Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • خیبر پختونخوا اسمبلی اجلاس،سہیل آفریدی نئے وزیراعلیٰ منتخب

    خیبرپختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے اسمبلی کا اجلاس جاری ہے۔

    خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس اسپیکر بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت شروع ہو گیا ہے، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا عمران خان نے جس روز کہا اسی روز اپنے لیڈر کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے استعفیٰ دیدیا، جمہوری عمل کا مذاق نہ بنایا جائے، جو کچھ ہوتا رہا ہے اسے مزید برداشت نہیں کریں گے، 19 ماہ میں جو کچھ کیا وہ سب ریکارڈ پر ہے، جب ہمیں حکومت ملی تو صرف 18 روز کی تنخواہ تھی آج صوبائی خزانے میں 218 ارب روپے موجود ہیں، مجھ سے اپوزیشن کو گلہ ہوگا کہ میں نے انہیں فنڈز نہیں دیے لیکن عوام خوش ہیں کیونکہ میں نے پیسہ عوام پر لگایا۔

    اپوزیشن لیڈر کے پی ڈاکٹر عباد اللہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علی امین گنڈا پور کا استعفیٰ تاحال منظور نہیں ہوا، ایک وزیر اعلیٰ کے ہوتے ہوئے دوسرے وزیر اعلیٰ کا انتخاب نہیں ہو سکتا، گورنر نے علی امین گنڈا پور کو بلایا ہے تاکہ جو ابہام ہے وہ دور ہو جائے، ہمارے دوستوں کو اتنی کیا جلدی ہے، ان کے پاس نمبرز پورے ہیں تو کیوں اس معاملے کو متنازع بنا رہے ہیں، یہ عمل غیر قانونی ہے ہم اس غیر قانونی عمل کا حصہ نہیں بنیں گے۔

    اسپیکر کے پی اسمبلی بابر سلیم سواتی نے اپوزیشن لیڈر کے خطاب کے بعد کہا کہ علی امین گنڈا پور نے دو بار استعفیٰ گورنر کو بھیجا اور آج ایوان میں بھی استعفے کا اعلان کیا، چند لوگوں کی خواہش ہے کہ سہیل آفریدی وزیراعلیٰ نہ بنیں، لیکن آئین لوگوں کی خواہشات پر نہیں چل سکتا، آئین کے مطابق چلیں گے،بابر سلیم سواتی نے اس حوالے سے رولنگ پڑھتے ہوئے کہا کہ نئے قائد ایوان کا طریقہ کار آئین کے مطابق ہوگا

    اسپیکر خیبرپختونخواہ اسمبلی بابر سلیم سواتی نے کہا کہ میں رولنگ دیتا ہوں کہ علی امین گنڈا پور نے پہلے 8 اور پھر 11 تاریخ کو آرٹیکل 130-8 کے تحت وزرات اعلی کے عہدے سے استعفی دیتے ہوئے اپنے دستخط کے ساتھ تحریری طور گورنر کو کو بھجوایا، ایوان میں کھڑے ہوکر استعفے کی تصدیق کی، آئین اور عدالت عظمیٰ کے فیصلوں کے تحت گورنر استعفے پر اعتراض لگا کر مسترد نہیں کرسکتا، میں اسمبلی کے نگہبان ہونے کے ناطے نئے وزیر اعلیٰ کا انتخاب کرانا میری ذمہ داری ہے، لہٰذا آج بروز ۱۳ اکتوبر ۲۰۲۵ وزرات اعلیٰ کا انتخاب آئینی اور اسمبلی طریقہ کار کے عین مطابق ہے،

    اسپیکر کے پی اسمبلی نے نئے قائد ایوان کو منتخب کرنے کا طریقہ بتایا جس کے بعد اسمبلی میں ووٹنگ ہوئی اور پھر 90 ایم پی ایز نے سہیل آفریدی کو نیا قائد ایوان منتخب کیا۔

    خیبر پختونخوا اسمبلی میں کل ارکان کی تعداد 145 ہے جس میں سے حکومتی ارکان کی تعداد 93 اور اپوزیشن کے 52 ارکان ہیں۔ قائد ایوان منتخب ہونے کے لیے 73 ووٹ درکار تھے۔

    قبل ازیں اپوزیشن لیڈر عباد اللہ کی تقریر کے دوران اسمبلی کی گیلری سے شور شرابہ ہونے پر اسپیکر بابر سلیم سواتی نے گیلری میں موجود لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا اگر آپ لوگ خاموش نہیں ہوں گے تو میں اجلاس کی کارروائی رکوا کر آپ لوگوں کو باہر نکالنے پر مجبور ہوں گا۔

