Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں،تربیتی مراکز دنیا بھر کے امن کیلئے سنگین خطرہ

    افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں،تربیتی مراکز دنیا بھر کے امن کیلئے سنگین خطرہ

    افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں،تربیتی مراکز دنیا بھر کے امن کیلئے سنگین خطرہ ہیں

    دنیا بھر میں دہشتگردی میں افغان سرزمین کے استعمال کے پاکستانی مؤقف کی جیت ہو گئی ہے، عالمی جریدے "یوریشیا ریویو” کے مطابق افغانستان بطور ایک عالمی دہشت گرد پناہ گاہ بن چکا ہے جس کے شواہد بھاری اور ناقابل تردید ہیں، یوریشیا ریویو کے مطابق طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان پھر وہی روپ دھار رہا ہے جیسا دنیا نے دوبارہ نہ ہونے دینے کا عہد کیا تھا،طالبان کے اقتدار کے بعد افغانستان تیزی سے بین الاقوامی دہشت گردی کا مرکز بنتا جا رہا ہے، تاجکستان میں چینی انجینئرز پرافغانستان سے منسلک ڈرون حملہ، دہشت گردی کے سرحد پار پھیلنے کا ثبوت ہے،واشنگٹن ڈی سی میں 2نیشنل گارڈز کا قاتل افغان شہری تھا،جس کے افغانستان سےسرگرم دہشتگرد نیٹ ورکس سے روابط تھے،دہشتگردی جو کبھی صرف پاکستان کو نشانہ بناتی تھی اب ہر سمت پھیل رہی ہے، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی ایجنسیاں مسلسل خبردار کر رہی ہیں کہ افغانستان میں دہشت گرد تنظیمیں دوبارہ مضبوط ہو رہی ہیں،رپورٹ واضح کرتی ہیں کہ افغانستان غیر ملکی و مقامی دہشت گرد تنظیموں کا مرکز ہے، ڈنمارک کی نمائندہ کے مطابق 6000 ٹی ٹی پی دہشت گرد افغانستان میں سرگرم ہیں، جن کو طالبان حکومت مددکر رہی ہے،

    داعش خراسان، القاعدہ، مشرقی ترکستان کے عسکریت پسنداور وسطی ایشیائی گروہ افغانستان سے فعال ہیں، افغانستان میں دہشتگرد تنظیمیں بھرتی، پروپیگنڈا اور کرپٹو فنڈنگ چلا رہی ہیں،روس نے بھی افغان سرزمین پر موجود شدت پسند نیٹ ورکس کو سنگین علاقائی خطرہ قرار دیا،افغانستان میں موجود دہشت گردوں کی تعداد 13,000 سے زائد ہو چکی ہے، طالبان حکومت دہشت گرد گروہوں کو روکنے کی نہ صلاحیت رکھتی ہے اور نہ نیت،عالمی دہشت گرد تنظیموں کیلئے افغانستان پناہ گاہ، بھرتی مرکز اور لانچ پیڈ بن چکا ہے، تاجکستان میں حملہ ’’ایک واقعہ‘‘ نہیں بلکہ آنے والے شدید خطرات کی علامت ہے،پاکستان برسوں سے افغان سرزمین سے اٹھنے والی دہشت گردی کا سب سے بڑا نشانہ رہا ہے،پاکستان، وسطی ایشیا اور خطے کے ممالک اس خطرے کا وزن اکیلے نہیں اٹھا سکتے، عالمی اور علاقائی ممالک نے ملکر حکمتِ عملی نہ بنائی تو افغانستان دہشت گردوں کیلئے ایک ملکی سطح کا محفوظ پناہ گاہ بن جائے گا،اگر واضح حکمت عملی نہ اپنائی گئی تو دہشت گردی سےنہ امریکا محفوظ رہے گا نہ یورپ اور نہ خلیجی ممالک،

