Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سوشل میڈیا پر پاک فوج،پنجاب حکومت کیخلاف پوسٹ،پولیس اہلکار پر مقدمہ درج

    سوشل میڈیا پر پاک فوج،پنجاب حکومت کیخلاف پوسٹ،پولیس اہلکار پر مقدمہ درج

    لاہور کے علاقے گلشنِ اقبال تھانے میں ایک پولیس کانسٹیبل کے خلاف سرکاری ڈیوٹی کے دوران مبینہ طور پر پنجاب حکومت، پاک فوج اور کالعدم تنظیم کے حق میں سوشل میڈیا پوسٹس کرنے پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ابتدائی اطلاعی رپورٹ ،ایف آئی آر نمبر 1386/25 پولیس آڈر 2002 کی دفعہ 155/C کے تحت درج کی گئی۔

    درج مقدمے کے متن کے مطابق یکم دسمبر 2025 کی رات تقریباً 8 بج کر 35 منٹ پر اے ایس آئی محمد پرویز، اہلکار زوہیب ، عمران اور ڈرائیور صفدر گشت کے سلسلے میں سرکاری گاڑی نمبری 646/LEG پر کریم بلاک مارکیٹ میں موجود تھے۔ گشت کے دوران اے ایس آئی محمد پرویز نے اپنا فیس بک اکاؤنٹ کھولا تو ایک آئی ڈی “AQEEL NOOR” پر ایسی متعدد پوسٹس نظر آئیں جو مبینہ طور پر پنجاب حکومت کے خلاف،پاک آرمی کے خلاف،اور ایک کالعدم تنظیم کی حمایت میں شیئر کی گئی تھیں۔پڑتال کے دوران معلوم ہوا کہ فیس بک اکاؤنٹ چلانے والا شخص محمد عقیل ولد نور محمد ہے جو کہ پولیس کانسٹیبل (18849/C)ایس ڈی پی او آفس مسلم ٹاؤن میں کمپیوٹر آپریٹر کے طور پر تعینات ہے۔رپورٹ کے مطابق مذکورہ اہلکار کے سوشل میڈیا رویے کو محکمہ پولیس کے ڈسپلن کی سنگین خلاف ورزی اور ادارے کی بدنامی کا باعث قرار دیا گیا۔

    اے ایس آئی محمد پرویز نے تمام ریکارڈ مرتب کر کے تحریری استغاثہ کے ساتھ کنسٹیبل عمران کے ذریعے مقدمہ درج کرانے کی درخواست تھانے بھجوائی۔ تحریر موصول ہونے پر احمد مجدد نے مقدمہ درج کر کے تفتیش انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کرنے کی ہدایت جاری کی۔مقدمے کے اندراج کے بعد متعلقہ تفتیشی افسر کو کیس منتقل کر دیا گیا ہے۔

  • صدر مملکت کا نوٹفکیشن آرڈر بڑا عجیب،کیا یہ اصلی یا دوسرا بھی جعلی،مبشر لقمان کے تلخ سوال

    صدر مملکت کا نوٹفکیشن آرڈر بڑا عجیب،کیا یہ اصلی یا دوسرا بھی جعلی،مبشر لقمان کے تلخ سوال

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی واینکر پرسن مبشر لقمان نے اپنے پروگرام میں آج جاری ہونے والے نوٹیفکیشنز کے حوالہ سے سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں،بنا تاریخ کے نوٹفکیشن ملنے پر مبشر لقمان وزیراعظم و صدارتی سیکرٹریٹ کے افسران پر برس پڑے،وزیر اطلاعات عطاتارڑ سے جواب مانگ لیا.

