Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پنجاب میں 22 مقدمات،ملزم کراچی میں گرفتار

    پنجاب میں 22 مقدمات،ملزم کراچی میں گرفتار

    کراچی پولیس نے ڈیفنس میں شہری کو لوٹنے والے 2 ڈاکوؤں کو گرفتار کرلیا۔

    پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان گزشتہ روز بینک سے رقم لےکر نکلنے والے آصف مرزا نامی شہری سے 25 لاکھ روپے چھین کر فرار ہوئے تھے جنہیں ڈیفنس کے علاقے عبدالستار ایدھی روڈ پر مبینہ پولیس مقابلے کے دوران زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا، اہلکاروں نے مشتبہ موٹرسائیکل سواروں کو رکنے کا اشارہ کیا تو ملزمان نے پولیس پر فائرنگ کر دی جس پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے دونوں کو قابو کرلیا، ملزمان کی شناخت ابراہیم اور محمد عابد کے نام سے ہوئی ہے جب کہ ان کے پاس سے 2 پستول، 2،موبائل فون،موٹرسائیکل، 2 لاکھ روپے اور واردات میں استعمال ہونے والی موٹرسائیکل برآمد کرلی ہے،گرفتار ملزم ابراہیم کے خلاف پنجاب میں ڈکیتی اور راہزنی کے 22 مقدمات درج ہیں،

  • میرے گھر کے بڑوں اور بچوں دونوں کے چالان  آئے ہیں،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

    میرے گھر کے بڑوں اور بچوں دونوں کے چالان آئے ہیں،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

    لاہور ہائیکورٹ نے صوبائی حکومت کی جانب سے کی جانے والی موٹر وہیکل آرڈیننس میں ترامیم کے خلاف درخواست کو مسترد کردیا۔

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے موٹر وہیکل آرڈیننس میں ترامیم کے خلاف آصف شاکر ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ پولیس کم عمر بچوں پر ایف آئی آرز درج کررہی ہے اور پھر قانون سازی کرکے بھاری جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں، شہریوں کو ٹریفک قوانین سے آگاہی دینے کی بجائے جرمانہ اور ایف آئی آر کرنا درست نہیں،درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت بھاری جرمانوں کےلیے کی گئی ترامیم کالعدم قرار دے۔

    درخواست گزار کے دلائل پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ حکومت نے قانون بنا دیا ہے اس پر عمل کریں، یہاں پر آپ قانون پر عملدرآمد کی بجائے قانون ختم کرانے آگئے ہیں،بچوں کی ٹانگیں زمین پر لگتی نہیں اور انہیں موٹر سائیکل لے کر دے دیتے ہیں، میرے گھر کے بڑوں اور بچوں دونوں کے چالان بھی آئے ہیں، پولیس نےبتایا کہ 5 ہزار کم عمر ڈرائیور ون وے کی خلاف ورزی سے حادثات میں زخمی اور فوت ہوئے،کم عمر بچے موٹرسائیکل تیز رفتاری سے چلاتے ہیں اور جرمانہ زیادہ اس لیے رکھا گیا کہ لوگ خلاف ورزی نہ کرے،دنیا بھر میں ٹریفک کی خلاف ورزی پر بہت زیادہ جرمانے ہوتے ہیں، دبئی میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ایک لاکھ درہم تک جرمانے ہوتے ہیں، گلی محلوں میں ہٹ اینڈ رن کے کیس بہت زیادہ ہوتے ہیں، ہمارے بچوں کی سیفٹی بہت ضروری ہے لہٰذا ہمیں قانون پر عمل کرنے والا بننا چاہیے، حکومت نے کہہ دیا ہے پہلی خلاف ورزی پر جرمانہ ہوگا اور دوسری خلاف ورزی پرقانونی کارروائی ہوگی، قانون سوسائٹی کو بہتر کرنے کے لیے بنتے ہیں لہٰذا شہریوں کو ذمہ دار بنانے کے لیے قانون سازی ضروری ہے اور والدین بھی ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کرتے ہیں،بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کردی۔

  • ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ و دیگر منصوبوں کیلئے 13ارب کے پروجیکٹس منظور

    ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ و دیگر منصوبوں کیلئے 13ارب کے پروجیکٹس منظور

    وزارت آئی ٹی کے ادارے یونیورسل سروس فنڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے 13 ارب روپے مالیت کے 9 میگا پروجیکٹس کی منظوری دیدی۔