    نئے قائد ایوان کے انتخاب کے لیے 4 امیدوار میدان میں تھے، پی ٹی آئی نے سہیل آفریدی کو وزارت اعلیٰ کے لیے نامزد کیا تھا جبکہ جے یو آئی ایف نے مولانا لطف الرحمان کو وزارت اعلیٰ کے لیے نامزد کیاتھا۔مسلم لیگ ن کی جانب سے سردار شاہ جہاں یوسف جبکہ ارباب زرک خان پیپلزپارٹی کی طرف سے وزارت اعلیٰ کے نامزد امید وار تھے،خیبر پختونخوا اسمبلی میں کل ارکان کی تعداد 145 ہے جس میں سے حکومتی ارکان کی تعداد 93 اور اپوزیشن کے 52 ارکان ہیں۔قائد ایوان منتخب ہونے کے لیے 73 ووٹ درکار تھے.

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے اپنے امیدواروں سے حلف لے لیے ہیں اور گزشتہ روز صدر پی ٹی آئی کے پی جنید اکبر نے واضح طور پر کہا تھا کہ جو بھی بانی پی ٹی آئی کے نامزد امیدوار سے غداری کرے گا صوبے کی عوام اس کا گھر سے نکلنا مشکل بنا دے گی اور اس پر زمین تنگ کر دی جائے گی۔علی امیں صاحب نے اسمبلی کے فلور پر اپنی استعفی کا اعلان کیا اب مذید گسی بہانے کی گنجائش نہیں جو لوگ سمجھ رہے تھے کہ تحریک انصاف میں گروپ بندی ہوجائے گی وہ ناکام ہوگئے علی امین صاحب نے اج بھی کہا کہ میں خان صاحب کے ساتھ کھڑا ہوں اور خان صاحب کی رہائی کیلئے پہلے سے ذیادہ جدوجہد کرتارہونگا۔

  • امن معاہدہ،حماس نے 7 یرغمالیوں کو رہا کر دیا

    امن معاہدہ،حماس نے 7 یرغمالیوں کو رہا کر دیا

    غزہ امن معاہدے کے تحت آج 20 اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے 1700 سے زائد فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔

    عرب میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان یرغمالیوں اور قیدیوں کے تبادلے کے لیے ریڈ کراس کی گاڑیاں غزہ کے علاقے دیرالبلاح پہنچ گئی ہیں،غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق فلسطینی قیدی اسرائیلی جیلوں سے بسوں میں سوار ہو کر روانہ ہو گئے ہیں،اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر 7 یرغمالیوں کو رہا کیا گیا ہے، رہائی پانے والے اسرائیلی یرغمالیوں کو ریڈ کراس کے سپرد کر دیا گیا ہے، حماس نے بھی 7 اسرائیلی یرغمالیوں کو ریڈ کراس کے سپرد کرنے کی تصدیق کر دی ہے۔

    عرب میڈیا کے مطابق معاہدے کے تحت 20 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا جانا ہے، 20 اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے 1700 سے زائد فلسطینی قیدی رہا کیے جائیں گے۔عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل سے رہائی پانے والے فلسطینی قیدیوں کو جنوبی غزہ کے النصراسپتال میں لایا جائے گا، 1716 فلسطینی قیدی النصر اسپتال پہنچائے جائیں گے،غیرملکی خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ حماس کے مسلح ونگ القسام بریگیڈ نے 20 زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کی فہرست جاری کر دی ہے جبکہ خان یونس میں اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کی تیاریاں بھی مکمل کر لی گئی ہیں اور عوام کی بڑی تعداد اسرائیل کی قید سے رہائی پانے والے قیدیوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے جمع ہو گئی ہے۔

    دوسری جانب مصر کے شہر شرم الشیخ میں آج غزہ امن معاہدے پر دستخط کی باقاعدہ تقریب منعقد کی جائے گی، امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمت اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف بھی غزہ امن معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کے لیے مصر جا رہے ہیں۔

  • سرحدی کشیدگی،29 افغان چوکیاں پاکستانی قبضے میں،افغانوں کی ملک بدری کا سلسلہ جاری

