Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ، افغان طالبان رجیم  پوری دنیا کے امن کیلئے سنگین خطرہ

    وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ، افغان طالبان رجیم پوری دنیا کے امن کیلئے سنگین خطرہ

    واشنگٹن میں فائرنگ کا واقعہ ایک بڑے عالمی پیٹرن کا حصہ دکھائی دیتاہےجہاں افغان نژاد نیٹ ورکس دوبارہ سرگرم ہو رہے ہیں

    افغان نیٹ ورکس یورپ اور شمالی امریکہ تک پھیل چکے ہیں جو کہ افغانستان کا عدم استحکام اب وہاں پھیلانے کا سبب بن سکتے ہیں ،افغان طالبان رجیم صرف افغانستان کے لئے نہیں بلکہ پورے دنیا کی سیکیورٹی کیلئے سنگین خطرہ بن چکی ہے،وائٹ ہاؤس کے قریب رحمان اللہ لاکانوال نے نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر فائرنگ کر کے شدید زخمی کر دیا،ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق رحمان اللہ 2021 میں آپریشن الائیز ویلکم کے تحت امریکہ آیا تھا،سی این این کے مطابق اس مشتبہ شخص نے 2024 میں پناہ کی درخواست دی تھی، جو اپریل 2025 میں ٹرمپ انتظامیہ نے منظور کر لی،

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعے کو دہشت گردی قرار دیا ہے ،امریکی میڈیا کے مطابق؛ امریکا نے افغان شہریوں کی امیگریشن کی تمام درخواستیں غیر معینہ مدت کے لیے روک دیں ہیں،یورپی یونین انسٹی ٹیوٹ آف سیکیورٹیز اسٹیڈیز کی رپورٹ کے مطابق افغان طالبان رجیم نے ملک میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے اراکین کو افغان پاسپورٹ جاری کئے،یورپی یونین انسٹی ٹیوٹ آف سیکیورٹیز اسٹیڈیز کے مطابق افغان طالبان رجیم کے دہشتگرد گروہوں سے بڑھتے تعلقات داخلی استحکام اور پڑوسی ممالک کیلئے سنگین خطرہ بن چکے ہیں،

    اقوام متحدہ ، سلامتی کونسل کی رپورٹ کے مطابق؛افغان طالبان رجیم کا دہشت گرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنا خطے کی سلامتی کے لیے شدید خطرہ ہے

    پاکستان سمیت دنیا کے دیگر ممالک پہلے ہی افغان طالبان رجیم کی دہشتگردوں کیلئے پشت پناہی پر خدشات ظاہر کرچکے ہیں،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ڈنمارک اور روس نے فتنہ الخوارج کے مذموم عزائم سے عالمی برادری کو خبردار کر دیا ہے،پاکستان بارہا یہ کہ چکا ہے کہ افغانستان میں تمام دہشتگرد تنظیمیں پنپ رہی ہیں،ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی اپنی پریس بریفنگ میں بارہا کہہ ہے کہ امریکی ساکھ کے ہتھیار اور اسلحہ کھلے عام فروخت ہو رہا ہے، افغانستان میں ایک وار اکانومی جنم لے چکی ہے جس کو افغان طالبان کی سرپرستی حاصل ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

    سی این این کی رپورٹ کے مطابق،امریکی فوج نے افغانستان سے انخلاء کے وقت تقریباً 7 ارب ڈالر مالیت کا امریکی فوجی سامان چھوڑا،امریکی انخلاء کے بعد ہتھیاروں کی افغانستان میں موجودگی بھی بہت بڑادہشتگردی کا محرک ہے،ہتھیار بیچے جا چکے ہیں یا دہشتگرد گروہوں کو اسمگل کر دیے گئے ہیں،اقوامِ متحدہ کا ماننا ہے کہ ان میں سے کچھ ہتھیار القاعدہ کے اتحادی گروہوں کے ہاتھوں میں بھی پہنچ چکے ہیں،

  • پاکستان کی علمی میدان میں بڑی فتح، بھارت بھاگ گیا

    پاکستان کی علمی میدان میں بڑی فتح، بھارت بھاگ گیا

    پاکستان کی علمی میدان میں بڑی فتح، آکسفورڈ یونین کے تصدیق شدہ مباحثے سے جنرل ایم ایم نروا نے، ڈاکٹر سبرامنیَم سُوامی اور سچن پائلٹ عین وقت پر دستبردار ہو گئے،

