Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • دہشت گرد عناصر جھوٹ کا سہارا لے کر عوام کو گمراہ کرتےہیں،سرفراز بنگلزئی

    دہشت گرد عناصر جھوٹ کا سہارا لے کر عوام کو گمراہ کرتےہیں،سرفراز بنگلزئی

    بلوچستان میں ہتھیار ڈالنے والے دہشت گرد سرفراز بنگلزئی کا کہنا ہے دہشت گرد عناصر جھوٹ کا سہارا لے کر عوام کو گمراہ کرتےہیں۔ بیرون ملک کی ایجنسیاں دہشت گردوں کو سپورٹ کرتی ہیں۔

    سرفراز بنگلزئی کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کی ذہن سازی کر کے انہیں پہلے کیمپوں میں منتقل پھر ٹریننگ دی جاتی ہے۔ کالعدم بی ایل اے کو بیرون ملک سے فنڈنگ ہوتی ہے۔ والدین اپنے بچوں کو دہشت گردوں سے دور رکھنے کے لئے ان پر کڑی نظر رکھیں۔ عوام بغیر کسی ریسرچ کے بی ایل کی صفوں میں شامل ہو رہے ہیں۔ یہ لوگ خواتین کو بھی اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ یہ لوگ نوجوانوں اور خواتین کو اپنے کیمپس میں منتقل کر رہے ہیں، لوگوں کو غلط افسانے سنا کر اور ریاست کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کر کے یہ لوگوں کی ذہن سازی کرتے ہیں۔ یہ لوگوں کی ذہن سازی کر کے اپنے کیمپوں میں منتقل کرتے ہیں، میں واپس اس لئے آیا ہوں کہ علیحدگی پسندوں کا بیانیہ جھوٹ پر مبنی تھا۔ اس سفر میں میرے 70,72ساتھی جدا ہوئے ہیں۔ سب نے اپنی دکان کھولی ہے۔ بلوچوں کے سروں کا سودا کیا جارہا ہے۔ فرانس میں یہ انسانی حقوق کی تنظیموں کو بیوقوف بنا رہے ہیں۔ جو شدت پسند مارے جاتے ہیں ان میں سے زیادہ تر کو فتنہ الہندوستان خود ق ت ل کر دیتی ہے، بعد میں اس کا ذمہ دار ریاست کو ٹھہرا دیا جاتا ہے زبیر بلوچ نے فرانس میں انسانی حقوق کی تنظیموں کو بے وقوف بنایا۔ یہ لوگ جن لاپتہ افراد کا نام لیتے ہیں ان کے رشتہ دار فتنہ الہندوستان کے ساتھ پہاڑوں میں ہیں یا افغانستان میں موجود ہیں،دہشت گرد تنظیمیں لاپتہ افراد کے نام پر سیاست کرتی ہیں۔لیویز کے لاپتہ اہلکاروں کے لیے مہرنگ بلوچ کیوں خاموش ہے؟ماہ رنگ بلوچ قرآن کریم پر ہاتھ رکھ کر کہے کہ غفار لانگو بی ایل اے کا کمانڈر نہیں تھا۔ اس بات کو تسلیم سے انکار سورج کو انگلی سے چھپانے کے مترادف ہے۔ ماما قدیر نے بھی غفار لانگو کا زکر کیا، میں کسی کے دباؤ یا ڈر کی وجہ سے ان لوگوں کو چھوڑ کر نہیں آیا۔ یہ بلوچوں کے سروں کا سودا کر رہے ہیں، بلوچستان کے عوامی نمائندوں اور سرداروں کو چاہیے کہ وہ عوام میں جائیں اور شدت پسندوں کی حقیقت عوام کے سامنے رکھ دیں،

  • جعفر ایکسپریس کو نشانہ بنانے کی کوشش ناکام،پٹڑی پر دھماکہ افسوسناک ہے،حافظ طلحہ سعید

    جعفر ایکسپریس کو نشانہ بنانے کی کوشش ناکام،پٹڑی پر دھماکہ افسوسناک ہے،حافظ طلحہ سعید

    مرکزی مسلم لیگ کے نائب صدر حافظ طلحہ سعید نے کہا ہے کہ جعفر ایکسپریس کو نصیر آباد میں ایک بارپھر نشانہ بنانے کی کوشش ناکام ہو گئی،ریلوے پٹڑی پر دھماکے کا واقعہ افسوسناک ہے، حکام ریلوے مسافروں کو تحفظ فراہم کریں ،بلوچستان میں ٹرینوں کی سیکورٹی بڑھائی جائے،

