Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • گنڈا پور کا استعفیٰ، اپوزیشن متحرک، نیا وزیراعلیٰ لانے کی تیاریاں تیز

    گنڈا پور کا استعفیٰ، اپوزیشن متحرک، نیا وزیراعلیٰ لانے کی تیاریاں تیز

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے استعفے کے بعد صوبے میں سیاسی منظرنامہ تیزی سے بدلنے لگا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے سرگرم مشاورت شروع کر دی ہے اور اراکین اسمبلی کو پشاور میں قیام کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق علی امین گنڈاپور کے مستعفی ہونے کے فوراً بعد اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے رابطے تیز کر دیے ہیں اور مشترکہ حکمتِ عملی کے لیے اجلاس منعقد کیا جا رہا ہے۔ اجلاس کے بعد اراکین اسمبلی کو اعتماد میں لیا جائے گا، جبکہ نئے وزیراعلیٰ کے لیے متفقہ امیدوار کے نام پر مشاورت جاری ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی پشاور میں موجود ہیں اور اپوزیشن قیادت سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ ان کی قیادت میں اپوزیشن جماعتیں وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے مشترکہ امیدوار لانے پر متفق ہونے کی کوشش کر رہی ہیں۔

    دوسری جانب وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات و نشریات اختیار ولی خان نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں تصدیق کی کہ خیبرپختونخوا کی صورتحال پر متحدہ اپوزیشن میں تفصیلی مشاورت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں وزیراعلیٰ کے لیے مشترکہ امیدوار میدان میں اتارنے پر متفق ہیں تاکہ صوبے میں سیاسی استحکام پیدا کیا جا سکے۔ادھر پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز کے جنرل سیکرٹری ملک حبیب نور اورکزئی نے بھی گفتگو میں تصدیق کی کہ ان کی جماعت اپوزیشن کے ساتھ مشاورت کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اسمبلی میں اکثریت حاصل ہو گئی تو جے یو آئی (ف) کے امیدوار کو وزیراعلیٰ کے طور پر سامنے لایا جا سکتا ہے۔ پارٹی آزاد اراکین سے بھی رابطے میں ہے تاکہ اپوزیشن کے متفقہ امیدوار کو کامیابی دلانے کے لیے مطلوبہ حمایت حاصل کی جا سکے۔

    سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق علی امین گنڈاپور کے استعفے کے بعد خیبرپختونخوا میں ایک نئی سیاسی صف بندی کا آغاز ہو گیا ہے، جہاں اپوزیشن جماعتیں برسراقتدار آنے کے لیے متحد ہونے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ آئندہ چند دنوں میں صوبائی سیاست میں اہم پیش رفت متوقع ہے۔

  • قطر ایئرویز کی پرواز میں مسافر کی موت، بیٹے کا ایئرلائن کے خلاف مقدمہ

    قطر ایئرویز کی پرواز میں مسافر کی موت، بیٹے کا ایئرلائن کے خلاف مقدمہ

    قطر ایئرویز کی ایک پرواز میں 85 سالہ ویجیٹرین (سبزی خور) مسافر ڈاکٹر اشوکا جے ویرہ دورانِ پرواز دم گھٹنے سے ہلاک ہوگئے، جب انہیں پہلے سے آرڈر کیے گئے سبزی والے کھانے کے بجائے گوشت پر مشتمل کھانا پیش کیا گیا۔