    یو ایس ایف بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اہم اجلاس چیئرمین بورڈ وفاقی سیکرٹری آئی ٹی ضرار ہاشم خان کی زیر صدارت ہوا،اجلاس میں چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل (ر)حفیظ الرحمان، ممبر ٹیلی کام جہانزیب رحیم، چیف ایگزیکٹو آفیسر یو ایس ایف چوہدری مدثر نوید ،محمد یوسف اور عائلہ ماجد نے شرکت کی،دوران اجلاس ملک کے 11 اضلاع کیلئے ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ، وائس کمیونیکیشن اور فائبر آپٹیکل کیبل کے 9 میگا پروجیکٹس کی منظوری دی گئی جب کہ منصوبوں کی مجموعی لاگت 13ارب روپے ہے ، ذرائع کے مطابق ان منصوبوں کی تکمیل سے 55 لاکھ سے زائد افراد کو انٹرنیٹ اور موبائل کنیکٹیویٹی سہولیات فراہم ہوں گی ،مزید برآں 11 اضلاع کے 178 ٹاؤنز و یونین کونسلز اور 753 گاؤں کے مکین ڈیجیٹل دنیا سے منسلک ہوسکیں گے۔

  • فوجی مشقوں کے دوران بھارتی ٹینک ڈوبنے سے ایک فوجی ہلاک

    فوجی مشقوں کے دوران بھارتی ٹینک ڈوبنے سے ایک فوجی ہلاک

    بھارتی ریاست راجستھان کے ضلع سری گنگا نگر میں اندرا گاندھی کینال میں فوجی ٹینک ڈوبنے سے ایک سپاہی کی ہلاکت نے ایک بار پھر بھارتی فوج کی تربیتی صلاحیتوں، کمانڈ اینڈ کنٹرول، اور حفاظتی انتظامات کی سنگین کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔

    منگل کی صبح ہونے والا یہ حادثہ بھارتی فوجی مشینری کی مجموعی بدانتظامی اور لاپرواہی کا نتیجہ ہے جسے خود بھارت خطے میں طاقتور فوج کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔پولیس کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب معمول کی مشق کے دوران ٹینک نہر کے درمیان پھنس کر ڈوب گیا۔ ٹینک میں دو اہلکار موجود تھے جن میں سے ایک تو کسی طرح جان بچانے میں کامیاب ہوگیا، مگر دوسرا سپاہی اندر ہی پھنس کر موت کے منہ میں چلا گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارتی فوج اتنی بنیادی نوعیت کی مشقوں میں بھی اپنے اہلکاروں کی حفاظت یقینی کیوں نہیں بنا سکتی؟واقعے کے بعد ایس ڈی آر ایف، پولیس اور سول ڈیفنس کی ٹیموں کو کئی گھنٹے آپریشن کرنا پڑا، جس سے یہ بھی واضح ہوا کہ بھارتی فوج کے پاس ایسے حادثات سے نمٹنے کے لیے کوئی فوری ریسکیو پلان موجود نہیں تھا۔

    ماہرین کے مطابق نہر عبور کرنے کی مشقیں انتہائی حساس اور تکنیکی نوعیت کی ہوتی ہیں جن کے لیے مکمل سیکیورٹی پروٹوکول، تجربہ کار کمانڈرز کی نگرانی، اور ہنگامی آلات کی موجودگی لازمی ہوتی ہے۔ مگر واقعے سے یہ صاف نظر آتا ہے کہ یا تو ایسے انتظامات تھے ہی نہیں، یا پھر بھارتی فوج کی روایتی غفلت اور غیر پیشہ ورانہ رویے نے ایک اور جان لے لی۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج اگر واقعی خود کو خطے کی بڑی طاقت سمجھتی ہے تو اسے سب سے پہلے اپنی تربیتی صلاحیت، حفاظتی معیار اور اہلکاروں کی جان کی اہمیت کو سمجھنا ہوگا۔ کیا بھارتی فوج اپنی اندرونی کمزوریوں کو دور کرنے میں سنجیدہ بھی ہے، یا صرف دکھاوے کی مشقوں اور بلند بانگ دعووں میں ہی مگن رہے گی

  • ایئر انڈیا طیارہ حادثہ،برطانیہ بھجوائی گئی لاشوں میں انتہائی زہریلے مادے کا انکشاف

