Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • میں نہیں آؤں گا،جنید اکبر کے اجلاس میں علی امین گنڈاپور کا آنے سے انکار

    میں نہیں آؤں گا،جنید اکبر کے اجلاس میں علی امین گنڈاپور کا آنے سے انکار

    تحریک انصاف کے رہنما علی امین گنڈا پور کے خیبر پختونخوا سے وزارت اعلیٰ کے استعفے کے بعد تحریک انصاف میں اندرونی تقسیم بڑھ گئی، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے بھی عمران خان کا حکم ماننے سے انکار کرنے کا عندیہ دے دیا تو وہیں تحریک انصاف کے صوبائی صدر جنید اکبر کی جانب سے بلائے گئے پارٹی اجلاس میں شرکت کی بجائے پشاور سے ڈی آئی خان روانہ ہو گئے

    علی امین گنڈا پورکے استعفیٰ کے بعد خیبر پختونخوا میں سیاسی ہلچل میں تیزی آئی ہے، اپوزیشن جماعتیں بھی متحرک ہوئی ہیں تو وہیں پی ٹی آئی کے اجلاس ہوئے مگر پی ٹی آئی تقسیم دکھائی دی، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی، اس ملاقات کو خیبر پختونخوا کے آئندہ وزارت اعلیٰ کے انتخابات کے لئے انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے ، وہیں علی امین گنڈا پور نے عمران خان کے کہنے پر استعفیٰ تو دے دیاتاہم وہ بانی پی ٹی آئی سے ناراض ہیں، اس ناراضگی کا اظہار علی امین گنڈا پور کر بھی چکے ہیں، استعفیٰ دینے کے بعد علی امین گنڈا پور نے عمران خان کاحکم ماننے سے انکار کر نے کا عندیہ دیا، گنڈا پور کا کہنا تھا کہ "”استعفیٰ دے چکا ہوں، عمران خان بھی کہیں گے تو فیصلہ واپس نہیں لوں گا”

    وہیں خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی میں اختلافات دیکھنے میں آئے ہیں، پی ٹی آئی کے صوبائی صدر خیبر پختونخوا جنید اکبر، علی اصغر اور نامز د وزیراعلیٰ سہیل آفریدی گروپ نے اجلاس بلایا تھا تاہم علی امین گنڈا پورنے اجلاس میں شرکت نہ کی اور ڈی آئی خان روانہ ہو گئے، باخبر ذرائع کے مطابق علی امین گنڈا پور نے واضح کیا کہ وہ اس اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے،جنید اکبر نے اجلاس کے موقع پر بات کرتے ہوئے کہاکہ خیبر پختونخواہ پی ٹی آئی میں کسی کی ہمت نہیں کہ عمران خان کے ساتھ غداری کریں۔

    سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، علی امین گنڈا پور کے استعفے اور ان کے عمران خان سے اختلافات نے پی ٹی آئی کے اندر قیادت کے بحران کو نمایاں کر دیا ہے،قومی اسمبلی و سینیٹ میں پی ٹی آئی رہنماؤں سے ہٹ کر قائد حزب اختلاف نامزد کرنا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے کہ عمران خان کو پی ٹی آئی رہنماؤں پر اعتماد نہیں رہا

  • افواج پاکستان کو دہشت گردوں کے تعاقب میں ہر حد تک جانے  کا پورا حق حاصل ہے،خالد مسعود سندھو

    افواج پاکستان کو دہشت گردوں کے تعاقب میں ہر حد تک جانے کا پورا حق حاصل ہے،خالد مسعود سندھو

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل اور قومی اتحاد ہی امن و امان کا ضامن ہے،فتنۃ الخوارج کا مقابلہ قوم متحد ہو کر کرے گی،افواج پاکستان، سیکورٹی ادارے جو قربانیاں دے رہے ہیں رائیگاں نہیں جائیں گی،ترجمان پاک فوج کی پریس کانفرنس کی مکمل تائید کرتے ہیں،دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کسی قسم کی رعایت نہیں ملنی چاہئے، افواج پاکستان کو دہشت گردوں کے تعاقب میں ہر حد تک جانے اور پاکستان میں امن قائم کرنے کا پورا حق حاصل ہے

    خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات کے پیچھے ازلی دشمن بھارت ہے،آئے روز سیکورٹی فورسز پر حملوں میں نوجوانوں کی شہادتیں ہو رہی ہیں،دشمن فتںہ الخوارج کو استعمال کر رہا ہے،آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی کے بعد بھارت وطن عزیز کو دہشتگردی کے ذریعے عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتا ہے،ایک طرف بھارت پاکستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے تو دوسری طرف افغانستان سے بھی پاکستان میں دہشت گردی کروانے کے واضح ثبوت موجود ہیں،افغان حکومت پاکستان کے صبر اور بار بار اسرار کے باوجود عوام پاکستان اور سیکورٹی اہلکاروں کا نا حق خون بہانے والے خوارج کو روکنے میں ناکام ہے۔ کیا برادر اسلامی ملک کا یہ رویہ ہوتا ہے، افغانستان کے رویہ پر پوری ملت اسلامیہ کو افسوس ہے ، دنیا کا امن خطرہ میں ہے،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی قوم سیکورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، پاکستان کے ہر صوبے خاص طور پرخیبر پختونخوا میں گورننس کی بہتری اورنیشنل ایکشن پلان پر عمل سے امن وامان قائم ہو گا،نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر عملدرآمد سے ہی امن قائم ہو گا، پاکستان کی سیکورٹی کی ضامن پاکستان کی سیکورٹی ادارے ہیں،پاکستان کی قومی سلامتی و سیکورٹی کو گروی نہیں رکھا جا سکتا،مرکزی مسلم لیگ نے ہمیشہ فتںہ الخوارج کے خلاف فکری محاذ پرلوگوں کی ذہن سازی کی،یہ مسئلہ ہمارے دین، ملک وملت اورپاکستان کی بقا کاہے، پاکستان کودشمنوں کی سازشوں سے محفوظ رکھنے اور امن کا گہوارہ بنانے کے لئے مرکزی مسلم لیگ کردار ادا کرتی رہے گی،