    پاکستان ہائی کمیشن لندن کے مطابق بھارتی وفد کی اجتماعی پسپائی کے بعد پاکستان کو آکسفورڈ یونین میں بلامقابلہ فتح ملی، آکسفورڈ یونین کے تصدیق شدہ مباحثے سے بھارتی وفد عین وقت پر دستبردارہو گئے، جنرل (ر) زبیر محمود حیات، حنا ربانی کھر سابق وزیر خارجہ اور ڈاکٹر محمد فیصل مباحثے کے لیے لندن موجود، بھارتی وفد حاضری کی ہمت نہ کر سکا، اپنے مصدقہ اسپیکرز کے انکار کے بعد بھارتی جانب سے چند غیر معروف اور کم درجے کے مقررین کی پیشکش کی گئی جو پاکستانی وفد کے معیار کے مطابق نہ تھی، آکسفورڈ یونین میں اعلان شدہ بھارتی پینل کو کم تر متبادل سے بدلنے کی کوشش نے مباحثے کی ساکھ اور توازن کو شدید متاثر کیا، بھارت کے اعلیٰ سطحی مقررین کی دستبرداری اور کم تر متبادل کی پیشکش نے آکسفورڈ یونین اور جامعہ آکسفورڈ دونوں کو سخت خفت سے دوچار کیا، قرارداد یہ تھی کہ بھارت کی پاکستان پالیسی محض عوامی جذبات بھڑکانے کی حکمت عملی ہے، بھارتی مقررین نے اسی بحث سے راہِ فرار اختیار کی،بھارتی وفد کی دستبرداری نے آکسفورڈ یونین جیسے غیرجانبدار فورم پر بھارتی بیانیے کی کمزوری بے نقاب کر دی، بھارتی رہنما ٹی وی چینلز پر شور مچاتے ہیں، مگر علمی مباحثے میں دلیل اور جواب دینے سے گھبراتے ہیں،

    پاکستان ہائی کمیشن لندن کے مطابق آکسفورڈ میں طلبہ کی اکثریت بھارتی ہونے کے باوجود بھارتی وفد نے ووٹ کا سامنا کرنے سے انکار کیا، بھارت کی نام نہاد “سیکورٹی پالیسی” آکسفورڈ یونین میں ممکنہ منطقی سوالات کا وزن نہ اٹھا سکی، بھارتی مقررین نے ممکنہ شرمندگی سے بچنے کے لیے پہلے سے طے شدہ مباحثہ خود ہی سبوتاژ کر دیا، میڈیا پر پاکستان مخالف پراپیگنڈا کرنے والے بھارتی تجزیہ کار جب کھلی بحث کا موقع ملا تو غائب ہو گئے، آکسفورڈ یونین میں بھارتی وفد کی غیرحاضری مئی 2025 کے بعد سے جاری سفارتی و بیانیاتی ناکامیوں کی تازہ کڑی ہے، چرچل نے کہا تھا “گفتگو جنگ سے بہتر ہے”، بھارت آج ثابت کر رہا ہے کہ وہ نہ گفتگو کے لیے تیار ہے نہ جواب دہی کے لیے، پاکستان نے دلیل، مکالمے اور قانونی مؤقف سے بحث جیتنے کی تیاری کی، بھارت نے بحث شروع ہونے سے پہلے ہی ہتھیار ڈال دیے، آکسفورڈ یونین میں بھارتی وفد کی عدم شرکت ان کے اپنے عوام کے سامنے بھی سوالیہ نشان بن گئی ہے، پاکستان نے واضح، مدلل اور پراعتماد مؤقف کی تیاری کر رکھی تھی، جبکہ بھارت نے پسپائی کو ہی حکمت عملی بنایا .

  • بے روزگاری کی بڑھتی ہوئی شرح قومی معیشت کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ،حافظ خالد نیک

    بے روزگاری کی بڑھتی ہوئی شرح قومی معیشت کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ،حافظ خالد نیک

    مرکزی مسلم لیگ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل خالد نیک نے پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کی لیبر فورس سروے میں سامنے آنے والے اعداد و شمار پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں بے روزگاری کی بڑھتی ہوئی شرح قومی معیشت کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے، بے روزگاری کی شرح کا تقریباً 7 فیصد تک پہنچ جانا موجودہ معاشی پالیسیوں کی ناکامی ہے،مرکزی مسلم لیگ بے روزگاری کے خاتمے کیلئے نوجوانوں کوآئی ٹی کی تربیت دے رہی ہے