    یہ افسوسناک واقعہ 30 جون 2023 کو لاس اینجلس سے کولمبو جانے والی قطر ایئرویز کی طویل پرواز میں پیش آیا۔ رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر اشوکا جے ویرہ، جو امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا کے معروف ریٹائرڈ کارڈیالوجسٹ تھے، نے 15 گھنٹے سے زائد دورانیے کی پرواز کے لیے ویجیٹرین کھانا پہلے سے بک کرایا تھا۔پرواز کے دوران عملے نے انہیں بتایا کہ ویجیٹرین کھانے دستیاب نہیں، اور اس کے بجائے گوشت والا عام کھانا دے دیا۔تاہم، کھانا کھاتے وقت ان کا دم گھٹنے لگا اور وہ بے ہوش ہوگئے۔ فلائٹ عملے نے فوری طبی امداد کی کوشش کی، ماہرین سے رابطہ کیا، لیکن حالت مزید بگڑ گئی۔ پرواز کو ہنگامی طور پر ایڈنبرا (اسکاٹ لینڈ) اتارا گیا، جہاں ڈاکٹر جے ویرہ کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ وہ چند دن بعد، 3 اگست 2023 کو انتقال کر گئے۔ڈاکٹروں کے مطابق ان کی موت Aspiration Pneumonia یعنی خوراک یا مائع کے سانس کی نالی میں چلے جانے سے پیدا ہونے والے پھیپھڑوں کے انفیکشن کے باعث ہوئی۔

    مرنے والے کے بیٹے سوریہ جے ویرہ نے قطر ایئرویز کے خلاف غلط موت اور غفلت کا مقدمہ دائر کیا ہے۔ مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ایئرلائن نے پہلے سے آرڈر کیے گئے ویجیٹرین کھانے کی فراہمی میں کوتاہی کی، اور بعد میں پیش آنے والی طبی ہنگامی صورتحال پر مناسب ردعمل نہیں دیا۔مدعی نے ایئرلائن سے 128,821 ڈالر کے ہرجانے کا دعویٰ کیا ہے، جو قانونی طور پر مقررہ کم از کم معاوضہ ہے۔مقدمے میں مزید کہا گیا ہے کہ قطر اور امریکہ دونوں مونٹریال کنونشن (Montreal Convention) کے دستخط کنندہ ممالک ہیں، جس کے تحت بین الاقوامی پروازوں میں کسی حادثے یا مسافر کی موت کی صورت میں ایئرلائنز پر سخت ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اس کنونشن کے مطابق ایئرلائن کو ہلاک شدہ یا زخمی مسافروں کے لواحقین کو تقریباً 175,000 ڈالر تک کا معاوضہ ادا کرنا ہوتا ہے۔

    یہ واقعہ بین الاقوامی سطح پر ایئرلائنز کی پالیسیوں، مسافروں کے غذائی تقاضوں اور خاص طور پر بزرگ یا حساس مسافروں کے لیے حفاظتی اقدامات پر سنگین سوالات اٹھا رہا ہے۔یہ پہلا موقع نہیں جب قطر ایئرویز یا دیگر ایئرلائنز میں مسافروں کو مخصوص غذائی ہدایات کے باوجود خطرناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہو۔گزشتہ سال برطانوی ریئلٹی اسٹار جیک فاؤلر کو قطر ایئرویز کی دبئی جانے والی پرواز میں نٹس والے کھانے سے شدید الرجی کا سامنا ہوا تھا، حالانکہ انہوں نے پہلے ہی اپنی الرجی سے آگاہ کر رکھا تھا۔ اسی نوعیت کا واقعہ ان کے ساتھ ایک سال قبل بھی پیش آیا تھا۔اسی طرح سنگاپور ایئرلائنز کی ایک پرواز کو رواں سال گرمیوں میں پیرس موڑنا پڑا، جب ایک 41 سالہ خاتون مسافر جھینگے سے الرجک ردعمل کے باعث شدید بیمار ہوگئیں۔