    افغانستان سے پنپتی دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان متعدد بار ناقابل تردید شواہد پیش کر چکا ہے

  • نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں کورس کے شرکاء کا میران شاہ کا دورہ

    نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں کورس کے شرکاء کا میران شاہ کا دورہ

    نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں جاری کورس کے 35 رکنی سول افسران کے وفد نے میران شاہ کا دورہ کیا

    جنرل آفیسر کمانڈنگ میران شاہ نے وفد کی آمد پر ان کا استقبال کیا ،وفد نے یاد گارِ شہدا پر پھول چڑھائے اور شہدا کے بلند درجات کے لیے فاتحہ خوانی کی ،وفد کو علاقائی سیکیورٹی صورتحال، انسداد دہشتگردی چیلنجز اور قیامِ امن میں سیکورٹی فورسز کے کردار پر بریفننگ دی گئی ،وفد کے شرکاء کو معاشی خوشحالی کے لیے اٹھائے جانے والے اہم اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا،وفد کو ٹوچی میوزیم اور تکنیکی ہال کا دورہ بھی کرایا گیا، میوزیم میں وفد نے تاریخی اور عسکری اہمیت کی حامل اشیاء کا مشاہدہ کیا ،وفد نے پاک فوج کی شمالی وزیرستان کی ترقی اور امن کے لیے کی جانے والی کاوشوں کو بے حد سراہا

  • بڑھتی آبادی ترقی کی رفتار سست کر سکتی ہے، عطا تارڑ

    بڑھتی آبادی ترقی کی رفتار سست کر سکتی ہے، عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے ”پاکستان پاپولیشن سمٹ“ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر سال ہماری آبادی میں نیوزی لینڈ کی آبادی کے برابر اضافہ ہو رہا ہے،

    وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ زندگی کا بنیادی حق آبادی کے مسئلے سے منسلک ہے، آبادی میں تیزی سے اضافہ تشویشناک ہے،آگاہی کے فقدان سے آبادی کا چیلنج مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے، بڑھتی ہوئی آبادی کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے آگاہی پھیلانا ضروری ہے،بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں چیلنجز سامنے آ رہے ہیں،بڑھتی آبادی سے وسائل پر دباؤ پڑ رہا ہے، آبادی کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے معاشرے کے ہر طبقے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، صحت کے پہلوئوں اور زندگی کے حق کے حوالے سے بحیثیت قانون ساز ہمیں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، بڑھتی آبادی ترقی کی رفتار سست کر سکتی ہے، بڑھتی آبادی معیشت اور بنیادی سہولیات پر بوجھ ڈال رہی ہے، ہمارے ریجن میں ورکنگ وومن کی شرح دیگر خطوں کے مقابلے میں کم ہے.یہ معاشرتی مسئلہ ہے اسے آگاہی کے ذریعے حل کرنا ہوگا، آبادی کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے ورکنگ گروپ تشکیل دینا ضروری ہے،

  • بنوں،گاڑی پر فائرنگ، اسسٹنٹ کمشنر سمیت چار افراد شہید

    بنوں،گاڑی پر فائرنگ، اسسٹنٹ کمشنر سمیت چار افراد شہید

    بنوں، عسکریت پسندوں کی اسسٹنٹ کمشنر شمالی وزیرستان کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی ہے جس کے نتیجے میں اسسٹنٹ کمشنر شاہ ولی، دو پولیس اہلکاروں اور راہ گیر سمیت 4 افراد شہید ہوگئے.