    سرحدی کشیدگی،29 افغان چوکیاں پاکستانی قبضے میں،افغانوں کی ملک بدری کا سلسلہ جاری

    پنجاب حکومت نے غیر قانونی افغان شہریوں کی وطن واپسی کے منصوبے ے تیسرے مرحلے کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں 123 مزید افغان باشندوں کو مختلف اضلاع سے گرفتار کر کے ہولڈنگ سینٹرز منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں سے انہیں افغانستان ڈی پورٹ کیا جائے گا۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں یکم اپریل 2025 سے اب تک 42,913 افغان شہریوں کو واپس بھیجا جا چکا ہے، جن کے پاس قانونی دستاویزات نہیں تھیں یا جنہوں نے اپنے ویزوں کی مدت سے تجاوز کر لیا تھا۔پنجاب بھر میں اس وقت 46 ہولڈنگ سینٹرز کام کر رہے ہیں، جن میں لاہور میں 5 مراکز شامل ہیں۔ یہ وہ مقامات ہیں جہاں افغان باشندوں کو وطن واپسی سے قبل رکھا جاتا ہے۔انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور نے کہا ہے کہ پولیس ہائی الرٹ پر ہے اور کارروائیاں انسانی ہمدردی کے تقاضوں کے مطابق انجام دی جا رہی ہیں۔ اب تک 21,805 غیر قانونی مقیم افراد کو ملک بدر کیا جا چکا ہے۔ہوم سیکریٹری ڈاکٹر احمد جاوید قاضی کے مطابق میانوالی کے کوٹ چندنہ کیمپ کے خاتمے کے بعد پنجاب میں کوئی افغان پناہ گزین کیمپ موجود نہیں رہا۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار افراد کو ضلعی ہولڈنگ سینٹرز میں بنیادی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں اور پھر انہیں طورخم کے راستے واپس بھیجا جاتا ہے۔

    وفاقی حکومت نے بھی ملک بھر میں باقی ماندہ افغان پناہ گزین کیمپوں کو ختم کر دیا ہے۔اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق، پاکستان میں 35 لاکھ سے زائد افغان شہری مقیم ہیں جن میں سے تقریباً نصف کے پاس قانونی دستاویزات نہیں ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان انسانی ہمدردی کے تقاضے پورے کرتا ہے، مگر غیر دستاویزی نقل مکانی ملکی سلامتی اور وسائل پر بوجھ بن رہی ہے۔

    پاک افغان سرحد پر صورتحال کشیدہ ، 29 افغان چوکیاں پاکستان کے کنٹرول میں
    سیکورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے سرحد پار افغان فورسز کی اشتعال انگیزی کے جواب میں کارروائی کرتے ہوئے 29 افغان بارڈر پوسٹس پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ آپریشن کے دوران ان چوکیوں پر پاکستانی پرچم لہرایا گیا۔ذرائع کے مطابق یہ کارروائی افغان جانب سے بلا اشتعال فائرنگ اور سرحدی خلاف ورزیوں کے جواب میں کی گئی۔ صورتحال تاحال کشیدہ ہے اور ہلاکتوں کی تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔

    ہنگو: دہشت گرد کمانڈر قاسم کا قریبی ساتھی ہلاک
    سیکیورٹی فورسز نے ضلع ہنگو میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران دہشت گرد کمانڈر قاسم کے قریبی ساتھی کو ہلاک کر دیا۔ذرائع کے مطابق مارا گیا دہشت گرد 19 جولائی کو ہنگو کے ڈی پی او دفتر اور ایف سی چیک پوسٹ پر حملوں میں ملوث تھا۔فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن مزید تیز کر دیا ہے۔

    ڈیرہ اسماعیل خان: خودکش حملہ آور افغان شہری نکلا
    تحقیقات کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملے میں ملوث خودکش بمبار افغان شہری تھا۔
    ذرائع نے بتایا کہ حملہ آور کی شناخت اجمل عرف خالد ولد حاجی نور جان کے نام سے ہوئی ہے، جو افغانستان کے صوبہ وردک کے سیدآباد ضلع کے جوئی زرین شہر کا رہائشی تھا اور ماضی میں طالبان کی سیکیورٹی فورسز کا رکن رہ چکا تھا۔یہ انکشاف پاکستان میں جاری دہشت گردی کے افغان رابطوں کو مزید واضح کرتا ہے۔

    بنوں: ایف سی اہلکار شہید، ایک زخمی، دہشت گرد فرار
    بنوں کے علاقے آزاد منڈی کے قریب سیکورٹی فورسز کی گاڑی پر بم حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں ایک ایف سی اہلکار شہید اور دوسرا زخمی ہوا۔جوابی کارروائی میں ایک دہشت گرد زخمی ہوا، تاہم وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ فرار ہونے میں کامیاب رہا۔ علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