  • متحدہ عرب امارات میں ہیروئن اسمگل کرنے والا نیٹ ورک بے نقاب

    متحدہ عرب امارات میں ہیروئن اسمگل کرنے والا نیٹ ورک بے نقاب

    متحدہ عرب امارات میں ہیروئن اسمگل کرنے والا نیٹ ورک بے نقاب ہو گیا

    اے این ایف کی انٹیلیجنس اطلاعات پر مبنی کامیاب کارروائی کی گئی، نیٹ ورک کا سرغنہ ندیم خان گرفتارکر لیا گیا، منشیات اسمگلنگ میں ملوث 11 افراد گرفتار، 4 خواتین اور ایک فارماسسٹ شامل ہیں، نیٹ ورک غریب نوجوان جوڑوں کو جھوٹے خواب دکھا کر استعمال کرتا تھا،اے این ایف حکام کے مطابق منشیات کیپسولز کی شکل میں پیٹ میں چھپائی جاتی تھی

    اے این ایف کی جدید مانیٹرنگ سے نیٹ ورک بے نقاب ہوا، دو ہوائی اڈوں سے 4 نوجوان جوڑے ہیروئن سمیت گرفتار کر لئے گئے، جدید ٹیکنالوجی سے مزید تین سہولت کار گرفتارکئے گئے، تفتیش میں مفرور ملزمان کی نشاندہی مکمل کی گئی، اے این ایف حکام کا کہنا ہے کہ اکستان سے کسی خلیجی ملک کو منشیات اسمگل نہیں ہونے دیں گے

  • کے الیکٹرک کی آپریشنل ذمہ داریوں میں ناکامی ثابت،بھاری جرمانہ عائد

    کے الیکٹرک کی آپریشنل ذمہ داریوں میں ناکامی ثابت،بھاری جرمانہ عائد

    کے الیکٹرک کی آپریشنل زمہ داریوں میں ناکامی ثابت،بھاری جرمانہ عائد کر دیا گیا

    نیپرا نے کے الیکٹرک پر 2 کروڑ 50 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کر دیا،نیپرا کے مطابق کے الیکٹرک کی وضاحتیں پاور بریک ڈاؤن کا جواز فراہم نہیں کرتیں،جنوری 2023 کے بریک ڈاؤن کی ذمہ داری صرف نیشنل گرڈ پر ڈالنا درست نہیں،کے الیکٹرک اپنے سسٹم کی کمزوریوں اور خامیوں کا ذمہ دار قرار ہے،کے الیکٹرک کی جوابات غیر اطمینان بخش اور ناقابل قبول قرار دئئے گئے،اتھارٹی نے کے الیکٹرک کو 15 روز کے اندر عائد جرمانہ جمع کرانے کا حکم دے دیا، نیپرا کے مطابق حوالہ تکنیکی طور پر درست مگر ناکافی ہےلائسنس ہولڈر کی جانب سے بلیک اسٹارٹ صلاحیت کی وضاحت غیر مؤثر ہے،بلیک اسٹارٹ مشق کے باوجود حقیقی بحران میں ناکامی ہوئیبار بار ٹرپنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ حفاظتی اقدامات مؤثر نہیں تھے،بلیک اسٹارٹ پلانٹ کی تکنیکی خامیاں بدستور برقرار رہیں،نیپرا نے کے الیکٹرک جواب کا جائزہ لینے کے بعد سماعت کا موقع فراہم کیا،سماعت 14 نومبر 2024 کو ہونا تھی،کے ای کی درخواست پر مؤخر کی گئی تھی،اتھارٹی نے دوبارہ سماعت 20 مارچ 2025 کو نیپرا ہیڈ آفس میں کی.

  • چھبیسویں آئینی ترمیم کیخلاف دائر درخواستوں پر سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی

    چھبیسویں آئینی ترمیم کیخلاف دائر درخواستوں پر سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی

    سپریم کورٹ میں 26 ویں ترمیم کیس کے دوران جسٹس محمد علی نے کہا کہ آئینی بینچ کیسے فل کورٹ بناسکتا ہے کیونکہ اب صورتحال مختلف ہے۔

    سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کےخلاف درخواستوں پر سماعت 8 رکنی آئینی بینچ نے کی۔،دوران سماعت جسٹس عائشہ ملک نے سوال کیا کہ کیا فل کورٹ تشکیل دینے میں کوئی رکاوٹ ہے؟ جسٹس محمد علی نے کہا کیا موجودہ 8 رکنی بینچ فُل کورٹ تشکیل دینے کا دائرہ اختیار رکھتاہے؟ وکیل منیر اے ملک نے کہا کہ کوئی فرق نہیں پڑتا موجودہ بینچ ریگولر ہے یا آئینی،کیس کون سنےگا؟ موجودہ بینچ فیصلہ کرسکتا ہے۔جسٹس محمد علی نے کہاکہ اگر ہم جوڈیشل آرڈرجاری کریں تو آپ ایڈمنسٹریٹو آرڈر کہیں گے؟کیا ایسے آرٹیکل 191 اے کی خلاف ورزی نہیں ہوگی؟،وکیل منیر اے ملک نےکہا کہ کوئی خلاف ورزی نہیں ہوگی، آئینی بینچ کے پاس جوڈیشل اختیارات ہیں۔جسٹس امین الدین نے کہا کہ ہم تو آئین و قانون کے مطابق مقدمات سن رہے ہیں، ہمیں ترمیم سے کیا فائدہ ہوا ہم نے الٹا گالیاں بھی بہت کھائی ہیں،

    جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں آئینی بینچ جوڈیشل اختیارات کا استعمال کرکے فل کورٹ تشکیل دے؟ عدالت نے کئی بار ترمیم کےبجائے آئین پر انحصار کیا ہے۔جسٹس محمد علی نے کہا آرٹیکل191اے موجود ہے، بتائیں آئینی بینچ کیسےفُل کورٹ تشکیل دے سکتا ہے؟کیونکہ اب صورتحال مختلف ہے۔وکیل منیر اے ملک نے کہا کہ فُل کورٹ کےلیے موجودہ بینچ کی جانب سے ڈائریکشن دیےجانےکی استدعا ہے، سپریم کورٹ کے اندر آئینی بینچ قائم ہے، سپریم کورٹ کےتمام ججز پر مبنی بینچ درخواستوں پر سماعت کرے۔

    ایڈوکیٹ منیر اے ملک نے اپنے دلائل مکمل کر لئیے ،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر ہم سپریم کورٹ کے تمام ججوں پر مشتمل آئینی بنچ بنانے کا کہہ دیں تو کیا آپکو منظور ہو گا،ایڈوکیٹ منیر اے ملک نے کہا کہ اگر چھبیسویں آئینی ترمیم سے پہلے والے ججوں پر مشتمل فل کورٹ بناتے ہیں تو مجھے قبول ہو گا،

    چھبیسویں آئینی ترمیم کیخلاف دائر درخواستوں پر سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی ،سپریم کورٹ بار کے سابق چھ صدور کے وکیل عابد زبیری دلائل دیں گے

  • الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی حمایت یافتہ اراکین کو آزاد قرار دے دیا

    الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی حمایت یافتہ اراکین کو آزاد قرار دے دیا

    الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حمایت یافتہ امیدواروں کو آزاد اراکین کے طور پر ظاہر کرتے ہوئے نئی پارٹی پوزیشن فہرست جاری کر دی ہے۔ یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے 25 اگست 2025ء کے حکم کے مطابق کیا گیا ہے، جس میں عدالت نے پی ٹی آئی کے ٹکٹ اور انتخابی نشان سے متعلق معاملات پر تفصیلی ہدایات دی تھیں۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق قومی اسمبلی کے ساتھ ساتھ پنجاب، خیبر پختونخوا اور سندھ اسمبلی کی نئی فہرستیں شائع کر دی گئی ہیں، جن میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ اراکین کے سامنے کسی سیاسی جماعت کا نام درج نہیں کیا گیا۔ تمام ایسے اراکین کو "آزاد امیدوار” کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق، فہرست میں سنی اتحاد کونسل کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے وہ امیدوار بھی شامل ہیں جو درحقیقت پی ٹی آئی کی حمایت سے کامیاب ہوئے تھے۔ الیکشن کمیشن نے انہیں بھی "آزاد” حیثیت میں ظاہر کیا ہے، کیونکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کی بطور سیاسی جماعت پارلیمانی نمائندگی تکنیکی طور پر متاثر ہوئی تھی۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق، اس فیصلے سے اسمبلیوں میں سیاسی طاقت کا توازن ایک بار پھر تبدیل ہو سکتا ہے۔ آزاد حیثیت رکھنے والے اراکین کو اب اپنی وابستگی کے بارے میں باقاعدہ اعلان کرنا ہوگا کہ وہ کس جماعت میں شامل ہو رہے ہیں، یا آزاد ہی رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

  • وزیراعظم کی قومی خزانے پر بوجھ بننے والے  اداروں کی جلد نجکاری  کی ہدایت

    وزیراعظم کی قومی خزانے پر بوجھ بننے والے اداروں کی جلد نجکاری کی ہدایت

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرصدارت مجوزہ سرکاری اداروں کی نجکاری پر جائزہ اجلاس ہوا
    وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ مجوزہ سرکاری اداروں کی نجکاری میں قومی مفاد اور مستقبل میں اداروں کی پیشہ وارانہ استعداد بڑھانے کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔مجوزہ سرکاری اداروں کی نجکاری کے عمل میں عالمی شہرت یافتہ ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں۔سرکاری اداروں کی اندرونی استعداد کار بڑھانے کے لیے جامع حکمت عملی کے تحت ہر ممکن اقدامات فوری طور پر اٹھائے جائیں۔ نجکاری کے عمل میں شامل سرکاری اداروں کے لیے بہترین معاملہ طے کیا جائے. نجکاری کے عمل میں ادارہ جاتی اور انتظامی تاخیر اور سرخ فیتے کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ نجکاری کے عمل کی بذات خود نگرانی اور اسکی پیش رفت پر باقاعدگی سے اجلاس کیا جائے گا۔

    اجلاس میں 24 میں سے 15 سرکاری اداروں کی نجکاری کے عمل پر پیشرفت پر وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا۔ وزیراعظم نے قومی خزانے پر بوجھ بننے والے اور غیرفعال سرکاری اداروں کی نجکاری کو جلد از جلد انتظامی اور ادارہ جاتی پیچیدگیوں سے بچاتے ہوئے نجکاری کے عمل کو مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں وزیراعظم کو اداروں کی نجکاری پر پیشرفت پر بریف کیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے اکنامک افیرز ڈویژن احد خان چیمہ، وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور دیگر متعلقہ اداروں کے سرکاری افسران نے شرکت کی۔

  • افغان وزیر خارجہ نئی دہلی پہنچ گئے

    افغان وزیر خارجہ نئی دہلی پہنچ گئے

    طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پہلی مرتبہ افغانستان کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نئی دہلی کے دورے پر پہنچ گئے ہیں۔ یہ دورہ معزول اشرف غنی حکومت کے خاتمے کے چار سال بعد بھارت اور طالبان انتظامیہ کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطے کی سب سے بڑی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

    یہ دورہ اُس وقت ہو رہا ہے جب پاکستان دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑ رہا ہے اور مسلسل بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورکس کو بے نقاب کر رہا ہے۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے حالیہ مہینوں میں متعدد کارروائیوں میں بھارتی خفیہ ایجنسی "را” سے منسلک گروہوں کے خلاف شواہد حاصل کیے ہیں۔

    افغان وزیرِ خارجہ کو رواں ماہ کے آغاز میں نئی دہلی کا دورہ کرنا تھا، تاہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کی جانب سے عائد سفری پابندیوں کی وجہ سے یہ دورہ ملتوی ہوگیا تھا۔ بعد ازاں یو این ایس سی کی 1988 کمیٹی نے 30 ستمبر کو انہیں 9 سے 16 اکتوبر تک بھارت جانے کی عارضی اجازت دے دی،طالبان کے اکثر رہنماؤں پر اب بھی بین الاقوامی پابندیاں عائد ہیں، اور بیرونِ ملک سفر کے لیے انہیں اقوام متحدہ سے خصوصی اجازت لینا پڑتی ہے۔