    ان خیالات کا اظہار مبشر لقمان نے اپنے یوٹیوب چینل مبشر لقمان آفیشل پر ایک وی لاگ میں کیا، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بڑا ہی عجیب لگ رہا ہے مجھے یہ پروگرام کرتے ہوئے، یہ چھوٹا سا پروگرام ہے لیکن ٹاپ بریکنگ لے کر آ رہا ہوں یہ اس نوٹفکیشن کے مطابق ہے جس پر ہم سب نے مبارکباد دی، ٹی وی پر آ کر بھی مبارکباددی کہ یہ پاکستان کے لئے بہت اچھا ہے لیکن مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ہماری اشرافیہ نالائق ہے یا چالاک ہے،میری سمجھ سے بالاتر ہے، یہ نوٹفکیشن کیا ہے میں اس کو دیکھ رہا ہوں تو لگتا ہے کہ یہ نوٹفکیشن غلط ہے، آپ مجھے بتائیں کہ یہ نوٹفکیشن صحیح ہے یا پہلے کی طرح غلط ہے، جس طرح اعزاز سید نے خبر دی تو بعد میں کہا گیا کہ یہ فیک ہے، بحرحال اس کے بعد نوٹفکیشن آ گیا،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میری چڑیل نے کہا کہ نوٹفکیشن دیکھا جس پر میں نے کہا میں نے کیا دیکھنا جنہوں نے دیکھنا ہے وہ دیکھیں، محسن نقوی، فیصل واوڈا خوش ہوں گے اور لوگ بھی خوش ہوں گے،چڑیل کے دوبارہ کہنے پر میں نے پھر نوٹفکیشن دیکھا ،نوٹفکیشن بڑا سادہ ہے،سات لائنز ہیں ٹوٹل،اس موقع پر مبشر لقمان نے نوٹفکیشن پڑھ کر سنایا.آخری لائن میں مہینہ کے ساتھ تاریخ نہیں لکھی گئی جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دسمبر 2025 ہے لیکن تاریخ کون سی؟ تاریخ نہیں لکھی گئی، اب اس پر بحث ہو گی کہ کونسی تاریخ ہے آج کی ہی یا پہلے کی،یا کب کی، دوسرا نوٹفکیشن ہے ایئر چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا،اس میں بھی تاریخ نہیں لکھی گئی،یہ کس قسم کا نوٹفکیشن ہے، یہ مجھے واٹس ایپ پر سارے ملے، ہو سکتا ہے کسی نے مجھے غلط بھیج دیا ہو تاہم میری درخواست ہے عطا تارڑ سے کیونکہ وہ وزیر اطلاعات ہیں کہ مجھے بتا دیجیے گا کہ اس پر تاریخ ہے ہی یا نہیں یا میرے پاس جو ہے وہ غلط ہے، اگر اس پر تاریخ نہیں ہے تو اسکی لیگل ویلیو کیا ہے،یہ فوری نافذ ہو گا یا پھر دوبارہ تاریخ لکھی جائے گی اور صدر کے دستخط ہوں گے،یا دوبارہ سے نیا نوٹفکیشن ہونا ہے، یہ کس چکر میں ہمیں ڈال دیا مجھے یاد ہے جب جنرل باجوہ کا نوٹفکیشن ہونا تھا اسوقت بہت چکر پڑے تھے،آصف سعید کھوسہ نے بھی سپریم کورٹ بلا لیا تھا،پھر نوٹفکیشن لکھ کر دیا گیا اور پھر آیا،میرے خیال سے اب دوبارہ یہ نوٹفکیشن ایک لائن کے انکو لکھ کر بھیجنے پڑیں گے پھر دستخط ہوں گے،کیونکہ خود سے ہمارے وزیراعظم ہاؤس میں پتہ نہیں کس کی ذمہ داری ہے کیونکہ میں نے وزیراعظم سیکرٹریٹ یا صدارتی سیکرٹریٹ میں کام نہیں کیا، اب پتہ نہیں کس کی غلطی ہے لامنسٹری کی غلطی ہے یا کسی اور کی، جو بھی ہے مذاق بنا دیا ہے کیوں ایسی حرکتیں کرتے ہیں آپ لوگ،

