Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • نئی دہلی میں دیوالی کے بعد زہریلی فضا، دنیا کے آلودہ ترین شہر میں تبدیل

    نئی دہلی میں دیوالی کے بعد زہریلی فضا، دنیا کے آلودہ ترین شہر میں تبدیل

    بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے تقریباً دو کروڑ شہری ایسی فضا میں سانس لے کر بیدار ہوئے جو دنیا کے تمام بڑے شہروں میں سب سے زیادہ آلودہ تھی۔ یہ صورتحال ہندو تہوار دیوالی کی تقریبات کے اگلے ہی دن سامنے آئی، جس دوران روایتی طور پر آتش بازی اور پٹاخے پھوڑے جاتے ہیں۔

    سوئس فضائی معیار مانیٹرنگ کمپنی IQAir کے مطابق بدھ کے روز دہلی میں PM 2.5 یعنی فضائی آلودگی کے باریک ذرات کی مقدار عالمی ادارہ صحت (WHO) کی مقررہ سالانہ حد سے 40 گنا زیادہ ریکارڈ کی گئی۔ یہ وہ ذرات ہیں جو انسانی سانس کے ذریعے پھیپھڑوں اور خون کے نظام تک پہنچ کر سنگین امراض پیدا کر سکتے ہیں۔دہلی میں فضائی آلودگی ایک مستقل مسئلہ ہے، تاہم سردیوں کے موسم میں یہ صورتحال انتہائی خطرناک سطح تک پہنچ جاتی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ دہلی کے گرد و نواح میں کسانوں کا کھیتوں میں فصل کی باقیات کو آگ لگانا ہے تاکہ اگلی فصل کی بوائی کے لیے زمین صاف کی جا سکے۔

    اس سال دیوالی کے موقع پر فضا میں زہر گھولنے والی آتش بازی نے ماحولیاتی بحران کو مزید بڑھا دیا۔ پٹاخوں سے خارج ہونے والی سلفر آکسائیڈز، نائٹروجن آکسائیڈز اور بھاری دھاتیں فضا کو مضر صحت بنا دیتی ہیں۔اگرچہ 2020 میں دہلی کی حکومت نے پٹاخے بنانے، فروخت کرنے اور جلانے پر مکمل پابندی عائد کر دی تھی، تاہم اس سال بھارتی سپریم کورٹ نے محدود وقت کے لیے “گرین” پٹاخوں کے استعمال کی اجازت دی، وہ پٹاخے جو مبینہ طور پر کم آلودگی پیدا کرتے ہیں۔ لیکن شہریوں کے مطابق اس پابندی پر عملدرآمد انتہائی کمزور رہا، اور غیر قانونی پٹاخے بھی بآسانی دستیاب تھے۔

    دہلی کی 30 سالہ رہائشی انوشکا سنگھ کا کہنا ہے کہ “ہر سال صورتحال بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ میں دیوالی پر گھر سے نہیں نکلتی تاکہ اپنے کتے کو مسلسل شور سے بچا سکوں۔ صبح باہر نکلوں تو گلے میں خراش اور آنکھوں میں جلن شروع ہو جاتی ہے۔ دہلی میں جینا واقعی اذیت بن چکا ہے۔”ایک اور رہائشی چندرا ٹنڈن، جو ایک دکان کی مالک ہیں، کا کہنا تھا کہ “پٹاخے دیوالی کی خوشی کا حصہ ہیں، مگر اگلے دن کا دھواں برداشت کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اگر بڑے لوگ تھوڑا خیال کر لیں تو شاید کچھ بہتری آ جائے۔”

    دہلی میں حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے آلودگی پر قابو پانے کی متعدد کوششیں کی گئی ہیں، مگر خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔ان اقدامات میں سڑکوں پر پانی کا چھڑکاؤ، گاڑیوں کے لیے Odd-Even نظام (یعنی ایک دن جفت نمبر اور دوسرے دن طاق نمبر والی گاڑیاں چلانا)، اور 2018 میں 20 کروڑ روپے کی لاگت سے بنائے گئے سموگ ٹاورز شامل ہیں، جنہیں بڑے ایئر پیوریفائرز کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا۔تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ سختی سے عملدرآمد نہ ہونے اور مختلف محکموں کے درمیان رابطے کی کمی کے باعث آلودگی میں کمی کے بجائے اضافہ ہی دیکھنے میں آ رہا ہے۔

    بدھ کے روز IQAir کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا کے دس سب سے زیادہ آلودہ شہروں میں بھارت کے تین بڑے شہر شامل تھے،نئی دہلی پہلے نمبر پر،کلکتہ چوتھے نمبر پر،اور ممبئی دسویں نمبر پر تھا،ماہرین کے مطابق بھارت کو ایک طرف تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت اور توانائی کی ضروریات پوری کرنا ہیں، جبکہ دوسری طرف ماحولیاتی آلودگی انسانی صحت اور زندگی کے لیے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔دہلی کی فضاء پر چھائی دھند اور سموگ کی موٹی تہہ اس حقیقت کی عکاس ہے کہ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو دنیا کے اس بڑے دارالحکومت میں سانس لینا آنے والے برسوں میں مزید مشکل ہو جائے گا۔