    ایئر انڈیا طیارہ حادثہ،برطانیہ بھجوائی گئی لاشوں میں انتہائی زہریلے مادے کا انکشاف

    لندن، ایئر انڈیا کے طیارہ حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کو جب برطانیہ منتقل کیا گیا تو لندن کے ویسٹ منسٹر پبلک مورچیوری میں کام کرنے والے عملے کو ’’انتہائی خطرناک‘‘ حد تک زہریلے کیمیکلز کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ انکشاف ایک تفصیلی رپورٹ میں کیا گیا

    جون میں احمد آباد سے لندن کے لیے روانہ ہونے والی ایئر انڈیا فلائٹ 171 ٹیک آف کے کچھ ہی لمحوں بعد ایک عمارت سے ٹکرا گئی تھی، جس میں طیارے میں سوار 241 افراد اور زمین پر 19 افراد ہلاک ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں 53 برطانوی شہری بھی شامل تھے جبکہ صرف ایک مسافر معجزانہ طور پر زندہ بچ سکا۔

    فارملن میں بھگوئی گئی لاشیں، تابوت کھولتے ہی ’کیمیائی خطرہ‘ سامنے آگیا
    کورونر کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ لائی گئی لاشوں کو فارملن کے غیر معمولی حد تک زیادہ ارتکاز میں بھگو کر لپیٹا گیا تھا اور انہیں خاص طور پر لائننگ والے تابوتوں میں رکھا گیا تھا۔فارملن، جس میں فارملڈیہائیڈ شامل ہوتی ہے، لاشوں کو محفوظ رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، مگر رپورٹ کے مطابق زیادہ تر عملہ اس کی خطرناک نوعیت سے ناواقف تھا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ مردہ خانے میں کاربن مونو آکسائیڈ اور سائنائیڈ جیسے انتہائی زہریلے مادّے بھی خطرناک سطح پر پائے گئے۔کورونر کے مطابق فارملن کا ارتکاز تقریباً 40 فیصد ریکارڈ ہوا، جو ’’انتہائی خطرناک حد سے زیادہ‘‘ تھا۔انہوں نے لکھا کہ گرمی اور روشنی میں فارملن ٹوٹ کر کاربن مونو آکسائیڈ پیدا کرتا ہے، جو انتہائی زہریلا ہے، جبکہ اگر یہ امونیا سے مل جائے، جو گلنے سڑنے کے دوران پیدا ہوتا ہے، تو سائنائیڈ جیسا جان لیوا مادہ بن سکتا ہے۔

    رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ مردہ خانے فارملن کے خطرات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ لاشوں میں فارملن کی مقدار کو ’’عام طور پر مانیٹر نہیں کیا جاتا‘‘، جس کے باعث حفاظتی آلات یا تو موجود نہیں ہوتے یا استعمال نہیں کیے جاتے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ اس صورتِ حال سے عملے کی صحت کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، جن میں جان کا خطرہ بھی شامل ہے۔رپورٹ وزارتِ صحت، سماجی نگہداشت اور وزارتِ ہاؤسنگ، کمیونٹیز و مقامی حکومت کو بھجوائی گئی ہے، تاکہ مستقبل میں اسی نوعیت کے خطرات کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ متعلقہ محکموں کے پاس 56 دن میں جواب جمع کرانے کی مہلت ہے۔

    ایک سرکاری ترجمان نے کہا ’’یہ واقعہ نہایت چونکا دینے والا ہے۔ ہم اس المناک حادثے کے متاثرین کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کرتے ہیں۔ ہم اس رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لیں گے اور اس پر باضابطہ جواب دیں گے۔‘‘سائنسی ماہرین کے مطابق بیرونِ ملک سے آنے والی لاشوں کو فارملن سے محفوظ کرنا عام بات ہے، مگر 40 فیصد کا ارتکاز ’’غیر معمولی طور پر بہت زیادہ‘‘ قرار دیا گیا ہے۔

    ایئر انڈیا طیارہ حادثہ،پائلٹ کو قصور وار نہیں دیا جا سکتا،بھارتی عدالت

    ایئر انڈیا حادثے میں بچ جانے والے واحد مسافر کی کئی ماہ بعد حادثے بارے بات چیت

    ایئر انڈیا کا عملہ ہوٹل میں قیام کے دوران ڈکیتی کا شکار

    ایئر انڈیا حادثے میں برطانیہ کو غلط میتیں بھیجنے کا معاملہ، بھارتی وضاحت

  • انڈیگو کو شدید آپریشنل بحران کا سامنا،200 سے زائدپروازیں تاخیر اور منسوخی کا شکار

