Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ٹک ٹاک نے  شفافیت کیلئے جدید اے آئی کنٹرولز اور تعلیمی ٹولز لانچ کر دیے

    ٹک ٹاک نے شفافیت کیلئے جدید اے آئی کنٹرولز اور تعلیمی ٹولز لانچ کر دیے

    ٹک ٹاک (TikTok) نے ایسی کئی نئی اپ ڈیٹس متعارف کی ہیں جن کا مقصد لوگوں کو پلیٹ فارم پر اے آئی سے تیار کردہ کانٹینٹ کو بہتر طور پر پہچاننے،سمجھنے اور اپنی پسند کے مطابق کنٹرول کرنے میں مدد دینا ہے۔ ٹک ٹاک کا کہنا ہے کہ اے آئی کو اگر ذمہ داری اور شفافیت کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ کر سکتی ہے، دریافت کے عمل میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، اور تحفظ میں اضافہ کر سکتی ہے۔ یہ اپ ڈیٹس کمیونٹی کو زیادہ واضح معلومات اور مزید اختیارات فراہم کرنے کے لیے تیار کی گئی ہیں تاکہ وہ اے آئی کے ساتھ اپنے تعامل کے حوالے سے بہتر فیصلہ کر سکیں۔

    ایک نیا کنٹرول جو اے آئی سے تیار کردہ کانٹینٹ کے لیے ہے، جلد ہی “Manage Topics” فیچر میں آزمایا جائے گا۔ اس سیٹنگ کے ذریعے صارفین یہ طے کر سکیں گے کہ ان کی For You فیڈ میں اے آئی سے بنایا گیا کانٹینٹ کس حد تک دکھائی دے۔جو لوگ اے آئی سے تخلیق کردہ کہانیوں یا تعلیمی ویڈیوز سے زیادہ لطف اندوز ہوتے ہیں، وہ اس طرح کے کنٹنٹ کی مقدار بڑھا سکیں گے، جبکہ وہ صارفین جو کم دیکھنا چاہتے ہیں، اسے کم کر سکیں گے۔ یہ ٹول افراد کو ،ٹک ٹاک کو منفرد بنانے والے تخلیقی تنوع کو محدود کیے بغیر،اپنی فیڈ کواپنی پسند کے مطابق ڈھالنے میں مدد دینے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ کنٹرول، اُن ٹولز کے مجموعہ میں اضافہ کرتا ہے جو لوگوں کو کنٹنٹ کی سفارشات کو ذاتی نوعیت کا بنانے اور اپنی پسندیدہ اشیاء کو دریافت کرنے میں مدد دیتا ہے، جیسا کہ حسب ضرورت کی ورڈ فلٹرز اور ”Not interested“ بٹن۔

    شفافیت کو مزید مضبوط بنانےکی غرض سے ،ٹک ٹاک اپنے اے آئی لیبلنگ سسٹمز کو بھی بہتر بنا رہا ہے۔ پلیٹ فارم پہلے ہی متعدد ایسے طریقے استعمال کرتا ہے، جن میں کریئیٹرز کے لیبل، اے آئی ڈیٹیکشن (AI detection models)ماڈلز، اور C2PA Content Credentials شامل ہیں، تاکہ اے آئی سے تیار کردہ ویڈیوز کی نشاندہی کی جا سکے۔ اب تک 1.3 ارب سے زائد ویڈیوز کو لیبل کیا جا چکا ہے۔ ایپ اب "نظر نہ آنے والی واٹر مارکنگ(invisible watermarking) “ کے نام سے دستیاب ایک حل کا تجربہ کر رہی ہے۔