    حافظ خالد نیک کا کہنا تھا کہ پاکستان کی آبادی کا تقریباً 54 فیصد حصہ 15 سے 59 سال کی عمر کے افراد پر مشتمل ہے، جو کسی بھی ملک کے لیے قیمتی انسانی سرمایے کی علامت سمجھا جاتا ہے، لیکن مجموعی ملکی پیداوار کی سست روی کے باعث یہ نوجوان آبادی روزگار کے مواقع نہ ملنے کی وجہ سے شدید مایوسی کا شکار ہے، صنعتی سرگرمیوں کی کمی، زراعت کے بحران، اور سرمایہ کاری کے جمود نے لاکھوں گھرانوں کو براہ راست متاثر کیا ہے، اور اگر فوری اور جامع معاشی اصلاحات نہ کی گئیں تو بے روزگاری کا یہ بوجھ آئندہ برسوں میں مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے،ضرورت اس امر کی ہے کہ فوری طور پر نوجوانوں کے لیے ہنگامی روزگار پیدا کرنے کا پروگرام شروع کیا جائے، صنعتی و زرعی پیداوار کو بڑھانے کے لیے عملی اصلاحات نافذ کی جائیں، اور انسانی سرمائے کو محفوظ رکھنے کے لیے اسکل ڈویلپمنٹ کے جامع اقدامات کیے جائیں، مرکزی مسلم لیگ نے نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کے لیےاپنا کماؤ ڈیجیٹل پروگرام شروع کر رکھا ہے، نوجوانوں کو ہنر مند بناکر معاشرے کا مفید شہری بنائیں گے

  • مرکزی مسلم لیگ کے لاہور، گوجرانوالہ،قصور،بہاولپور میں انٹرا پارٹی انتخابات،یوسی صدور منتخب

    مرکزی مسلم لیگ کے لاہور، گوجرانوالہ،قصور،بہاولپور میں انٹرا پارٹی انتخابات،یوسی صدور منتخب

    مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام یوسی سطح پر انٹراپارٹی انتخابات کے انعقاد کا سلسلہ جاری ہے،لاہور،گوجرانوالہ،قصور اور بہاولپور میں مختلف یوسیز میں انتخابات ہوئے،لاہور میں یوسی 143 سلامت پورہ میں شکیل حسن،یوسی 112 وارث کالونی میں ڈاکٹر مبین ظفر ، گوجرانوالہ میں وحید احمد بٹ ،قصور میں سردار سلامت سیال،جبکہ بہاولپور میں عبدالمجید یوسی صدور منتخب ہوئے،مرکزی نائب صدر حافظ طلحہ سعید نے لاہور میں انٹراپارٹی انتخابات کےدوران پولنگ سٹیشن کا دورہ کیا اور انتظامات کاجائزہ لیا

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو کی ہدایت پر ملک گیر یوسی سطح پر انٹرا پارٹی انتخابات کے سلسلہ میں لاہور، گوجرانوالہ ،قصوراور بہاولپور میں انتخابات ہوئے،مرکزی مسلم لیگ لاہور کی یونین کونسل 112 (مصطفی ٹاؤن) اور 143 (دروغہ والا) میں صدر کے انتخاب کے لیے انٹرا پارٹی انتخابات ہوئے، یونین کونسل 143 سلامت پورہ میں انٹرا پارٹی انتخاب میں شکیل حسن صدر،اخلاق احمد سنئیر نائب صدر، نعیم بٹ نائب صدر اور وسیم احمد فنانس سیکرٹری منتخب ہوئے، یونین کونسل 112 وارث کالونی سے ڈاکٹر مبین ظفر صدر منتخب ہوئے،مرکزی مسلم لیگ کے نائب صدر حافظ طلحہ سعید نے وارث کالونی کا دورہ کیا اور پولنگ سٹیشن پر ووٹرز سے ملاقات کی، اس موقع پر حافظ طلحہ سعید کا کہنا تھا کہ مرکزی مسلم لیگ بلدیات کو سامنے رکھتے ہوئے انٹرا پارٹی انتخابات یوسی سطح پر کروا رہی ہے، انٹرا پارٹی انتخابات میں ووٹنگ کے لیے عوام کا جوش و خروش دیکھنے کو مل رہا جس سے واضح ہوتا ہےکہ عوام مرکزی مسلم لیگ پر اعتماد کر رہے ہیں،گوجرانوالہ میں وحید احمد بٹ 514 ووٹ لے کر یوسی 8، پی پی 63 کے صدرمنتخب ہو گئے،قصور میں سردار سلامت سیال 989 ووٹ لے کر یوسی صدر ،بہاولپور میں عبد المجید 556 ووٹ لے کر یوسی 7 کےصدر منتخب ہو گئے ،انتخابات جیتنے والے امیدواراوں کو مرکزی مسلم لیگ کی قیادت نے مبارکباد دی ہے.