  • دو سال قبل غیرت کے نام پر 19سالہ لڑکی کو قتل کرنے والا اشتہاری گرفتار

    دو سال قبل غیرت کے نام پر 19سالہ لڑکی کو قتل کرنے والا اشتہاری گرفتار

    راولپنڈی پولیس کی اشتہاریوں کے خلاف اہم کارروائی،دو سال قبل غیرت کے نام پر 19سالہ لڑکی کو قتل کرنے والا اشتہاری گرفتارکر لیا گیا

    جاتلی کے علاقہ میں اشتہاری نے پسند کی شادی کرنے پر اپنی بھتیجی کو فائرنگ کرکے قتل کردیاتھا،مقتولہ نے پسند کی شادی کی تھی جس کا اسکی فیملی کو رنج تھا،مقتولہ کو راضی نامہ کے بعد گھر بلا کر قتل کیا گیا، اشتہاری قتل کی واردات کے بعد روپوش ہو گیا تھا جس کی گرفتاری کے لئے سی پی او سید خالد ہمدانی کی ہدایات پر خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں تھیں،جاتلی پولیس اور خصوصی ٹیم نے ٹیکنیکل وہیومین انٹیلی جنس ذرائع بروئے کار لاتے ہوئے اشتہاری کو گرفتارکیا،

    سنگین مقدمہ میں مطلوب اشتہاری کی گرفتاری پر سی پی او سید خالد ہمدانی نے ایس پی صدر، ایس ڈی پی او گوجرخان اور ٹیموں کو شاباش دی اور کہا کہ زیرحراست اشتہاری کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان عدالت کرکے قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی،خواتین کے خلاف جرائم ناقابل برداشت ہیں، ملزمان قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتے۔

  • وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت شہید ذوالفقار علی بھٹو انجنیئرنگ کالج،میڈیکل کمپلیکس بارے اجلاس

    وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت شہید ذوالفقار علی بھٹو انجنیئرنگ کالج،میڈیکل کمپلیکس بارے اجلاس

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت شہید ذوالفقار علی بھٹو انجنیئرنگ کالج گڈاپ اور میڈیکل کمپلیکس کے قیام سے متعلق اجلاس ہوا

    اجلاس میں صوبائی وزراء؛ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، سید سردار شاہ، جام خان شورو، علی حسن زرداری، محمد اسماعیل راہو، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ، سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی، سیکریٹری ورکس نواز سوہو ، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن زاہد عباسی، سیکریٹری یونیورسٹی اینڈ بورڈ عباس بلوچ، سیکریٹری کالجز ندیم میمن اور سیکریٹری ٹو سی ایم عبدالرحیم شیخ شریک ہوئے، اجلاس میں بتایا گیا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو انجنیئرنگ کالج گڈاپ 1554.824 ایکڑ اراضی پر تعمیر کیا جا رہا ہے،اسکیم پر کام 2015ء میں شروع ہوا، وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی خصوصاً ملیر کے طلبہ کے لیے انجنیئرنگ کالج نہایت اہم ہے، اجلاس میں بتایا گیا کہ کالج میں ایڈمنسٹریشن بلاک، اکیڈمک بلاکس، آڈیٹوریم اور لائبریری ہال کی تعمیر جاری ہے،اکیڈمک بلاکس میں سول، الیکٹریکل اور کمپیوٹر سافٹ ویئر انجنیئرنگ کے شعبے قائم کیے جا رہے ہیں،رہائشی بلاکس میں اسٹوڈنٹ ہاسٹل، ٹیچرز ہاسٹل، بینگلوز اور اسٹاف فلیٹس کی تعمیر کی جارہی ہے،ڈسپینسری، مسجد، منی مارکیٹ اور ٹیلی کمیونیکیشن سینٹر پر کام بھی جاری ہے،ایڈمنسٹریشن اور اکیڈمک بلاکس کا کام تکمیل کے قریب ہے،

    وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ خزانہ کو ہدایت کی کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو انجنیئرنگ کالج کے فنڈز فوری جاری کریں، میں چاہتا ہوں کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو انجنیئرنگ کالج کا کام تیز کیا جائے،

