Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • خیبرپختونخوا میں تبدیلی کے بعد اِس سے بھی بدترین صورتحال ہوگی،حافظ حمداللہ

    خیبرپختونخوا میں تبدیلی کے بعد اِس سے بھی بدترین صورتحال ہوگی،حافظ حمداللہ

    جے یو آئی کے رہنما حافظ حمد اللّٰہ نے کہا ہے کہ بغیر این او سی کے خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی، علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ منظور نہیں کر سکتے۔

    حافظ حمد اللّٰہ نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ خیبرپختونخوا میں تبدیلی کے بعد اِس سے بھی بدترین صورتحال ہوگی، کیا گوجرانوالہ میں تین سابق وزرائے اعظم کے خلاف غداری کے پرچے نہیں ہوئے تھے،اپوزیشن جماعتیں جتنا حکومت بنانے سے دور رہیں اتنا ہی سیاسی جماعتوں کا فائدہ ہوگا۔

    واضح رہے کہ علی امین گنڈا پور نے عمران خان کے حکم پر استعفیٰ دے دیا ہے جو تاحال منظور نہیں کیا گیا،کے پی میں سیاسی جماعتیں متحرک ہو چکی ہیں،

  • غریب بچوں کو مریم نواز آٹزم سکول میں مفت تعلیم دی جائے گی،وزیراعلیٰ پنجاب

    غریب بچوں کو مریم نواز آٹزم سکول میں مفت تعلیم دی جائے گی،وزیراعلیٰ پنجاب

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت سپیشل ایجوکیشن کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا

    پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مختصر ترین مدت میں خصوصی بچوں کے 5 ہزار سے زائد داخلے کا نیا ریکارڈ قائم ہو گیا،وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی جانب سے معاون خصوصی ثانیہ عاشق اور پوری ٹیم کو شاندار کارکردگی پر خراجِ تحسین پیش کیا گیا،وزیراعلیٰ نے واضح فیصلہ کیا کہ غریب بچوں کو مریم نواز آٹزم سکول میں مکمل طور پر مفت تھراپی اور تعلیم دی جائے گی،وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر دنیا بھر سے بہترین ماہرین آٹزم کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا،اجلاس میں خصوصی بچوں کو ہمّت کارڈ پروگرام میں شامل کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا،سپیشل ایجوکیشن مراکز کیلئے مزید 48 نئی بسوں کی فراہمی کی منظوری بھی دی گئی،وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے آٹزم اسکول کے بچوں، اساتذہ اور سٹاف کے لیے یونیفارم اور ڈیزائن کی بھی منظوری دی،13 رکنی بورڈ آف گورنرز کی تشکیل اورآٹزم ریسورس سینٹر کے تین سالہ سٹرٹیجک پلان کی منظوری دی گئی

    معاون خصوصی ثانیہ عاشق نے اجلاس میں تفصیلی بریفنگ دی،بریفنگ میں بتایا گیا کہ مریم نواز آٹزم سکول میں ایک کسٹمائزڈ ماڈل نافذ کیا جا رہا ہے،نصاب تعلیم کا کسٹمائزڈ ماڈل دنیا کے مختلف ممالک میں کامیابی سے رائج ہے،ثبوت پر مبنی (Evidence-Based) آٹزم ماڈلزاور بین الاقوامی ریسرچ سٹڈی کے بعد تیار کیا گیا ہے،سکول کے لیے ایک جامع فنکشنل گرین نصابِ تعلیم بھی تیار کیا گیا ہے،شنل گرین نصابِ تعلیم میں کمیونیکیشن و لینگویج، لائف اسکلز، اسلامی و اخلاقی تعلیم، ٹیکنالوجی، جسمانی تعلیم اور سماجیات شامل ہیں،پاکستان کے پہلے آٹزم سکول میں اوپن جم، واکنگ ٹریک، سنسری گارڈن اور ساؤنڈ تھراپی سینٹرز قائم کیے جائیں گے،یہاں 3 سے 16 سال تک کے بچوں کو داخلہ دیا جائے گااور مریم نواز آٹزم سکول اینڈ ریسرچ سینٹر میں بچے 22 سال کی عمر تک زیرِ تعلیم و زیرِ علاج رہ سکیں گے،سکول کے لیے خصوصی ہائبرڈ ماڈل تیار کیا گیا ہے،جس کے تحت بچوں کو اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں تصویری اور تحریری تھراپی دی جائے گی،بچوں کے والدین کے لیے بھی کوچنگ ماڈیولز تیار کر لیے گئے ہیں تاکہ گھر اور سکول کے درمیان بہتر ہم آہنگی قائم کی جا سکے،آٹزم سکول میں بچوں کی سکلز اور حفاظت کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں گے،چلڈرن ویلفیئر آفیسرز سپیشل بچوں کی حفاظت اور فلاح کی براہِ راست نگرانی کریں گے،سکول میں ریسرچ اینڈ ٹیچر ٹریننگ ڈویژن بھی قائم ہوگا،ریسرچ اینڈ ٹیچر ٹریننگ ڈویژن میں ماسٹر ٹرینرز اساتذہ کو جدید تربیت فراہم کریں گے،ریسرچ اینڈ ٹیچر ٹریننگ ڈویژن میں ایک سالہ ڈپلومہ اور سرٹیفکیٹ پروگرامز بھی شروع کیے جائیں گے