    حافظ طلحہ سعید کا کہنا تھا کہ جعفر ایکسپریس مسلسل دہشتگردوں کے نشانے پر ہے،دہشتگردوں کے ناپاک منصوبوں کو خاک میں ملانے کے لیے مضبوط اور مربوط لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے، سکیورٹی فورسز اور ریلوے عہدیداران کو باہمی تعاون کے ساتھ جامع پلان مرتب کرنا چاہیے،انہوں نے واقعہ میں ایک ریلوے ملازم کی شہادت پر گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے، حافظ طلحہ سعید کا مزید کہنا تھا کہ مرکزی مسلم لیگ دہشت گردی کے خاتمے اور قیام امن کے لئے سیکورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے.

  • علیمہ خان پر انڈا پھینکنے کے واقعہ پر دہشت گردی کی دفعات لگتی ہیں ،وکیل

    علیمہ خان پر انڈا پھینکنے کے واقعہ پر دہشت گردی کی دفعات لگتی ہیں ،وکیل

    علیمہ خان پر انڈے پھینکنے کے خلاف اندراج مقدمہ کی 22 اے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    سماعت ایڈیشنل سیشن جج فرحت جبیں رانا نے کی،علیمہ خان اپنے وکیل فیصل ملک کے ہمراہ عدالت پیش ہوئیں،علیمہ خان کے وکیل نے درخواست پر دلائل مکمل کرلئے،راولپنڈی پولیس نے پہلے ہی درخواست سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کرائی ہے،وکیل نے کہا کہ علیمہ خان پر انڈا پھینکنے کے واقعہ پر دہشت گردی کی دفعات لگتی ہیں ،انڈے پھینک کر خوف و ہراس پیدا کرنے کی کوشش کی گئی،عدالت نےپراسیکیوشن سے دلائل طلب کرلئے۔

  • منشیات کیس،سعودی عرب میں پاکستانی کو سزائے موت

    منشیات کیس،سعودی عرب میں پاکستانی کو سزائے موت

    مکہ مکرمہ میں منشیات اسمگل کرنےکے جرم میں پاکستانی تارک وطن کو سزائے موت دے دی گئی۔

    سعودی وزارت داخلہ کے مطابق مکہ مکرمہ ریجن میں عدالتی فیصلہ نافذ کیا گیا،وزارت داخلہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہےکہ مجرم کو مجاز عدالت نے سزائے موت سنائی تھی اور سپریم کورٹ نے اس سزا کو برقرار رکھا جس کے بعد اس کی سزائے موت کے حکم پر عمل درآمد کردیا گیا،دمام میں دہشت گردی میں ملوث ایک سعودی شہری کو بھی سزائے موت دے دی گئی، مجرم سکیورٹی اہلکاروں پر حملے، جج کے اغوا اور قتل میں ملوث تھا، مجرم تیل کی پائپ لائنوں کو اڑانے، دھماکا خیز مواد بنانے میں بھی ملوث تھا۔

  • سندھ حکومت سعودی عرب کے وژن 2030 سے مکمل ہم آہنگی رکھتی ہے،وزیراعلیٰ سندھ

    سندھ حکومت سعودی عرب کے وژن 2030 سے مکمل ہم آہنگی رکھتی ہے،وزیراعلیٰ سندھ

    وزیر اعلیٰ سندھ ید مراد علی شاہ نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے درمیان لفظی گولہ باری پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے عالمی امداد کی بات سیلاب متاثرین کیلئے کی اور جو بدمزگی ہوئی وہ نہیں ہونی چاہیے تھی۔ ہمیں سب کچھ بھول کر صرف سیلاب متاثرین کی بحالی کی بات کرنی چاہیے تھی بلاول بھٹو کی زرعی ایمرجنسی اور کاشت کاروں کی بحالی کی تجاویز پر وفاق اور پنجاب عملدرآمد کررہے ہیں ، صدر سے وفاقی وزرا ملتے ہیں اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں۔

    دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سعودی۔پاک مشترکہ بزنس کونسل کے وفد سے ملاقات میں کہا کہ سندھ میں زراعت، توانائی، معدنیات، تعمیرات اور فوڈ سکیورٹی سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔سندھ حکومت سعودی عرب کے وژن 2030 سے مکمل ہم آہنگی رکھتی ہے۔

