران شدید زخمی ہوئے تھے، اسلام آباد میں جان کی بازی ہار گئے۔ پولیس کے مطابق واقعہ ڈرابن کلاں میں پیش آیا، جہاں نامعلوم مسلح افراد نے ایک نیب ملازم کو اس کے گھر سے اغوا کرنے کی کوشش کی۔ مزاحمت پر حملہ آوروں نے فائرنگ کی، جس سے آصف اقبال خان لتھانی شدید زخمی ہو گئے جبکہ ڈرائیور موقع پر جاں بحق ہو گیا۔ نیب ملازم اغوا کی کوشش سے بچنے میں کامیاب ہو گیا۔ پولیس نے تصدیق کی کہ آصف اقبال تین دن علاج کے بعد دم توڑ گئے۔

    سی ٹی ڈی مردان ریجن اور نوشہرہ پولیس کے مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن میں کالعدم ٹی ٹی پی کے اہم شدت پسند، انتساب عالم گروپ سے تعلق رکھنے والے، ہماد ظہیر کو ہلاک کر دیا گیا۔ سی ٹی ڈی ترجمان کے مطابق ہلاک ملزم کی شناخت ہماد ظہیر ولد ظہیر بادشاہ کے طور پر ہوئی، جو متعدد سنگین مقدمات میں مطلوب تھا، جن میں کانسٹیبل مقصود کا ٹارگٹ کلنگ، قتل، اقدام قتل، بھتہ خوری اور دیگر سنگین جرائم شامل ہیں۔ ترجمان کے مطابق مصدقہ اطلاع پر سکیورٹی اہلکار اس کی گرفتاری کے لیے پہنچے، جہاں فائرنگ کے تبادلے میں وہ مارا گیا۔

    کالعدم کمانڈر حمید گروپ کے دہشت گردوں نے دیامر کے تھور گھار علاقے میں محکمہ جنگلات کی گاڑی کو آگ لگا دی، پولیس کے مطابق حملہ آور جاتے وقت ڈیوٹی پر موجود جنگل محافظ کا اسلحہ بھی ساتھ لے گئے۔ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ذرائع نے تصدیق کی کہ کنزرویٹر آفتاب اور دیگر عملہ بعد میں محفوظ حالت میں سری تھور واپس پہنچ گئے۔ پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور علاقے میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

  • چمن بارڈر  ،افغان طا لبان کی  بلا اشتعال فائرنگ، پاک فوج کی زبردست جوابی کارروائی

    چمن بارڈر ،افغان طا لبان کی بلا اشتعال فائرنگ، پاک فوج کی زبردست جوابی کارروائی

    افغان طالبان کی جانب سے چمن سیکٹر میں بلا اشتعال فائرنگ کی گئی ہے، جو ایک لاپرواہ اقدام ہے اور سرحدی استحکام اور علاقائی امن کو نقصان پہنچاتا ہے۔

    افغان جانب سے خفیہ سرنگ کھود کر بارودی مواد نصب کیا گیا تھا۔پاک فوج نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ٹنل کا سراغ لگا کر اسے قبضے میں لے لیا، سیکیورٹی فورسز کا علاقے میں سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن کیا گیا، پاکستانی فوج نے افغانستان کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کا ذمہ داری کے ساتھ جواب دیا، اس بات کو تقویت دیتے ہوئے کہ ہماری علاقائی سالمیت کی کسی بھی خلاف ورزی کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ چمن سیکٹر میں ہونے والا یہ تبادلہ ایک بار پھر اس ضرورت کو اجاگر کرتا ہے کہ کابل غیر نظم و ضبط کے شکار سرحدی عناصر کو قابو میں رکھے، جن کے اقدامات خود افغانستان کی بین الاقوامی ساکھ کو متاثر کر رہے ہیں۔ پاکستان کا ردِعمل متناسب، سوچا سمجھا اور امن کی بحالی کے لیے تھا جو جارحیت کے باوجود پیشہ ورانہ طرزِعمل کا مظاہرہ ہے۔ سرحدی انتظام کے طریقہ کار موجود ہیں؛ افغان طالبان فورسز کی یکطرفہ خلاف ورزیاں اعتماد کو مجروح کرتی ہیں اور سرحد کے دونوں جانب بسنے والی عام کمیونٹی کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

    پاکستان پُرامن بقائے باہمی کے لیے پُرعزم ہے، لیکن امن یکطرفہ نہیں ہو سکتا۔ پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے طاقت کے استعمال کی کوششیں بارہا ناکام ہوئی ہیں اور آئندہ بھی ناکام ہوں گی، چمن میں دیا گیا جواب اس پیغام کی واضح توثیق کرتا ہے۔ پاکستان کی سکیورٹی فورسز مکمل طور پر چوکس ہیں۔ کسی بھی مزید جارحیت کا اس سے بھی زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔ اشتعال انگیزی کی ذمہ داری صرف اُن پر عائد ہوتی ہے جو بلا اشتعال فائرنگ کا آغاز کرتے ہیں۔

  • 8 مسلم ممالک کا مشترکہ بیان، رفح کراسنگ یکطرفہ کھولنے کے اسرائیلی اعلان پر گہری تشویش

    8 مسلم ممالک کا مشترکہ بیان، رفح کراسنگ یکطرفہ کھولنے کے اسرائیلی اعلان پر گہری تشویش

    پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے رفح کراسنگ کو یکطرفہ طور پر کھولنے کے اسرائیلی بیانات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے غزہ کے باسیوں کو جبر کے ذریعے جمہوریہ مصر منتقل کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیہ میں اس اقدام کو ناقابلِ قبول اور خطے کی سلامتی کے لیے خطرناک قرار دیا گیا ہے۔

    مشترکہ بیان پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ کی مشاورت کے بعد جاری کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی ہر کوشش کی سخت ترین مخالفت کی جائے گی، اور کسی بھی صورت انہیں اپنی سرزمین چھوڑنے پر مجبور نہ کیا جائے۔اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ رفح کراسنگ کو دونوں اطراف سے کھلا رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ غزہ کے شہریوں کی آزادانہ آمد و رفت اور بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ ممکن بن سکے۔ وزرائے خارجہ نے مطالبہ کیا کہ غزہ کے شہریوں کی نقل و حرکت کو انسانی بنیادوں پر ہرگز محدود نہ کیا جائے۔بیان میں خطے میں امن کے قیام کے لیے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اُن کے مجوزہ امن منصوبے پر مکمل عمل درآمد کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ وزرائے خارجہ نے کہا کہ کسی بھی نئے انسانی بحران سے بچنے کے لیے غزہ میں مستقل جنگ بندی ناگزیر ہے۔

    اعلامیے میں جنگ سے متاثرہ خطے میں بلا تعطل انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔ وزرائے خارجہ نے کہا کہ غزہ میں غذائی قلت، ادویات کی کمی اور تباہ حال انفراسٹرکچر کی بحالی فوری توجہ کا تقاضا کرتی ہے۔مشترکہ بیان کے مطابق رکن ممالک نے غزہ کی فوری تعمیرِ نو اور جنگ سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے عمل کے آغاز پر اتفاق کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ فلسطینی اتھارٹی کے لیے غزہ میں مؤثر طور پر ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ضروری ہے۔وزرائے خارجہ نے امریکا سمیت تمام علاقائی و عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کا عزم بھی ظاہر کیا، تاکہ مسئلہ فلسطین کے پائیدار اور منصفانہ حل تک پہنچا جاسکے۔اعلامیے میں ایک بار پھر دو ریاستی حل کی بھرپور توثیق کرتے ہوئے 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ مشرقی یروشلم کو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کرنے پر زور دیا گیا۔وزرائے خارجہ نے اپنے بیان میں عالمی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ، خطے میں پائیدار امن، اور جاری انسانی بحران کے خاتمے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کرے۔

  • خیبرپختونخوا، سی ٹی ڈی کی کاروائی،کالعدم تنظیم کا دہشتگردہلاک

    خیبرپختونخوا، سی ٹی ڈی کی کاروائی،کالعدم تنظیم کا دہشتگردہلاک

    خیبر پختونخوا میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی کارروائی کے دوران کالعدم ٹی ٹی پی کا دہشت گرد حماد ظاہر ہلاک ہوگیا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ سی ٹی ڈی مردان ریجن اور نوشہرہ پولیس نے مشترکہ کارروائی کی، علاقہ غائبانہ بابا میں سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن کے دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا، کارروائی میں کالعدم ٹی ٹی پی انتخاب عالم گروپ کادہشت گرد حماد ظاہر ہلاک ہوگیا، مارا گیا دہشت گرد کانسٹیبل مقصود کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھا، دہشت گرد قتل، اقدام قتل اور بھتا خوری سمیت متعدد سنگین جرائم میں مطلوب تھا۔