Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • جیل میں بیٹھے شخص کی خواہش ہےکہ لاشوں پر سیاست کیسے چمکائی جائے،عطا تارڑ

    جیل میں بیٹھے شخص کی خواہش ہےکہ لاشوں پر سیاست کیسے چمکائی جائے،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہےکہ پی ٹی آئی حکومت کا سربراہ جیل میں بیٹھ کر دہشتگردوں کو آج بھی سپورٹ کرتا ہے اور تاثر ہے کہ ٹی ٹی پی پی ٹی آئی کا عسکری ونگ بن چکی ہے۔

    اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ خیبرپختونخوا میں قیام امن میں رکاوٹ ہیں، انتشار پسندوں کی خواہش ہے کہ حالات کسی طرح خراب کیے جائیں، پوری قوم دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے متحد ہوئی، آپریشن رد الفساد اور ضرب عضب کے نتیجے میں دہشتگردی کا خاتمہ ہوا،تحریک انتشار سمجھتی ہے کہ دہشتگردوں کا ساتھ دینے میں ہی عافیت ہے،اس جماعت نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دہشتگردوں کو لاکر بسایا ، جیل میں بیٹھے ہوئے شخص کی خواہش ہےکہ لاشوں پر سیاست کیسے چمکائی جائے، خیبرپختونخوا کی کابینہ میں ٹمبر مافیا اور ڈرگ مافیا بیٹھا ہے، کے پی حکومت نے تمباکو، ٹمبر مافیا کےخلاف ایکشن کیوں نہیں لیا، کے پی حکومت نے نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کےخلاف کیوں کارروائی نہیں کی، تاثر ہے کہ ٹی ٹی پی پی ٹی آئی کا عسکری ونگ بن چکی ہے، پی ٹی آئی کا اپنا ہاؤس ان آرڈر نہیں، بھارت کی للکار پر بانی پی ٹی آئی دبک کر بیٹھ گئے، ریاست فیصلہ کرچکی ہے دہشتگردوں کو شکست دیں گے، دہشتگردوں کوپاکستان میں رہنے کی اجازت نہیں دیں گے، دہشتگردی کی مزید گنجائش نہیں، دہشتگردی کا خاتمہ کریں گے اور آخری دہشتگرد کے خاتمے تک ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت کا سربراہ جیل میں بیٹھ کر دہشتگردوں کو آج بھی سپورٹ کرتاہے، بانی پی ٹی آئی اور ان کی جماعت نے عالمی میڈیا کے سامنے ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کی بات کی۔

  • کابل میں جہنم واصل نورولی محسود کی لاش کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل

    کابل میں جہنم واصل نورولی محسود کی لاش کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل

    بدنام زمانہ عالمی دہشتگرد اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا سرغنہ مفتی نور ولی محسود ہلاک ہوگیا۔ اطلاعات کے مطابق دہشتگرد نور ولی کابل میں ایک حملے میں جہنم واصل ہوا ہے، ٹی ٹی پی نور ولی محسود کی ہلاکت کی تردید کر ررہی تھی تاہم اب ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں نور ولی محسود کی لاش دکھائی گئی ہے،کابل میں ہونے والے دھماکے میں ہلاکتوں بارے افغان حکومت خاموش ہے.

    ذرائع کا کہنا ہے کہ مفتی نور ولی ایک طویل عرصے سے پاکستان اور افغانستان میں دہشتگردی کی منصوبہ بندی اور اس کی سرپرستی میں ملوث تھا۔ وہ خودکش حملوں، بم دھماکوں اور معصوم شہریوں کے قتل میں مطلوب تھا۔سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ نور ولی کی ہلاکت پاکستان اور خطے کے امن کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے، کیونکہ وہ عرصہ دراز سے مختلف دہشتگرد گروہوں کے درمیان رابطوں کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔

    کابل میں حملے میں ٹی ٹی پی سربراہ نور ولی محسود ہلاک، دو اہم کمانڈر بھی مارے گئے

    خارجی نور ولی محسود کا گھناؤنا منصوبہ بے نقاب

    خارجی نور ولی محسود کے خلاف کاروائی شروع،مقدمہ درج

    خارجی نور ولی محسود اور احمد حسین عرف غٹ حاجی کے گرد قانونی گھیرا تنگ

    نور ولی محسود کے خلاف سخت قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ

    فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کی مسلسل ہلاکتیں،نورولی کا نیاحکم نامہ آ گیا

    پاکستان سے واپسی کی کسی کو اجازت نہیں،فتنتہ الخوارج کےخارجی نورولی کی آڈیو لیک

  • ایسا پاکستان تعمیر کریں گے جہاں ہر بیٹی کو سیکھنے، بڑھنے اور قیادت کرنے کی آزادی ہو،بلاول

    ایسا پاکستان تعمیر کریں گے جہاں ہر بیٹی کو سیکھنے، بڑھنے اور قیادت کرنے کی آزادی ہو،بلاول

    پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نےلڑکیوں کے عالمی دن پر پیغام میں پاکستان سمیت دنیا بھر کی بچیوں کی ہمت اور ثابت قدمی کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے

    بلاول کا کہنا تھا کہ ہماری بیٹیاں ہمارا فخر اور ہمارا مستقبل ہیں، ہر بیٹی کو بلا امتیاز تعلیم، صحت، تحفظ اور مواقع تک یکساں رسائی دینا پیپلز پارٹی کے مشن کا اہم ستون ہے،یہ قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کے وژن کا ایک اہم جُز اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا درخشاں خواب بھی ہے،جب ایک بچی تعلیم یافتہ اور بااختیار ہوتی ہے تو وہ صرف خود کو نہیں بلکہ پوری قوم کو بلند کرتی ہے، آج بیٹیوں کے عالمی دن کے موقع پر ہم ایک تجدید عہد کرتے ہیں،عہد کرتے ہیں کہ ہم ایسا پاکستان تعمیر کریں گے جہاں ہر بیٹی کو سیکھنے، بڑھنے اور قیادت کرنے کی آزادی ہو، کیونکہ قوم کا مستقبل اُس کی بیٹیوں کی کامیابیوں میں جھلکتا ہے، پیپلز پارٹی کا وژن ایسا پاکستان ہے جہاں ہر بچی آزادی سے خواب دیکھ سکے اور برابری کے ساتھ اپنی منزل حاصل کر سکے

  • 1 لاکھ 32 ہزار لیٹر ایرانی ڈیزل لانچوں کے ذریعے اسمگل کرنے کی کوشش ناکام

    1 لاکھ 32 ہزار لیٹر ایرانی ڈیزل لانچوں کے ذریعے اسمگل کرنے کی کوشش ناکام

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے شعبہ کسٹمز انفورسمنٹ کراچی نے ساحلی راستے سے ہونے والی اسمگلنگ کے خلاف ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے ایرانی اسمگل شدہ ہائی اسپیڈ ڈیزل سے بھری تین لانچیں پکڑ لیں۔ حکام کے مطابق ان لانچوں سے 132,564 لیٹر اسمگل شدہ ڈیزل برآمد کیا گیا ہے۔

    ایف بی آر کے ترجمان کے مطابق میرین انفورسمنٹ یونٹ نے یہ کارروائی انسدادِ اسمگلنگ مہم کے دوران خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی۔ اطلاع ملی تھی کہ کچھ لانچیں ساحلی راستے سے اسمگل شدہ پٹرولیم مصنوعات کراچی منتقل کر رہی ہیں، جس پر ٹیم نے فوری طور پر کارروائی کا فیصلہ کیا۔کسٹمز حکام نے بتایا کہ میرین انفورسمنٹ ٹیم نے انتہائی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مخصوص لانچوں کا سراغ لگایا اور انہیں روکنے میں کامیابی حاصل کی۔ کارروائی کے دوران کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا، جب کہ لانچوں کو بحفاظت کراچی پورٹ منتقل کر کے اینٹی اسمگلنگ آرگنائزیشن (ASO) کے دفتر پہنچا دیا گیا۔