    میرانشاہ روڈ پر اسسٹنٹ کمشنر شمالی وزیرستان کی گاڑی پر عسکریت پسندوں نے فائرنگ کر دی۔ ذرائع کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں اسسٹنٹ کمشنر سمیت چار افراد شہید ہو گئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عسکریت پسند زخمی اہلکاروں سے بندوقیں بھی چھین کر فرار ہوگئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ کی جانب روانہ ہوگئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔

  • ون وے کرنے والا "خود کش ” قرار،ہیلمٹ بھی پہنیں،احتیاط کریں ورنہ ہو گا مقدمہ

    ون وے کرنے والا "خود کش ” قرار،ہیلمٹ بھی پہنیں،احتیاط کریں ورنہ ہو گا مقدمہ

    پنجاب بھر میں‌ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں‌پر ٹریفک پولیس کی سختیاں بڑھ گئیں، قانون پر عملدرآمد کا آغاز کر دیا گیا، ون وے کرنے والا خود کش بمبار قرار دے دیا گیا،کوئی معافی نہیں، سیدھا پرچہ ہو گا

    لاہور سمیت پنجاب بھر میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر پولیس متحرک ہو چکی ہے، ون وے کی خلاف ورزی اور ہیلمٹ نہ ہونے پر چالان کے ساتھ مقدمہ کا بھی اندراج ہو گا، ون وے کی خلاف ورزی کو پولیس اہلکاروں کی جانب سے "خود کش” قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ ون وے کی خلاف ورزی کرنے والا نہ صرف خود مرتا ہے بلکہ دوسرے کو بھی مارتا ہے، دوفٹ بھی ون وے کسی صورت نہ جائیں بلکہ ٹریفک قوانین کی پاسداری کریں، اسی طرح ہیلمٹ نہ پہننے پر بھی کسی قسم کی معافی نہیں، چالان کے ساتھ مقدمہ درج ہو گا،اس ضمن میں مختلف پولیس اہلکاروں کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہیں جس میں وہ شہریوں سے گزارش کر رہے ہیں کہ ٹریفک قوانین کی پاسداری کریں،پولیس کو ٹریفک قوانین کی پاسداری کے لئے پنجاب میں سختی سے ہدایات دی گئی ہیں ،خصوصی ٹیمیں‌تشکیل دی گئی ہیں

    دوسری جانب پنجاب بھر میں ٹریفک نظام کی اصلاحات کے نام پر ٹریفک پولیس نے گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے 7 کروڑ 12 لاکھ روپے سے زائد کے چالان جاری کیے۔ مختلف خلاف ورزیوں پر 76 ہزار سے زائد شہریوں کو چالان کیا گیا جبکہ سنگین خلاف ورزیوں پر 1402 ایف آئی آرز بھی درج کی گئیں،ترجمان کے مطابق کارروائیوں کے دوران بغیر لائسنس ڈرائیونگ پر 11 ہزار 700 افراد کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے بھاری جرمانے عائد کیے گئے، جبکہ ون وے کی خلاف ورزی پر 4 ہزار سے زائد شہریوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی،اسی طرح بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل چلانے والے 12 ہزار سے زائد موٹر سائیکل سواروں کو چالان ٹکٹ جاری کیے گئے،پبلک ٹرانسپورٹ میں اوور لوڈنگ کے خلاف بھی کریک ڈاؤن کیا گیا، جس کے تحت 1397 گاڑیوں کو جرمانے کیے گئے اور متعدد کو بند کر دیا گیا،کم عمر ڈرائیونگ کے معاملے پر پولیس نے 3 ہزار سے زائد کم عمر ڈرائیورز کے خلاف کارروائیاں کیں، غیر نمونہ نمبر پلیٹس استعمال کرنے پر 3875 شہریوں کے خلاف، جبکہ غلط پارکنگ پر 1262 ڈرائیورز کے خلاف کارروائی کی گئی، دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف بھی بڑا آپریشن کیا گیا، جس میں 7200 سے زائد گاڑیوں کے چالان کیے گئے اور کئی گاڑیاں موقع پر ہی بند کر دی گئیں،ترجمان نے مزید بتایا کہ ٹریفک میں رکاوٹ بننے والے نشئی افراد اور بھکاریوں کے خلاف بھی کارروائی کی گئی، جس دوران 36 مقدمات درج کیے گئے۔