    اجلاس میں بتایا گیا کہ نیشنل ہائی وے پر رزاق آباد کے قریب میڈیکل کمپلیکس قائم کیا جا رہا ہے،دو سو بستروں پر مشتمل نیشنل میڈیکل کمپلیکس 4.6 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر کیا جا رہا ہے،میڈیکل کمپلیکس منصوبے پر ابتک ایک ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں،میڈیکل کمپلیکس میں 10 بستروں پر مشتمل آئی سی یو برنز وارڈ، 20 بیڈزمیڈیکل سرجیکل آئی سی یو، بیڈز سی سی یو، 10 بیڈز ڈائیلائسز وارڈ،10 چیئرز تھیلیسیمیا سینٹر، اور 30 بیڈز پر مشتمل ایمرجنسی یونٹ تعمیر کیے جا رہے ہیں،میڈیکل کمپلیکس کے کچن بلاک پر کام تیزی سے جاری ہے،میڈیکل کمپلیکس کی اسٹاف کالونی میں رہائشی فلیٹس کی تعمیر بھی تیزی سے جاری ہے،مین بلڈنگ کے گراؤنڈ اور پہلی منزل کا کام مکمل ہو چکا ہے،نیشنل میڈیکل کمپلیکس کے لیے مختص 4.6 ارب روپے میں سے ایک ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں

    وزیراعلیٰ سندھ نے منصوبے کے لیے فنڈز فوری جاری کرنے کی ہدایت دی اور کہا کہ ہر تین ماہ بعد منصوبے کی پیش رفت سے آگاہ کیا جائے، میں چاہتا ہوں کہ نیشنل میڈیکل کمپلیکس اسکیم ایک سال کے اندر مکمل ہو،

  • عدالت کا بانی پی ٹی آئی سے جیل ملاقاتوں کے آرڈر پر عملدرآمد کا حکم

    عدالت کا بانی پی ٹی آئی سے جیل ملاقاتوں کے آرڈر پر عملدرآمد کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ نےسپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو بانی پی ٹی آئی سے جیل ملاقاتوں کے آرڈر پر عملدرآمد کا حکم دے دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس اعظم خان پر مشتمل بنچ نے آرڈر جاری کیا،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عمران خان سے آج ملاقات کا دن ہے میں ابھی ملاقاتیوں کی فہرست سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو دیتا ہوں آج ہی ہماری ملاقات کروا دیں، عدالت نے کہا کہ آپ لسٹ سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو دے دیں، سپریٹنڈنٹ ایس او پی کے تحت بغیر رکاوٹ ملاقاتیں کروائیں،

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بینچ کے فیصلے کے بعد اڈیالہ جیل روانہ ہوگئے، عدالت نے سپرنٹنڈنٹ جیل کو ہدایت دی ہے کہ عمران خان صاحب سے فیملی، وکلا اور پارٹی رہنماؤں کی ملاقاتیں بغیر رکاوٹ ہر منگل اور جمعرات کو ایس او پیز کے مطابق کرائی جائیں

    کمرہ عدالت میں دلچسپ صورتحال،پنجاب پولیس کے ایس ڈی پی او اظہر شاہ علیمہ خان کے وارنٹ گرفتاری لئیے اسلام آباد ہائیکورٹ کے کمرہ عدالت میں نمبر 1 میں پہنچے، وارنٹ علیمہ خان کو دکھائے تو علیمہ خان ایک قدم پیچھے ہٹیں اور کہا مجھے گرفتار کرنے آئے ہیں؟ ایس ڈی پی او نے کہا میڈم ان وارنٹ پرریسیونگ دستخط کر دیں،علیمہ خان نے کمرہ عدالت میں کی وارنٹ گرفتاری پر دستخط کئیے اور پولیس تعمیل کروا کہ باہر آگئی

  • کرکٹر صہیب مقصود کے ساتھ دھوکہ،حکومت سے اپیل کر دی

    کرکٹر صہیب مقصود کے ساتھ دھوکہ،حکومت سے اپیل کر دی

    قومی کرکٹر صہیب مقصود کے ساتھ ملتان کے ایک کار شو روم کے مالک نے کروڑوں روپے کا فراڈ کر دیا۔