    انڈیگو کو شدید آپریشنل بحران کا سامنا،200 سے زائدپروازیں تاخیر اور منسوخی کا شکار

    بھارت کی سب سے بڑی ایئرلائن انڈیگو کو حالیہ برسوں کے بدترین آپریشنل بحران کا سامنا ہے، جہاں ملک بھر میں پروازوں کی تاخیر اور منسوخیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔

    انڈیگو کی ویب سائٹ کے مطابق ایئرلائن روزانہ 2200 سے زائد پروازیں چلاتی ہے۔ تاہم سرکاری اعداد و شمار کے مطابق منگل کے روز ان کا آن ٹائم پرفارمنس صرف 35 فیصد رہ گیا، جو کہ ایک بڑے بحران کی علامت ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ گزشتہ روز 1400 سے زائد پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔بدھ کے روز بھی یہ صورتحال برقرار رہی، جب دوپہر تک دہلی، ممبئی، بنگلورو اور حیدرآباد کے ایئرپورٹس سے 200 کے قریب پروازیں منسوخ ہوچکی تھیں، جس سے اندرونِ ملک سفر کرنے والے ہزاروں مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ممبئی ایئرپورٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا "انڈیگو کی کچھ پروازیں ایئرلائن کے اندرونی آپریشنل مسائل کی وجہ سے تاخیر یا منسوخی کا شکار ہوسکتی ہیں۔ مسافروں سے گزارش ہے کہ ایئرپورٹ روانگی سے قبل اپنی پرواز کا تازہ ترین اسٹیٹس ایئرلائن سے معلوم کرلیں۔”

    بحران کی سب سے بڑی وجہ گزشتہ ماہ متعارف کرائے گئے نئے فلائٹ ڈیوٹی ٹائم لمیٹیشن (FDTL) قواعد کے تحت پائلٹس اور کیبن کریو کی شدید کمی بتائی جا رہی ہے۔ نئے قواعد کے مطابق عملے کو زیادہ آرام، انسانی بنیادوں پر تیار کردہ روسٹر اور محدود فلائٹ اوقات دینا لازمی ہے، جس کے باعث انڈیگو اپنے بڑے نیٹ ورک کو بروقت ترتیب دینے میں ناکام رہی۔ذرائع کے مطابق کئی پروازیں کیبن کریو دستیاب نہ ہونے کے سبب گراؤنڈ رہیں، جبکہ بعض میں تاخیر آٹھ گھنٹوں تک رہی۔ چونکہ انڈیگو کا بھارت کے اندرونِ ملک فضائی سفر میں 60 فیصد سے زائد مارکیٹ شیئر ہے، اس لیے ان کی بدانتظامی کا اثر پورے نظام پر پڑا۔

    انڈیگو کے بیان کے مطابق "گزشتہ دو روز سے ہمارے پورے نیٹ ورک میں شدید بے ترتیبی رہی ہے، جس پر ہم اپنے مسافروں سے دل سے معذرت خواہ ہیں۔ غیر متوقع آپریشنل چیلنجز، جن میں ٹیکنالوجی کے معمولی مسائل، موسم سرما کے شیڈول میں تبدیلیاں، خراب موسم، فضائی نظام میں بڑھتی بھیڑ، اور نئے FDTL قواعد شامل ہیں، نے ہمارے آپریشنز پر منفی اثر ڈالا۔”

    FDTL قوانین کے تحت،عملہ روزانہ 8 گھنٹے سے زیادہ نہیں اڑا سکتا،ہفتہ وار حد 35 گھنٹے ہے،ماہانہ حد 125 گھنٹے ہے،سالانہ حد 1000 گھنٹے ہے،مزید یہ کہ ہر فلائٹ ٹائم کے مقابلے میں عملے کو دگنا آرام دینا لازمی ہے، اور ہر 24 گھنٹے میں کم از کم 10 گھنٹے کا آرام ضروری ہے۔ یہ اصول پائلٹس اور کریو کی تھکاوٹ سے بچاؤ اور فضائی سفر کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن نے نافذ کیے ہیں۔