    کابل میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد بھارت نے ابتدا میں محتاط رویہ اختیار کیا، تاہم گزشتہ دو برسوں میں نئی دہلی نے خاموش سفارتی رابطوں کے ذریعے طالبان انتظامیہ سے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔
    بھارت کا دعویٰ ہے کہ وہ افغانستان میں "انسانی امداد” اور "عوامی روابط” کو فروغ دے رہا ہے، مگر تجزیہ کاروں کے مطابق اس کے پسِ پردہ پاکستان کے اثر و رسوخ کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    اسی سلسلے میں بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے 15 مئی 2025 کو امیر خان متقی سے فون پر بات کی تھی، جو طالبان کے دورِ حکومت میں بھارت اور افغانستان کے درمیان اب تک کا سب سے اعلیٰ سطحی رابطہ تھا۔

    پاکستان کے سفارتی و دفاعی حلقے اس دورے کو افغانستان اور بھارت کے ممکنہ گٹھ جوڑ کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔بھارت کا جنگی جنون کھل کر سامنے آ رہا ہے،بھارت ایک جانب پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں تخریبی نیٹ ورکس کو فنڈنگ فراہم کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب طالبان حکومت کو اپنے قریب لا کر ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان) کے لیے نرم گوشہ پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، ٹی ٹی پی کے محفوظ ٹھکانے افغان سرزمین پر موجود ہیں اور کابل انتظامیہ نے اب تک ان کے خلاف کوئی عملی کارروائی نہیں کی۔

    ایک جانب پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھارتی نیٹ ورکس اور افغان سرزمین سے ہونے والی دراندازی کا سامنا کر رہا ہے، تو دوسری جانب بھارت اور طالبان کے بڑھتے رابطے اسلام آباد کے لیے نئے سفارتی اور سیکیورٹی خدشات کو جنم دے رہے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے ہفتے اس حوالے سے انتہائی اہم ہوں گے، کیونکہ اگر بھارت اور افغانستان کے درمیان باضابطہ روابط مضبوط ہوتے ہیں تو اس کے براہِ راست اثرات پاکستان کے داخلی امن و استحکام پر پڑ سکتے ہیں۔

  • آئی ایم ایف،مذاکرات کے اختتام پر اسٹاف لیول معاہدہ نہ ہو سکا

    آئی ایم ایف،مذاکرات کے اختتام پر اسٹاف لیول معاہدہ نہ ہو سکا

    پاکستان اور آئی ایم ایف ،مذاکرات کے اختتام پر فریقین کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ نہ ہو سکا

    آئی ایم ایف کا پاکستان کے ساتھ جاری مذاکرات بارے اعلامیہ جاری کر دیا گیا،آئی ایم ایف نے قرض پروگرام کی شرائط پر عملدرآمد کو مضبوط قرار دیدیا،آئی ایم ایف نے کہا کہ اسٹاف لیول معاہدہ طے کرنے کے لیے مزید پالیسی مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا،آئی ایم ایف مشن نے پاکستانی معیشت میں استحکام کی کوششوں کو سراہا،آئی ایم ایف نے مالی نظم و ضبط برقرار رکھنے اور سیلاب متاثرین کی مدد پر زور دیا،مہنگائی کو مقررہ ہدف کے دائرے میں رکھنے کے لیے سخت مالیاتی پالیسی برقرار رکھنے کی سفارش کی،توانائی شعبے کی بحالی کے لیے ریگولر ٹیرف ایڈجسٹمنٹ اور اصلاحات پر اتفاق کیا گیا،سرکاری اداروں کے حجم میں کمی اور شفافیت میں بہتری پر گفتگو ہوئی،