  • پشاور ،گیس پائپ لائن میں دھماکا دہشتگردی قرار

    پشاور ،گیس پائپ لائن میں دھماکا دہشتگردی قرار

    پشاور کے علاقے حسن خیل میں گزشتہ رات گیس پائپ لائن میں دھماکا دہشتگردی قرار دے دیا گیا۔

    پولیس کے مطابق دھماکا ریمورٹ کنٹرول بارودی مواد پھٹنے سے ہوا، بارودی مواد ڈیڑھ کلو گرام وزنی تھا،پولیس نے پھٹنے والی گیس پائپ لائن کے مقام کا معائنہ کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان ایک آئی ای ڈی پائپ لائن کے ساتھ چھوڑ کر گئے تھے، چھوڑا گیا ڈیڑھ کلو گرام بارودی مواد بھی ناکارہ بنا دیا گیا ۔

    واضح رہے کہ حسن خیل میں گزشتہ رات گیس پائپ لائن پھٹنے کا واقعہ پیش آیا تھا۔ دھماکے سے 24 انچ گیس پائپ لائن میں آگ لگ گئی تھی جس کے باعث کے پی کے مختلف شہروں کو گیس کی فراہمی متاثر ہوئی،صوبہ کے3 اضلاع میں اب بھی گیس کی فراہمی معطل ہے۔

  • بنگلہ دیش کی عدالت نے حسینہ کے بیٹے اوربیٹی کو بھی سنائی سزا

    بنگلہ دیش کی عدالت نے حسینہ کے بیٹے اوربیٹی کو بھی سنائی سزا

    بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے خلاف بدعنوانی کے تین مقدمات میں ڈھاکہ کی خصوصی عدالت نے تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے مجموعی طور پر 21 سال قید کی سزا سنا دی۔یہ فیصلہ پرباچل نیو سٹی پروجیکٹ میں 30 کٹھا سرکاری اراضی کی غیر قانونی الاٹمنٹ کے معاملات سے متعلق ہے

    یہ فیصلہ خصوصی جج-5 محمد عبداللہ المامون نے سنایا، جس کے مطابق شیخ حسینہ کو زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ کے تین الگ معاملات میں ہر مقدمے میں سات، سات سال قید کی سزا دی گئی ہے۔فیصلہ ایسے وقت میں آیا جب حسینہ سنگین الزامات کے باعث ملک سے فرار ہیں.شیخ حسینہ،جو اس وقت بنگلہ دیش چھوڑ کر بھارت میں پناہ لیے ہوئے ہیں ان پر نہ صرف بدعنوانی بلکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے مقدمات بھی چل رہے ہیں۔ ان کے خلاف مذکورہ تینوں مقدمات میں الزام تھا کہ انہوں نے ڈھاکہ کے پورباچل علاقے میں سرکاری اراضی اپنے خاندان کے نام غیر قانونی طور پر الاٹ کرائی۔انہی تین مقدمات میں عدالت نے شیخ حسینہ کے بیٹے صجیب واجد جوئے اور بیٹی صائمہ واجد پُتول کو بھی مجرم قرار دیا ہے۔

    صجیب واجد کو پانچ سال قید اور ایک لاکھ ٹکا جرمانہ،صائمہ واجد کو پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی،عدالت کا کہنا تھا کہ دونوں نے اراضی کی غیر قانونی الاٹمنٹ میں براہ راست فائدہ حاصل کیا۔یہ مقدمات انسدادِ بدعنوانی کمیشن (ACC) کی اس تحقیقات کا حصہ ہیں جو جنوری 2024 میں کھولی گئی تھیں۔ حسینہ خاندان نے ہمیشہ ان مقدمات کو سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔

    ڈھاکہ عدالت کے مطابق شیخ حسینہ کے خلاف مزید تین بدعنوانی کیسز کے فیصلے یکم دسمبر کو سنائے جائیں گے۔ تمام مقدمات میں سزا کی صورت میں مجموعی قید مدت مزید بڑھ سکتی ہے۔قبل ازیں انٹرنیشنل کرائم ٹریبونل (ICT) نے شیخ حسینہ کو جولائی 2024 کی طلبہ تحریک کے دوران مبینہ ریاستی جبر اور تشدد کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں پر انسانیت مخالف جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی تھی۔عدالت کے مطابق اس دوران حکومتی کارروائیوں میں متعدد طلبا اور شہریوں کی جانیں گئیں، جبکہ حسینہ حکومت نے احتجاج دبانے کے لیے طاقت کا "غیر قانونی، غیر انسانی استعمال” کیا۔

