Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • مسلمانوں کے خلاف نفرت و تشدد، جابر مودی کا آزمودہ انتخابی ہتھیار

    مسلمانوں کے خلاف نفرت و تشدد، جابر مودی کا آزمودہ انتخابی ہتھیار

    مسلمانوں کے خلاف نفرت و تشدد، جابر مودی کا آزمودہ انتخابی ہتھیاربن چکا ہے

    ظالم مودی نے مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد کو اپنے سیاسی فائدے کا ہتھیار بنا لیا ، مودی کی انتخابی فائدے کیلئے مسلمانوں کیخلاف کارروائیاں کرنے والے ہندو غنڈوں کی پشت پناہی جاری ہے،الیکشن کے دوران انتہا پسند آر ایس ایس کیساتھ ملکر مسلمانوں کیخلاف نفرت اور پر تشدد کارروائیوں میں اضافہ کرنا بی جے پی کا وطیرہ ہے،گودی میڈیا مسلمانوں کو مجرم اور ملک دشمن بنا کر پیش کرتا ہے

    الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ؛ بی جے پی حکومت والی ریاستوں میں الیکشن کے دوران مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر میں اضافہ ہوتا ہے، سوشل میڈیا پر مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانیہ تیزی سے پھیلایا جاتا ہے ،بھارتی میڈیا مسلمانوں کے قتل، گھروں پر حملوں ،دکانوں کو نذر آتش کرنے کو معمول کی کارروائی تصور کرتا ہے،ہندو انتہا پسند مسلمانوں کے خلاف پر تشدد کارروایئوں پر جشن مناتے ہیں، مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم اور تشدد کو رپورٹ کر نے والے صحافیوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے،

    عالمی جریدے رائٹرز کے مطابق ؛ 2023 میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزتقاریر کے 668 اور 2024 میں 1,165 واقعات ریکارڈ کئے گئے،بھارتی ویب سائٹ دی کوئنٹ کے مطابقَ رواں سال اپریل سے مئی کے دوران مسلمانوں کے خلاف ملک گیر سطح پر کم از کم 184 نفرت آمیز جرائم رپورٹ ہوئے، انتہا پسند مودی کے دور میں مسلمانوں کے خلاف تشدد، نفرت اور ہراسانی معمول بن چکا ہے،مسلمان دشمنی کی آگ بھڑکا کر انتہا پسند ہندوؤں کی حمایت حاصل کرنا مودی کی پستی اور سیاسی مکاری کا ثبوت ہے

  • پاک افغان سیز فائر سے متعلق وزیر دفاع خواجہ آصف کا افغان طالبان کو دو ٹوک پیغام

    پاک افغان سیز فائر سے متعلق وزیر دفاع خواجہ آصف کا افغان طالبان کو دو ٹوک پیغام

    افغان دراندازی کے جواب میں پاک فوج کی بھرپور جوابی کارروائی کے بعد طالبان کی درخواست پر سیز فائر کیا گیا

    پاک افغان سیز فائر سے متعلق دورانیہ پر وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا دو ٹوک بیان سامنے آ گیا ،وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا کہنا تھا کہ یہ بہت واضح طور پر بیان کیا گیا تھا کہ کوئی دراندازی نہیں ہوگی، ٹی ٹی پی کو ان کی سرزمین پر کوئی سہولت فراہم نہیں کی جائے گی،ہم بار بار یہ بات دہراتے رہے اور ظاہر ہے کہ وہ (افغانستان) اس بات سے انکار کرتے ہیں،ترکیہ اور قطر نے زور دیا کہ بنیادی تنازع یہ ہے کہ آپ (افغانستان) کی سرزمین یا سرپرستی ٹی ٹی پی کو پاکستان میں کارروائی کیلئے دستیاب ہے،ہم نے انہیں (افغانستان کو) بتایا کہ سب کچھ صرف ایک شق پر منحصر ہے، اس (سیز فائر) کے لیے کوئی وقت کی حد مقرر نہیں کی گئی، کوئی وقت مقرر نہیں تھا کہ ہم فلاں تاریخ تک دیکھیں گے اور پھر (سیز فائر) معاہدے کی توسیع کریں گے،جب تک نافذ العمل معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہوتی ہمارے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ موجود ہے،

