Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پی ٹی آئی حکومت نے بھی نام بدل کر امداد پہنچانے کیلئے بی آئی ایس پی استعمال کیا۔بلاول

    پی ٹی آئی حکومت نے بھی نام بدل کر امداد پہنچانے کیلئے بی آئی ایس پی استعمال کیا۔بلاول

    پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ مقابلہ کسی دوسرے صوبے یا شہر سے نہیں ملک سے ہوتا ہے جس میں ہم نمبر ون ہیں۔

    کراچی میں گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھاکہ غزہ میں بچوں کی نسل کشی کی گئی، غزہ میں صحافیوں ،ڈاکٹرز اور نرسز کی بھی نسل کشی کی گئی، غزہ میں جنگ بندی معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہیں اورامید ہے غزہ میں جنگ بندی برقرار رہے گی، تاریخ گواہ ہے اب تک سب سے زیادہ سیز فائر اسرائیل نے ہی توڑے ہیں، امید ہے کہ پوری امت مسلمہ دیکھے گی یہ سیز فائر نہ توڑا جائے، ڈر ہے ، خوف ہے کہ ایسا نہ ہو کہ اس بار بھی دھوکا دیا جائے،خاص طورپر صدر ٹرمپ نے وزیراعظم کو خطاب کی دعوت دی یقیناً یہ سب کو پسند آیا ہوگا، خیرپورکا اکنامک زون دنیا کے بہترین اکنامک زونز میں موجود ہے، سندھ حکومت نے قائم علی شاہ کے دور میں یہ خصوصی اکنامک زون شروع کیا، یہ سندھ حکومت کا ایک کارنامہ ہے جو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ملک کی کامیابی ہے اور ہمیں اس کامیابی پر فخر ہونا چاہیے، آپ کا مقابلہ کسی اور صوبے اور شہر سے تو ہے ہی نہیں، مقابلہ کسی دوسرے صوبے یا شہر سے نہیں ملک سے ہوتا ہے جس میں ہم نمبر ون ہیں، بی آئی ایس پی کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے، دنیا کے بڑے ملکوں کے پاس ایسا پروگرام نہیں جو آپ کے پاس ہے، پی ٹی آئی حکومت نے بھی نام بدل کر امداد پہنچانے کیلئے بی آئی ایس پی استعمال کیا۔

    پی پی چیئرمین بلاول زرداری کا کہنا تھاکہ موسمی تبدیلی سے جو نقصان ہم اٹھا رہے ہیں اس میں ہمارا ہاتھ نہیں ہے، پی ڈی ایم حکومت کی تاریخ میں یاد رکھا جائےگا کہ لوسٹ اینڈ ڈیمج فنڈ غریب ممالک کا حق ہے، لوسٹ اینڈ ڈیمج فنڈ کی بدولت سندھ میں بیس لاکھ گھر تعمیر کررہے ہیں، خدا نخواستہ کسی اور سے نہیں سندھ حکومت دنیا سے مقابلہ کرتی ہے،