  • مجھے اور میری بیوی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ،توشہ خانہ ٹو میں عمران کا جواب

    مجھے اور میری بیوی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ،توشہ خانہ ٹو میں عمران کا جواب

    توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان اور بشری بی بی کا 342 کا اہم جواب سامنے آگیا

    کورٹ رپورٹ ثاقب بشیر کی جانب سے ایکس پر کی گئی پوسٹ کے مطابق عمران اور بشریٰ نے اپنے جواب میں کہا کہ 2018 توشہ خانہ پالیسی کے مطابق تحفے سے متعلق صرف رپورٹ نا کرنے پر قانون کے مطابق ایکشن لیا جا سکتا ہے ملٹری سیکرٹری نے مجھ سے پوچھ کر رپورٹ کیا پھر بلغاری سیٹ کی توشہ خانہ رولز کے مطابق قیمت 59 لاکھ روپے لگوائی جس کی آدھی قیمت 29 لاکھ دیکر قانون کے مطابق تحفہ ہم نے اپنے پاس رکھا ایف آئی اے کے دائرہ اختیار سے متعلق توشہ خانہ رولز مکمل خاموش ہیں انعام اللہ شاہ کو کبھی نہیں کہا کہ صہیب عباسی پر پریشر ڈال کر کم قیمت لگوائے اگر فرض کریں انعام اللہ شاہ نے مئی 2021 میں مجھے اتنا فائدہ (پراسیکوشن کے مطابق تین ارب 20 کروڑ کا) پہنچایا ہوتا تو جولائی 2021 میں اس کو بدنیتی کی بنیاد پر دوہری تنخواہ 70 ہزار لینے پر برطرف کیوں کرتا ؟ وہ جہانگیر ترین کا ٹول تھا جس نے توشہ ون 2023 میں گواہی دیتے ہوئے بلغاری سیٹ کی بھی قیمت کم لگوانے کا کہیں ذکر نہیں نا ہی صہیب عباسی نے ذکر کیا تھا اب توشہ خانہ ٹو میں آکر دونوں یہ بیانات بھی دے رہے ہیں کہ میرے کہنے پر قیمت کم لگوائی ہے پھر اٹلی سے نیب کے قیمت کا تخمینہ تقریبا 7 کروڑ جو لگوایا وہ تو اب نیب ترمیم ہو چکی نیب کا تو دائرہ اختیار ہی نہیں بنتا وہ کیسے لگوا سکتے ہیں اور چیئرمین نیب نے بھی وعدہ معاف گواہ صہیب عباسی کی معافی کو بغیر اختیار کے ہی منظور کر لیا ابھی تک 300 کے قریب من گھڑت کیسز بنائے جا چکے مجھے اور میری بیوی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ”

  • اسلام آباد میں احتجاج کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ، موبائل انٹرنیٹ سروس معطل

    اسلام آباد میں احتجاج کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ، موبائل انٹرنیٹ سروس معطل

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تحریک لبیک کے احتجاج اور ممکنہ دھرنے کے پیش نظر سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات نافذ کر دیے گئے ہیں۔

    مذہبی جماعت نے اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کیا ہے جس کے باعث ضلعی انتظامیہ نے شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر سخت سکیورٹی اقدامات کیے ہیں۔ تمام مرکزی شاہراہوں اور داخلی مقامات پر بھاری کنٹینر لگا دیے گئے ہیں، جس سے شہریوں کو آمد و رفت میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ کئی مقامات پر ٹریفک جام کی صورتحال پیدا ہوچکی ہے جبکہ متبادل راستے بھی بند کیے جانے کے باعث دفتری اور تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی میں موبائل ڈیٹا اور انٹرنیٹ سروس شدید متاثر ہوگئی ہے۔ شہریوں کو موبائل فون پر انٹرنیٹ استعمال کرنے میں دشواری پیش آرہی ہے، جب کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی رسائی محدود ہوگئی ہے۔ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ نے پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو اسلام آباد اور راولپنڈی میں موبائل انٹرنیٹ سروس بند کرنے کے لیے باضابطہ طور پر خط لکھ دیا ہے۔وزارت کے خط میں ہدایت کی گئی ہے کہ تھری (3G) اور فورجی (4G) سروسز آج رات 12 بجے سے تاحکم ثانی معطل رہیں گی۔وزارت داخلہ کے مطابق یہ اقدام مکمل طور پر سکیورٹی وجوہات کی بنا پر کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار صورتحال سے نمٹا جا سکے۔