    صہیب مقصود نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر اپنے ساتھ ہونے والے فراڈ کی تفصیلات شیئر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز، وفاقی وزیر داخلہ و چیئرمین پی سی بی محسن نقوی اور حکومت پنجاب سے مدد کی اپیل کر دی،صہیب مقصود نے ویڈیو میں بتایا کہ میں نے اپنے ایک جاننے والے شو روم کے مالک کی مدد سے اپنی گاڑی فروخت کی، اس نے میری گاڑی فروخت کرنے کے لیے ایک مقامی آدمی سے بات کی چونکہ میں اس وقت امریکا جا رہا تھا تو اس نے مجھے بتایا، ’جو شخص گاڑی خریدنا چاہتا ہے وہ ایڈوانس میں 60 لاکھ روپے دے رہا ہے تو آپ گاڑی کے کاغذات ابھی اپنے پاس ہی رکھیں جب آپ امریکا سے واپس آئیں گے تو بقیہ رقم ادا کرکے آپ سے گاڑی کے کاغذات لے لیں گے،جب میں امریکا سے واپس آیا اور شو روم کے مالک سے بقیہ پیسے مانگے تو وہ مسلسل مجھے ٹالتا رہا جب وہ مسلسل 8 ماہ تک ٹال مٹول کرتا رہا تو میں نے اپنی گاڑی کو ٹریک کیا تو مجھے پتہ چلا کہ میری گاڑی لاہور میں موجود ہے پھر میں لاہور میں اس شخص کے پاس گیا جس کے پاس میری گاڑی موجود تھی۔ میں نے اس شخص کو کہا کہ یہ میری گاڑی ہے تو اس نے جواب دیا ’یہ گاڑی میں نے خریدی ہے‘ تو میں نے اسے گاڑی کے کاغذات دکھانے کو کہا تو اس نے مجھ سے بدتمیزی کی اور یہ تو سب کو معلوم ہے کہ اگر بغیر کاغذات کے گاڑی خریدی جا رہی ہے تو اس کا واضح مطلب ہے کہ وہ گاڑی چوری کی ہے۔‘‘

    صہیب مقصود نے بتایا کہ میں ملتان واپس آ کر مقامی آدمی کے پاس گیا اور کہا کہ یا تو مجھے میری گاڑی دو یا پھر میرے پیسے دو تو اس نے ایک نیا گیم کیا اس نے کہا جو 60 لاکھ آپ نے وصول کیے تھے وہ لے کر آئیں ہم لاہور جا کر آپ کی گاڑی لے آتے ہیں،جب میں پیسے لے کر مقامی آدمی کے ساتھ لاہور گیا تو جس شخص کے پاس میری گاڑی تھی اس نے اپنے سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے انتہائی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا اور کہا کہ اس گاڑی کو کوئی ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا، اگر کسی کا چاچا یا ماما سیاستدان ہے تو اس کا مطلب یہ ہے وہ ایک عام آدمی سے اس کی محنت کی کمائی سے بنائی ہوئی چیزیں چھین کر لے جا سکتا ہے، جب اس معاملے پر میں نے قانون کا سہارا لیا تو بھی مجھ پر ہی دباؤ ڈالا گیا اور مجھے ایک دوسری گاڑی دی گئی جس کے کاغذات جعلی نکلے تو میں نے وہ گاڑی واپس کردی

  • اسرائیلی اقدامات امن و استحکام کیلیے جاری کوششوں کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں،پاکستان

    اسرائیلی اقدامات امن و استحکام کیلیے جاری کوششوں کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں،پاکستان

    پاکستان نے اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے کے بعض حصوں پر نام نہاد خودمختاری بڑھانے کے مسودہ قانون کی سخت مذمت کی ہے.

    ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے ایک بیان میں اس اقدام کو بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقوق کی صریح خلاف ورزی قرار دے دیا اور کہا کہ اسرائیل کے ایسے غیر قانونی اور اشتعال انگیز اقدامات خطے میں امن و استحکام کے لیے جاری کوششوں کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں، پاکستان عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ فوری اور فیصلہ کن کارروائی کرے تاکہ اسرائیل کو ان غیر قانونی اقدامات سے باز رکھا جا سکے، اسرائیلی قابض افواج کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔

    پاکستان نے اس موقع پر فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت، انصاف اور وقار کے حق میں عالمی شراکت داروں کے ساتھ کام جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور آزاد، خودمختار، قابلِ عمل اور متصل ریاستِ فلسطین کے قیام کی غیر متزلزل حمایت دہرائی، جو 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ہو اور اس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

  • حسن کے جال میں پھنسا کر خفیہ راز لینے والی روسی جاسوسہ کونیا مشن مل گیا

    حسن کے جال میں پھنسا کر خفیہ راز لینے والی روسی جاسوسہ کونیا مشن مل گیا

    کبھی مغرب کے خفیہ رازوں کو "حسن کے جال” میں پھنسا کر حاصل کرنے کی ملزمہ قرار دی جانے والی سرخ بالوں والی روسی جاسوس انا چیپ مین ایک بار پھر خبروں میں ہیں۔ اب وہ میدانِ جاسوسی میں نہیں بلکہ تاریخ کی "محافظ” کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ چیپ مین کو روسی انٹیلی جنس کے نئے قائم کردہ ادارے "میوزیم آف رشین انٹیلی جنس” کی سربراہی سونپ دی گئی ہے۔