    سعودی-پاک جوائنٹ بزنس کونسل کے چیئرمین سعودی شہزادہ منصور بن محمد آل سعود کی قیادت میں کے 30 رکنی وفد کی وزیراعلیٰ ہاؤس آمد ہوئی،وزیر اعلیٰ سندھ نے اپنی کابینہ اراکین؛ شرجیل میمن، ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، سعید غنی، ناصر حسین شاہ، اکرم اللہ دھاریجو اور چیف سیکریٹری کے ساتھ سعودی شہزادہ منصور بن محمد آل سعود اور وفد کا پرتپاک خیر مقدم کیا،وفد میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید احمد المالکی، 30 سے زائد ممتاز کاروباری شخصیات اور سرمایہ کار شامل ہیں،وفد میں توانائی، انفراسٹریکچر، زراعت، لائیواسٹاک، کان کنی، تعمیرات، لاجسٹکس اور سرمایہ کاری کے شعبوں سے وابستہ شخصیات شامل ہیں،پاکستان بزنس کونسل، اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) اور سعودی سفارت خانے کے نمائندے بھی اجلاس میں شریک تھے،

    سید مراد علی شاہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے تاریخی و برادرانہ تعلقات کا اعتراف کیا، اور کہا کہ سندھ پاکستان کی معاشی ترقی کا گیٹ وے بننے کے لیے تیار ہے، ہم نے زمینوں کے ریکارڈ کو ڈیجیٹلائز اور سرمایہ کاری کے طریقہ کار کو آسان بنایا ہے، سرمایہ کار دوست اور اصلاحات پر مبنی ماحول سندھ حکومت کی ترجیح ہے،سعودی عرب کے ساتھ ہماری شراکت داری خطے کے معاشی مستقبل کے لیے نہایت اہم ہے،سندھ حکومت سعودی وژن 2030 کے اہداف کے ساتھ مکمل ہم آہنگ ہے،وزیر اعلیٰ سندھ نے سندھ کے 12 ترجیحی سرمایہ کاری کے شعبوں پر روشنی ڈالی،سعودی کمپنیوں کو زراعت، توانائی، انفراسٹرکچر، لاجسٹیکس اور صنعتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی اور کہا کہ حیدرآباد–سکھر موٹروے میں سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں، وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی کی بلیو اور ییلو لائن ٹرانزٹ سسٹمز میں شراکت کی دعوت دی،ماہی گیری اور لائیو اسٹاک کے شعبے میں مشترکہ منصوبوں کی سعودی وفد کو پیشکش کی گئی،وزیراعلیٰ سندھ نے اسپیشل اکنامک زونز کے قیام میں سعودی سرمایہ کاروں کو شرکت کی دعوت دی،

    وزیراعلیٰ سندھ اور سعودی وفد نےمشترکہ ورکنگ گروپس کے قیام پر اتفاق کیاوزیراعلیٰ سندھ کا کہناتھا کہ تعاون کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے مختلف شعبہ جاتی ورکنگ گروپس ضروری ہیں، سندھ حکومت وفاقی اداروں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی میں کام کر رہی ہے ، سندھ حکومت کے وفاقی وزارت سرمایہ کاری، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلی ٹیشن کونسل اور ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان سے قریبی روابط ہیں،تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو فزیبلٹی سے لے کر عملی نفاذ تک مکمل سہولت فراہم کی جائے گی،

    تقریب میں عوامی و نجی شعبوں میں تعاون کے فروغ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا،سعودی شہزادہ منصور بن محمد آل سعود نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا میزبانی پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اعلیٰ سطحی بزنس وفد کےساتھ آیا ہوں جس سے دونوں ممالک میں نئی شراکت داری قائم ہوگی، سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے ہر شعبہ ذیلی کمیٹی قائم کر کے سرمایہ کاری کا آغا کیا جائے گا،کراچی پورٹ سٹی ہے، اور یہاں سرمایہ کاری کے بڑے مواقع ہیں،