  • ٹیسلا کی خودکار ڈرائیونگ گاڑیاں حادثے کرنے لگیں ،تحقیقات کا آغاز

    ٹیسلا کی خودکار ڈرائیونگ گاڑیاں حادثے کرنے لگیں ،تحقیقات کا آغاز

    امریکی وفاقی ریگولیٹرز نے ٹیسلا کی سیلف ڈرائیونگ ٹیکنالوجی کے خلاف ایک نئی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، جس کا مقصد اُن درجنوں واقعات کی جانچ پڑتال کرنا ہے جن میں ٹیسلا کی گاڑیاں خودکار ڈرائیونگ کے دوران غلط سمت میں گئیں، سگنل توڑے، یا دوسرے گاڑیوں سے ٹکرا گئیں ، بعض حادثات میں آگ لگنے اور زخمی ہونے کے واقعات بھی شامل ہیں۔

    امریکی نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن کے مطابق، ادارہ ان 58 واقعات کی تحقیقات کر رہا ہے جن میں ٹیسلا کی گاڑیاں فُل سیلف ڈرائیونگ موڈ میں چل رہی تھیں اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے نتیجے میں درجنوں تصادم، آگ لگنے کے واقعات، اور تقریباً دو درجن افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔یہ نئی تحقیقات، ٹیسلا کی دیگر کھلی ہوئی تحقیقات میں ایک تازہ اضافہ ہے، جو ایلون مسک کے اُس خواب کے لیے بڑا چیلنج ثابت ہو سکتی ہیں جس کے تحت وہ اپنی کمپنی کی موجودہ گاڑیوں کو ایک سافٹ ویئر اپڈیٹ کے ذریعے مکمل خودکار، بغیر ڈرائیور کے، ٹیکسیوں میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔

    مارننگ اسٹار کے تجزیہ کار سیٹھ گولڈسٹین نے کہا، “حقیقی سوال یہ ہے کہ آیا یہ سافٹ ویئر مؤثر طریقے سے کام کرتا ہے یا نہیں؟”سرمایہ کار راس گربر نے مزید کہا، “ایلون مسک نے دنیا کو ایک تجرباتی میدان بنا دیا ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ اس کا سیلف ڈرائیونگ سسٹم صحیح طریقے سے کام نہیں کر رہا۔”

    نئی تحقیقات کے مطابق، تقریباً 29 لاکھ (2.9 ملین) ٹیسلا گاڑیاں اس دائرے میں آتی ہیں، یعنی تقریباً تمام وہ گاڑیاں جن میں Full Self-Driving سافٹ ویئر نصب ہے۔یہ وہی سسٹم ہے جس پر ماہرین نے پہلے ہی تنقید کی ہے کہ اس کا نام “فُل سیلف ڈرائیونگ” صارفین کو گمراہ کرتا ہے، کیونکہ درحقیقت یہ نظام مکمل طور پر خودکار ڈرائیونگ نہیں کر سکتا۔

    ٹیسلا کا مؤقف ہے کہ وہ ڈرائیورز کو مسلسل ہدایت دیتا رہا ہے کہ نظام خود گاڑی نہیں چلا سکتا، اور گاڑی کے پیچھے بیٹھا شخص ہر لمحے مداخلت کے لیے تیار رہے۔ تاہم، حادثات میں ملوث کئی ڈرائیورز نے کہا کہ سسٹم نے غیر متوقع رویے کے دوران کوئی وارننگ نہیں دی۔

    تحقیقات کی خبر کے بعد ٹیسلا کے حصص میں ایک وقت میں 3 فیصد تک کمی دیکھی گئی، تاہم دن کے اختتام پر نقصان 0.7 فیصد پر رک گیا،

  • غزہ میں جنگ بندی نافذ، اسرائیلی فوج کا انخلا ،ٹرمپ کا پیر کو اسرائیلی دورہ متوقع