  • ٹی ایل پی واقعہ،جعلی خبروں کےخلاف کاروائی کی تیاری

    ٹی ایل پی واقعہ،جعلی خبروں کےخلاف کاروائی کی تیاری

    حکومت پاکستان نے ٹی ایل پی واقعے پر جعلی خبروں کے خلاف بڑا ایکشن اعلان کردیا

    فیک نیوز نیٹ ورک بے نقاب، مرکزی کرداروں کی فہرست تیار کرلی گئی۔ملوث افراد کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمات درج ہوں گے،ایف آئی اے سائبر کرائم اور خصوصی یونٹس کی جانب سے فوری گرفتاریاں متوقع ہیں ۔ڈیپ فیک لیب ایکٹو – جعلی ویڈیوز/ آڈیوز کی فارنزک جانچ شروع کردی گئی،سوشل پلیٹ فارمز کو نوٹس میں کہا گیا ہے کہ فیک مواد 24 گھنٹے میں ہٹایا جائے۔ خلاف ورزی پر اکاؤنٹس مستقل معطلی کی سفارش کی گئی ہے۔ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز جھوٹ پر زیرو ٹالرنس پالیسی ہے۔اوورسیز نیٹ ورک کی ٹریسنگ اور سفارت خانوں کے ذریعے سخت اقدامات زیر غور ہیں۔بیرونِ ملک ملوث افراد کی انکوائری، قانونی اور سفارتی کارروائی کی تیاری کی جا رہی ہے۔

  • گورنر کی غیر موجودگی میں کل اسپیکر نو منتخب وزیراعلیٰ سے حلف لیں، عدالت

    گورنر کی غیر موجودگی میں کل اسپیکر نو منتخب وزیراعلیٰ سے حلف لیں، عدالت

    وزیر اعلی سہیل آفریدی کے حلف کا معاملہ ،چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنانا شروع کردیا

    عدالت نے فیصلے میں کہا کہ گورنر کے پی نئے وزیر اعلیٰ سے 15 اکتوبر بدھ کو شام 4 بجے حلف لیں،اگر گورنر حلف نہیں لیتے تو پھر اسپیکر نئے وزیر اعلیٰ سے حلف لیں،

    قبل ازیں پشاور ہائیکورٹ نے سہیل آفریدی کے بطور وزیر اعلیٰ حلف برداری کیلئے درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا، جو اب سنا دیا گیا ہے،چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے کہا کہ 90 نمائندوں کے ووٹ سے سُہیل آفریدی وزیراعلیٰ منتخب ہوئے، جہاں تک استعفے کی بات ہے تو جب گورنر نے وزیراعلیٰ کا استعفیٰ وصول کر لیا تو وزیراعلیٰ مستعفی تصور ہو گا، میرے پاس تمام حقائق آ گئے ہیں، علی امین گنڈاپور مستعفی ہو چکے ، گورنر کے خط سے فرق نہیں پڑتا،

    وکیل گورنر خٰیبر پختونخوا نے کہا کہ گورنر کے لئے انتظار کریں، کل تک وہ آ جائیں تو سب ہو جائے گا، نئے وزیر اعلیٰ کی حلف برداری تک پرانا وزیر اعلیٰ دفتر چلائے گا،چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے کہا کہ وہ تو تب ہو گا، جب الیکشن نہیں ہوا ہو گا، یہاں تو الیکشن ہوا ہے،

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے نومنتخب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی حلف برداری کےلیے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کر فیصلہ کر لیا۔پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی، ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا ہے کہ گورنر پشاور میں موجود نہیں اور گورنر کی غیر موجودگی میں چیف جسٹس کے پاس اختیار ہے کہ حلف برداری کے لیے کسی کو نامزد کریں،

  • وزیر اطلاعات آزادکشمیر  نے استعفیٰ دے دیا

    وزیر اطلاعات آزادکشمیر نے استعفیٰ دے دیا

    وزیر اطلاعات آزادکشمیر مظہر سعید شاہ نے اپنی وزارت سے استعفیٰ دے دیا۔

    مظفر آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مظہرسعید شاہ نے وزیر اطلاعات آزادکشمیر کے عہدے سے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کیا کہا،میں ناگزیر وجوہات کی بنا پر استعفیٰ دے رہا ہوں اور تعاون کرنے پر تمام صحافیوں اور وزارت اطلاعات کے عملے کا شکر گزار ہوں، آپریشن بنیان مرصوص سمیت ہرطرح کے معاملات میں اللہ نے ہمیں سرخرو کیا، قومی معاملات اور عوامی مفادات کےمطابق اپنی خدمات پیش کیں،دنیا کے 45 ممالک کے سامنے غزہ کے ساتھ کشمیر کا مقدمہ بھی پیش کیا۔