  • اسرائیلی حراست سے رہائی پانے والے سابق سینیٹر مشتاق احمد پاکستان پہنچ گئے

    اسرائیلی حراست سے رہائی پانے والے سابق سینیٹر مشتاق احمد پاکستان پہنچ گئے

    اسرائیلی حراست سے رہائی پانے والے جماعت اسلامی کے رہنما اور سابق سینیٹر مشتاق احمد خان بالآخر پاکستان واپس پہنچ گئے۔ وہ اردن سے اسلام آباد پہنچے جہاں ان کے استقبال کے لیے عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔

    اسلام آباد ایئرپورٹ پر ان کے چاہنے والوں نے شاندار استقبال کیا، پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں اور فلسطینی پرچم لہراتے ہوئے نعرہ تکبیر اور "فلسطین زندہ باد” کے فلک شگاف نعرے لگائے۔ مشتاق احمد خان نے بھی فلسطین سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے گلے میں فلسطینی روایتی کفیہ پہن رکھا تھا۔اسلام آباد ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مشتاق احمد خان کا کہنا تھا "ہمیں نہ قید و بند سے ڈر ہے نہ ظلم سے، فلسطینی عوام کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔ میں بہت جلد دوبارہ غزہ کے لیے روانہ ہوں گا۔ فلسطین ان شاء اللہ آزاد ہو کر رہے گا۔”انہوں نے مزید کہا کہ عالمی ضمیر کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے اور فلسطینیوں کی جدوجہد آزادی میں پاکستان کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے۔دورانِ سفر صمد فلوٹیلا پر 3 ڈرون اٹیک ہوئے، ہم نے 30 دن اور 30 راتیں سمندر میں گزاریں۔ 2 سال سے زائد ہو گئے، فلسطین میں مسلمانوں کا قتلِ عام ہو رہا ہے، غزہ میں ہزاروں کی تعداد میں بچے معذور اور یتیم ہو گئے ، مسلمان ممالک کو مل کر فلسطین سے متعلق غور کرنا ہو گا، 2 سال سے فلسطین میں ہونے والی نسل کشی ظلم کی انتہا ہے۔

    یاد رہے کہ سابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے فلسطینی عوام کے لیے انسانی امداد لے کر جانے والے "گلوبل صمود فلوٹیلا” قافلے میں دیگر بین الاقوامی سماجی کارکنوں کے ہمراہ شرکت کی تھی۔ یہ قافلہ غزہ کی محصور آبادی کے لیے خوراک، ادویات اور دیگر ضروری امداد لے کر روانہ ہوا تھا۔تاہم اسرائیلی بحریہ نے بین الاقوامی پانیوں میں قافلے کی تمام کشتیوں پر قبضہ کر لیا اور ان میں سوار تقریباً 500 کارکنان کو حراست میں لے لیا گیا۔ ان افراد میں مشتاق احمد خان بھی شامل تھے۔

    ذرائع کے مطابق گرفتار شدگان کو بدنام زمانہ اسرائیلی جیل میں رکھا گیا جہاں انہیں ذہنی اور جسمانی طور پر ہراساں کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق جیل حکام نے قیدیوں پر کتے چھوڑے، روشنی اور شور کے ذریعے نیند سے محروم رکھا اور انہیں بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم رکھا گیا۔

    وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے دو روز قبل سینیٹر مشتاق احمد خان کی رہائی کی تصدیق کی تھی اور بتایا تھا کہ وہ خیریت سے ہیں اور ان کا حوصلہ بلند ہے۔ حکومت پاکستان نے ان کی رہائی کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کیں جس پر مشتاق احمد خان نے حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔

  • میجر سبطین حیدر شہید کی نمازِ جنازہ راولپنڈی میں ادا، وزیراعظم اور آرمی چیف کی شرکت

    میجر سبطین حیدر شہید کی نمازِ جنازہ راولپنڈی میں ادا، وزیراعظم اور آرمی چیف کی شرکت

    دہشت گردوں کے خلاف ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے ڈیرہ بن میں ہونے والے خفیہ آپریشن کے دوران جامِ شہادت نوش کرنے والے میجر سبطین حیدر (عمر 30 سال، تعلق ضلع کوئٹہ) کی نمازِ جنازہ چکلالہ گیریژن، راولپنڈی میں ادا کی گئی۔