    غزہ میں جنگ بندی نافذ، اسرائیلی فوج کا انخلا ،ٹرمپ کا پیر کو اسرائیلی دورہ متوقع

    اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی باضابطہ طور پر نافذ ہو چکی ہے اور حکومت کی منظوری کے بعد فوجی دستوں کا انخلا معاہدے کے مطابق شروع کر دیا گیا ہے۔ تاہم اسرائیلی حکام نے واضح کیا ہے کہ بعض علاقوں میں فوجی دستے بدستور تعینات رہیں گے اور شہریوں کو ان کے قریب جانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    جنگ بندی کے نفاذ کے بعد ہزاروں فلسطینی جنوبی غزہ سے پیدل غزہ سٹی کی جانب واپس جانے لگے ہیں۔ اس دوران غزہ کے الشفا اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد ابو سلمیہ نے بتایا کہ اسرائیلی فوج کے انخلا کے بعد شہر سے کم از کم 33 فلسطینیوں کی لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کئی لاشوں کی فوری شناخت ممکن نہیں ہو سکی، جس کے باعث انہیں الشفا اسپتال منتقل کیا گیا ہے کیونکہ غزہ میں واحد فرانزک یونٹ اسی اسپتال میں موجود ہے۔

    معاہدے کے مطابق 72 گھنٹے کے اندر حماس کے قبضے میں موجود تمام یرغمالیوں کو رہا کیا جائے گا، جب کہ اسرائیل میں قید تقریباً 2,000 فلسطینی قیدی اور زیرِ حراست افراد کو بھی رہائی دی جائے گی۔اسرائیلی وزارتِ انصاف نے اُن 250 فلسطینی قیدیوں کی فہرست جاری کر دی ہے جو عمر قید کی سزا بھگت رہے تھے اور اس معاہدے کے تحت رہا کیے جائیں گے۔ذرائع کے مطابق سو سے زائد قیدیوں کو مغربی کنارے (ویسٹ بینک) منتقل کیا جائے گا۔بیشتر قیدیوں کو تیسرے ممالک میں جلاوطنی کے طور پر بھیجا جائے گا۔معروف فلسطینی رہنما مروان برغوثی اس فہرست میں شامل نہیں۔دو سینیئر حماس کمانڈر، ابراہیم حامد اور حسن سلامہ بھی فہرست سے خارج ہیں۔تاہم محمود قواسْمے، جو 2024 میں دوبارہ گرفتار ہوا تھا، رہائی پانے والوں میں شامل ہے۔دیگر میں محمد زکارنہ (2009 میں ٹیکسی ڈرائیور کے قتل کا منصوبہ بنانے کا مجرم)، محمد ابو الرب (2017 میں چاقو حملے کا مرتکب)، اور ایاد ابو الرب (جہادِ اسلامی کے کمانڈر) شامل ہیں۔اسرائیل نے باہر بدر نامی قیدی کو بھی رہا کرنے پر اتفاق کیا ہے جو 2004 میں 18 اسرائیلیوں کی ہلاکت کے منصوبے میں شریک تھا۔

    اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایک ٹی وی خطاب میں پہلی بار اشارہ دیا کہ ممکن ہے تمام مقتول یرغمالیوں کی لاشیں واپس نہ مل سکیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت اس معاہدے کو "ضروری اور قومی مفاد” کے تحت قبول کر رہی ہے تاکہ کم از کم زندہ یرغمالیوں کی واپسی ممکن ہو۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج کے ترجمان ایفی ڈفرین نے کہا کہ فوج "کسی بھی وقت دوبارہ لڑائی کے لیے تیار” ہے اگر حماس نے غزہ پر دوبارہ قبضہ کرنے کی کوشش کی۔آج کی حماس دو سال پہلے والی حماس نہیں رہی۔ جہاں بھی ہم نے اس سے لڑائی کی، ہم نے اسے عسکری اور انتظامی دونوں سطحوں پر شکست دی ہے۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والے 20 نکاتی سیز فائر پلان کے مطابق ایک عبوری حکومت غزہ میں انتظام سنبھالے گی، جب تک کہ فلسطینی اتھارٹی اپنی اصلاحاتی مہم مکمل کر کے دوبارہ کنٹرول حاصل نہ کر لے۔

    سابق امریکی محکمہ دفاع کی نائب ترجمان سبرینا سنگھ نے کہا کہ امریکہ غزہ میں انسانی امداد کی ترسیل کے لیے فوجی تعاون فراہم کرے گا، لیکن زمینی کارروائی میں شامل نہیں ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ یہی یقین دہانی سیز فائر معاہدے کو حتمی شکل دینے میں “فیصلہ کن عنصر” ثابت ہوئی۔علاوہ ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پیر کے روز اسرائیل کا دورہ کریں گے۔ اسرائیلی پولیس کے مطابق ان کے دورے کے دوران ہزاروں پولیس اور بارڈر فورس اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔بین گوریون ایئرپورٹ اور یروشلم کے اوپر ڈرون اور طیاروں کی پروازوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ متعدد مرکزی شاہراہیں بند رہیں گی۔

  • ریاست جتھے سے بلیک میل نہیں ہوگی،پرامن احتجاج حق ، انتشار کی اجازت نہیں،طلال

    ریاست جتھے سے بلیک میل نہیں ہوگی،پرامن احتجاج حق ، انتشار کی اجازت نہیں،طلال

    وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ ٹی ایل پی احتجاج کے نام پر فساد پھیلا رہی ہے۔ریاست کسی جتھے سے بلیک میل نہیں ہوگی۔پرامن احتجاج حق ہے، انتشار کی اجازت نہیں۔فلسطین مسئلے پر وزیراعظم نے ہر فورم پر آواز اٹھائی، اب احتجاج کا جواز؟قانون ہاتھ میں لینے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

    طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ انہوں نے سی سی ٹی وی کیمرے توڑ دیے تاکہ حملہ کرتے ہوئے پتہ نہ چلے اور پھر کہا گیا کہ ہمارے لوگ ہلاک ہوئے۔ اگر ہلاکت ہوتی ہے تو پھر لاش بھی ہوتی ہے۔ تشدد ٹی ایل پی کی طرف سے ہوا ہے جس کے ثبوت موجود ہیں، جو ماسک سیکیورٹی فورسز کے پاس ہوتا ہے وہ آپ کے پاس کہاں سے آئے؟ٹی ایل پی کو آگے نہیں بڑھنے دیا جائے گا۔ اسلام آباد میں انتشار نہیں ہونے دیں گے۔ ذاتی مقاصد کے لیے کسی بھی جتھے کی صورت میں اجتماع دہشت گردی ہے۔ سعد رضوی سمیت احتجاج کے رہنماؤں کو کٹہرے میں لایا جائے گا۔یہ اپنے مرکزی دفتر سمن آباد سے راوی روڈ کی طرف جارہے ہیں، یہ اس لیے نکل آئے ہیں کہ ان پر طاقت کا استعمال نہیں کیا گیا، ہمارا صوبائی حکومتوں سے رابطہ ہے ، کوشش کی جارہی ہے کہ طاقت کے استعمال کے بغیر ان لوگوں کو روکا جائے، حکومت اس طرح کی جتھےبازیاں اورمظاہرے کو آگے بڑھنے نہیں دے گی، آج اسلام آباد میں سرکاری اور نجی ادارے کام کررہے ہیں، کچھ لوگ ہم نے گرفتار کرلیے ہیں، راستے کھول دیے گئے ہیں، اگر کہیں رکاوٹ رکھی گئی ہے تو وہ شہریوں کو ان شرپسندوں سے بچانے کیلئے ہے، قانون کی عملداری ہوگی ، احتجاج کرنا ہے قانون کے اندر رہ کر کریں جو بھی نقصانات ہوں مظاہرین کو لیڈ کرنے والے ذمہ دار ہیں

  • مدد کے بہانے نابینا خاتون سے کئی ماہ تک جنسی زیادتی

    مدد کے بہانے نابینا خاتون سے کئی ماہ تک جنسی زیادتی

    لاہور میں افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں نابینا خاتون کے ساتھ مدد کے بہانے کئی ماہ تک جنسی زیادتی کیے جانے کے ساتھ ساتھ اس سے بھیک بھی منگوائی گئی جبکہ ملزم تاحال آزاد ہے۔

    خاتون نے اپنے بیان میں بتایا کہ ملزم اسے بہلا پھسلا کر لاہور لے کر آیا، جہاں نہ صرف جنسی زیادتی کرتا رہا بلکہ زبردستی بھیک منگواتا اور اس کی کمائی بھی ہڑپ کرتا رہا۔ ملزم نے نکاح کا جھانسہ دے کر پہلے شوہر سے طلاق بھی دلوائی، بعدازاں طلائی زیورات اور نقدی چھین لی، مسلسل ظلم و جبر کے بعد نابینا خاتون کسی طرح ملزم کے چنگل سے فرار ہو کر دوبارہ اپنے علاقے بی پلاٹ پہنچ گئی، متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ کارروائی شروع کرنے پر ملزم نے اسے قتل کی دھمکیاں بھی دیں۔ خاتون نے انصاف کے لیے میڈیا سے رابطہ کیا، جس کی نشاندہی پر پولیس فوری حرکت میں آئی اور مقدمہ درج کرلیا،نابینا خاتون نے پولیس کے اعلیٰ حکام اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے اپیل کی ہے کہ اسے انصاف فراہم کیا جائے اور ملزم کو فوری گرفتار کر کے عبرتناک سزا دی جائے۔

  • کسی کو اجازت نہیں دینگے کہ کوئی لوگوں کو تنگ کرے،وزیر داخلہ سندھ

    کسی کو اجازت نہیں دینگے کہ کوئی لوگوں کو تنگ کرے،وزیر داخلہ سندھ

    وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے کہا ہے کہ کراچی بھتہ خوری کا معاملہ سنجیدہ ہے تاہم بزنس کمیونٹی کے مسائل بھی حل کیے جاتے ہیں۔

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ بھتہ خوری کا معاملہ سنجیدہ معاملہ ہے، کچھ تاجروں کو بھتا نہ دینے پر دھمکیاں آئی ہیں، چاہتے ہیں کہ کاروبار پھلے پھولے، کسی کو اجازت نہیں دینگے کہ کوئی لوگوں کو تنگ کرے،کراچی میں بھتہ خوری میں ملوث 4 افراد مقابلے میں مارے گئے اور 3 ملزمان کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔

    اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ سی آئی اے اور ایس آئی یو نے 2ہفتے میں 20سے زیادہ بھتہ خور گرفتارکیے، پورے سال میں بھتہ خوری کی 118 کیس رپورٹ ہوئے ہیں، بھتےکے رپورٹ ہونے والے 44 کیس ذاتی اختلافات کے تھے، پولیس نے سال بھر میں 43 بھتہ خور پکڑے ہیں، پولیس اہلکاروں کے قتل میں ملوث ملزمان کا پیچھا کررہے ہیں، کراچی میں اسٹریٹ کرائم میں 28 فیصد کمی آئی ہے اور گاڑیاں چھینے کی وارداتوں میں 19 فیصد کمی آئی ہے۔

  • خیبرپختونخوا کے عوام کے ساتھ مل کر دہشتگردی کی جڑ کو اُکھاڑ پھینکیں گے،ترجمان پاک فوج

    خیبرپختونخوا کے عوام کے ساتھ مل کر دہشتگردی کی جڑ کو اُکھاڑ پھینکیں گے،ترجمان پاک فوج

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے عوام کے ساتھ مل کر دہشتگردی کی جڑ کو اُکھاڑ پھینکیں گے،ایک سال میں 14535 آپریشن کیے، کامیاب آپریشنز دہشتگردوں کے ناپاک حملے کا بدلہ ہے،ہم سب کو ملکر دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔

    پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان پاک فوج کا کہنا تھاکہ میں پشاور اسی لیے آیا ہوں کہ خیبرپختونخوا کے بہادر عوام کے ساتھ بیٹھ کر دہشت گردی کے خلاف ہماری کارروائیوں اور چیلنجز کو واضح کروں، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا کے عوام کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، پاکستانی افواج دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں،2024 کے دوران 577 جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا، کے پی میں 2024 کے دوران 14 ہزار 500 سے زائد آپریشنز کیے گئے،خیبرپختونخوا میں ساڑھے 14 ہزار سے زائد آپریشنز کیے گئے،

    دہشتگردی بڑھنے کی وجہ اس پہ سیاست اور انکے لیے کے پی کے میں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنا ہے ۔ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخواہ میں گمراہ کن بیانیے بنانے کی کوشش کی گئی، جس کا خمیازہ خیبرپختونخواہ کے عوام بھگت رہے ہیں۔نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہیں ہوا، ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دہشت گردوں کو خیبرپختونخوا میں جگہ دی گئی،نیشنل ایکشن پلان کی خلاف ورزی، دہشت گردی پر سیاست، بھارت کا افغانستان کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کیلئے بیس کے طور پر استعمال کرنا، افغانستان کا دہشت گردوں کو اسلحہ اور پناہ گاہیں دینا اور اور دہشت گردوں کو مقامی اور سیاسی پشت پناہی ملنا دہشت گردی کے پانچ بنیادی عوامل ہیں،گورننس کو برباد کرنے کی کوشش کی گئی ،2021 میں نیشنل ایکشن پلان سے چیزوں کو نکالا گیا۔نیشنل ایکشن پر مکمل عمل نہیں ہوا جس سے دہشتگردی بڑھی۔14 نکات میں شامل تھا کہ آپ دہشتگردوں اور خوارج کو ماریں گے، گزشتہ سالوں میں جو خوارج مارے گئے ان میں 161 افغانی 30 قریب خودکش بمبار بھی افغان نیشنیلیٹی والے تھے۔رواں سال مارے جانے والے خارجیوں کی تعداد پچھلے دس سالوں سے زیادہ ہے۔ دہشتگردی بڑھنے کی وجہ اس پہ سیاست اور انکے لیے کے پی کے میں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنا ہے ۔ دہشتگردوں کو سیاسی پشت پناہی حاصل ہے ، خیبر پختونخوا میں امن کے قیام کے لیے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ 2024 میں 769 دہشتگرد جہنم واصل کئے 2025 میں اب تک 10,115 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز ہوئے ہیں رواں سال 516 اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا،ہزاروں معصوم شہریوں قانون نافذ کرنے والے اداروں انٹیلیجنس ایجنسیز، افواج پاکستان، پولیس، اور ایف سی کے جوانوں نے اپنے خون پاکستان کی دھرتی کو سینچا ہے،خیبر پختونخوا میں مدارس کو رجسٹر تک نہیں کر سکے.

