Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کی CDF تعیناتی کا جعلی نوٹیفکیشن

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کی CDF تعیناتی کا جعلی نوٹیفکیشن

    ملک کے معروف میڈیا ہاؤس نے صحافت کی اقدار کو پامال کرتے ہوئے CDF کی تعیناتی کے متعلق ایک جعلی نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

    ستم ظریفی یہ کہ یہ خبر ایک اعزاز سید جیسے صحافی نے جاری کی جو اپنے آپ کو انویسٹیگیٹیو جرنلزم کا چیمپئن سمجھتا ہے۔ حقیقت میں یہ شخص زرد صحافت کا سرخیل ہے۔ جیو نیوز کو چائیے کہ اس کی مکمل تحقیقات کرائے اور اس میں ملوث افراد پر آئندہ کیلئے میڈیا میں آنے پر پابندی لگائی جائے۔

    میڈیا حلقوں کا کہنا ہے کہ کسی بھی حساس قومی ادارے یا اعلیٰ عسکری عہدے کے بارے میں خبر نشر کرنے سے قبل اس کی تین سطحوں پر تصدیق صحافتی اصولوں کا بنیادی تقاضا ہے، جسے اس معاملے میں یکسر نظرانداز کیا گیا۔سینئر صحافیوں اور میڈیا تجزیہ کاروں نے اس اقدام کو ’’زرد صحافت‘‘ کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے نہ صرف میڈیا کی ساکھ مجروح ہوتی ہے بلکہ قومی اداروں سے متعلق غلط فہمیوں کو بھی ہوا ملتی ہے۔

  • لانڈھی کی گارمنٹ فیکٹری میں خوفناک آتشزدگی، عمارت منہدم، 2 فائر فائٹرز زخمی

    لانڈھی کی گارمنٹ فیکٹری میں خوفناک آتشزدگی، عمارت منہدم، 2 فائر فائٹرز زخمی

    کراچی کے صنعتی علاقے لانڈھی میں واقع ایک گارمنٹ فیکٹری میں پیر کی شام اچانک شدید آتشزدگی بھڑک اٹھی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ چند ہی گھنٹوں میں 3 منزلہ عمارت کا ڈھانچا کمزور پڑ گیا اور بالآخر مکمل طور پر گر کر ملبے کا ڈھیر بن گیا۔ اس افسوسناک واقعے میں 2 فائر فائٹرز زخمی ہوگئے، جنہیں فوری طور پر ابتدائی طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

    ترجمان کے مطابق فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں نے آگ پر قابو پانے کے لیے فوری طور پر کراچی واٹر کارپوریشن سے ہنگامی مدد طلب کی تاکہ پانی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ سی ای او کی خصوصی ہدایت پر لانڈھی ہائیڈرنٹ پر ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی جبکہ شیرپاٶ ہائیڈرنٹ پر بھی واٹر ٹینکرز کو اسٹینڈ بائی پر الرٹ کر دیا گیا۔ترجمان کے مطابق واٹر کارپوریشن نے فوری طور پر متعدد واٹر ٹینکرز جائے وقوع کی جانب روانہ کر دیے ہیں جبکہ ہائیڈرنٹس کے انچارج فائر بریگیڈ اور ریسکیو حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ پانی کی فراہمی میں کوئی خلل نہ آئے۔

    ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ آگ ابتدا میں فیکٹری کی اوپری منزلوں تک محدود تھی لیکن خام مال اور کاٹن کی موجودگی کے باعث شعلے انتہائی تیزی سے پھیلے، جس کے نتیجے میں دیواریں گرنے لگیں اور کچھ ہی دیر بعد پوری عمارت زمین بوس ہوگئی۔ ملبہ گرنے کے دوران 2 فائر فائٹرز زخمی ہوئے تاہم دونوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔آگ بجھانے کے لیے فائر بریگیڈ کی 12 سے زائد گاڑیاں، اسنارکل، ریسکیو 1122 کی ٹیمیں اور واٹر کارپوریشن کے ٹینکرز مشترکہ آپریشن میں مصروف ہیں۔ اطراف کی دیگر فیکٹریوں کی فائر سیفٹی ٹیموں کو بھی طلب کر لیا گیا ہے تاکہ آگ کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔علاقے میں بھاری دھواں پھیل جانے سے فضا مکدر ہو گئی ہے جبکہ پولیس نے عوام کو جائے حادثہ سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے اور آگ پر مکمل قابو پانے کے لیے کئی گھنٹوں کا وقت درکار ہوگا۔