  • پاک فوج اور چین کی پیپلز لبریشن آرمی کی مشترکہ فوجی مشق شروع

    پاک فوج اور چین کی پیپلز لبریشن آرمی کی مشترکہ فوجی مشق شروع

    پاکستان آرمی اور چین کی پیپلز لبریشن آرمی کی مشترکہ فوجی مشق واریئر IX کا آغاز کر دیا گیا

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق انسداد دہشت گردی کے شعبے میں مشق کا آغاز یکم دسمبر 2025 کو ہوا، مشق کی افتتاحی تقریب نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر پبی میں منعقد ہوئی،منگلا کور کے کمانڈر، پی ایل اے ویسٹرن تھیٹرکمانڈ کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اور پاکستان و چین کے دیگر سینئر عسکری حکام نے شرکت کی۔ مشق کا مقصد باہمی تعاون میں اضافہ، پیشہ ورانہ مہارتوں میں بہتری حاصل کرنا ہے،مشق کا مقصد جدید جنگی تقاضوں سے متعلق بہترین تجربات کا تبادلہ ہے، مشق دونوں برادر ممالک کے درمیان سالانہ بنیادوں پر ہونے والی انسدادِ دہشت گردی مشقوں کا نواں سلسلہ ہے، دونوں ممالک کے درمیان واریئر IX مضبوط عسکری روابط کا عملی مظہر ہے، مشقیں خطے میں امن واستحکام اور سلامتی کے لیے دونوں ممالک کے مشترکہ عزم کی تجدید کرتی ہے۔

  • خیبر پختونخوا،بلوچستان،دہشتگردوں نے صحافی کا گھر تباہ کر دیا،13 سے زائد جہنم دہشتگرد واصل

    خیبر پختونخوا،بلوچستان،دہشتگردوں نے صحافی کا گھر تباہ کر دیا،13 سے زائد جہنم دہشتگرد واصل

    خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی دہشتگردوں کے خلاف کاروائیاں جاری ہیں

    لورالائی سے ایک نوجوان قیوم کی لاش اوریا گی ندی سے برآمد ہوئی۔ قیوم کو گزشتہ روز سے لاپتا قرار دیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق اس کی گاڑی قریبی علاقے کلی کچلک سے ملی ہے۔ حکام نے مختلف پہلوؤں سے تفتیش شروع کر دی ہے تاکہ موت کے اس واقعے کی وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔

    پنجگور کے سریکوران علاقے میں واقع واشبود پولیس اسٹیشن پر نامعلوم مسلح افراد نے راکٹ حملہ کر دیا۔ حملے کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی جس نے ریکارڈ اور دیگر اہم سامان کو جلا کر خاکستر کر دیا۔ پولیس کے مطابق تحقیقات جاری ہیں جبکہ علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

    ہوشاب میں مارٹر گولہ ایک گھر پر گرنے سے کم سن لڑکی یاسمین دختر ناصر جاں بحق ہوگئی۔ واقعے کے خلاف عوامی غم و غصے نے شدت اختیار کر لی، جس کے بعد مقامی افراد نے ایم-8 شاہراہ کے دونوں اطراف احتجاجی دھرنا دے دیا۔
    احتجاج کے دوران نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے غفور ولد گنگزار زخمی ہوگئے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک دھرنا ختم نہیں کریں گے جب تک ذمہ داروں کی گرفتاری عمل میں نہیں آتی۔

    جنوبی وزیرستان، خیبر پختونخوا ، صحافی کا گھر تباہ
    اعظم ورسک میں کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کی ایک نئی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ ایک مقامی صحافی کے گھر کو بارودی مواد سے دھماکے سے اڑا رہے ہیں۔حکام نے ابھی تک جانی نقصان یا محرکات کی تصدیق نہیں کی۔ سیکیورٹی ایجنسیاں ویڈیو کی جانچ کے ساتھ واقعے کی تفتیش کر رہی ہیں۔

