Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پاکستان نے افغانستان کی جنگ بندی کی درخواست مسترد کر دی

    پاکستان نے افغانستان کی جنگ بندی کی درخواست مسترد کر دی

    پاکستان نے افغانستان کی جنگ بندی کی درخواست مسترد کر دی ہے

    پاکستان نے جنگ بندی کی درخواست پر افغانستان کو کرارا جواب دے دیا۔افغانستان کو جنگ بندی کی درخواست پر کہا گیا کہ آپ نے ایک بزدلانہ حملہ کیا ہے اور اب یہ جنگ آپ کی مرضی سے نہیں رُکے گی۔ آپ نے اسے شروع کیا ہے، ختم کرنے کا حق ہمیں حاصل ہے اور ہم اس حق کا پورا استعمال کریں گے،واضح رہے کہ کچھ دیر پہلے افغانستان کی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے بیان جاری کیا کہ انہوں نے رات بارہ بجے تک اپنی کارروائیاں بند کر دی ہیں اور اگر پاکستان نے مزید حملے نہ کیے تو وہ بھی مزید حملہ نہیں کریں گے۔

    پاک فوج نے افغانی دوران میلا اور ترکمانزئی کیمپس بھی تباہ کر دیے

    سعودیہ کے بعد قطر کی پاک افغان سرحدی کشیدگی پر اظہارِ تشویش

    پاک فوج نے برامچا سیکٹر میں افغانی شہیدان پوسٹ تباہ کر دی

  • پاک فوج نے افغانی دوران میلا اور ترکمانزئی کیمپس بھی تباہ کر دیے

    پاک فوج نے افغانی دوران میلا اور ترکمانزئی کیمپس بھی تباہ کر دیے

    پاکستان فوج کی طرف سے افغان فورسز کے خلاف منہ توڑ جواب بھرپور طریقے سے جاری ہے

    پاک فوج نے افغانی دوران میلا اور ترکمانزئی کیمپس بھی تباہ کر دیے، سیکورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان سیکیورٹی فورسز افغانی دراندازی کا منہ توڑ جواب دے رہی ہیں،ذرائع کے مطابق، پاکستانی جوابی حملے سے افغان فورسز میں بوکھلاہٹ پھیل گئی اور متعدد پوسٹیں خالی کردی گئیں۔ اطلاعات کے مطابق، کئی افغان اہلکار اپنی پوسٹوں پر لاشیں چھوڑ کر فرار ہوگئے۔

    صحافی وقار ستی نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ بارود کی تیز بو ہر سانس میں گھل رہی ہے سرحد کا ہر کونہ گواہ ہے کہ یہاں فتح اور آزمائش کا حساب ہو رہا ہے۔ فضا میں نعرۂ تکبیر گونج رہا ہے، افواجِ وطن کا عزم فولادی ہے اور دلوں میں شجاعت کی آگ بھڑک رہی ہے۔ دوسری طرف افغانستان کی وہ چوکیاں اب ملبے میں بدل گئی ہیں زخمی اور لاشیں چھوڑ کر دشمن قطاریں منتشر، پسپائی کی راہ پکڑ چکی ہیں۔ یہ منظر صرف ایک محاذ کا عکس نہیں یہ عزتِ وطن کا امتحان ہےجہاں ہر حملہ اور ہر جواب تاریخ کے قلم میں ثبت ہو رہا ہے

  • سعودیہ کے بعد قطر کی پاک افغان سرحدی کشیدگی پر اظہارِ تشویش

    سعودیہ کے بعد قطر کی پاک افغان سرحدی کشیدگی پر اظہارِ تشویش

    ریاستِ قطر نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی علاقوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جھڑپوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    قطری وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سرحدی تناؤ کے باعث خطے کے امن، سلامتی اور استحکام پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ قطر دونوں برادر اسلامی ممالک اسلامی جمہوریہ پاکستان اور افغانستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ تحمل، بردباری اور ذمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ کریں، اور تنازعات کو بات چیت اور سفارتی ذرائع سے حل کرنے کو ترجیح دیں تاکہ حالات مزید نہ بگڑیں اور خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔وزارتِ خارجہ نے اپنے اعلامیے میں مزید کہا کہ قطر علاقائی و بین الاقوامی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے جو دنیا میں امن و سلامتی کو فروغ دینے کے لیے کی جا رہی ہیں۔بیان کے مطابق، قطر خطے میں پائیدار استحکام اور خوشحالی کے لیے پرعزم ہے اور پاکستانی و افغانی عوام کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گا۔

  • پاک فوج نے برامچا سیکٹر میں افغانی شہیدان پوسٹ تباہ کر دی

    پاک فوج نے برامچا سیکٹر میں افغانی شہیدان پوسٹ تباہ کر دی

    پاک فوج کی طرف سے افغان فورسز کے خلاف منہ توڑ جواب بھرپور طریقے سے جاری ہے،

    پاک فوج نے برامچا سیکٹر میں افغانی شہیدان پوسٹ تباہ کر دی۔پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے حملہ آوروں کا حملہ پسپا کردیا، اطلاعات کے مطابق پاکستان سیکیورٹی فورسز افغانی دراندازی کا منہ توڑ جواب دے رہی ہیں۔پاکستان کی سیاسی، عسکری اور انٹیلی جنس قیادت اس وقت سر جوڑ کر بیٹھ کر فوری اور مؤثر حکمتِ عملی مرتب کر رہی ہے، تاکہ وطن کی عزت اور سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے

    ذرائع کے مطابق، پاکستانی جوابی حملے سے افغان فورسز میں بوکھلاہٹ پھیل گئی اور متعدد پوسٹیں خالی کردی گئیں۔ اطلاعات کے مطابق، کئی افغان اہلکار اپنی پوسٹوں پر لاشیں چھوڑ کر فرار ہوگئے۔

  • پاکستان کامؤثر جوابی حملہ،افغان فورسزپوسٹیں چھوڑ کر فرار،لاشیں بھی چھوڑ گئے

    پاکستان کامؤثر جوابی حملہ،افغان فورسزپوسٹیں چھوڑ کر فرار،لاشیں بھی چھوڑ گئے

    پاک افغان سرحد پر افغانستان کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کے بعد پاکستان آرمی نے مؤثر اور بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے افغان فورسز کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، افغانستان کی جانب سے سرحدی علاقے میں اچانک فائرنگ اور گولہ باری کی گئی، جس کے جواب میں پاک فوج نے انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں بھرپور اور مؤثر کارروائی کی۔ جوابی فائرنگ کے نتیجے میں افغان پوسٹوں کو شدید نقصان پہنچا اور کئی چوکیاں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں۔ذرائع کے مطابق، پاکستانی جوابی حملے سے افغان فورسز میں بوکھلاہٹ پھیل گئی اور متعدد پوسٹیں خالی کردی گئیں۔ اطلاعات کے مطابق، کئی افغان اہلکار اپنی پوسٹوں پر لاشیں چھوڑ کر فرار ہوگئے۔

    سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی طرف سے جوابی کارروائی اب بھی جاری ہے اور افغان جانب کو واضح طور پر بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ذرائع کے مطابق، افغانستان کی حکومت نے پاکستان سے رابطہ کرتے ہوئے جوابی فائرنگ روکنے کی درخواست کی ہے۔عسکری ذرائع کے مطابق، پاکستان کی مسلح افواج ملکی خودمختاری اور سرحدوں کے تحفظ کے لیے ہر قیمت پر تیار ہیں، اور کسی کو بھی ملکی سالمیت پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

  • سعودی عرب کی پاک افغان سرحدی کشیدگی پر تشویش، تحمل اور مذاکرات پر زور

    سعودی عرب کی پاک افغان سرحدی کشیدگی پر تشویش، تحمل اور مذاکرات پر زور

    سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ سرحدی کشیدگی اور جھڑپوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک سے تحمل، صبر اور دانش مندی کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔

    سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مملکتِ سعودی عرب پاکستان اور افغانستان کی سرحدی علاقوں میں پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی اور جھڑپوں پر فکرمند ہے۔ ہم دونوں ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، حالات کو مزید بگاڑنے سے گریز کریں، اور تنازعات کے حل کے لیے بات چیت اور دانش مندانہ طرزِ عمل اپنائیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ خطے میں امن و استحکام کا قیام دونوں ممالک کے عوام کے مفاد میں ہے، اس لیے ضروری ہے کہ تصادم کی بجائے رابطے اور تعاون کو فروغ دیا جائے۔

    سعودی وزارتِ خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مملکت ہر اس علاقائی اور بین الاقوامی کوشش کی حمایت کرتی ہے جو خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے کی جا رہی ہیں۔سعودی عرب کی ہمیشہ یہی خواہش رہی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے عوام امن، سلامتی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن رہیں۔ ہم امن کے قیام اور خطے میں استحکام کے لیے اپنے تعاون کو جاری رکھیں گے۔بیان کے آخر میں وزارتِ خارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مملکت علاقائی سلامتی، باہمی احترام اور برادر ممالک کے درمیان بہتر تعلقات کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

  • مار کھانے کے بعد…حملوں کو روک دیا،افغان حکومت کا اعلان

    مار کھانے کے بعد…حملوں کو روک دیا،افغان حکومت کا اعلان

    شدید جھڑپوں کے بعد افغان طالبان نے جنگ بندی کی درخواست کر دی۔ پاکستان کے بھرپور اور مؤثر جوابی وار نے افغان فورسز کا خمار اتار دیا۔یہ جنگی بندی کی درخواست ممکنہ مزید مار سے بچنے کی ایک کوشش ہے۔

    افغانستان کی عبوری حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اعلان کیا ہے کہ امارتِ اسلامیہ نے فی الوقت پاکستان پر حملوں کو روکنے کا فیصلہ کیا ہے اگر مستقبل میں افغان سرزمین سے پاکستان پر دوبارہ حملے کیے گئے تو امارت حقِ دفاع کے تحت جواب دے گی۔

    یہ اعلان ایسے وقت آیا ہے جب کابل اور ملک کے مشرقی حصوں میں دھماکوں کے بعد تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے،افغان وزیر خارجہ بھارت کےدورے پر ہیں اور اسی دوران افغانستان نے ان واقعات کے لیے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرایا ، بعد ازاں افغانستان نے پاکستان کے بارڈر پر حملے کئے جس کا پاکستانی فوج نے بھر پور اور مؤثر جواب دیا، افغان حکومت صرف ایک گھنٹے میں زیر ہو گئی اور حملوں میں اپنے فوجیوں‌کی ہلاکتوں کے بعد خود ہی جنگ بندی کا اعلان کر دیا ،پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان پر حملے نہیں ہونے چاہیے

  • پاک فوج کی جانب سے  خارجیوں کی سہولت کار افغان پوسٹوں کو موثر طریقے سے نشانہ بنایاگیا

    پاک فوج کی جانب سے خارجیوں کی سہولت کار افغان پوسٹوں کو موثر طریقے سے نشانہ بنایاگیا

    پاک افغانستان بارڈر پر افغان فورسز کی جانب سے متعدد مقامات پر بلا اشتعال فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئی۔ پاک فوج نے فوری اور بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے افغان بارڈر پوسٹوں کو نشانہ بنایا

    پاکستانی فوجی ذرائع کے مطابق افغان فورسز نے بارڈر کے مختلف سیکشنز پر فائرنگ کی، جس کا مقصد مبینہ طور پر خوارج،ملیشیا گروپوں کو بارڈر پار کروانے کی کوریج دینا تھا۔ پاک فوج نے چوکس پوسٹوں سے تیز اور موثر جوابی فائرنگ کی۔ پاکستانی ذرائع کا کہنا ہے کہ جوابی کارروائی میں افغانستان کی متعدد بارڈر پوسٹس تباہ ہوئیں اور درجنوں خارجی ہلاک ہوئے ، طالبان فورسز نے بعض مقامات چھوڑ کر پسپا ہونے کی اطلاعات بھی دی گئی ہیں۔