  • سوات میں انسداد پولیو ٹیم پر فائرنگ،وزیراعظم کی مذمت

    سوات میں انسداد پولیو ٹیم پر فائرنگ،وزیراعظم کی مذمت

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نےسوات کے علاقے مٹہ میں انسداد پولیو ٹیم پر دہشتگرد حملے کی شدید مذمت کی ہے
    وزیراعظم نے انسداد پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور لیویز اہلکار عبد الکبیر کی شہادت پر اظہار افسوس کیا،وزیراعظم نے شہید کے لیے دعائے مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی، وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پولیو کے خاتمے کی اہم عوامی خدمت کرنے والوں پر دہشتگرد حملہ ناقابلِ برداشت ہے،حکومت ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے پر عزم ہے،دہشتگردوں کی جانب سے اس قسم کی مزاحمت کے باوجود انسداد پولیو مہم مکمل تحریک کے ساتھ جاری ہے اور پولیو کے مکمل خاتمے تک جاری رہے گی،

    واضح رہے کہ سوات کے تحصیل مٹہ کے علاقے بیاکند روڈ، اینزرگے ڈاگ میں پولیو ٹیم کی سیکیورٹی پر مامور لیوی اہلکار عبدالکبیر کو دہشتگردوں کی فائرنگ سے شہید کر دیا گیا۔پولیس کے مطابق پولیو ٹیم کی خواتین اہلکار گھر کے اندر بچوں کو قطرے پلا رہی تھیں جبکہ لیوی اہلکار باہر سیکیورٹی پر موجود تھا۔ اسی دوران دہشتگردوں نے فائرنگ کی اور فرار ہو گئے

  • سعد رضوی پر راولپنڈی میں بھی مقدمہ درج

    سعد رضوی پر راولپنڈی میں بھی مقدمہ درج

    تحریک لبیک کے سربراہ حافظ سعد رضوی سمیت مقامی قیادت پر تھانہ روات میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔

    راولپنڈی کے تھانہ روات میں مقدمہ انسداد دہشتگردی کی دفعات کے تحت درج کیا گیا جس میں سعدرضوی اور قاری بلال سمیت 21 رہنماؤں اور کارکنوں کو نامزد کیا گیا ہے،مقدمہ پولیس سب انسپکٹر نجیب اللہ کی مدعیت میں درج کیا گیا جس کے متن میں کہا گیا ہے کہ پنجاب حکومت نے جلسے جلوسوں پرپابندی عائد کرکے دفعہ 144 نافذ کررکھی تھی تاہم ٹی ایل پی کارکنان نے شاہراہ بلاک کی اور پولیس سے مزاحمت کرکے ایمونیشن چھیننےکی کوشش کی، ملزمان چک بیلی روڈ جھٹہ ہتھیال میں سڑک بلاک کرکے ٹائر جلا کر احتجاج کر رہے تھے، ملزمان نے ٹی ایل پی کے امیر سعد حسین رضوی کی کال پر روڈ بلاک کی تھی، قاری بلال21 عہدیدران وکارکنان کےہمراہ اسحلہ، پیٹرول بموں،کیلوں والےڈنڈوں سے لیس تھے، ملزمان نے پولیس کو دیکھتے ہی سیدھی فائرنگ شروع کر دی، ملزمان کی فائرنگ سے کانسٹیبل عدنان زخمی ہوئے، قاری دانش وغیرہ نے کانسٹیبل نذیر کو پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا،ملزمان نے پولیس سے آنسو گیس کے شیل چھین لیے اور وردی پھاڑ دی، ملزمان سے 10کیلوں والے ڈنڈے اور 4 پیٹرول بم قبضے میں لیے، ملزمان سےٹی ایل پی کےجھنڈے، پتھر اور چلائی گئی گولیوں کے خول قبضے میں لیے۔

