Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • عادل راجہ اور احسان اللہ احسان کی داعش خراسان کے حقائق کو مسخ کرنے کی مذموم کوششیں

    عادل راجہ اور احسان اللہ احسان کی داعش خراسان کے حقائق کو مسخ کرنے کی مذموم کوششیں

    حالیہ دنوں میں بعض خود ساختہ تجزیہ نگاروں اور دہشت گرد تنظیموں کے سابق ترجمانوں کی جانب سے پاکستان کے اندر داعش خراسان کے مبینہ "سیٹلمنٹس” کے حوالے سے جو دعوے کیے جا رہے ہیں، وہ سراسر بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں۔ ان جھوٹے بیانیوں کا مقصد نہ صرف پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کامیابیوں کو سبوتاژ کرنا ہے بلکہ خطے میں موجود اصل خطرات سے توجہ ہٹانا بھی ہے۔

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی حالیہ رپورٹ واضح طور پر اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ داعش خراسان کا آپریشنل نیٹ ورک اور کمانڈ سٹرکچر افغانستان کے مشرقی علاقوں میں واقع ہے، نہ کہ پاکستان میں۔ اس عالمی ادارے کی رپورٹ نے بھارت کے پھیلائے گئے پروپیگنڈے کی قلعی کھول دی ہے، جسے احسان اللہ احسان اور عادل راجہ جیسے عناصر جان بوجھ کر پھیلا رہے ہیں۔احسان اللہ احسان، جو خود ایک کالعدم تنظیم کا سابق ترجمان رہ چکا ہے، اور عادل راجہ جیسے عناصر بھارتی خفیہ ایجنسی را کے پراپیگنڈا نیٹ ورک کا حصہ بن چکے ہیں۔ یہ افراد سوشل میڈیا اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے پاکستان کے خلاف جھوٹ پر مبنی مہم چلا رہے ہیں، تاکہ عالمی رائے عامہ کو گمراہ کیا جا سکے۔

    پاکستان نے ہمیشہ ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اختیار کی ہے، چاہے وہ داعش ہو یا تحریک طالبان پاکستان ۔ پاکستانی سیکیورٹی ادارے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مسلسل دہشت گرد نیٹ ورکس کو توڑنے، اور افغانستان کی سرزمین سے آنے والے خطرات کو ناکام بنانے میں مصروف عمل ہیں۔پاکستان، چین، ایران اور روس جیسے ممالک کئی بار افغان حکام پر زور دے چکے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین پر داعش اور ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کو پناہ نہ دیں۔ خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے یہ لازم ہے کہ افغان حکومت اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد گروپوں کے خلاف عملی اقدامات کرے۔

    پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کاوشوں کو اقوام متحدہ سمیت دنیا بھر میں سراہا گیا ہے۔ ایسی صورت میں عادل راجہ اور احسان اللہ احسان جیسے بھارتی پشت پناہی رکھنے والے عناصر کی جھوٹی مہمیں محض مایوسی کا اظہار ہیں۔ دنیا کو چاہیے کہ ان جھوٹے بیانیوں پر توجہ دینے کے بجائے اصل خطرات جیسے داعش اور ٹی ٹی پی کے خلاف اجتماعی حکمت عملی پر توجہ دے۔پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کی قربانیاں اور مسلسل کوششیں دنیا کے سامنے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں پاکستان کا کردار ایک ذمہ دار اور فعال ریاست کے طور پر تسلیم کیا جا چکا ہے۔ جھوٹے پراپیگنڈے اور گمراہ کن بیانات سچائی کو بدل نہیں سکتے۔

  • امریکی سفارتخانے کی وفد کی اڈیالہ جیل میں نورمقدم کے قاتل ظاہر جعفر سے ملاقات

    امریکی سفارتخانے کی وفد کی اڈیالہ جیل میں نورمقدم کے قاتل ظاہر جعفر سے ملاقات

    امریکی سفارتخانے کا 4 رکنی وفد بدھ کے روز اڈیالہ جیل راولپنڈی پہنچا، جہاں اسے نور مقدم قتل کیس میں سزایافتہ مجرم ظاہر جعفر تک قونصل رسائی فراہم کی گئی۔

