Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بلاول ہاؤس کے قریب سیف سٹی سسٹم کے سافٹ ویئر باکس چوری، ملزم گرفتار

    بلاول ہاؤس کے قریب سیف سٹی سسٹم کے سافٹ ویئر باکس چوری، ملزم گرفتار

    کراچی:بلاول ہاؤس چورنگی کے قریب سیف سٹی پروجیکٹ کے سافٹ ویئر باکس کی چوری میں ملوث مرکزی ملزم کو پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کرلیا ہے۔

    پولیس کے مطابق یہ واردات 6 نومبر کو پیش آئی تھی، جس میں سیف سٹی سسٹم کا اہم سافٹ ویئر باکس چوری کیا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں نصب سیف سٹی کیمروں کو بھی اتار لیا گیا تھا، جس سے مانیٹرنگ کا عمل متاثر ہوا تھا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واردات میں ملوث مفرور ملزم کو اس کے ایک ساتھی سمیت گرفتار کیا گیا ہے، جب کہ اس کیس میں پہلے ہی تین ملزمان کو گرفتار کیا جاچکا تھا۔ اس طرح چوری میں ملوث مجموعی طور پر چھ افراد میں سے پانچ گرفتار ہوچکے ہیں۔ اس سامان کو خریدنے میں ملوث کباڑی کو بھی حراست میں لیا جاچکا ہے۔

    حکام کے مطابق ڈسٹری بیوشن باکس سیف سٹی کیمرہ نیٹ ورک کا اہم حصہ ہوتا ہے، جو کیمروں کو بجلی اور دیگر تکنیکی سہولیات فراہم کرتا ہے۔ اس باکس میں نصب آلات کی مالیت لاکھوں روپے تک ہوتی ہے، اور اس کی چوری سے نگرانی کے نظام پر نمایاں اثر پڑتا ہے۔

  • امریکا نے افغان شہریوں کی امیگریشن درخواستیں روک دیں

    امریکا نے افغان شہریوں کی امیگریشن درخواستیں روک دیں

    امریکا نے افغان شہریوں کی امیگریشن کی تمام درخواستیں غیر معینہ مدت کے لیے روک دیں۔

    امریکی میڈیا کے مطابق افغان شہری کی جانب سے واشنگٹن میں نیشنل گارڈ کے 2 اہلکاروں کو گولی مارنے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے افغان شہریوں کی امیگریشن درخواستیں فوری طور پر روک دی ہیں،سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے امریکی سیٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروس نے کہا کہ افغان شہریوں کے لیے امیگریشن کی تمام درخواستیں غیر معینہ مدت کے لیے روک دی گئی ہیں، افغان شہریوں کے لیے امیگریشن کی درخواستوں کی سکیورٹی اور جانچ پروٹوکول کا مزید جائزہ لیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ 26 نومبر کو امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈ کے 2 اہلکاروں کو گولی مار دی گئی اور اہلکاروں کی حالت اس وقت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔

    امریکی حکام کے مطابق ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لیا گیا ہے جس کی شناخت 29 سال کے افغان شہری رحمان اللہ لکنوال سے کر لی گئی۔

  • وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ،2 زخمی،حملہ آور افغان نکلا

    وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ،2 زخمی،حملہ آور افغان نکلا

    امریکی ریاست واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈ کے 2 اہلکاروں کو گولی مار دی گئی

    امریکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس کے قریب ایک شخص نے نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئے،رپورٹ کے مطابق فائرنگ کے واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی۔ فائرنگ سے زخمی ہونے والے دونوں اہلکاروں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا جن کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔پولیس نے بتایا کہ فائرنگ کرنے والے ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا۔ امریکی حکام کے مطابق مشتبہ شخص کی شناخت 29 سال کے افغان شہری رحمان اللہ لکنوال سے کر لی گئی ۔ رحمان اللہ 2021 میں امریکا آیا تھا۔

    امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق فائرنگ کے واقعے کے بعد وائٹ ہاؤس کو عارضی طور پر بند کردیا گیا۔ جائے وقوعہ کے اطراف کے علاقے کو بھی گھیرے میں لے لیاگیا، پولیس نے شہریوں کو آئی اسٹریٹ کے قریب جانے سے گریز کی ہدایت کی ہے،امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی کی سیکرٹری نے کہا کہ ہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر معلومات اکٹھی کر رہے ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعے کو دہشت گردی قرار دے دیا،انہوں نے خطاب کے دوران بائیڈن دور میں افغانستان سے امریکا میں داخل ہونے والے ہر غیر ملکی کی دوبارہ جانچ پڑتال کا حکم بھی دیدیا۔امریکی صدر نے واقعے سے متعلق سوشل میڈیا پر بھی بیان جاری کیا، انہوں نے پیغام میں فائرنگ کرنے والے شخص کو جانور قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر فائرنگ کرنے والے کو بھاری قیمت چکانی ہوگی۔

    زخمی دونوں اہلکاروں کا تعلق ریاست ویسٹ ورجینیا سے تھا، ویسٹ ورجینیا کےگورنر نےکہا کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور تحقیقات کی جاری ہیں۔دوسری جانب فائرنگ کے واقعے کے بعد واشنگٹن کے رونالڈ ریگن ائیرپورٹ پر پر وازوں کو سکیورٹی کی وجہ سے گراؤنڈ کیا گیا تاہم کچھ دیر کی بندش کے بعد ائیرپورٹ پر معمول کی کارروائیاں دوبارہ شروع کردی گئیں۔

  • بھارتی میڈیا پر عمران خان کی موت کی جھوٹی خبریں،مبشر لقمان برس پڑے

    بھارتی میڈیا پر عمران خان کی موت کی جھوٹی خبریں،مبشر لقمان برس پڑے

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نےبھارتی میڈیا کے جھوٹ کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا

    ایکس پر مبشر لقمان نے ایک پوسٹ میں بھارتی میڈیا کی جانب سے سابق وزیراعظم عمران خان کی موت سے متعلق پھیلائی جانے والی افواہوں کو سختی سے مسترد کیا اور اسے بھارت کی روایتی جھوٹی مہم قرار دیا،مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بھارت میں بیٹھ کر چند عناصر عمران خان کی صحت اور زندگی کے بارے میں بے بنیاد کہانیاں گھڑ رہے ہیں۔عمران خان کی موت سے متعلق جعلی خبریں ہمیشہ کی طرح بھارت کی گھڑی ہوئی سازش ہے۔ بھارتی میڈیا پاکستان کے خلاف محض پروپیگنڈہ پھیلانے کا مشن بنا چکا ہے،ایسے عناصر پاکستان کے سیاسی حالات پر جھوٹا تاثر قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جب کہ حقائق سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔عام ہندوستانی جو گائے کا پیشاب پیتے ہیں اور اپنے دماغ کو گائے کے گوبر سے ملاتے ہیں وہ صرف سازشی تھیوری بنا سکتے ہیں

    پاکستان کے سیاسی منظرنامے، فوجی معاملات اور حساس واقعات سے متعلق بھارتی میڈیا کا تاریخی کردار شدید متنازع رہا ہے۔ بھارتی میڈیا کی ایک بڑی تعداد پاکستان کے خلاف بغیر تصدیق کے خبریں جاری کرتی ہے،اپنے بیانیے کے مطابق جھوٹی کہانیاں گھڑتی ہے،بریکنگ نیوز کی دوڑ میں صحافتی اصولوں کی خلاف ورزی کرتی ہے،پاکستان کے اندرونی معاملات کو مسخ شدہ زاویے سے پیش کرتی ہے،

    این ڈی ٹی وی سمیت بھارتی میڈیا کے کچھ حلقے دعویٰ کر رہے تھے کہ عمران خان جیل میں انتقال کر گئے ہیں۔یہ افواہیں بغیر کسی ثبوت،بغیر کسی سرکاری تصدیق،اور بغیر کسی آزاد ذرائع کےتیزی سے بھارت میں پھیلائی گئیں، جس کا مقصد پاکستان میں سیاسی بے چینی کو بڑھانا تھا۔حالانکہ عمران خان اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور سزاکاٹ رہے ہیں.

