Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • حکومت فنونِ لطیفہ، فلم،میڈیا کے شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دے رہی ،شرجیل میمن

    حکومت فنونِ لطیفہ، فلم،میڈیا کے شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دے رہی ،شرجیل میمن

    کراچی: سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی زیرِ صدارت محکمہ اطلاعات کے کنٹینٹ اینڈ پروڈکشن بورڈ کا اجلاس ہوا

    اجلاس میں صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے خصوصی شرکت کی،اجلاس میں بورڈ کے اراکین قاضی اسد عابد، ژالے سرحدی، سیکریٹری اطلاعات ندیم الرحمان میمن، ڈی جی اطلاعات معز پیرزادہ اور دیگر افسران شریک ہوئے،اجلاس میں بتایا گیا کہ محکمہ اطلاعات کے چار فلمی منصوبے مکمل ہو چکے ہیں، جن میں تین دستاویزی فلمیں اور ایک فیچر فلم شامل ہے ، اجلاس میں ان منصوبوں کی تفصیلات، مواد، اور ان کے سماجی و ثقافتی اثرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا،بورڈ اجلاس میں محکمہ اطلاعات کے تحت تیار کی جانے والی نئی دستاویزی اور فیچر فلموں کے آئندہ مراحل، ان کی مارکیٹنگ، نمائش، اور عوامی رسائی سے متعلق امور پر بھی غور کیا گیا

    شرجیل میمن کا کہنا تھاکہ سندھ حکومت ثقافت، تاریخ، اور عوامی جدوجہد کو اجاگر کرنے کے لیے جدید میڈیا اور فلم سازی کو مؤثر ذریعہ سمجھتی ہے، محکمہ اطلاعات کے یہ منصوبے نہ صرف صوبے کے مثبت تشخص کو نمایاں کریں گے ،ان منصوبوں سے نوجوان فلم سازوں اور اداکاروں کو بھی ایک پلیٹ فارم فراہم کریں گے تاکہ وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو سامنے لا سکیں، سندھ حکومت فنونِ لطیفہ، فلم، اور میڈیا کے شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دے رہی ہے تاکہ ثقافتی ورثے کو عالمی سطح پر متعارف کرایا جا سکے،

    مکمل ہونے والے منصوبوں کو حتمی شکل دے کر جلد عوام کے سامنے کرنے کا فیصلہ کیا گیا،آئندہ فلمی منصوبوں کے لیے تجاویز بھی بورڈ کو پیش کی جائیں گی

  • آرٹسٹ ہمارا سرمایہ، سندھ حکومت مکمل مدد کرے گی،  سید ذوالفقار علی شاہ

    آرٹسٹ ہمارا سرمایہ، سندھ حکومت مکمل مدد کرے گی، سید ذوالفقار علی شاہ

    کراچی: سندھ حکومت کی جانب سے غریب مستحق فنکاروں، اداکاروں، ادیبوں اور شاعروں کیلئے بنائے گئے نئے انڈومنٹ بورڈ کا پہلا اجلاس ہوا

    صوبائی وزیر ثقافت و سیاحت سید ذوالفقار علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا،اجلاس میں بورڈ میمبران کی شرکت مالی مدد کیلئے درخواستوں پر مدد کی منظوری دی گئی،اجلاس میں سیکریٹری کلچر خیر محمد کلوڑ ، احمد شاہ، مہتاب اکبر راشدی، نورالہدی شاہ، ڈی جی کلچر حبیب اللہ میمن نے شرکت کی،معروف سنگر صنم ماروی، رجب فقیر، معروف اداکار احسن خان، ایوب کھوسو، سید امجد علی شاہ، یوسف بشیر، ممتاز بخاری، نور چاکرانی،عرفان سموں نے شرکت کی،بورڈ ممبران نے مستحق فنکاروں آرٹسٹوں شاعروں ادیبوں کے کیسز میں مالی مدد کی منظوری دی،بورڈ ممبران کی جانب سے تمام مستحقین کیلئے نظام کو مزید شفاف اور بہتر بنانے پر تجاویز دی گئی