  • پاکستان میں پولیو کا ایک اور کیس سامنے آ گیا

    پاکستان میں پولیو کا ایک اور کیس سامنے آ گیا

    پاکستان میں پولیو وائرس کے نئے کیس کی تصدیق ہوگئی ہے، جس کے بعد رواں سال ملک بھر میں پولیو کیسز کی مجموعی تعداد 30 تک پہنچ گئی ہے۔

    وزارت صحت کے ذرائع کے مطابق پولیو سے متاثرہ بچہ خیبر پختونخوا کے ضلع تورغر کی تحصیل کندار کا رہائشی ہے، جس کی عمر صرف 12 ماہ ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بچے میں پولیو کی علامات 19 ستمبر 2025 کو ظاہر ہوئیں، جس کے بعد نمونے لیبارٹری بھیجے گئے اور تصدیق ہوئی کہ بچہ پولیو وائرس سے متاثر ہے۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں اس سال پولیو کا یہ 19 واں کیس ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ یہ وائرس اب بھی بعض علاقوں میں موجود ہے اور بچوں کو متاثر کر رہا ہے۔

    صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورت حال انتہائی تشویش ناک ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں پولیو وائرس اب تک مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکا۔ حکام کی جانب سے حفاظتی اقدامات تیز کرنے اور پولیو ویکسینیشن مہم کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔یاد رہے کہ پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے ہر سال متعدد قومی و علاقائی مہمات چلائی جاتی ہیں، تاہم سکیورٹی خدشات، والدین کی مزاحمت اور پسماندہ علاقوں تک رسائی میں مشکلات کی وجہ سے یہ مہمات کئی بار متاثر ہوتی رہی ہیں۔

    وزارت صحت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پولیو ٹیموں سے بھرپور تعاون کریں اور اپنے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو ہر مہم کے دوران پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں تاکہ آنے والی نسلوں کو اس موذی مرض سے محفوظ بنایا جا سکے۔

  • دہشت گردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں،12 ہلاک

    دہشت گردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں،12 ہلاک

    شہر قائد کے علاقے نارتھ کراچی میں واقع ناگن چورنگی کے قریب اہلسنت والجماعت کے دو کارکنوں کو نامعلوم موٹر سائیکل سوار افراد نے فائرنگ کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا۔ پولیس کے مطابق حملہ ایک ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ تھا، جس کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہو گئے۔ جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، جبکہ واقعے کے محرکات کی تفتیش جاری ہے۔

    سیکیورٹی فورسز نے ضلع باجوڑ میں ایک خفیہ اطلاع پر مبنی کارروائی کے دوران کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے چار دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق کارروائی مخصوص انٹیلیجنس اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی، جس کے دوران دہشت گردوں سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور چاروں دہشت گرد مارے گئے۔ کالعدم تنظیم کے ذرائع نے بھی اپنے کارکنوں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے تک آپریشن جاری رہیں گے۔

    ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے میں سیکیورٹی فورسز نے ایک اور انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران پانچ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق علاقے میں مزید دہشت گردوں کی موجودگی کے پیش نظر سرچ آپریشن جاری ہے۔ سیکیورٹی اداروں نے واضح کیا کہ امن و امان کی بحالی کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جا رہا ہے۔

