Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • آئی ایم ایف کی کرپشن کے خاتمے کیلیے نیب،ایف آئی اے میں اصلاحات کی سفارش

    آئی ایم ایف کی کرپشن کے خاتمے کیلیے نیب،ایف آئی اے میں اصلاحات کی سفارش

    آئی ایم ایف نے پاکستان سے کرپشن کے خاتمے کیلئے قائم ذمہ دار ایجنسیوں نیب، ایف آئی اے اورصوبائی اینٹی کرپشن اداروں کی خود مختاری اور ان میں جامع اصلاحات کی سفارش کردی ۔

    نجی ٹی وی کے مطابق آئی ایم ایف کی گورننس و کرپشن رپورٹ کے مطابق نیب اور صوبائی انسداد بدعنوانی کے اداروں کو آزاد اور خود مختار کیا جائے اور اعلیٰ سطح کی کرپشن تحقیقات کو مؤثر بنانے کیلئے نیب کےسربراہ کی تعیناتی کے عمل کو بہتر بنایاجائے ، نیب کی تحقیقاتی صلاحیتوں کو بڑھایا جائے اور ان اداروں کے اندراحتساب کے عمل کو یقینی بنایاجائے،آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانے کےلیے اعلی ٰ سرکاری افسران کے اثاثوں ، اختیارات اور وسائل کو جمع کرنے، ڈیجیٹائز کرنے اور ظاہر کرنے کےلیے ایف بی آر، پارلیمنٹ اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن پر مشتمل مرکزی اتھارٹی قائم کی جائے، پاکستان کے انسداد بدعنوانی کےلیے کام کرنے والے تین اداروں نیب، ایف آئی اے اور صوبائی اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے اداروں میں رسک بیسڈ اپرو چ اختیار کی جائے، مشکوک ٹرانزیکشن کی نشاندہی، کرپشن تک رسائی اور تحقیقات کے لیے نیب ، آڈیٹر جنرل آف پاکستان اور ایف بی آر کے مابین معلومات کے تبادلے اور رابطوں کو بڑھایا جائے۔

  • اشفاق احمد خلیل وفاقی سیکریٹری اطلاعات و نشریات کے عہدے پر تعینات

    اشفاق احمد خلیل وفاقی سیکریٹری اطلاعات و نشریات کے عہدے پر تعینات

    وزارت اطلاعات کے سینئر افسر اشفاق احمد خلیل وفاقی سیکریٹری اطلاعات و نشریات کے عہدے پر تعینات کر دیئے گئے

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی منظوری کے بعد نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا،اشفاق احمد خلیل اس سے قبل وزارت اطلاعات و نشریات میں ایڈیشنل سیکریٹری کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے تھے،اشفاق احمد خلیل وزارت اطلاعات میں مختلف اہم ذمہ داریوں پر بھی فائز رہ چکے ہیں ،اشفاق احمد خلیل نے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ پشاور میں ڈائریکٹر جنرل، پاکستان ایمبیسی ٹوکیو جاپان میں پریس قونصلر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں،اس کے علاوہ وہ ڈائریکٹوریٹ آف الیکٹرانک میڈیا اینڈ پبلی کیشنز، پیمرا، انفارمیشن سروس اکیڈمی اور پی آئی ڈی میں مختلف اہم عہدوں پر بھی فائز رہے

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وزارت اطلاعات کے سینئر افسران طارق خان، ارشد منیر، اشفاق احمد خلیل، محترمہ عمرانہ وزیر اور سعید احمد شیخ کے انٹرویوز کئے جن میں سے اشفاق احمد خلیل کے نام کو شارٹ لسٹ کر کے عہدے کے لئے منتخب کیا گیا،وزارت اطلاعات کے مطابق نئی تعیناتی کے بعد وزارت میں انتظامی اور پالیسی سطح پر تسلسل برقرار رہے گا اور حکومتی رابطہ کاری مزید موثر ہوگی،

  • پشاور حملہ،گورنر خیبر پختونخوا کی مذمت،تفصیلات طلب کر لیں

    پشاور حملہ،گورنر خیبر پختونخوا کی مذمت،تفصیلات طلب کر لیں

    گورنر خیبر پختوںخوا فیصل کریم کنڈی نے اعلیٰ حکام سے ایف سی ہیڈکوارٹرز پر حملے کی تفصیلات طلب کر لیں۔

    گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی نے ایف سی ہیڈکوارٹر پر فتنہ الخوارج کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حملہ بیرونی پشت پناہی میں سرگرم خارجی دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائی ہے، خیبرپختونخوا کے عوام کو اپنی پولیس، ایف سی اور فورسز پر فخر ہے، سپاہیوں نے شہادتیں پیش کر کے اسلام، ملک اور انسانیت کے دشمنوں کے عزائم ناکام بنائے۔

    دوسری جانب مرکزی ترجمان پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز شازیہ مری نے پشاور ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملے کی مزمت کی اور کہا کہ ایف سی اہلکاروں نے جرت اور بہادری کے ساتھ حملے کو ناکام بنایا، حملے کو بروقت ناکام بنانا ایف سی اہلکاروں اور سیکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی ہے،پوری قوم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے، شہید اہلکاروں کی درجات کی بلندی کیلے دعاگو ہوں،شہید اہلکاروں کے بہادر اہلخانہ کی غم میں برابر کے شریک ہیں اللہ عزوجل ان کو صبروجمیل عطا فرمائے، آمین،

    واضح رہے کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری کے ہیڈکوارٹرز پر فتنہ الخوارج کا حملہ ناکام بنا دیا گیا، تینوں خود کش حملہ آور مارے گئے۔ ڈپٹی کمانڈنٹ ایف سی جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ جوانوں نے بہادری سے خودکش حملے کو ناکام بنایا، فیڈرل کانسٹیبلری کے تین اہلکار شہید ہوئے ہیں۔حملے میں 2 ایف سی اہلکاروں سمیت 5 افراد زخمی بھی ہوئے۔

  • ملتان میں بی زیڈ یو ہوسٹل سے طالب علم کی لاش برآمد

    ملتان میں بی زیڈ یو ہوسٹل سے طالب علم کی لاش برآمد

    ملتان کی بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کے ہوسٹل سے ایک طالب علم کی لاش ملنے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے۔

    ابتدائی معلومات کے مطابق جاں بحق نوجوان بی ایس سائیکالوجی کے تیسرے سمسٹر کا طالب علم تھا، جو یونیورسٹی کے مرکزی ہوسٹل میں مقیم تھا۔پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے حاصل شواہد اور حالات و واقعات کی روشنی میں واقعہ بظاہر خودکشی کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے، تاہم حتمی رائے پوسٹ مارٹم رپورٹ اور مزید شواہد کے بعد ہی قائم کی جائے گی۔ اطلاع ملتے ہی ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور فورنزک ماہرین نے شواہد جمع کر لیے ہیں۔ کمرے کو سیل کرکے مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے، جبکہ طالب علم کے موبائل فون، کمرے میں موجود اشیا اور دیگر ممکنہ مواد کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔پولیس حکام کے مطابق مرحوم کے اہلِ خانہ سے رابطہ کر لیا گیا ہے اور انہیں واقعے کی مکمل تفصیلات سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔ابتدائی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ واقعہ کے وقت طالب علم کمرے میں اکیلا تھا۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے بھی واقعے کی تصدیق کر دی ہے اور کہا ہے کہ پولیس اور اہلخانہ کے ساتھ مکمل تعاون کیا جا رہا ہے۔

  • بھارتی فوج کا فارمیشن کمانڈرز کو میڈیا سے گفتگو میں محتاط رہنے کا حکم

    بھارتی فوج کا فارمیشن کمانڈرز کو میڈیا سے گفتگو میں محتاط رہنے کا حکم

    بھارتی فوج کے تمام فارمیشن کمانڈرز کو میڈیا سے بات چیت میں غیر ضروری آپریشنل معلومات کے افشا سے بچنے کی سخت ہدایات جاری کر دی ہیں۔