    مبشر لقمان کا مزید کہناتھا کہ ایک دو لائنوں والا نوٹفکیشن صحیح نکال نہیں سکتے لیکن 25 کروڑ آبادی والا ملک چلائیں گے،اب اس کو خسارے سے،ا ندھیروں سے نکالیں گے ،معاشی ترقی کریں گے، میں اس پر کیا کہوں، مجھے غصہ نہ چڑھے تو کیا ہو.اور اگر یہ غلط ہے، میرے پاس غلط نوٹفکیشن آیا ہے تو میری تصحیح کر لیجے گا .اللہ اس ملک کو اپنی امان میں رکھے.

    جنرل عاصم منیر کی تقرری ملکی سلامتی کے تقاضوں کے عین مطابق ہے،وزیراعلیٰ بلوچستان

    صدر مملکت نے چیف آف ڈیفنس فورسز کی تقرری کی منظوری دے دی

  • بحران ختم نہ ہوا،بھارتی ایئر لائن انڈیگو کی 550 سے زائد پروازیں منسوخ

    بحران ختم نہ ہوا،بھارتی ایئر لائن انڈیگو کی 550 سے زائد پروازیں منسوخ

    20 سال پرانی ایئر لائن کے لیے یہ ایک ریکارڈ ہے کہ انڈیگو نے جمعرات کے روز 550 سے زائد پروازیں منسوخ کر دیں، کیونکہ آپریشنل خلل تیسرے روز بھی جاری رہا۔

    ایئر لائن متعدد مسائل، جن میں کیبن کریو کی مشکلات اور ٹیکنالوجی سے متعلق مسائل شامل ہیں، کے باعث شدید پروازوں میں تعطل کا سامنا کر رہی ہے۔ انڈیگو نے اپنے شیڈولز میں تبدیلی کی ہے، ایئر لائن نے کہا ہے کہ آئندہ دو سے تین دنوں میں مزید پروازیں منسوخ کی جائیں گی۔ انڈیگو روزانہ تقریباً 2,300 پروازیں چلاتی ہے اور اپنی وقت کی پابندی کو اپنی شناخت قرار دیتی ہے؛ بدھ کے روز اس کی آن ٹائم کارکردگی 19.7 فیصد رہی، جو منگل کے 35 فیصد سے نمایاں کمی ہے۔سول ایوی ایشن وزارت اور ریگولیٹر ڈی جی سی اے نے آج انڈیگو کے سینئر حکام سے ملاقات کی تاکہ صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے اور حل نکالا جا سکے۔

    انڈیگو کے سی ای او پیئٹر ایلبرز نے عملے کو بتایا کہ آپریشنز کو معمول پر لانا اور وقت کی پابندی بحال کرنا کوئی "آسان ہدف” نہیں ہوگا۔بھارتی میڈیا کے مطابق ممبئی ایئرپورٹ پر کم از کم 118 پروازیں منسوخ ہوئیں، بنگلورو میں 100، حیدرآباد میں 75، کولکاتہ میں 35، چنئی میں 26 اور گوا میں 11 پروازیں منسوخ ہوئیں۔ دیگر ائیرپورٹس سے بھی پروازوں کی منسوخی کی اطلاعات موصول ہوئیں۔انڈیگو نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے نئے ضوابط کے تحت عملے کی ضروریات کا غلط اندازہ لگایا اور پلاننگ میں خامیاں رہ گئیں، جس کے نتیجے میں ایسے وقت میں عملے کی دستیابی ناکافی رہی جب سرد موسم اور فضائی ٹریفک میں اضافہ بھی آپریشنز کو متاثر کر رہا تھا۔

    رات کی ڈیوٹی کی تعریف، جو پہلے رات 12 بجے سے صبح 5 بجے تک تھی، اب عارضی طور پر رات 12 بجے سے صبح 6 بجے تک کے لیے واپس لے لی گئی ہے۔ اسی طرح، رات کے وقت دو لینڈنگ کی حد بھی عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہے۔

