Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بشریٰ بی بی کے خلاف 29 مقدمات کا ریکارڈ طلب

    بشریٰ بی بی کے خلاف 29 مقدمات کا ریکارڈ طلب

    انسداد دہشت گردی عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف 29 مقدمات کا ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

    اے ٹی سی راولپنڈی کے جج امجد علی شاہ نے بشریٰ بی بی کیخلاف26 نومبر احتجاج کیسز کے حوالے سے کیس کی سماعت کی، دوران سماعت وکلا مصروفیت کے باعث عدالت میں پیش نہیں ہو سکے جبکہ پولیس بھی ریکارڈ نہیں لائی،عدالت نے بشریٰ بی بی کے خلاف 29 مقدمات کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے عبوری ضمانتوں میں 4 نومبر تک توسیع کر دی،دوران سماعت جج امجد علی شاہ نے حکم دیا کہ آئندہ تاریخ پر تمام 29 مقدمات کا ریکارڈ پیش کیا جائے۔ عدالت نے فریقین وکلا کو بھی آئندہ تاریخ پر حتمی دلائل پیش کرنے کی ہدایت کی، جبکہ پولیس کو جیل میں بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے تفتیش بھی مکمل کرنے کا حکم دیا۔

  • علیمہ خان کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

    علیمہ خان کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

    انسداد دہشت گردی عدالت نے سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم جاری کردیا۔

    تھانہ صادق آباد میں درج 26 نومبر ڈی چوک احتجاج کیس کے سلسلے میں انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے،تھانہ صادق آباد احتجاج کیس میں آج علیمہ خان پر فرد جرم عائد ہونا تھی، تاہم علیمہ خان عدالت میں پیش نہیں ہوئیں، جس پر عدالت نے حاضری معافی کی درخواست مسترد کردی اور وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے علیمہ خان کو گرفتار کرکے کل بدھ 15 اکتوبر کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔

    دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ طلبی کے باوجود بار بار پیش نہ ہونا عدالتی امور میں رکاوٹ ڈالنا ہوتا ہے۔عدالت نے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کے آرڈرز فوری تفتیشی آفیسر کو فراہم کرنے کا حکم دیا۔

  • سوشل میڈیا پروپیگنڈا سےنوجوانوں اور ریاست کے درمیان فاصلے بڑھائے گئے،وزیراعلیٰ بلوچستان

    سوشل میڈیا پروپیگنڈا سےنوجوانوں اور ریاست کے درمیان فاصلے بڑھائے گئے،وزیراعلیٰ بلوچستان

    وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے حالات کی خرابی کے پیچھے بھارتی ایجنسی “را” کا واضح کردار ہے۔

    وہ 17 ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ دشمن پاکستان کو کیک کی طرح ٹکڑوں میں بانٹنا چاہتے ہیں۔ بلوچستان میں غیر متوازن ترقی کا غلط تاثر جان بوجھ کر پیدا کیا گیا۔ پہلا فراری کیمپ 21 جون 2002 کو قائم کیا گیا، جس سے دہشت گردی کو فروغ ملا،سوشل میڈیا کے پروپیگنڈا کے ذریعے نوجوانوں اور ریاست کے درمیان فاصلے بڑھائے گئے، تاہم حکومت نوجوانوں کے گلے شکوے سننے کے لیے جامعات اور ہر فورم پر جا رہی ہے۔ علیحدگی پسند بھارت سے خوش ہیں مگر پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، ناراض بلوچ کی اصطلاح دہشت گردی کو جواز فراہم کرنے کے لیے متعارف کرائی گئی، جبکہ ملک دشمن عناصر کا مقصد پاکستان کو نقصان پہنچانا اور تقسیم کرنا ہے۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف فوج کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ جنگ ہے۔ سیاست سے زیادہ اہم ریاست پاکستان ہے۔ بلوچستان حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اپنی ذمے داری سمجھ کر اپنایا ہے اور اس بارے میں اس کا مؤقف دوٹوک اور واضح ہے ، بلوچ عوام کو بند گلی میں دھکیلا جا رہا ہے، جبکہ لاحاصل جنگ سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ گورننس کی بہتری اور اصلاحات کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں، اور صحت و تعلیم کے شعبوں میں نمایاں بہتری سامنے آ رہی ہے،سیکیورٹی فورسز ایسے علاقوں میں کارروائیاں کر رہی ہیں جہاں دشمن اور دوست کی پہچان مشکل ہے۔واضح دشمن کے خلاف کارروائی آسان، لیکن اندرونی صفوں میں موجود دشمن سے نمٹنا زیادہ مشکل ہے، واضح دشمن کے خلاف حالیہ کارروائی پوری قوم نے اپنی آنکھوں سے دیکھی۔