    ایف بی آر حکام نے کہا کہ ضبط شدہ ڈیزل اور لانچوں کی تفصیلات قانونی کارروائی کے لیے تحویل میں لے لی گئی ہیں۔ترجمان کے مطابق کسٹمز انفورسمنٹ کی انسدادِ اسمگلنگ مہم پورے زور و شور سے جاری ہے اور ساحلی علاقوں میں نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے تاکہ ایندھن، پٹرولیم مصنوعات، اور دیگر اشیائے صرف کی غیر قانونی ترسیل کو روکا جا سکے۔ذرائع کے مطابق یہ کارروائی حالیہ ہفتوں میں ہونے والی سب سے بڑی کامیابیوں میں شمار کی جا رہی ہے، جو نہ صرف ملکی معیشت کے تحفظ بلکہ غیر قانونی تجارت کے خلاف ریاستی عزم کی علامت ہے۔

  • وزیر داخلہ محسن نقوی سے تبلیغی جماعت کے وفد کی ملاقات

    وزیر داخلہ محسن نقوی سے تبلیغی جماعت کے وفد کی ملاقات

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے تبلیغی جماعت کے وفد کی ملاقات ہوئی

    وفد میں انوار غنی، اقبال میاں، محمد عامر اور زاہد پراچہ شامل تھے۔وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، چیف کمشنر و آئی جی اسلام آباد بھی اس موقع پر موجود تھے،تبلیغی جماعت کے وفد نے وزیر داخلہ کو نومبر میں ہونے والے سالانہ تبلیغی اجتماع کی تیاریوں سے متعلق آگاہ کیا،وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ اجتماع کے انعقاد میں وزارت داخلہ کی جانب سے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا،اجتماع میں شرکت کیلئے آنے والے غیر ملکی وفود کو ویزا کے حصول میں مکمل سہولت فراہم کی جائے گی،گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی ائیر پورٹس پر سپیشل کاؤنٹر قائم کیے جائیں گے،

  • نیشنل ایکشن پلان اور قومی اتحاد ، امن کی شاہراہ پر عزم و وفا کا سفر

    نیشنل ایکشن پلان اور قومی اتحاد ، امن کی شاہراہ پر عزم و وفا کا سفر

    پاکستان کی سرزمین ہمیشہ سے قربانی، ایثار اور ایمان کی خوشبو سے مہک رہی ہے۔ یہ وہ دھرتی ہے جس نے اپنے سپوتوں کے خون سے وفا کے چراغ جلائے، اور ہر دور میں دشمن کے سامنے سربلند رہی۔ آج جب فتنۂ خوارج اور دہشت گردی کے سائے ایک بار پھر امن کی روشنی کو گہنانے کی کوشش کر رہے ہیں، تو وطنِ عزیز کے فرزندانِ توحید پھر سے ایک عزمِ نو کے ساتھ میدان میں صف بستہ دکھائی دیتے ہیں۔نیشنل ایکشن پلان کی صورت میں قوم کے پاس ایک ایسی حکمتِ عملی موجود ہے جو محض قانون نہیں بلکہ ایک عہد، ایک پیمان، اور ایک عزم ہے—کہ وطن کے امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔پاک فوج کے ترجمان کی حالیہ پریس کانفرنس میں جو پیغام قوم کے نام آیا، وہ دراصل ریاستی عزم کی گونج تھی۔نیشنل ایکشن پلان پر عمل اور قومی اتحاد ہی امن و امان کی ضمانت ہیں،