  • سہیل آفریدی کے بطور وزیر اعلیٰ حلف برداری کیلئے درخواست پر فیصلہ محفوظ

    سہیل آفریدی کے بطور وزیر اعلیٰ حلف برداری کیلئے درخواست پر فیصلہ محفوظ

    پشاور ہائیکورٹ نے سہیل آفریدی کے بطور وزیر اعلیٰ حلف برداری کیلئے درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

    چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے کہا کہ 90 نمائندوں کے ووٹ سے سُہیل آفریدی وزیراعلیٰ منتخب ہوئے، جہاں تک استعفے کی بات ہے تو جب گورنر نے وزیراعلیٰ کا استعفیٰ وصول کر لیا تو وزیراعلیٰ مستعفی تصور ہو گا، میرے پاس تمام حقائق آ گئے ہیں، علی امین گنڈاپور مستعفی ہو چکے ، گورنر کے خط سے فرق نہیں پڑتا،

    وکیل گورنر خٰیبر پختونخوا نے کہا کہ گورنر کے لئے انتظار کریں، کل تک وہ آ جائیں تو سب ہو جائے گا، نئے وزیر اعلیٰ کی حلف برداری تک پرانا وزیر اعلیٰ دفتر چلائے گا،چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے کہا کہ وہ تو تب ہو گا، جب الیکشن نہیں ہوا ہو گا، یہاں تو الیکشن ہوا ہے،

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے نومنتخب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی حلف برداری کےلیے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کر فیصلہ کر لیا۔پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی، ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا ہے کہ گورنر پشاور میں موجود نہیں اور گورنر کی غیر موجودگی میں چیف جسٹس کے پاس اختیار ہے کہ حلف برداری کے لیے کسی کو نامزد کریں،

  • سپریم کورٹ،26 ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواست پر سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ،26 ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواست پر سماعت ملتوی

    26ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران جسٹس عائشہ ملک نے کہاکہ کمیٹی کے پاس بنچز بنانے کااختیار ہے، فل کورٹ بنانے کا نہیں،کمیٹی کے اختیارات چیف جسٹس کے اختیارات نہیں کہلائے جا سکتے،دونوں مختلف ہیں، ہم بنچز نہیں بلکہ فل کورٹ کی بات کررہے ہیں۔

    26ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 8رکنی آئینی بنچ نے سماعت کی،جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر ،جسٹس عائشہ ملک ،جسٹس حسن اظہر رضوی ،جسٹس مسرت ہلالی ،جسٹس نعیم اخترافغان اور جسٹس شاہد بلال بھی بنچ میں شامل ہیں، دوران سماعت جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ ایک جانب آپ کہتے ہیں فل کورٹ بنائیں دوسری طرف کہتے ہیں صرف 16جج کیس سنیں،جسٹس عائشہ ملک نے کہاکہ اپیل کا حق دینا ہے یا نہیں یہ اب جوڈیشل کمیشن کے ہاتھ میں آ گیا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ اپیل کا حق تو 16رکنی بنچ میں بھی نہیں ہوگا، سپریم کورٹ رولز 24ججز کی موجودگی میں بنے،جسٹس عائشہ ملک نے کہاکہ رولز سب کے سامنے بنے، میرا نوٹ موجود ہے ،جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ تمام ججز کو رائے دینے کاکہاگیاتھا،ججز کی میٹنگ ہوئی، کچھ شقوں پر معاملہ کمیٹی کو بھیجا گیا تھا، جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا آپ ریکارڈ منگوا رہے ہیں؟ جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ معاملہ کلیئر ہوئے بغیر کیس آگے نہیں چلے گا، مجھے جھٹلایا جارہا ہے،اٹارنی جنرل نے کہاکہ یہ اندرونی معاملہ ہے اس کو یہاں ڈسکس نہ کریں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ کچھ ججز نے رائے دی، کچھ نے نہیں،جسٹس عائشہ ملک نے کہاکہ کمیٹی کے پاس بنچز بنانے کااختیار ہے، فل کورٹ بنانے کا نہیں،کمیٹی کے اختیارات چیف جسٹس کے اختیارات نہیں کہلائے جا سکتے،دونوں مختلف ہیں، ہم بنچز نہیں بلکہ فل کورٹ کی بات کررہے ہیں، جسٹس امین الدین نے کہاکہ کیا چیف جسٹس فل کورٹ بنا سکتے ہیں جس میں آئینی بنچ کے تمام ججز ہوں؟وکیل عابد زبیری نے کہاکہ چیف جسٹس کے پاس ابھی فل کورٹ بنانے کا اختیار موجود ہے،سپریم کورٹ نے کیس سماعت کل تک ملتوی کردی۔