    احتجاج کے پیش نظر راولپنڈی کے بیشتر نجی تعلیمی اداروں میں آج تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ والدین اور طلبہ کو اسکول انتظامیہ کی جانب سے چھٹیوں کی اطلاع رات گئے دی گئی، جس پر شہریوں میں تشویش کی لہر دیکھی جا رہی ہے۔وزیر داخلہ کی ہدایت پر اسلام آباد کے کمشنر، آئی جی پولیس اور راولپنڈی کے آر پی او کو صورتحال پر مکمل نظر رکھنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔انتظامیہ کے مطابق شہر میں داخل ہونے والے تمام راستوں پر کڑی نگرانی کی جا رہی ہے، جب کہ مشکوک گاڑیوں اور افراد کی تلاشی کا عمل جاری ہے۔

    ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر گھروں سے نکلنے سے گریز کریں اور حکومت کی جانب سے جاری سکیورٹی ہدایات پر عمل کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے محفوظ رہا جا سکے۔

  • بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں،43 دہشتگرد جہنم واصل

    بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں،43 دہشتگرد جہنم واصل

    بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں سیکیورٹی فورسز، کاونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران متعدد کارروائیاں کیں جن میں 43دہشت گردوں کی ہلاکت، ان کے ٹھکانوں کی تباہی اور کئی افراد کے اغوا کے واقعات سامنے آئے۔

    سوراب ضلع میں جاری سرچ اور روڈ بلاک آپریشن کے دوران نامعلوم مسلح افراد نے ایک شخص کو اغوا کر لیا جس کی شناخت تاحال ظاہر نہیں کی گئی۔ مقامی ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے ایک تعمیراتی کمپنی کے سات ملازمین کو بھی اغوا کیا ہے جو علاقے میں کام کر رہے تھے۔واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ اور کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ مغویوں کی بازیابی اور ملزمان کی گرفتاری کو یقینی بنایا جا سکے۔

    کرم ضلع میں سیکیورٹی فورسز نے حالیہ دہشت گرد حملے میں ملوث گروہ کو کامیاب کارروائی میں ختم کر دیا۔ مصدقہ انٹیلی جنس معلومات پر کرم اور اورکزئی اضلاع میں مشترکہ آپریشن کیے گئے جن میں تقریباً 30 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔سیکیورٹی حکام کے مطابق مارے گئے دہشت گردوں میں کرم حملے کے مرکزی کردار بھی شامل تھے۔ کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانے بھی تباہ کیے گئے۔یہ کارروائیاں سیکیورٹی فورسز کے اس عزم کی عکاسی کرتی ہیں کہ وہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور خیبر پختونخوا میں دیرپا امن کے قیام کے لیے پرعزم ہیں۔

    کاونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) نے بنوں میں کارروائی کرتے ہوئے دو انتہائی مطلوب دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، جن میں وہ دہشت گرد بھی شامل تھا جو چار سی ٹی ڈی اہلکاروں کی شہادت کا ذمہ دار تھا۔سی ٹی ڈی حکام کے مطابق دہشت گردوں کا منصوبہ ڈومیل پولیس اسٹیشن کے قریب ایک بڑا حملہ کرنے کا تھا۔
    مارے گئے دہشت گردوں کی شناخت رشیدین عرف ملنگ یار اور خالد عثمان عرف عثمان کے نام سے ہوئی۔
    رشیدین 30 اپریل کو سی ٹی ڈی ٹیم پر حملے کا ماسٹر مائنڈ تھا، جبکہ خالد عثمان 2023 کے دوران متعدد ٹارگٹ کلنگز اور حملوں میں ملوث رہا۔

    ضلع سوات کے مٹہ تھانہ حدود میں درشخیلہ برنجال کے علاقے میں سی ٹی ڈی اور بم ڈسپوزل یونٹ نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے کو تباہ کر دیا۔انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی کارروائی میں بارودی مواد برآمد ہوا، جسے موقع پر ہی ناکارہ بنا دیا گیا۔یہ بروقت کارروائی ایک ممکنہ دہشت گرد منصوبے کو ناکام بنانے میں کامیاب رہی، جس سے سوات میں امن و استحکام کو تقویت ملی۔

    ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کلاچی میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر آپریشن کرتے ہوئے ایک کالعدم تنظیم کے کمانڈر رضوان عرف وقاص کو ہلاک کر دیا۔آپریشن کے دوران اس کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔فورسز نے علاقے میں کلیئرنس آپریشن مکمل کرتے ہوئے امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنایا۔