    یہ میوزیم روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کی غیر ملکی خفیہ ایجنسی (فارین انٹیلی جنس سروس) کے زیرِ انتظام قائم کیا گیا ہے، جس کا اندراج ماسکو کے گورکی پارک کے قریب واقع ایس وی آر کے پریس آفس میں کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ میوزیم روسی جاسوسی کی "تاریخ اور کامیابیوں” کو اجاگر کرے گا، اور ان "ہیروز” کو خراجِ تحسین پیش کرے گا جو عالمی سطح پر روسی مفادات کے لیے سرگرم رہے۔اس منصوبے کی نگرانی سرگئی ناریشکن کر رہے ہیں جو ایس وی آر کے سربراہ اور صدر پیوٹن کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔

    انا چیپ مین کی زندگی کسی ہالی ووڈ فلم سے کم نہیں۔ 2010 میں امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے انہیں نیویارک سے گرفتار کیا، جب وہ ایک خفیہ روسی نیٹ ورک کے تحت کام کر رہی تھیں۔ اس کارروائی کو "آپریشن گھوسٹ اسٹوریز (Operation Ghost Stories)” کا نام دیا گیا۔ایف بی آئی کی دس سالہ تفتیش میں یہ انکشاف ہوا کہ چیپ مین سمیت کئی روسی ایجنٹس "ڈیپ کور آپریٹیوز” کے طور پر امریکہ میں غیر قانونی طور پر رہائش پذیر تھے۔2009 میں جب انا چیپ مین نیویارک منتقل ہوئیں تو انہوں نے خود کو ایک ریئل اسٹیٹ ایجنٹ ظاہر کیا۔ لیکن بعد ازاں ایف بی آئی نے بتایا کہ وہ اپنے لیپ ٹاپ کے ذریعے خفیہ وائرلیس نیٹ ورکس بنا کر روسی اہلکاروں سے رابطے میں رہتی تھیں۔27 جون 2010 کو انہیں اور ان کے 9 ساتھیوں کو گرفتار کیا گیا۔ گیارہ دن بعد تمام افراد نے روس کے غیر قانونی ایجنٹ کے طور پر کام کرنے کے جرم کا اعتراف کر لیا۔ بعد ازاں امریکہ نے انہیں چار روسی قیدیوں کے بدلے ماسکو بھیج دیا۔ انہی میں سے ایک سرگئی سکریپل بھی تھا، جو بعد میں برطانیہ کے شہر سالسبری میں مبینہ طور پر زہر دے کر مارنے کی کوشش کا نشانہ بنا۔

    گرفتاری سے قبل انا چیپ مین نے کئی سال لندن میں گزارے، جہاں وہ کاروباری اور سیاسی ایلیٹ حلقوں میں اپنی دلکشی اور ذہانت سے جانی جاتی تھیں۔ سوشل میڈیا پر انہیں مارول کی مشہور کردار "بلیک وِڈو” کے روسی روپ سے تشبیہ دی جاتی رہی۔اسی دوران ان کی ملاقات ایک برطانوی شہری ایلیکس چیپ مین سے ہوئی، جن سے شادی کے بعد انہوں نے برطانوی شہریت حاصل کی۔ مگر شادی جلد ہی انجام کو پہنچی۔ ایلیکس نے بعد میں دعویٰ کیا کہ انا نے ایک بار پاور ڈرل سے انہیں قتل کرنے کی کوشش کی۔

    گزشتہ برس انا چیپ مین کی خودنوشت "BondiAnna: To Russia With Love” منظرِ عام پر آئی، جس میں انہوں نے خود کو ایک حقیقی خاتون 007 کے طور پر پیش کیا۔کتاب میں انا لکھتی ہیں مجھے معلوم تھا کہ مردوں پر میرا کیا اثر ہوتا ہے۔ قدرت نے مجھے ایک پتلی کمر، بھرپور جسم اور سرخ بالوں کی نعمت دی تھی۔ بس مجھے اسے نمایاں کرنا آتا تھا، ہلکا میک اپ، سادہ مگر پُرکشش لباس، اور خوداعتمادی۔ سب سے اہم یہ کہ میں کبھی زیادہ کوشش نہیں کرتی تھی، اور یہی میرا جادو تھا۔

    کتاب میں انہوں نے لندن کے پرتعیش عشائیوں، خفیہ ملاقاتوں اور طاقتور شخصیات سے تعلقات کی تفصیل بھی بیان کی ہے۔ ایک دلچسپ واقعہ میں لکھتی ہیں کہ انہوں نے اسٹرپ پوکر کے ایک کھیل میں جیت کے بعد ہیج فنڈ کمپنی میں نوکری حاصل کی۔

    روسی سرزمین پر قدم رکھتے ہی انا چیپ مین نے خود کو مکمل طور پر نیا روپ دے دیا۔ انہوں نے کاروبار شروع کیا، بعد میں ٹی وی پریزنٹر اور سوشل میڈیا انفلوئنسر کے طور پر مقبول ہوئیں۔پیوٹن کی پرجوش حامی ہونے کے ناتے وہ کئی حب الوطنی مہمات میں شریک رہیں اور روسی خفیہ ایجنسی کی "قومی فخر” کی علامت بن گئیں۔ بعد ازاں انہوں نے ایک بیٹے کو جنم دیا اور نسبتاً پرسکون زندگی اختیار کی۔اب 43 سالہ انا، جو خود کو "انا رومانوفا” کے نام سے متعارف کراتی ہیں، روسی اقدار اور حب الوطنی کو فروغ دینے میں سرگرم ہیں۔ برطانوی اخبار دی سن کے مطابق، چیپ مین اپنے آن لائن پلیٹ فارمز پر روسی ثقافت، خاندانی نظام اور ریاستی وفاداری کی تشہیر کرتی ہیں.

