Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • لاہور سمیت پورے پنجاب میں بسنت منانے کا اعلان،آرڈیننس جاری

    لاہور سمیت پورے پنجاب میں بسنت منانے کا اعلان،آرڈیننس جاری

    لاہور سمیت پورے پنجاب میں بسنت منانے کا اعلان، مقررہ جگہوں اور اوقات میں پتنگ بازی کی اجازت ہوگی،

    18 سال سے کم عمر پتنگ بازی نہیں کرسکیں گے، پنجاب حکومت نے کائٹ فلائنگ آرڈیننس 2025 جاری کردیا۔آرڈیننس کے تحت بسنت کے لئے شرائط مقرر کی گئی ہیں جن کی خلاف ورزی پر قید اور جرمانے کی سزائیں مقرر کی گئی ہیں، پنجاب میں 2001 میں پتنگ بازی پر پابندی لگی تھی پچیس سال بعد پتنگ بازی کی دوبارہ اجازت دی گئی ہے،اٹھارہ سال سے کم عمر بچے پتنگ بازی نہیں کرسکیں گے خلاف ورزی پر والد یا سرپرست ذمہ دار ہوگا،صرف دھاگے سے بنی ڈور سے ہی پتنگ بازی کی اجازت ہوگی دھاتی یا تیز دھار مانجھے سے بنی ڈور کے استعمال پر سخت سزائیں دی جائیں گی،قانون کی خلاف ورزی پرکم از کم تین اور زیادہ سےزیادہ پانچ سال قید اور 20 لاکھ روپےجرمانےکی سزادی جا سکےگی، پتنگ بازی کی ایسوسی ایشنز متعلقہ ضلع کےڈپٹی کمشنرکےپاس رجسٹرکی جائیں گی، قانون کی خلاف ورزی کی شکایت کرنے والے(Whistle blower)کی قانونی طورپر حوصلہ افزائی کی جائے گی، پتنگیں رجسٹرڈ دکانداروں سے ہی خریدی جائیں گی ہر رجسٹرڈ دکاندار کو ایک کیو آر کوڈ سے منسلک کیا جائے گا، پتنگ پر بھی کیو آر کوڈ ہوگا جس سے پتنگ بیچنے والے کی شناخت ہو سکے گی،ڈور بنانے والوں کی بھی رجسٹریشن ہوگی کیو آر کوڈ سے ان کی بھی شناخت ہوگی

  • امام مساجد کیلیے وزیراعلیٰ پنجاب اعزازیہ کارڈ کی منظوری

    امام مساجد کیلیے وزیراعلیٰ پنجاب اعزازیہ کارڈ کی منظوری

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اعزازیہ کارڈ برائے امام مسجد کی منظوری دے دی۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں فروری 2026 تک اعزازیہ کارڈ کے اجرا کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے، وزیراعلیٰ نے یکم جنوری سےادائیگی کاحکم دیا ہے اور پہلی مرتبہ پےآرڈر دیےجائیں گے،یکم فروری سے وزیراعلیٰ پنجاب اعزازیہ کارڈ برائے امام مسجد صاحب کے ذریعے ادائیگی ہوگی،مریم نواز نے ہدایت دی کہ آئمہ کرام کی رجسٹریشن کا عمل مسلسل جاری رکھا جائے، پنجاب بھر میں آئمہ کرام کے 62994 رجسٹریشن فارم وصول کیے گئے ہیں جن کی تصدیق کا عمل جاری ہے، ملک وقوم کے مفادات کےخلاف اور اخلاقی یامالی جرائم میں ملوث امام مسجد کا اعزازیہ بند کردیا جائے گا،صوبے بھر میں مسجد مینجمنٹ کمیٹیاں اور تحصیل مینجمنٹ کمیٹیاں بھی قائم کی گئی ہیں، اسسٹنٹ کمشنرز کو ہر ماہ آئمہ کرام کو مدعو کرکے میٹنگ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے،سیف سٹی کیمروں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے پر سخت کارروائی کے لیے قانون سازی کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے،مریم نواز نے غیرقانونی طور پر مقیم افغانوں کے خلاف آپریشن مسلسل جاری رکھنے کا حکم بھی دیا ہے۔

  • خیبر پختونخوا،بلوچستان سیکورٹی فورسز کی بڑی کاروائیاں،نوکنڈی میں تمام دہشتگرد ہلاک

    خیبر پختونخوا،بلوچستان سیکورٹی فورسز کی بڑی کاروائیاں،نوکنڈی میں تمام دہشتگرد ہلاک

    خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگردوں کے خلاف سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری ہیں.