    پولیس نے بکا خیل تھانے پر دہشت گرد حملے کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔ پولیس کے مطابق دہشت گردوں کی نقل و حرکت تھرمل کیمروں کے ذریعے دیکھی گئی، جس کے بعد فوری کارروائی کی گئی اور حملہ آور پسپا ہو گئے۔ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    ڈیرہ اسماعیل خان کے نواحی علاقے کوٹ لالو میں دہشت گردوں کے حملے کے نتیجے میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کے چار جوان شہید جبکہ 11 زخمی ہو گئے۔ دہشت گردوں نے ایس این جی پی ایل انسٹالیشن کی حفاظت پر مامور اہلکاروں پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ سیکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کی، جبکہ زخمیوں کو سی ایم ایچ ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کیا گیا۔ کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ حملہ آور تاریکی کا فائدہ اٹھا کر فرار ہو گئے۔ سیکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    خیبر کے علاقے طورخم میں نیشنل لاجسٹک سیل (NLC) کی جانب سے امپورٹ و ایکسپورٹ اسکینرز دوبارہ نصب کر دیے گئے ہیں جبکہ صفائی کا کام بھی جاری ہے۔ تاہم، سرکاری سطح پر بارڈر کھولنے سے متعلق کوئی باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔ فی الحال تجارتی اور مسافر آمدورفت معطل ہے۔

    پولیو مہم کی ڈیوٹی کے بعد گھر واپس جانے والے دو پولیس اہلکاروں کو بنوں کے علاقے پیپل بازار کے قریب اغوا کر لیا گیا۔ مغویوں کی شناخت ناہید اللہ اور عید محمد کے نام سے ہوئی ہے۔ پولیس نے واقعے کے بعد فوری سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے اور اغواکاروں کی تلاش جاری ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مغوی اہلکاروں کی بازیابی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

    ضلع خضدار کے علاقے زہری میں سیکیورٹی فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کے خلاف ایک انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کیا، جس کے دوران تین دہشت گرد مارے گئے۔ کارروائی کے بعد علاقے میں مزید دہشت گردوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔ حکام نے کہا کہ بلوچستان میں امن کے قیام کے لیے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

    بلوچستان کے ضلع چمن کے علاقے اسپن بولدک میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان بارڈر کراسنگ کو تجارت کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ مقامی ذرائع نے تصدیق کی کہ اب نہ صرف افغان مہاجرین کی واپسی بلکہ تجارتی سرگرمیوں کی بھی اجازت دی جا چکی ہے۔ دونوں ممالک کے حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔

    کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ (BLF) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے مند کے علاقے میں سیکورٹی فورسز کی گاڑی کو نشانہ بنایا ہے۔ تنظیم کے مطابق حملہ مہر اور راڈیگ کے درمیان ہوا، تاہم حکام کی جانب سے اس دعوے کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

  • گھوٹکی،وکیل کی بیٹی کے اغوا کا مقدمہ پی پی رہنما کیخلاف درج

    گھوٹکی،وکیل کی بیٹی کے اغوا کا مقدمہ پی پی رہنما کیخلاف درج

    گھوٹکی میں وکیل کی بیٹی کے اغوا کا مقدمہ پیپلز پارٹی رہنما شہریار شر، ان کے بیٹے جہانگیر شر اور دیگر کیخلاف درج کرلیا گیا۔

    پولیس کے مطابق مقدمہ مغوی لڑکی کے والدکی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ مقدمے کےمتن میں کہا گیا کہ اس کی بیٹی کو سردار شہریار شر اور دیگر نے گھر سے اغوا کیا،مدعی کا کہنا ہے کہ ملزمان ان کی قانون کی طالبہ بیٹی کو ہراساں کرتے تھے اور شہریار شر کے خلاف ایک مقدمے میں وکیل مقرر ہونے پر دھمکیاں بھی دیتے رہے۔

    دوسر جانب رہنما پیپلز پارٹی شہریار خان کا کہنا ہے کہ وہ وکیل عبیداللّٰہ کی بیٹی کے اغوا کی مذمت کرتے ہیں، کسی کرمنل یا ڈاکوؤں سے کوئی واسطہ نہیں،یاد رہے کہ مغویہ کے والد نے دیگر وکلا کے ہمراہ ملزمان کی گرفتاری اور بیٹی کی بازیابی کے لیے قومی شاہراہ پر احتجاجی دھرنا بھی دیا تھا ۔

  • پی سی بی میں مصباح الحق کو اہم ذمہ داری ملنے کا امکان

    پی سی بی میں مصباح الحق کو اہم ذمہ داری ملنے کا امکان

    پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے سابق کپتان مصباح الحق کو اہم ذمہ داری دیے جانے کا امکان ہے۔