  • سہیل  آفریدی کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع

    سہیل آفریدی کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کا آغازکر دیا گیا

    انسداد دِہشتگردی عدالت اسلام آباد کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے سہیل آفریدی کو اشتہاری قرار دینے کی استدعا منظور کرلی،مینا آفریدی اور ڈاکٹرامجد کے خلاف بھی اشتہاری قرار دینےکی کارروائی کا آغاز ہوگیا، تھانا نون کے انسپکٹر عبد القادر نے وزیراعلیٰ کے پی و دیگر کو اشتہاری قرار دینے کی درخواست دی،درخواست میں کہا گیا کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی و دیگر کیخلاف 26 نومبر کے احتجاج کا مقدمہ درج ہے، عدالت کی جانب سے متعدد بار طلب کرنے کے باوجود ملزمان پیش نہیں ہوئے،انسداد دہشت گردی کی عدالت کا کہنا ہے کہ عدالت مطمئن ہے ملزمان جان بوجھ کر گرفتاری سے بھاگ رہے ہیں،

  • وزیراعلیٰ جواب دیں خونی تہوار کی کیوں،کس کی ایما پر اجازت دی گئی،صدر مرکزی مسلم لیگ پنجاب

    وزیراعلیٰ جواب دیں خونی تہوار کی کیوں،کس کی ایما پر اجازت دی گئی،صدر مرکزی مسلم لیگ پنجاب

    مرکزی مسلم لیگ پنجاب کے صدر محمد سرور چوہدری نے کہا ہے کہ لاہور سمیت پنجاب میں پتنگ بازی کی اجازت دینے سے ظاہر ہوتا ہے وزیراعلیٰ پنجاب نے پتنگ مافیا کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے،کوئی سفارش نہیں چلے گی کہنے کی دعویدار وزیراعلیٰ جواب دیں کہ خونی تہوار کی کیوں اور کس کی ایما پر اجازت دی گئی،اگرپتنگ بازی سے کوئی سانحہ رونما ہوا تو ذمہ دار ی وزیراعلیٰ پر ہو گی،خونی تہوار کا آرڈیننس فوری واپس لیا جائے

    محمد سرور چوہدری کا کہنا تھا کہ پتنگ بازی کی وجہ سے لاہور میں ہر سال قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں،دو ماہ قبل بھی ایک ہی دن میں دوہلاکتیں ہوئیں، ماضی میں پتنگ بازی پر ایس ایچ اوپر مقدمہ ہوتا تھا اب سب کو پتنگ بازی کی اجازت دے دی،یہ کیسی سب کی ماں ہے جو خونی تہوار کی اجازت دے رہی ہے، پتنگ بازی کی پنجاب حکومت شروط اجازت دے کر عوام کی جانوں سے کھیلنا چاہ رہی ہے،پتنگ بازی کے پنجاب حکومت کے آرڈیننس کو مسترد کرتے ہیں،اور اگر اجازت کے دنوں میں پتنگ بازی کی کسی بھی جگہ کوئی ناگہانی واقعہ رونما ہوا تواسکی ذمہ دار وزیراعلیٰ پنجاب ہوں گی ،مرکزی مسلم لیگ عوامی حقوق کا تحفظ کرے گی،ضرورت اس امر کی ہے کہ پتنگ بازی کے غیر ضروری،غیر ذمہ دارانہ آرڈیننس کو واپس لیا جائے.