    پاک افغان سرحدی جھڑپوں میں 4 افغان طالبان ہلاک
    سیکورٹی ذرائع کے مطابق پاک افغان سرحد پر جھڑپوں کے دوران چار افغان طالبان جنگجو — طور گل، بشیر احمد، حکیم اللہ اور عبداللہ بدری — مارے گئے۔حکام نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن جواب دے گا اور کسی بھی قسم کی دراندازی یا اشتعال انگیزی برداشت نہیں کی جائے گی۔

    چترال اور جنوبی وزیرستان: دہشت گرد ٹھکانے تباہ، قومی پرچم لہرایا گیا
    چترال میں سیکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد کے قریب دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے۔
    جبکہ جنوبی وزیرستان کے انگور اڈہ میں فورسز نے افغان پوسٹ پر قبضہ کرتے ہوئے پاکستانی پرچم لہرا دیا۔
    عسکری حکام کے مطابق فوج مکمل طور پر تیار ہے اور سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز جاری رہیں گے۔

    طورخم بارڈر بند، افغان فوج کی بلا اشتعال فائرنگ کے بعد
    افغان فورسز کی جانب سے پاکستانی چوکیوں پر اندھا دھند فائرنگ کے بعد پاکستان نے طورخم سرحد بند کر دی۔
    سرکاری ترجمان کے مطابق افغان فوج نے ہفتہ کی رات اچانک حملہ کیا جس سے تجارت اور آمد و رفت معطل ہو گئی۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے انتہائی صبر کا مظاہرہ کیا، مگر سرحد تبھی کھولی جائے گی جب مکمل سیکیورٹی بحال ہو گی۔ذرائع کے مطابق اس سے قبل فروری اور مارچ میں بھی سرحد بند ہونے سے روزانہ ڈیڑھ ملین ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔

    سرحدی اضلاع کے قبائلی عمائدین نے اعلان کیا ہے کہ وہ افغان سرزمین سے حملہ کرنے والے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کے شانہ بشانہ ہتھیار اٹھائیں گے۔یہ اعلان انگور اڈہ، باجوڑ، کرم، دیر، چترال، ژوب، پشین اور بارامچہ میں حالیہ جھڑپوں کے بعد سامنے آیا ہے۔قبائلی رہنماؤں نے کہا کہ مہمان نوازی ہماری روایت ہے، مگر جارحیت برداشت نہیں کی جائے گی۔سیکیورٹی حکام نے اس عزم کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا کہ قبائلی عوام کا تعاون ایک “فورس ملٹی پلائر” ثابت ہو گا، جس سے نگرانی اور آپریشنز میں بہتری آئے گی۔

    ٹانک: دہشت گرد عثمان خانجری ہلاک
    ضلع ٹانک میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں دہشت گرد عثمان خانجری (بابر ملکھیل خوارج گروپ کا رکن) مارا گیا۔اس کے قبضے سے ہتھیار اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا۔ علاقے میں مزید کارروائیاں جاری ہیں۔

    پاکستانی فورسز نے بلوچستان کے سرحدی علاقے سے کارروائی کرتے ہوئے اسپن بولدک (قندھار) میں موجود “عصمت اللہ قرار گروپ” کے کیمپ کو تباہ کر دیا۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی حالیہ سرحدی اشتعال انگیزیوں اور خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی۔پاکستانی حکام نے واضح کیا کہ ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

    بلوچستان میں سیکیورٹی خدشات کے باعث ٹرین سروسز معطل کر دی گئی ہیں۔ریلوے حکام کے مطابق بولان میل (کوئٹہ تا کراچی) پچھلے 20 روز سے بند ہے جبکہ جعفر ایکسپریس (کوئٹہ تا پشاور) کو بھی صوبے میں داخلے سے روک دیا گیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ خدمات عارضی طور پر معطل کی گئی ہیں اور سیکیورٹی بہتر ہونے پر بحال کر دی جائیں گی۔ذرائع کے مطابق بلوچ مسلح گروہوں نے ماضی میں متعدد بار ٹرینوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا ہے۔

  • احتجاج کا خدشہ،لاہور کے اندرون شہر،داخلی و خارجی راستے بند

    احتجاج کا خدشہ،لاہور کے اندرون شہر،داخلی و خارجی راستے بند

    لاہور میں سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اندرون شہر اور داخلی وخارجی راستے بند ہیں۔

    نجی ٹی وی کے مطابق لاہور شہر میں سکیورٹی خدشات اور جاری ہنگامی صورتحال کے باعث شہر کی بیشتر اندرونی سڑکیں بند ہیں جب کہ دوسرے شہروں کو جانے اور وہاں سے آنے والے تمام موٹروے کے داخلی و خارجی راستے بھی بند ہیں،ذرائع کے مطابق کسی ناخوشگوار واقعے کے خدشے کے پیش نظر میٹرو بس سروس بھی جزوی طور پر معطل کردی گئی ہے۔