    سید ذوالفقار علی شاہ صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ انڈومنٹ بورڈ میمبران کا آج پہلا اجلاس منعقد ہوا ہے 600 سے زائد درخواستیں موصول ہوئی جن میں جانچ پڑتال کے بعد مستحقین کی مدد کیلئے ممبران نے تجاویز دی،تمام ممبران کی جانب سے مزید بہتری کیلئے تجاویز بھی پیش کی گئیں،ہر شعبے کے نمائندہ ممبران موجود ہیں جنہوں نے اس عمل کو شفاف بنانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے،مستحقین تک ان کا حق پہچانے کیلئے ہم اس عمل میں مزید بہتریاں لائیں گے،آرٹسٹ ہمارا سرمایہ ہیں سندھ حکومت ان کی مکمل مدد کرے گی،

  • سہیل آفریدی کی بانی سے ملاقات سے قیامت تو نہیں آجائےگی،گورنر پنجاب

    سہیل آفریدی کی بانی سے ملاقات سے قیامت تو نہیں آجائےگی،گورنر پنجاب

    گورنر پنجاب سلیم حیدر کا کا کہنا ہے کہ حکومت سے الائنس محبت کا نہیں مجبوری کا ہے، دونوں جماعتوں کے کارکن ایک دوسرے کو قبول کرنے کو تیار نہیں، کوشش کررہے ہیں پنجاب میں معاملات بہتر ہوں، وزیراعظم نے پیپلزپارٹی کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

    گورنر پنجاب سلیم حیدر نے پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی لوگوں کو سیاسی طور پر ہی ڈیل کرنا چاہیے، ملک کی بہتری اسی میں ہے کہ موجودہ حکومت چلتی رہے، سسٹم ڈی ریل ہوجائے تو دوسرا کوئی راستہ نہیں۔ان کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی کو بانی سے ملنے کی اجازت دینی چاہئے، ملاقات سے قیامت تو نہیں آجائےگی، 26ویں آئینی ترمیم کو تسلیم کرتے ہیں۔گورنر پنجاب سلیم حیدر نے گندم کی نقل و حرکت پر پابندی کیخلاف وزیر اعلیٰ مریم نواز سے بات کرنے کا اعلان کردیا۔

  • خاتون اور کم سن بچیوں کے مبینہ اغوا کا معاملہ،آئی جی کی عدالت طلبی

    خاتون اور کم سن بچیوں کے مبینہ اغوا کا معاملہ،آئی جی کی عدالت طلبی

    اسلام آباد ہائیکورٹ:لاہور اور بہاولپور سے خاتون اور کم سن بچیوں کے مبینہ اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کے خلاف درج مقدمات کے اخراج کی درخواست پر آئی جی اسلام آباد، ڈی آئی جی، ڈی جی ایف آئی اے، ڈی ایس پی سی آئی اے منگل کو ذاتی حیثیت میں عدالت طلب کر لئے گئے

    جسٹس محسن اختر کیانی نے حکم دیا کہ لاہور سے17 ستمبر کو تین بچیوں اور ان کی والدہ کو پولیس نے اٹھا کر 20 ستمبر کو ترنول پولیس سٹیشن میں ایف آئی آر میں نامزد کردیا ،پولیس نے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا ڈی جی ایف آئی اے جے آئی ٹی بنا کر بچیوں کو اٹھانے کے معاملے کی تحقیقات کریں،

  • کھانے میں بال نکلنے پر ایئرانڈیا مسافر کو 35 ہزار معاوضہ دے،23 سالہ پرانے کیس کا فیصلہ

    کھانے میں بال نکلنے پر ایئرانڈیا مسافر کو 35 ہزار معاوضہ دے،23 سالہ پرانے کیس کا فیصلہ

    23 سالوں تک جاری رہنے والی ایک طویل قانونی جنگ کے بعد آخرکار پی. سندراپریپورنم کو انصاف مل گیا۔ مدراس ہائی کورٹ نے ایئر انڈیا کو حکم دیا ہے کہ وہ متاثرہ مسافر کو 35 ہزار روپے بطور معاوضہ ادا کرے۔ یہ معاملہ 2002 کا ہے جب کولمبو سے چنئی جانے والی ایئر انڈیا کی پرواز میں مسافر کو فراہم کیے گئے کھانے میں انسانی بال نکل آیا تھا، جس کے بعد ان کی طبیعت خراب ہوگئی تھی۔