    نمازِ جنازہ میں وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف، آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر (نشان امتیاز، ہلالِ جرات)، وفاقی وزیر اطلاعات، سینئر عسکری و سول افسران، اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔وزیراعظم شہباز شریف نے شہید کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ “فتنہ الخوارج یا کسی بھی گمراہ نظریے کے حامل گروہ کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ہمارے شہداء کے خون نے اس عزم کو مزید مضبوط کیا ہے کہ ہم وطنِ عزیز پاکستان کی خودمختاری کے خلاف ہر فتنہ اور انتشار کے ایجنٹ کو ناکام بنائیں گے۔”

    میجر سبطین حیدر شہید کو ان کے آبائی علاقے کوئٹہ میں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا جائے گا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق، شہید نے ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے ڈیرہ بن میں بھارتی پراکسی تنظیم “فتنہ الخوارج” کے دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن کے دوران جامِ شہادت نوش کیا۔ پاک فوج نے عزم دہرایا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک یہ مشن جاری رہے گا۔

  • نصیرآباد میں ریلوے ٹریک پر دھماکا، ملازم جاں بحق، جعفر ایکسپریس بال بال بچ گئی

    نصیرآباد میں ریلوے ٹریک پر دھماکا، ملازم جاں بحق، جعفر ایکسپریس بال بال بچ گئی

    بلوچستان کے ضلع نصیرآباد میں پٹ فیڈر کینال کے قریب ریلوے ٹریک پر دھماکے کے نتیجے میں ریلوے کا ایک ملازم جاں بحق ہوگیا، جبکہ ریلوے لائن کو جزوی نقصان پہنچا۔ خوش قسمتی سے جعفر ایکسپریس ایک بڑے حادثے سے محفوظ رہی۔

    پولیس حکام کے مطابق نامعلوم افراد نے ریلوے ٹریک پر ٹائم بم نصب کیا تھا۔ یہ وہی پٹڑی تھی جس سے کچھ ہی دیر بعد جعفر ایکسپریس گزرنے والی تھی۔ تاہم دھماکا ٹرین کی آمد سے قبل ہی ہوگیا جس کے باعث ایک ممکنہ تباہ کن سانحہ ٹل گیا۔دھماکے کے فوراً بعد پولیس، لیویز اور بم ڈسپوزل اسکواڈ موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں واضح ہوا ہے کہ دھماکا ریموٹ کنٹرول یا ٹائم ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا۔

    ایس ایس پی نصیرآباد غلام سرور کے مطابق دھماکے سے ریلوے لائن کو جزوی نقصان پہنچا ہے، جب کہ ریلوے کے ایک ملازم کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ واقعے کے بعد مسافر ٹرینوں کی آمد و رفت عارضی طور پر معطل کردی گئی اور جعفر ایکسپریس سمیت دیگر ٹرینوں کو قریبی ریلوے اسٹیشنوں پر روک لیا گیا۔محکمہ ریلوے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دھماکے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابتدائی شبہ عسکریت پسند عناصر پر ظاہر کیا جا رہا ہے جو ماضی میں بھی بلوچستان میں ریلوے ٹریکس کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ریلوے ٹریک کی مرمت مکمل ہونے کے بعد ٹرین سروس بحال کر دی جائے گی، جبکہ واقعے کے ذمے داروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔

  • لندن ہائیکورٹ کا عادل راجہ کو ساڑھے تین لاکھ پاؤنڈ کا جرمانہ

    لندن ہائیکورٹ کا عادل راجہ کو ساڑھے تین لاکھ پاؤنڈ کا جرمانہ

    لندن ہائی کورٹ نے عادل راجہ کو ساڑھے تین لاکھ پاؤنڈ کا جرمانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا

    لندن ہائی کورٹ نے عادل راجہ کے تمام الزامات کو جھوٹا، بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے فیصلہ بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کے حق میں سنا دیا۔ جج نے عادل راجہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ £350,000 (تقریباً 14 کروڑ پاکستانی روپے) بطور ہرجانہ ادا کرے۔ بریگیڈیر ر راشد نصیر نے ہتک عزت کا مقدمہ جیت لیا ۔ عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں کہا کہ عادل راجہ نے دانستہ طور پر جھوٹے الزامات لگا کر ایک معصوم شخص کی ساکھ کو نقصان پہنچایا .“پبلک انٹرسٹ میں جھوٹ بولنا نہیں، بلکہ سچ بولنا ضروری ہے”۔ جج نے عادل راجہ کو مستقبل میں بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کے خلاف وہی پرانے الزامات دہرانے سے بھی سختی سے روک دیا ہے،