    نظر نہ آنے والے واٹر مارکس ایک مضبوط تکنیکی ”واٹر مارک“ کے ذریعے حفاظتی اقدامات کی ایک نئی پرت کا اضافہ کرتے ہیں، جسے صرف ٹک ٹاک کے سسٹمز ہی پڑھ سکتے ہیں، اور اس طرح دوسروں کے لیے انہیں ہٹانا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ واٹر مارکس ایڈیٹنگ یا ری پوسٹنگ کے بعد بھی برقرار رہتے ہیں، جس سے AI لیبلنگ مزید قابلِ اعتماد اور پائیدار ہو جاتی ہے۔ آنے والے چند ہفتوں میں، ٹک ٹاک اپنے ٹولزمثلاً AI Editor Proکے ذریعے بنائے گئے اے آئی کانٹینٹ اور C2PA Content Credentials کے ساتھ اپ لوڈ کیے گئے کانٹینٹ میں نظر نہ آنے والے واٹر مارکس شامل کرنا شروع کرے گا۔

    عالمی سطح پرٹک ٹاک اے آئی سے متعلق تعلیم میں بھی سرمایہ کاری کر رہا ہے اور اس مقصد کے لیے 20 لاکھ ڈالر کا نیا اے آئی لٹریسی فنڈ قائم کیا ہے۔ یہ فنڈ غیر منافع بخش اداروں اور ماہرین کی معاونت کرے گا تاکہ وہ ایسا تعلیمی کانٹینٹ تیار کریں جو لوگوں کو سمجھنے میں مدد دے کہ اے آئی کیسے کام کرتا ہے، اے آئی سے تیار کردہ کانٹینٹ کو کیسے پہچانا جائے، اور اے آئی کو محفوظ اور ذمہ داری کے ساتھ کس طرح استعمال کیا جائے۔ ایک درجن سے زائد ممالک میں شراکت دار ایسے وسائل تیار کریں گے جو میڈیا لٹریسی، ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال، اور شفافیت سے تعلق رکھنے والے ٹک ٹاک کے ٹولز سے آگاہی کو فروغ دیں گے۔

    یہ اپ ڈیٹس ٹک ٹاک کے اُس مسلسل عزم کی عکاسی کرتی ہیں جس کے تحت وہ اپنی کمیونٹی کو اعتماد کے ساتھ اے آئی کو سمجھنے اور استعمال کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ اے آئی ٹیکنالوجی کے ترقی کرنے کے ساتھ ،ٹک ٹاک محفوظ، شفاف اور تخلیقی ڈیجیٹل تجربات کو فروغ دینے کے لیے اپنے ٹولز اور شراکتوں میں مزید توسیع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

  • بھارتی وزیرِ دفاع کے سندھ بارے بیان پر گھوٹکی میں ہندو برادری کا بھرپور احتجاج

    بھارتی وزیرِ دفاع کے سندھ بارے بیان پر گھوٹکی میں ہندو برادری کا بھرپور احتجاج

    گھوٹکی: بھارتی وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کے حالیہ اشتعال انگیز بیان نے نہ صرف پاکستان بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی بلکہ سندھ کی ہندو برادری بھی شدید ردِعمل دینے پر مجبور ہوگئی۔ اسی سلسلے میں گھوٹکی میں ہندو کمیونٹی نے ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی جس میں ہر عمر کے افراد نے بھرپور شرکت کی۔

    ریلی گھنٹہ گھر سے شروع ہو کر بھٹائی چوک تک پہنچی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینرز اُٹھا رکھے تھے جن پر بھارت کے خلاف نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے بھارتی حکومت اور وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور کہا کہ بھارت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ “پاکستان ہے تو سندھ ہے، اور سندھ اور پاکستان ہماری ماں ہیں۔ ہم اس سرزمین کے وفادار شہری ہیں، کسی بھی غیر ملکی دباؤ یا دھمکی کو قبول نہیں کریں گے”۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بھارتی وزیرِ دفاع اپنے نامناسب اور اشتعال انگیز بیان پر فوری طور پر معافی مانگیں۔احتجاج کے دوران شرکاء نے “سندھ زندہ باد” اور “پاکستان زندہ باد” کے نعرے بھی لگائے، جبکہ ریلی کے دوران مختلف سماجی اور مذہبی رہنماؤں نے تقاریر کرتے ہوئے کہا کہ گھوٹکی سمیت پورے سندھ کی ہندو کمیونٹی پاکستان کی سلامتی اور یکجہتی کے ساتھ کھڑی ہے۔ اشتعال انگیز بیانات نہ صرف نفرت پھیلاتے ہیں بلکہ اقلیتوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔

    گھوٹکی کی یہ ریلی پاکستان میں مذہبی ہم آہنگی کی ایک واضح مثال قرار دی جا رہی ہے جہاں اقلیتی برادری بھی ملکی سالمیت اور وقار کے تحفظ کے لیے یک آواز نظر آئی۔

  • ساحر شمشاد مرزا کی عہدے سے سبکدوشی،چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم

    ساحر شمشاد مرزا کی عہدے سے سبکدوشی،چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم

    چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا اپنے عہدے سے سبکدوش ہو گئے۔

    27ویں آئینی ترمیم کے تحت ان کی سبکدوشی کے ساتھ ہی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (سی جے سی ایس سی) کا عہدہ بھی ختم ہوگیا ہے، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا 3 سال عہدے پر رہنے کے بعد اپنے عہدے سے سبکدوش ہوئے ہیں،جنرل ساحر شمشاد مرزا نے پاک فوج میں 40 سالہ شاندار عسکری خدمات مکمل کیں،جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اِنٹر سروسز فورم تھا جو تینوں مسلح افواج کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی کےلیے کام کرتا تھا،پارلیمنٹ کی جانب سے منظور کردہ 27ویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کردیا گیا جبکہ آرمی چیف اب چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہوں گے۔

    جنرل ساحر شمشاد مرزا نے اپنے اعزاز میں جوائنٹ اسٹاف ہیڈکوارٹر میں منعقد کی گئی الوادعی تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ ہمارے ارد گرد کی دنیا ایک ناقابل تصور رفتار سے تبدیل ہو رہی ہے، اس تبدیلی سے ہماری اندرونی اور بیرونی آزمائشوں پر گہرے اثرات مرتّب ہو رہے ہیں،یہ اثرات ہائبرڈ محاذ آرائی سے لے کر جنگ تک محیط ہیں، ان حالات میں ہماری مسلح افواج کو زیادہ ہم آہنگی، مشترکہ تعاون اور یکسوئی کے ساتھ تیار رہنا ہوگا،مسلح افواج کے درمیان ہم آہنگی، مشترکہ حکمت عملی اور تعاون کو اہم ضرورت سمجھتا ہوں ناکہ ایک خواہش،

  • سینیٹ قائمہ کمیٹی میں سیکرٹری مواصلات کی عدم شرکت پروارنٹ کا عندیہ

    سینیٹ قائمہ کمیٹی میں سیکرٹری مواصلات کی عدم شرکت پروارنٹ کا عندیہ

    چیئرپرسن سینیٹر قرۃ العین مری کی زیر صدارت سینیٹ کی پلاننگ اینڈ ڈویلمپنٹ کمیٹی کا اجلاس ہوا

    وزیر مملکت برائے پلاننگ ارمغان سبحانی، این ایچ اے اور دیگر حکام نے کمیٹی میں شرکت کی،کمیٹی نے سیکرٹری مواصلات کی عدم شرکت پر تحفظات کا اظہارکیا، چیئرپرسن سینیٹر قرۃ العین مری نے کہا کہ کمیٹی سیکرٹری مواصلات کی عدم شرکت پر وارنٹ گرفتاری جاری کر سکتی ہے،کمیٹی کو سکھر حیدرآباد، کراچی حیدرآباد موٹروے سمیت مختلف منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی،کمیٹی نے کراچی حیدرآباد موٹروے پر کام شروع کرنے میں تاخیر پر تحفظات کا اظہار کیا،کمیٹی نے سیکرٹری مواصلات کو آئندہ اجلاس میں طلب کرلیا، چیئرپرسن سینیٹر قرۃ العین مری نے کہا کہ سیکرٹری مواصلات آئندہ اجلاس میں شریک نہ ہوئے تو وارنٹ جاری کر سکتے ہیں،سکھر حیدرآباد موٹرو کے حوالے سے ڈیڑھ سال میں یہ 12ویں میٹنگ ہے ، رہی،