    بنوں کے علاقے گریرہ شاہ جہان میں واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز کمپنی (WSSC) کے دو ملازمین کو دہشت گردوں نے اغوا کر لیا۔مغویوں کی شناخت گل رحمان اور نصیب کے نام سے ہوئی۔ واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا اور اردگرد کے علاقوں میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

    ضلع ہنگو کے علاقے سمانہ سنگر پوسٹ کے قریب دہشت گردوں نے فرنٹیئر کانسٹیبلری (FC) کی چیک پوسٹ پر سنائپر فائر سے حملہ کیا۔حملے میں نائب صوبیدار رحمت اللہ سینے میں گولی لگنے سے زخمی ہوئے اور بعد ازاں شہید ہو گئے۔واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں محاصرہ کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔

    ڈیرہ مراد جمالی میں پٹ فیڈر کینال برج کے قریب ریلوے ٹریک پر آئی ای ڈی دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں ریلوے ملازم امداد کھوکھر شہید ہو گئے۔پولیس حکام کے مطابق دھماکا اس وقت ہوا جب ایک خالی انجن جعفر ایکسپریس سے قبل وہاں سے گزر رہا تھا۔واقعے کے بعد پولیس اور ایف سی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا۔

    زہری کے شمالی علاقے میں سیکیورٹی فورسز نے عین نشانے پر کی گئی کارروائی میں فتنہ الہندستان سے تعلق رکھنے والے سات دہشت گردوں کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کر دیا۔آپریشن کے دوران کوبرا گن شپ ہیلی کاپٹرز نے وادی میں پھنسے دہشت گردوں کی نقل و حرکت روک کر انہیں نشانہ بنایا۔یہ کارروائی بلوچستان میں غیر ملکی سرپرستی میں سرگرم گروہوں کے خلاف جاری وسیع آپریشن کا حصہ ہے۔

    پنجگور میں سیکیورٹی فورسز نے مصدقہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم کے تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔فائرنگ کے تبادلے میں تین سیکیورٹی اہلکار شہید ہو گئے۔کارروائی کے بعد علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے جبکہ اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔یہ کارروائی اس امر کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر قیمت پر پرعزم ہیں۔

    یہ تمام کارروائیاں ملک میں امن و استحکام کے قیام کے لیے سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں، پیشہ ورانہ مہارت اور غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتی ہیں۔

  • زندہ انسان میں  خنزیر کے جگر کے ٹرانسپلانٹ کا کامیاب تجربہ

    زندہ انسان میں خنزیر کے جگر کے ٹرانسپلانٹ کا کامیاب تجربہ

    چین میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ خنزیر کا جگر انسان میں ٹرانسپلانٹ — مریض 171 دن زندہ رہا، طبی تاریخ میں سنگ میل

    چین کے معالجین نے طب کی دنیا میں ایک اہم سنگ میل عبور کرلیا ہے۔ چینی ڈاکٹروں نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے 71 سالہ مریض کے جسم میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ خنزیر کا جگر ٹرانسپلانٹ کیا، جس کے بعد مریض 171 دن زندہ رہا۔ ان میں سے 38 دن اس نے خنزیر کے جگر کے ساتھ گزارے۔ یہ واقعہ طبی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے جو کسی مستند تحقیقی جرنل Journal of Hepatology میں شائع ہوا ہے۔

    یہ جگر 11 ماہ کے ایک کلون خنزیر سے حاصل کیا گیا تھا، جس کے جینز میں 10 اہم تبدیلیاں کی گئی تھیں تاکہ انسانی جسم میں اس کے ردِ عمل یا انفیکشن کے امکانات کم کیے جا سکیں۔ یہ آپریشن چین کے شہر ہفے میں موجود First Affiliated Hospital of Anhui Medical University میں کیا گیا، جس کی سربراہی ڈاکٹر بائی چنگ سُن کر رہے تھے۔ڈاکٹر سن کے مطابق لوگ ہمیشہ کہتے تھے کہ جگر بہت پیچیدہ ہے اور اسے خنزیر سے انسان میں منتقل کرنا ممکن نہیں، لیکن اس تجربے نے ثابت کیا ہے کہ مستقبل میں یہ ممکن ہو سکتا ہے، اگر خنزیر میں کافی انسانی جینز شامل کیے جائیں۔