    یہ ہدایات 23 نومبر 2025 کو وزارتِ دفاع کے انٹیگریٹڈ ہیڈکوارٹرز (آرمی) کی جانب سے ایک سرکاری ایڈوائزری میں جاری کی گئیں۔ایڈوائزری لیفٹیننٹ جنرل منوج کمار کٹیار، پی وی ایس ایم، اے وی ایس ایم، جنرل آفیسر کمانڈنگ ان چیف ویسٹرن کمانڈ کے نام ارسال کی گئی، جس میں فوجی فارمیشنز کی جانب سے بڑھتے ہوئے میڈیا روابط پر اظہارِ تشویش کیا گیا ہے۔دستاویز کے مطابق، متعدد فیلڈ فارمیشنز حالیہ اور جاری عسکری مشقوں کے دوران میڈیا سے وسیع پیمانے پر رابطہ کر رہی ہیں، جو کہ عوامی روابط کے لیے مفید ضرور ہے، مگر اس میں حساس معلومات کے سامنے آنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایڈجٹینٹ جنرل برانچ نے واضح کیا کہ میڈیا انگیجمنٹ صرف طے شدہ سیکیورٹی پروٹوکول کے اندر رہتے ہوئے کی جائے۔اعلامیے میں سختی سے کہا گیا ہے کہ عسکری منصوبے،آپریشنل ڈپلائمنٹ کے تصورات،فارمیشنز کی ری اسٹرکچرنگ کی تفصیلات،مشقوں کے مقاصد،اور نظریاتی تبدیلیوں سے متعلق معلومات کو کسی بھی حالت میں میڈیا کے ساتھ شیئر نہ کیا جائے کیونکہ یہ معلومات صرف اندرونی استعمال کے لیے مخصوص ہیں۔اپنے زیرِ کمان تمام فارمیشنز کو واضح اور مؤثر ہدایات جاری کریں، تاکہ فوج کے آپریشنل راز اور حکمتِ عملی مکمل طور پر محفوظ رہیں۔

  • بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشتگردوں کیخلاف سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں،تعمیراتی کمپنی پر فائرنگ

    بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشتگردوں کیخلاف سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں،تعمیراتی کمپنی پر فائرنگ

    ملک کے مختلف حصوں، خصوصاً بلوچستان اور خیبر پختونخوا، میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران دہشت گردی، سیکیورٹی آپریشنز اور احتجاجات کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ سیکیورٹی اداروں نے اہم کارروائیوں میں دہشت گردوں کو گرفتار کیا، جبکہ بعض علاقوں میں عوام نے اغوا اور بدامنی کے خلاف مظاہرے بھی کیے۔

    ڈیرہ مراد جمالی کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے ایک تعمیراتی کمپنی پر فائرنگ کی، جو زرعی یونیورسٹی اور بے نظیر بھٹو میڈیکل کالج کے منصوبوں پر کام کر رہی تھی۔ پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے بھاری فائرنگ کی، تاہم پولیس کی جوابی کارروائی کے بعد فرار ہوگئے۔واقعہ نوتال تھانہ کی حدود میں پیش آیا۔ حملے کے بعد علاقے کا گھیراؤ کرکے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔

    پسنی تحصیل کے شادی کور علاقے میں سیکیورٹی فورسز نے رات گئے انٹیلیجنس کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے دو افراد سردال خان ولد شیر خان اور ہتار ولد میر دوست کو گرفتار کرلیا۔آپریشن میں متعدد گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں شریک تھیں۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی علاقے میں شدت پسند عناصر کی سرگرمیوں کے تدارک کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

    بلوچستان لبریشن فرنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ 20 نومبر کو شام سات بجے سوراب کے قریب سی پیک ہائی وے پر ایک گھنٹے تک چیکنگ اور اسنیپ انسپیکشن کیا، جس کے دوران ایک تعمیراتی کمپنی کی دو گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا۔
    سرکاری سطح پر اس دعوے کی تصدیق نہیں ہوئی۔بلیدہ کے گیلی علاقے میں 23 نومبر کو شام چار بجے BLF کی جانب سے ایک کارروائی کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ مبینہ طور پر سپلائی لے جانے والی گاڑیوں کو روکا گیا اور ٹائروں پر گولیاں چلائیں، تاہم ڈرائیوروں کو چھوڑ دیا گیا۔ بعد ازاں پاکستانی فورسز سے 30 منٹ تک فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے بعد “گوریلا حکمتِ عملی” کے ذریعے ان کے operatives محفوظ واپس چلے گئے۔ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

    ضلع وحد میں ایک نوجوان غلام سرور ولد اسداللہ براہمزی کے نامعلوم افراد کے ہاتھوں اغوا کے خلاف عوام نے قومی شاہراہ بند کردی۔پولیس کے مطابق نوجوان کو کاکاہیر علاقے سے اغوا کیا گیا تھا۔اس سے قبل ہفتے کے روز بھی احتجاج ہوا تھا جو مذاکرات کے بعد ختم کر دیا گیا تھا، تاہم واقعے کے بعد عوام دوبارہ سڑک پر نکل آئے اور تاحال انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