    26 جولائی 2002 کو پی. سندراپریپورنم ایئر انڈیا کی فلائٹ IC-574 سے کولمبو سے چنئی کا سفر کر رہے تھے۔ فلائٹ کے دوران جب انہیں کھانا پیش کیا گیا تو وہ پیک شدہ تھا۔ پیک کھولنے پر ان کے کھانے میں بال کے باریک ریشے نظر آئے، جس سے وہ شدید نفرت اور بیزاری محسوس کرنے لگے اور طبیعت بگڑ گئی۔انہوں نے فوراً فلائٹ کے عملے سے شکایت کرنے کی کوشش کی، مگر نہ کوئی شکایت باکس موجود تھا اور نہ ہی عملے نے ان کی بات کو سنجیدگی سے لیا۔چنئی پہنچنے کے بعد سندراپریپورنم نے ایئر انڈیا کے ڈپٹی جنرل منیجر کو تحریری شکایت درج کروائی۔ ایئر انڈیا نے جوابی خط کے ذریعے افسوس کا اظہار کیا اور معاملے کی جانچ کی یقین دہانی کرائی۔ تاہم متاثرہ شخص نے اپنے وکیل کے ذریعے قانونی نوٹس بھجوایا اور الٹی، دست اور پیٹ درد کی شکایت کے ساتھ 11 لاکھ روپے معاوضہ کا مطالبہ کیا۔

    ایئر انڈیا نے جواب میں کہا کہ معاملہ ان کی لاپروائی نہیں بلکہ اس ہوٹل کی غلطی ہے جہاں سے کھانا خریدا گیا تھا۔ کمپنی کے مطابق کھانا چنئی کے امبیسڈر پلوا ہوٹل سے فراہم کیا گیا تھا۔ مزید یہ بھی کہا گیا کہ ممکن ہے کھانے کا پیک کھولتے وقت کسی دوسرے مسافر کا بال اس میں گر گیا ہو۔

    مدراس ہائی کورٹ نے سماعت کے دوران ایئر انڈیا کے مؤقف میں تضاد کی نشاندہی کی۔ عدالت نے کہا کہ ایئر انڈیا ایک طرف کہتی ہے کہ کوئی شکایت درج نہیں ہوئی، جبکہ دوسری طرف تسلیم بھی کرتی ہے کہ شکایت کا ازالہ کیا گیا۔عدالت نے واضح کیا کہ ایئر انڈیا نے خود تسلیم کیا ہے کہ کھانے میں بال ملا تھا، اس لیے یہ ایئرلائن کی صریح غفلت کا معاملہ ہے۔ ایسے معاملات میں مسافر کو یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی کہ غلطی کیسے ہوئی، بلکہ ایئرلائن پر لازم ہے کہ وہ اپنی مکمل احتیاط کا ثبوت دے۔تاہم عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ متاثرہ مسافر نے طبی نقصان کے کوئی شواہد پیش نہیں کیے، اس لیے نچلی عدالت کی جانب سے دیے گئے ایک لاکھ روپے معاوضے کو کم کرکے 35 ہزار روپے مقرر کیا گیا۔

    مدراس ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ چونکہ مسافر کے ٹکٹ میں کھانا شامل تھا، اس لیے چاہے کھانا کسی ہوٹل سے حاصل کیا گیا ہو، اس کی ذمہ داری ایئر انڈیا ہی پر عائد ہوتی ہے۔عدالت نے مزید کہا کہ ایئرلائن کی ذمہ داری صرف محفوظ پرواز تک محدود نہیں بلکہ مسافروں کو فراہم کیے جانے والے کھانے پینے کے معیار، صفائی اور شفافیت کو یقینی بنانا بھی اس کے فرائض میں شامل ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں حکم دیا کہ ایئر انڈیا چار ہفتوں کے اندر پی. سندراپریپورنم کو 35 ہزار روپے معاوضے کے طور پر ادا کرے۔

  • ملتان سلطانز کے علی ترین نے پی سی بی کا نوٹس پھاڑ دیا

    ملتان سلطانز کے علی ترین نے پی سی بی کا نوٹس پھاڑ دیا

    پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی فرنچائز ملتان سلطانز کے مالک علی ترین نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کا لیگل نوٹس پھاڑ دیا۔

    سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو پیغام میں علی ترین نے کہا کہ پی ایس ایل منیجمنٹ نے انہیں ایک لیگل نوٹس بھیجا ہے جس میں تنقیدی بیانات واپس لینے اور معافی مانگنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ، معافی نہ مانگنے کی صورت میں فرنچائز معاہدہ ختم کرنے اور مجھے بلیک لسٹ کرنے کی دھمکی بھی دی گئی ہے تاہم وہ خاموش نہیں رہیں گے۔علی ترین نے کہا کہ انہیں پی ایس ایل سے محبت ہے اور یہ لیگ پورے پاکستان کی ہے، مسائل کے حل کے لیے ساتھ بیٹھنےکو تیار ہوں لیکن مجھ سے آج تک اس حوالے سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔

    یاد رہےکہ پی سی بی نے معاہدے کی خلاف ورزی اور پی ایس ایل کی شہرت کو نقصان پہنچانے کی مہم چلانے پر ملتان سلطانز کو نوٹس جاری کیا تھا۔ذرائع کا کہنا تھا کہ فرنچائز نے نوٹس کا تسلی بخش جواب نہ دیا تو معاہدے کی منسوخی اور فرنچائز مالکان کو بلیک لسٹ ہونے کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔

  • سیکورٹی فورسز کی کاروائی،لکی مروت میں 8 خوارج جہنم واصل،5 زخمی

    سیکورٹی فورسز کی کاروائی،لکی مروت میں 8 خوارج جہنم واصل،5 زخمی

    سیکیورٹی فورسز نے لکی مروت میں کارروائی کرکے 8 خوارج کو ہلاک کردیا، 5 زخمی بھی ہوئے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 24 اکتوبر کو لکی مروت کے علاقے وانڈہ شیخ اللہ میں خفیہ اطلاعات پر کارروائی کی گئی، فائرنگ کے تبادلے میں 8 خوارج ہلاک اور 5 زخمی ہوگئے۔سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عسکری مہارت سے کی گئی کارروائی میں خوارج کو فرار کا موقع نہ مل سکا، علاقے میں ممکنہ دہشتگردوں کی موجودگی کے خدشات کے پیش نظر سرچ آپریشن جاری ہے۔فورسز کا کہنا ہے کہ آخری خارجی کے خاتمے اور امن وامان کی مکمل بحالی تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

  • ٹانک میں گرلز پرائمری اسکول دھماکے سے تباہ

    ٹانک میں گرلز پرائمری اسکول دھماکے سے تباہ

    خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں رات گئے نامعلوم افراد نے ایک گرلز پرائمری اسکول کو دھماکے سے تباہ کردیا۔ پولیس کے مطابق واقعہ ٹانک کے علاقے گرہ بڈھا میں پیش آیا جہاں شرپسند عناصر نے اسکول کی عمارت میں نصب دھماکا خیز مواد کو ریموٹ کنٹرول کے ذریعے اڑا دیا۔

    ڈی پی او ٹانک شبیر حسین شاہ نے تصدیق کی کہ دھماکے کے نتیجے میں گرلز پرائمری اسکول کی عمارت مکمل طور پر منہدم ہوگئی، تاہم خوش قسمتی سے واقعے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا کیونکہ اسکول اس وقت بند تھا۔پولیس کے مطابق، دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اسکول تباہ ہونے سے علاقے کی بچیوں کی تعلیم شدید متاثر ہوگی، کیونکہ وہی واحد تعلیمی ادارہ تھا جہاں درجنوں طالبات زیرِ تعلیم تھیں۔ڈی پی او نے مزید بتایا کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے علاقے کی ناکہ بندی کر دی گئی ہے اور سرچ آپریشن جاری ہے۔ پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے شواہد اکٹھے کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

  • طالبان کی سخت گیر   پالیسیوں نے میڈیا کی آزادی کا گلا گھونٹ دیا

    طالبان کی سخت گیر پالیسیوں نے میڈیا کی آزادی کا گلا گھونٹ دیا

    ہیومن رائٹس واچ نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں آزادیِ اظہارِ رائے اور صحافت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان کی سخت گیر اور جابرانہ پالیسیوں نے ملک میں میڈیا کی آزادی کا گلا گھونٹ دیا ہے۔