  • جنرل عاصم منیر کی تقرری ملکی سلامتی کے تقاضوں کے عین مطابق ہے،وزیراعلیٰ بلوچستان

    جنرل عاصم منیر کی تقرری ملکی سلامتی کے تقاضوں کے عین مطابق ہے،وزیراعلیٰ بلوچستان

    ملک کے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نےمبارکباد دی ہے

    وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ پاکستان فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت میں ایک مضبوط اسلامی فلاحی ریاست کے طور پر اُبھرا،پاک افواج نے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی سربراہی میں دشمن کی ہر جارحیت کو ناکام بنا کر قوم کا سر فخر سے بلند کیا، فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی تقرری قوم کی اُمنگوں اور ملکی سلامتی کے تقاضوں کے عین مطابق ہے، پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کرنے والا ہر جوان فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت پر بھرپور اعتماد رکھتا ہے، فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا وژن ملکی دفاع، قومی سلامتی اور امن کے قیام کے لیے تاریخی سنگِ میل ثابت ہوگا، بلوچستان کی عوام فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی پیشہ ورانہ قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے، ملکی وحدت، یکجہتی اور دفاع کے سفر میں بلوچستان ہمیشہ پاک افواج کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کا مستقبل زیادہ محفوظ، مستحکم اور روشن دکھائی دیتا ہے،

  • صدر مملکت نے چیف آف ڈیفنس فورسز کی تقرری کی منظوری دے دی

    صدر مملکت نے چیف آف ڈیفنس فورسز کی تقرری کی منظوری دے دی

    صدر مملکت نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز تقرری کی منظوری دے دی

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو پانچ سال کے لیے چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز مقرر کر دیا گیا،
    ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی مدت ملازمت میں دو سال کی توسیع کی منظوری دی گئی،صدر مملکت نے آرمی چیف کے ساتھ ساتھ چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف ایئر سٹاف کو ان کی کامیاب مدت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

    قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بطور چیف آف آرمی اسٹاف اور بیک وقت چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی کی سمری باقاعدہ طور پر منظور کرتے ہوئے ایوانِ صدر بھجوائی تھی، پاکستان میں پہلی بار چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ قائم کیا گیا ہے، جس کے پہلے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ہیں. چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیا عہدہ تینوں مسلح افواج کے درمیان عسکری ہم آہنگی، رابطوں اور دفاعی حکمتِ عملی میں یکجہتی کو مزید مضبوط بنائے گا۔

  • روسی صدر پیوٹن بھارت پہنچ گئے

    روسی صدر پیوٹن بھارت پہنچ گئے

    روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن جمعرات کی شام 27 گھنٹے کے نہایت اہم دورے پر نئی دہلی پہنچے۔ اس دورے کو بھارت اپنی قدیم اور مضبوط ترین اسٹریٹجک شراکت داری کے ایک اور مضبوط ثبوت کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ سربراہی ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب خطے اور عالمی سطح پر سفارتی و معاشی حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔

    جمعرات کی شام تقریباً 6 بج کر 35 منٹ پر صدر پیوٹن کے طیارے نے دہلی کے ائیر پورٹ پر لینڈ کیا، جہاں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے انہیں پرتپاک انداز میں گلے لگا کر خوش آمدید کہا۔ دونوں رہنماؤں نے ایئرپورٹ سے وزیر اعظم کی گاڑی میں روانگی اختیار کی۔ وزیر اعظم مودی نے پیوٹن کے اعزاز میں نجی ڈنر کا اہتمام کریں گے،جمعہ کی صبح صدر پیوٹن کو راشٹرپتی بھون میں باضابطہ استقبالیہ دیا جائے گا۔ اس کے بعد وہ راج گھاٹ جائیں گے، جہاں وہ مہاتما گاندھی کو خراجِ عقیدت پیش کریں گے۔دوطرفہ سربراہی اجلاس حیدرآباد ہاؤس میں ہوگا، جو بھارت کی اعلیٰ ترین سفارتی سرگرمیوں کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ اجلاس کے بعد سرکاری دوپہر کا کھانا بھی وہیں ہوگا۔روس کے صدر نئی دہلی میں روسی سرکاری نشریاتی ادارے کے ایک نئے انڈیا بیسڈ چینل کا افتتاح بھی کریں گے۔ شام میں بھارتی صدر دروپدی مرمو ان کے اعزاز میں ریاستی عشائیہ دیں گی۔صدر پیوٹن جمعہ کی شب تقریباً 9 بجے بھارت سے روانہ ہوں گے۔