    زیارت میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے افغانستان کے صوبہ قندھار سے تعلق رکھنے والے پانچ مشتبہ افراد صادق اللہ، فرہاد، قدرت اللہ، احسان اللہ اور محمد صابر کو گرفتار کر لیا۔کارروائی کے دوران دستی بم، SMGs، M4 رائفل کے حصے، RPG راکٹس، میگزینز، سیکڑوں گولیاں، دھماکہ خیز مواد، وائرلیس سیٹس اور دیگر سامان برآمد ہوا۔حکام کے مطابق گرفتار افراد پاکستان میں تخریب کاری اور اسلحہ اسمگلنگ میں ملوث تھے۔

    آئی جی پولیس ذوالفقار حمید کے مطابق بنوں میں گزشتہ دنوں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا، جس کے بعد روزانہ کی بنیاد پر سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن جاری ہیں۔شری خیل اور پہاڑ خیل میں 10 دہشت گرد ہلاک اور 5 زخمی ہوئے، جبکہ نصر خیل میں بھی ایک دہشت گرد مارا گیا۔ڈومیل میں تین شہریوں کی ہلاکت اور بکتر بند گاڑی پر حملے کے بعد فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے چھ شدت پسند ہلاک کیے۔حکام کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کا کمانڈ سٹرکچر شدید متاثر ہوا ہے۔

    گزشتہ رات فتنہ الخوارج سے منسلک دہشت گردوں نے تھانہ غوریوالا اور تھانہ وزیر پر حملے کیے، جو خیبر پختونخوا پولیس نے مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیے۔دونوں حملوں میں پولیس اہلکار اور انفراسٹرکچر محفوظ رہا۔ضلع ڈی آئی خان کے علاقے خویے پیوار میں آپریشن کے دوران تین دہشت گرد ہلاک ہوئے جن میں دو اہم رہنما ابو دردہ عرف حکیم اور اعجاز احمد عرف ابو دجانہ شامل ہیں۔تیسرا دہشت گرد تاحال شناخت نہ ہوسکا۔حکام کے مطابق کارروائی انتہائی درستگی سے کی گئی اور کوئی شہری نقصان نہیں ہوا۔

    مہمند میں شدت پسندوں نے کارپہ روڈ کی تعمیر میں استعمال ہونے والی بھاری مشینری کو آگ لگا دی۔مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گرد تعمیراتی کمپنی سے بھتہ طلب کر رہے تھے اور عدم ادائیگی پر مشینری کو آگ لگائی گئی۔کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    خیبر ضلع کے علاقے قمبر خیل میں دہشت گردوں کی آمد اور فائرنگ کے باعث خوف و ہراس پھیل گیا، تاہم مقامی مشران اور ایک مولوی نے مسلح افراد سے بات چیت کرکے انہیں علاقے سے نکلنے پر مجبور کیا۔مختصر فائرنگ کے بعد شدت پسند فرار ہوگئے۔علاقہ مکینوں نے مشران کی جرات کو سراہا ہے۔

    سرکاری رپورٹ کے مطابق بنوں ریجن میں دہشت گردوں نے ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے 130 سے زائد حملے کیے، جو سیکیورٹی فورسز نے جدید اسلحے، مضبوط حفاظتی نظام اور بروقت ردعمل سے مکمل طور پر ناکام بنا دیے۔14 دہشت گرد مارے گئے اور 22 زخمی ہوئے۔حکام نے کہا کہ سیکیورٹی اپ گریڈ کے باعث تنصیبات مکمل محفوظ رہیں۔

  • ضمنی انتخابات میں ٹرن آؤٹ ہمیشہ کم ہو تا ہے، چیف الیکشن کمشنر

    ضمنی انتخابات میں ٹرن آؤٹ ہمیشہ کم ہو تا ہے، چیف الیکشن کمشنر

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کہا ہےکہ ضمنی الیکشن میں ٹرن آؤٹ ہمیشہ کم ہوتا ہے۔

    اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اس انتخاب سے نمبر گیم تبدیل نہیں ہونا تھا جس کی وجہ سے عوام کی دلچسپی کم رہی اس لیے ضمنی الیکشن میں ٹرن آؤٹ ہمیشہ کم ہوتا ہے،ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کمیشن نے بلاتفریق ایکشن لیا، ڈی آر اوز نے کچھ رپورٹس بھیجی ہیں، کچھ شکایات کا کمیشن نے خود نوٹس لیا جب کہ طلال چوہدری کو آج طلب کیا ہے۔

    واضح رہےکہ مسلم لیگ (ن) نے ضمنی انتخابات میں میدان مارلیا ہے، (ن) لیگ نے قومی اسمبلی کی تمام 6 نشستوں پر کامیابی سمیٹی جب کہ صوبائی اسمبلی کی بھی 7 میں سے 6 نشستیں (ن) لیگ کے حصے میں آئیں، پیپلز پارٹی صوبائی اسمبلی کی صرف ایک نشست پر کامیابی حاصل کرسکی ہے۔