    یہ مقدمہ جون 2022 میں اس وقت دائر کیا گیا جب عادل راجہ نے سوشل میڈیا اور مختلف ویڈیوز میں بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے، ان الزامات میں آئی ایس آئی اور مرحوم صحافی ارشد شریف کے قتل سے جوڑنے کی کوشش بھی شامل تھی۔عدالت میں ان تمام الزامات کی مکمل جانچ پڑتال کے بعد جج نے واضح طور پر کہا کہ عادل راجہ کوئی بھی ٹھوس ثبوت پیش نہ کر سکے اور ان کی تمام باتیں جھوٹ اور قیاس آرائیوں پر مبنی تھیں۔

    فیصلے کے دوران جج نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ راشد نصیر نے صرف 50,000 پاؤنڈ ہرجانے کا مطالبہ کیوں کیا، جبکہ ان پر لگنے والے الزامات اتنے سنگین تھے کہ وہ اس سے کہیں زیادہ ہرجانے کے حق دار تھے۔ عدالت نے بعد ازاں ازخود فیصلہ کرتے ہوئے 350,000 پاؤنڈ کی خطیر رقم بطور ہرجانہ مقرر کی۔ عادل راجہ کو ہرجانےاورعدالتی اخراجات کی مد میں 13 کروڑ روپے دینا ہوں گے۔عادل راجا نے بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کو بدنام کیا اور ان پر جھوٹے الزامات لگائے، عادل راجا کو بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کو 50 ہزار پاؤنڈ ہرجانہ ادا کرنا ہوں گے۔مقدمے میں شہزاد اکبر کا دیا گیا بیان بھی عدالت میں پیش کیا گیا، تاہم جج نے اس بیان کو ناقابلِ اعتبار قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ عادل راجہ کی جانب سے انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) پر لگائے گئے الزامات بھی بے بنیاد تھے، کیونکہ ان کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔ اس فیصلے کو پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے مؤقف کی توثیق کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

  • برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر  کی شرجیل میمن سے ملاقات

    برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر کی شرجیل میمن سے ملاقات

    کراچی میں تعینات برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر لانس ڈوم نے سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن سے کراچی میں ملاقات کی۔

    برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر لانس ڈوم سے گفتگو کے دوران سندھ کے سینئر وزیر و صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے صوبے کی توانائی پالیسی، جاری منصوبوں اور بین الاقوامی شراکت داریوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر لانس ڈوم سے گفتگو کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حکومت سندھ توانائی کے مختلف منصوبوں پر تیزی سے کام کر رہی ہے، جن میں تھر کول پاور پلانٹس، سولر اور ونڈ ہائبرڈ توانائی منصوبے، اور گھروں کی سولرائزیشن پروگرام شامل ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ عالمی بینک کے تعاون سے سولر اور ونڈ ہائبرڈ پاور پلانٹس کے نئے منصوبے جلد شروع کیے جائیں گے حکومت پاکستان اور برطانیہ کے اشتراک سے توانائی کے منصوبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہاں ہے، تاکہ توانائی اور قابل تجدید توانائی کے مزید منصوبے شروع کئے جا سکیں۔

    سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور سندھ حکومت مقامی وسائل کے مؤثر استعمال اور صاف توانائی کے فروغ کے ذریعے صوبے کو توانائی کے لحاظ سے خود کفیل بنانے کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر کو سیلاب زدگان کے لئے دنیا کے سب سے بڑے ہائوسنگ منصوبے سے متعلق بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ سندھ میں دنیا کا سب سے بڑا ہاؤسنگ منصوبہ جاری ہے، جس کے تحت 21 لاکھ مکانات سیلاب متاثرین کے لیے تعمیر کیے جا رہے ہیں۔

    برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر لانس ڈوم نے حکومت سندھ کے کاوشوں اور ترقیاتی منصوبوں کی تعریف کی اور کہا کہ صوبے میں عوامی فلاح و بہبود کے لیے جو کام ہو رہا ہے، وہ قابل ستائش ہے ۔ملاقات میں برطانوی ہائی کمیشن کی سینئر پولیٹیکل ایڈوائزر ہُدیٰ اکرام بھی موجود تھیں۔ سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے معزز مہمانوں کو سندھی لنگی کے تحائف بھی پیش کئے۔