  • روس میں روزگار کے بہانے جنگ میں دھکیل دیا گیا،بھارتی شہری کی بیوی کی دہائی

    روس میں روزگار کے بہانے جنگ میں دھکیل دیا گیا،بھارتی شہری کی بیوی کی دہائی

    تلنگانہ کے ضلع حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے محمد احمد، جو رواں سال اپریل میں روزگار کی تلاش میں روس گئے تھے، اب یوکرین جنگ کے محاذ پر پھنس گئے ہیں۔ ان کی اہلیہ عفشہ بیگم نے وزارتِ خارجہ سے اپیل کی ہے کہ ان کے شوہر کو فوری طور پر وطن واپس لانے کے اقدامات کیے جائیں، کیونکہ انہیں روسی فوج میں زبردستی شامل کر لیا گیا ہے۔

    عفشہ بیگم کے مطابق ایک ممبئی کی روزگار فراہم کرنے والی ایجنسی نے ان کے شوہر محمد احمد کو روس کی ایک تعمیراتی کمپنی میں ملازمت دینے کا وعدہ کیا تھا۔ معاہدے کے تحت احمد نے اپریل 2025 میں بھارت سے روس کا سفر کیا، مگر وہاں پہنچنے کے بعد ان کے ساتھ دھوکا ہوا۔انہوں نے بتایا کہ احمد کو تقریباً ایک ماہ تک بغیر کام کے بٹھائے رکھا گیا اور بعدازاں 30 دیگر افراد کے ساتھ ایک دور دراز مقام پر منتقل کر دیا گیا، جہاں انہیں زبردستی ہتھیار چلانے کی تربیت دی گئی۔عفشہ بیگم کے مطابق تربیت مکمل ہونے کے بعد 26 افراد کو یوکرین کی سرحد پر لڑائی کے لیے بھیجا گیا۔ جب احمد کو محاذ پر لے جایا جا رہا تھا، تو انہوں نے گاڑی سے چھلانگ لگا کر بھاگنے کی کوشش کی جس سے ان کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ انہوں نے لڑنے سے انکار کیا تو روسی اہلکاروں نے دھمکی دی کہ یا تو وہ جنگ میں حصہ لیں یا انہیں مار دیا جائے گا۔عفشہ بیگم نے کہا کہ ان کے شوہر گھر کے واحد کفیل ہیں، جبکہ گھر میں ان کی معذور والدہ، بیوی اور دو کم عمر بچے (عمر 10 اور 4 سال) ہیں۔ انہوں نے حکومتِ ہند سے اپیل کی ہے کہ احمد کی فوری وطن واپسی کو یقینی بنایا جائے۔

    روس سے بھیجی گئی ایک ویڈیو میں محمد احمد نے بتایا کہ ان کے ساتھ تربیت پانے والے 25 افراد میں سے 17 مارے جا چکے ہیں، جن میں ایک بھارتی شہری بھی شامل ہے۔جہاں میں ہوں وہاں سرحد پر جنگ جاری ہے۔ ہم چار بھارتیوں نے جنگ میں جانے سے انکار کیا، تو ہمیں بندوق کے زور پر مجبور کیا گیا۔ انہوں نے میری گردن پر بندوق رکھ کر کہا کہ اگر میں نہ لڑا تو وہ مجھے مار کر کہیں گے کہ میں ڈرون حملے میں مارا گیا۔میری ٹانگ میں پلاسٹر ہے اور میں چل بھی نہیں سکتا۔ جس ایجنٹ نے مجھے یہاں بھیجا، اس نے مجھے دھوکے سے پھنسا دیا۔ 25 دن تک میں کام کا انتظار کرتا رہا، مگر پھر مجھے زبردستی فوجی تربیت میں بھیج دیا گیا

    محمد احمد کے اہل خانہ نے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی سے ملاقات کی اور مدد کی درخواست کی۔ اسدالدین اویسی نے روس میں بھارتی سفارت خانے کو خط لکھ کر احمد کی فوری بازیابی کی اپیل کی۔انہوں نے اپنے خط میں کہا کہ "حیدرآباد کے نوجوان محمد احمد کو زبردستی یوکرین کی جنگ میں بھیجا گیا ہے، لہٰذا بھارتی حکومت فوری طور پر اس کی واپسی کے انتظامات کرے۔