    اگر ہر مسئلے کا حل بات چیت میں ہوتا تو اتنی جنگیں اور غزوات نہ ہوتے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر
    افغانستان کو بھارت کی جانب سے دہشت گردی کے بیس کیمپ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے؛ ڈی جی آئی ایس پی آر
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردوں سے مذاکرات کی بات کی جاتی ہے، کیا ہر مسئلے کا حل مذاکرات ہے؟ ہر مسئلے کا حل مذاکرات ہوتے تو جنگ بدر نہ ہوتا، اگر ہر مسئلے کا حل مذاکرات ہوتا تو بدر کی جنگ کو یاد رکھیں، کہ سرور کُونین، دو جہان جن کےلئے بنائے گئے، وہ ذات جس سے بڑھ کر کوئی انسان نہیں، کیوں نہیں اُس دن اُنہوں نے بات چیت کر لی، اُدھر تو باپ کے آگے بیٹا کھڑا تھا، بھائی کے آگے بھائی کھڑا تھا، کیا ہر چیز کا حل بات چیت میں ہے؟ اگر ہر چیز کا حل بات چیت ہوتا تو دنیا میں جنگیں نہیں ہوتی، جب 9 اور 10 مئی کو بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تب یہ کیوں نہیں کہا گیا کہ بھارت سے بات چیت کریں،جب بھارت کے میزائل آئے تو عوام نے کیوں نہیں کہا کہ بات چیت کر لیں، افغانستان میں دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانے موجود ہیں، بھارت ان دہشتگردوں کو سہولت فراہم کر رہا ہے اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال کر رہا ہے۔آج یہ بیانیہ کہاں سے آ گیا کہ افغانوں کو واپس نہیں بھیجنا تو کیا آپ 2014 میں غلط تھے، 2021 میں غلط تھے، آج ریاست کہہ رہی ہے کہ افغان بھائیوں کو واپس بھیجیں تو سیاست کی جاتی ہے، بیانئے بنائے جاتے ہیں، گمراہ کُن باتیں کی جاتی ہیں،ایک بیانیہ بنایا جائے کہ سب مل کر، یک زبان ہو کر دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہوں۔ یہ ہم نے نہیں کہا، یہ وہ بات ہے جس پر آپ کی سیاسی جماعتیں 2014 سے متفق ہیں، سوال یہ ہے کیا آج ہم واقعی ایک بیانیے پر کھڑے ہیں،

    یہ جو خیبرپختونخوا میں دہشتگردی ہے، اُس کے پیچھے سیاسی اور مجرمانہ گٹھ جوڑ ہے،ترجمان پاک فوج
    کسی فرد واحد کو پاکستان کا سودا کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ، ڈی جی آئی ایس پی آر
    خوارج اور ان کے سہولت کار اب نہیں بچ جائیں گے،دہشتگردی پر کوئی سمجھوتہ نہیں،ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج نے اعلان کیا کہ ہم دہشتگردی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے، چاہے وہ بھارت سے ہو یا افغانستان سے۔پنجاب اور سندھ میں دہشتگردوں کے کیمپس کیوں نہیں ہیں ؟ دہشتگرد وہاں بھی آپریٹ کرنا چاہتے ہیں لیکن وہاں انکے لیے کوئی جگہ نہیں ہے ۔وہاں گورننس قائم ہے ۔ سیاسی دہشتگردی موجود نہیں ہے ،کے پی کے صوبے میں گورننس کے بجائے سیاست کی جاتی ہے۔جبکہ باقی صوبوں میں ایسا نہیں ہوتا۔
    اسی وجہ سے آرمی چیف کہہ چکے ہیں کہ انہیں گورننس کے گیپس کو فوج کے جوان اپنے خون سے پر کر رہے ہیں۔منشیات اسمگلنگ ، بھتہ خوری ، اغواء برائے تاوان اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں سے پاک کرنا ہے ، جب کام کرتے ہیں تو مخٹلف جگہوں سے آوازیں آتی ہیں،یہ جو خیبرپختونخوا میں دہشتگردی ہے، اُس کے پیچھے سیاسی اور مجرمانہ گٹھ جوڑ ہے، پاکستان کی سکیورٹی کسی دوسرے ملک کو نہیں دی جا سکتی،اس کی سکیورٹی صرف پاکستان کے ادارے کریں گے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ کے پی حکومت افغانستان سے سیکیورٹی کی بھیک مانگنے بغیر خیبرپختونخوا کے عوام کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے، دہشتگرد یا انکے سہولت کار کسی بھی عہدے پر ہو انکے خلاف زمین تنگ کر دی جائے گی،کسی فرد واحد کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ اپنی ذات اور اپنے مفاد کےلئے پاکستان اور خیبرپختونخوا کے غیور اور باعزت عوام کی جان، مال اور عزت کا سودا کرے، خوارج کی پشت پناہی کرنے والے خوارج کو ریاست کے حوالے کریں یا اس ناسور کے خاتمے کیلئے افواج پاکستان کا ساتھ دیں۔ بصورت دیگر ریاست کی جانب سے بھرپور ایکشن کیلئے تیار رہیں،ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اب ” سٹیٹس کو” نہیں چلے گا ۔ خارجیوں کے سہولت کاروں کے پاس دو چوائسز ہیں یا تو ان دہشتگردوں کو ہمارے حوالے کردیں یا خود ختم کردیں ورنہ یہ سہولتکار ہمارا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو جائیں ،چاہے وہ کوئی بھی ہو، کسی بھی عہدے پر ہو، اُس کےلئے زمین تنگ کر دی جائے گی کیونکہ پاکستانی قوم سیسہ پلائی دیوار بن کر ایک بنیانُ مرصوص کی طرح دہشتگردوں اور اُن کے سہولت کاروں کےخلاف کھڑی ہے اور کھڑی رہے گی،ہم سیاسی شعبدہ بازی سے خوفزدہ نہیں ہوں گے ہم اپنے شہداء کی قربانیوں پر کسی کو سیاست کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔

    کون ہے وہ شخص جو کہتا ہے مجھے ایسی صوبائی حکومت چاہیے جو آپریشن بند کرے؟ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہناتھا کہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ دہشتگرد جیسے عناصر کو جب آپ اِنہیں پالتے ہیں تو یہ سانپ کی طرح ہوتے ہیں، سانپ کو جو پالے گا، وہ سانپ پر کبھی بھروسہ نہیں کر سکتا، یہ افغانستان کےلئے اپنے لئے بھی خطرہ ہے،کون ہے جو کہہ رہا ہے آپریشن بند کردیں بات چیت کر لیں۔ کون ہے وہ شخص جو کہتا ہے مجھے ایسی صوبائی حکومت چاہیے جو آپریشن بند کرے؟، اُس وقت وہ ریاست کے ذمے دار تھے، آج ریاست کا حصہ نہیں، پھر بھی یہی کہہ رہے ہیں،کس سے بات چیت کرو، نور ولی محسود سے بات چیت کرو جو کہتا ہے مشرک سے بھی الحاق جائز ہے۔ جو بھارت سے ملا ہوا ہے کیا اس سے بات چیت کرسکتے ہیں۔

    کے پی میں موجود 8 ہزار 11 مدارس میں سے صرف 4 ہزار 355 مدارس رجسٹرڈ ہیں۔ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ اگست 2025 تک انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں 34 مقدمات زیرالتواء ہیں، جو صرف ایک ماہ کے دوران مؤثر پیش رفت نہ ہونے کی علامت ہیں، مجموعی طور پر ایسے مقدمات جنہیں تین سال سے کم عرصہ گزرا ہے، ان کی تعداد 2 ہزار 878 ہے، جبکہ تین سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود 1 ہزار 706 کیسز بدستور زیرالتواء ہیں، کیا وہی عدالتی نظام، جسے مضبوط کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، آج اپنی ذمہ داری پوری کر رہا ہے؟ منشیات سے متعلق 10 ہزار 87 مقدمات میں سے صرف 679 کیسز میں سزائیں سنائی گئیں، جبکہ غیر قانونی اسلحہ اور اسمگلنگ سے متعلق 39 ہزار سے زائد کیسز میں صرف 6 ہزار 945 کیسز میں فیصلے ہوئے،خیبر پختونخوا میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں کی کل تعداد صرف 3 ہزار 200 ہے، جو صوبے کے سیکیورٹی چیلنجز کے مقابلے میں ناکافی ہے۔ اس کے علاوہ صوبے میں موجود 8 ہزار 11 مدارس میں سے صرف 4 ہزار 355 مدارس رجسٹرڈ ہیں۔دہشت گرد صوبے میں آ کر مدارس میں گمراہ کرتے ہیں، لوگوں کو ورغلاتے ہیں، گلی محلوں میں غیر قانونی رہتے ہیں ، بم بناتے ہیں، یہ سب رپورٹ کرنا، پکڑنا صوبائی حکومت کی زمہ داری ہے،صوبائی حکومت گڈ گورنس سمیت اکنامک ایکٹیویٹی نا کرتے نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہیں کر رہی۔

    پاکستان کے عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنے کے لیےجو ضروری اقدامات کیے جانے چاہئیں وہ کیے جائیں گے،ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج سے سوال کیا گیا کہ کیا پاکستان نے گزشتہ رات افغانستان میں چار ایئر سڑائکس کیں؟ کیا اس کے نتیجے میں دہشتگرد نور ولی محسود ہلاک ہوا۔؟جس کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھاکہ پاکستان کے عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنے کے لیےجو ضروری اقدامات کیے جانے چاہئیں وہ کیے جائیں گے اور کیے جاتے رہیں گے۔افغانستان ہمارا برادر اسلامی ملک ہے اور ہمارا ان سے صرف ایک مطالبہ ہے کہ افغانستان کو دہشتگردوں کی آماجگاہ نہ بننے دیں، ہمارے وزرا بھی وہاں گئے اور انہیں بتایا کہ یہ دہشتگردوں کے سہولتکار ہیں۔ افغانستان میں موجود بھارتی پراکسیز کی جانب سے دہشتگردانہ کارروائیاں کی گئیں، افغانستان پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے بیس کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے، اس کے ثبوت اور شواہد موجود ہیں۔پاکستان زندہ باد رہے گا، خیبر پختونخوا زندہ باد رہے گا، پاکستان کی سلامتی کے فیصلے صرف پاکستان میں ہونگے