    نوکنڈی، بلوچستان، سیکیورٹی فورسز نے نوکنڈی کے علاقے میں ایک بڑے دہشت گرد حملے کو بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حملہ اس وقت شروع ہوا جب ایک شدت پسند نے تقریباً 500 کلو گرام دھماکا خیز مواد سے بھری گاڑی کو علاقے میں داخل کرکے دھماکے سے اڑا دیا، جس سے تقریباً 50 فٹ گہرا گڑھا بن گیا۔
    ذرائع کے مطابق ابتدائی دھماکے کے بعد چھ مزید دہشت گردوں نے فالو اپ حملے کی کوشش کی، تاہم فورسز نے فوری جوابی کارروائی شروع کرتے ہوئے 48 گھنٹے طویل آپریشن کیا۔ اس آپریشن میں تمام سات حملہ آور مارے گئے۔حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے اور علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

    خودکش حملہ آور زرینہ رفیق بلوچ کے اہل خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ کالعدم بلوچستان لبریشن فرنٹ (BLF) نے زرینہ کے والد، چچا اور منگیتر کو اغوا کرلیا ہے، تاکہ اس کیس کے حقائق منظرِ عام پر نہ آسکیں،اہل خانہ کے مطابق زرینہ، جو BYC کی رکن بتائی جاتی ہے، ایک ’’ورکشاپ‘‘ کے بہانے لے جائے جانے کے بعد لاپتہ ہوئی۔ خاندان نے الزام لگایا کہ اسے زبردستی دباؤ میں رکھا گیا اور اس کی نامناسب ویڈیوز بنا کر اہلِ خانہ کو دھمکایا گیا۔ذرائع کے مطابق زرینہ کے والد ماسٹر رفیق، چچا خدا داد اور منگیتر زبیر کو اس وقت اغوا کیا گیا جب انہوں نے واقعے کی تفصیلات بتانے کی کوشش کی۔ خاندان نے دعویٰ کیا ہے کہ BLF کی جانب سے دھمکی دی گئی ہے کہ اگر کسی نے بات کی تو انہیں قتل کردیا جائے گا۔

    سیکیورٹی و انٹیلی جنس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ مخالف قوتوں کی سرپرستی میں سرگرم نیٹ ورکس نے دو مزید شدت پسند تنظیموں کو بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) میں ضم کردیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جوابی کارروائیوں کے بعد مبینہ طور پر بھارت اور اسرائیل نے جیش العدل اور انصار الفرقان کو BLA کے ساتھ یکجا کرنے میں کردار ادا کیا۔ ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ تنظیموں نے مل کر نیا مشترکہ پرچم بھی تیار کر لیا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں۔جیش العدل پاکستان میں کارروائیوں میں BLA کی معاونت کرے گی،جبکہ BLA ایران میں کارروائیوں کے لیے جیش العدل کو اسلحہ، گولہ بارود اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کرے گی

    دوسری جانب ایرانی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ ایران کی مسلح افواج اپنے جنوب مشرقی علاقوں میں ایک ریپڈ ری ایکشن بریگیڈ تعینات کرنے کی تیاری کر رہی ہیں، جو چار ہزار تک بھاری اسلحے سے لیس جنگجوؤں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

    مقامی پولیس کے مطابق منگل کی صبح نامعلوم شدت پسندوں نے حاجی ظفر خان کے گھر پر راکٹ فائر کیا، جس کے نتیجے میں گھر میں موجود دو بچے زخمی ہوگئے۔انتظامیہ اور پولیس اہلکار موقع پر پہنچے جبکہ بچوں کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔

    کوئٹہ ، سیکیورٹی اداروں نے ایک خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے نصرآباد، تربت ٹمپ کے رہائشی ہلال داد کو مبینہ طور پر شدت پسند عناصر سے روابط کے شبہے میں حراست میں لے لیا۔ذرائع کے مطابق ملزم کو قانونی تحقیقات کے لیے ایک محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔

    سیکیورٹی فورسز نے ایک بڑی انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کے دوران کالعدم گلبہار گروپ کے اہم ترین چار کمانڈروں کو ہلاک کردیا۔ذرائع کے مطابق مارے جانے والوں میں مولوی حمید افغانی گروپ کا اہم اور انتہائی بااثر رہنما،کمانڈر ابو دُجانہ،کمانڈر مُنیب،کمانڈر محب اللہ عرف میبل شامل ہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ گلبہار گروپ کے مقامی عناصر نے بھی اپنے سینئر کمانڈروں کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔

    صوابی ، رزاڑ کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے ایف سی نائب خطیب عبدالمجید پر اُس وقت فائرنگ کردی جب وہ اپنے بھائی کی دکان پر موجود تھے۔ فائرنگ کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئے اور اسپتال منتقل کر دیے گئے۔پولیس کے مطابق عبدالمجید معمول کی چھٹی پر گاؤں آئے ہوئے تھے۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

    شمالی وزیرستان ، سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ضلع کے دو مختلف علاقوں میں کی گئی کارروائیوں میں سات دہشت گرد مارے گئے۔میر علی میں فورسز نے خفیہ اطلاع پر ایک مقام کا محاصرہ کیا جہاں فائرنگ کے تبادلے میں چھ دہشت گرد مارے گئے۔دوسرا آپریشن سپین وام میں کیا گیاجس میں‌ ایک شدت پسند کو ہلاک کیا گیا۔فورسز نے جائے وقوعہ سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ مارے گئے دہشت گرد سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں پر حملوں میں ملوث تھے۔ بعض ذرائع نے دعویٰ کیا کہ گروپ کے روابط ’’بھارتی سرپرستی‘‘ میں سرگرم نیٹ ورکس سے تھے، تاہم اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

  • نومبر 2025 میں  دہشت گردی کے واقعات میں تشویشناک اضافہ

    نومبر 2025 میں دہشت گردی کے واقعات میں تشویشناک اضافہ

    اسلام آباد: پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (PICSS) نے نومبر 2025 کی ماہانہ رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق ملک میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق نومبر کے دوران دہشت گردی کے 97 واقعات رپورٹ ہوئے، جو اکتوبر میں ہونے والے 89 واقعات کے مقابلے میں 9 فیصد زیادہ ہیں۔ ماہرین اس اضافے کو شدت پسند گروہوں کی حکمت عملی میں تبدیلی اور نرم اہداف کو نشانہ بنانے کے بڑھتے رجحان کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان جیسے گروہوں کی جانب سے شہری علاقوں اور غیر محفوظ برادریوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں بڑھ گئی ہیں۔ نومبر میں 54 شہری دہشت گردی کا نشانہ بن کر جاں بحق ہوئے، جو اکتوبر کے مقابلے میں 80 فیصد زیادہ ہیں۔ شہری ہلاکتوں میں یہ اضافہ سیکیورٹی اداروں کے لیے تشویش کا باعث ہے، کیونکہ یہ گروہ تیزی سے اپنی کارروائیاں شہری مراکز کی طرف منتقل کر رہے ہیں۔

    رپورٹ بتاتی ہے کہ سیکیورٹی فورسز اور امن کمیٹیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ نومبر میں 25 سیکیورٹی اہلکار اور 7 امن کمیٹی ارکان مختلف حملوں میں شہید ہوئے، جبکہ 83 سیکیورٹی اہلکار، 67 شہری اور 4 امن کمیٹی ارکان زخمی ہوئے۔ ان حملوں کا مقصد زیادہ سے زیادہ نفسیاتی دباؤ پیدا کرنا اور ریاستی اداروں کی کارروائیوں کو سست کرنا تھا۔

    دہشت گردی میں اضافے کے باوجود سیکیورٹی فورسز نے بھرپور ردعمل کا مظاہرہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق نومبر کے دوران مجموعی طور پر 206 دہشت گرد مختلف کارروائیوں میں ہلاک کیے گئے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی اعلیٰ صلاحیت اور مسلسل کارروائیوں کا ثبوت ہیں۔نومبر میں خودکش حملوں کی تعداد بڑھ کر 4 ہوگئی، جبکہ اکتوبر میں صرف ایک حملہ رپورٹ ہوا تھا۔ نئے حملے اسلام آباد، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور سابق فاٹا میں ہوئے، جو شدت پسندوں کے وسیع جغرافیائی نیٹ ورک اور متحرک صلاحیتوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوری سے نومبر 2025 تک مجموعی طور پر 1,940 شدت پسند مارے جا چکے ہیں، جو 2015 کے بعد کسی بھی سال میں ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ یہ اعداد و شمار ریاست کی جانب سے بڑھتے دباؤ اور موثر انسدادِ دہشت گردی پالیسیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔

    پی آئی سی ایس ایس نے خبردار کیا ہے کہ شدت پسند گروہ اپنی حکمت عملی تیزی سے تبدیل کر رہے ہیں اور شہری آبادیوں کو خاص طور پر نشانہ بنا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ سیکیورٹی فورسز نے اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں، مگر مجموعی صورتحال اب بھی نازک اور غیر مستحکم ہے۔

  • پاکستان کرکٹ بورڈ کا لندن میں پی ایس ایل روڈ شو کا اعلان

    پاکستان کرکٹ بورڈ کا لندن میں پی ایس ایل روڈ شو کا اعلان

    لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے پاکستان سپر لیگ کے عالمی فروغ کے سلسلے میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے 7 دسمبر کو لندن میں ایچ بی ایل پی ایس ایل روڈ شو منعقد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

    پی سی بی کے مطابق یہ تقریب لندن کے تاریخی کرکٹ گراؤنڈ لارڈز میں منعقد ہوگی، جہاں عالمی سرمایہ کاروں، کمرشل پارٹنرز اور شائقینِ کرکٹ کی بڑی تعداد کی شرکت متوقع ہے۔پی سی بی اور ایچ بی ایل پی ایس ایل حکام کے مطابق لیگ میں دو نئی ٹیموں کے اضافے کی تیاریاں تیز کردی گئی ہیں۔ ان ٹیموں کی فروخت کے حوالے سے مختلف بین الاقوامی گروپوں سے بات چیت جاری ہے جبکہ برطانوی سرمایہ کار خاص طور پر گہری دلچسپی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ممکنہ خریداروں کے سامنے لیگ کا اسٹرکچر، مالیاتی ماڈل اور طویل المدتی حکمت عملی پیش کی جائے گی۔

    لندن روڈ شو کا بنیادی مقصد پی ایس ایل کے وژن کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا،لیگ کے کمرشل ماڈل کو متعارف کرانا،مستقبل کی حکمت عملی اور توسیعی منصوبوں پر روشنی ڈالنا،بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنا ہے،تقریب میں پاکستان سپر لیگ کی موجودہ چیمپئن لاہور قلندرز کے کپتان شاہین شاہ آفریدی اور فاسٹ بولر حارث رؤف کی شرکت بھی متوقع ہے، جس سے ایونٹ کی شوبز اور کرکٹ ویلیو میں مزید اضافہ ہوگا۔

    چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے کہا کہ لارڈز میں روڈ شو کا انعقاد پاکستان کرکٹ کی عالمی شناخت کا ثبوت ہے۔
    انہوں نے کہا”لندن میں پی ایس ایل روڈ شو نہ صرف پاکستان کی کرکٹ برانڈنگ کو بڑھائے گا بلکہ لیگ کی بین الاقوامی اپیل کو بھی وسعت دے گا۔”ایچ بی ایل پی ایس ایل کے سی ای او سلمان نصیر نے کہا کہ پاکستانی لیگ دنیا بھر میں مضبوط فالوؤنگ رکھتی ہے اور اپنی کمرشل ویلیو کے اعتبار سے تیزی سے ترقی کررہی ہے۔انہوں نے مزید کہا:”دو نئی ٹیموں کے اضافے سے لیگ میں سرمایہ کاروں کے لیے بڑی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں گے، جو پی ایس ایل کو ایک نئی بلندی تک پہنچائیں گے۔”

    روڈ شو میں خصوصی طور پر 30 سپر فینز کو مدعو کیا جائے گا، جنہیں تقریب میں شرکت کا یونیک موقع ملے گا۔ ٹکٹوں کے حصول اور رجسٹریشن سے متعلق تفصیلات جلد جاری کردی جائیں گی۔