    ایئرلائن کے مطابق اگلے 48 گھنٹوں میں شیڈول میں "محدود لیکن باقاعدہ تبدیلیاں” لائی جا رہی ہیں، تاکہ نظام کو دوبارہ مستحکم کیا جاسکے۔انڈیگو کا کہنا ہے کہ متاثرہ مسافروں کومتبادل پروازیں یا رقم کی واپسی جیسی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔مسافروں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ایئرپورٹ جانے سے قبل اپنی پرواز کا اسٹیٹس چیک کرلیں۔

    حیدرآباد کے راجیو گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر صبح کے وقت طویل قطاریں اور پریشان مسافر نظر آئے جہاں 33 انڈیگو پروازیں (آمد و روانگی دونوں) منسوخ کی گئیں۔روانہ ہونے والی پروازیں بھی بڑی تعداد میں منسوخ ہوئیں۔بنگلورو کے کیمپے گوڑا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بھی 42 گھریلو پروازیں (22 آمد، 20 روانگی) منسوخ ہوئیں۔

    پریشان مسافروں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی مشکلات بیان کیں،ایک مسافر نے لکھا "میں رات 3 بجے سے پھنس گیا ہوں، ایک اہم میٹنگ مس کر دی ہے۔”دوسرے نے بتایا "میری ادے پور جانے والی پرواز پہلے 1:55، پھر 2:55، اب 4:35 کر دی گئی ہے۔ یہ مذاق ہے؟ ایئرپورٹ میں داخل ہونے سے تین منٹ پہلے مجھے اطلاع دی گئی۔”

  • کےپی حکومت کا ہیلتھ کارڈ صحیح ماڈل نہیں،بلاول

    کےپی حکومت کا ہیلتھ کارڈ صحیح ماڈل نہیں،بلاول

    پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خیبرپختونخوا حکومت کے صحت کارڈ اسکیم کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن ٹرسٹ اسپتال شارع فیصل میں نوتعمیرشدہ ڈاکٹر سید ہارون احمد ڈائیلاسز سینٹر اور زبیدہ مصطفی لیتھوٹرپسی یونٹ کا افتتاح کردیا۔اس موقع پر بلاول نے مریضوں سے ملاقات کی اور معیاری، مفت علاج کی اہمیت کو اجاگر کیا۔سندھ حکومت نے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی سرپرستی میں SIUT شارعِ فیصل میں 55 بستروں پر مشتمل جدید ڈائیلاسس سینٹر قائم کر کے خدمتِ انسانیت کی نئی مثال قائم کی ہے۔اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے صحت کا بجٹ ہیلتھ کارڈ میں ڈال دیا ہے، میرے خیال میں کےپی حکومت کا ہیلتھ کارڈ صحیح ماڈل نہیں ہے، ہیلتھ کارڈ کی ایک حد مقرر ہے اس سے زیادہ بیماری پرخرچہ آیا تو آپ کو اپنی پیسوں سے علاج کروانا ہوگا، خیبرپختونخوا حکومت صحت کے نظام میں حکومتی اداروں کا پیسہ نجی اسپتالوں کو دلوارہی ہے، ہم نے پسماندہ طبقے کیلئے وسیلہ صحت پروگرام شروع کیا تھا، وسیلہ صحت پروگرام کا مقصد تھا کہ پسماندہ ترین افراد کو براہ راست مدد پہنچائی جائے،وفاقی حکومت،خیبرپختونخوا حکومت پاپولیشن پلاننگ پر15 سال کی کارکردگی سامنے لائے،میں سندھ حکومت کی 15 سال کی پاپولیشن پلاننگ کی کارکردگی پیش کرنے کیلئے تیارہوں، ہم گوجرخان، سرگودھا، رحیم یارخان اور ڈی آئی خان میں بھی ایس آئی یوٹی کےتعاون سے سہولیات فراہم کریں گے۔

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھاکہ ایس آئی یو ٹی کی عمارت کی تاریخ شہرِ کراچی سے جڑی ہوئی ہے، یہ کہانی تاج محل سے شروع ہوکر ایس آئی یو ٹی تک آتی ہے۔این آئی سی وی ڈی پوری دنیا میں مفت علاج کا سب سے بڑا نیٹ ورک ہے، ہم ڈاکٹر ادیب رضوی کیساتھ مل کر ایس آئی یو ٹی کی سہولت کو گوجر خان، سرگودھا اور ڈی آئی خان میں بھی شروع کرنے جارہے ہیں. عوام کو معیاری اور مفت علاج کی فراہمی پیپلز پارٹی کے منشور کا بنیادی حصہ ہے۔