  • یاسین ملک کیخلاف مقدمات ، پرانے گواہ بدلتے ہوئے بیانات کے ساتھ پیش

    یاسین ملک کیخلاف مقدمات ، پرانے گواہ بدلتے ہوئے بیانات کے ساتھ پیش

    جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے غیرقانونی طور پر نظربند اپنے چیئرمین محمد یاسین ملک اور ان کے ساتھیوں کے خلاف جموں کی ٹاڈا عدالت میں 35 سال پرانے مقدمات کی حالیہ عدالتی سماعت کے دوران پرانے گواہوں کو بدلتے ہوئے بیانات کے ساتھ غیر منصفانہ طریقے سے دوبارہ عدالت کے سامنے پیش کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے ترجمان محمد رفیق ڈار کا کہنا ہے کہ عدالتی سماعت کے دوران مودی حکومت نے سی بی آئی کے ذریعے ایک بار پھر ایک پرانے گواہ کو سامنے لایا جس نے 1990ء میں اسی عدالت میں بیان دیا تھا کہ وہ کسی بھی ملزم کو پہچاننے سے قاصر ہے۔ رفیق ڈار نے کہا کہ یہ ستم ظریفی ہے اور اسے بھارت کے عدالتی نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا ہوتا ہے کہ 35 سال کے بعد حکومت اور ایجنسیوں کے دبائو میں لا کر کس طرح پرانے گواہان سے اپنا بیان تبدیل کرنے اور یاسین ملک اور ان کے ساتھیوں کی شناخت کرنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بھارت کی موجودہ انتہاپسند حکومت کی جانب سے جموں کشمیر کے مقبول ترین آزادی پسند سیاسی رہنماؤں کے خلاف انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے جنہیں حکومت اور اس کی ایجنسیاں جعلی ، من گھڑت اور سیاسی انتقام پر مبنی مقدمات کے تحت جیلوں میں ڈال رہی ہیں۔ رفیق ڈار نے مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی فورسز کی طرف سے گرفتاریوں اور عام لوگوں کو ہراساں کرنے کا نیا سلسلہ شروع کرنے کی مذمت کی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ قابض بھارتی حکام نے عام لوگوں کے خلاف اپنی ظالمانہ کارروائیوں کے ذریعے علاقے میں خوف و دہشت کا ماحول قائم کر رکھا ہے۔ اُنہوں نے عالمی برادری بالخصوص انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ مداخلت کریں اور بھارت کو مقبوضہ جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بند کرنے پر مجبور کریں۔

  • ترک صدر کو دھمکی دینے کے الزام پر صحافی کو سزا

    ترک صدر کو دھمکی دینے کے الزام پر صحافی کو سزا

    ترکیے کی ایک عدالت نے معروف ترک صحافی فاتح التیلی کو صدر رجب طیب اردوان کے خلاف مبینہ دھمکی آمیز بیان دینے کے الزام میں 4 سال 2 ماہ قید کی سزا سنا دی۔