    بھارتی حکومتی ذرائع کے مطابق، روسی صدر کے ہمراہ بڑی تعداد میں کاروباری شخصیات بھی آئی ہیں۔ بھارت روس کے ساتھ اپنے بڑھتے تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے عملی پیش رفت کی امید کر رہا ہے۔حکومتی اہلکاروں کے مطابق، اجلاس کا بنیادی فوکس تین شعبوں پر ہوگا ،دفاعی تعاون،توانائی،تجارت اور سرمایہ کاری،ذرائع کا کہنا ہے کہ شپنگ، صحت، کھاد سازی سے متعلق متعدد معاہدے اور یادداشتیں متوقع ہیں،

    سربراہی اجلاس سے ایک دن قبل دونوں ممالک کے دفاعی وزراء نے اہم ملاقات کی، جس میں بھارت کے لیے اضافی S-400 ایئر ڈیفنس سسٹمز کی خریداری،یوکرین جنگ کے باعث تاخیر کا شکار دفاعی ساز و سامان کی ترسیل,اور مشترکہ دفاعی پیداوارجیسے موضوعات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے اشارہ دیا ہے کہ روس بھارت کو Su-57 پانچویں نسل کے فائٹر جیٹ کی پیشکش بھی کر سکتا ہے یہ پیشکش روس کو مغربی طیارہ سازوں جیسے رافیل، F-21، F/A-18 اور یورو فائٹر ٹائفون کے براہِ راست مقابلے میں کھڑا کر دے گی۔

    بھارت اب بھی روس کا سب سے بڑا ڈسکاؤنٹڈ خام تیل خریدار ہے۔ تاہم حالیہ امریکی پابندیوں کے باعث روس کی دو بڑی تیل کمپنیوں پر بھارت کی درآمدات میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔اس تناظر میں توانائی پر تعاون مذاکرات کا اہم حصہ ہوگا۔پیوٹن کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب متعدد بھارتی حکام کے مطابق بھارت امریکہ تعلقات گزشتہ دو دہائیوں کے سب سے کشیدہ دور میں داخل ہو چکے ہیں۔واشنگٹن نے حال ہی میں بھارتی مصنوعات پر 50% نیا ٹیرف،اور روسی تیل خریدنے پر 25% اضافی ڈیوٹی عائد کی ہے، جس سے نئی دہلی شدید ناراض ہے۔ایسے حالات میں روسی صدر کا بھارت آنا دونوں ممالک کے تعلقات میں غیر معمولی سفارتی وزن رکھتا ہے۔

    صدر پیوٹن کے دورے کے لیے دہلی پولیس نے 5,000 سے زائد اہلکار تعینات کیے ہیں۔سیکیورٹی کے متعدد حصار قائم کیے گئے ہیں

    بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ہندوستان پہنچنے پر گرم جوشی سے استقبال کرتے ہوئے کہا کہ ہند روس دوستی نے ہمیشہ دونوں ملکوں کے عوام کو فائدہ پہنچایا ہے۔ پوتن آج دو روزہ دورے پر نئی دہلی پہنچے۔ دونوں رہنما کل کی ملاقاتوں میں دفاع، تجارت اور تزویراتی تعاون پر بات چیت کریں گے۔بھارتی وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پر صدر پوتن کے ہندوستان آمد اور ان کے استقبال کی چند تصاویر شئیر کرتے ہوئے لکھا: ’’اپنے دوست صدر پوتن کا بھارت میں خیرمقدم کرتے ہوئے مسرت ہو رہی ہے۔ آج شام اور کل ہونے والی ملاقاتوں کا بے حد انتظار ہے۔ بھارت روس دوستی ایک آزمودہ رشتہ ہے جس نے ہمارے عوام کو ہمیشہ فائدہ پہنچایا ہے

  • آج سے کپتان کی بہن کی ملاقاتیں بند، اڈیالہ کے باہر تماشہ نہیں لگے گا،عطا تارڑ

    آج سے کپتان کی بہن کی ملاقاتیں بند، اڈیالہ کے باہر تماشہ نہیں لگے گا،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اعلان کیا ہےکہ اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے اب عظمیٰ خان کی بھی ملاقات نہیں ہوگی، ملاقات کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کی ملاقاتیں بند کردی ہیں۔

    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنیں جیل کے باہر لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا کرتی ہیں، جس جس نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے ان کی ملاقات بند ہے، آج سے عظمیٰ خان کی ملاقات بھی بندکردی گئی ہے، سپرنٹنڈنٹ جیل پابند ہیں کہ وہ قانون کی عملداری کریں، یہ نہیں ہوسکتا کہ اندر جا کر ملاقاتیں کریں اور باہر پروپیگنڈا کروائیں، آپ کو ایک موقع دیا گیا تھا، جس جس نے خلاف ورزی کی اس کی ملاقات بند ہوئی، عظمیٰ خان نے باہر آکر بتایا کہ وہ فرسٹریٹڈ تھے، غصے میں بھی تھے، ہم بھی ملاقاتیں کرنے جاتے تھےلیکن کبھی لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا نہیں کی۔

    وزیر اطلاعات عطا تارڑ کامزید کہنا تھا کہ یہ سب تو 190 ملین پاؤنڈ کی کرپشن کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا، وائلیشن کرنے والے کسی شخص کو ملاقات کی اجازت نہیں، ریاست کی رٹ اسٹیبلش ہوگی، اب روز روز اڈیالہ کے باہر تماشا نہیں لگےگا، ملاقاتوں کا مقصد ہوتا ہے حال احوال، آپ کہتے ہیں ریاست کو گرا دیں گے، آپ بھارت کو ہرانے والی ریاست کو ہرائیں گے؟ آپ چاہتے ہیں کہ ملک کا دفاع کمزور ہو، سالمیت کو نقصان پہنچے، اسٹیٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ جیل کے باہر اب لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا ہوئی تو سختی سےنمٹا جائےگا، اب جیل کے باہر کوئی خلاف ورزی ہوئی تو آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائےگا، کوئی ابہام نہ رہے، اب روز روز اڈیالا کے باہر تماشا نہیں لگےگا، ہم بھی جیلوں میں ملاقات کے لیے جاتے تھے،کبھی کوئی سڑک بلاک نہیں کی بانی پی ٹی آئی سزا یافتہ ہیں اور اپنی سزا کاٹ رہے ہیں، پاکستان کی تاریخ میں کسی قیدی کو اتنی سہولیات نہیں دی گئیں، کسی قیدی کو جاگنگ مشین نہیں ملی،میگا کرپشن اسکینڈل میں سزا یافتہ شخص کا ناشتہ غریب آدمی کی ایک ہفتے کی خوراک کے برابر ہے،سہیل آفریدی نے آج این ایف سی کی میٹنگ میں شرکت کی، مبارک بادی کے مستحق ہیں، اسی طرح ایپکس کمیٹی کا اجلاسوں میں بھی شریک ہوں، جو ان کا اصل کام ہے،پی ٹی آئی کے آدھے اکاؤنٹ بھارت اور آدھے افغانستان سے چل رہے ہیں،عمران خان کو معافی مانگنی چاہئے جو منہ پر ہاتھ پھیر کر کہتا تھا کہ میں ان کے AC بند کر دونگا، بیٹی کے سامنے گرفتار کرو۔ یہ سب عمران خان غرور میں کہتا تھا اب اسکو اللہ سے معافی مانگنی چاہیئے۔

  • مہاراشٹر کے تعلیمی اداروں میں طالبات کے برقع پہننے پر پابندی

    مہاراشٹر کے تعلیمی اداروں میں طالبات کے برقع پہننے پر پابندی

    مہاراشٹر میں ایک بار پھر تعلیمی اداروں میں برقع اور مذہبی لباس کے استعمال پر پابندی کا معاملہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

    ممبئی کے علاقہ چیمبور کے ایک کالج میں چند روز قبل برقع و نقاب پر پابندی کے بعد اب گوریگاؤں کے ’وویک ودیالیہ اینڈ جونیئر کالج‘ نے بھی ایسا ہی قدم اٹھاتے ہوئے نیا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس نے طالبات، والدین اور مختلف سیاسی و سماجی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔وویک ودیالیہ کی انتظامیہ نے جاری سرکلر میں واضح کیا ہے کہ کسی بھی مذہب کو ظاہر کرنے والی پوشاک پہن کر کیمپس میں داخل ہونا ممنوع ہے۔لڑکیوں کے لیے برقع، نقاب اور حجاب پہن کر کلاس میں بیٹھنا منع ہے۔لڑکوں کے لیے ٹوپی یا مذہبی نشانات والے کپڑوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔طلبا و طالبات کو ادارے کی جانب سے مقرر کردہ ڈریس کوڈ پر مکمل طور پر عمل کرنا ہوگا۔سرکلر میں مزید کہا گیا ہے کہ تعلیمی ادارہ ایک ’’مساوات پر مبنی‘‘ ماحول بنانے کا خواہاں ہے، جس میں ایسے لباس کی اجازت نہیں دی جائے گی جو مذہبی شناخت یا ثقافتی عدم مساوات کو ظاہر کرتا ہو۔

    لڑکوں کے لیے رسمی ہاف یا فل سلیو شرٹ اور ٹراؤزر، ٹی شرٹ یا جینز،لڑکیوں کے لیے کوئی بھی مہذب ہندوستانی یا مغربی لباس پہننے کی اجازت ہے،دیگر شرائط کے مطابق لڑکوں کو بال مناسب انداز میں کٹوا کر آنا ہوگا۔ لڑکیوں کو بال ہر وقت بندھے رکھنے ہوں گے۔ ممنوعہ لباس میں‌بغیر آستین والے ٹاپ،چھوٹے ٹاپ،جرسی،شارٹس،رِپڈ جینز،ضرورت سے زیادہ چست یا جسم سے چپکے ہوئے کپڑے،ایسے تمام ملبوسات جو مذہبی شناخت ظاہر کریں شامل ہیں،سرکلر میں خاص طور پر درج ہے کہ لڑکیوں کو کلاس میں داخل ہونے سے قبل برقع اور نقاب اتارنا ضروری ہوگا۔

    نوٹیفکیشن منظر عام پر آنے کے بعد اے آئی ایم آئی ایم کی خواتین ونگ کی نمائندہ خواتین اور کچھ طالبات نے کالج کے باہر زور دار احتجاج کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’طالبات کو برقع پہن کر کلاس میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جا رہی، جو ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔‘‘مظاہرین نے کالج انتظامیہ کو نوٹیفکیشن فوری طور پر واپس لینے کا الٹی میٹم دیا ہے۔

    میڈیا نے جب اس سلسلے میں کالج انتظامیہ سے موقف لینے کی کوشش کی تو انہوں نے نہ صرف تبصرہ کرنے سے انکار کیا بلکہ سرکلر کے حوالے سے بھی کوئی وضاحت دینے سے گریز کیا۔ اس خاموشی نے معاملے کو مزید متنازع بنا دیا ہے۔

