Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ریاض میں بینک اسلامی کے اسٹریٹجک ڈائیلاگ میں سعودی سفیر احمد فاروق کی شرکت

    ریاض میں بینک اسلامی کے اسٹریٹجک ڈائیلاگ میں سعودی سفیر احمد فاروق کی شرکت

    بینک اسلامی کی جانب سے ریاض میں سعودی عرب کے دارالحکومت تعینات پاکستان کے سفیر، عزت مآب، جناب احمد فاروق کے اعزاز میں اعلیٰ سطح کے عشائیے کا اہتمام کیا گیا۔ اس عشائیے میں سعودی عرب کی سول سوسائٹی اور ریاض میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے اہم افراد نے شرکت کی۔

    سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان تقریباً آٹھ دہائیوں پر محیط شراکت داری پر گفتگو کرتے ہوئے سفیر احمد فاروق نے دونوں ممالک کے مابین گہرے اسٹریٹجک ہم آہنگی، دیرپا باہمی اعتماد اور مشترکہ اسلامی یکجہتی کو اُجاگر کیا۔ انہوں نے سعودی عرب میں مقیم پاکستانی برادری کی کاوشوں کو بھی سراہا جو عوامی سطح پر روابط مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔تقریب میں موجود شرکاء نے سفیر احمد فاروق کی خدمات اور سفارت خانے کی مسلسل معاونت پر اُن کا شکریہ ادا کیا، اور کہا کہ اُن کی قیادت نے دوطرفہ تعلقات پر مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔بینک اسلامی کے ڈپٹی چیف ایگزیکٹو آفیسر عمران ایچ شیخ نے شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: ” سعودی عرب کا وژن 2030، خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ان کے ولی عہد و وزیر اعظم، شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی دوراندیش قیادت کا عکاس ہے، اور دیگر ممالک کے لیے ایک قابلِ تقلید معیار کی حیثیت رکھتا ہے۔”انہوں نے مزید کہا: "بینک اسلامی شریعت کے مطابق بینکاری کی عالمی ترقی کو آگے بڑھانے اور دنیا بھر کی کمیونٹیز کے لیے بامعنی قدر پیدا کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔”ڈائیلاگ کے اختتام پر شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنانے اور تعاون کے لیے مزید گہرے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

    بینک اسلامی نے سود سے پاک اسلامی فنانسنگ کے فروغ اور کمیونٹی کی سطح پر وسیع تر اقدامات کی حمایت کے اپنے عزم کا اعادہ کیا.

  • رضاکاروں نے  انسانی ہمدردی کے جذبے کا شاندار مظاہرہ کیا ،خالد مسعود سندھو

    رضاکاروں نے انسانی ہمدردی کے جذبے کا شاندار مظاہرہ کیا ،خالد مسعود سندھو

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے عالمی رضاکاروں کے دن کے موقع پر ملک بھر میں خدمتِ خلق کے لیے سرگرم رضاکاروں کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں نے سیلاب سمیت مشکل کی ہر گھڑی میں انسانی ہمدردی کے جذبے کا شاندار مظاہرہ کیا ، یہ دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ بے لوث خدمت اور چھوٹے چھوٹے اعمال بھی معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں

    خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار بزرگوں، بیواؤں اور یتیموں کی مدد کے ساتھ ساتھ ہنگامی حالات اور قدرتی آفات کے دوران فوری ریلیف فراہم کرنے میں سرگرم عمل ہیں،مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار اعلیٰ معیار کی لگن اور بے لوث خدمت کی بہترین مثال ہیں۔ عالمی رضاکاروں کے دن کے موقع پر ہم رضاکاروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، جو مشکلات کے اندھیروں میں امید کی کرن بن کر معاشرے میں روشنی پھیلاتے ہیں۔ہم رضاکاروں کی قربانی، محنت اور انسانی خدمت کے جذبے کو سراہتے ہیں، جو نہ صرف ملک بلکہ پوری امت مسلمہ کے لیے مشعل راہ ہے۔

  • ایک شخص سمجھتا ہے کہ وہ نہیں تو کچھ بھی نہیں، وہ نیشنل سیکیورٹی کیلئے تھریٹ بن چکا،ترجمان پاک فوج

    ایک شخص سمجھتا ہے کہ وہ نہیں تو کچھ بھی نہیں، وہ نیشنل سیکیورٹی کیلئے تھریٹ بن چکا،ترجمان پاک فوج

    ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی)آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورس کی تعیناتی پر سب کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرز کی بہت عرصے سے ضرورت تھی،چیف آف ڈیفنس کے ہیڈکوراٹر درجنوں ممالک میں موجود ہیں، یہ نیشنل سیکیورٹی کے لئے بڑا اہم دن ہے، پارلیمنٹ کی ہدایات پر اس کا آغاز ہوا ہے،پریس کانفرنس کا مقصد اندرونی طور پر نیشنل سیکورٹی تھریٹ ہے۔ایک شخص سمجھتا ہے کہ میں نہیں تو کچھ نہیں ،کسی کواجازت نہیں دی جاسکتی کہ عوام اورافواج پاکستان کےدرمیان کوئی دارڑ پیدکریں ،سیاست ختم ، اس کا بیانیہ ملکی سلامتی کیلئے خطرہ بن چکا ،ہم کسی کا ایجنڈا لیکر نہیں چلتے ، ہمارے اندر ہر رنگ، نسل، مذہب، مسلک، سیاسی سوچ کے لوگ ہوتے ہیں مگر یونیفارم پہن کر وہ سب ایک طرف رکھ دیتے ہیں، افواج پاکستان اور عوام کے درمیان دراڑ ڈالنے کی کسی کو اجازت نہیں دیں گے،

    اپنی فوج پر حملہ کرنے والا کیاکسی اور فوج کے لیے جگہ بنانا چاہتا ہے،ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت ایک سنگین اندرونی خطرے کا سامنا کر رہا ہے، جس کی جڑ ایک ایسے شخص کی خود ساختہ اور غیر حقیقی سوچ میں ہے جو شدید فرسٹریشن کے باعث خود کو ریاست سے بالاتر سمجھنے لگا ہے۔ایک شخص اپنی ذات کا قیدی، جو یہ سمجھتا ہے کہ میں نہیں تو کچھ نہیں۔ اب اس کی سیاست ختم ہوچکی اس کا بیانیہ پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ پاک فوج لسانیت یا کسی سوچ کی نمائندگی نہیں کرتی۔اپنی فوج پر حملہ کرنے والا کیاکسی اور فوج کے لیے جگہ بنانا چاہتا ہے،جو ایجنڈا بنایا جا رہا ہے یہ ایجنڈا دہلی کا ہی ہو سکتا ہے، یہ بیانیہ ان کی جماعت کا اکاونٹ چلاتا ہے پھر اس narcist کا اپنا اکاونٹ چلاتا ہے اس کے بعد اسے بھارتی میڈیا اٹھاتا ہے یہ سوشل میڈیا پر ایک مکمل کوآرڈینیشن سے چلتا ہے،اب مزید گنجائش نہیں قوم نے فیصلہ کرنا ہے

    وہ کہتا ہے این ڈی یو جانے والے غدار ہیں، ارے تم ہو کون؟،ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ وہ کہتا ہے این ڈی یو جانے والے غدار ہیں، ارے تم ہو کون؟ تم خود کو سمجھتے کیا ہو؟؟ تم نے کہاں سے پڑھا؟ تمھاری فرسٹریشن کیا ہے؟ اس کی زہنی حالت 9 مئی کو دیکھی نہیں اپنی فوج پر حملہ کرایا،کون سا قانون اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ آپ ایک مجرم کو جا کر ملیں اور وہ افواج پاکستان کے خلاف بیانیہ بنائے، بیرون ملک سے کئے جانے والے ایجنڈے کے پیچھے ذہنی مریض ماسٹر مائنڈ ہے،ہم اجازت نہیں دیں گے کہ آپ پاکستان کی عوام کو آرمڈ فوسز کیخلاف بھڑکائیں،عمران خان کی جمہوریت کی تعریف ہے کہ اگر میں حکومت میں ہوں توملک میں جمہوریت ہے اور نہیں توملک میں آمریت ہے،شیخ مجیب الرحمن جانا مانا غدار ہے وہ(عمران خان) اس کے افکار سے متاثر ہے، آپ کے پاس کے پی کی حکومت ہے اس کی گورنس پر بات کیوں نہیں کرتے سیاست پر بات کیوں نہیں کرتے ہر بات میں ہر چیز میں فوج کو شامل کرتے ہیں،