    ذرائع کے مطابق پی سی بی نےچند دن قبل ڈائریکٹرکرکٹ آپریشنز انٹرنیشنل کے لیے اشتہار دیا تھا اور اب بورڈ کی جانب سے مصباح الحق کی اس عہدے پر تقرری کا امکان ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع کا بتانا ہے کہ اشتہار میں اہلیت کیلئے پہلی مرتبہ سابق ٹیسٹ کرکٹر یا ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹرکی شرط رکھی گئی ہے،واضح رہے کہ پی سی بی نے ایشیا کپ میں پاک بھارت تنازع میں صورتحال سے صحیح طریقے سے نہ نمٹنے پر ڈائریکٹرکرکٹ آپریشنز انٹرنیشنل عثمان واہلہ کو معطل کیا تھا تاہم بعد میں انہیں بحال کردیا گیا تھا۔

  • علی امین گنڈا پور کو گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم

    علی امین گنڈا پور کو گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم

    اسلام آباد کی عدالت نے سابق وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس میں جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسن نے سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کے خلاف شراب و اسلحہ برآمدگی کیس کی سماعت کی،کیس کال ہونے کے باوجود علی امین گنڈا پور آج عدالت میں پیش نہیں ہوئے جس پر عدالت نے مسلسل غیرحاضری پر ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے،جوڈیشل مجسٹریٹ نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ علی امین گنڈا پور کو گرفتار کرکے آئندہ سماعت پر پیش کیا جائے،کیس کی اگلی سماعت 28 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی۔

    واضح رہے کہ علی امین گنڈاپور کے خلاف شراب و اسلحہ برآمدگی کا مقدمہ اسلام آباد کے تھانہ بارہ کہو میں درج ہے۔

  • افغان طالبان کے خلاف حالیہ جنگ اسلامی تعلیمات کے تناظر میں

    افغان طالبان کے خلاف حالیہ جنگ اسلامی تعلیمات کے تناظر میں

    شرعی اور دنیاوی لحاظ سے اپنے جان و مال اور عزت کی حفاظت کرنا انفرادی اور اجتماعی حق نہیں ہے؟

    یقینا ہے!! کیونکہ صحیح مسلم کے حدیث نمبر ۱۴۰ میں امام مسلم روایت کرتے ہیں کہ ” ایک شخص نے رسول الله علی علیم سے پوچھا: یارسول اللہ ! اگر کوئی میرے مال کو چھیننے کے لیے آئے تو کیا کروں؟ حضور نے فرمایا: اسے اپنا مال نہ دو۔ اس نے کہا: اگر وہ مجھ سے لڑے؟

    فرمایا: اس سے لڑو۔ اس نے کہا: اگر وہ مجھے قتل کر دے؟ فرمایا: تم شہید ہو۔ اس نے کہا: اگر میں اسے قتل کر دوں ؟ فرمایا: وہ جہنمی ہے "۔

    جب اللہ کے نبی نے اپنے مال کی حفاظت کے لیے اتنا واضح اور سخت معیار دے دیا کہ اگر کوئی تمہارے مال پر حملہ کرے تو اس سے لڑو، اور فرمایا کہ اگر تم مارے گئے تو شہید ہو ، اور اگر وہ مارا گیا تو وہ دوزخی ہے۔

    لہذا وہ افغان طالبان جو پاکستان میں دہشتگرد بھیج رہے ہیں، جو ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کو شہید کر چکے ہیں، اور کروڑوں روپے کا نقصان کرواچکے ہیں ،ان کے خلاف پاکستان کا اپنے دفاع میں کارروائی کرنا عین شریعت کے مطابق ہے، بلکہ پاکستان پر ایک ریاستی فرض ہے۔

    کیا پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں افغانستان کی سرزمین کا استعمال اور سر پرستی نظر انداز کی جاسکتی ہے ؟
    جواب یقینا نفی میں ہے کیونکہ مشہور اور مستند محدث امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ "جو گروہ خوارج کی حمایت کرے ، انہیں اسلحہ یا مال فراہم کمرے ، یا ان کے لیے اپنے دل میں نرم گوشہ رکھے ، وہ بھی خوارج کے زمرے میں آتا ہے ” (فتح الباری، باب، قتل الخوارج والملحدين بعد إقامة الحجة عليهم ) ۔

    افغان طالبان ٹی ٹی پی کو اسلحہ اور دیگر سہولتیں فراہم کر رہے ہیں اور اُن کے ذریعے پاکستان میں وحشیانہ دہشتگردی کروائی کی جارہی ہے۔

    ایسے حالات میں پاکستان کا ان کے خلاف کارروائی کرنا شرعی طور پر جائز ہے ، بلکہ اپنے دفاع کے اعتبار سے لازم ہے ، تاکہ خوارج کے ذریعے ہونے والا فساد و قتل و غارت روکا جاسکے اور پاکستانی عوام کی جان و مال محفوظ بنائی جا سکے۔

  • پاکستان امن ، ہم آہنگی اور برداشت کی سرزمین ہے، وزیر اعظم

    پاکستان امن ، ہم آہنگی اور برداشت کی سرزمین ہے، وزیر اعظم

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان میں اقلیتوں کے قابل فخر کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان امن ، ہم آہنگی اور برداشت کی سرزمین ہے، یہاں نفرت ، فتنہ فساد ،انتشار اور دہشت گردی کیلئے کوئی گنجائش نہیں ، اقلیتوں کو مذہبی آزادی حاصل ہے اور حکومت نے ان کیلئے خصوصی اقدامات کیے ہیں ۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو وزیراعظم ہاؤس میں دیوالی کے تہوار پر منعقدہ خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر وفاقی وزراء ، اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی اور مختلف اقلیتی برادریوں کے سرکردہ زعماء موجود تھے۔ وزیر اعظم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہندو برادری کو دیوالی کی مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آج یہاں اقلیتوں اور اکثریت کے مذہبی ، سیاسی نمائندوں کی موجودگی تصور پاکستان کی عملی تصویر ہے، بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے 11 اگست کی تقریر میں اعلان کیا تھا کہ تمام مذاہب کے ماننے والے پاکستان میں اپنی عبادت گاہوں میں کسی خوف اور ڈر کے بغیر اپنی عبادت اور رسومات ادا کرسکتے ہیں ، انہیں مذہبی آزادی حاصل ہے ، قیام پاکستان سے دفاع پاکستان تک ہر محاذ پر اقلیتی برادریوں نے جس طرح قابل فخر کردار ادا کیا ہے اس پر ہمیں ناز ہے ۔ آج کا دن اس حقیقت کو مزید نمایاں کرتا ہے کہ مسلم اور غیر مسلم پاکستانی مل کر وطن عزیز کیخلاف ہونے والی کسی بھی شر انگیزی اور حملے کا مقابلہ کرتے ہیں اور اقلیتوں کیساتھ کسی بھی نا انصافی کے قابل افسوس اور قابل مذمت واقعات کو پاکستان کی اکثریت نے کبھی بھی پسند نہیں کیا اور ہمیشہ اس کی مذمت کی ہے ۔ وزیر اعظم نے تعلیم، صحت سمیت تمام شعبوں میں اقلیتوں کی گراں قدر خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں میں ان کی نمائندگی موجود ہے ، مسلم لیگ ن کی حکومت میں کھیئل داس کوہستانی وزیر مملکت ہیں، ہندو مسیحی برادری کے ممبران سینیٹ اسمبلیوں میں موجود ہیں۔

    وزیر اعظم نے اقلیتوں کیلئے حکومتی اقدامات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی کابینہ کی جانب سے بین المذاہب ہم آہنگی پالیسی کی منظوری دی جا چکی ہے ، حکومت کی دوسری بڑی کامیابی قومی اقلیتی کمیشن بل کی سینیٹ و اسمبلی سے منظوری ہے تاکہ کمیشن کو قانونی طور پر مضبوط کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے طلباء کو پرائمری سے یونیورسٹی کی اعلیٰ تعلیم تک وظائف دیئے جا رہے ہیں ، وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے تحت مختلف پروگراموں میں بھی ان کو شامل کیا گیا ہے ، میرٹ کے علاوہ ان کیلئے سرکاری ملازمتوں میں پانچ فیصد کوٹہ مختص ہے، ان کے مذہبی تہواروں پر انہیں تعطیلات دی جاتی ہیں ۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اجالوں، امن، ہم آہنگی اور برداشت و تحمل کی سرزمین ہے، یہاں نفرت ، فتنہ فساد، انتشار اور دہشت گردی کیلئے کوئی جگہ نہیں ، پوری قوم دہشت گردی کے اندھیروں اور نفرت کی تاریکی کو مٹانے کی جدوجہد میں اپنی بہادر مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ہندو برادری کے ہمراہ دیوالی کا کیک بھی کاٹا۔ وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں دیوالی کے موقع پر تقریب کے انعقاد پر ہندو برادری نے شکریہ ادا کیا۔

    قبل ازیں وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ آج دیوالی کا پروگرام پرامن پاکستان کا پیغام دیتا ہے، پاکستان ایک امن پسند خطہ ہے۔ وزیر مملکت کھیئل داس کوہستانی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محمد نواز شریف نے 2015ء میں بطور وزیر اعظم دیوالی کا تہوار سرکاری سطح پر منایا، رواں سال سرکاری سطح پر وزیراعظم ہاؤس میں دیوالی کے پروگرام کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن نے ہمارے مدرسوں پر حملے کئے لیکن پاک فوج نے جوابی کارروائی میں کسی مذہبی مقام یا سول آبادی پر حملہ نہیں کیا، پاکستان میں اقلیتوں کو تمام آئینی حقوق اور مذہبی آزادی حاصل ہے ، بھارت میں تمام اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افواج نے مودی کا تکبر خاک میں ملا دیا۔

  • مرکزی مسلم لیگ کی ورکرز کنونشن کی تیاریاں جاری،تنظیمی اجلاس

    مرکزی مسلم لیگ کی ورکرز کنونشن کی تیاریاں جاری،تنظیمی اجلاس

    مرکزی مسلم لیگ کے تحت 2 نومبر کو مینارِ پاکستان پر منعقد ہونے والے ورکرز کنونشن کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ لاہور، اسلام آباد، سرگودھا، ننکانہ، بدین، خوشاب، ملتان، فیصل آباد،بہاولپور اور دیگر شہروں میں تنظیمی اجلاس منعقد ہوئے ،

    مینار پاکستان ورکرز کنونشن کی تیاریوں کے سلسلہ میں منعقدہ اجلاسوں سے خطاب کرتے ہوئےمرکزی مسلم لیگ کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ دو نومبر کو مینار پاکستان ورکرز کنونشن نظریہ پاکستان کے تحفظ، نوجوانوں کی رہنمائی اور دہشت گردی کے خلاف اتحاد کا عملی مظہر ہوگا، قاری یعقوب شیخ نے لاہور،حافظ مسعود کمال،محمد سرور چوہدری نے سرگودھا،خوشاب، فیصل ندیم نے بدین،حمید الحسن نے ننکانہ،عمران لیاقت بھٹی نے بہاولپور،انعام الرحمان نے اسلام آباد ،محمد احسن تارڑ نے فیصل آباد و دیگر قائدین نے ورکرز کنونشن کی کامیابی کے لئے کارکنان کو منظم مہم چلانے کی ہدایت کی،مرکزی مسلم لیگ کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ مینار پاکستان ورکرز کنونشن نظریہ پاکستان کے تحفظ کیلئے معاون ثابت ہو گا،امت مسلمہ کو ایک قوم اور ایک ملت بن کر کھڑا ہونا ہو گا،دہشتگردی کے خلاف جنگ اور دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے مرکزی مسلم لیگ متحرک ہے،بے روزگاری کے خاتمے کے لئے نوجوانوں کو ہنر مند بنائیں گے،ورکرز کنونشن میں لاکھوں کارکنان شریک ہو کر خدمت کی سیاست کے عزم کو اجاگر کریں گے