Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ایف سی ہیڈکوارٹر حملہ،تینوں دہشتگرد ایک ہی موٹر سائیکل پر آئے،انکشاف

    ایف سی ہیڈکوارٹر حملہ،تینوں دہشتگرد ایک ہی موٹر سائیکل پر آئے،انکشاف

    پشاور میں ایف سی ہیڈ کوارٹرز پر خود کش حملے کی تحقیقات میں پیشرفت سامنے آئی ہے، حملہ کرنیوالے تینوں دہشتگرد ایک ہی موٹر سائیکل پر آئے، بائیک ہیڈ کوارٹرز سے کچھ فاصلے پر کھڑی کی۔

    سی ٹی ڈی کی رپورٹ کے مطابق دہشتگرد کوہاٹ روڈ، سول کوارٹر سے جائے وقوعہ پہنچے۔ابتدائی رپورٹ کے مطابق حملہ آوروں کے پاس کلاشنکوف اور 8 سے زائد دستی بم تھے، دہشتگردوں کے اعضاء ڈی این اے ٹیسٹنگ کیلئے لیبارٹری بھجوا دیئے گئے۔رپورٹ کے مطابق حملے کا مقدمہ درج کرلیا گیا، جس میں دہشت گردی سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔

    پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے کہا کہ ایف سی ہیڈکوارٹرز پر حملے میں 3 لوگ آئے تھے، حملہ آور افغان شہری تھے۔ان کا کہنا ہے کہ ٹریک کررہے ہیں کہ حملہ آور کہاں سے آئے تھے، سی سی ٹی وی فوٹیجز پورے شہر سے اکٹھی کرلی ہیں، حملہ آوروں کی موٹرسائیکل تحویل میں لے لی ہے۔آئی جی کے پی نے کہا کہ پولیس کو ڈرونز سمیت جدید اسلحہ فراہم کررہے ہیں، دہشت گردوں کے حربوں میں تبدیلی آئی ہے۔

  • ضاطہ اخلاق خلاف ورزی کیس،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا الیکشن کمیشن پیش ہو گئے

    ضاطہ اخلاق خلاف ورزی کیس،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا الیکشن کمیشن پیش ہو گئے

    وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کیخلاف انتخابی ضابطہ اخلاق خلاف ورزی کیس کی سماعت ہوئی

    چیف الیکشن کمشنر اسکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نےسماعت کی،وزیراعلی خیبر پختوانخوا سہیل آفریدی الیکشن کمیشن میں پیش ہوگئے ،ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اور وکیل علی بخاری بھی ہمراہ کمیشن میں پیش ہوئے،وکیل علی بخاری نے کہا کہ ہمارے پاس باقی درخواستوں کاریکارڈ نہیں،ہمارے خلاف چاروں درخواستیں یکجا کردیں،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آپ اسکے لئے ایک درخواست دیں،الیکشن کمیشن حکام نے کہا کہ سہیل آفریدی خلاف الگ الگ درخواستیں آئیں،وکیل سہیل آفریدی نے کہا کہ ہمارےخلاف ایک کیس ڈی آراو آفس چل رہا ہے اور ایک یہاں،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہم آپکو سن لیں گے آپ جتنا مرضی وقت لیں،ڈی جی لا الیکشن کمیشن نے کہا کہ جسٹس منیب اختر کافیصلہ ہے کہ انتخابات کے انعقاد کیلئے کمیشن کوئی بھی فیصلہ کرسکتاہے،جسٹس منیب اختر نے فیصلے توہین کمیشن کیس کی کاروائی کرنے کابھی کہا،وزیراعلی کے خلاف عوامی اور ڈی آراو نے شکایات کی ہے،

    الیکشن کمیشن کی سماعت میں پی ٹی آئی وکلاءنے شکوہ کر دیا کہ ہمارے وکلاء کوآنے نہیں دیاگیا،وکیل علی بخاری کا کہناتھا کہ ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختوانخوااور مجھ بھی شناخت کے باوجود روکا گیا،جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ شہر میں آفسران نئے آئے ہیں،اسلئے روکا ہوگا،وکلاء کے ساتھ اگر بدسلوکی ہوئی تو میں معذرت کرتا ہوں۔ چیف الیکشن کمشنر نے متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کروائی

    سپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ آرٹیکل 218 تین الیکشن کمیشن کے اختیارات کو واضح کرتا ہے۔وزیر اعلیٰ کے پی کے کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کو آگے بڑھایا جائے۔وکیل علی بخاری کا کہنا تھا کہ ایبٹ آباد میں جلسے پر کارروائی ہوئی تو نیا پنڈورا باکس کھل جائے گا۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا الیکشن کمیشن وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کو بھی طلب کرے گا؟ جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ الیکشن سے قبل وزیراعظم ایسا خطاب کرتے تو انہیں بھی نوٹس جاری کیا جاتا۔

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ،ضابطہ اخلاق خلاف ورزی کیس،سماعت ملتوی،فیصلہ محفوظ
    الیکشن کمیشن نے وزیر اعلیٰ کے پی کے سہیل آفریدی کو آئندہ سماعت پر حاضری سے استثنیٰ دے دیا،چیف الیکشن کمشنر نے کہاکہ معاملہ قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر مناسب آرڈر جاری کرینگے، کیس کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر فیصلہ محفوظ کرکے سماعت 4 دسمبر تک ملتوی کردی گئی۔

    بعد ازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن ہو یا کوئی اور ادارہ ، ہم نے ماضی میں بھی ان کی عوام مخالف پالیسیوں پر تنقید کی ہے اور آئندہ بھی تنقید کریں گے.

  • سعودی عرب ہر پاکستانی کا دوسرا گھر ہے،وزیر داخلہ محسن نقوی

    سعودی عرب ہر پاکستانی کا دوسرا گھر ہے،وزیر داخلہ محسن نقوی

    وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے سعودی وزیرِ داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نائف سے ملاقات کی، جس میں سکیورٹی امور اور دونوں ممالک کی وزارتِ داخلہ کے درمیان تعاون مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات میں برمی مسلمانوں کے لیگل سٹیٹس کے دیرینہ مسئلے پر بھی بات چیت کی گئی،سعودی وزیرِ داخلہ نے اس معاملے کے حل کے لیے پاکستانی وزیرِ داخلہ کی کوششوں پر اظہارِ تشکر کیا۔ انہوں نے فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈ کوارٹر پر حملے میں شہید اہلکاروں کے خاندانوں سے تعزیت بھی کی،فریقین نے پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کے لیے ٹریننگ ایکسچینج پروگرام پر اتفاق کیا، جبکہ یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کی وزارتِ داخلہ کا ورکنگ گروپ آئندہ ماہ اجلاس منعقد کرے گا،محسن نقوی نے کہا کہ سعودی عرب ہر پاکستانی کا دوسرا گھر ہے اور پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ پائیدار تعلقات پر فخر ہے۔

    ملاقات میں وفاقی سیکرٹری داخلہ محمد خرم آغا، پاکستان کے سفیر احمد فاروق، کمانڈنٹ فیڈرل کانسٹیبلری نذیر گاڑا، کمانڈنٹ نیشنل پولیس اکیڈمی محمد ادریس اور سعودی وزارتِ داخلہ کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

  • مقبوضہ کشمیر ،   37 برس کے دوران 2 ہزار 3 سو 56 خواتین شہید

    مقبوضہ کشمیر ، 37 برس کے دوران 2 ہزار 3 سو 56 خواتین شہید

    آج دنیا بھر میں ”خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کا عالمی دن” منایا جا رہا ہے جب کہ بھارت کے غیر قانونی زیرِقبضہ جموں کشمیر میں خواتین 1947ء سے بھارت کے مسلسل فوجی قبضے اور سیاسی ناانصافیوں کی وجہ سے ناختم ہونے والے مصائب ، ریاستی دہشت گردی ، مظالم ، خوف اور اذیت کا بدستور شکار ہیں۔