  • پاکستان اور ترکیہ کا توانائی کے شعبے میں بڑا معاہدہ

    پاکستان اور ترکیہ کا توانائی کے شعبے میں بڑا معاہدہ

    پاکستان اور ترکیہ کا توانائی کے شعبے میں بڑا معاہدہ ہو گیا

    پاکستان اور ترکی نے منگل کو اپنی توانائی شراکت داری کو مضبوط بنانے میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ترک پیٹرولیم اوورسیز کمپنی (ٹی پی او سی) نے پانچ تیل کی کنسیشن کے معاہدوں پر دستخط کیے، جن میں تین آف شور اور دو آن شور بلاکس شامل ہیں،یہ معاہدے، جن سے مجموعی سرمایہ کاری میں 300 ملین امریکی ڈالر کی توقع ہے، ٹی پی او سی کے پاکستان کے تیل و گیس کی تلاش کے شعبے میں باضابطہ داخلے کو ظاہر کرتے ہیں، جہاں یہ ملک کی معروف ای اینڈ پی کمپنیوں کے ساتھ کام کرے گا۔

    دستخط کی تقریب وزیر اعظم کے دفتر میں منعقد ہوئی اور جس کی موجودگی میں وزیراعظم شہباز شریف اور ترک وزیر توانائی و قدرتی وسائل الپارسلان بایراکتار بھی موجود تھے، دو طرفہ توانائی تعاون میں ایک اہم سنگ میل کی نمائندگی کرتی ہے۔ تیل اور بجلی کے وزراء سمیت سینئر حکومتی حکام نے بھی اس تقریب میں شرکت کی۔

  • مفتی منیب الرحمان کو ڈینگی ہو گیا،ہسپتال داخل

    مفتی منیب الرحمان کو ڈینگی ہو گیا،ہسپتال داخل

    معروف عالم دین اور سابق چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان ڈینگی میں مبتلا ہوگئے۔

    مفتی منیب الرحمان کراچی کے نجی اسپتال میں زیر علاج ہیں،مفتی عبدالرزاق نقشبندی کا بتانا ہے کہ اب مفتی منیب کی طبیعت قدرے بہتر ہے اور انہوں نے اسپتال میں نمازیں بھی ادا کیں،مفتی عبدالرزاق نقشبندی کے مطابق ڈاکٹرز نے مفتی منیب کو مکمل آرام کا مشورہ دیاہے، امید ہے کہ ڈاکٹرز مفتی صاحب کو ایک دو دن میں اسپتال سے گھر منتقل ہو نے کی اجازت دے دیں گے،اہلخانہ نے مفتی منیب الرحمان کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی اپیل کی ہے۔

  • لاہور،ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 کی کالز میں واضح کمی،جرائم میں کمی کا اشارہ

    لاہور،ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 کی کالز میں واضح کمی،جرائم میں کمی کا اشارہ

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں اسٹریٹ کرائم اور جائیداد سے متعلق وارداتوں کے حوالے سے ایک اہم رپورٹ سامنے آئی ہے جس کے مطابق جنوری 2022 سے نومبر 2025 تک 15 ہیلپ لائن پر موصول ہونے والی "کرائم کالز اگینسٹ پراپرٹی” میں غیر معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی کو موصول لاہور پولیس کے 15 کالز کے ریکارڈ کے مطابق مجموعی طور پر تین سال میں شکایات کی تعداد میں 73 فیصد کمی ہوئی ہے، جسے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق سال 2022 میں شہریوں نے جائیداد سے متعلق جرائم، جن میں ڈکیتی، راہزنی، موبائل فون چھیننا، موٹر سائیکل،گاڑی کی چوری و چھیننا اور گھر میں چوری شامل ہے، کے بارے میں 84,529 کالز کیں۔اسی سال مختلف مہینوں میں شکایات میں 3 فیصد سے 15 فیصد تک اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا۔

    سال 2023 میں جرائم کی شکایات کا گراف مزید بلند ہوا اور مجموعی تعداد 95,367 تک پہنچ گئی۔یہ سال جرائم میں اضافہ کا سال تصور کیا جا رہا ہے، جب بیشتر مہینوں میں 10 سے 16 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا، خاص طور پر مارچ اور اپریل 2023 میں شکایات کی تعداد 9 ہزار سے بھی اوپر رہی۔رپورٹ کے مطابق 2024 میں جرائم کی شرح میں واضح کمی سامنے آئی۔سال بھر میں موصول ہونے والی کالز کی مجموعی تعداد 64,638 رہی، جو پچھلے سال کی نسبت نمایاں کمی ہے۔اگست 2024 سے مسلسل کمی کا رجحان دیکھنے میں آیا اور دسمبر میں شکایات کی تعداد 3,980 تک گر گئی۔چارٹ کے مطابق 2025 میں مجموعی تعداد کم ہو کر 38,727 رہ گئی، جو تین سال میں شکایات کی سب سے کم شرح ہے۔اکتوبر اور نومبر 2025 میں ماہانہ کمی بالترتیب 16 فیصد اور 35 فیصد تک ریکارڈ کی گئی، جو رجحان میں بڑی تبدیلی ظاہر کرتی ہے۔