    یہ فیصلہ اُس مقدمے میں سنایا گیا جس میں ریاستی سربراہ کی تضحیک اور دھمکی کے الزامات شامل تھے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق صحافی فاتح التیلی کو جون 2025 میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب انہوں نے اپنے یوٹیوب چینل پر ایک سروے کے نتائج پر تبصرہ کیا تھا۔ اس سروے کے مطابق 70 فیصد افراد اردوان کے دوبارہ صدر بننے کے خلاف تھے۔ اسی تناظر میں التیلی نے تاریخی حوالے دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’سلطنتِ عثمانیہ کے کئی سلاطین قتل کر دیے گئے تھے‘‘ جسے حکومت نے ’’دھمکی‘‘ کے زمرے میں لیا۔استغاثہ کا مؤقف تھا کہ صحافی کے یہ ریمارکس ’’صدر کے خلاف تشدد کے اشارے‘‘ تصور کیے جا سکتے ہیں، جبکہ دفاعی وکلاء نے اسے اظہارِ رائے کی آزادی کا حصہ قرار دیتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ صحافی نے کسی قسم کی دھمکی نہیں دی، بلکہ محض تاریخی مثال بیان کی تھی۔

    مقدمے کی کارروائی کے دوران انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس کیس پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ترکیے میں صحافیوں اور حکومتی ناقدین کے خلاف کارروائیوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔عدالتی فیصلے کے بعد صحافی فاتح التیلی کے وکلاء نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سزا کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کریں گے۔

  • پی آئی اے کی نجکاری کیلئے بولی دسمبر کے وسط میں کرانے کافیصلہ

    پی آئی اے کی نجکاری کیلئے بولی دسمبر کے وسط میں کرانے کافیصلہ

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس ڈاکٹر فاروق ستار کی زیر صدارت ہوا۔ سیکریٹری نجکاری نے بتایا کہ پی آئی اے کی نجکاری کیلئے بولی دسمبر کے وسط میں کرانے کا پلان ہے۔

    کمیٹی نے پی آئی اے ملازمین کو ملازمت اور مراعات کا تحفظ دینے کی سفارش کردی۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ملازمین کو گریجویٹی اور پنشن فنڈز ملنے چاہئیں۔سیکریٹری نجکاری نے بتایا کہ ریفرنس پرائس کی وفاقی کابینہ سے منظوری لی جائے گی، 4 پری کوالیفائیڈ بڈرز کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، جہازوں کی تعداد 18 سے بڑھا کر 35 سے 38 کرنا پڑے گی۔کمیٹی نے پی آئی اے ملازمین کوملازمت مراعات کاتحفظ دینےکی سفارش کردی، ڈاکٹر فاروق ستارنےکہاکہ ملازمین کوگریجویٹی پنشن فنڈزملنےچاہئیں،

    دوسری جانب قائمہ کمیٹی برائے داخلہ اینڈ نارکوٹکس کا اجلاس پارلیمنٹ میں منعقد ہوا ،چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے داخلہ راجہ خرم نواز نے اجلاس کی صدارت کی ۔،اسلام آباد متاثرین سی ڈی اے کا مسئلہ ایجنڈا کا حصہ تھا تو رکن قومی اسمبلی انجم عقیل خان نے متاثرین کا ایک بار پھر مسئلہ اٹھایا اور نشاندھی کی کہ سیکٹر سی سولہ کا ایوارڈ سنانے سے پہلے زمینی حقائق کو یکسر نظر انداز کیا گیا اس لیے ایوارڈ منسوخ کر کے ایم این ایز کمیٹی ، متاثرین کمیٹی کو سن کر ایوارڈ سنایا جائے ،چیئرمین کمیٹی برائے داخلہ راجہ خرم نواز کی طرف سے بنائی گئی کمیٹی جس کے ممبران ایم این اے انجم عقیل خان ، ایم این اے ملک ابرار احمد ، وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیریسٹر عقیل ملک ، ایم این اے آغا رفیع اللہ اور ایم این اے شاکر بشیر اعوان شامل ہیں

    رکن قومی اسمبلی انجم عقیل خان نے اسلام آباد کے تمام سیکٹرز متاثرین کی آواز بلند کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ گوگل شگل کو چھوڑ کر مینوئل سروے کر کے مالکان زمین کو ان کے جائز حقوق فراہم کیے جائیں جس طرح باقی سیکٹرز میں دیے گئے ،چیئرمین کمیٹی راجہ خرم نواز نے اسلام آباد کے مکینوں کے مسائل ایم این ایز اور مقامی متاثرین کی کمیٹی کی تجاویز کے مطابق حل کرنے کی ہدایات کیں ۔چیئرمین سی ڈی اے نے یقین دہانی کروائی کہ متاثرین سی ڈی اے کو قانون کے مطابق اور ایم این ایز کی تجاویز کے مطابق واجبات ادا کیے جائیں گے ،چیئرمین سی ڈی اے ، سی ڈی اے بورڈ اور ایم این ایز کی کمیٹی کی میٹنگ 3 دسمبر کو ہو گی جس میں سی ڈی اے بریفننگ دے گا اور ایم این ایز کی رائے کے مطابق مسائل حل کیے جائیں گے ،راجہ خرم نواز نے کہا کہ میٹنگ کے بعد سی ڈی اے کمیٹی میں رپورٹ پیش کرئے گا کہ آیا قائمہ کمیٹی کی تجاویز کے مطابق سی ڈیباے نے عمل کیا بھی ہے یا نہیں کیا ہے،اجلاس میں متاثرین کے نمائندگان راجہ جان عباسی ، راجہ فیضان ، ملک ربنواز ، ملک خلیل ، ملک عثمان ، ملک ظہیر ، ملک عمران بھی موجود تھے

  • ہوم گراؤنڈ پر ایک اور کلین سوئپ، ٹیسٹ چیمپئن شپ کے ٹیبل پر بھارت پاکستان سے نیچے

    ہوم گراؤنڈ پر ایک اور کلین سوئپ، ٹیسٹ چیمپئن شپ کے ٹیبل پر بھارت پاکستان سے نیچے

    ہوم گراؤنڈ پر ایک اور کلین سوئپ کے بعد بھارتی کرکٹ ٹیم ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے پوائنٹس ٹیبل پر پاکستان سے نیچے چلی گئی۔

    بدھ کو جنوبی افریقا نے گوہاٹی ٹیسٹ میں بھارت کو 408 رنز کے بھاری مارجن سے شکست دے کر سیریز میں 0-2 سے کلین سوئپ مکمل کر لیا،بھارت کو دوسری اننگز میں 549 رنز کا ہدف ملا، لیکن پوری بھارتی ٹیم صرف 140 رنز پر ڈھیر ہوگئی،یوں جنوبی افریقا نے 25 سال بعد بھارتی سر زمین پر ٹیسٹ سیریز جیتنے کا اعزاز حاصل کرلیا،بھارت کو گوتم گمبھیر کی کوچنگ میں دوسری بار گھر پر کلین سوئپ کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے قبل 2024 میں نیوزی لینڈ نے بھی بھارت کے غرور کو خاک میں ملایا تھا۔

    جنوبی افریقا کے خلاف کلین سوئپ کے بعد بھارتی کرکٹ ٹیم ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے پوائنٹس ٹیبل پر پاکستان سے نیچے چلی گئی۔ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے پوائنٹس ٹیبل کے مطابق آسٹریلیا پہلے، جنوبی افریقا دوسرے اور سری لنکا تیسرے نمبر پر ہے۔پاکستان کا ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے پوائنٹس ٹیبل پر چوتھا جبکہ بھارت کا پانچواں نمبر ہے۔

  • وزیراعظم کی بحرین کے ولی عہد سے ملاقات

    وزیراعظم کی بحرین کے ولی عہد سے ملاقات

    وزیراعظم پاکستان نے آج منامہ میں بحرین کے ولی عہد، بحرینی افواج کے نائب سپریم کمانڈر اور وزیراعظم شہزادہ سلمان بن حمد الخلیفہ سے ملاقات کی