    جو فوج پر حملہ کروا سکتا ہے، شہیدوں کی یادگاروں کو آگ لگوا سکتا، پاکستان کے فخر چاغی کی نشانی کو آگ لگوا سکتا ہے اُسے غدار کہنے میں کیا مسئلہ ہے؟ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ اگر کوئی اپنی ذات اور اپنی نرگسی سوچ کے لیے فوج اور فوج کے سربراہان پر حملہ کرتا ہے تو پھر ہم برداشت نہیں کریں گے، سوشل میڈیا پر ترتیب اور تواتر کے ساتھ مسلح افواج کی ہر ز ہ سرائی کی جاتی ہے، بھارت اور افغانستان میں موجود ٹرولنگ کاؤ نٹ منٹوں ، گھنٹوں میں بیانیے کو وائرل کرتے ہیں.بھارتی مخصوص ٹولے کا سب سے بڑا سہولت کار ہے،بھارتی میڈیا پر نورین نیازی ملک و قوم کیخلاف انٹرویوو دیتی ہیں،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی پریس کانفرنس بھی بھارتی میڈیا پر دکھائی جاتی ہے،بھارتی میڈیا پاکستان مسلح افواج کیخلاف پی ٹی آئی کی زبان بنا ہوا ہے، یہ افواج پاکستان کیخلاف بیانیے پر بہت زیادہ پیسے خرچ کر ر ہے ہیں،خوارجین کے سہولتکار افغان میڈیا بھی ان کے بیانیے پر ٹرولنگ کررہا ہے،ایک ذہنی مریض افواج پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی کر رہا ہے، ذہنی مریض نے دو دن پہلے ٹویٹ کیا،ذہنی مریض کے ٹویٹ کو بھارتی اور افغان ٹرولرز نے منٹوں میں وائرل کیا، تم کون ہو جو غداری کے سرٹیفیکٹ بانٹ رہے ہو؟9مئی کو جی ایچ کیو پر حملہ کرنے والے بھی یہی لوگ تھے، شہدا کی یادگاروں کی بے حرمتی کرنے والے بھی یہی لوگ تھے، پاک فضائیہ کے جنگ میں جیتے اثاثوں کو آگ بھی انہی شرپسندوں نے لگائی، یہ غداز شیخ مجیب الرحمان سے بھی متاثر ہے.جو اپنی فوج پر حملہ کروا سکتا ہے، شہیدوں کی یادگاروں کو آگ لگوا سکتا ہے، پاکستان کے فخر چاغی کی نشانی کو آگ لگوا سکتا ہے اُسے غدار کہنے میں کیا مسئلہ ہے؟آئین پاکستان میں آزادی اظہار رائے کی اجازت ہے لیکن دفاع پاکستان کے خلاف اس کی اجازت نہیں،کتنی خوشی سے انڈین میڈیا آپ کے آرمی چیف کے خلاف بیانیہ چلا رہا ہے۔ میڈیا کا ایک ایک منٹ قیمتی ہوتا ہے اور وہ اس لیے یہ چلا رہے ہیں کیونکہ یہ شخص پاکستان کے آرمی چیف کے خلاف بولتا ہے اور عوام اور فوج کے درمیان دراڑ ڈالنے کی بات کرتا ہے،انہوں نے تو کہا تھا کہ ملک ڈیفالٹ کرجائے گا تو کیا ملک ڈیفالٹ کرگیا؟ انہوں نے تو کہا تھا کہ یہ فوج لڑ نہیں سکتی،پھر آپ نے دیکھا کہ لڑی،اسی لیے جب کتا بھونکتا ہے تو توجہ نہیں دینی چاہیئے.