    کمیٹی کو سکھر حیدرآباد موٹروے پر مئی میں کام شروع کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی، بتایا گیا کہ سکھر حیدرآباد موٹروے کے تین سیکشنز پر مئی میں کام شروع ہوجائیگا،کمیٹی کی کوششوں کے باعث پروجیکٹ میں بہت پیشرفت ہوئی ہے، چیئرپرسن سینیٹر قرۃ العین مری نے کہا کہ موٹروے پر پہلے اگست پھر مارچ اور اب مئی کی تاریخ دی جا رہی ہے،یقینی بنایا جائے کہ سکھر حیدرآباد موٹروے پر کام شروع کرنے میں مزید تاخیر نہ ہو،

  • عمران خان نے مذاکرات کا اختیار مجھ سے لے لیا،بیرسٹر گوہر

    عمران خان نے مذاکرات کا اختیار مجھ سے لے لیا،بیرسٹر گوہر

    چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہےکہ ہم نے مذاکرات میں بہت کوشش کی لیکن کچھ نہیں ہوسکا۔

    نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ہم نے مذاکرات میں بہت کوشش کی لیکن کچھ نہیں ہوسکا، اب مذاکرات کا اختیار عمران خان نے محمود اچکزئی اور علامہ ناصر کو دیا ہے، اگر انہوں نے مجھ سے مذاکرات سے متعلق مشورہ مانگا تو میں ضرور دوں گا،محمود خان اچکزئی، علامہ راجہ ناصر کے ساتھ ہمارا الائنس ہے، ہم تحریک تحفظ پاکستان کے ذریعے ہم جدوجہد جاری رکھیں گے،مولانا زیرک سیاستدان ہیں ان کو شامل کرنے کے لیے بہت کوشش کی، مولانا ہمارے پاس نہیں آئے، میرا نہیں خیال کہ اب وہ ہمارے پاس آئیں گے تاہم ہم کوشش کریں گے ان کو آن بورڈ کریں،26 ویں اور 27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف ہیں اور آزاد عدلیہ چاہتے ہیں، عمران خان کو آخری سزا 16 جنوری کو ہوئی، جوڈیشل پالیسی کے مطابق 35 دنوں میں فیصلہ ہونا چاہیے تھا مگر 10 ماہ سے زیادہ ہوگئے اب تک ان کا کیس نہیں لگ سکا۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،کمسن بچیوں کا والدہ سمیت اغوا،ڈی آئی جی عدالت طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ،کمسن بچیوں کا والدہ سمیت اغوا،ڈی آئی جی عدالت طلب

    اسلام آبادہائیکورٹ نے لاہور اور بہاولپور سے کمسن بچیوں کاوالدہ سمیت اغواکے معاملے میں ڈی آئی جی انویسٹی گیشن اسلام آباد طلب کرلیا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں لاہور اور بہاولپور سے کمسن بچیوں کاوالدہ سمیت اغوا کے معاملے پر جسٹس محسن کیانی نے وقاص احمد اور سہیل علیم کی مقدمہ اخراج کی درخواست کی سماعت کی،مشرف رسول نے وقاص اور سہیل کے ساتھ لین دین کے تنازع پر مقدمہ درج کرا رکھا ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن آ کر بتائیں کیا لاہور پولیس کا بیان قلمبند کیاگیا؟ڈی آئی جی بتائیں جنہوں نے خاتون کے گھر لاہور چھاپہ مارا، کیا ان کا بیان لیاگیا،جسٹس کیانی نے کہاکہ جنہوں نے خاتون اور بچیوں کو گھر سے اٹھایا ان کے پاس سرچ وارنٹ تھے۔