    ہیومن رائٹس واچ کے مطابق، اگست 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان نے میڈیا کو سخت کنٹرول میں لے لیا۔ معمولی تنقید پر صحافیوں کو گرفتار کیا جاتا ہے، قید، تشدد اور جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جاتا ہے، طالبان نے ڈراموں، موسیقی اور خواتین کی آواز کو میڈیا سے مکمل طور پر ختم کر دیا ہے جبکہ خواتین صحافیوں پر امتیازی پابندیاں عائد کر کے انہیں میڈیا انڈسٹری سے باہر دھکیلا جا رہا ہے،اعداد و شمار کے مطابق مرد صحافیوں کی تعداد 4 ہزار سے کم ہو کر 2 ہزار رہ گئی ہے جبکہ خواتین صحافیوں کی تعداد 1400 سے گھٹ کر صرف 600 رہ گئی ہے۔ طالبان کا انٹیلی جنس ادارہ اور وزارتِ امر بالمعروف میڈیا دفاتر پر چھاپے مار کر مواد کی جانچ پڑتال کرتی ہے۔

    رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغان میڈیا کو حکم دیا گیا ہے کہ عوامی مسائل یا حکومتی شکایات پر رپورٹنگ "ریاست کے خلاف پروپیگنڈا” شمار ہوگی۔ طالبان صحافیوں کو زبردستی پیشگی منظور شدہ خبروں کی اشاعت پر مجبور کرتے ہیں، جبکہ رہائی سے قبل ان سے تحریری حلف لیا جاتا ہے کہ وہ دوبارہ صحافت نہیں کریں گے۔

    ہیومن رائٹس واچ کے مطابق طالبان کی پابندیوں اور سنسرشپ کے باعث افغانستان کے 60 فیصد میڈیا ادارے بند ہو چکے ہیں۔ہیومن رائٹس واچ نے مطالبہ کیا ہے کہ افغان طالبان صحافیوں پر تشدد، سینسر شپ اور خواتین پر امتیازی پابندیاں ختم کرے۔اس سے قبل اقوام متحدہ،اورایمنسٹی انٹرنیشنل افغان طالبان سے صحافت پر قدغن کے خاتمے کا مطالبہ کر چکے ہیں،ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطے کی سلامتی پر بھی افغان طالبان کی آمرانہ پالیسیوں کے خطرناک اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

  • مودی کی سفارتی ناکامی اور خاموشی، بھارت کی عالمی رسوائی کا سبب

    مودی کی سفارتی ناکامی اور خاموشی، بھارت کی عالمی رسوائی کا سبب

    مودی کی سفارتی ناکامی اور خاموشی، بھارت کی عالمی رسوائی کا سبب بننے لگی

    مفاد پرست مودی ملکی خود مختاری کو داؤ پر لگا کر اپنے اقتدارکو طول دینے میں مصروف ہے، مودی کی ناکام سفارتی پالیسی نے بھارت کو امریکہ سمیت دیگر عالمی طاقتوں کے مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا،مودی کا "وشو گرو” (دنیا کا استاد) کا دعویٰ عالمی سطح پر ٹرمپ کے سامنے جھک کر زمیں بوس ہو گیا،کانگریس نے مودی پرسفارتی ناکامیوں کو لیکر سخت تنقید کی ہے، کانگریس نے ٹرمپ کے ساتھ ٹیلی فونک بات چیت کی اہم تفصیلات چھپانے کا الزام بھی عائد کیا

    اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما جے رام رمیش نے کہا ہے کہ قومی فیصلے مقامی سطح پر اعلان ہونے سے پہلے ہی بیرون ملک میں منظر عام پر آ جاتے ہیں،ٹرمپ نے روسی تیل پر بات اور درآمد روٓکنے کی بھارتی یقین دہانی کا دعویٰ کیا ہے، مودی قومی پالیسی چھپاتے جبکہ ٹرمپ اس کا اعلان کرتے ہیں، ٹرمپ نے ہی حکومت کے سرکاری اعلان سے پہلے ہی آپریشن سندور روکنے کا اعلان بھی کیا تھا، کوالا لمپور سمٹ اور غزہ کانفرنس میں شرکت سے انکار ظاہر کرتا ہے کہ مودی ٹرمپ کا سامنا نہیں کرنا چاہتے،

    خودداری کے دعوے کرنے والا مودی درحقیقت عالمی رہنماؤں کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو چکا،مودی سرکار کی ناکامی سفارتی پالیسیوں نے بھارت کی نام نہاد خودمختاری کا پول کھول دیا