    بھارتی سفارت خانے کے مطابق، احمد کی تفصیلات روسی حکام کو فراہم کر دی گئی ہیں اور ان کی فوری رہائی اور وطن واپسی کے لیے درخواست کی گئی ہے۔سفارت خانہ روسی فوج میں شامل تمام بھارتی شہریوں کے معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھ رہا ہے، اور ان کے اہلِ خانہ کو مسلسل آگاہ رکھا جا رہا ہے

    گزشتہ ماہ وزارتِ خارجہ نے روسی حکومت سے 27 بھارتی شہریوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا جو مختلف کمپنیوں کے ذریعے بھرتی ہو کر روسی فوج میں شامل کر لیے گئے تھے۔وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بتایا تھا کہ "ہمارے علم میں آیا ہے کہ 27 بھارتی شہری اس وقت روسی فوج میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ہم ان کے اہلِ خانہ سے مسلسل رابطے میں ہیں اور ان کی جلد واپسی کے لیے کوشش کر رہے ہیں

  • جاسوسی کی نئی جنگ،”سیکس وارفیئر” کے ذریعے خفیہ معلومات چوری کرنے کا انکشاف

    جاسوسی کی نئی جنگ،”سیکس وارفیئر” کے ذریعے خفیہ معلومات چوری کرنے کا انکشاف

    کیلیفورنیا کی ٹیکنالوجی کی دنیا، جسے دنیا بھر میں "سیلیکون ویلی” کے نام سے جانا جاتا ہے، اب ایک نئی اور خطرناک جاسوسی کی جنگ کا مرکز بن چکی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، دفاعی نظام اور خلائی منصوبوں سے وابستہ کمپنیوں کے ملازمین کو چینی اور روسی خفیہ ایجنسیاں "محبت” اور "رشتوں” کے ذریعے نشانہ بنا رہی ہیں۔

    ایک امریکی سائنسدان نے بتایا کہ وہ ایک کانفرنس میں ایک خاتون سے ملے ، ذہین، پُرکشش اور ان کے کام میں دلچسپی رکھنے والی، برسوں بعد انہیں احساس ہوا کہ وہ خاتون دراصل چینی انٹیلیجنس آپریشن کا حصہ تھیں، جن کا مقصد امریکی ٹیکنالوجی سے متعلق خفیہ معلومات حاصل کرنا تھا۔

    یہی جدید دور کی جاسوسی ہے، جہاں محبت، دوستی اور ازدواجی تعلقات کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکی ماہرین اس رجحان کو "سیکس وارفیئر” کا نام دیتے ہیں۔امریکی کمپنیوں کو سیکیورٹی مشاورت فراہم کرنے والے ماہر جیمز ملونن نے انکشاف کیا کہ انہیں حالیہ دنوں میں "خوبصورت چینی خواتین” کے نام سے بڑی تعداد میں لنکڈ اِن پر کنکشن ریکویسٹ موصول ہو رہی ہیں۔ان کے مطابق یہ سرگرمی غیر معمولی حد تک بڑھ چکی ہے، اور ہر ریکویسٹ بظاہر پروفیشنل نظر آتی ہے لیکن پیچھے خفیہ مقاصد ہوتے ہیں،ملونن کے مطابق ورجینیا میں منعقدہ ایک بزنس کانفرنس میں دو چینی خواتین نے داخل ہونے کی کوشش کی، جن کے پاس تقریب کی تمام تفصیلات موجود تھیں۔ہم نے انہیں اندر نہیں آنے دیا، لیکن وہ مکمل طور پر تیار تھیں۔ یہ ہماری ثقافتی اور قانونی حدود کے باعث ایک خطرناک کمزوری ہے،امریکی ماہرین کے مطابق یہ غیر متوازن جنگ ہے،ملونن، جو تیس سال سے انسدادِ جاسوسی کے شعبے سے وابستہ ہیں، کا کہنا ہے کہ چین اور روس کو اس معاملے میں ایک ’غیر متوازن برتری‘ حاصل ہے کیونکہ امریکی قوانین اس نوعیت کی جوابی کارروائیوں کو محدود کرتے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق چین اور روس صرف تعلقات نہیں بلکہ کاروباری پلیٹ فارمز، اسٹارٹ اپ مقابلوں، اور اکیڈمک کانفرنسز کو بھی جاسوسی کے ذرائع کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔چینی کمپنیاں امریکہ میں اسٹارٹ اپس سے بزنس پلان اور ٹیکنالوجی حاصل کرنے کے لیے انویسٹمنٹ کے بہانے معلومات اکٹھی کرتی ہیں۔ایک سابق امریکی انٹیلیجنس افسر نے انکشاف کیا کہ ایک خوبصورت روسی خاتون نے ایک امریکی ایرو اسپیس انجینئر سے شادی کی اور برسوں تک حساس منصوبوں کی معلومات حاصل کرتی رہیں۔یہ سوچنا تکلیف دہ ہے، مگر یہ طریقہ بہت عام ہو چکا ہے