    مریض کو ہیپاٹائٹس بی سے متعلق جگر کے نقص اور جگر کے دائیں حصے میں بڑے رسولی کا سامنا تھا۔ کیموتھراپی سے رسولی کم نہ ہو سکی اور خطرہ پیدا ہوگیا کہ وہ پھٹ سکتی ہے۔ چونکہ کوئی انسانی ڈونر دستیاب نہیں تھا، اس لیے ڈاکٹروں نے خنزیر کے جگر کا آپشن آزمایا۔ مریض اور اس کی بیٹی نے مشاورت کے بعد رضامندی ظاہر کی۔سرجنز نے رسولی نکالنے کے بعد خنزیر کا جگر مریض کے جسم میں پیوند کیا۔ آپریشن کے فوراً بعد خنزیر کا جگر سرخ رنگ میں فعال نظر آیا اور بائل (پت) کا اخراج شروع ہوگیا، جو آہستہ آہستہ بڑھتا گیا۔ پہلے ہی دن جگر کے افعال کے اشارے بہتر ہو گئے، اور کوئی ابتدائی سوزش یا ردعمل ظاہر نہیں ہوا۔دسویں دن تک مریض کے جسم نے کوئی منفی ردعمل نہیں دکھایا۔ الٹراساؤنڈ سے ثابت ہوا کہ خون کی روانی پورٹل وین، ہیپاٹک آرٹری اور وین نارمل طور پر چل رہی تھی۔

    تاہم، 25 ویں دن سے مریض کے دل پر دباؤ کے آثار ظاہر ہونے لگے۔ اگلے چند دنوں میں سوزش بڑھی اور ٹیسٹوں نے ظاہر کیا کہ مریض کو پیچیدگی لاحق ہو رہی ہے، جس میں چھوٹی خون کی نالیوں میں خون کے چھوٹے لوتھڑے بننے لگتے ہیں۔37 ویں دن مریض کا بلڈ پریشر اچانک گر گیا اور دل کی دھڑکن تیز ہوگئی۔ ڈاکٹروں نے اندازہ لگایا کہ اب مریض کا اپنا جگر کافی حد تک بحال ہو چکا ہے، لہٰذا 38 ویں دن خنزیر کا جگر نکال دیا گیا۔ اس کے بعد مریض کا اپنا جگر بہتر طریقے سے کام کرتا رہا۔آپریشن کے 135 ویں دن مریض کو معدے میں خون بہنے کی شکایت ہوئی اور آخرکار 171 دن بعد وہ انتقال کر گیا۔

    اس تحقیق نے سائنسدانوں کو خنزیر سے انسان میں جگر منتقل کرنے کے عمل کی ممکنات، خطرات اور حدود کے بارے میں اہم معلومات فراہم کیں۔ ماہرین کے مطابق، مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی ان مریضوں کے لیے عارضی حل بن سکتی ہے جن کے جگر ناکارہ ہو چکے ہیں مگر وہ انسانی ڈونر کا انتظار کر رہے ہیں۔جرمنی کی Hannover Medical School کے پروفیسر ڈاکٹر ہائنر ویڈمائر نے اس تحقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے کہایہ تجربہ ایک طرف محتاط امید کا پیغام دیتا ہے، تو دوسری طرف یہ یاد دہانی بھی ہے کہ ہمیں ابھی طویل سفر طے کرنا ہے۔ اگر مستقبل میں خنزیر کا جگر کچھ ہفتوں کے لیے مریض کے جسم کو سہارا دے سکے، تو یہ علاج میں ایک انقلابی قدم ثابت ہوگا۔

    امریکا میں اس وقت ایک لاکھ سے زائد افراد اعضا کی پیوندکاری کے منتظر ہیں، جن میں سے 9 ہزار سے زیادہ صرف جگر کے منتظر ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خنزیر کے جین-ایڈیٹڈ اعضا مستقبل میں انسانی اعضا کی کمی کو پورا کرنے میں مدد دے سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کے حیاتیاتی ردعمل کو مکمل طور پر قابو میں لایا جا سکے۔ڈاکٹر سن نے کہا ہمیں ایسے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کا احترام کرنا چاہیے جو سائنس کے لیے اپنی زندگی قربان کرتے ہیں۔ انہی کی قربانیوں سے انسانیت کو نئے علاج کے دروازے کھلتے ہیں۔

  • جنگ بندی معاہدہ، غزہ اور اسرائیل میں جشن، مگر خدشات برقرار

    جنگ بندی معاہدہ، غزہ اور اسرائیل میں جشن، مگر خدشات برقرار

    اسرائیل اور حماس کے درمیان طویل اور تباہ کن جنگ کے بعد بالآخر ایک جنگ بندی معاہدے کا اعلان کر دیا گیا، جس کے بعد غزہ اور اسرائیل دونوں جانب خوشی اور جشن کے مناظر دیکھنے میں آئے۔ تاہم عوامی سطح پر اب بھی خدشات اور بے یقینی کی فضا قائم ہے کہ آیا یہ معاہدہ پائیدار ثابت ہو پائے گا یا نہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کی رات مصر کے شہر شرم الشیخ میں ہونے والے مذاکرات کے بعد اعلان کیا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی فریم ورک کے پہلے مرحلے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ٹرمپ کے مطابق اس منصوبے میں حماس کی تحویل میں موجود تمام اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اور اسرائیلی افواج کا ایک متعین حد تک انخلا شامل ہے۔ بعد ازاں ایک قطری عہدیدار نے بھی تصدیق کی کہ یہ معاہدہ جنگ کے خاتمے، اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور انسانی امداد کے داخلے کی راہ ہموار کرے گا۔تاہم اب بھی کئی اہم معاملات غیر واضح ہیں، جیسے کہ حماس کا غیر مسلح ہونا، غزہ کی مستقبل کی حکمرانی، اور یہ کہ دوبارہ جھڑپیں رکوانے کی کیا ضمانتیں دی گئی ہیں۔