    چارٹ میں بڑی واضح نشاندہی کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ جنوری 2023 سے لے کر نومبر 2025 تک شکایات میں 73 فیصد کمی ہوئی، جو پولیس کے اسٹریٹ پٹرولنگ میں اضافے، ٹریفک کیمروں اور ٹیکنالوجی کے استعمال جیسے اقدامات کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    لاہور، 2025 کے ابتدائی 11 ماہ ، سنگین نوعیت کے جرائم میں کمی

    ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کی کھلی کچہریاں،پولیس پر عوام کا اعتماد بڑھنے لگا

    نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران

    ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران سے پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ کے وفد کی ملاقات

    رپورٹ کے مجموعی اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ لاہور میں گزشتہ تین سال کے دوران اسٹریٹ کرائم اور جائیداد سے متعلق وارداتوں میں نمایاں کمی آئی ہے، اور اگر یہ رجحان برقرار رہا تو مستقبل میں شہر کی سیکیورٹی صورتحال میں مزید بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے۔

  • لاہور، 2025 کے ابتدائی 11 ماہ ، سنگین نوعیت کے جرائم میں کمی

    لاہور، 2025 کے ابتدائی 11 ماہ ، سنگین نوعیت کے جرائم میں کمی

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں 2025 کے ابتدائی 11 ماہ کے دوران سنگین نوعیت کے جرائم میں غیر معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران لاہور میں متحرک ہیں،

    اس ضمن میں باغی ٹی وی کو موصول لاہور پولیس کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 2023 اور 2024 کے مقابلے میں 2025 میں تمام کیٹیگریز کے جرائم میں مجموعی طور پر نمایاں کمی سامنے آئی ہے، جسے حالیہ برسوں کی سب سے بڑی بہتری قرار دیا جارہا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں سنگین جرائم کی مجموعی تعداد 76,334 تھی، جو 2024 میں کم ہو کر 43,631 رہ گئی۔ تاہم 2025 کے پہلے 11 ماہ میں یہ تعداد مزید کم ہو کر صرف 20,867 رہ گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 52 فیصد اور 2023 کے مقابلے میں 73 فیصد کمی ہے۔

    جرائم کی مختلف اقسام میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی، ڈکیتی کے دوران قتل 2023 میں 23 واقعات ہوئے،2024 میں 13 واقعات ہوئے،2025 میں 8 واقعات ہوئے، 2023 کے مقابلے میں 65٪ کمی، 2024 کے مقابلے میں 38٪ کمی دیکھنے میں آئی، ڈکیتی کی 2023 میں 93وارداتیں،2024 میں 80وارداتیں،2025 میں اب تک 41وارداتیں ہوئیً، دو سال میں مجموعی طور پر 56٪ کمی دیکھنے میں آئی، رابری کے2023 میں 22,496واقعات،2024 میں 12,637 واقعات،2025 میں 3,432واقعات ہوئے، گزشتہ دو برسوں میں حیران کن 85٪ کمی دیکھنے کو ملی، اسنیچنگ ،چھینا جھپٹی کے 2023 میں 16,725واقعات،2024 میں7,153واقعات اور 2025 میں 3,514 واقعات پیش آئے، 2023 کے مقابلے میں 79٪ کمی دیکھنے میں آئی،گاڑیاں اور موٹر سائیکلوں کی چوری و چھیننے کی وارداتوں میں بھی کمی ہوئی، موٹر سائیکل چوری کے 2023 میں 27,251 واقعات،2024 میں 16,681واقعات،2025 میں 9,617واقعات پیش آئے، دو برس میں 65٪ کمی دیکھنے کو ملی، گاڑیاں چوری کے 2023 میں 2,623واقعات،2024 میں 1,853واقعات،2025 میں 972واقعات پیش آئے، 2023 کے مقابلے میں 63٪ کمی دیکھنے کو ملی،موٹر سائیکل اسنیچنگ کے 2023 میں1,535کیسز،2024 میں 1,130کیسز، اور 2025 میں 409مقدمات درج ہوئے، 73٪ نمایاں کمی دیکھنے میں آئی، گاڑیوں کی اسنیچنگ کے 2023 میں 70 واقعات،2024 میں 50واقعات،2025 میں23واقعات پیش آئے، دو سال میں 67٪ کمی ہوئی، چوری،ڈکیتی کے 2023 میں5,518واقعات،2024 میں4,054واقعات،2025 میں 2,851واقعات پیش آئے،اور 48٪ کمی دیکھنے کو ملی،

    ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کی کھلی کچہریاں،پولیس پر عوام کا اعتماد بڑھنے لگا

    نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران

    ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران سے پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ کے وفد کی ملاقات

    پولیس حکام کے مطابق اسمارٹ پیٹرولنگ،جدید ٹیکنالوجی کا استعمال،اسٹریٹ کرائم ہاٹ اسپاٹس کی مانیٹرنگ، انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز،خصوصی اینٹی اسٹریٹ کرائم اسکوڈزجرائم کی کمی کی وجوہات ہیں،نیز شہریوں کی جانب سے بروقت رپورٹنگ اور پولیس تعاون بھی اس کمی کا سبب بنا۔

  • ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کی کھلی کچہریاں،پولیس پر عوام کا اعتماد بڑھنے لگا

    ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کی کھلی کچہریاں،پولیس پر عوام کا اعتماد بڑھنے لگا

    ڈی آئی جی آپریشنز لاہور محمد فیصل کامران کی زیر نگرانی جاری “کھلی کچری” پروگرام کی تازہ ترین کارکردگی رپورٹ جاری کردی گئی ہے، جس کے مطابق اپریل 2024 سے نومبر 2025 تک شہریوں کی جانب سے مجموعی طور پر 30,899 درخواستیں موصول ہوئیں۔ عوامی سہولت کے لیے روزانہ کی بنیاد پر کھلی کچہری نے پولیس اور عوام کے درمیان براہ راست رابطے کو مضبوط بنایا، جس کا عملی ثبوت 76 فیصد عوامی اطمینان کی شرح ہے۔

    رپورٹ کے مطابق کھلی کچہری میں موصول ہونے والی درخواستوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا۔اپریل 2024 میں 103 درخواستیں موصول ہوئیں،مئی میں یہ تعداد 432 تک جا پہنچی،جون میں 519،جولائی میں 621،اگست میں 703،ستمبر میں 780 اوراکتوبر 2024 میں 898 درخواستیں موصول ہوئیں۔یہ سلسلہ 2025 میں مزید تیز ہوا، جنوری میں تعداد 1,093،اپریل 2025 میں 1,726،مئی میں 2,136،جون میں 2,597اورجولائی میں 2,754 تک پہنچ گئی۔اگست اور ستمبر 2025 میں یہ تعداد مزید بڑھ کر بالترتیب 2,784 اور 3,207 تک جا پہنچی۔

    رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اکتوبر 2025 کے دوران شہر میں ٹی ایل پی کے پُرتشدد احتجاج اور ہنگامہ آرائی کے باعث کھلی کچہری عارضی طور پر معطل رہیں، جس کے نتیجے میں ایک ماہ کے دوران درخواستوں کی تعداد کم ہو کر 2,667 رہ گئی۔ بعد ازاں معمول کی بحالی کے ساتھ نومبر 2025 میں دوبارہ بڑھ کر 3,003 درخواستیں موصول ہوئیں۔

    ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران خود شہریوں کے مسائل سنتے ہیں، جبکہ پولیس ٹیمیں مختلف مقامات پر کھلی عدالتوں میں بیٹھ کر لوگوں کے مسائل کے آن اسپاٹ حل کے لیے متحرک ہیں۔ شہریوں نے نہ صرف اپنے مسائل پیش کیے بلکہ شکایات کے فوری ازالے پر اطمینان کا اظہار بھی کیا۔روزانہ کی کھلی کچہری پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کی بحالی کا اہم ذریعہ بن رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ہزاروں شہریوں نے اپنی شکایات رجسٹر کروائیں جن میں سے متعدد کے مسائل کو موقع پر ہی حل کیا گیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ سلسلہ مزید مؤثر انداز میں جاری رکھا جائے گا تاکہ شہریوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