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج کے دن کی مناسبت سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فوجیوں نے مقبوضہ علاقے میں گزشتہ 37 برس کے دوران اپنی ریاستی دہشتگردی کی جاری کارروائیوں کے دوران 2 ہزار 3 سو 56 خواتین کو شہید اور 11 ہزار 2 سو 69 کو بے حرمتی کا نشانہ بنایا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کشمیری خواتین بھارتی ریاستی دہشت گردی کا سب بری طرح نشانہ بن رہی ہیں ۔1989ء سے اب تک بھارتی ریاستی دہشت گردی کی وجہ سے 22 ہزار 9 سو 91 کشمیری خواتین بیوہ ہوئیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت کشمیریوں کی حق پر مبنی جدوجہد آزادی کو دبانے کیلئے کشمیری خواتین کی بے حرمتی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے ۔ درجنوں کشمیری خواتین بشمول حریت رہنما آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی، صوبیہ عزیز، شیما شفیع وازہ، شائستہ مقبول، شمس بیگم، زیتون اختر، روبینہ نذیر، ثریا راشد وانی، شکیلہ، صائمہ بشیر میر ، مفیدہ اقبال ، راشدہ سلام دین، شفیقہ بیگم، سردہ بیگم، منیرہ بیگم، عشرت رسول، نگینہ منظور لون، آفرینہ المعروف آیات گنائی، افروزہ بیگم، شبروزہ بانو برکاتی، سلیمہ بیگم، گلشن ناز، دیوان باغ، نصرت جان، فرحت بیگم، حلیمہ بشیر ، نرگس بٹ ، آبانو ، نگینہ منیرہ بیگم ، پروین اختر ، مریم بیگم ، شمیمہ بیگم ، عظمیٰ وسیم، سلیمہ بی بی اور شہزادہ اختر نئی دلی کی تہاڑ سمیت بھارت اور مقبوضہ کشمیر کی جیلوں میں مسلسل قید ہیں ۔بھارتی قابض فوجی کشمیریوں کو ان کے استصواب رائے کے سیاسی مطالبے پر اجتماعی سزا دینے کے لیے جنسی ہراساں کو ایک ہتھیار کے طورپر استعمال کر رہے ہیں جو کہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو کچلنے کا ایک جنگی ہتھیار بن چکا ہے ۔رپورٹ میں کہا گیا کہ کشمیری خواتین اپنے بیٹوں ، شوہروں اور بھائیوں کی جبری گمشدگیوں کی وجہ سے مسلسل اذیت کا شکار ہیں – اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی کشمیری خواتین کو بھارتی ریاستی سرپرستی میں جاری ظلم و تشدد سے نجات دلانے کیلئے اقدامات کرے ۔رپورٹ میں واضح کیا گیاہے کہ بھارت کشمیریوں کے جذبۂ حریت کو کمزور کرنے کیلئے مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی عصمت دری کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری، شوپیان میں آسیہ اور نیلوفر نامی دو خواتین کی عصمت دری اور قتل اور کٹھوعہ عصمت دری اور قتل کے واقعات اس کی واضح مثالیں ہیں۔ بھارتی فوجیوں نے 23 فروری 1991ء کی رات کو ضلع کپواڑہ کے علاقے کنن پوش پورہ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران سو کے قریب خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی۔ باوردی بھارتی اہلکاروں نے 29 مئی 2009ء کو شوپیاں میں آسیہ اور نیلوفر کو اغوا کرنے کے بعد اجتماعی عصمت دری کا نشانہ بنایا اور بعد میں دونوں کو قتل کر دیا۔ جنوری 2018ء میں جموں خطے کے علاقے کٹھوعہ میں ایک 8 سالہ مسلم بچی آصفہ بانو کو بھارتی پولیس اہلکاروں اور دائیں بازو کی تنظیموں سے وابستہ فرقہ پرست ہندوؤں نے اجتماعی آبروریزی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا ۔ بھارتی فوج نوجوانوں کے قتل ، گرفتاری اور انکی جبری گمشدگی کے ذریعے خواتین کو مسلسل ذہنی اذیت کا نشانہ بنا رہی ہے۔رپورٹ میں انسانی حقوق کے عالمی اداروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ کشمیری خواتین کے خلاف گھناؤنے جرائم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں رکوانے کیلئے بھارت پر دباؤ بڑھائیں۔

    اُدھر کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا ہے مقبوضہ کشمیر میں خواتین بھارتی ریاستی دہشت گردی کا سب سے بری طرح نشانہ بن رہی ہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ بھارت ظلم و تشدد کے ذریعے کشمیری خواتین کو خوف و دہشت کا نشانہ بنانے میں ہرگز کامیاب نہیں ہو گا اور وہ تحریکِ آزادی میں اپنا اہم کردار ادا کرتی رہیں گی ۔

    دریں اثناء خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر کل جماعتی حریت کانفرنس کے کنوینر غلام محمد صفی اور دیگر رہنماؤں محمود احمد ساغر، محمد فاروق رحمانی، ایڈووکیٹ پرویز احمد، شمیم شال، مشتاق احمد بٹ، زاہد اشرف اور دیگر نے اسلام آباد میں اپنے بیانات میں کہا ہے کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں خواتین مسلسل بھارتی ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں۔انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ بھارت نے اپنے فوجیوں کو کالے قوانین کے تحت کشمیری خواتین کی آبروریزی اور بے حرمتیوں کی مکمل چھوٹ دے رکھی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگست 2019ء کے بعد کشمیری خواتین پر بھی قابض بھارتی فوجیوں کے مظالم میں تیزی آئی ہے ۔

  • پولیس تفتیش سے انکار کیسے کرسکتی ہے،عدالت پولیس پر برہم

    پولیس تفتیش سے انکار کیسے کرسکتی ہے،عدالت پولیس پر برہم

    کریڈٹ کارڈ بنانے والی خاتون سے زیادتی اور نازیبا ویڈیو وائرل کرنے کے مقدمے کی کیس کی سماعت ہوئی، پولیس نے رپورٹ عدالت میں پیش کردی۔

    ایس پی انویسٹی گیشن ایسٹ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ تفتیش میں میری زیادہ دلچسپی نہیں۔ جسٹس نثار بھمبرو نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس تفتیش سے انکار کیسے کرسکتی ہے؟، آپ کون ہوتے ہیں سرکاری کام سے انکار کرنے والے؟ عدالت نے کہا کہ مقدمے کے فیصلے تک پولیس کو کلین چِٹ نہیں ملے گی۔سندھ ہائی کورٹ نے پولیس افسر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مقدمے کی تفتیش ایڈیشنل آئی جی جاوید عالم اوڈھو کے سپرد کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے کہا کہ ایڈیشنل آئی جی ذاتی نگرانی میں تفتیش کروائیں، مفرور ملزم اور سہولت کاروں کو گرفتار کریں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملزم کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے گئے ملزم گرفتار نہ ہوسکا۔

    قمر عباس ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پولیس نے نہ ملزم پکڑا نہ ویڈیوز سوشل میڈیا سے ہٹائیں، مفرور ملزم نے مزید تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کردیں۔عدالت نے پولیس افسران کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کی ہدایت بھی کردی۔

  • لڑکی کے زبردستی بال کاٹنے والے ملزمان کی شناخت ہو گئی،گرفتاری نہ ہو سکی

    لڑکی کے زبردستی بال کاٹنے والے ملزمان کی شناخت ہو گئی،گرفتاری نہ ہو سکی

    راولپنڈی میں لڑکی پر تشدد اور بال کاٹنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد واقعے کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔

    راولپنڈی میں لڑکی پر تشدد، بال کاٹنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں دیکھا گیا کہ کچھ لڑکے ایک لڑکی پر تشدد کے بعد اس کےبال کاٹ رہے ہیں،پولیس نے کارروائی کرتے واقعے کا مقدمہ تھانہ نصیر آباد میں درج کرلیا۔ مقدمے میں لکھا گیا ہے کہ ویڈیو وائرل ہوئی، چند ملزمان لڑکی کے زبردستی بال کاٹ رہے تھے،پولیس کا مؤقف ہے کہ تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ واقعہ کرسچین کالونی راولپنڈی میں پیش آیا، لڑکی کے بال کاٹنے والے ملزمان نظار خان، انیس، جلیل خان اور جبار خان ہیں،مقدمے کے متن میں مزید کہا گیا ہے کہ نظار خان نے لڑکی کے بال زبردستی کاٹے اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کردی۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب کا 20 ہزار محنت کشوں کو پلاٹ دینے کا فیصلہ

    وزیراعلیٰ پنجاب کا 20 ہزار محنت کشوں کو پلاٹ دینے کا فیصلہ

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پنجاب کے 20 ہزار محنت کشوں کیلئے جھنگ اور کمالیہ میں 3 مرلہ پلاٹ دینے کا فیصلہ کرلیا، پنجابی زبان کو تعلیم اور عوامی زندگی میں مقام دلانے کیلئے اقدامات کا حکم بھی دیدیا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازکی زیرصدارت اجلاس ہوا، جس میں تمام محکموں کے بارے میں 6 گھنٹے طویل بریفنگ دی گئی، 20 ہزار محنت کشوں کو اپنے گھر کیلئے جھنگ اور کمالیہ میں 3 مرلہ پلاٹ دینے کا منصوبہ تیار کرلیا گیا۔وزیراعلیٰ کی زیر صدارت اجلاس میں آرکیالوجی، اسپورٹس اور لیبر سمیت ہر شعبے کی جانچ پڑتال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ محنت کشوں کو اپنی چھت، اپنا گھر اسکیم کے تحت قرضے دیئے جائیں گے۔ انہوں نے منصوبے کی جلد تکمیل کیلئے فوری اقدامات کی ہدایت بھی کردی۔

  • الیکشن کمیشن کوئی سخت ایکشن لے تب ہمارے پاس آئیں،سہیل آفریدی کی درخواست پر ریمارکس

    الیکشن کمیشن کوئی سخت ایکشن لے تب ہمارے پاس آئیں،سہیل آفریدی کی درخواست پر ریمارکس

    پشاور ہائی کورٹ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی الیکشن کمیشن نوٹس کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

    پشاور ہائیکورٹ میں سہیل آفریدی کی الیکشن کمیشن نوٹس کے خلاف درخواست پر سماعت جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس وقار احمد پر مشتمل بنچ نے کی،دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے نوٹس میں کہا گیا کہ وزیراعلیٰ نے دھمکی آمیز الفاظ استعمال کیے، خود نوٹس میں کہا گیا ہے جلسہ حویلیاں میں تھا جو این اے 18 کی حدود میں نہیں، نوٹس میں کہا گیا ہے کہ الیکشن ایکٹ کی خلاف ورزی کی گئی،وزیراعلیٰ کے وکیل نے جلسے میں کی گئی تقریر کی ٹرانسکرپشن پڑھ کر سنائی اور کہا کہ وزیراعلیٰ نے کہا تھا کہ کوئی دھاندلی کرے گا تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی،جسٹس وقاراحمد نے کہا کہ آپ کے خلاف الیکشن کمیشن نے کوئی کارروائی تو نہیں کی، آپ الیکشن کمیشن کی کارروائی میں شامل ہوجائیں، تھوڑا انتظار کریں،جسٹس ارشد علی نے کہا کہ جب الیکشن کمیشن کوئی سخت ایکشن لے تب ہمارے پاس آئیں، آپ اپنے لیے مسائل خود پیدا کرتے ہیں۔

    درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے خلاف 2 کارروائیاں چل رہی ہیں، ایک کارروائی ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفس اور دوسری الیکشن کمیشن کی ہے، پہلے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ کارروائی مکمل کرے پھر الیکشن کمیشن کرے، الیکشن کمیشن نے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسر کو بائی پاس کر کے نوٹس دیا، الیکشن کمیشن کے پاس اس کا اختیار نہیں۔الیکشن کمیشن کے نمائندے نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر کارروائی کا اختیار ہے، انتخابات کے ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کرانا الیکشن کمیشن کا کام ہے، الیکشن کمیشن کے عملے کو دھمکانا بھی ضابط اخلاق کی خلاف ورزی میں آتا ہے، الیکشن کمیشن نے باقی امیدواروں کو بھی نوٹس دیے، بلاامتیاز کارروائی کر رہے ہیں، وزیراعلیٰ اداروں پر اعتماد کریں، ہم نے ابھی کوئی ختمی فیصلہ نہیں کیا،جسٹس سیدارشد علی نے الیکشن کمیشن کے نمائندے استفسار کیا کہ ابھی تو الیکشن کمیشن نے وزیراعلیٰ کو نااہل یا کام سے نہیں روکا،جسٹس ارشد علی نے وزیراعلیٰ کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کے تحفظات کیا ہیں؟ جس پر وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن وزیراعلیٰ کے خلاف فوجداری سمیت کوئی بھی کارروائی شروع کر سکتا ہے۔جسٹس سید ارشد علی نے کہا کہ ہم اس میں آرڈر کرتے ہیں، عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔

  • خواتین پر تشدد کے خلاف متحد ہو جائیں۔وزیراعظم

    خواتین پر تشدد کے خلاف متحد ہو جائیں۔وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خواتین پر تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر کہا ہے کہ آج خواتین پر تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان تمام دنیا کے ساتھ اس اہم مقصد کو اجاگر کرنے کے لیے اپنی آواز کو بلند کررہا ہے۔ اس سال یہ دن "خواتین کے خلاف ڈیجیٹل تشدد کے خاتمے کے لیے متحد” ہونے کے عنوان کے تحت منایا جا رہا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ یہ عنوان جدید دور میں خواتین کو مختلف سطحوں اور پلیٹ فارمز پر تشدد اور حراساں کیے جانے کی طرف توجہ دلاتا ہے اور یہ دن ہمیں اس بات کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم سوچیں اور اس عہد کی تجدید کرتے ہوۓ متحد ہو کر اس کے خلاف جدوجہد کریں۔ خواتین پر تشدد اور حراساں کیے جانے کے واقعات کےمکمل انسداد کے لیے ہمیں کثیرالجہتی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ جامع حکمت عملی میں نہ صرف اس طرح کے واقعات کا سدباب کے اقدامات شامل ہونا چاہئے بلکہ متاثرہ خواتین سے ہمدردی اور معاشرے کے استحصالی نظام کی اصلاح شامل ہے۔ خواتین کے خلاف تشدد نہ صرف انسانیت، بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ معاشرے کے امن و سکون اور ترقی و خوشحالی میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ آئین پاکستان بڑے واضح الفاظ میں خواتین کی عزت و تکریم کی ضمانت دیتا ہے اور برابری کے حقوق فراہم کرتا ہے تاہم پھر بھی ہمارے معاشرے میں خواتین کو بہت سی صورتحال میں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
    حکومت پاکستان عالمی سطح پر خواتین پر تشدد کے خاتمے کے عالمی معاہدہ کو تسلیم کرتا ہے، اورحکومتی سطح پر خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے پالیسی، قانون سازی، انتظامی, ادارہ جاتی اور دیگر اقدامات اٹھاے جا رہے ہیں۔ ان اقدامات میں وزیراعظم کا خواتین کو بااختیار بنانے کا وزیراعظم کا پیکج بھی شامل ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان تشدد سے متاثرہ خواتین کے لیے ادارہ جاتی امداد کو یقینی بنانے کی بھی بھرپور کوشش کر رہی ہے۔ اسی تناظر میں آزادانہ کمیشنز قائم کیے گئے ہیں جن قومی انسانی حقوق کمیشن, بچوں کے لیے قومی کمیشن اور خواتین کے لیےقومی کمیشن شامل ہے۔اس کے علاوہ خواتین کا تحفظ سینٹر، خواتین پولیس سینٹر، ہیلپ لائنز اور تشدد سے متاثرہ خواتین کی مالی اور قانونی امداد کے لیے بھی کام کیا جارہا ہے۔ حکومت پاکستان خواتین کے قانونی تحفظ، انکی انصاف تک رسائی کے لیے بھی کوشاں ہیں۔ حکومت پاکستان تمام متعلقہ اداروں، سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کے ساتھ بھی تعاون کو جاری رکھے گی تاکہ خواتین کے تحفظ، خود مختاری اور انکی خوشحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔ تاہم محض کوئی قانون یا حکومتی پالیسی خواتین پر تشدد کے مکمل خاتمے کو یقینی نہیں بنا سکتی جب تک معاشرے میں خواتین کے تحفظ کو مجموعی ترجیح نہ بنایا جائے اور معاشرے میں اس کے خلاف آواز نہ اٹھائی جائے۔ہماری ثقافت و تہذیب میں بھی خواتین کے لیے برابری، عزت و تکریم اور ہر گھر میں اس کو یقینی بنانے کی تعلیم شامل ہے۔ آج پاکستان کے تمام شہریوں، نوجوانوں، تمام سماجی و مذہبی رہنما، اساتذہ سے یہ گزارش کرتا ہوں کہ آئیے خواتین پر تشدد کے خلاف اور اسکے خاتمے کے لیے متحد ہو جائیں۔ آئیے پاکستان کی ترقی و خوشحالی کو مضبوط اور یقینی بنانے کے لیے اپنے عزم پختہ کا اعادہ کریں کہ پاکستان میں موجود ہر خاتون کسی بھی قسم کے خوف تشدد، استحصالی اور امتیازی سلوک سے آزاد ہو کر اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکے ۔ تمام متعلقہ حکومتی ادارے، معاشرہ، سرکاری اور غیر سرکاری آرگنائزیشنز اور عالمی تعاون مل کر ہی محفوظ، انصاف پسند اورخواتین کے لیے برابری پر مشتمل ماحول کو پاکستان میں یقینی بنا سکتے ہیں.

  • کینیڈا  کے شہر اوٹاوامیں ریفرنڈم، سکھوں کا بھارتی جابرانہ نظام کیخلاف اعلان بغاوت

    کینیڈا کے شہر اوٹاوامیں ریفرنڈم، سکھوں کا بھارتی جابرانہ نظام کیخلاف اعلان بغاوت

    کینیڈا کے شہر اوٹاوامیں ریفرنڈم، سکھوں کا بھارتی جابرانہ نظام کیخلاف اعلان بغاوت،فاشسٹ مودی کی فسطایت اور ظالمانہ پالیسیوں کیلئے سکھوں نے اپنی آزادی کا فیصلہ سنادیا

    اقلیتوں کے قاتل بھارت کیخلاف کینیڈامیں خالصتان کے حامی سکھوں کی کثیر تعداد میدان میں آ گئی،کینیڈا کی فضائیں مودی کی سفاکیت کیخلاف سکھ برادری کے بلند نعروں سے گونج اٹھیں،علیحدگی پسند تنظیم "سکھ فار جسٹس” کے مطابق؛کینیڈا کے شہر اوٹاوا میں 53ہزار سے زائد سکھوں نے "خالصتان ریفرنڈم” میں حق رائے دہی استعمال کیا،انتہائی سرد موسم کے باوجود سکھوں نے طویل قطاروں میں گھنٹوں انتظار کے بعد ووٹ ڈالا،

    سکھ فارجسٹس کے سربراہ گرپتونت سنگھ پنوں کا کہنا تھا کہ؛”کینیڈا ریفرنڈم ” ہندوتوا کے دہشتگرد مودی کی گولی اور بم کا جواب ہے ،مودی کی غاصبانہ پالیسیوں کی “سیاسی موت” بیلٹ اور عالمی احتساب کے ذریعے ہی ہو گی، 1984کی سکھ نسل کشی کے بعد اب مودی سرکار پنجاب میں "معاشی قتل "کر رہی ہے،کینیڈین ایجنسیز بتا چکی ہیں کہ مودی حکومت سکھوں کے قتل اور بھتہ خوری کے نیٹ ورکس میں ملوث ہے،

    بھارتی ریاستی ظلم و استبداد کیخلاف سکھوں کی بڑی تعداد نے آزاد ملک کااعلان کر دیا ہے،سکھ برادری پر جابرانہ رویے اور بھارتی دباؤ کے باوجود خالصتان تحریک عالمی سطح پر زور پکڑ چکی ہے