    لاہور میں مختلف مقامات سے روڈز کو ٹریفک کے لیئے بند کر دیا گیا ہے،سکیم موڑ،یتیم خانہ پہلے ہی بند تھے، لاہور سے اسلام آباد موٹروے دونوں اطراف سے بندکر دی گئی،لاہور سےعبدالحکیم موٹروے دونوں اطراف سے بندکر دی گئی،لاہور سے سیالکوٹ موٹروے دونوں اطراف سے بندکر دی گئی،ٹھوکر سے بابو صابو موٹروے دونوں اطراف سے بند ہیں،کرول گھاٹی سے رنگ روڈ بندہے،داروغہ والا سے سلامت پورہ دونوں اطراف سے بندہے،للیانی دونوں اطراف سے بندہے، مختلف مقامات پر مشتعل مظاہرین نے گاڑیوں کو نذر آتش کر کے روڈ بلاک کیا ہے

    ذرائع کا کہنا ہےکہ شہر کے اندرونی راستے بند ہونے سے شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے، دفاتر جانے والے شہریوں کے ساتھ ایمبولینسز کو بھی اسپتال پہنچنے میں دشواری کا سامنا ہے جب کہ چنگی امر سدھو فیروز پور روڈ بھی ٹریفک کے لیے بند ہے۔فیروزپور روڈ پر شہری کی میت لے جانے والی ایمبولینس بھی راستہ بند ہونے کے باعث پھنس گئی۔

  • مریدکے،کاروائی کے دوران ایس ایچ او شہید،48 اہلکار زخمی،3 مظاہرین،ایک راہگیر کی موت

    مریدکے،کاروائی کے دوران ایس ایچ او شہید،48 اہلکار زخمی،3 مظاہرین،ایک راہگیر کی موت

    مریدکے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی ، انتشار پسند گروہ کو منتشر کر دیا

    جب منتشر کرنے کی کارروائی شروع ہوئی تو تحریک لبیک پاکستان ے کارکنوں نے پتھراؤ، کیل دار ڈنڈوں اور پیٹرول بموں کا استعمال کیا۔ بعد ازاں انہوں نے اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو جانی نقصان پہنچا۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنی جان کے دفاع میں محدود کارروائی کرنا پڑی۔

    کاروائی کے دوران ایک ایس ایچ او شہید ہو گیا،تھانہ صدر مریدکے کے ایس ایچ او محمد شہزاد گولیاں لگنے سے شہید ہو گئے ۔ 48 اہلکار زخمی ہوئے جن میں سے 17 کو گولی لگی،3 مظاہرین جبکہ ایک راہ گیر کی موت ہوئی، 8 شہری زخمی ہوئے،اس کے علاوہ انتشار پسند گروہ نے چالیس سرکاری اور پرائیویٹ گاڑیوں کو آگ لگا دی،قانون نافذ کرنے والوں نے متعدد انتشار پسند لوگوں کو گرفتار کر لیا ،سرچ آپریشن جاری ہے،

  • تحریک لبیک  کے مارچ پر رات گئے کاروائی،سعد رضوی  کنٹینر سے گر کرزخمی

    تحریک لبیک کے مارچ پر رات گئے کاروائی،سعد رضوی کنٹینر سے گر کرزخمی

    مریدکے میں تحریک لبیک پاکستان کے احتجاجی مارچ کے خلاف پولیس نے رات گئے کاروائی کی ہے کارروائی کے دوران درجنوں زخمی ہو گئے ہیں، جب کہ تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی بھی کینیٹر سے چھلانگ لگانے کے دوران زخمی ہو گئے ہیں،

    ذرائع کے مطابق، رات تقریباً 3 بجے پولیس اور رینجرز نے مشترکہ آپریشن شروع کیا، جو صبح ساڑھے 7 بجے تک جاری رہا۔ آپریشن کا مقصد مریدکے کے قریب احتجاجی قافلے کو منتشر کرنا تھا، جو لاہور سے اسلام آباد کی جانب رواں دواں تھا،پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک لبیک کے کارکنان کی جانب سے مزاحمت کی گئی، جس دوران پتھراؤ، شیلنگ، اور فائرنگ کے واقعات پیش آئے۔مظاہرین کا مرکزی کنٹینر، جس پر ٹی ایل پی کی قیادت موجود تھی، آتشزدگی کا شکار ہو گیا، جب کہ متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ پولیس اور رینجرز کے اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق، حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان بیک ڈور مذاکرات ناکام ہونے کے بعد یہ کارروائی کی گئی۔ مذاکرات میں راستے کھولنے اور احتجاج کے خاتمے پر کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔

    پنجاب اور اسلام آباد میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے۔ تمام اضلاع میں پولیس اور حساس اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے تاکہ کسی ممکنہ ردِعمل یا نئے احتجاج کو روکا جا سکے۔لاہور میں فیروز پور روڈ پر مظاہرین کی جانب سے احتجاج جاری ہے، جس کے باعث فیروزپور روڈ سے جنرل اسپتال تک دونوں اطراف ٹریفک معطل ہے۔تحریک لبیک پاکستان نے ملک بھر میں نئے احتجاجات اور سڑکوں کی بندش کی کال دے دی ہے۔

    دوسری جانب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی میں بند کی گئی تمام رابطہ سڑکوں کو کھول دیا گیا ہے جس کے بعد مری روڈ اور دیگر راستوں پر ٹریفک رواں دواں ہیں،راولپنڈی مری روڈ پر دکانیں اور تجارتی مراکز بھی کھل گئے تاہم مری روڈ سے فیض آباد جانے والا راستہ اور راولپنڈی ، اسلام آباد میٹرو بس سروس بھی بند ہے،ادھر آئی جی پی روڈ، ڈبل روڈ، ایکسپریس وے ٹریفک کیلئے بحال کردی گئی ہے جب کہ راولپنڈی سے ڈبل روڈ نائنتھ ایونیو راستہ کھول دیا گیا ہے،راولپنڈی اور اسلام آباد میں موبائل فون اور ڈیٹا سروسز بھی بحال کردی گئی ہے۔

    میں ٹھیک ہوں،ساتھی پرسکون رہیں اور میرے اگلے حکم کا انتظار کریں،سعد رضوی
    دوسری جانب اطلاعات کے مطابق سعد رضوی بالکل خیریت سے ہیں۔ انہیں نہ گولیاں لگی ہیں اور نہ ہی ان کی حالت تشویشناک ہے۔ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی تمام ایسی خبریں جھوٹی اور بے بنیاد ہیں۔ افواہوں پر یقین نہ کریں۔سعد رضوی کا آڈیو بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ سب ساتھیوں‌کو بتائیں میں ٹھیک ہوں، پرسکون رہیں اور میرے اگلے حکم کا انتظار کریں،جب تک میری ہدایات نہ آئیں کچھ نہ کریں، میں آگے کا لائحہ عمل دوں گا کہ آگے کیا کرنا ہے.

    https://x.com/_007HK/status/1977642047189434411

  • پاکستان اور افغانستان  کےدرمیان کشیدگی ،بھارت کا  منفی پروپیگنڈے  بے نقاب

    پاکستان اور افغانستان کےدرمیان کشیدگی ،بھارت کا منفی پروپیگنڈے بے نقاب

    بھارت کا گودی میڈیا پاک افغان کشیدگی میں جھوٹ اور پروپیگنڈا کے ذریعےایک بار پھر متحرک ہو گیا

    بھارت کا گودی میڈیا اپنے مذموم عزائم کیلئے فیک اور اے آئی کے ذریعے جعلی ویڈیوز بنانے میں مصروف ہے،گودی میڈیا نے شمالی وزیرستان کے شہری عادل داوڑ کو شہید قرار دے دیا ،شہری عادل داوڑنے ویڈیو پیغام میں خود تمام جھوٹے دعوؤں کو رد کر دیا کہا،میرا نام عادل داوڑ ہے اور میں شمالی وزیرستان سے سیاسی و سماجی ورکر ہوں ،ہندوستانی میڈیا نے میری آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے بنی تصویر چلائی ہے ، اے آئی کے ذریعے مجھے وردی پہنا کر کہا گیا ہے کہ میں ایک میجر ہوں ، ہندوستانی میڈیا نے میری جعلی تصویر چلا کر کہا ہے کہ یہ پاک افغان بارڈر پر شہید ہوا ، میں شمالی وزیرستان کا ایک شہری ہوں ، بھارت کا پاکستان کیخلاف فیک پروپیگنڈا کرنا صحافت اور صحافتی اصولوں کی توہین ہے ،

    گودی میڈیا جھوٹی خبروں اور منظم پروپیگنڈا کیلئے حقائق کو مسخ کرنے کا تسلسل جاری رکھے ہوئے ہے ،پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے دوران بھی گودی میڈیا جعلی تصاویر کے ذریعے جگ ہنسائی کرو ا چکا ہے