    لڑّا کے علاقے ٹانگی میں ایک خفیہ ٹھکانے کے اندر دہشت گردوں کا بارودی مواد اچانک پھٹ جانے سے کئی عسکریت پسند ہلاک ہوگئے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب دہشت گرد بارودی ڈیوائس تیار کر رہے تھے۔ ٹھکانہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے جبکہ سیکیورٹی ادارے ان ہلاکتوں کی تفصیلات اکٹھی کر رہے ہیں۔

    سپین وام میں سیکیورٹی فورسز نے ایک ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران ایک دہشت گرد کو ہلاک کر دیا۔ عسکریت پسند کی شناخت ابتدائی طور پر عمر عرف یاسر کے نام سے ہوئی ہے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق مشتبہ نقل و حرکت پر کارروائی کی گئی تھی، اور مزید تفتیش جاری ہے کہ ہلاک دہشت گرد کن کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔

    ڈنڈی خیل میں دہشت گردوں نے پولیس افسر فرید خان کے گھر پر فائرنگ کی۔ افسر نے فوری طور پر سوشل میڈیا اور پولیس حکام کو الرٹ کیا، جس کے بعد بھاری نفری نے پہنچ کر ان کی جان بچائی۔علاقہ گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

    دتا خیل کے منڈی خیل چیک پوسٹ کے قریب سیکیورٹی فورسز نے ایک کارروائی میں چھ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ذرائع کے مطابق مشتبہ نقل و حرکت دیکھ کر کارروائی کی گئی، جس دوران دہشت گردوں نے فائرنگ کی لیکن فورسز نے بھرپور جواب دیا۔جائے وقوعہ سے اسلحہ بھی برآمد کر لیا گیا ہے اور علاقے میں مزید آپریشن جاری ہے۔

    تیراہ وادی میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے چھ مزید دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔
    فورسز نے علاقے میں کارروائیاں تیز کر دی ہیں تاکہ دہشت گرد عناصر کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔

    ہنگو میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر ڈی سی آفس میں ایک گرینڈ پیس جرگہ منعقد ہوا جس کی صدارت ڈپٹی کمشنر گوہر زمان وزیر نے کی۔جرگہ میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام یونین کونسلز میں مستقل امن کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی جو سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر امن کو یقینی بنائیں گی۔شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ امن دشمن عناصر کے خلاف سخت اور غیر جانبدارانہ کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔

    سرنگی کے علاقے میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے پولیس افسر طارق شہید ہوگئے۔ وہ ڈیوٹی پر جا رہے تھے کہ اچانک مسلح افراد نے حملہ کر دیا۔علاقہ سیل کر کے آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

  • بلوچستان میں تعلیمی نصاب میں تبدیلیوں کا فیصلہ

    بلوچستان میں تعلیمی نصاب میں تبدیلیوں کا فیصلہ

    کوئٹہ: بلوچستان کے محکمہ تعلیم نے نئے تعلیمی سال کے لیے نصاب میں اہم اور وسیع تبدیلیاں متعارف کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

    سرکاری اعلامیے کے مطابق یہ تبدیلیاں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے، جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور مذہبی و سماجی تربیت کو مضبوط بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔محکمہ تعلیم کے مطابق سالِ نو کے نصاب میں جماعت اول سے بارہویں جماعت تک ناظرہ قرآنِ مجید اور ترجمہ قرآنِ مجید کو باقاعدہ طور پر نصاب کا لازمی حصہ بنایا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد بچوں میں ابتدا ہی سے قرآن فہمی، دینی شعور اور اخلاقی تعلیمات کے فروغ کو یقینی بنانا ہے،اسی طرح چھٹی سے آٹھویں جماعت کے طلبہ کے لیے کمپیوٹر ایجوکیشن کی نئی کتابیں متعارف کرائی جائیں گی جن میں بنیادی آئی ٹی مہارتوں کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کے بارے میں آگاہی بھی شامل ہوگی۔ محکمہ تعلیم کے مطابق جدید دور میں ٹیکنالوجی کی سمجھ بوجھ ضروری ہے، لہٰذا طلبہ کو ابتدائی سطح پر ہی کمپیوٹر مہارتوں سے روشناس کرانا ناگزیر ہو چکا ہے۔