    امریکی انٹیلیجنس اندازوں کے مطابق ہر سال تقریباً 600 ارب ڈالر کا نقصان صرف انٹیلیکچوئل پراپرٹی چوری کے ذریعے ہوتا ہے، جس میں زیادہ تر نقصان چین سے منسلک ہے۔سابق امریکی سیکیورٹی تجزیہ کار جیف اسٹوف نے کہا کہ سیلیکون ویلی اب ایک ’وائلڈ ویسٹ‘ بن چکی ہے، جہاں معاشی اور تکنیکی جاسوسی کا زور ہے،چین کی حکمت عملی یہ ہے کہ وہ امریکی دفاعی اداروں سے منسلک اسٹارٹ اپس میں سرمایہ کاری کے ذریعے حصہ داری خرید کر حساس معلومات تک رسائی حاصل کرے۔

    ایک رپورٹ کے مطابق کیلیفورنیا میں چینی انٹیلیجنس یونٹس مقامی سیاستدانوں، تاجروں اور کمیونٹی لیڈرز کو متاثر کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔سان فرانسسکو کی مشہور سیاسی شخصیت روز پیک کا کیس ایک مثال کے طور پر دیا جاتا ہے، جن پر خفیہ طور پر چینی اثر و رسوخ کو فروغ دینے کے الزامات لگے تھے۔2008 بیجنگ اولمپکس کے دوران چینی انٹیلیجنس نے مبینہ طور پر ہزاروں چینی طلباء کو منظم کیا تاکہ تبتی، ایغور اور فالون گونگ مظاہرین کے احتجاج کو دبایا جا سکے۔روس نے بھی سرد جنگ کے روایتی طریقے بدل کر اب وینچر کیپیٹل کمپنیوں اور ٹیک اسٹارٹ اپس میں داخلہ حاصل کرنا شروع کر دیا ہے۔اگرچہ 2017 میں روسی قونصل خانہ بند ہو گیا تھا، مگر "ہنی ٹریپس” اور ثالثوں کے ذریعے جاسوسی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

    امریکی ماہرین کے مطابق اوپن کلچر، فری انویسٹمنٹ ماحول اور کم رپورٹنگ کی وجہ سے جاسوسی روکنا مشکل ہو گیا ہے۔ٹیکنالوجی کے مراکز جیسے بولڈر، چیپل ہل، اور آسٹن میں بھی ایسے خطرات بڑھ رہے ہیں۔

  • وزیرِ اعظم کا ملکی صنعت و زراعت کی ترقی کیلئے روشن معیشت بجلی پیکیج کا تحفہ

    وزیرِ اعظم کا ملکی صنعت و زراعت کی ترقی کیلئے روشن معیشت بجلی پیکیج کا تحفہ

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے صنعتی و زرعی شعبے کے ماہرین و کاروباری برادری کے وفد سے ملاقات میں پیکیج کا اعلان کردیا

    پیکیج کے تحت صنعتوں اور کسانوں کو آئندہ تین سالوں (نومبر 2025 سے اکتوبر 2028) میں رعایتی قیمت پر اضافی بجلی فراہم کی جائے گی ،وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ صنعتی شعبے کو 34 روپے اور زرعی شعبے کو 38 روپے پر ملنے والے یونٹس کی قیمت کو خاطر خواہ کم کرکے اضافی یونٹس فراہم کیے جائیں گے.آئندہ تین برس میں پورا سال صنعتی و زرعی شعبے کو اضافی بجلی 22 روپے 98 پیسے فی یونٹ کی قیمت پر فراہم کی جائے گی.

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اللّٰہ کے فضل و کرم سے بہتر پالیسیوں کی بدولت معاشی اشارے بہتر ہوئے، مگر ہم سب کو مل کر ابھی مزید محنت کرنی ہےمعاشی بحران سے معاشی استحکام کا سفر کٹھن ضرور تھا لیکن معاشی ٹیم کی محنت اور آپ سب کے تعاون سے یہ ممکن ہوا۔ جس کی بدولت صنعتوں کا پہیہ چلا، برآمدات میں اضافہ ہوا، روزگار کے مواقع پیدا ہوئے،گزشتہ برس موسم سرما میں دیے جانے والے پیکج کے تحت صنعتی و زرعی شعبے نے 410 گیگاواٹ اضافی بجلی استعمال کی، ملکی معیشت کی ترقی، روزگار میں اضافے کے لیے صنعت اور زراعت کی ترقی انتہائی ضروری ہے،ملکی صنعتوں، زرعی شعبے کی خطے میں مسابقت بڑھانے اور کاروباری سہولتوں میں اضافے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