  • حافظ سعد رضوی احتجاج کے دوران کیسے نکلے؟ ویڈیو سامنے آ گئی

    حافظ سعد رضوی احتجاج کے دوران کیسے نکلے؟ ویڈیو سامنے آ گئی

    مرید کے میں تحریک لبیک پاکستان کے مارچ پر پولیس کاروائی کے بعد تحریک لبیک کے سربراہ حافظ سعد رضوی کہاں ہیں اس پر چہ میگوئیاں جاری تھیں کہ انہیں گرفتار کیا گیا یا وہ روپوش ہیں تا ہم اب ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں حافظ سعد رضوی کو خود جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے

    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حافظ سعد رضوی گاڑیوں کے پاس سے گزر رہے ہیں اور انہوں نے منہ لپیٹا ہوا ہے اپنا چہرہ چھپایا ہوا ہے جبکہ انکے پیچھے کارکنان کی بڑی تعداد موجود ہے


    مریدکے دھرنا منتشر کردیا گیا، پولیس نے متعدد ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے،حافظ سعد رضوی اور چند دیگر رہنما موقع سے فرار ہونے میں کامیاب رہے،ملزمان کی تلاش کے لیے پولیس کا سرچ آپریشن جاری ہے، یہ کارروائی منظم تشدد کا حصہ تھی جس میں قیادت نے ہجوم کو اکسانے کا کردار ادا کیا اور پھر فرار ہو کر شہریوں اور ریاست کو خطرے میں ڈال دیا

    قبل ازیں مرید کے میں تحریک لبیک پاکستان کے رہنماؤں اور کارکنان پر مقدمہ درج کرلیا گیا،پولیس کے مطابق تھانہ مرید کے سٹی میں پولیس کے سب انسپکٹر محمد افضل کی مدعیت میں ٹی ایل پی قائدین اورکارکنان پر مقدمہ درج کیا گیا ہے مقدمے میں قتل، اقدام قتل، اغوا، ڈکیتی اور کار سرکار میں مداخلت سمیت 32 دفعات شامل ہیں،مقدمے میں امیرٹی ایل پی سعدرضوی اور انس رضوی کو بھی نامزد کیا گیا ہے، مقدمے میں ٹی ایل پی کے دیگر رہنما علامہ فاروق الحسن، مولاناسجاد، مفتی وزیرعلی کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق مرید کے میں گروہ کو منتشر کرنے کی کارروائی شروع ہوئی تو مذہبی جماعت کے کارکنوں نے پتھراؤ اور پیٹرول بموں کا استعمال کیا اور اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک ایس ایچ او شہید اور 48 اہلکار زخمی ہو گئے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنے دفاع میں محدود کارروائی کرنا پڑی، مذہبی جماعت کے 3 کارکن اور ایک راہگیر جاں بحق ہوا جب کہ 8 افراد زخمی ہوگئے، ہنگامہ آرائی کے دوران 40 سرکاری اور پرائیویٹ گاڑیوں کو آگ لگائی گئی، متعدد افراد گرفتار کرلیے گئے جبکہ علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