    ویڈیو کلپس میں بارودی فائرنگ، آرٹیلری اور چند مقامات پر پوسٹس کے دھماکے دکھائی دے رہے ہیں۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی فورسز نے موثر جوابی کارروائی میں بارڈر پوسٹس کو نشانہ بنایا اور خوارج،ملحقہ دہشت گرد عناصر کو سرحد پار سے آگے بڑھنے سے روکا گیا۔ کارروائی حفاظتی اور دفاعی نوعیت کی تھی تاکہ اندرونی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • پاکستان کی مؤثر جوابی کاروائی، افغان پوسٹیں خارجیوں کو کور فائر دینے میں ناکام

    پاکستان کی مؤثر جوابی کاروائی، افغان پوسٹیں خارجیوں کو کور فائر دینے میں ناکام

    پاکستانی فورسز کی جانب سے مؤثر اور شدید جوابی کاروائی سے متعدد افغان فوجی ہلاک اور خارجی تشکیلیں تتر بتر ہو گئی ہیں
    سیکورٹی ذرائع کے مطابق افغان پوسٹیں خارجیوں کو کور فائر دینے میں ناکام ہو گئی ہیں، متعدد افغان پوسٹوں اور خارجیوں کی تشکیلوں کو بھی بھاری نقصانات کی اطلاعات ہیں، انٹرم افغان حکومت کی سر پرستی میں چلنے والے افغانستان کے اندر خوارج اور داعش کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے،پاکستان کی جانب سے آرٹلری، ٹینکوں، ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا جا رہا ہے،اسکے علاوہ داعش اور خارجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لئے فضائی وسائل اور ڈرونز کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے، افغان فورسز کے اُن ہیڈ کوارٹر کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے جو داعش اور فتنہ الخوارج کو پنا دیتے رہے ہیں ،

  • پاک فوج کی بھرپور جوابی کارروائی، افغان حدود میں کیمپ تباہ

    پاک فوج کی بھرپور جوابی کارروائی، افغان حدود میں کیمپ تباہ

    پاک فوج نے افغانستان کی سرحدی حدود میں واقع دران میلہ اور ترکمن زئی کیمپوں پر مؤثر اور بھرپور آرٹلری کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کر دیے ہیں۔ یہ کارروائی ان حالیہ حملوں کے جواب میں کی گئی جن میں افغان جانب سے پاکستانی چیک پوسٹوں پر بلا اشتعال فائرنگ کی گئی تھی۔

    https://x.com/zarrar_11PK/status/1977093506754867357

    ان دونوں کیمپوں میں افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرنے والے ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان) کے دہشت گرد سرگرم تھے۔ ان کیمپوں سے نہ صرف پاکستانی سرحدی چوکیوں پر حملے کیے جا رہے تھے بلکہ قبائلی علاقوں میں تخریب کاری کی منصوبہ بندی بھی جاری تھی۔ذرائع کے مطابق، پاکستانی فوج کی درست نشانے پر کی گئی گولہ باری سے دہشت گردوں کے کئی ٹھکانے مکمل طور پر تباہ ہو گئے جبکہ متعدد شدت پسندوں کے مارے جانے یا زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ افغان حکام کی جانب سے اگرچہ تاحال کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا،

    پاکستان اپنی سرحدوں کے دفاع کے لیے کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جا سکتی۔
    اگر افغان حکام نے دہشت گرد عناصر کے خلاف مؤثر اقدامات نہ کیے تو مزید سخت جوابی کارروائی سے گریز نہیں کیا جائے گا۔

    سرحدی علاقوں کے قبائلی رہنماؤں نے پاک فوج کی کارروائی کو قومی خودمختاری کے دفاع کا عملی مظاہرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی عوام اور قبائل اپنے اداروں اور مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