  • متنازع ٹویٹ کیس، ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی تین متفرق درخواستیں خارج

    متنازع ٹویٹ کیس، ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی تین متفرق درخواستیں خارج

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے متنازع ٹویٹ کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی تین متفرق درخواستیں خارج کر دیں۔

    ایڈیشنل سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے ایمان مزاری کی بریت کی درخواست خارج کر دی، عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی دوبارہ جرح کی درخواست بھی مسترد کر دی،اس کے علاوہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جانب سے اسٹیٹ کونسل سے متعلق دائر درخواست بھی خارج کر دی گئی،سماعت کے دوران ایمان مزاری اور ہادی علی کے وکیل شیر افضل مروت اور پراسیکیوشن ٹیم عدالت میں موجود تھے۔

    شیر افضل مروت نے عدالت سے استدعا کی کہ دفعہ 342 کے جوابات جمع کرانے کے لیے ایک دن کا وقت دیا جائے،جج افضل مجوکہ نے ریمارکس دیے کہ سوالات کے جوابات تو دے دیں، تاریخ کل کی دے دوں گا،شیر افضل مروت نے دوران سماعت کہا کہ آج عدالت کو دیکھ کر گھٹن ہو رہی ہے، یہ عدالت ہے تھانہ نہیں جو اتنی پولیس ہے،بعد ازاں اسٹیٹ کونسل نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جانب سے دفعہ 342 کا بیان عدالت میں جمع کرا دیا،جج افضل مجوکہ نے کیس کو حتمی بحث کے لیے کل تک ملتوی کر دیا،

  • پاک سعودی دوستی، پاکستان کے 3 ارب ڈالرز ڈپازٹ کی مدت میں ایک سال کی مزید توسیع

    پاک سعودی دوستی، پاکستان کے 3 ارب ڈالرز ڈپازٹ کی مدت میں ایک سال کی مزید توسیع

    اسلام آباد: پاکستان کی معاشی صورتحال کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں سعودی عرب نے پاکستان کے اسٹیٹ بینک میں رکھے اپنے 3 ارب ڈالرز کے ڈپازٹ کی مدت میں ایک بار پھر توسیع کر دی ہے۔ اس فیصلے کو پاکستان کی معاشی استحکام کی کوششوں کے لیے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذرائع کے مطابق سعودی ڈیولپمنٹ فنڈ (SDF) نے 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹ کی مدت میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ڈپازٹ اسٹیٹ بینک کے پاس محفوظ ہیں اور ان کی موجودہ مدت آج ختم ہو رہی تھی جس کے باعث اس توسیع کو نہایت اہمیت حاصل ہے۔اسٹیٹ بینک حکام کے مطابق اس توسیع سے نہ صرف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو استحکام ملے گا بلکہ بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ میں بھی کمی آئے گی۔ مزید برآں، بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کا پاکستان کی معاشی پالیسیوں پر اعتماد بھی بڑھے گا۔

    یاد رہے کہ سعودی عرب نے 2021 میں پاکستان کو 3 ارب ڈالرز کا ڈپازٹ فراہم کرنے کا معاہدہ کیا تھا، جس کا مقصد پاکستان کے اقتصادی محاذ پر معاونت اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری لانا تھا۔ اس ڈپازٹ کی مدت میں اس سے قبل بھی متعدد بار توسیع کی جا چکی ہے۔حکومتی اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے مسلسل مالی تعاون پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کا واضح عکاس ہے۔ رواں مالی سال کے دوران پاکستان کئی معاشی چیلنجز سے نبرد آزما ہے، ایسے میں یہ توسیع ملک کی مالیاتی حکمت عملی کے لیے تقویت کا باعث بنے گی۔وزارت خزانہ نے بھی اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کے تعاون نے پاکستان کو معاشی مشکلات کے دوران اہم سہارا فراہم کیا ہے، اور دونوں ممالک مستقبل میں بھی اقتصادی تعاون کے مزید مواقع تلاش کرتے رہیں گے۔