  • ریاستی دہشتگردی میں ملوث بھارت کا افغان طالبان کے ساتھ گٹھ جوڑ بے نقاب

    ریاستی دہشتگردی میں ملوث بھارت کا افغان طالبان کے ساتھ گٹھ جوڑ بے نقاب

    ریاستی دہشتگردی میں ملوث بھارت کا افغان طالبان کے ساتھ گٹھ جوڑ بے نقاب ہو گیا

    بھارت پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے منافقت کی کسی حد تک جا سکتا ہے،بھارت اقوام متحدہ میں متعدد بار افغانستان کی سرزمین کو دہشتگردی کیلئے استعمال ہونے کے الزامات عائد کرتا رہا،بھارت نے ریاستی دہشت گردی کی سرپرستی کے لیے انہی افغان طالبان حکومت سے اپنے مفادات کے لیے ہاتھ ملا لیا،افغان طالبان حکومت کے وزیر خارجہ کا دورہ بھارت اور پھر پاکستان پر حملہ اس بات کا قوی ثبوت ہے ،پاکستان متعدد بار شواہد کے ساتھ یہ بات ثابت کرچکا ہے کہ بھارت فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کا سہولت کار ہے،مفاد پرست مودی کے افغان طالبان سے ہاتھ ملانے پر پورا بھارت اور اپوزیشن جماعت اس کیخلاف سراپا احتجاج ہیں

    بھارتی اپوزیشن نے مودی کی دوغلی پالیسی اور اخلاقی پستی پر سخت سوالات اٹھا دیئے،مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اس حوالے سے کہا کہ طالبان کو دہشت گرد کہنے والے آج ان سے بات چیت کر رہے ہیں،میرا سوال ہے کہ مودی اپنے ہی شہریوں کے ساتھ دشمنی کیوں کر رہے ہو؟ آپ کے لوگ کل تک داڑھی والوں کی داڑھیاں نوچتے تھے، ٹوپیاں سر سے ہٹاتے تھے،آج بڑی پگڑی والے آئے ہیں اور آپ ان کے سامنے ہاتھ جوڑ کے کھڑے ہیں،

    بھارت ایک طرف مسلمانوں پر ظلم کر رہا ہے تو دوسری طرف افغان طالبان حکومت سے مذاکرات کر رہا ہے،یہ گٹھ جوڑ مودی حکومت کی منافقانہ پالیسی کو بھی بے نقاب کرتا ہے ،افغان طالبان حکومت سے گٹھ جوڑ کے ذریعے بھارت پاکستان میں اپنی پراکسز کی سہولت کاری کرنا چاہتا ہے

  • افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کے خلاف پوری قوم متحد، پاک فوج سے یکجہتی کا اظہار

    افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کے خلاف پوری قوم متحد، پاک فوج سے یکجہتی کا اظہار

    افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کے خلاف پوری قوم متحد، پاک فوج سے یکجہتی کا اظہارکیا ہے

    ملک بھر سے عوام نے افغان طالبان کے جارحانہ حملوں کی پُر زور مذمت کی ہے،پوری قوم نے متحد ہو کر پاک فوج کے شانہ بشانہ ملکی دفاع کے عزم کا اعادہ کیا ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ افغان شہریوں کو بھائی مانا ہے اور انہیں ایک بہتر ماحول فراہم کیا ہے، دشمن کی ایما پر افغانستان کے پاک فوج پر حملوں کی اجازت ہرگز قبول نہیں،بھارت کی عبرتناک شکست کے بعد افغانستان کو اپنی حدود میں رہنا چاہیے،40 سال پناہ دینے کے باوجود اگر افغانستان نے جنگ کی تو بھارت سے بھی سخت جواب دیا جائے گا، افغانستان میں موجود دہشت گردوں کو گرفتار کرکے پاکستان کے حوالے کیا جائے، افغانستان اپنی سرزمین کو پاکستان کی مخالفت کے لیے استعمال نہ ہونے دے، افغانستان میں موجود دہشت گرد پناہ گاہوں کے خلاف کارروائی ضروری ہے، ایک غیر مسلم ملک کے ساتھ مل کر اپنے ہی ہم مذہبوں کا خون بہانا افسوسناک عمل ہے،افغانستان بھارت کے اشاروں پر پاکستان پر حملے کرنا ترک کرے، اگر بھارت کی ایسی حرکتیں جاری رہیں تو پوری قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ دشمن کا مقابلہ کرے گی،پوری قوم افغانستان کے جارحانہ حملے کی پرزور مذمت کرتی ہے، ہمارے بہادر جوانوں نے بھارت کی طرح افغانستان کی جارحیت کا بھی منہ توڑ جواب دیا،
    اگر افغانستان نے حملہ کرنے کی غلطی دوبارہ کی، تو اس سے بھی سخت جواب دیا جائے گا، شہری

    حال ہی میں پاک فوج کے مؤثر جواب کے بعد بھارت کی عالمی سطح پر رسوائی ہوئی، شہری

    ملکی سرحدوں کے دفاع کیلئے عوام پاک فوج کو بھرپور تعاون فراہم کریں گے، شہری

  • لاہور ٹیسٹ،پہلی اننگز،378 کا ہدف،جنوبی افریقہ کی ٹیم 269 پر آؤٹ

    لاہور ٹیسٹ،پہلی اننگز،378 کا ہدف،جنوبی افریقہ کی ٹیم 269 پر آؤٹ

    لاہور ٹیسٹ، جنوبی افریقی ٹیم پہلی اننگز میں 269 پر ڈھیر ہوگئی جس کے بعد پاکستان کو دوسری اننگز میں 109 رنز کی برتری حاصل ہوگئی ہے

    آج کھیل کے تیسرے دن جنوبی افریقی ٹیم پاکستان کے خلاف پہلی اننگز کے اسکور 378 رنز کو اتارنے کےلیے جب میدان میں اتری تو اس کے 6 کھلاڑی پویلین لوٹ چکے تھے جب کہ 216 رنز بن چکے تھے،دن کا آغاز ٹونی ڈی ذورزی نے 81 اور سینورن متھوسوامی نے 6 رنز سے کیا، آج دن کا آغاز ہوتے ہی سینورن متھوسوامی 11 رنز بناکر ساجد خان کا شکار ہوئے، ان کے بعد ٹونی ڈی ذورزی 104 رنز بنا کر نعمان علی کی گیند پر اونچا شاٹ کھیلتے ہوئے شاہین آفریدی کے ہاتھوں میں کیچ تھما بیٹھے،ان کے بعد سنو ران متھو سوامی 11 رنز بنا کر ساجد خان کی گیند پر بلے کے باہری کنارے پر گیند لگنے کے سبب سلپ پر کھڑے سلمان علی آغا کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے، گیسو ربادا بغیر کوئی رن بنائے ساجد خان کا شکار ہوئے۔

    پاکستان کی جانب سے نعمان علی نے 6 وکٹیں اپنے نام کیں جب کہ ساجد خان نے3اور سلمان علی آغا نے ایک وکٹ حاصل کی۔

    یاد رہے کہ لاہور ٹیسٹ میں پاکستان کی پوری ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 378 رنز بناکر آؤٹ ہوئی جس میں امام الحق اور سلمان علی آغا نے 93، 93 رنز اسکور کیے جب کہ وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان نے 75 رنز اور کپتان شان مسعود نے 76 رنز کی اننگز کھیلی۔

  • وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا انتخاب،جے یو آئی پشاور ہائیکورٹ پہنچ گئی

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا انتخاب،جے یو آئی پشاور ہائیکورٹ پہنچ گئی

    جے یو آئی کی جانب سے نو منتخب وزیر اعلیٰ کے انتخاب کا عمل پشاورہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا

    درخواست جے یو آئی کے رکن خیبرپختونخوا اسمبلی لطف الرحمان کی جانب سے دائر کی گئی،درخواست میں کہا گیا ہے کہ علی امین گنڈاپور کااستعفیٰ منظور نہیں ہوا ،سہیل آفریدی کاانتخابی عمل غیرآئینی ہے،عدالت سہیل آفریدی کے بطور وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے عمل کو کالعدم قرار دے،

    قبل ازیں پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لطف الرحمان نے کہا کہ وزیراعلیٰ کا انتخاب غیر قانونی طور پر ہوا ہے، پچھلے وزیراعلیٰ کا استعفیٰ منظور نہیں ہوا، پتا نہیں ان کو کیوں جلدی ہے،گورنر نے علی امین گنڈاپور کو تصدیق کے لیے بلایا ہے، نئے وزیراعلیٰ کے آنے تک پرانا وزیراعلیٰ تو کام کرسکتا ہے،اسپیکر کے کہنے پر ہم نے کاغذات جمع کیے لیکن اجلاس کا بائیکاٹ کیا، گورنر کا خط جب آیا تب ہمیں معلوم ہوا کہ استعفیٰ منظور نہیں ہوا، ہم چاہتے ہیں کہ پچھلے وزیراعلیٰ کا استعفیٰ منظور ہو پھر نیا وزیراعلیٰ منتخب ہو۔

  • خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی دہشتگردوں کیخلاف کامیاب کارروائیاں

    خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی دہشتگردوں کیخلاف کامیاب کارروائیاں

    خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں، دہشت گردوں کے خلاف بڑے آپریشنزز کئے گئے

    ملک کے مختلف حصوں میں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں، اسمگلرز اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بھرپور کارروائیاں کرتے ہوئے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ دوسری جانب کئی علاقوں میں عوام نے افواجِ پاکستان کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے ریلیاں بھی نکالیں۔

    شمالی وزیرستان: اسپین وام میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 23 دہشت گرد ہلاک
    ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے تحصیل اسپین وام کے علاقے ابا خیل اور بوبالی میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر بڑا آپریشن کیا۔ کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔شدید فائرنگ کے تبادلے میں 23 دہشت گرد ہلاک اور 10 زخمی ہوئے۔ منارہ مسجد کے قریب 18 سے 20 عسکریت پسند مارے گئے، جبکہ دیگر علاقوں میں بھی دہشت گردوں کے ٹھکانے نشانہ بنائے گئے۔
    فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا خاتمہ کیا جا سکے۔ حکام نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں قیامِ امن کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری رہیں گے۔

    پاک افغان سرحد: افغان اسمگلرز کی دراندازی ناکام، سات ہلاک
    خیبر پختونخوا کے پاک افغان سرحدی علاقے میں سیکیورٹی فورسز نے افغان اسمگلرز کی دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی۔فائرنگ کے تبادلے میں سات افغان اسمگلرز موقع پر ہی مارے گئے جن کی شناخت اسمٰعیل، یونس، دلبر، عبدالبصیر، عبدالحادی، متی اللہ اور زلمی کے ناموں سے ہوئی ہے۔ذرائع کے مطابق اسمگلرز غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں گشت مزید بڑھا دیا ہے تاکہ آئندہ کسی بھی دراندازی کو روکا جا سکے۔

    باجوڑ: دہشت گرد سے جھڑپ، ایک ہلاک

    باجوڑ کے ماموند علاقے میں سیکیورٹی اہلکاروں اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشت گرد ہلاک ہوگیا۔فورسز کے مطابق دہشت گردوں نے معمول کے گشت کے دوران فورسز پر فائرنگ کی تھی۔ علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

    چترال: افغان جارحیت کے خلاف عوامی احتجاج، پاکستان آرمی سے اظہارِ یکجہتی
    چترال میں افغان سرحدی خلاف ورزیوں کے خلاف بڑی عوامی ریلی نکالی گئی۔شرکاء نے ’’پاکستان زندہ باد‘‘ اور ’’ہندوستان کا دوست غدار‘‘ کے نعرے لگائے اور مسلح افواج کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا۔ریلی میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد، مقامی عمائدین اور سیاسی نمائندوں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے اعلان کیا کہ پاکستان کے عوام اپنی افواج کے ساتھ ہیں اور ملک کے دفاع کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

    خیبر پختونخوا: بھتہ خوری کے 893 مقدمات، 871 گرفتار، 610 افغانستان فرار
    سرکاری اعدادوشمار کے مطابق صوبے میں اب تک 893 مقدمات بھتہ خوری کے درج ہو چکے ہیں۔سی ٹی ڈی کے مطابق بھتہ خور افغان سم کارڈز کے ذریعے تاجروں، سیاستدانوں اور کاروباری شخصیات سے رقوم طلب کر رہے تھے۔اب تک 871 ملزمان گرفتار کیے جا چکے ہیں جبکہ 610 مبینہ طور پر افغانستان فرار ہو گئے ہیں۔حکام نے کہا ہے کہ خفیہ اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھتے ہوئے ان نیٹ ورکس کی جڑیں اکھاڑنے کا عزم کیا گیا ہے۔

    ڈیرہ اسماعیل خان: دہشت گرد حملہ ناکام، فورسز محفوظ
    ڈیرہ اسماعیل خان کے درابن پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع عاشق پوسٹ پر دہشت گردوں نے فائرنگ کی، تاہم سیکیورٹی فورسز نے بروقت جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ ناکام بنا دیا۔فائرنگ کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ حکام نے فورسز کی چوکسی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔

    تیرہ میدان، خیبر: ٹی ٹی پی کے دو بڑے مطالبات
    تیرہ میدان میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے 100 رکنی جرگے کے سامنے دو مطالبات پیش کیے ہیں پاکستان میں شریعت پر مبنی نظام کا نفاذ،سابق فاٹا طرز کے مقامی ڈھانچوں کی بحالی۔جرگہ اب یہ مطالبات حکومتِ پاکستان تک پہنچائے گا، جبکہ مذاکراتی سیزفائر آج رات ختم ہو رہا ہے۔

    سنٹرل کرم: ممکنہ فوجی آپریشن کے خدشے پر نقل مکانی
    مرکزی کرم میں ممکنہ فوجی آپریشن کی اطلاعات کے بعد علاقے سے بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں۔مقامی عمائدین نے حکومت سے متاثرہ خاندانوں کے لیے ریلیف پلان کا مطالبہ کیا ہے۔اس وقت ’’الخدمت فاؤنڈیشن‘‘ متاثرین کو خوراک اور امداد فراہم کر رہی ہے۔

    چاغی: افواج پاکستان کے حق میں عوامی ریلی
    بلوچستان کے ضلع چاغی میں عوام نے افواج پاکستان سے اظہارِ یکجہتی کے لیے بڑی ریلی نکالی۔شرکاء نے افغان جارحیت کی مذمت کی اور وطن کی سلامتی کے لیے اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔ریلی میں قبائلی عمائدین، سیاسی رہنما اور شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔

    خاران: بی ایل اے کا راستہ روکنے کا دعویٰ
    بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے جھنڈے لہرانے والے مسلح افراد نے خاران–نوشکی اور خاران–بسیما ہائی ویز پر دو مقامات پر ناکے لگا کر گاڑیوں کی چیکنگ کی۔سیکیورٹی ادارے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
    خضدار کے زہری شہر اور اردگرد علاقوں میں فوجی ہیلی کاپٹروں اور ڈرونز کے ذریعے دہشت گردوں کے ٹھکانے نشانہ بنائے گئے۔ذرائع کے مطابق کارروائی کا مقصد علاقے میں سرگرم تنظیموں کے نیٹ ورک کا خاتمہ ہے۔تاہم جانی نقصان کی تفصیلات ابھی جاری نہیں کی گئیں۔کیچ کے علاقے گوگدان میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے تین مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا۔گرفتار ہونے والوں میں یحییٰ ولد وحید احمد، شیر جان ولد محمد انور، اور بلال عزیز ولد حاجی عبدالعزیز شامل ہیں۔کارروائی کے دوران ایک رہائش گاہ پر چھاپہ مارا گیا جہاں سے اہم شواہد برآمد ہوئے۔بلوچ ریپبلکن گارڈز (بی آر جی) نے ڈیرہ اللہ یار میں پولیس چوکی کے قریب ریموٹ کنٹرول بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی۔دھماکہ کپاس فیکٹری کے نزدیک مرکزی شاہراہ پر ہوا۔ گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس اہلکاروں کو جانی نقصان پہنچا۔تاہم حکام کی جانب سے سرکاری تصدیق تاحال نہیں کی گئی۔

  • پنجاب کابینہ میں توسیع، دو نئے وزرا نے حلف اٹھا لیا

    پنجاب کابینہ میں توسیع، دو نئے وزرا نے حلف اٹھا لیا

    پنجاب کابینہ میں شامل ہونے والے دو نئے وزرا نے حلف اٹھالیا

    حلف برداری کی تقریب گورنر ہاؤس لاہور میں ہوئی جہاں گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے صوبائی کابینہ میں نئے شامل ہونے والے 2 وزرا سے ان کےعہدوں کاحلف لےلیا،تقریب حلف برداری میں اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان ،صوبائی وزیر مریم اورنگزیب اور نئی تعینات ہونے والی وزیر اعلیٰ کی ایڈوائزر انوشہ رحمان سمیت کابینہ کے دیگر ارکان نے شرکت کی،پنجاب کابینہ میں شامل ہونے والے دو وزرا میں رانا اقبال اور منشااللہ بٹ شامل ہیں۔