  • بھارت پر ہندوتوا راج مسلط، تعلیمی ادارے بھی غیر محفوظ

    بھارت پر ہندوتوا راج مسلط، تعلیمی ادارے بھی غیر محفوظ

    سفاک مودی کے دور میں بھارت پر ہندوتوا راج مسلط، تعلیمی ادارے بھی غیر محفوظ ہو چکے ہیں

    فاشسٹ مودی نے بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی آزادیِ رائے کو جرم بنا دیا ،آر ایس ایس کے ہاتھوں غاصب مودی نے تعلیمی اداروں کو انتہا پسندی کا گڑھ بنا دیا ،جنسی ہراسانی کے ملزم پروفیسروں کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا کے طلباء سراپا احتجاج ہیں،پونڈیچری یونیورسٹی میں ایس ایف آئی کے طلباء پر پولیس کا حملہ، متعدد طلبہ گرفتار کر لئے گئے،طلبا کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے بے رحمانہ تشدد کیا اور خواتین سے بدسلوکی کی،

    اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا کا کہنا ہےکہ یونیورسٹی میں جنسی ہراسانی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے،ہراسانی کے الزامات کے باوجود ملوث اساتذہ تاحال عہدوں پر برقرار ہیں،ڈاکٹر مدھوائیہ اور ڈاکٹر شیلندر سنگھ پر 16 سے زائد طلباء کے سنگین الزامات عائد ہیں ،

    یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے ضابطے کے باوجود ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے پر بھی سماعت نا مکمل ہے،دہلی یونیورسٹی میں فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کرنے والے مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے طلباء بھی بھارتی انتہا پسندی کا شکارہیں،دہلی یونیورسٹی کے طلباء پر بھارتی انتہا پسند تنظیم اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (ABVP) کے ارکان نے حملہ کیا،فلسطین کے حق میں احتجاج کرنے پر مقامی افراد اور دہلی پولیس نے مل کر طلباء پر لاٹھی چارج بھی کیا ،تعلیمی میدان میں ہندوتوا تسلط قائم کرنے کے لیے مودی کی سرپرستی میں آر ایس ایس کی غنڈہ گردی جاری ہے

    پنجاب یونیورسٹی کے نائب صدر اشمیت سنگھ کے مطابق پروفیسر سے لے کر وائس چانسلر تک ہر تقرری آر ایس ایس کی منظوری سے ہوتی ہے،اقتدار پر قابض مودی کے دور میں انتہا پسند آر ایس ایس اور بی جے پی نے بھارت کے ہر ادارے پر قبضہ جما لیا ہے ،طلباء پر پولیس تشدد مودی حکومت کے فاشسٹ چہرے اور اقلیت دشمنی کا واضح ثبوت ہےنااہل مودی اور انتہا پسند تنظیموں نے بھارت کے نام نہاد سیکولرازم کا چہرہ بے نقاب کردیا

  • جوابی کاروائی،افغان طالبان کی  اشرف سر پوسٹ مکمل طور پر تباہ

    جوابی کاروائی،افغان طالبان کی اشرف سر پوسٹ مکمل طور پر تباہ

    پاک افغان بارڈر پر طالبان کی جانب سے بِلا اشتعال جارحیت پر پاکستان نے منہ توڑ جواب دیا

    افغان طالبان کی جانب سے جارحیت پر پاکستانی افواج نے بھاری ہتھیاروں سے موثر اور منہ توڑ جواب دیا،پاک فوج کی جانب سے افغان اشرف سر پوسٹ پر بھاری توپ خانے کی مدد سے گولہ باری کی گئی ،گولہ باری سے افغان طالبان کی اشرف سر پوسٹ مکمل طور پر تباہ ہو گئی،افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کو شدید جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا،پاک فوج کے جوان ملکی سرحدوں کی حفاظت کیلئے مکمل چوکس اور مستعد ہیں،پاکستان کے غیور عوام اپنے فوجی جوانوں کو وطن کی حفاظت پر سلام پیش کرتے ہیں