  • پشاور ایف سی ہیڈ کوارٹر پر خودکش حملہ ناکام،3حملہ آور جہنم واصل، اہلکار شہید

    پشاور ایف سی ہیڈ کوارٹر پر خودکش حملہ ناکام،3حملہ آور جہنم واصل، اہلکار شہید

    پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈ کوارٹر پر دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنا دیا گیا، 3 خودکش حملہ آور ہلاک ہوئے جبکہ 3 ایف سی اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا۔

    سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید نے فیڈرل کانسٹیبلری کے ہیڈ کوارٹر پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ فیڈرل کانسٹیبلری کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ صبح 8 بج کر 10 منٹ پر ہوا، حملے کے بعد سنہری مسجد روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا اور ٹریفک کو صدر روڈ کی جانب موڑ دیا گیا، 3 خودکش حملہ آوروں نے فیڈرل کانسٹیبلری پر حملہ کیا، ایک خودکش حملہ آور نے خود کو مرکزی گیٹ پر اڑایا جبکہ دو خودکش حملہ آور فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈ کوارٹر کے اندر داخل ہوئے،فیڈرل کانسٹیبلری کے اہلکاروں نے دونوں حملہ آوروں پر فائرنگ کی، تینوں خودکش حملہ آور مارے گئے ہیں، فیڈرل کانسٹیبلری کے جوانوں نے بہادری سے خودکش حملے کو ناکام بنایا۔

    ڈپٹی کمانڈنٹ فیڈرل کانسٹیبلری جاوید اقبال نے بتایا کہ تینوں خودکش حملہ آور مارے گئے ہیں، فیڈرل کانسٹیبلری کے جوانوں نے بہادری سے دہشتگردوں کا مقابلہ کیا، خودکش حملے میں فیڈرل کانسٹیبلری کے 3 اہلکار شہید ہوئے،اسپتال ذرائع کے مطابق حملے میں 9 افراد زخمی ہوئے جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، حملے میں 3 ایف سی اہلکار اور 6 شہری ہیں، تمام زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے اور ان کی حالت تسلی بخش ہے۔ڈپٹی کمانڈنٹ فیڈرل کانسٹیبلری کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

    وزیراعظم شہبازشریف نے پشاورمیں فیڈرل کانسٹیبلری کے ہیڈکوارٹر پر دہشتگرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی کی بدولت بڑے نقصان سے بچ گئے،وزیراعظم نے زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد ازجلد صحتیابی کے لیے دعا کی،وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا واقعے کے ذمہ داران کی جلد ازجلد شناخت کرکے انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے،پاکستان کی سالمیت پرحملہ کرنے والے دہشت گردوں کے مذموم عزائم کوخاک میں ملا دیں گے، حکومت پاکستان ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پر عزم ہے۔

  • انٹرا پارٹی انتخابات، مرکزی مسلم لیگ کا ضابطہ اخلاق،ہدایت نامہ جاری

    انٹرا پارٹی انتخابات، مرکزی مسلم لیگ کا ضابطہ اخلاق،ہدایت نامہ جاری

    مرکزی مسلم لیگ نے انٹرا پارٹی انتخابات کے لئےضابطہ اخلاق، ہدایت نامہ جاری کر دیا،اپریل تک ملک بھر میں یوسی سطح پر انٹرا پارٹی انتخابات ہوں گے،انجینئر حارث ڈار چیف الیکشن کمشنر،امیدواروں کے لئے بھی ہدایت نامہ جاری کر دیا گیا