    اعلامیہ میں کہا گیا کہ پاکستان کے ساتھ موجودہ 37 ماہ کے قرض پروگرام اور 28 ماہ کے کلائمیٹ رزیلینس پروگرام پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا،آئی ایم ایف نے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق ریفارمز کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا، جبکہ مشن سربراہ ایوا پیٹرووا نے کہا کہ پاکستان نے کئی شعبوں میں نمایاں پیشرفت کی ہے،آئی ایم ایف مشن نے حالیہ سیلاب سے متاثرہ افراد سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا اور کہا کہ پاکستان کی معیشت میں استحکام کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔

  • مقبوضہ کشمیر،زمینی حقائق کی حالات معمول پر آنے کے بھارتی دعوؤں کی نفی

    مقبوضہ کشمیر،زمینی حقائق کی حالات معمول پر آنے کے بھارتی دعوؤں کی نفی

    غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرِقبضہ جموں کشمیر کے زمینی حقائق بھارت کے ان دعوؤں کی نفی کرتے ہیں کہ علاقے میں خاص طور پر دفعہ 370 اور 35A کی منسوخی کے بعد حالات معمول پر آ گئے ہیں۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تازہ ترین واقعات جن میں کوکرناگ ، اسلام آباد اور ملحقہ ضلع کشتواڑ کے گڈول جنگلاتی علاقے میں ایک آپریشن کے دوران دو کمانڈوز کا لاپتہ ہونا اور راجوری کے بیرنتھب علاقے میں جھڑپیں شامل ہیں ، اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ علاقہ مسلسل محاصرے میں ہے اور استحکام سے کوسوں دور ہے۔ذرائع نے بتایا کہ بھارتی فوج کے 5 پیرا یونٹ کے دو فوجی جنوبی کشمیر میں کوکرناگ کے گھنے جنگلات میں ایک آپریشن کے دوران نامعلوم مسلح افراد کی طرف سے حملے کے بعد لاپتہ ہوگئے۔ ان کا سراغ لگانے کے لیے فضائی نگرانی سمیت بھاری تعداد میں بھارتی فوج کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ لاپتہ فوجیوں کو مجاہدین نے حملے کے بعد اغواء کر لیا۔راجوری کے علاقے کنڈی میں بھارتی فوج ، پیراملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس اور پولیس کے سپیشل آپریشنز گروپ کو ایک مشترکہ آپریشن کے دوران مسلح مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹس میں ایس او جی کے کم از کم پانچ اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے اور بھارتی فورسز نے علاقے کو فوری طور پر محاصرے میں لیا اور تلاشی کی کارروائی شروع کی ۔آخری اطلاعات آنے تک بھارتی فوج کا آپریشن جاری تھا جبکہ مقبوضہ علاقے کے دیگر علاقوں میں بھی اسی طرح کی کارروائیاں جاری ہیں جن میں مقامی کشمیریوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔

    مبصرین کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد اختلاف رائے کو دبانا اور بھارتی قبضے کو مستحکم کرنا ہے۔ علاقے میں امن کے بھارتی پروپیگنڈے کے باوجود بڑے پیمانے پر محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں ، چھاپے ، جھڑپیں ، گمشدگیاں اور گرفتاریاں بلاروک ٹوک جاری ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ جب تک کشمیریوں کے تاریخی حقوق کو تسلیم کرکے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد نہیں ہو جاتا اور کشمیر کا بنیادی تنازعہ حل نہیں کیا جاتا ، اس وقت تک علاقے میں حالات معمول پر آنے کا دعویٰ ایک کھوکھلا نعرہ ہی رہے گا۔ کشمیری اپنی مزاحمت ترک نہیں کریں گے اور میڈیا کے پروپیگنڈے سے بھارتی فورسز کی چوکیاں ، چھاپے اور گرفتاریاں ختم نہیں ہو سکتیں۔