    مزید برآں، سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کو مدنظر رکھتے ہوئے چھٹی سے بارہویں جماعت تک "سوشل میڈیا کے مثبت اور ذمہ دارانہ استعمال” کے عنوان سے علیحدہ نصابی کتب بھی تیار کی گئی ہیں۔ ان کتابوں میں طلبہ کو آن لائن خطرات، سائبر بُلیئنگ، ڈیجیٹل سکیورٹی، معلومات کی تصدیق، اور سوشل میڈیا کے اخلاقی استعمال کے بارے میں رہنمائی فراہم کی جائے گی،محکمہ تعلیم کے حکام کا کہنا ہے کہ نصاب میں یہ تبدیلیاں آئندہ تعلیمی سال کے آغاز سے نافذ العمل ہوں گی، جبکہ اساتذہ کے لیے تربیتی ورکشاپس بھی منعقد کی جائیں گی تاکہ وہ نئی کتب اور موضوعات کو مؤثر انداز میں پڑھا سکیں۔

    تعلیمی ماہرین نے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تبدیلیاں نہ صرف طلبہ کو مذہبی و سماجی طور پر مضبوط بنائیں گی بلکہ انہیں ڈیجیٹل دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں بھی اہم کردار ادا کریں گی۔

  • سندھ انجینئرنگ لمیٹڈ  اور یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن  نجکاری پروگرام سے خارج

    سندھ انجینئرنگ لمیٹڈ اور یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن نجکاری پروگرام سے خارج

    نجکاری کمیشن بورڈ نے آج وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری اور چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی کی صدارت میں منعقدہ اپنے 243ویں اجلاس میں قومی نجکاری پروگرام میں اہم ردوبدل کی تجویز پیش کی ہے۔

    بورڈ نے بورڈ کی سرمایہ کاری کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پرتین سرکاری اداروں کو فعال نجکاری پروگرام میں شامل کرنے کی سفارش کی اور دو سرکاری اداروں کو ڈی لسٹ کرنے کا مشورہ دیا۔ نجکاری کمیشن کی سرمایہ کاری کمیٹی نے نجکاری پروگرام میں شامل کرنے کے لیے متعلقہ وزارتوں کے ذریعے کمیشن کو بھیجے گئے 15 SOEs کا تفصیلی جائزہ لیا۔ سرمایہ کاری کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر، پی سی بورڈ نے سیندک میٹلز لمیٹڈ (SML)، پاکستان منرلز ڈیولپمنٹ کارپوریشن (PMDC) اور نیشنل انشورنس کمپنی لمیٹڈ (NICL) کو نجکاری پروگرام میں شامل کرنے کی منظوری دے دی۔ باقی 12 SOEs کو سرمایہ کاری کمیٹی کے ذریعے نجکاری کے لیے قابل عمل نہیں پایا گیا اور اس لیے انہیں بورڈ کی جانب سے نجکاری پروگرام میں شامل کرنے کی منظوری نہیں دی گئی۔

    بورڈ نے سندھ انجینئرنگ لمیٹڈ (SEL) اور یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن (USC) کو نجکاری پروگرام سے خارج کرنے کی بھی سفارش کی۔ سندھ انجنیئرنگ لمیٹڈ 2007-2008 سے غیر فعال ہے، اور اس کے واحد ٹھوس اثاثوں میں قانونی چارہ جوئی کے زیر اثر زمین شامل ہے۔ یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کے معاملے میں، حکومتی فیصلے کے بعد آپریشنز پہلے ہی بند ہو چکے ہیں، اور کارپوریشن کی واجبات اس کے اثاثوں سے کافی حد تک بڑھ گئی ہیں۔