    اس خبر کے بعد تل ابیب کے “ہوسٹیجز اسکوائر” میں ہزاروں شہری جمع ہوگئے۔ لوگ ایک دوسرے کو گلے لگا رہے تھے، نعرے لگا رہے تھے، اور اُن اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی کی امید پر جشن منا رہے تھے جو اب بھی غزہ میں حماس کے قبضے میں ہیں۔ایناف زنگاؤکر، جن کے بیٹے متان زنگاؤکر اب بھی یرغمال ہیں، جذباتی انداز میں نعرے لگا رہی تھیں: “ہم متان کو واپس لائیں گے!”ایک مقامی شہری ہلیل مایر نے کہا “ہمارے دل خوشی سے لبریز ہیں، یقین نہیں آتا کہ شاید اب وہ دن آ گیا ہے جب ہمارے لوگ واپس آئیں گے۔”دوسری جانب، سابق یرغمالیوں اور اُن کے اہل خانہ نے بھی جشن میں شرکت کی، مگر ان کے چہروں پر احتیاط آمیز خوشی نمایاں تھی۔

    غزہ کی تباہ حال گلیوں میں بھی جنگ بندی کے اعلان پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ خان یونس کے علاقے میں لوگ رات گئے ناصر اسپتال کے قریب جمع ہوئے، تالیاں بجائیں، نعرے لگائے اور ایک دوسرے کو مبارکباد دی۔علی عارف ابو عودہ نامی شہری نے بتایا “ایسا لگ رہا ہے جیسے میں اڑ سکتا ہوں۔ بس یہ خواب ہے کہ جنگ رک جائے، نقل مکانی ختم ہو، اور ہمارا ڈراؤنا خواب ختم ہو جائے۔ مگر اب ہمارے پاس نہ گھر ہیں، نہ اسکول، نہ یونیورسٹیاں، کچھ نہیں بچا۔”

    اسی دوران اسرائیلی فوج نے اپنے جوانوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ “ہر ممکن صورت حال کے لیے تیار رہیں”۔ فوج کے عربی ترجمان اویخائے ادرعی نے خبردار کیا کہ فلسطینی شہری شمالی علاقوں کی طرف واپسی نہ کریں جہاں اسرائیلی فوجی موجود ہیں۔صحافیوں کے مطابق غزہ شہر میں بمباری بدستور جاری ہے، جس سے عوام میں خوف اور بے چینی کی کیفیت برقرار ہے۔

    اسرائیل میں یرغمالیوں کے اہل خانہ نے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ اُن کے پیاروں کی واپسی کا سبب بنے گا۔اوحاد بن امی، جو پہلے ہی رہائی پا چکے ہیں، نے ایک ویڈیو میں کہا “مجھے یقین نہیں آ رہا… لیکن آخرکار وہ گھر آ رہے ہیں۔”جبکہ لیران برمن، جن کے جڑواں بھائی اب بھی غزہ میں قید ہیں، نے کہا “میرے گالی اور زیوی، میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں۔”صدر ٹرمپ کی ایک ویڈیو بھی منظرعام پر آئی جس میں وہ واشنگٹن میں یرغمالیوں کے خاندانوں سے بات کر رہے تھے، اور انہیں بتا رہے تھے کہ اُن کے پیارے پیر کے روز واپس آئیں گے۔

    یہ معاہدہ ایک ایسے موقع پر ہوا ہے جب 7 اکتوبر 2023 کو ہونے والے حماس کے حملے کو دو سال مکمل ہو گئے ہیں۔ اس حملے میں کم از کم 1200 اسرائیلی ہلاک اور 251 افراد کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔اب بھی 48 یرغمالی حماس کی تحویل میں ہیں، جن میں سے کم از کم 20 کے زندہ ہونے کا یقین ہے۔

    دوسری طرف، غزہ دو سالہ جنگ سے مکمل طور پر اجڑ چکا ہے۔ فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق 67 ہزار سے زائد افراد جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے شہید ہوئے ہیں،اقوامِ متحدہ کی ایک آزاد رپورٹ میں ستمبر 2025 میں کہا گیا کہ اسرائیل نے غزہ میں نسل کشی کے جرائم کیے ہیں، جسے اسرائیلی حکومت نے سختی سے مسترد کر دیا۔

    خان یونس میں ایک کم سن لڑکی نے صحافی سے کہا “ہم دو سال سے جنگ میں جی رہے ہیں۔ اب امید ہے کہ شاید ہم اپنے گھروں کو لوٹ سکیں۔ ہم بہت تھک گئے ہیں۔”واٸل رضوان نامی مقامی شخص نے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا “جو کوئی بھی خون بہنے سے روکنے کی کوشش میں شریک ہوا، وہ تعریف کے قابل ہے۔”جبکہ ایک اور شہری عبدالمجید عبدربّو نے کہا “پورا غزہ خوش ہے، پورا عرب خوش ہے، دنیا خوش ہے کہ آخرکار جنگ رکنے جا رہی ہے۔”تاہم غزہ کی حکومتی میڈیا آفس نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ سرکاری اعلان سے قبل محتاط رہیں اور اپنی نقل و حرکت محدود رکھیں۔

  • پاکستان اسٹیل مل میں 10 ارب کی چوری،سینیٹ قائمہ کمیٹی کا اظہار تشویش

    پاکستان اسٹیل مل میں 10 ارب کی چوری،سینیٹ قائمہ کمیٹی کا اظہار تشویش

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس جمعرات کے روز سینیٹر خالدہ عتیب کی زیرِ صدارت ہوا، جس میں پاکستان اسٹیل ملز کو درپیش سنگین مالی و انتظامی بحران، بڑے پیمانے پر ہونے والی چوریوں اور آپریشنل مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

    اجلاس میں کمیٹی نے پاکستان اسٹیل ملز میں چوری سے متعلق درج تمام ایف آئی آرز کا جائزہ لینے کی ہدایت دی اور اس بات پر زور دیا کہ چوری شدہ مواد، جن میں تاریں اور دیگر قیمتی اجزاء شامل ہیں، کے باعث ہونے والے مالی نقصان کا درست تخمینہ لگایا جائے۔کمیٹی نے انکشاف کیا کہ 10 ارب روپے مالیت کی چوری کے باوجود اب تک صرف ایک معطلی عمل میں لائی گئی ہے، جو شفاف احتساب کے فقدان کی نشاندہی کرتی ہے۔سینیٹر خالدہ نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا "یہ چوری کسی ایک شخص کا کام نہیں بلکہ ایک منظم نیٹ ورک کی کارستانی ہے۔ ضروری ہے کہ اس زنجیر میں ملوث ہر فرد کی نشاندہی کر کے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔”

    سی ای او پاکستان اسٹیل ملز نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ فوجداری کارروائیاں اور محکمانہ تحقیقات دونوں جاری ہیں، اور قصورواروں کے خلاف قانونی تقاضوں کے مطابق کارروائی کی جا رہی ہے۔سی ای او نے مزید بتایا کہ بجلی اور پانی کی قلت ملز کے لیے مستقل رکاوٹ بنی ہوئی ہے، تاہم مشکلات کے باوجود ادارہ اپنے ملازمین کی تنخواہیں خود اپنے وسائل سے ادا کر رہا ہے۔اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ پاکستان اسٹیل ملز کے پاس وسیع رقبے پر مشتمل زمین موجود ہے، جس کا بڑا حصہ صنعتی نوعیت کا ہے۔ تاہم زمین پر قبضے سے متعلق درج ایف آئی آرز میں متاثرہ رقبے کی تفصیلات شامل نہیں، جس کی عدم وضاحت قانونی پیچیدگیوں کا باعث بن رہی ہے۔کمیٹی نے اس امر پر زور دیا کہ اسٹیل ملز کے حقائق پر مبنی جامع تحقیق کے لیے واضح شرائطِ حوالہ مرتب کی جائیں تاکہ تحقیقات مؤثر اور نتیجہ خیز ثابت ہوں۔سینیٹر خالدہ نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ہر بار جب کوئی سیکریٹری اسٹیل ملز کے مسائل میں گہرائی سے دلچسپی لیتا ہے تو اس کا تبادلہ کر دیا جاتا ہے، جو مسلسل نگرانی اور اصلاحی عمل میں بڑی رکاوٹ ہے۔

    کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ آئندہ اجلاس میں محنت کشوں کی رجسٹرڈ یونینز کے نمائندوں کو طلب کیا جائے گا تاکہ مزدوروں کے مسائل اور ان کی تجاویز براہِ راست سنی جا سکیں۔ اس کے علاوہ واٹر اینڈ سیوریج کمپنی کے حکام کو بھی طلب کیا جائے گا تاکہ علاقے میں پانی کی قلت کے مسئلے پر عملی حل پیش کیا جا سکے۔