    جسٹس محسن اخترکیانی نے مشرف رسول کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کیا۔وکیل شہریار طارق نے کہاکہ سپریم کورٹ نے اس عدالت کا اکتوبرکاایک آرڈر معطل کررکھا ہےجسٹس کیانی نے کہا کہ اس کے بعد جو آرڈر ہوا وہ معطل نہیں ہوا، آپ اس عدالت کو کام سے روک نہیں سکتے،ہم جو آرڈر کریں گے آپ اسے آئینی عدالت میں لے جائیں، ہم ایک واقعہ کی سچائی میں جانا چاہتے ہیں،جس میں خاتون اور بچیوں کی تذلیل ہوئی ،اگر بغیر سرچ وارنٹ کسی کو اٹھایا تو وہ اغواسمجھاجائے گا، پولیس کچھ کر نہیں سکتی ، ایف آئی اےانویسٹی گیشن کرنا نہیں چاہتی ، لطیف کھوسہ نے کہاکہ مشرف رسول نے مہنگا گھر اسلام آباد میں بنایا، لین دین کا تنازعہ تھا،مشرف رسو ل کے وکیل شہریار طارق نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ہم نے سپریم کورٹ سے رجوع کیاتھا لیکن اب وفاقی آئینی عدالت میں بھی درخواست دی ہے،جسٹس کیانی نے کہا کہ مطلب یہ معاملہ آئینی عدالت، سپریم کورٹ، پولیس، ایف آئی اے، مجسٹریٹ کے پاس زیرالتوا ہے،وکیل شہریار طارق نے کہاکہ جی بالکل ایسا ہی آئینی عدالت میں ابھی کیس مقرر نہیں ہوا،جسٹس کیانی نے کہاکہ معاملہ اتنی جگہ التوا میں ہے اور کوئی انویسٹی گیشن نہیں ہورہی تو پھر انجوائے کریں،آپ کہنا چاہتے ہیں پہلے ہم 27ویں آئینی ترمیم پر بحث کریں گے، پھر دائرہ اختیار فائنل ہوگا، وکیل نے کہاکہ نہیں ایسا نہیں ہے ہم نے اسی عدالت کا بس ایک آرڈر چیلنج کیا ہے،لطیف کھوسہ نے کہاکہ ہائیکورٹ بھی آئینی کورٹ ہے، پھر تو معذرت کیساتھ ہائیکورٹ کو تالہ لگا دیں۔

    دھرمیندر کی موت کے بعد ہیما مالنی کی پہلی ٹوئٹ، پیغام کیساتھ یادگار تصاویر جاری کردیں
    جسٹس کیانی نے کہاکہ صورتحال تو ایسی ہی ہے،اگر عدالتیں مضبوط ہوتی تو آج یہ سب کچھ نہ ہورہا ہوتا،لاہور سے خاتون اور اس کی 3سال کی بچیوں کواغواکیاگیا، یہاں پولیس مقابلہ کیا گیا،معاملہ وزیراعلیٰ پنجاب اور آئی جی کو بھیجا تھا،عورت اور بچیوں کے اغوا پر قانون کی بے بسی پر شرم آتی ہے،ہم سب دیکھ رہے ہیں اور کچھ کر نہیں سکتے،تین سال کی بچی کو 6دن ماں سے دور رکھاگیایہ انتہائی شرمناک حرکت تھی،ساری عدالتیں اگر کچھ نہیں کر سکتیں تو پھر ہم کس لئے یہاں بیٹھے ہیں،جس پولیس پر الزام ہے اسی نے تفتیش کرنی ہے،جو ایس پی یہاں آئے انہیں کیس کا ایک لفظ پتہ نہیں تھا۔

    وکیل لطیف کھوسہ نے کہاکہ کسی قابل اعتماد ایجنسی یا ادارے سے معاملہ انویسٹی گیٹ کروا لیں،جسٹس کیانی نے کہاکہ وہ ایجنسی کون سی ہے جو غیرجانبدار ہے؟جس پر ہم اعتماد کرسکیں آپ بتا دیں،اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈی آئی جی کو طلب کرتے ہوئے سماعت9دسمبر تک ملتوی کردی۔