    یہ اقتدار میں ہو تو ملک میں جمہوریت ورنہ آمریت،ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ جو دشمن بچوں اور تعلیمی اداروں کو نشانہ بنائے، اُس سے مذاکرات نہیں بلکہ ریاستی رِٹ کے مطابق نمٹا جاتا ہے۔وانا کیڈٹ کالج پر حملہ صرف دہشتگردی نہیں، قوم کے مستقبل پر وار تھا۔ ریاست نے واضح کر دیا ہے کہ امن کمزوری سے نہیں، عمل سے قائم ہوتا ہے۔فوج ریاست نہیں، ریاست حکومت اور اس کے ادارے ہوتے ہیں،فوج ریاست کا ایک حصہ ہے،کوئی سمجھتا ہے کہ اس کی ذات اور سیاست اس ملک کی عوام سے بڑی ہے تو غلط سمجھتا ہے،وہ کہتا ہے کہ وہ فوجی قیادت جس نے بنیان المرصوص میں پاکستان کو فتح دلائی اسکے خلاف بات کریں یہ بیانیہ صرف دہلی سے ہی آسکتا ہے،پہلے بیانیہ بنایا جاتا ہے کہ ترسیلات زر کو بند کیا جائے، سول نافرمانی کی کال اور آئی ایم ایف کو خط لکھا جاتا ہے، بنیان مرصوص میں دشمن کو شکست دینے والی فوجی قیادت کو نشانہ بنانے کا کہا جاتا ہے، دو سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے جھوٹ پھیلایا جاتا ہے، ان دو سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو پھر بھارتی چینلز اٹھاتے ہیں،تمام بے نامی اکاؤنٹس ملک سے باہر بیٹھے ہوئے ہیں جو بیانیہ پھیلاتے ہیں، ذہنی مریض سب سے پہلے اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے بیانیہ بناتا ہے، پھر بے نامی اکاؤنٹس اس بیانیے کو آگے پھیلاتے ہیں، ذہنی مریض نے 2 روز پہلے اپنے اکاؤنٹ سے جھوٹ کو پھیلایا، ان کا بیانیہ بھارتی میڈیا اٹھارہا ہے، "را” کے اکاؤنٹس اسی ٹویٹ اور بیانیے کو چلارہے ہیں،خارجیوں کا سہولت کار افغانی میڈیا بھی اس بیانیے کو پھیلاتے ہیں، اس کے بعد انٹرنیشنل میڈیا بھی اس بیانیے کو اٹھالیتا ہے، اس شخص کے اندر کیا فرسٹریشن ہے؟، تم اپنے آپ کو سمجھتے کیا ہو، اس شخص نے جی ایچ کیو پر حملہ کروایا تھا، فوجی افسران کی تصویر کو لے کر وی لاگ بنائے جارہے ہیں، یہ کیسی آزادی اظہار رائے ہے، یہ اقتدار میں ہو تو ملک میں جمہوریت ورنہ آمریت، دہشت گرد بچوں کو شہید کررہے ہیں یہ کہتا ہے ان سے بات کرو، یہ تو کہتا تھا کہ دہشت گردوں کا پشاور میں دفتر کھولا جائے، فوج کی ایک ایک خبر کو ڈسکس کیا جارہا ہے، فوج کے ساتھ ورکشاپ میں بیٹھنے والے کو غدار کہا گیا۔

    محمد مالک نے ڈی جی آئی ایس پی آر سے سوال کیا کہ آپ کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی ریاست مخالف ہے تو کیا آپ حکومت سے پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کا بھی کہیں گے؟ جس کے جواب میں ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ یہ ریاست کا کام ہے اور وہ بہت ذہین ہیں، ہم اپنا موقف دیتے ہیں، آپ اُن سے پوچھیں یہ فیصلہ اُنہوں نے کرنا ہے

    یہ فوج کے اوپر ہر چیز ڈالتے ہیں تاکہ اپنی گورننس کی طرف کوئی بات نہ کریں،ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ تم فوج میں دراڑ ڈالنا چاہتے ہو، تمہارا باپ بھی یہ دراڑ نہیں ڈال سکتا۔خیبرپختونخواہ میں گورنر راج لگانے کا فیصلہ حکومت کا ہے، ہمارا نہیں،ہمارے چیف آف آرمی اسٹاف کے حکم پر سپاہی اپنی جان دیتا ہے، جب بھارت نے حملہ کیا اور یہ ذہنی مریض ہوتا تو کشکول لے کر بات چیت کرنے چل پڑتا.ہم کہیں نہیں جارہے،فوج ہمیشہ یہاں رہے گی، 6اور 7مئی کوبھارت نے ہماری مساجد،بچوں کو شہید کیا،
    یہ ذہنی مریض ہوتا تو یہ کشکول لیکر بات چیت کیلئے چلتا،یہ کہتا ہے کہ بات چیت کریں، آپریشن نہ کریں،بات چیت کا بخار ان کو بہت پہلے سے تھا،کون کہتا تھا کہ ٹی ٹی پی کا پشاور میں دفتر کھولنا ہے؟یہ تو خوارج کا پشاور میں دفتر کھولنا چاہتے تھے،یہ آج بھی لوگوں کو آپریشن کیخلاف ہونے کیلئے کہتے ہیں،بھیک سے سیکیورٹی نہیں ملتی،اگر ملتی تو غزہ اور لیبیا کا یہ حال نہ ہوتا،کسی کی سیاست اور ذات کسی صورت ریاست سے بڑھ کر نہیں ہوسکتی، اسمگلنگ کے ذریعے دہشتگرد اور دھماکا خیز مواد آتے ہیں، خارجی سیکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائی کرتے ہیں،یہ بیانیہ بنانے کے ماہر ہیں،ہم تو روز روشن کی طرح عیاں ہیں کہ کیا ہور ہا ، کیوں ہورہا اور کیوں کروایا جارہا ؟ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ بیانیے کو چلایا جائے اور سہولتکاری کی جائے،اگر کوئی سمجھتا ہے اس کی ذات اور سیاست ریاست سے بڑی ہے تو غلط سمجھتے ہیں،پاکستان کی فوج کھڑی ہے اور کھڑی رہے گی،ہم نے اس ریاست کےتحفظ کی قسم کھائی ہے، ہم کہیں نہیں جارہے کیوں کہ ہم حق پر ہیں اور حق پر ہی رہیں گے،اندر بیٹھا ہوا ذہنی مریض اور باقی جتنے ہیں وہ فوج کے بارے میں بات کرتے ہیں،وہ اصل مسائل پر بات نہیں کرتے،ان کواس چیز میں کوئی پریشانی نہیں کہ سچ بول رہے ہیں یا جھوٹ،ان کے کاغذوں میں وائس چیف آف آرمی اسٹاف لگ چکا تھا ،ابھی ان سے پوچھیں نا کہ وائس چیف آف آرمی اسٹاف کیوں نہیں لگا،ان کے خیال میں توسی ڈی ایف کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن بھی نہیں ہونا تھا،ان کی پوری سیاست فوج کے ارد گر گھومتی ہے،یہ فوج کے بارے میں بات کرتے ہیں ،الزامات لگاتے ہیں،یہ فوج کے اوپر ہر چیز ڈالتے ہیں تاکہ اپنی گورننس کی طرف کوئی بات نہ کریں،پاکستان کے عوام بہت باشعور ہیں ،

  • برطانیہ،غیر قانونی طور پر کام کرنے والے 60 ڈلیوری رائیڈرز کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ

    برطانیہ،غیر قانونی طور پر کام کرنے والے 60 ڈلیوری رائیڈرز کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ

    برطانیہ نے امیگریشن کریک ڈاؤن کے دوران غیر قانونی طور پر کام کرنے والے 60 ڈلیوری رائیڈرز کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ہوم آفس کے مطابق گزشتہ ماہ ملک بھر میں گیگ اکانومی کہلانے والے غیر مستقل روزگار کے شعبے میں کیے جانے والے ٹارگٹڈ آپریشنز میں مجموعی طور پر 171 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ گرفتار ہونے والوں میں سولیہل کے ایک ریستوران میں کام کرنے والے چینی شہری، مشرقی لندن میں بنگلہ دیشی اور بھارتی رائیڈرز، اور نوریچ میں بھارتی ڈلیوری رائیڈرز شامل تھے۔

    یہ آپریشن حکومت کی اس کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد برطانیہ میں غیر قانونی ملازمتوں کے خلاف کارروائی تیز کرنا اور ملک میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔

    ہوم آفس کے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر تک ایک سال میں 8,232 غیر قانونی کارکن گرفتار کیے گئے، جو گزشتہ 12 مہینوں کے مقابلے میں 63 فیصد زیادہ ہیں۔ گزشتہ ماہ وزیرِ داخلہ شبانہ محمود نے پناہ گزینوں کے نظام میں اصلاحات کا اعلان کیا تھا، جن کا مقصد برطانیہ کو غیر قانونی تارکین وطن کے لیے کم پرکشش بنانا اور ملک بدری کے عمل کو مزید مؤثر کرنا ہے۔

    بارڈر سیکیورٹی کے وزیر ایلیکس نوریس نے کہا کہ حکومت ڈلیوری سیکٹر میں غیر قانونی کام کے ذریعے ہونے والی مجرمانہ سرگرمیوں کا خاتمہ کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا یہ نتائج واضح پیغام ہیں کہ اگر آپ اس ملک میں غیر قانونی طور پر کام کر رہے ہیں تو آپ کو گرفتار کرکے ملک بدر کر دیا جائے گا،ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام جدید دور میں غیر قانونی ہجرت کے خلاف سب سے بڑی اصلاحات کا حصہ ہے، جس کا مقصد غیر قانونی داخلے کی ترغیب کو کم کرنا اور ملک بدری کے عمل کو تیز کرنا ہے۔

    ہوم آفس نے جولائی میں ان کمپنیوں کے ساتھ یہ معاہدہ بھی کیا تھا کہ انہیں پناہ گزینوں کے ہوٹلوں کے مقامات سے آگاہ کیا جائے گا تاکہ غیر قانونی کام کے مشتبہ مراکز کی نشاندہی کی جاسکے۔

  • سندھ اسمبلی،کرکٹر معین کی وفات کی جعلی خبریں، مغفرت کی دعا کی درخواست آ گئی

    سندھ اسمبلی،کرکٹر معین کی وفات کی جعلی خبریں، مغفرت کی دعا کی درخواست آ گئی

    سوشل میڈیا پر سابق کرکٹر معین خان کے انتقال کی جعلی خبروں پر ایم کیو ایم رکن اسمبلی نے مغفرت کی دعا کی درخواست کرڈالی۔

    سندھ اسمبلی کے اجلاس میں ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما صابر قائمخانی نے معین خان کے انتقال کی جعلی خبر پر مغفرت کی دعا کی د رخواست کی,ایوان میں موجود ارکان نے فوری طور پر انہیں روکتے ہوئے بتایا کہ کرکٹر معین خان کے انتقال کی خبر غلط ہے,اسپیکر نے بھی صابر قائم خانی کو غلط خبر کے بارے میں آگاہ کیا جس پر رکن اسمبلی نے اٹھ کر معذرت کی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں 54 سالہ سابق کپتان معین خان کے انتقال کی جھوٹی خبر سوشل میڈیا پر گردش کررہی تھی جس پر معین خان نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ وہ بالکل خیریت سے ہیں,درحقیقت حیدر آباد سے تعلق رکھنے والے 65 سال کے سینئر کرکٹر معین خان راجپوت کا انتقال ہوا تھا لیکن سوشل میڈیا پر معین راجپوت کے بجائے ٹیسٹ کرکٹر معین خان کی تصویر شیئر کئی گئی۔

  • ایم کیو ایم والوں صرف شوشے چھوڑتے ہیں، انہیں سنجیدہ مت لیا کریں،ناصر شاہ

    ایم کیو ایم والوں صرف شوشے چھوڑتے ہیں، انہیں سنجیدہ مت لیا کریں،ناصر شاہ

    سندھ کےوزیر ناصر حسین شاہ نے کہا ہےکہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سید ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ آئی بی اے سکھر کے کانووکیشن میں آکر فخر محسوس ہوا، میرٹ اور ٹرانسپرنسی کے باعث آئی بی سکھر اے ایک بہترین ادارہ ہے، یہاں کے طلبا کو تعلیم ختم کرنے کے ساتھ ہی جابز آفر ہو جاتی ہیں،سکھر ترقی کرتا شہر ہے جہاں لوگ گھومنے نہیں بلکہ بسنے آتے ہیں، سکھر میں آئندہ سالوں میں پینے کے صاف پانی کی اسکیم شروع ہو جائے گی، اس سال بجٹ میں سب سے زیادہ فنڈز پینے کے صاف پانی کے رکھے ہیں، این ایف سی ایوارڈ بہت اہم ہے، اٹھارویں ترمیم بھی ہم لائے، این ایف سی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

    ناصر حسین شاہ کامزید کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل کے نوٹیفیکشن پر عجیب باتیں کی گئیں، پی ٹی آئی والے جس دور سے گزر رہے ہے اس کی وجہ یہ منفی پروپیگنڈا ہے، نوٹیفیکشن کے معاملے پر بھی ایسا ہی پروپیگنڈا کیا گیا،کارونجھر منصوبہ سندھ حکومت نے منسوخ کیا، وہاں کسی کی لیز نہیں ہے، ایم کیو ایم کی باتوں کو ہم سنجیدہ نہیں لیتے، سندھ کی تقسیم کی باتیں وہ خود کو زندہ رکھنے کے لیے کرتے ہیں، ایم کیو ایم سندھ کے بلدیاتی نظام میں شامل ہی نہیں ہوئی تھی، سب سے زیادہ بااختیار بلدیاتی نظام اس وقت سندھ میں ہے، ایم کیو ایم والوں صرف شوشے چھوڑتے ہیں، انہیں سنجیدہ مت لیا کریں، سندھ میں امن و امان کی صورتحال ماضی کے مقابلے میں بہت بہتر ہے، پہلے یہاں کانوائے چلا کرتے تھے اب ایسی صورتحال نہیں، قبائلی تصادم روکنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

  • ووٹر چاہے جس کا بھی ہو، ہر علاقے میں بس چلائیں گے،شرجیل میمن

    ووٹر چاہے جس کا بھی ہو، ہر علاقے میں بس چلائیں گے،شرجیل میمن

    سندھ کے سنیئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی کی ہر بڑی سڑک پر پبلک ٹرانسپورٹ چلے گی، ووٹر چاہے جس کا بھی ہو، ہر علاقے میں بس چلائیں گے۔

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے سندھ اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں اگلے ماہ نئی بسوں کا فلیٹ لا رہے ہیں، کوشش ہے کہ کراچی اور حیدر آباد کی ہر بڑی روڈ پر پیپلز بس سروس چلے، 50 ای وی بسیں اور ڈبل ڈیکر بسیں کراچی پورٹ پر پہنچ چکی ہیں، مزید 500 ای وی بسیں لانے کے لئے وزیر اعلیٰ سندھ سے منظوری لے لی ہے،ٹریفک کا نظام ٹھیک کرنا ہوگا، حادثات کو روکنے کے لیے کیس ٹو کیس جائزہ لینا ہوگا، اپوزیشن کو دعوت دیتے ہیں کہ ہمیں مشورے دیں،انٹرا سٹی بسیں چلانے کے لیے ٹرانسپورٹرز کو قرضے دینے کو تیار ہیں.

  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والوں کیخلاف وزیر داخلہ کا سخت کاروائی کا حکم

    جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والوں کیخلاف وزیر داخلہ کا سخت کاروائی کا حکم

    حکومت نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والوں کے خلاف شکنجہ سخت کرنےکا فیصلہ کرلیا۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں مختلف فیصلے کیے گئے،اجلاس میں پروٹیکٹر کے اجرا کے نظام کو فول پروف بنانے اور مسافروں کی سہولت کے لیے امیگریشن سسٹم میں بھی اصلاحات کا فیصلہ کیا گیا جب کہ ‎وفاقی وزرا نے 7 روز میں حتمی سفارشات طلب کی ہیں،اجلاس میں جعلی ویزوں کے دھندے میں ملوث عناصر اور ایجنٹ مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم دیا گیا۔

    ‎اس موقع پر وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ غیر قانونی امیگریشن روکنے کے لیے اے آئی بیسڈ ایپ کا پائلٹ پروجیکٹ شروع کیا جا رہا ہے، اے آئی کے ذریعے علم ہو جائے گا کہ کون سفر کے قابل ہے اور کون نہیں۔
    جعلی ویزوں اور ایجنٹ مافیا کے خلاف زیرو ٹالرنس اپنائی جائے گی، ڈی پورٹ شدہ افراد کا پاسپورٹ منسوخ ہونے کے بعد انہیں دوبارہ ویزا نہ ملنے کو یقینی بنائیں گے، ‎‎‎ یکساں انٹرنیشنل ڈرائیونگ لائسنس نیشنل پولیس بیورو سے جاری کیا جائے گا،غلط طریقوں سے لوگ باہر جا کر ملک کی ساکھ متاثر کر رہے ہیں، امیگریشن ریفارمز کا مقصد عوام کو سہولت فراہم کرنا اور عالمی ساکھ بہتر بنانا ہے،وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز نے کہا کہ ‎لیبر ویزے پر جانے والے افراد کے پاس مستند دستاویزات کا ہونا ضروری ہے، پروٹیکٹراورامیگریشن سسٹم میں بہتری کے لیے وزارت ہر ممکن تعاون کرے گی۔

  • کراچی میں ہیوی ٹریفک مزید 3 شہریوں کی جانیں لے گیا

    کراچی میں ہیوی ٹریفک مزید 3 شہریوں کی جانیں لے گیا

    کراچی میں ہیوی ٹریفک نےایک بار پھر انسانی جانیں نگل لیں۔ شہر کے مختلف علاقوں میں الگ الگ حادثات کے دوران تین شہری جاں بحق ہوگئے،

    شہر میں جہاں بڑھتی ٹریفک، غیر تربیت یافتہ ڈرائیورز اور بھاری گاڑیوں کی تیز رفتاری خطرناک صورت اختیار کرچکی ہے، وہیں آج کے واقعات نے ایک بار پھر ٹریفک انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔پہلا افسوسناک حادثہ کریم آباد پل پر پیش آیا، جہاں ایک تیز رفتار ٹریلر نے موٹر سائیکل کو ٹکر مار دی۔ حادثے میں 26 سالہ نوجوان شبیر موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ پولیس کے مطابق جاں بحق نوجوان کا تعلق کھارادر سے تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ حادثہ تیز رفتاری کے باعث پیش آیا جبکہ ٹریلر کا ڈرائیور ٹکر کے فوراً بعد موقع سے فرار ہوگیا۔ واقعے کے بعد جائے وقوعہ پر شہریوں کی بڑی تعداد جمع ہوگئی۔

    دوسرا جان لیوا حادثہ کشمیر روڈ پر پیش آیا، جہاں ایک واٹر ٹینکر نے راہگیر کو روند ڈالا۔ حادثے میں شخص موقع پر دم توڑ گیا۔پولیس کے مطابق ٹینکر ڈرائیور کو گرفتار کرلیا گیا ہے، تاہم حادثے کے بعد مشتعل شہریوں نے ہنگامہ آرائی کی، سڑک بلاک کردی اور توڑ پھوڑ بھی کی۔ موقع پر پہنچ کر پولیس نے صورتحال کو قابو میں کیا۔تیسرا حادثہ سائٹ ایریا فلائی اوور پر رپورٹ ہوا، جہاں ایک اور تیز رفتار ٹریلر نے موٹر سائیکل سوار کو ٹکر مار دی۔ موٹر سائیکل سوار شدید زخمی ہوا اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ حادثات کے بڑھتے ہوئے رجحان کی ایک بڑی وجہ ہیوی ٹریفک کی لاپرواہ ڈرائیونگ اور تیز رفتار ہے۔ان افسوسناک حادثات نے شہر بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ہیوی ٹریفک کو شہر کے حساس اور مصروف علاقوں میں مکمل پابندی کے باوجود کھلے عام داخل ہونے دیا جاتا ہے ،شہریوں اور سماجی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹریلر اور ٹینکر مالکان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے، فرار ہونے والے ڈرائیور کی فوری گرفتاری یقینی بنائی جائے اور شہر میں ہیوی ٹریفک کے داخلے سے متعلق ایس او پیز پر سختی سے عمل کرایا جائے تاکہ مزید جانیں ضائع ہونے سے بچ سکیں۔

  • جناح ہسپتال میں ڈاکٹر بن کر عوام کو لوٹنے والی نوسرباز خاتون گرفتار

    جناح ہسپتال میں ڈاکٹر بن کر عوام کو لوٹنے والی نوسرباز خاتون گرفتار

    کوٹ لکھپت پولیس نے 15 کال پر کارروائی کرتے ہوئے جعلی ڈاکٹر کو گرفتار کر لیا۔

    اے ایس پی ماڈل ٹاؤن کشمالہ فاروق کے مطابق ملزمہ جنرل ہسپتال میں ڈاکٹر بن کر عوام سے رشوت وصول کر رہی تھی، ریکارڈ چیک کرنے پر پتا چلا کہ ملزم سونیا بی بی ڈاکٹر نہیں ہے،اے ایس پی کشمالہ فاروق نے بتایا کہ ملزمہ سونیا بی بی چک منگلا میر پور خاص کی رہائشی ہے،ملزمہ نے اعتراف کیا کہ ملزمہ اپنے علاقے میں بھی اپنا تعارف بطور ڈاکٹر کرواتی تھی۔ ملزمہ ڈاکٹر بن کر اب تک شہریوں سے ہزاروں روپے بٹور چکی ہے جس کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش جاری ہے،ایس پی ماڈل ٹاؤن شہربانو نقوی نے کوٹ لکھپت پولیس ٹیم کو شاباش دی۔