  • پاکستان نے شہزاد اکبر اور عادل راجہ کی حوالگی کی درخواست کر دی

    پاکستان نے شہزاد اکبر اور عادل راجہ کی حوالگی کی درخواست کر دی

    حکومتِ پاکستان نے برطانیہ سے سابق مشیر احتساب شہزاد اکبر اور یوٹیوبر و کمنٹیٹر عادل راجہ کی حوالگی کی باضابطہ درخواست کر دی ہے۔

    یہ اہم پیش رفت وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات میں سامنے آئی، جس میں دو طرفہ تعلقات، سکیورٹی تعاون اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ نے ملاقات کے دوران دونوں مطلوب افراد کے خلاف تیار کردہ حوالگی کے سرکاری دستاویزات برطانوی ہائی کمشنر کے سپرد کیے۔ محسن نقوی نے مؤقف اختیار کیا کہ “شہزاد اکبر اور عادل راجہ پاکستان میں مختلف مقدمات میں مطلوب ہیں، انہیں جلد از جلد پاکستان کے حوالے کیا جائے۔”وزیر داخلہ نے اس موقع پر پاکستانی شخصیات اور ریاستی اداروں کے خلاف چلائی جانے والی مبینہ سوشل میڈیا پراپیگنڈا مہم کے ٹھوس شواہد بھی برطانوی سفارتکار کے سامنے رکھے۔

    ملاقات میں پاک برطانیہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا۔ دونوں فریقوں نے سکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ برطانوی ہائی کمشنر نے پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔گفتگو میں برطانیہ میں غیر قانونی طور پر مقیم پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔

    محسن نقوی کا کہنا تھا کہ حکومت آزادیٔ اظہار پر مکمل یقین رکھتی ہے، تاہم فیک نیوز اور جعلی پروپیگنڈا ہر ملک کے لیے ایک سنگین مسئلہ ہے جسے روکنے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کا غلط استعمال صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے ممالک کے لیے چیلنج بنتا جا رہا ہے، اس لیے ایسے عناصر کے خلاف بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔

  • بلوچستان حکومت کا بیرون ملک کالعدم تنظیموں کیخلاف گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ

    بلوچستان حکومت کا بیرون ملک کالعدم تنظیموں کیخلاف گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ

    حکومت بلوچستان نے بیرون ملک موجود کالعدم تنظیموں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس دوران دہشتگرد نیٹ ورک کے خاتمے کیلئے سخت اور غیرمعمولی اقدامات کی منظوری دی گئی، اجلاس میں بیرون ملک دہشتگرد قیادت کے مقامی سہولت کاروں سے رابطوں،کال ریکارڈنگز اور دیگر شواہد پیش کیے گئے جب کہ ساتھ ہی کالعدم تنظیموں کے سربراہان،کمانڈرز اور دہشتگردوں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کیا گیا،اجلاس میں کالعدم بی ایل اے، بی ایل ایف، یو بی اے، بی آر جی اور لشکربلوچستان کی قیادت کے خلاف درج مقدمات کی پراسیکیوشن تیز کرنے کی ہدایت کی گئی،وفاقی وزارت داخلہ اور خارجہ کی مدد سے انٹرپول کے ذریعے ریڈ نوٹسز کی کارروائی تیزکرنےکی بھی ہدایت جاری کردی گئی ہے، دہشتگردی میں ملوث مقامی سہولت کاروں،کالعدم تنظیموں کی قیادت تک کے خلاف کارروائی ہوگی ، یہ کارروائی دہشتگردوں کیخلاف پروونشل ایکشن پلان کی گائیڈ لائن کے تحت کی جائے گی.

  • بچوں سے جبری مشقت کے خاتمے کے لیے سٹیرنگ کمیٹی تشکیل

    بچوں سے جبری مشقت کے خاتمے کے لیے سٹیرنگ کمیٹی تشکیل

    وزیراعلی مریم نواز شریف نے پنجاب سے بچوں کی جبری مشقت کے خاتمے کے لیے سٹیرنگ کمیٹی تشکیل دے دی