  • نیپا چورنگی واقعہ،وزیراعلیٰ کی ہدایت پر 5 متعلقہ افسران معطل

    نیپا چورنگی واقعہ،وزیراعلیٰ کی ہدایت پر 5 متعلقہ افسران معطل

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی ہدایت پر نیپا چورنگی پر مین ہول میں گرنے سے 3 سالہ بچے کے جاں بحق ہونے پر 5 متعلقہ افسران کو معطل کردیا گیا۔

    وزیر اعلیٰ سندھ کی زیر صدارت نیپا چورنگی واقعے سے متعلق اجلاس ہوا جس میں صوبائی وزرا،کے ایم سی، ٹاؤن انتظامیہ، ریونیو اور پولیس حکام نے شرکت کی،وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ بچے کے جاں بحق ہونے پر دلی افسوس ہے، جس کی بھی کوتاہی ہے اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، ایک دوسرے پر ذمہ داری عائد کرنا افسوسناک ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ افسران کو معطل کیا جائے، چیف سیکرٹری سندھ آج ہی ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کریں۔

    وزیراعلیٰ کی ہدایت پر محکمہ بلدیات سندھ نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے سینئر ڈائریکٹر میونسپل سروسز عمران راجپوت کو معطل کردیا،ٹاؤن میونسپل کارپوریشن گلشن اقبال کے اسسٹنٹ انجینئر راشد فیاض اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے ایگزیکٹو انجینئر وقار احمد کو بھی معطل کردیا گیا ہے،اسسٹنٹ کمشنرگلشن اقبال عامر علی شاہ اور مختیارکار گلشن اقبال سلمان فارسی کو بھی معطل کردیا گیا ہے۔

  • فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے سعودی رائل فورسز کے کمانڈر کی ملاقات

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے سعودی رائل فورسز کے کمانڈر کی ملاقات

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے کمانڈر رائل سعودی فورسز لیفٹیننٹ جنرل فہد بن سعودکی اہم ملاقات ہوئی ہے،

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون، علاقائی سلامتی اور مشترکہ دلچسپی کے اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا،ملاقات کے دوران دونوں عسکری قیادتوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طویل المدتی، برادرانہ اور اسٹریٹجک عسکری تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان اور سعودی عرب کے مضبوط دفاعی اشتراک پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تربیت، کیپسٹی بلڈنگ اور انٹیلی جنس شیئرنگ جیسے شعبوں میں دوطرفہ تعاون میں مزید وسعت کی ضرورت ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل فہد بن سعود الجزہانی نے پاکستان آرمی کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے مثبت اور تعمیری کردار کی تعریف کی،

    قبل ازیں جی ایچ کیو آمد پر معزز مہمان کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا،

  • انجینئر محمد علی مرزا کی ضمانت منظور

    انجینئر محمد علی مرزا کی ضمانت منظور

    لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے توہینِ مذہب کے مقدمے میں گرفتار انجینئر محمد علی مرزا کی ضمانت منظور کرتے ہوئے اُن کی رہائی کا حکم جاری کردیا ہے۔ عدالت نے ملزم کو پانچ پانچ لاکھ روپے کے دو ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

    مقدمے کی سماعت جسٹس صداقت علی خان نے کی، جنہوں نے دلائل سننے کے بعد عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے حکم دیا کہ ملزم متعلقہ قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے ضمانتی مچلکے عدالت میں جمع کرائے۔انجینئر محمد علی مرزا کے خلاف جہلم میں توہینِ مذہب کا مقدمہ درج ہے جس کے بعد مقامی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے انہیں 3 ایم پی او (پبلک آرڈر آرڈیننس) کے تحت گرفتار کرکے جیل منتقل کردیا تھا۔ بعد ازاں ان کے وکلا نے گرفتاری اور مقدمے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا۔

    سماعت کے دوران مرزا کے وکلا کا مؤقف تھا کہ مقدمہ بے بنیاد ہے اور اُن کے مؤکل کو مخصوص گروہوں کی مخالفت کے باعث نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ استغاثہ نے ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کے خلاف سنگین نوعیت کے الزامات ہیں جن کی تحقیقات درکار ہیں۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ضمانت منظور کرلی۔ رہائی کے احکامات جاری ہونے کے بعد اُن کے حامیوں نے عدالتی فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