    ترجمان مرکزی مسلم لیگ تابش قیوم کے مطابق انٹرا پارٹی انتخابات میں جو لوگ الیکشن لڑنے کے خواہشمند ہوں ان کی حوصلہ افزائی کر تے ہوئےرکنیت فارم فل کرنے کا موقع دیا جائے،پارٹی کا ہر رکن امیدوار بن سکتا ہے،امیدوار کے لئے ضروری ہے کہ پارٹی کا رکن اور دیانتدار ہو،یو سی ،پی پی،تحصیلی،ضلعی اور ڈویژنل زمہ دار مل کر امیدواران کا انتخاب کریں،امیدوار اور ووٹر کا پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا ممبر ہونا ضروری ہے،جن افراد نے رکنیت سازی فارم فل کیا ہوا ہے ان کو تصدیق نامہ جاری کیا جائے،امیدوار نامزد کرنے کے بعد ان کو نشانات الاٹ اور پھر انتخابی مہم کا وقت دیا جائے،عمومی صدر کے ساتھ یوتھ کا صدر اور خواتین کی صدر بھی شامل کریں،15 دسمبر تک اے کیٹیگری کی یوسیز میں الیکشن مکمل کیا جائے،یکم جنوری سے 31 جنوری تک دوبارہ سے انٹرا پارٹی الیکشن کا تسلسل جاری رکھا جائے، ہر قسم کی دستاویزات، ڈیزائن، فارم، پمفلیٹ، مہریں، سرٹیفیکیٹ چیف الیکشن کمشنر آفس سے فراہم کیے جائیں گے .

    دوسری جانب مرکزی مسلم لیگ پشاور کے صوبائی سیکٹریٹ میں ایک اہم تنظیمی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کا بنیادی مقصد انٹرا پارٹی الیکشن کے سلسلے میں تنظیمی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانا اور آئندہ کے لائحۂ عمل پر تفصیلی مشاورت کرنا تھا۔اس اجلاس میں پشاور کے مختلف حلقوں اور پی کے کے جنرل سیکرٹریز نے بھرپور شرکت کی۔ اجلاس میں خصوصی شرکت مرکزی مسلم لیگ جنوبی خیبر پختونخوا کے صدر محترم یاور آفتاب صاحب اور مسلم یوتھ لیگ خیبر پختونخوا کے صدر عبداللہ شکیل تھے، جنہوں نے انٹرا پارٹی الیکشن کی اہمیت، شفافیت اور منظم سیاسی کردار کے حوالے سے قیمتی گفتگو فرمائی۔اس موقع پر ضلعی صدر ملک کلیم اللہ اور ضلعی جنرل سیکرٹری انعام اللہ صاحب نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور تنظیمی امور، مقامی سطح پر پارٹی کی فعالیت اور آئندہ کے اہداف پر روشنی ڈالی۔اجلاس میں شریک تمام ذمہ داران نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ کو مزید مضبوط، فعال اور عوامی خدمت کا حقیقی پلیٹ فارم بنانے کے لیے بھرپور کردار ادا کرتے رہیں گے۔

  • وزارت آئی ٹی نے سائبر سیکورٹی ایکٹ کا ابتدائی مسودہ تیار کرلیا

    وزارت آئی ٹی نے سائبر سیکورٹی ایکٹ کا ابتدائی مسودہ تیار کرلیا

    وزارت آئی ٹی نے سائبر سیکورٹی ایکٹ کا ابتدائی مسودہ تیار کرلیا

    وفاق کی سطح پر سائبر سیکیورٹی اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،اتھارٹی اہم قومی انفراسٹرکچر کیلئے سائبر سیکورٹی اقدامات تجویز کرے گی،دستاویز کے مطابق سائبر سیکورٹی اتھارٹی ملک میں سائبر سیکورٹی اقدامات نافذ کرے گی،سائبر سیکورٹی ایکٹ اسٹیک ہولڈرز کو مشاورت کیلئے بھیج دیا گیا ہے،نیشنل سائبر سیکورٹی پالیسی ملک گیر ڈیجیٹل تحفظ کا فریم ورک فراہم کرتی ہے، سائبر سیکورٹی پالیسی پر ڈیجیٹل اکانومی انہانسمنٹ پروگرام کے تحت نفاذ جاری ہے،سیکیور ڈیٹا ایکسچینج لئیر، ڈیجیٹل شناخت کے منصوبوں پر پیش رفت ہوئی ہے،نادرا، ایف بی آر، ٹیلی کام کے ڈیٹا کو اہم ڈیجیٹل انفراسٹرکچر قرار دے دیا گیا، اہم اداروں کے انفارمیشن سسٹمز کا تحفظ حکومت کی ترجیح ہےامیگریشن اینڈ پاسپورٹس سسٹمز کو بھی اہم قرار دینے کا عمل جاری ہے، نیشنل سائبر سیکورٹی اتھارٹی کے قیام تک سرٹ کونسل فعال ہے،سرٹ کونسل 14 سرکاری و نجی اداروں پر مشتمل ہے، سرٹ کونسل کے ذریعے سائبر حملوں کے جواب اور ہم آہنگی کو مضبوط بنایا جا رہا ہے،پاکستان انفارمیشن سیکیورٹی فریم ورک 2025 پر بھی کام جاری ہے،