    قوم جانتی ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی سنگلاخ وادیوں میں جو جوان دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑے ہیں، وہ محض سپاہی نہیں، بلکہ اس قوم کی غیرت اور ایمان کے امین ہیں۔ ان کی شہادتیں، ان کی قربانیاں کسی فرد یا ادارے کی نہیں، بلکہ پورے وطن کی اجتماعی میراث ہیں۔یہی وہ چراغ ہیں جو اندھیروں میں روشنی بن کر جلتے ہیں، اور جن کے دم سے وطن کے افق پر امید کے دیے روشن رہتے ہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی امت میں انتشار، منافقت یا خوف پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، فتنۂ خوارج نے ہی اس کی بنیاد رکھی۔آج بھی وہی ذہنیت، وہی زہر، نئے چہروں اور نئے ناموں سے وطنِ عزیز میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے۔ دشمن کے ہاتھوں میں کھیلنے والے یہ عناصر کبھی مذہب کا لبادہ اوڑھ کر اور کبھی آزادی کے نام پر قوم کے خلاف ہتھیار اٹھاتے ہیں۔انہی کے تعاقب میں افواجِ پاکستان نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے، اور یہ قربانیاں اس بات کی ضمانت ہیں کہ قوم دہشت گردی کے اس اندھیرے کو ہمیشہ کے لیے مٹا کر دم لے گی۔

    یہ کوئی راز نہیں کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے ازلی دشمن بھارت کا ہاتھ ہے۔ایک طرف وہ دہشت گردی کو فروغ دے کر پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتا ہے، تو دوسری طرف عالمی برادری کے سامنے امن کا علمبردار بننے کا ناٹک کرتا ہے۔مزید افسوس کا مقام یہ ہے کہ افغانستان، جو کبھی برادر اسلامی ملک کہلاتا تھا، آج خاموش تماشائی بن کر دہشت گردوں کے خلاف کوئی ٹھوس اقدام کرنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔کیا ایک اسلامی ہمسایہ ملک کا یہ شایانِ شان رویہ ہے؟کیا یہ امتِ مسلمہ کی اخلاقی ذمہ داری نہیں کہ وہ امن کے دشمنوں کے خلاف صف بستہ ہو جائے؟یہ رویہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ مگر یاد رکھنا چاہیے، پاکستان کا صبر کمزوری نہیں بلکہ حکمت ہے، اور اس کی خاموشی تدبر کا مظہر۔دہشت گردی کے خاتمے کے لئے نیشنل ایکشن پلان صرف ایک سرکاری پالیسی نہیں، بلکہ پاکستان کے ہر شہری کا اجتماعی عہد ہے۔یہ پلان اُس فلسفے پر قائم ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ صرف گولی سے نہیں بلکہ تعلیم، انصاف، روزگار، گورننس، اور قومی یکجہتی سے ممکن ہے۔جب خیبر پختونخوا میں گورننس بہتر ہوگی، جب بلوچستان کے نوجوانوں کو مواقع میسر آئیں گے، جب قانون سب کے لیے برابر ہوگا، تب ہی وہ خواب حقیقت بنے گا جس میں امن ایک نعمت نہیں بلکہ ایک فطری حق بن جائے گا۔

    یہ وقت تماشائی بننے کا نہیں، بلکہ تاریخ کے دھارے میں کردار ادا کرنے کا ہے۔ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا، فرقہ واریت اور سیاسی تقسیم کے زہر کو ترک کرنا ہوگا۔قوم کے ہر طبقے، ہر فرد اور ہر ادارے کو یہ عہد دہرانا ہوگا کہ یہ وطن ہمارا ہے، اس کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے، اور ہم اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔پاکستان کے دشمنوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ یہ قوم نہ ماضی میں جھکی ہے، نہ آج جھکے گی۔یہ قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے، جس کے پیچھے ایمان کی قوت اور قربانی کا عزم ہے۔افواجِ پاکستان کے بہادر سپوت اور عوام کے مخلص دل ایک ساتھ کھڑے ہیں ایک ہی مقصد کے لیےمامن، استحکام اور مادرِ وطن کی حفاظت۔

    تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ وہ قومیں کبھی فنا نہیں ہوتیں جو اپنے شہداء کا خون ضائع نہیں جانے دیتیں۔
    آج جب دشمن چاروں جانب سے نفسیاتی، فکری اور عسکری حملے کر رہا ہے، تو ہمیں ایک ایسی صف میں کھڑا ہونا ہوگا جہاں کوئی کمزور کڑی نہ ہو۔یہی قومی یکجہتی، یہی ایمان، یہی نیشنل ایکشن پلان پر خلوصِ نیت سے عمل ہماری کامیابی کی کنجی ہے۔یہ وطن ہمارا ہے، اور ہم اس کے محافظ ہیں۔ہم اپنی جانوں سے زیادہ اپنے پرچم کو عزیز رکھتے ہیں۔ہم اس سرزمین کے ہر ذرے کی حفاظت کے لیے تن، من، دھن قربان کرنے کو تیار ہیں۔ان شاءاللہ وہ دن دور نہیں جب پاکستان کی فضاؤں میں امن کا پرچم پھر سے پوری آب و تاب کے ساتھ لہرا رہا ہوگا،اور شہداء کے خون سے سینچی گئی یہ دھرتی ہمیشہ کے لیے دہشت کے سائے سے آزاد ہو جائے گی۔

  • ہمیں مت دھتکاریئے، ایسا مت کیجئے، ہم پاکستان کو متحد رکھنے والی قوت ہیں،سلمان اکرم راجہ

    ہمیں مت دھتکاریئے، ایسا مت کیجئے، ہم پاکستان کو متحد رکھنے والی قوت ہیں،سلمان اکرم راجہ

    تحریک انصاف کے رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے اندر سے تبدیلی کی وجہ سے صوبہ خیبرپختونخوا میں تبدیلی آ رہی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ اس تبدیلی کو روکنے کی کوشش ہو گی

    پشاور میں جنید اکبر ،اسد قیصرو دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ یہ کہنا کہ تحریک انصاف دہشتگردوں کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہے سرا سر الزام ہے بہتان ہے ہمارے لیے پاکستانی قوم کا خون مقدم ہے۔ ملک کے ہر کونے میں اپنی جان کا نذرانہ دینے والے ہم ہر سپاہی افسران کے ساتھ کھڑے ہیں یہ کہنا کہ ہم کسی کے خون کو کمتر سمجھتے ہیں یہ بہتان ہے ،سپاہی،افسر،پولیس کے اہلکار سب کے ساتھ کھڑے ہیں،ہم پاکستانی قوم کی آواز ہیں، ہم ہراس منفی طاقت کے خلاف کھڑے ہیں جو پاکستان کو میلی نظر سے دیکھتی ہے،ہم پر سہولت کاری کے الزامات لگائے گئے، ڈرانے کی کوشش کی گئی کہ آپ کو ریاست کے غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہم شہداء کے ساتھ کھڑے ہیں،ہمیں مت دھتکاریئے، ایسا مت کیجئے، ہم پاکستان کو متحد رکھنے والی قوت ہیں، آج قوم عمران خان کے پیچھے کھڑی ہے،

    جنید اکبر کا کہنا تھا کہ میں علی امین گنڈاپور کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ اس کو جیسے ہی حکم ملا اس نے ایک منٹ بھی ضائع نہیں کیا اور استعفٰی دے دیا،ہمارے تمام 92 امیدوار سہیل آفریدی کو ووٹ دیں گے ،ہم سہیل آفریدی کو یقینی طور پر وزیراعلیٰ بنائیں گے ۔

  • کراچی ملک میں سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے۔مصطفیٰ کمال

    کراچی ملک میں سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے۔مصطفیٰ کمال

    وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ دنیا آگے نکل چکی ہے، آرام کرنے کا وقت ختم ہو گیا ہے۔

    کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ دنیا ہمارے ساتھ کاروبار کرنا چاہتی ہے، ہمیں اس موقع کا فائدہ اٹھانا چاہیے، میں آپ سب میں سے ہی ایک ہوں، آپ کا حمایتی ہوں، مجھے اس منصب پر 6 ماہ ہوئے ہیں، آپ 60 سال کے مسائل بتاتے ہیں، میں ذمے داری لیتا ہوں، پہلے والوں پر الزام نہیں لگاؤں گا، ڈریپ میں میڈیکل آلات اور ادویات آتی ہیں، یہ وہ فورم نہیں کہ تمام مسائل بتائے جائیں، 24 گھنٹے فون پر موجود ہوں، چاہتا ہوں کہ چیزیں ٹھیک ہوں، اگر آپ کو مسائل حل کروانے ہیں تو آ کر ملنا پڑے گا،ہمارے پڑوس میں انڈسٹریز کا بڑا حصہ جا رہا ہے، میری کوئی دوا یا میڈیکل ڈوائیسز کی فیکٹری نہیں، آپ کو سہولت فراہم کرنا میری ذمے داری ہے، کراچی ملک میں سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے۔

    قبل ازیں وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال کی قیادت میں پاکستان میں دواسازی صنعت کے فروغ کیلئے نئی سرمایہ کاری کا آغاز کر دیا گیا چینی اور جرمن کمپنیوں کے ساتھ ملاقات میں دوا سازی، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور برآمدات کو بڑھانے پر اہم پیشرفت ہوئی۔ ابتدائی طور پر 10 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری سے جدید پلانٹ لگایا جائے گا۔ وزیرِ صحت نے واضح کیا کہ پاکستان کو اب درآمدی نہیں بلکہ برآمدی دواسازی کی عالمی معیشت کا حصہ بنانا ہے۔

  • انڈیگو طیارے کی ونڈ اسکرین میں دراڑ،طیارہ اتار لیا گیا

    انڈیگو طیارے کی ونڈ اسکرین میں دراڑ،طیارہ اتار لیا گیا

    بھارت کی سب سے بڑی ایئرلائن انڈیگو کے ایک مسافر طیارے کی ونڈ اسکرین میں اچانک دراڑ پڑ گئی

    یہ واقعہ ہفتہ کے روز اُس وقت پیش آیا جب طیارہ مدورئی سے چنئی کے لیے پرواز کر رہا تھا اور لینڈنگ سے کچھ دیر قبل پائلٹ نے طیارے کی اگلی شیشے (ونڈ اسکرین) میں دراڑ محسوس کی۔ایئرپورٹ حکام کے مطابق، طیارے میں 76 مسافر سوار تھے۔ پائلٹ نے فوراً ایئر ٹریفک کنٹرول کو اطلاع دی اور ہنگامی انتظامات کیے گئے۔ حکام نے بتایا کہ طیارہ بحفاظت چنئی ایئرپورٹ پر اتارا گیا اور کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

    ذرائع کے مطابق، لینڈنگ کے بعد جہاز کو فوراً علیحدہ بی نمبر 95 پر پارک کیا گیا جہاں تمام مسافروں کو باحفاظت اتار لیا گیا۔ طیارے کی ونڈ اسکرین تبدیل کرنے کے انتظامات جاری ہیں جبکہ واقعے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی۔ایئرلائن کے مطابق، طیارے کی واپسی کی پرواز مدورئی کے لیے منسوخ کر دی گئی ہے تاکہ مرمت کا عمل مکمل کیا جا سکے۔ادھر، انڈیگو انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔

    ماہرینِ ہوا بازی کے مطابق، طیاروں کی ونڈ اسکرین پر دراڑیں عام طور پر فضائی دباؤ یا درجہ حرارت میں اچانک تبدیلی کے باعث پڑتی ہیں، تاہم اس موقع پر پائلٹ کی بروقت کارروائی نے ممکنہ سانحہ سے درجنوں قیمتی جانیں بچا لیں۔

  • انیل امبانی کے قریبی ساتھی اشوک کمار پال منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار

    انیل امبانی کے قریبی ساتھی اشوک کمار پال منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار

    ممبئی: انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے ہفتے کے روز ریلائنس گروپ کے چیئرمین انیل امبانی کے قریبی ساتھی اور ری لائنس پاور لمیٹڈ کے چیف فنانشل آفیسر اشوک کمار پال کو منی لانڈرنگ کے سنگین الزامات کے تحت گرفتار کر لیا۔

    ای ڈی کے مطابق اشوک پال پر الزام ہے کہ انہوں نے 68 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی جعلی بینک گارنٹی سولر انرجی کارپوریشن آف انڈیا جو وزارت برائے نئی اور قابل تجدید توانائی کے تحت ایک سرکاری ادارہ ہے کو جمع کرائی۔ یہ گارنٹی مبینہ طور پر جعلی ڈومینز اور بینک ای میلز کے ذریعے تیار کی گئی تھی تاکہ یہ اصلی دکھائی دے۔تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ اشوک پال نے گارنٹی کو اصلی ظاہر کرنے کے لیے کمرشل بینکوں کے جعلی ڈومینز استعمال کیے، یہ ڈومینز حقیقی بینک ای میلز سے ملتے جلتے مگر تھوڑے مختلف حروف یا اسپیلنگ کے ساتھ بنائے گئے تھے تاکہ ان کا سراغ نہ لگایا جا سکے۔ای ڈی کے مطابق اشوک پال ٹیلیگرام اور واٹس ایپ کے ذریعے مالیاتی کاغذی کارروائی کی منظوری دیتے تھے۔

    تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ریلائنس پاور نے فلپائن کے شہر منیلا میں فرسٹ رینڈ بینک کی ایک برانچ سے گارنٹی جمع کرانے کا دعویٰ کیا، لیکن ایسی کوئی برانچ حقیقت میں موجود ہی نہیں ہے۔جعلی گارنٹی کیس میں ایک اور اہم نام سامنے آیا ہے، بسوال ٹریڈ لنک، جو اڑیسہ کی ایک چھوٹی کمپنی ہے اور صرف کاغذی طور پر موجود پائی گئی۔ای ڈی کے مطابق اس کمپنی کے پاس نہ تو کوئی بینک گارنٹی کا تجربہ تھا اور نہ ہی قانونی طور پر مکمل ریکارڈ۔کمپنی کے ڈائریکٹر بسواس سارتهی کو اگست میں گرفتار کیا گیا تھا جب اس نے 68.2 کروڑ روپے کی جعلی گارنٹیاں ریلائنس پاور کی جانب سے پیش کیں۔

    ذرائع کے مطابق انیل امبانی خود بھی منی لانڈرنگ کے ایک بڑے کیس میں ملوث ہیں، جس میں 17,000 کروڑ روپے سے زائد کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور قرضوں کی غیر قانونی منتقلی کے الزامات شامل ہیں۔پہلا الزام تقریباً 3,000 کروڑ روپے کے قرضے کی غیر قانونی منتقلی سے متعلق ہے جو یس بینک (Yes Bank) نے 2017 سے 2019 کے درمیان ریلائنس گروپ کی مختلف کمپنیوں کو دیا تھا۔دوسرا الزام اس سے بھی بڑا ہے، جس میں ریلائنس کمیونیکیشنز پر 14,000 کروڑ روپے سے زائد کے فراڈ کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ای ڈی کی رپورٹ کے مطابق بعض کمپنیوں کو بغیر مکمل دستاویزات اور مالی شواہد کے قرضے جاری کیے گئے، کچھ معاملات میں قرضہ درخواست کے اسی دن منظور اور منتقل کر دیا گیا، جبکہ بعض اوقات منظوری سے قبل ہی رقم منتقل کر دی گئی۔رواں سال جولائی میں ای ڈی نے ریلائنس گروپ کے دفاتر پر چھاپے مارے تھے تاکہ مبینہ بینک قرضہ فراڈ اور دیگر مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کی جا سکیں۔

    ذرائع کے مطابق ای ڈی نے حالیہ دنوں میں انیل امبانی کو طلب کیا ہے اور 12 سے 13 بینکوں سے تفصیلات طلب کی ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ جب ریلائنس ہاؤسنگ فنانس، ریلائنس کمیونیکیشنز اور ریلائنس کمرشل فنانس کو قرضے دیے گئے تو بینکوں نے کس حد تک جانچ پڑتال کی۔