  • لاہور ہائیکورٹ،پیکا ایکٹ کے تحت سزا پانے والے ملزم کی سزا معطل

    لاہور ہائیکورٹ،پیکا ایکٹ کے تحت سزا پانے والے ملزم کی سزا معطل

    لاہور ہائیکورٹ نے پیکا قانون کے تحت سزا پانے والے مجرم سلمان مرتضیٰ کی 3 سال قید کی سزا معطل کردی۔ عدالت نے مجرم کی ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرلی۔

    جسٹس شہرام سرور چوہدری اور جسٹس سردار علی اکبر ڈوگر پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سزا معطلی کی درخواست پر سماعت کی، جس میں مجرم کی جانب سے میاں داؤد ایڈووکیٹ پیش ہوئے،میاں داؤد ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ٹرائل کورٹ نے سلمان مرتضیٰ کو اپنی کزن کی قابلِ اعتراض تصاویر چوری کرنے اور شیئر کرنے کے الزام میں 3 سال قید کی سزا سنائی تھی، حالانکہ مدعی اور متاثرہ لڑکی نے عدالت میں تسلیم کیا کہ سلمان مرتضیٰ نے کوئی مواد شیئر نہیں کیا،وکیلِ صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ استغاثہ ٹرائل کے دوران ایک بھی الزام ثابت نہ کر سکا، اس کے باوجود ٹرائل کورٹ نے سزا سنا دی، مجرم کو اس کے رشتہ داروں نے والدہ کی جائیداد ہتھیانے کے لیے جھوٹے مقدمے میں ملوث کیا، قانون کے مطابق اگر سزا 3 سال یا اس سے کم ہو تو مجرم سزا معطلی اور ضمانت کا حق رکھتا ہے۔

    عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لینے اور تفصیلی دلائل سننے کے بعد مجرم کی 3 سال قید کی سزا معطل کرتے ہوئے ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں پر اس کی رہائی کا حکم دے دیا.

  • مفتی قوی ایشوریا رائے سے نکاح کے خواہاں

    مفتی قوی ایشوریا رائے سے نکاح کے خواہاں

    مشہور مذہبی شخصیت مفتی عبدالقوی ایک بار پھر غیر متوقع بیان کے باعث خبروں کی زینت بن گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک تازہ ویڈیو میں انہوں نے بالی وُڈ کی عالمی شہرت یافتہ اداکارہ ایشوریا رائے بچن سے متعلق حیران کن دعویٰ کردیا ہے،مفتی قوی کہتے ہیں کہ “اگر ایشوریا اور ابھیشیک میں علیحدگی ہوئی تو وہ مجھ سے نکاح کے لیے رابطہ کریں گی”

    وائرل ویڈیو میں مفتی عبدالقوی یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ اگر ایشوریا رائے اور ان کے شوہر ابھیشیک بچن کے درمیان خدانخواستہ علیحدگی ہوتی ہے تو "ایشوریا رائے چند ماہ میں مجھ سے نکاح کی خواہش کا اظہار کر سکتی ہیں”۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ ’’ایشوریا رائے کو مسلمان کریں گے اور ان کا اسلامی نام ‘عائشہ رائے’ رکھیں گے‘‘، میزبان کی جانب سے پوچھے گئے سوال ’’کیا غیر مسلم خاتون سے نکاح ممکن ہے؟‘‘ کے جواب میں مفتی قوی نے بھارتی اداکارہ راکھی ساونت کی مثال دی۔انہوں نے کہا کہ راکھی ساونت نے اسلام قبول کرکے اپنا نام فاطمہ رکھا تھا، لہٰذا ایسی مثالیں موجود ہیں۔

    مفتی قوی کے اس بیان نے سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ دی ہے۔کئی صارفین نے ان کے بیان کو مذاق، توجہ حاصل کرنے کی کوشش اور بے بنیاد دعویٰ قرار دیا۔کچھ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ایشوریا رائے کو شاید اس دعوے کا علم بھی نہیں ہوگا۔جب کہ دیگر صارفین نے مفتی قوی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے غیر سنجیدہ رویہ قرار دیا۔یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ مفتی قوی نے بالی وُڈ اداکاراؤں سے متعلق اس نوعیت کے بیانات دیے ہوں۔ماضی میں وہ اداکارہ راکھی ساونت سے شادی کی پیشکش بھی کر چکے ہیں، جسے راکھی نے مزاحیہ انداز میں مسترد کرتے ہوئے کہا تھا "مفتی قوی کی چاہے 100 بیویاں ہوں یا 900 وہ مجھے سنبھال نہیں پائیں گے