    شیخ حسینہ اور ان کا خاندان ملک چھوڑنے کے بعد سے کسی بھی مقدمے میں عدالتوں میں پیش نہیں ہو رہا۔ ان کی قانونی ٹیم بھی غیر فعال ہے، جس کے باعث مقدمات یکطرفہ کارروائی کے طور پر آگے بڑھ رہے ہیں۔

  • وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان کی والدہ چل بسیں

    وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان کی والدہ چل بسیں

    وزیر اعظم پاکستان کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات و خیبر پختونخوا امور اختیار ولی خان کی والدہ وفات پا گئی ہیں۔

    اختیار ولی خان کی والدہ علیل تھیں اور زیر علاج تھیں،ان کی نمازجنازہ آج بروز جمعرات رات 08:00 بجے، نوخار ہاؤس کابل ریور، نوشہرہ میں ادا کی جائے گی۔

    اختیار ولی کی والدہ کی وفات پر وزیراعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، وزیر دفاع خواجہ آصف، احسن اقبال سمیت دیگر ن لیگی رہنماؤں نے افسوس کا اظہار کیا ہے، مرحومہ کے لیے دعائے مغفرت اور لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے

  • وزیراعظم کی بحرین کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت

    وزیراعظم کی بحرین کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت

    وزیراعظم شہبازشریف نے بحرین کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے ہر ممکن سہولیات دینے کا اعلان کیا ہے۔

    بحرین کے دارالحکومت منامہ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بحرین اور پاکستان برادر ملک ہیں، ہماری اسٹریٹیجک شراکت داری کئی برسوں سے قائم ہے، بحرین کے دورے کا مقصد اقتصادی شعبوں میں نئی پیشرفت ہے، زراعت، آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، فن ٹیک اور دیگر شعبوں میں تعاون ضروری ہے، بحرین میں پاکستانیوں نے ثابت کیا ہے کہ شناخت سرحدوں میں نہیں دنیا کے ہر گوشے میں زندہ ہے، بحرین سے پاکستانیوں نے گزشتہ مالی سال میں 484 ملین ڈالر کی ترسیلات زر بھیجی، بحرین میں اعلیٰ قیادت کا پاکستانیوں کے لیے محبت اور تعاون پر دل سے شکرگزار ہوں، پاکستانی کیمونٹی سے درخواست ہے کہ وہ بحرین کے لیے بھی بہترین سفیر بنیں، بحرین مالیاتی ترقی، انسانی مرکزیت اور جدید معیشت کا روشن نمونہ ہے، پاکستان بحرین کی ترقی کے سفر سے سیکھنا چاہتا ہے اور بھرپور تعاون کا خواہاں ہے، پاکستان کے پاس افرادی قوت، وسائل، ابھرتی منڈی اور اسٹریٹیجک محل وقوع ہے جب کہ بحرین کے پاس مالیاتی مہارت اور عالمی تجربہ ہے، پاکستان اور بحرین مل کر عظیم کامیابیاں حاصل کرسکتے ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان معاشی اصلاحات اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کے نئے دور میں داخل ہورہا ہے، میں بحرین کے سرمایہ کاروں کو پاکستان آنے کی دعوت دیتا ہوں، سرمایہ کار پاکستان آئیں، ہمارے ساتھ شراکت داری کریں، بحرینی کاروباری برادری کےساتھ نئی، دیرپا اوربامعنی اقتصادی راہیں کھولنےکیلئےتیار ہیں، ہم سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں اور کاروباری تعاون کیلئے ہرممکن سہولت فراہم کریں گے،پاکستان کے پاس نوجوانوں کی بڑی طاقت ہے، ہماری 60 فیصد آبادی 15 سے 30 سال کے درمیان ہے اور یہ نوجوان آبادی ایک چیلنج ہے، ایک بڑی نعمت اور موقع بھی ہے، نوجوانوں کو آئی ٹی، اے آئی، فنی تربیت اور جدید مہارتوں سے آراستہ کررہے ہیں، بحرین کے کاروباری اداروں کے ساتھ ملکر نئی راہیں کھول سکتے ہیں،پاکستان اور جی سی سی کا فری ٹریڈ معاہدہ حتمی مراحل میں ہے جو تعلقات کو نئی بلندی دے گا۔