    پندرہ رکنی سٹیرنگ کمیٹی کی چیئرپرسن سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کو مقرر کیاگیا ،سابق رکن قومی اسمبلی محسن شاہنواز رانجھا سٹیرنگ کمیٹی کے شریک چیئرمین ہوں گے، نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ،سکول ایجوکیشن، سرمایہ کاری و کامرس، صنعت و تجارت، سوشل ویلفیئر و بیت المال اور ہنرمندی و چھوٹے کاروبار کی ترقی کے صوبائی وزرا کمیٹی کے ارکان ہوں گے ،داخلہ، محنت و افرادی، سکول ایجوکیشن، صنعت و تجارت، سوشل ویلفیئر، سکل ڈویلپمنٹ اینڈ اینٹرپرینیور کی وزارتوں کے صوبائی سیکریٹری، چیئرمین پی ٹی آئی بی اور ڈی آئی جی پولیس بھی کمیٹی کے ارکان ہوں گے

    کمیٹی تمام شعبوں کی میپنگ کرے گی، جبری مشقت لینے والے شعبوں کا تعین کرے گی ،صنعتوں، بھٹوں، زراعت، ماہی گیری، ورکشاپس اور آٹو ری پئیر کے شعبوں کا خاص طور پر ڈیٹا جمع کیا جائے گا ،اے آئی اور ‘جی-آئی-ایس’ سے منسلک صوبائی سطح پر مرکزی ڈیٹا بینک بنایا جائے گا ،کمیٹی بچوں سے جبری مشقت کے حوالے سے نمایاں اضلاع، شعبوں اور علاقوں کا بھی تعین کرے گی ،کمیٹی جبری مشقت کے شکار بچوں کے لیے متبادل طریقے بھی وضع کرے گی ،کمیٹی فوری، وسط اور طویل مدتی بنیادوں پر بچوں سے جبری مشقت کے خاتمے کی حکمت عملی تیار کرے گی،کمیٹی اپنی تجاویز کے ساتھ ان پر عملدرآمد کی حکمت عملی بھی تیار کرے گی ،والدین، اساتذہ اور معاشرے کے تمام طبقات کو اس معاملے میں آگاہ کرنے کی حکمت عملی اور اداروں کی اس ضمن میں کارکردگی جانچنے کے معیار کی تیاری بھی کمیٹی کے فرائض میں شامل ہے ،صوبہ پنجاب بچوں سے جبری مشقت کے خاتمے کے لیے اس نوعیت کے جامع اقدامات کرنے والا پہلا صوبہ ہے ،بچوں سے جبری مشقت کے خاتمے کے اقدامات کے نتیجے میں صوبہ پنجاب کی عالمی سطح پر رینکنگ بھی بہتر ہوگی

  • وزیراعظم شہباز شریف اور کرغزستان کے صدر  کی وفود کی سطح پر ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف اور کرغزستان کے صدر کی وفود کی سطح پر ملاقات

    وزیراعظم محمد شہباز شریف اور جمہوریہ کرغزستان کے صدر عزت ماب جناب صادر ژاپاروف کی وزیراعظم ہاوس میں وفود کی سطح پر ملاقات ہوئی۔