  • بیوی کو قتل کرنے والے ملزم کی سزا کیخلاف اپیل خارج

    بیوی کو قتل کرنے والے ملزم کی سزا کیخلاف اپیل خارج

    بیوی کو قتل کرنیوالے کی عمر قید کی سزا کالعدم قرار دینے کی اپیل خارج کر دی گئی

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امجد رفیق نے کہا کہ خواتین معاشرے کا پسا ہوا طبقہ ہے قوانین متعارف کروانے سے ان کی زندگیوں کو بچایا جا سکتا ہے ، عدالت نے اپنی بیوی کو بچوں کے سامنے چھریوں کے وار سے قتل کرنے کے جرم میں عمر قید کی سزا کالعدم قرار دینے کی اپیل خارج کردی،لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امجد رفیق نے بارہ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا ۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یہ درد ناک تھا کہ بچوں نے اپنی ماں کو باپ کے ہاتھوں قتل ہوتے دیکھا، یہ مناظر غیر یقینی تھے کہ ایک شوہر اپنی ہی بیوی کو بچوں کے سامنے بے دردی سے قتل کر رہا تھا، کیس تاخیر سے رپورٹ کرنے کی وجہ یہ صدمہ ہوسکتا ہے جس میں سے فیملی گزر رہی ہوگی، عدالتی فیصلے میں شوہر کے گھر بیوی کے قتل ہونے پر بار ثبوت شوہر پر عائد کرنے کے لیے قانون سازی کرنے کی تجویز دے دی، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ قانون ساز ایسا کوئی قانون متعارف کرائیں، ایسے قوانین سے خواتین، جو کہ معاشرے کا پسا ہوا طبقہ ہے انکی زندگیوں کو بچایا جاسکے،مجرم کے خلاف تھانہ گجرات پولیس نے 2020 میں قتل کا مقدمہ درج کیا، پراسکیوشن اپنا کیس کامیابی کے ساتھ ثابت کرنے میں کامیاب رہی، مجرم نے اپنی اہلیہ کو چھری کے وار کرکے قتل کیا،مجرم نے 342 کے بیانات میں بتایا کہ وقوعہ کے وقت گھر میں موجود نہیں تھا، مجرم نے کہا کہ وقوعہ کے وقت وہ سیمنٹ فیکٹری میں جاب پر تھا لیکن مجرم نے اپنی صفائی میں فیکٹری سے کوئی گواہ یا سٹاف کا بندہ پیش نہیں کیا، مجرم نے فیکٹری کا کوئی دستاویزی ثبوت بھی پیش نہیں کیا،فرانزک رپورٹ کے مطابق مجرم سے برآمد ہونے والی چھری پر اہلیہ کا خون تھا، مختلف رپورٹس سے ثابت ہوتا ہے کہ مجرم جائے وقوعہ پر موجود تھا، یہ حقیقت ہے کہ میاں بیوی کا رشتہ پیار محبت سے مزید مضبوط ہوتا ہے مگر جب اس رشتے میں غلط فہمی یا بدسلوکی ہوتی ہے تو خاندان کے بڑے اس کو دور کرتے ہیں،عدالت نے مجرم کی سزا کالعدم قرار دینے کی اپیل خارج کردی۔