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف کو منامہ میں قصر القضیبیہ پہنچنے پر گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ وزیر اعظم نے پرتپاک استقبال پر شہزادہ سلمان بن حمد الخلیفہ کا شکریہ ادا کیا اور دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں بحرین کی قیادت کو سراہا۔ وزیراعظم نے بحرین کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 2 سالہ مدت (2026-2027) کے لیے غیر مستقل رکنیت حاصل کرنے پر مبارکباد دی اور اس دورانیے میں باہمی تعاون مزید مضبوط کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اظہار کیا۔ملاقات میں اقتصادی تعاون گفتگو کا مرکز رہا۔ وزیر اعظم نے دوطرفہ تجارت کو بڑھانے کے امکانات کو اجاگر کیا، جو اس وقت 550 ملین امریکی ڈالر سے زیادہ ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور بحرین کے درمیان دو طرفہ تجارت کو تین سالوں کے اندر 1 بلین امریکی ڈالر تک لے جایا جائے گا۔ اس ہدف کا حصول پاکستان-جی سی سی فری ٹریڈ ایگریمنٹ، جو کہ اپنے حتمی مراحل میں ہے اور حال ہی میں ویزا کی شرائط میں نرمی جیسے اقدامات کے ذریعے کیا جائے گا۔ انہوں نے بحرینی سرمایہ کاروں کو فوڈ سیکیورٹی، آئی ٹی، تعمیرات، کان کنی اور معدنیات، صحت، قابل تجدید توانائی اور سیاحت میں مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے کراچی/گوادر اور خلیفہ بن سلمان پورٹ کے درمیان بندرگاہ سے بندرگاہ تک رابطے بڑھانے کی تجویز بھی دی۔

    وزیراعظم نے 150,000 سے زائد پاکستانی کمیونٹی کے لیے بحرین کی حمایت کو تسلیم کیا اور مزید ہنر مند افرادی قوت فراہم کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کی تصدیق کی۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم، تکنیکی تربیت، اور ڈیجیٹل گورننس میں مزید تعاون کا خیرمقدم کیا۔ علاوہ ازیں وزیراعظم نے اسلام آباد میں کنگ حمد یونیورسٹی کی تعمیر اور پاکستانی شہریوں کی رہائی اور وطن واپسی میں سہولت فراہم کرنے پر بحرین کا شکریہ ادا کیا۔

    ملاقات میں دفاعی اور سیکیورٹی تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں فریقین نے تربیت، سائبر سیکیورٹی، دفاعی پیداوار اور معلومات کے تبادلے میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔دونوں رہنماؤں نے غزہ کی حالیہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا، اور اس بات پر اتفاق کیا کہ غزہ کے عوام کے لیے جو کئی دہائیوں سے مصائب کا شکار ہیں، امن و استحکام کا قیام انتہائی خوش آئند ہے، جس کے غزہ کے عوام عرصہ دراز سے منتظر تھے۔ملاقات اس اعتماد کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی کہ بات چیت کے ٹھوس نتائج برآمد ہوں گے اور سٹریٹجک، اقتصادی، سیکورٹی اور عوام سے عوام کے درمیان تعلقات کو مزید بلند کیا جائے گا۔

  • آصفہ بھٹو  سے جرمنی کے قونصل جنرل کی ملاقات

    آصفہ بھٹو سے جرمنی کے قونصل جنرل کی ملاقات

    اسلامی جمہوریہ پاکستان کی خاتون اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری سے جرمنی کے قونصل جنرل تھامس شولٹز کی اپنی اہلیہ کاٹیا ہویزل کے ہمراہ ملاقات ہوئی ہے

    رکن قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری اور جرمنی کے قونصل جنرل تھامس شولٹز کے درمیان باہمی دلچسپی کے امور اور دو طرفہ تعاون کے مختلف مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا، آصفہ بھٹو زرداری نےصحت، تعلیم اور خواتین کو بااختیار بنانے کے فروغ کے سلسلے میں باہمی تعاون کے فروغ پر زور دیا،آصفہ بھٹو زرداری کے ہمراہ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، صوبائی وزیر تعلیم سردار شاہ، سینیٹر شیری رحمان اور سینیٹر قرۃ العین مری بھی موجودتھے.