    اپنے نقطہ نظر کی توثیق کرتے ہوئے، پی سی بورڈ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ نجکاری پروگرام حکومت کے وسیع تر SOE اصلاحات اور مالیاتی استحکام کے فریم ورک کی حدود میں رہے گا، جس میں شفافیت، مارکیٹ کی فزیبلٹی، اور عوامی مفاد کے تحفظ کے فیصلوں کے رہنما ہوں گے ۔ بورڈ نے اس بات پر زور دیا کہ نجکاری کے لیے صرف وہی ادارے جو قابل عمل ہونے اور لین دین کی موزونیت کے معیار پر پورا اترتے ہوں شامل ہوں گے، جبکہ انتظامی وزارتیں نجکاری کے لیے قابل عمل نہ پائے جانے والے SOEs کے لیے متبادل آپشنز بشمول لیکویڈیشن پر غور کر سکتی ہیں۔ یہ ترجیح اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ ادارہ جاتی وسائل کو ان لین دین کے لیے بروےکار لایا جائے جو قابل اعتبار، قابل عمل، اور قومی اقتصادی مقاصد کے ساتھ منسلک ہوں۔

  • پارلیمنٹ کا دفاع کرنا میری ذمے داریوں میں شامل ہے،ایاز صادق

    پارلیمنٹ کا دفاع کرنا میری ذمے داریوں میں شامل ہے،ایاز صادق

    اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ ریاست اور پالیمان کے خلاف باتیں کرنا غیر مناسب ہے۔

    قومی اسمبلی میں دیے گئے بیان میں اسپیکر ایاز صادق نے کہا کہ گزشتہ روز اس ہاؤس کے ایک رکن نے ایسی بات کی، جس کا تذکرہ کرنا ضروری ہے،پہلے اپوزیشن لابی میں یہ کہا گیا کہ ہم اسپیکر چیئر تک جائیں گے، پھر کہا گیا کہ ہم پبلک کو استعمال کرکے قومی اسمبلی اور سینیٹ نہیں چلنے دیں گے،2014ء میں بھی ہم نے اس کا مقابلہ کیا تھا، اب بھی تیار ہیں، پارلیمنٹ کا دفاع کرنا میری ذمے داریوں میں شامل ہے۔ ریاست اور پارلیمان کے خلاف باتیں کرنا غیرمناسب ہے، ہم سب مل کر اس طرح کے معاملات کو روکیں گے، 2014 میں جب پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جاری تھا تو مجھے ایک چٹ موصول ہوئی تھی جس میں تنبیہ کی گئی تھی کہ اگر اراکین ایوان سے باہر نہ گئے تو کزن برادر حملہ آور اندر آ کر خدانخواستہ جانی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔اسپیکر نے کہا کہ میں اُس وقت بھی اسی کرسی پر بیٹھا تھا اور ہم سب نے اجتماعی طور پر فیصلہ کیا تھا کہ ہم ایوان سے نہیں جائیں گے۔ آج بھی ہم اسی عزم، حوصلے اور استقامت کے ساتھ یہاں موجود ہیں، تاکہ پارلیمنٹ کے تقدس، بالادستی اور جمہوری عمل کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جا سکے۔

    اجلاس کے دوران بیرسٹر گوہر نے کہا کہ محمود خان اچکزئی جناب اسپیکر اِس وقت آپ کے سامنے ایک اپوزیشن لیڈر کی حیثیت رکھتے ہیں،اسپیکر ایاز صادق نے کہا کہ میری نظر میں نہیں ہیں،جس پر اپوزیشن نے’’شیم شیم‘‘ کے نعرے لگائے.