    دو طرفہ مذاکرات میں وزیراعظم کی معاونت ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر چیف آف آرمی اسٹاف، سمیت دیگر اہم وفاقی وزراء اور سینئر سرکاری حکام نے شرکت کی۔وزیراعظم نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان جمہوریہ کرغزستان کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو نہایت اہمیت کی نظر سے دیکھتا ہے۔ وزیراعظم نے وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ روابط کے فروغ کے لیے پاکستان کی "ویژن سینٹرل ایشیا” پالیسی کے تحت اپنے عزم کا اعادہ کیا۔دونوں رہنماوں نے پاکستان اور کرغزستان کے تعلقات جو تاریخی روابط، مشترکہ تہذیب و اقدار اور علاقائی امن و خوشحالی کے مشترکہ وژن پر قائم ہیں انکے فروغ اور توسیع کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں رہنماوں نے ممالک کے درمیان جاری باہمی تعاون اور بالخصوص تجارت، توانائی، مواصلات اور عوامی روابط کے شعبوں میں شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    باہمی اقتصادی تعاون میں اضافے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے دونوں رہنماوں نے دو طرفہ تجارت و سرمایہ کاری کو بڑھانے پر اتفاق کیا۔ مزید براں، دورہ کے دوران دستخط شدہ معاہدوں اور مفاہمت کی یاد داشتوں پر موثر عمل درآمد کے ذریعے2027۔2028 تک دو طرفہ تجارت کا حجم 200 ملین امریکی ڈالر کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں رہنماوں نے ملاقات کے دوران 28-29 جولائی 2025 کو اسلام آباد میں منعقدہ کرغزستان-پاکستان مشترکہ سرکاری کمیشن کے پانچویں اجلاس کے کامیاب انعقاد پر بھی اطمینان کا اظہار کیا۔دونوں ممالک نے علاقائی استحکام کے لیے توانائی کے شعبہ میں تعاون کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوۓ CASA-1000 منصوبے پر بروقت اور موثر عملدرآمد کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ یہ منصوبہ علاقائی توانائی تعاون میں اہم سنگِ میل اور وسطی و جنوبی ایشیا کے درمیان ایک اہم رابطہ ہے۔دونوں رہنماوں نےجمہوریہ کرغزستان اور پاکستان کے درمیان محفوظ، مستحکم و دیر پا اور کثیر الجہتی روابط کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اس تناظر میں دو طرفہ اور علاقائی تجارت میں مزید اضافہ کے لیۓ پاکستان اور کرغزستان کے درمیان "کواڈرلیٹرل ٹریفک ان ٹرانزٹ ایگریمنٹ (QTTA)” کے تحت روڈ کوریڈور کے فعال ہونے پر اظہاراطمینان کیا گیا۔

    مذاکرات کے دوران دونوں ممالک کےرہنماوں نے اہم علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اور علاقائی امن و سلامتی کو درپیش بڑھتے ہوئے خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تنازعات کو بین الاقوامی قانون، باالخصوص اقوام متحدہ کے چارٹر اور متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق، پر امن طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔دونوں رہنماؤں نے پرامن اور مستحکم افغانستان اور افغان عوام کے لیے پائیدار مستقبل کے عزم کا اعادہ کیا۔ اور اتفاق کیا کہ افغان طالبان حکومت کو بین الاقوامی برادری سے کیے گئے وعدے پورے کرنے چاہئیں اور پاکستان کے جائز سکیورٹی خدشات کو دور کرنے کے لیے دہشت گرد عناصر کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات اٹھانے چاہئیں۔دونوں رہنماوں نے غزہ میں جاری امن کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور ایک خودمختار، قابل عمل، متحد اور آزاد فلسطینی ریاست جو جون 1967 سے قبل کی سرحدوں اور القدس الشریف بطور دارالخلافہ پر مشتمل ہو کے قیام کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں بشمول توانائی ، معدنیات، تجارت, تعلیم, قانون و انصاف، ثقافت اور سیاحت میں باہمی دلچسپی کی 15 مفاہمت کی یاد داشتوں کے تبادلے اور معاہدوں پر دستخط کی تقریب بھی منعقد ہوئی جس میں وزیراعظم پاکستان اور جمہوریہ کرغزستان کےصدر نے شرکت کی۔

    اس سے قبل، وزیراعظم محمد شہباز شریف نےکرغزستان کے صدر عزت ماب کا وزیراعظم ہاوس اسلام آباد میں پرتپاک استقبال کیا۔وزیراعظم ہاوس پہنچنے پر جمہوریہ کرغزستان کےصدر عزت ماب جناب صادر ژاپاروف کو پاکستان کی مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔

    سرکاری استقبالیہ تقریب کے بعد دونوں رہنماوں کے درمیان ذاتی سطح پر ملاقات ہوئی۔ علاوہ ازیں، وزیراعظم نے کرغزستان کے صدر اور ان کے وفد کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا۔ بعد ازاں دونوں رہنماوں نے میڈیا سے بھی مشترکہ گفتگو کی جس میں ملاقات میں ہونے والی بات چیت کے نکات پر روشنی ڈالی گئی.