  • خواتین کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک کرنے والا ملزم  گرفتار

    خواتین کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک کرنے والا ملزم گرفتار

    مختلف لنکس کے ذریعے خواتین کے موبائل فون اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک کرنے والا ملزم کراچی سے پکڑا گیا، ملزم کے موبائل سے مختلف خواتین کی 400 سے زائد ویڈیوز برآمد ہوئیں، ملزم نے لاہور کے شہری سے ہیکنگ لنکس خریدنے کا اعتراف کرلیا۔

    کراچی پولیس نے خواتین کے موبائل فون اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک کرنیوالے ملزم کو گرفتار کرلیا۔عید گاہ پولیس کے ہاتھوں گرفتار ملزم سمیر نے دوران تفتیش سنسنی خیز انکشافات کئی کیے ہیں۔ملزم نے اعتراف کیا کہ اس نے لاہور کے ایک شہری سے صرف 5 ہزار روپے میں ہیکنگ لنکس خریدے۔پولیس کے مطابق ملزم لنک بھیج کر موبائل فون اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک کرتا تھا، ملزم کے موبائل سے خواتین کی 400 سے زائد ویڈیوز برآمد ہوئیں، ملزم نے واٹس ایپ، انسٹاگرام، فیس بک اکاؤنٹس بھی ہیک کیے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے دوران تفتیش اعتراف کیا کہ لنک کے ذریعے موبائل فون ہیک کیا جاسکتا ہے، ملزم کے موبائل سے فحش گفتگو کا مواد بھی ملا۔

  • ضمنی انتخابات،کامیاب امیدواروں کا الیکشن کمیشن نے نوٹفکیشن جاری کر دیا

    ضمنی انتخابات،کامیاب امیدواروں کا الیکشن کمیشن نے نوٹفکیشن جاری کر دیا

    الیکشن کمیشن نے ضمنی انتخابات میں قومی اسمبلی کے 5 اور صوبائی اسمبلی کے 7 حلقوں سے منتخب امیدواروں کی کامیابی کے نوٹیفکیشن جاری کردیے۔

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے طلال چوہدری کی جانب سے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر این اے 96 سے ان کے بھائی بلال چوہدری کی کامیابی کا نوٹیفکیشن روک دیا۔الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 23 نومبر کو ہونیوالے قومی و صوبائی اسمبلی کے ضمنی انتخابات کے نتائج کے بعد نوٹفکیشن جاری کردیئے۔ای سی پی کے نوٹیفکیشن کے مطابق این اے 18ہری پور سے بابر نواز خان کامیاب، این اے 104 فیصل آباد سے دانیال احمد فاتح قرار، این اے 129 لاہور سے محمد نعمان کامیاب قرار پائے ہیں۔ای سی سی پی نے این اے 143 ساہیوال سے محمد طفیل کو کامیاب قرار دیا جبکہ این اے 185 ڈیرہ غازی خان سے محمود قادر خان کامیاب ہوگئے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے پی پی 73 سرگودھا سے میاں سلطان علی رانجھا، پی پی 87 میانوالی سے علی حیدر نور اور پی پی 98 فیصل آباد سے آزاد علی تبسم کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔ای سی پی کے نوٹیفکیشن کے مطابق پی پی 115 فیصل آباد سے محمد طاہر پرویز، پی پی 116 فیصل آباد سے احمد شہیر، پی پی 203 ساہیوال سے محمد حنیف اور پی پی 269 مظفرگڑھ سے میاں علمدار عباس قریشی کامیاب قرار پائے ہیں۔