  • عرفان صدیقی مرحوم کی سینیٹ سیٹ پر زبیر گل کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ

    عرفان صدیقی مرحوم کی سینیٹ سیٹ پر زبیر گل کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ

    مسلم لیگ (ن) نے سینیٹ کی خالی نشست پر جماعت کے دیرینہ، وفادار اور فعال رہنما میاں محمد نواز شریف کے قریبی ساتھی زبیر گل کو پارٹی ٹکٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    یہ نشست معروف کالم نگار، سینئر سیاستدان اور مسلم لیگ (ن) کے اہم رہنما مرحوم عرفان صدیقی کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی۔ذرائع کے مطابق پارٹی قیادت نے طویل مشاورت کے بعد متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ سینیٹ کے لیے ایسا امیدوار نامزد کیا جائے جس نے نہ صرف پارٹی کے مشکل ترین ادوار میں ثابت قدمی کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ (ن) کا بیانیہ اندرون و بیرون ملک مؤثر انداز میں پیش کیا ہو۔ اسی تناظر میں مسلم لیگ (ن) یوکے کے سابق صدر اور موجودہ چیف آرگنائزر زبیر گل کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ یا گیا ہے

    زبیر گل طویل عرصے سے نواز شریف کے بااعتماد ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے برطانیہ میں پارٹی کی سرگرمیوں کو منظم، مستحکم اور متحرک کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ زبیر گل کی نامزدگی نہ صرف ان کی خدمات کا اعتراف ہو گی بلکہ سمندر پار پاکستانیوں کے سیاسی کردار کے حوالے سے بھی ایک مثبت اور اہم پیغام ہو گا

    دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ عابد شیر علی کوبھی ٹکٹ جاری کیا جا سکتا ہے،تاہم ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں ہوا،

  • وزیراعظم نے فیلڈ مارشل کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی کی سمری ایوان صدر بھجوا دی

    وزیراعظم نے فیلڈ مارشل کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی کی سمری ایوان صدر بھجوا دی

    وزیراعظم شہباز شریف نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بطور چیف آف آرمی اسٹاف اور بیک وقت چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی کی سمری باقاعدہ طور پر منظور کرتے ہوئے ایوانِ صدر بھجوا دی ہے۔

    اس تاریخی فیصلے کے ساتھ پاکستان میں پہلی بار چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ قائم کیا گیا ہے، جس کے پہلے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ہوں گے۔ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کوچیف آف آرمی اسٹاف،چیف آف ڈیفنس فورسز دونوں عہدوں پر پانچ سال کے لیے تعینات کیا جا رہا ہے۔چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیا عہدہ تینوں مسلح افواج کے درمیان عسکری ہم آہنگی، رابطوں اور دفاعی حکمتِ عملی میں یکجہتی کو مزید مضبوط بنائے گا۔

    یہ اعزاز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حصے میں آیا ہے کہ وہ پاکستان کےپہلے چیف آف ڈیفنس فورسزبھی ہوں گے، جو ملکی دفاعی ڈھانچے کی نئے انداز سے تشکیل کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔وزیراعظم نے اس موقع پر ایک اور اہم فیصلہ کرتے ہوئےچیف آف ایئر اسٹاف، ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھوکی مدتِ ملازمت میں دو سال کی توسیع بھی منظور کر دی۔ایئر چیف کی موجودہ پانچ سالہ مدت مارچ 2026 میں مکمل ہو رہی تھی۔نئی توسیع ان کی موجودہ مدت مکمل ہونے کے بعد عملی طور پر نافذ العمل ہوگی۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق یہ فیصلے ملکی دفاعی تسلسل، ادارہ جاتی استحکام اور بدلتے علاقائی و عالمی سکیورٹی ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے گئے ہیں۔