  • سہیل آفریدی کو دہشتگردوں کی سہولت کاری کے لیے لایا جا رہا ہے، عطا تارڑ

    سہیل آفریدی کو دہشتگردوں کی سہولت کاری کے لیے لایا جا رہا ہے، عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللّٰہ تارڑ کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے دہشتگردوں کو واپس لاکر بسایا اور آج بھی یہ سہولت کاری جاری ہے، علی امین گنڈاپور کو دہشت گردوں کی مکمل سہولت کاری نہ کرنے پر ہٹایا۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ یہ اب ایسے شخص کو وزیر اعلیٰ بنا رہے ہیں جو دہشتگردوں کے لیے نرم گوشہ رکھتا ہے، ایسے شخص کو وزیر اعلیٰ بنائیں گے تو قوم کی قربانیاں کہاں جائیں گی،پی ٹی آئی کا انتشاری ٹولہ دہشتگردوں کا سہولت کار ہے، شاید علی امین دہشتگردوں کی سہولت کاری کا اس حد تک مشن پورا نہیں کر سکے جس کی بانی پی ٹی آئی کو توقع تھی، سہیل آفریدی کو دہشتگردوں کی سہولت کاری کے لیے لایا جا رہا ہے، سہیل آفریدی پر مقدمات ہیں، وہ مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے ہیں،پاکستان کی سیکیورٹی پالیسی کابل میں نہیں بنے گی، پاکستان کی سیکیورٹی پالیسی اسلام آباد میں بنتی ہے اور یہیں بنے گی، فورسز کے جوان دہشتگردوں اور عوام کے درمیان سیسہ پلائی دیوار بنے ہوئے ہیں، دہشتگرد کبھی غلبہ حاصل نہیں کرسکیں گے۔

    عطا تارڑکا مزید کہنا تھا کہ آج لندن کی عدالت کے فیصلے نے انتشار پسندوں کے بیانیے کو بری طرح ناکام بنا دیا ہے، جو نہ صرف پاکستان کے وقار اور ساکھ میں اضافہ کا باعث بنا بلکہ اس نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ جھوٹ، پروپیگنڈا اور منفی سیاست کی کوئی گنجائش نہیں ہے.

  • ملک میں فتنہ پھیلانے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے،وزیراعظم

    ملک میں فتنہ پھیلانے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے،وزیراعظم

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے درست فیصلے کیے جائیں، ہم نے اگر اب فیصلہ کن اقدامات نہ کیے تو قوم معاف نہیں کرے گی، ان خوارج کے سہولت کار بھی ان کے جرائم میں برابر کے شریک ہیں۔

    اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اورکزئی میں واقعہ ہوا، افسران کے ساتھ پاک فوج کے 9 جوان بھی شہید ہوئے، پاک فوج کے جوانوں نے فتنہ الخوارج کے 19 دہشت گردوں کو ہلاک کیا، میں آج بھی ایک شہید میجر سبطین حیدر کے جنازے میں شریک ہوا، لاکھوں بچوں کو یتیم ہونے سے بچانے کے لیے شہداء نے قربانیاں دیں، ملک میں فتنہ پھیلانے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے، عوام یکسو ہیں کہ ان خوارج کا مکمل اور ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا جائے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے 8 اسلامی ممالک کے سربراہان سے ملاقات کی جن میں پاکستان بھی شامل تھا، پوری قوم کا ایک ہی مؤقف ہے کہ غزہ میں جنگ بندی ہونی چاہیے، فلسطین کے عوام کو حقِ خودارادیت ملنا چاہیے، اقوامِ متحدہ میں فلسطین سے متعلق پاکستان کا مؤقف اجاگر کیا، پاکستان کو اللّٰہ تعالیٰ نے عزت دی کہ 57 اسلامی ممالک میں سے چنے گئے 8 ممالک میں شامل ہے، پاکستان کے عوام کی طرف سے جنگ بند کرانے پر امریکی صدر کا شکریہ ادا کیا، ٹرمپ نے کہا کہ غزہ میں فوری جنگ بندی کے لیے مدد چاہتا ہوں، مغربی حصہ غزہ سے الگ نہیں ہو گا، پاکستان نے غزہ میں امن کے لیے بھرپور کردار ادا کیا،واشنگٹن میں امریکی صدر سے ملاقات ہوئی جس میں فیلڈ مارشل بھی موجود تھے، امریکی صدر سے باہمی تعلقات، تجارت، انسدادِ دہشت گردی پر تفصیل سے بات ہوئی، آزاد فلسطین پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہے، اس حوالے سے کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے، چین پاکستان کا دیرینہ قابلِ اعتبار اور قابلِ قدر دوست ہے، سعودی عرب سے پاکستان کے تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں، پاک سعودی دفاعی معاہدہ دونوں ممالک کے تعلقات کی باقاعدہ ایک شکل ہے، دفاعی معاہدے کے مطابق دونوں میں سے کسی ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور ہو گا۔