    فوج میں کسی کےخلاف قانونی کارروائی ہوتی ہے تو اُسے تمام قانونی حقوق حاصل ہوتے ہیں،ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ فوج میں کسی کےخلاف قانونی کارروائی ہوتی ہے تو اُسے تمام قانونی حقوق حاصل ہوتے ہیں، اپنے لئے سول وکیل بھی کیا جا سکتا ہے، یہ بیانیہ ہوتا ہے کہ آرڈر دیا اور سزا دے دی، ایسے نہیں ہوتا، ریاست پاکستان اور اسکے عوام کو کسی ایسے شخص کے ہاتھوں یرغمال نہیں بننے دیا جاسکتا، بالخصوص اُس کو جس پر پاکستان خصوصاً خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے دوبارہ سر اُٹھانے کی بنیادی ذمہ داری عائد ہوتی ہے،سابق ڈائریکٹر جنرل( ڈی جی) انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کا ٹرائل ہو رہا ہے، ان کا کورٹ مارشل ہورہا ہےفوج میں خود احتسابی کا عمل الزامات پر نہیں ہوتا بلکہ حقائق پر ہوتا ہے، فوج کا ریاست کے ساتھ سرکاری تعلق ہوتا ہے، ذاتی یا سیاسی نہیں، اس تعلق کو کوئی ذاتی بناتا ہے تو یہ غلط ہے، فیصلے ریاست کرتی ہے ہم نے ان معاملات میں اپنا ان پٹ اور رائےدیتے ہیں، ہم کسی کی سیاست کو لے کر نہیں چلتے، فوج کے اندر خود احتسابی کا ایک نظام ہے جس کو چارج کیا جاتا ہےاس کو خود کے دفاع کیلئے پورا موقع دیاجاتا ہے، ہمیں کسی تاخیر کی کوئی پریشانی نہیں ہےفیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آپ تعلق کو ذاتی اور سیاسی بنادیں توجوابدہی ہوگی، ہمیں آپ اپنی سیاست میں نہ لائیں، آپ کی سیاست آپ کو پیاری ہماری لیےتمام سیاسی جماعتیں قابل احترام ہیں۔

  • امیربالاج قتل کیس،مرکزی ملزم طیفی بٹ دبئی سے لاہور منتقل

    امیربالاج قتل کیس،مرکزی ملزم طیفی بٹ دبئی سے لاہور منتقل

    پولیس امیر بالاج ٹیپو قتل کیس کے مرکزی ملزم طیفی بٹ کو دبئی سے لاہور لے آئی

    نجی ٹی وی کے مطابق ملزم خواجہ تعریف گلشن عرف طیفی بٹ کو دبئی کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں عدالت نے طیفی بٹ سے پاکستان جانے سے متعلق سوال کیا، اس پر ملزم نے پاکستان جانے اور مقدمات کا سامنا کرنے کا کہا،ملزم کی رضا مندی پر دبئی کی عدالت نے طیفی بٹ کو پنجاب پولیس کے حوالے کردیا،پولیس کا کہنا ہےکہ طیفی بٹ امیر بالاج ٹیپو کے قتل کا مرکزی ملزم ہے جسے لاہور منتقل کردیا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ فروری 2024 میں ٹیپو ٹرکاں والا کے بیٹے امیر بالاج کو شادی کی ایک تقریب میں فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا،تھانہ چوہنگ پولیس نے امیر بالاج کے قتل کا مقدمہ درج کیا تھا جس میں خواجہ تعریف گلشن عرف طیفی بٹ اور عقیل عرف گوگی بٹ کو نامزد کیا گیا تھا، مقدمے کا مرکزی ملزم احسن شاہ پولیس مقابلے میں مارا گیا تھا تاہم طیفی بٹ ملک سے فرار ہو گیا تھا۔

  • خیرپور اسپیشل اکنامک زون "ایشیا پیسیفک کے نمایاں صنعتی زونز” میں شامل

    خیرپور اسپیشل اکنامک زون "ایشیا پیسیفک کے نمایاں صنعتی زونز” میں شامل

    خیرپور اسپیشل اکنامک زون "ایشیا پیسیفک کے نمایاں صنعتی زونز” میں شامل کر لیاگیا

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کی عالمی سطح پر کامیابی، پاکستان کے لئے اعزاز ہے، ایف ٹی گلوبل فری زونز آف دی ایئر 2025 ایوارڈز میں شامل ہونا پاکستان کے لیے اعزاز ہے، یہ عالمی ایوارڈ سندھ کے صنعتی سفر میں ایک سنگِ میل ہے، خیرپور اسپیشل اکنامک زون بین الاقوامی کامیابی حاصل کی ہے، ایف ڈی آئی میگزین نے خیرپور اسپیشل اکنامک زون کو ایشیا کے بہترین صنعتی زونز میں شمار کیا ہے، خیرپور اسپیشل اکنامک زون ، چین، ویتنام، انڈونیشیا اور ملائیشیا کے صنعتی زونز کے شانہ بشانہ قرار پایا ہے، یہ اعتراف سندھ حکومت کے پائیدار صنعتی ترقی اور جامع معاشی ترقی کے وژن کی توثیق کرتا ہے ، خیرپور اسپیشل اکنامک زون کی کامیابی سندھ کی پائیدار صنعتی پالیسی کا ثبوت ہے، سندھ اکنامک زونز مینجمنٹ کمپنی کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے،

    وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ خیرپور اسپیشل اکنامک زون روزگار، برآمدات اور سرمایہ کاری کے نئے امکانات کی علامت ہے،سندھ پاکستان کی صنعتی تبدیلی میں ایک نمایاں قوت کے طور پر ابھر رہا ہے،ہم علاقائی تجارت کو فروغ دے رہے ہیں تاکہ معیاری روزگار کے مواقع پیدا ہوں،ویلیو ایڈیڈ مینوفیکچرنگ کے ذریعے برآمدی بنیاد کو مضبوط بنایا جا رہا ہے،