  • پاک فوج کے 23جوان شہید،29 زخمی،200 سے زائدطالبان،دہشتگرد ہلاک

    پاک فوج کے 23جوان شہید،29 زخمی،200 سے زائدطالبان،دہشتگرد ہلاک

    ترجمان پاک فوج نے کہا ہے کہ راتِ 11/12 اکتوبر 2025 کو افغان طالبان اور بھارتی سرپرستی یافتہ فتنہِ الخوارج نے بلاِ اشتعال حملہ پاکستان پر کیا، جو کہ پاک-افغان سرحد کے طویل حصے میں ہوا۔ اس بزدلانہ کارروائی کا مقصد سرحدی علاقوں کو عدم استحکام سے دوچار کرنا اور دہشت گردی کے لیے سازگار صورتِ حال پیدا کرنا تھا، یعنی فتنہ الخوارج کے مذموم مقاصد کو آگے بڑھانا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دفاعِ خود کے حق کا استعمال کرتے ہوئے، پاکستان کی چوکس مسلح افواج نے سرحد کے طول و عرض میں اس حملے کو فیصلہ کن انداز میں پسپا کیا اور طالبان فورسز اور متعلقہ خوارج کو بھاری جانی نقصان پہنچایا۔ عین مطابق اہداف پر فائرنگ اور حملے، نیز جسمانی چھاپے طالبان کیمپوں اور چوکیوں، دہشت گردی کی تربیتی سہولیات اور افغان علاقے سے چلنے والے معاون نیٹ ورکس کے خلاف کیے گئے، جن میں فتنہِ الخوارج ، فتنہِ ہندستان اور آئی ایس کے پی / داعش سے وابستہ عناصر شامل ہیں۔ ہر ممکن احتیاط برتی گئی تاکہ سائیڈ لائن ہونے والے نقصانات سے بچا جا سکے اور شہری جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ان بلا روک ٹوک کارروائیوں کے نتیجے میں سرحد بھر میں متعدد طالبان کے ٹھکانے تباہ کیے گئے؛ افغان جانب سرحد پر اکیس (21) دشمنی سے قابض مقامات کو مختصراً قبضہ کر کے غیر فعال کیا گیا اور کئی دہشت گرد تربیتی کیمپ، جو پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری کے لیے استعمال ہوتے تھے، کام سے معطل کر دیے گئے۔رات بھر کی جھڑپوں کے دوران 23 جوان شہید جبکہ 29 زخمی ہوئے، معتبر انٹیلی جنس اندازوں اور نقصان کے تخمینے کے مطابق طالبان اور منسلک دہشت گردوں کی تعداد دو سو (200) سے زائد ہے جو ہلاک ہوئے، جبکہ زخمیوں کی تعداد کہیں زیادہ بتائی جاتی ہے۔ طالبان چوکیوں، کیمپوں، ہیڈ کوارٹرز اور دہشت گردانہ معاون نیٹ ورکس کو پہنچنے والا بنیادی اور عملیاتی نقصان سرحد کے طویل حصے تک وسیع ہے۔

    ترجمان پاک فوج کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج اپنے عوام کی ارضی سالمیت، جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر گھڑی تیار اور مستعد ہیں۔ پاکستان کی ارضی سالمیت کے دفاع اور ان عناصر کو شکست دینے کے عزم میں کوئی لغزش نہیں آئے گی جو ہماری سلامتی کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔اگرچہ پاکستانی عوام تشدد اور جارحیت کے بجائے تعمیری سفارتکاری اور مذاکرات کو ترجیح دیتے ہیں، ہم افغان زمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال برداشت نہیں کریں گے۔ یہ سنگین اشتعال انگیزی طالبان کے وزیرِ خارجہ کے بھارت کے دورے کے دوران وقوع پذیر ہوئی جو خطے میں دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرست سمجھا جاتا ہے۔ علاقائی امن و سلامتی کے مفاد میں ہم طالبان حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ فوری اور قابلِ تصدیق اقدامات اٹھائے تاکہ اپنی سرزمین سے چلنے والی فتنہ الخوارج، فتنہ ہندستان اور آئی ایس کے پی/داعش سمیت دہشت گرد تنظیموں کو غیر فعال کیا جائے۔ بصورتِ دیگر، پاکستان اپنے عوام کے دفاع کے حق کا استعمال جاری رکھے گا اور دہشت گرد اہداف کے مسلسل بے اثر کرنے کا عمل جاری رکھیگا۔ طالبان حکومت کو چاہیۓ کہ وہ کسی بھی بحران انگیز خیالات سے باز آئے اور افغان عوام کی فلاح، امن، امنگ اور ترقی کو ذمّہ داری کے ساتھ مقدم رکھے۔

    گزشتہ شب کا واقعہ پاکستان کے طویل عرصے سے قائم مؤقف کی تصدیق کرتا ہے کہ طالبان حکومت فعال طور پر دہشت گردوں کی معاونت کر رہی ہے۔ اگر طالبان حکومت، بھارت کے ساتھی بن کر، خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے قلیل المدتی مقاصد کے حصول کے لیے دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی جاری رکھتی ہے تو پاکستان کے عوام اور ریاست اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک افغانستان سے اٹھنے والے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ یقینی نہ بنایا گیا.