  • حافظ سعد رضوی کا سراغ لگا لیا گیا

    حافظ سعد رضوی کا سراغ لگا لیا گیا

    قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ سعد حسین رضوی اور ان کے بھائی انس رضوی کا سراغ لگالیا ہے۔

    نجی ٹی وی کے مطابق ، ذرائع کے مطابق دونوں کی گرفتاری کے لیے کارروائی کسی بھی وقت عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سعد رضوی اور انس رضوی کے زخمی ہونے سے متعلق اطلاعات کی تاحال تصدیق نہیں ہو سکی۔ حکام نے اپیل کی ہے کہ اگر وہ زخمی ہیں تو فوری طور پر خود کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کریں تاکہ انہیں طبی امداد فراہم کی جا سکے۔

    دوسری جانب پولیس ذرائع کے مطابق مریدکے میں ٹی ایل پی کارکنوں کے پرتشدد احتجاج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے کے بعد پولیس نے انتشار پسند مظاہرین کو منتشر کر دیا ہے تاہم جھڑپوں کے دوران ایک پولیس افسر شہید جبکہ درجنوں اہلکار زخمی ہوئے۔ذرائع کے مطابق واقعہ 12 اور 13 اکتوبر کی درمیانی شب پیش آیا جب انتظامیہ نے مظاہرین سے مذاکرات کی کوشش کی۔ حکام نے احتجاج کو کم متاثرہ مقام پر منتقل کرنے کی تجویز دی، مگر ٹی ایل پی قیادت نے مذاکرات کے دوران ہجوم کو مزید اکسانا شروع کر دیا۔پولیس کے مطابق مشتعل مظاہرین نے پتھراؤ، کیلوں والے ڈنڈوں اور پیٹرول بموں سے حملے کیے۔ انہوں نے پولیس اہلکاروں سے اسلحہ چھین کر اسی سے فائرنگ بھی کی۔ ابتدائی فرانزک اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق فائرنگ میں استعمال ہونے والی گولیاں وہی تھیں جو چھینے گئے اسلحے سے چلائی گئیں۔

    پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ہجوم نے کم از کم 40 سرکاری و نجی گاڑیاں جلا دیں جبکہ کئی دکانوں کو بھی آگ لگا دی۔ جھڑپوں کے دوران 48 پولیس اہلکار زخمی ہوئے جن میں سے 17 کو گولیوں کے زخم آئے۔ زخمی اہلکاروں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کر کے طبی امداد دی جا رہی ہے۔ابتدائی معلومات کے مطابق تصادم میں 3 ٹی ایل پی کارکن اور ایک راہ گیر جاں بحق ہوئے جبکہ 30 کے قریب شہری زخمی ہوئے۔ عینی شاہدین کے مطابق مشتعل مظاہرین نے یونیورسٹی کی بس سمیت متعدد گاڑیاں اغوا کرکے احتجاج میں استعمال کیں اور بعض گاڑیاں عوام کو کچلنے کے لیے بھی دوڑائی گئیں۔پولیس ذرائع کے مطابق شرپسند عناصر نے پولیس پر پتھروں، پیٹرول بموں اور کیلوں والے ڈنڈوں سے منظم حملے کیے اور مختلف مقامات سے اندھا دھند فائرنگ بھی کی۔ پولیس نے متعدد ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ مزید کارروائیاں جاری ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ایک منظم تشدد کی کارروائی تھی جس میں قیادت نے ہجوم کو اکسانے کا کردار ادا کیا۔ قیادت خود فرار ہو گئی اور شہریوں و ریاست کو خطرے میں ڈال دیا۔ پولیس ترجمان کے مطابق ہتھیار چھیننا، گاڑیاں جلانا اور شہریوں کو نقصان پہنچانا کسی بھی طرح پرامن احتجاج نہیں کہلاتا۔