  • بھارتی وزیر دفاع کی گیڈر بھبکی کیخلاف سکھ پاکستان کے شانہ بشانہ

    بھارتی وزیر دفاع کی گیڈر بھبکی کیخلاف سکھ پاکستان کے شانہ بشانہ

    بھارتی وزیر دفاع کی گیڈر بھبکی کیخلاف سکھ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہو گئے

    بھارتی جبر و استبداد کا شکار سکھوں نےپاکستان کیخلاف دہشت گرد مودی کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا ،سکھ رہنماؤں نےسکھ فوجیوں سے سندھ کے دفاع کیلئے پاک فوج میں شامل ہونے کی ہدایت کر دی،سکھوں کی سب سے بڑی تحریک "سکھ فار جسٹس ” کا بھارت کیخلاف سکھوں کی پاک فوج میں کھلی بھرتی کا مطالبہ سامنے آیا ہے،سکھ فار جسٹس نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھارتی مقبوضہ پنجاب کے سکھ رضاکاروں کو پاک فوج میں شمولیت کی دعوت دینے کی درخواست کر دی

    سکھ فار جسٹس کے سربراہ گرپتونت سنگھ پنوں کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیر دفاع کی سندھ پر قبضے کی کھلی دھمکی کے پیشِ نظر پاکستان کو فوری سکھوں کیلئے خصوصی بھرتی کاراستہ کھولنا ہوگا،پاکستان سکھوں کیلئے بھرتی کا راستہ کھولے تاکہ وہ سندھ کے دفاع کیلئے پاک فوج میں شامل ہو سکیں،*سکھوں کی سب سے بڑی تحریک "سکھ فار جسٹس ” نے درخواست دی کہ؛سکھ رضاکاروں کی خصوصی فہرست اور ایک وقف سکھ دفاعی یونٹ کی تشکیل کی جائے،سکھ رضا کاروں کے اس یونٹ کی تعیناتی خاص طور پر سندھ کے دفاع کے لیے کی جائے ،جیسے ہی پاکستان اندراج کاپروٹوکول جاری کرے گا دنیا بھر میں ہزاروں سکھ رضاکار شامل ہونے کیلئے تیار ہیں ہم اقوامِ متحدہ کے بین الاقوامی قوانین کی بنیاد پر مضبوط مؤقف رکھتے ہیں ، عالمی قوانین کے تحت فوجیوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی ضمیر یا اخلاقی وجوہات کی بنا پر کسی جنگ میں حصہ لینے سے انکار کر سکتے ہیں،

    دنیا پاکستان کے مضبوط مؤقف اور بھارتی جارحیت کیخلاف اپنی مکمل حمایت کا اظہار کر رہے ہیں ،بھارتی جنگی سیاست اور دہشت گردی کے فروغ کے منصوبے کیخلاف دنیا پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے

  • بھارتی  وزیر دفاع کا بیان کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مترادف ہے۔وزیراعلیٰ سندھ

    بھارتی وزیر دفاع کا بیان کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مترادف ہے۔وزیراعلیٰ سندھ

    وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیر دفاع کی گیدڑ بھپکیاں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی، بھارت کو بدترین شکست دلانے والے وزیر دفاع کا بیان کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مترادف ہے۔

    سندھ اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نہ کوئی سندھ کو پاکستان سے الگ کر سکتا ہے اور نہ ہی جغرافیہ بدل سکتا ہے، سندھ متحد اور پاکستان کے ساتھ رہے گا، بھارتی وزیر دفاع کے بیان کی سختی سے مذمت کرتے ہیں، ان کی یہ بوکھلاہٹ 9 مئی کے بعد شروع ہوئی،سندھ اسمبلی نے پاکستان بنانے کی قرارداد پاس کی، اس قرارداد میں بڑی تفصیل سے ماضی اور حال پر بات کی گئی ہے، 624 بی سی کے نقشے میں سندھ کا نقشہ تھا، سندھ کے مسلمانوں اور ہندؤں نے ساتھ مل کر جدوجہد کی تھی، 1947 میں ہمارا ملک بنا، بلاول بھٹو زرداری کہتے ہیں سندھو دریا میں یا تو پانی بہے گا یا مودی تمہاری خون بہے گا، ہم سندھو دریا کا ہر قیمت پر تحفظ کریں گے، ہماری فورسز بھارت کو جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں،