Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • افغانستان میں خطرناک قیدیوں کی رہائی،خطے میں دہشتگردی کی نئی لہر کا خدشہ

    افغانستان میں خطرناک قیدیوں کی رہائی،خطے میں دہشتگردی کی نئی لہر کا خدشہ

    افغانستان کی عبوری حکومت نے ایک 3,200 سے زائد ایسے سخت گیر قیدیوں کی سزائیں معاف کر دی ہیں جو عام مجرم نہیں بلکہ دہشتگردی کے نہایت سنگین مقدمات میں سزا یافتہ تھے۔ ان میں خودکش حملہ آوروں کے نیٹ ورکس، بارودی دھماکوں، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور سرحد پار دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث عناصر شامل تھے۔

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق ان قیدیوں کی سزا معافی کے فوراً بعد پاکستان کی جانب منظم اور تیز رفتار نقل و حرکت کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے ، رپورٹ کے مطابق 4,300 مزید قیدیوں کی سزا میں نمایاں کمی کی گئی ہے اور یہ گروہ بھی اگلے مرحلے میں افغانستان سے نکل کر کالعدم تحریک طالبان پاکستان میں شمولیت کے لیے "تیار بیچ” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ معافی پانے والوں میں نہ صرف تجربہ کار شدت پسند شامل ہیں بلکہ ایسے افراد بھی ہیں جو پاکستان میں کارروائیاں کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان میں بارودی مواد کے ماہر، خودکش بمبار تیار کرنے والے، اغوا برائے تاوان نیٹ ورک کے سہولت کار اور سرحدی راستوں سے واقف گائیڈز شامل ہیں۔پاکستانی سکیورٹی حکام کو خدشہ ہے کہ یہ عناصر دوبارہ منظم ہو کر ملک میں دہشتگردی کی نئی لہر کا باعث بن سکتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب افغانستان کے اندرونی حالات تیزی سے خراب ہو رہے ہیں اور قوتِ نافذہ کمزور پڑ چکی ہے۔

    اطلاعات کے مطابق افغانستان میں حکومتی کنٹرول کمزور ہونے کے باعث شدت پسند گروہ تیزی سے خالی جگہوں کو پُر کر رہے ہیں۔ کئی رہائی پانے والے قیدی داعش خراسان میں شمولیت کے قریب بتائے جا رہے ہیں، جو خطے میں بہت بڑے سکیورٹی چیلنج کی نشاندہی کرتا ہے۔سکیورٹی ماہرین کے مطابق اگر یہ گروہ داعش اور ٹی ٹی پی کے ساتھ مل کر سرگرم ہوتے ہیں تو سرحدی علاقوں میں عدم استحکام، حملوں میں اضافہ اور خطے بھر میں دہشتگردانہ نیٹ ورکس کی مضبوطی کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

    پاکستانی سکیورٹی ایجنسیوں نے غیرمعمولی اقدام کرتے ہوئے سرحدی علاقوں میں نگرانی، بھاری نفری کی تعیناتی اور انٹیلیجنس نیٹ ورک کو مزید فعال کر دیا ہے۔ افغانستان سے مشکوک آمد و رفت کی کڑی نگرانی جاری ہے جبکہ ممکنہ اہداف پر حفاظتی اقدامات بڑھا دیے گئے ہیں۔پاکستان کے اعلیٰ حکام اور علاقائی سکیورٹی ماہرین نے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ اور علاقائی طاقتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان کے اس فیصلے کے سنگین اثرات کا فوری نوٹس لیں، کیونکہ یہ اقدام نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی امن و سلامتی کے لیے نیا بھاری خطرہ بن کر اُبھرا ہے۔

  • دہلی دھماکے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم کا دورہ بھارت منسوخ

    دہلی دھماکے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم کا دورہ بھارت منسوخ

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے سکیورٹی خدشات کی وجہ سے بھارت کا دورہ منسوخ کردیا۔

    اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ دنوں بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ہونے والے بم دھماکے کے بعد نیتن یاہو نے ایک بار پھر اپنا دورہ بھارت ملتوی کردیا ہے، اسرائیلی وزیراعظم نے اس سال کے آخر میں بھارت کا دورہ کرنا تھا،اسرائیلی وزیراعظم کی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سمیت دیگر قیادت سے ملاقات ہونا تھی تاہم دورہ منسوخ کر دیا گیا ہے

    اس سے قبل نیتن یاہو نے ستمبر میں ہونے والا ایک روزہ دورہ بھارت بھی منسوخ کردیا تھا جب کہ اسرائیلی وزیراعظم آخری بار سال 2018 میں بھارت کے دورے پر آئے تھے

  • یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم پرحملے بھی ہوں اور ہم تجارت بھی کریں،ترجمان پاک فوج

    یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم پرحملے بھی ہوں اور ہم تجارت بھی کریں،ترجمان پاک فوج

    پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان جب بھی حملہ کرتا ہے تو اعلانیہ کرتا ہے اور کبھی سویلین پر حملہ نہیں کرتا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بریفنگ میں بتایاکہ ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالبان نہیں ہیں، دہشت گردوں میں کوئی تفریق نہیں، پاکستان جب بھی حملہ کرتا ہے تو اعلانیہ کرتا ہے اور کبھی سویلین پر حملہ نہیں کرتا، ہم ریاست ہیں، ریاست کے طور پر ہی ردعمل دیتے ہیں، خون اورتجارت ایک ساتھ نہیں چل سکتے، یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم پرحملے بھی ہوں اور ہم تجارت بھی کریں، ہم افغان عوام کے نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف ہیں، طالبان حکومت ریاست کی طرح فیصلہ کرے، طالبان حکومت نان اسٹیٹ ایکٹرز کی طرح فیصلہ نہ کرے، طالبان حکومت کب تک عبوری رہے گی؟

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے مطالبہ کیاکہ دہشت گردی کے بہت سے واقعات میں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں استعمال ہوئیں لہٰذا نان کسٹم پیڈ گاڑیوں پرفوری پابندی عائد کی جائے، فیض حمید کا ٹرائل قانونی معاملہ ہے اس پر قیاس آرائی نہ کی جائے، جب یہ معاملہ حتمی نتیجے پر پہنچے گا فوری طور پر اعلان کردیا جائے گا۔ سرحد پار سے دہشتگردی کی معاونت سب سے بڑا مسئلہ ہے او پاک ، افغان بارڈر پر اسمگلنگ اور پولیٹیکل کرائم کا گٹھ جوڑ توڑنے کی ضرورت ہے۔ بیرون ممالک سے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ریاست کے خلاف بیانیہ بنارہے ہیں، ہمارا مسئلہ افغان عبوری حکومت سے ہے، افغانستان کے لوگوں سے نہیں، دہشتگردی کے خلاف مربوط جنگ لڑنے کیلئے اپنے گھر کو ٹھیک کرنا ہوگا،افغان رجیم دہشتگرد ٹھکانوں کے خلاف قابل تصدیق کارروائی کرے اور دہشتگردوں کے خلاف قابل تصدیق کارروائی تک بات چیت نہیں ہوگی،پاکستان کی عوام اور افواج دہشتگردوں کے خلاف متحد ہیں اور دہشتگردوں کا آخری دم تک پیچھا کیا جائے گا۔

  • کراچی سندھ کا دل،یہاں ہمارا کام بولتا ہے، شرجیل میمن

    کراچی سندھ کا دل،یہاں ہمارا کام بولتا ہے، شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کی سنجیدہ اور فعال پالیسی کے تحت کراچی میں اس وقت 756ترقیاتی اسکیمیں جاری ہیں جن کا مقصد شہر کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط اور جدید بنانا ہے

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ کراچی سندھ کا دل اور ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے،کراچی میں ہمارا کام بولتا ہےاربوں روپے کے منصوبے جاری ہیں، 756 ترقیاتی منصوبے سندھ حکومت کی عوام دوست ترجیحات اور شفاف حکمرانی کا ثبوت ہیں شہریوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی ہمارا عزم ہے،کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) کی 76 ترقیاتی اسکیموں پر 13 ارب روپے کی لاگت سے کام جاری ہے، جبکہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کی 200 اسکیموں پر 18.36 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، حکومت شہر کو جدید، محفوظ اور سہولیات سے آراستہ بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کر رہی ہے، صوبائی حکومت اہم منصوبوں پر تیزی سے کام کر رہی ہے تاکہ شہر کا انفراسٹرکچر موجودہ دور کی ضروریات کے مطابق بنایا جا سکے۔

    شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ ان منصوبوں کی تکمیل شہریوں کے لیے بڑی سہولت کا باعث بنے گی، اور چیلنجز کے باوجود کوشش کی جا رہی ہے کہ تمام کام مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں۔

  • 27ویں آئینی ترمیم پر مشاورت نہیں کی گئی،مسترد کرتے ہیں،مولانا فضل الرحمان

    27ویں آئینی ترمیم پر مشاورت نہیں کی گئی،مسترد کرتے ہیں،مولانا فضل الرحمان

    جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ جو قوتیں 27 ویں ترمیم لانے میں مُصر تھیں، اُن کی عزت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، عوام میں حکومت کی مقبولیت بڑی تیزی سے گری ہے،

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت نے 27ویں آئینی ترمیم کے دوران جے یو آئی سے مشاورت نہیں کی،جے یو آئی کی مجلس شوری نے 27ویں آئینی ترمیم کو مکمل طور پر مسترد کردیا ہے،27ویں ترمیم میں ہاتھ مروڑ کر دو تہائی اکثریت بنائی، ایک سال پہلے جسے غلط کہا آج وہ کس طرح آئین کا تقاضہ بنا گیا، کیسے جمہوری عمل ٹھہر گیا۔پیپلز پارٹی نے 27 ویں ترمیم پر غیرجمہوری کام کیا۔سب سے پہلے بنیادی مسئلے کو دیکھنا ہو گا، ایک سال قبل 26 ویں آئینی ترمیم لائی گئی، ایک ماہ سے زائد تک جے یو آئی نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کئے،27 ویں آئینی ترمیم میں ان کا فرض تھا کہ اپوزیشن کو اعتماد میں لیتے،پارلیمنٹ میں ہمارے اراکین نے 27 ویں آئینی ترمیم کی مخالفت کی،

  • جی الیون حملہ افغان شہری عثمان شنورای نے کیا،ہدف کچہری تھی،عطا تارڑ

    جی الیون حملہ افغان شہری عثمان شنورای نے کیا،ہدف کچہری تھی،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں کچہری حملے کے ملزمان کو 48 گھنٹوں میں گرفتار کیا گیا، انٹیلیجنس بیورو اور سی سی ڈی نے حملے کے 4 ملزمان کو گرفتار کیا، نور ولی محسود نے دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی کی،خودکش حملہ آور کا اصل ہدف کچہری تھا، لیکن سخت سکیورٹی نے منصوبہ ناکام بنایا۔

    اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ جی الیون حملہ افغان شہری عثمان شنورای نے کیا، عثمان شنواری ننگرہار کا رہائشی ہے،سی ٹی ڈی نے ساجد اللّٰہ عرف شینا، کامران خان، محمد ذالی اور شاہ منیر کو گرفتار کیا ہے، ہینڈلر ساجد اللّٰہ عرف شینا خودکش حملہ آور اور جیکٹ کو لے کر آیا،ساجد اللّٰہ نے 2015ء میں تحریک طالبان افغانستان میں شمولیت اختیار کی، ساجد اللّٰہ نے افغانستان کے اندر مختلف ٹریننگ کیمپس میں تربیت حاصل کی،دہشت گردوں کا ٹارگٹ راولپنڈی اور اسلام آباد تھے، سیکیورٹی کی وجہ سے حملہ آور کسی ٹارگٹ تک نہیں پہنچ سکے، دہشت گردوں کو اسلام آباد کے مضافات میں پہلی جگہ ملی جسے خودکش حملہ آور نے ٹارگٹ کیا،دہشت گردوں نے افغانستان سے تربیت حاصل کی تھی، افغانستان میں موجود نور ولی محسود نے حملے کی منصوبہ بندی کی،2023ء میں ساجد اللّٰہ نے داد اللّٰہ نامی شخص سے ملاقات کی، حملے کی منصوبہ بندی خوارج سرغنہ نور ولی محسود نے اپنے کمانڈر داد اللّٰہ کے ذریعے کی، داد اللّٰہ اس وقت افغانستان میں موجود ہے،ساجد اللّٰہ عرف شینا نے پاکستان واپس آکرخودکش حملہ آور عثمان شنواری سے ملاقات کی۔ ساجد اللّٰہ عرف شینا مرکزی ملزم ہے، یہ تحریک طالبان کا رکن رہا ہے،

    عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ تمام حقائق ہم نے قوم کے سامنے رکھے ہیں، یہ ایک بڑی کامیابی ہے، اس سے دہشت گردی کے خاتمے میں بہت مدد ملے گی، شہریوں کی حفاظت کے لیے ہم تمام تر اقدامات کریں گے۔

  • لڑکی کے بال کاٹنے کا واقعہ،متاثرہ لڑکی سامنے آ گئی، 3ملزمان گرفتار

    لڑکی کے بال کاٹنے کا واقعہ،متاثرہ لڑکی سامنے آ گئی، 3ملزمان گرفتار

    گزشتہ روز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں ایک خاتون پر تشدد اور اس کے بال کاٹے جانے کے واقعے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے ویڈیو میں نظر آنے والے ملزمان کو حراست میں لے لیا ہے، جبکہ متاثرہ لڑکی کا ویڈیو بیان بھی سامنے آ گیا ہے۔

    متاثرہ خاتون نے اپنا نام ایمان بتایا ہے، اس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ڈیڑھ ماہ قبل پیش آیا تھا، اپنے بیان میں اس نے بتایا کہ ثنا نامی لڑکی اور ارمان نامی شخص اسے اس کے گھر سے لے کر مصریال روڈ، کرسچن کالونی میں واقع ایک فلیٹ میں گئے، جہاں اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اس کے بال کاٹے گئے اور ویڈیو بنائی گئی، ملزمان بعد ازاں اسے بحریہ ٹاؤن میں ایک اور فلیٹ میں لے گئے، جہاں اسے مبینہ طور پر اسلحے کے زور پر دھمکایا گیا اور مزید ویڈیو ریکارڈ کی گئی۔ اسے سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔مصریال روڈ کے مقام پر ارمان کے ساتھ درانی، مٹھو اور ایک نامعلوم شخص سمیت 4 افراد موجود تھے، اس کی ویڈیو بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل کی گئی، جس کا علم اسے لوگوں کے ذریعے ہوا۔ اس نے متعلقہ حکام سے ملزمان کے خلاف کارروائی کی اپیل کی ہے۔اسلام آباد پولیس نے متاثرہ لڑکی کو ٹریس کر کے وقوعہ سے متعلق بیان ریکارڈ کیا۔ مختلف مقامات پر چھاپے مار کر ویڈیو میں ملوث افراد کو حراست میں لیا گیا، تاہم دوران تفتیش یہ بات سامنے آئی کہ معاملہ دراصل راولپنڈی کی حدود کا ہے۔

    راولپنڈی میں لڑکی کو حبس بے جا میں رکھ کر تشدد کرنے اور بال کاٹنے کا مقدمہ درج ہونے کے بعد تھانہ نصیر آباد پولیس نے 3 ملزمان کو حراست میں لے لیا۔افسوسناک واقعے میں ملوث ایک خاتون سمیت 2 ملزمان کی گرفتاری کی کوششیں جاری ہیں۔ مقدمے میں 4 ملزمان کو نامزد کیا گیا تھا، جن میں سے 3 کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔پولیس نے ویڈیو بنانے کیلئے استمعال موبائل فون اور بال کاٹنے کیلئے استعمال کی گئی قینچی کی برآمدگی کیلئے ملزمان سے تفتیش شروع کردی ہے۔

  • اسٹیل مل وفاقی ادارہ،بار بار چوری کی وارداتیں، سیکیورٹی آڈٹ کروایا جائے،وقار مہدی

    اسٹیل مل وفاقی ادارہ،بار بار چوری کی وارداتیں، سیکیورٹی آڈٹ کروایا جائے،وقار مہدی

    سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کی ذیلی کمیٹی کے حکم پر سی ای او اسٹیل مل اسد اسلام نے واٹر بورڈ کو ایک ہی روز میں این او سی جاری کرنے کی یقین دہانی کرا دی، جس کے بعد اسٹیل ٹاؤن اور گلشنِ حدید کے رہائشیوں کو پانی کی فراہمی ایک ہفتے میں شروع ہوجائے گی۔

    کمشنر آفس کراچی میں سینیٹر خالدہ اطیب نے سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کی ذیلی کمیٹی کے اہم اجلاس کی صدارت کی۔ دیگر کمیٹی ممبران میں سینیٹر وقار مہدی، سینیٹر مسرور احسن اور سینیٹر حسنیٰ بانو شامل تھیں۔ اجلاس میں کمشنر کراچی سید حسن نقوی بھی موجود تھے۔ یک نکاتی ایجنڈا اجلاس کا مقصد اسٹیل مل کے مسائل کا حل تلاش کرنا تھا۔ سینیٹر وقار مہدی نے کہا کہ پانی نا ہونے کی وجہ سے گلشن حدید اور اسٹیل مل کی کالونیز چار مہینے سے سخت اذیت کا شکار ہیں، اس کیلئے کوئی متبادل سہولت دیں تاکہ اہلیانِ علاقہ کو پانی مل سکے۔ کمشنر کراچی نے جواب دیا کہ میئر کراچی نے پانی کا متبادل پراجیکٹ دیا تھا لیکن کے-الیکٹرک کی وجہ سے وہ آپریشنل نہیں ہو پارہا کیونکہ کے الیکٹرک نے اس کیلئے ایک بڑا بل بنا دیا ہے، کے ای سے درخواست کی گئی تھی کہ اس بل کو کم کریں اور فوری طور پر کنکشن کو بحال کردیں، اگر ادھر کوئی ٹرانسفارمر لگانا ہے یا کوئی سب اسٹیشن فعال کرنا ہے تو فوری تنصیب کردیں، اس کے چارجز سندھ حکومت بعد میں ادا کردے گی۔

    چیف آپریٹنگ آفیسر واٹر بورڈ اسداللہ خان نے کہا کہ پانی کے جن عارضی کنکشن کی بات ہورہی ہے، وہ حدود اسٹیل مل کی ہے، ہمیں این او سی چاہیے کیونکہ درخواست گزار واٹر بورڈ ہے اور جس جگہ پر کنکشن لگنا ہے وہ اسٹیل مل کی جگہ ہے، فوری حل یہ ہے کہ سندھ حکومت کی ہدایت پر ہم نے پمپنگ اسٹیشن بنا دیا، ہم تین کلومیٹر طویل لائن لے کر آگئے، اب ہمیں ایک ریزروائر میں پانی بھیجنا ہے، اسٹیل مل نے اس کی لائٹ بند کی ہوئی ہے، عوام کی سہولت کیلئے سب سے پہلے اسٹیل مل اس کی بجلی بحال کردے، اس دوران کے الیکٹرک نے ہماری درخواست پر سروے کرلیا ہے، جب تک ان کو این او سی نہیں ملتا، کے ای نے ہم سے کہا کہ اسٹیل مل سے این او سی دلوا دے تو ہم وہاں پی ایم ٹی لگوا کر بجلی بحال کردیں گے۔

    سی ای او اسٹیل مل اسد اسلام نے کہا کہ این او سی ہم آج ہی جاری کردیں گے جس پر کمیٹی چیئرپرسن سینیٹر خالدہ اطیب نے کہا کہ این او سی آج کی تاریخ میں جاری کرنے کے ساتھ ہی اس کی کاپی مجھے بھجوائی جائے، پانی بہت ضروری ہے، بنیادی ضرورت میں آتا ہے، یہ مسئلہ فوری حل کیا جائے۔ڈائریکٹر کےالیکٹرک نے کہا کہ سروے پہلے ہی ہوچکا ہے، ایک ٹرانسفامر آنا ہے، 11 کلوواٹ کی لائن جارہی ہے، اس سے ٹرانسفامر جوڑ دیا جائے گا۔ این او سی کے بعد ایک ہفتہ لگے گا ٹرانسفارمر آئے گا، کیبلنگ ہوگی۔ صوبائی محکمہ توانائی ہمیں ادائیگی کی یقین دہانی کرا دے تو ہم فی الفور کام کردیں گے۔

    اسٹیل مل کی اراضی کو ناجائز قابضین سے واگزار کرانے کے معاملے پر سی ای او اسٹیل مل کا کہنا تھا کہ انہیں پولیس فورس کی ضرورت پڑتی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ان قابضین پر ایف آئی ار بھی ہونی چاہیے تاکہ ان کا کریمنل ریکارڈ بنے، اس کے بعد ان کے خلاف ٹھوس کارروائی ہوسکے۔ انہوں نے بتایا کہ اینٹی انکروچمنٹ کمیٹی بھی بنا دی گئی ہے جس میں ایڈیشنل سیکرٹری ہیں، میں ہوں، اگر ڈپٹی کمشنر ملیر ملاقات کیلئے آجائیں تو انہیں ناجائز قابضین کی تفصیلات بتا دی جائیں گی۔کمیٹی چیئرپرسن سینیٹر خالدہ اطیب نے کہا کہ اسٹیل مل کی اراضی پر کوئی ناجائز قبضہ کرلے تو اس پر فوری ایکشن ہونا چاہیے انہوں نے ڈپٹی کمشنر ملیر کو ہدایت دی کہ اپنے تمام وسائل بروئے کار لائیں اور قبضہ مافیا سے سرکاری اراضی واگزار کرائیں۔اس موقع پر سی ای او اسٹیل مل اسد اسلام نے کہا کہ اسٹیل مل کے پاس 1675 ایکڑ اراضی ہے جو غیر انتقال شدہ ہے، وہ ہمارے نام پر منتقل نہیں ہوئی تھی، اس پر وفاقی حکومت اور اسپیشل انوسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل نے فیصلہ کردیا تھا کہ یہ اسٹیل مل کی زمین ہے، آپ اسے اسٹیل مل کے نام پر منتقل کرکے ریکارڈ میں ٹھیک کردیں، ہمیں خطرہ ہے کہ اس زمین بھی قبضہ نا ہوجائے۔

    سینیٹر وقار مہدی نے کہا کہ اس زمین کی دستاویزات ڈی سی ملیر سے اور کمیٹی سے شیئر کریں، انہوں نے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت کی کہ آپ لینڈ ایکویزیشن کی تفصیلات نکالیں، 70 کی دہائی میں کتنی اراضی اسٹیل مل کو دی گئی تھی، کتنی اراضی پر اسٹیل مل بنی اور کتنی اراضی خالی ہے، یہ تمام تفصیلات ہم سے بھی شیئر کیجیے۔ایک موقع پر سینیٹر مسرور احسن نے اعتراض اٹھایا کہ اسٹیل مل میں فنانس کا بیک گراؤنڈ رکھنے والا کوئی عہدیدار نہیں ہے، ہر اجلاس میں ایک نیا عہدیدار مالی معاملات کی تفصیل دینے بیٹھا ہوتا ہے۔ سینیٹر وقار مہدی نے اسفتسار کیا کہ مل سے ہونے والی چوری کی وارداتوں کے بعد ریکوری کتنی ہوچکی ہے؟ ڈپٹی کمشنر ملیر نے بتایا کہ 2024 میں 9 ایف آئی آر ہوئے جس میں 5 میں ریکوری ہوئی 4 میں کوئی نہیں جبکہ 2025 میں 29 ایف آئی آر میں سے 24 میں کچھ نا کچھ ریکوری ہوئی ہے جبکہ 5 میں کوئی ریکوری نہیں ہوئی۔

    چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر خالدہ اطیب نے استفسار کیا کہ اسٹیل مل میں 10 ارب کی چوری ہوئی تھی جس میں ایک ہی شخص ملزم تھا، اس میں کتنی ریکوری ہوئی؟ کیا اس ملزم کو گرفتار کیا گیا؟ اسٹیل مل کے سی ایف او نے جواب دیا کہ وہ کیس ایف آئی اے کے پاس ہے، کیس پیپلز یونین نے داخل کیا تھا۔ سینیٹر وقار مہدی نے کہا کہ کیس آپ لوگوں کو کرنا چاہیے تھا، مال اسٹیل مل کا چوری ہوا، آپ کو پتا ہوگا اس کی کتنی مالیت تھی۔

    سینیٹر خالدہ اطیب نے سوئی گیس حکام کی طرف سے کسی نمائندے کی اجلاس میں شرکت نا کرنے کا سخت نوٹس لیا، انہوں نے کہا کہ کچھ ہفتے پہلے ہی گیس کی ایک بڑی تنصیب چوری ہوئی ہے اور سوئی گیس سے کسی نے اجلاس میں شرکت کی زحمت نہیں کی۔سینیٹر وقار مہدی نے سیکیورٹی افسر سے استفسار کیا کہ ایک ہی جگہ سے دس دفعہ چوری ہوئی، آپ کیا کرتے ہیں؟ انہوں نے ہدایت دی کہ اسٹیل مل کا مکمل سیکیورٹی آڈٹ کروایا جائے، بار بار چوری کی وارداتیں روکنے کیلئے سیکیورٹی خامی کا معلوم ہونا ضروری ہے، اسٹیل مل وفاقی ادارہ ہے، اگر اس کی حفاظت مشکل کام ہے تو ایف سی سے بات کرکے سیکیورٹی لے لیجیے۔

    اجلاس میں مختلف ورکرز یونین کے عہدیداران نے دیگر مسائل بتاتے ہوئے کہا کہ اسٹیل ٹاؤن میں ایک سال سے گیس، چار مہینے سے پانی بند ہے۔ ملازمت سے نکالے گئے افراد کو ان کے واجبات کی ادائیگی نہیں کی گئی، بجلی کے تین ہزار کے بل پر مختلف ٹیکسز لگا کر 72 ہزار روپے بھیجا جارہا ہے۔ کرایہ 805 روپے سے بڑھا کر 17 ہزار روپے کردیا گیا ہے۔ ہمیں نوکری سے نکالا گیا، کیس عدالت میں ہے۔ اپیلیٹ کورٹ نے حکم دیا کہ جب تک آپ ان کو واجبات ادا نہیں کرتے تب تک ان کو ملازم تصور کیا جائے، ان کو تنخواہ جاری کی جائے، دونوں کام نہیں ہوئے۔ اسٹیل مل نے ہائیکورٹ سے اسٹے لے لیا۔ جن لوگوں کو واجبات ادا نہیں ہوتے تب تک ہمارے کرائے اور بل مناسب ہونے چاہئیں۔ واجبات ادا ہوجائیں گے تو ہم مکان بھی ان کے حوالےکرکے چلے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تنخواہ نا ملنے کی وجہ سے محنت کشوں کے بچے کچرا چننے پر مجبور ہیں، فیس کی ادائیگی نا کرنے کی وجہ سے بچوں کو اسکولوں سے نکال دیا گیا، آپ ہمیں نکالنا چاہتے ہیں تو گولڈن ہینڈشیک دیں۔

  • الله اور رسول کی منظوری ہے تو میں عمرے پر جاؤں گا، شیخ رشید

    الله اور رسول کی منظوری ہے تو میں عمرے پر جاؤں گا، شیخ رشید

    سابق وفاقی وزیر ،عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ اللّٰہ کو منظور ہوا تو مجھے عمرے پر جانے کی اجازت ملے گی۔

    لاہور ہائی کورٹ پنڈی بینچ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ حکومت نے میرے کیس میں انٹرا کورٹ اپیل دائر کی ہے، حکومت نے عدالت سے حکم امتناع حاصل کیا ہے، ہمارا کیس آئندہ منگل تک چلا گیا ہے۔

    اس سے قبل ایف آئی اے اور پاسپورٹ امیگریشن حکام کے خلاف شیخ رشید احمد کی رٹ پٹیشن پر سماعت جسٹس صداقت علی خان نے کی،شیخ رشید اپنے وکیل سردار عبدالرزاق خان کے ہمراہ عدالت پیش ہوئے ،دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایف آئی اے اور پاسپورٹ امیگریشن حکام نے سنگل بینچ فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کی ہے، جسٹس رضا قریشی اور جسٹس جواد حسن پر مشتمل ڈویژن بینچ نے سنگل بینچ کا فیصلہ معطل کر کے حکم امتناع جاری کیا،عدالت نے کیس کی مزید سماعت 2 دسمبر تک ملتوی کر دی۔

    واضح رہے کہ عدالت نے شیخ رشید کو عمرے پر جانے دینے کے احکامات دے دیے تھے۔ شیخ رشید نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر روکے جانے کے خلاف رٹ پٹیشن دائر کی ہے۔

  • سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائیاں، دہشتگردی کے دو بڑے منصوبے ناکام

    سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائیاں، دہشتگردی کے دو بڑے منصوبے ناکام

    خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں سیکیورٹی فورسز نے علی مسجد پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع پہاڑی سلسلے میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک اہم انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، جس کے دوران خفیہ ٹھکانے میں موجود خوارج شدت پسندوں کو نشانہ بنایا گیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فورسز کو علاقے میں موجود ایک خفیہ کمپاؤنڈ کے بارے میں ٹھوس معلومات موصول ہوئی تھیں، جس کے بعد فوری اور حکمتِ عملی کے تحت کارروائی کی گئی۔ آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں تین دہشتگرد ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئے۔ حکام کے مطابق مارے گئے دہشتگردوں کا تعلق افغانستان سے تھا۔فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر کمپاؤنڈ کو مکمل طور پر کلیئر کیا اور وہاں سے اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر مواد برآمد کرلیا۔ آپریشن میں کسی سیکیورٹی اہلکار کی جان و مال کا نقصان نہیں ہوا۔ واقعے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے تاکہ دہشتگردوں کے ممکنہ سہولت کاروں اور مزید ٹھکانوں کا سراغ لگایا جاسکے۔

    بلوچستان کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی میں پولیس نے بڑی تباہی کا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے صدر پولیس اسٹیشن کی حدود میں ریلوے ٹریک سے 3.5 کلوگرام دھماکا خیز مواد برآمد کرلیا۔پولیس حکام کے مطابق ٹریک پر نصب مواد کی نشاندہی ہوتے ہی بم ڈسپوزل اسکواڈ کو طلب کیا گیا، جس نے کارروائی کرتے ہوئے دھماکا خیز ڈیوائس کو محفوظ طریقے سے ناکارہ بنا دیا۔ حکام نے تصدیق کی کہ یہ بروقت کارروائی ایک بڑے سانحے سے بچنے کا باعث بنی، کیونکہ چند ہی منٹ بعد جعفر ایکسپریس ٹرین اسی ٹریک سے گزرنے والی تھی۔علاقے کو مکمل طور پر سیل کرکے سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے، جب کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ذمہ دار عناصر تک پہنچنے کے لیے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔یہ دونوں کارروائیاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت حکمتِ عملی اور مؤثر ردِعمل کا نتیجہ ہیں، جنہوں نے دہشتگردی کے سنگین منصوبے ناکام بنا کر شہریوں کی جانیں بچا لیں۔