    اڈیالہ جیل کے ذرائع کے مطابق امریکی وفد میں قونصل آفیسر ڈینس ہیر، قیصر اقبال، آمنہ بی بی اور اسامہ حنیف شامل تھے۔ یہ وفد باقاعدہ اجازت اور سیکیورٹی کلیرنس کے بعد جیل پہنچا جہاں انہوں نے قیدی ظاہر جعفر سے ملاقات کی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وفد کی یہ ملاقات قونصلر سہولت کے تحت کی گئی، جو بین الاقوامی سفارتی اصولوں کے مطابق کسی بھی ملک کے شہری کو اس کے ملک کے سفارتی نمائندوں سے رابطے کا حق فراہم کرتی ہے۔ذرائع کے مطابق ملاقات کچھ دیر جاری رہی، جس میں ظاہر جعفر کی قانونی، صحت اور دیگر قیدی سہولیات سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے بعد امریکی وفد واپس روانہ ہوگیا۔

    واضح رہے کہ ظاہر جعفر کو عدالت نے نور مقدم کے اندوہناک قتل کیس میں سزائے موت سنائی تھی، اور وہ اس وقت اڈیالہ جیل میں سزا کاٹ رہا ہے۔

  • خلیل الرحمان قمر کیس،آمنہ عروج کی سزا معطل،رہائی کا حکم

    خلیل الرحمان قمر کیس،آمنہ عروج کی سزا معطل،رہائی کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ نے معروف ڈرامہ نگار و مصنف خلیل الرحمٰن قمر ہنی ٹریپ کیس کی مجرمہ آمنہ عروج کی سزا معطل کرتے ہوئے اسے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

    جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے آمنہ عروج کی اپیل پر سماعت کی۔ عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے مجرمہ کی سزا معطل کر دی اور رہائی کے عوض پانچ لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت جاری کی۔عدالتی کارروائی کے دوران آمنہ عروج کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ان کی مؤکلہ پر لگائے گئے الزامات من گھڑت ہیں اور مقدمہ بدنیتی پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماتحت عدالت نے شواہد کا درست جائزہ لیے بغیر سزا سنائی، جس کے باعث انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوئے۔دوسری جانب سرکاری وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ آمنہ عروج کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں، اس لیے سزا برقرار رکھی جائے۔ تاہم عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد سزا معطل کرتے ہوئے آمنہ عروج کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

    یاد رہے کہ خلیل الرحمٰن قمر نے کچھ عرصہ قبل آمنہ عروج کے خلاف ہنی ٹریپ اور بلیک میلنگ کا مقدمہ درج کرایا تھا، ماتحت عدالت نے مقدمے میں آمنہ عروج کو مجرم قرار دیتے ہوئے اسے سزا سنائی تھی، تاہم اب لاہور ہائیکورٹ نے سزا معطل کرتے ہوئے اپیل کی مزید سماعت تک ضمانت منظور کر لی ہے۔

    آمنہ عروج نے سزا کی معطلی کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کررکھاتھا، آمنہ عروج سمیت دیگر نے سزا کے خلاف اپیلیں دائر کر رکھی ہیں،آمنہ عروج ،ذیشان قیوم اور ممنون حیدر نے سات سات سال قید کے خلاف اپیل لاہور ہائیکورٹ میں دائر کی ،اپیل میں مؤقف اپنایا گیا کہ ٹرائل کورٹ نے حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا۔سزا معطل کی جائے

  • اسلام آباد،فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی  کے ڈائریکٹر لینڈقتل

    اسلام آباد،فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی کے ڈائریکٹر لینڈقتل

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے حساس ترین علاقے بلیو ایریا میں گزشتہ رات فائرنگ کے ایک افسوسناک واقعے میں وزارتِ ہاؤسنگ کے ذیلی ادارے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی کے ڈائریکٹر لینڈ احسان الٰہی کو قتل کر دیا گیا۔

    احسان الٰہی بلیو ایریا کے ایک ہوٹل میں کھانا کھانے کے بعد باہر نکلے تو نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ گولیوں کی بوچھاڑ سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔مقتول کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے پمز اسپتال منتقل کی گئی، جہاں صبح تک ایف آئی آر درج نہ ہونے کے باعث ورثاء اور ساتھی افسران میں شدید غم و غصہ پایا گیا۔

    وفاقی وزیر ہاؤسنگ ریاض حسین پیرزادہ بھی پمز اسپتال پہنچے اور مقتول کے اہلِ خانہ سے ملاقات کر کے اظہارِ افسوس کیا۔ انہوں نے پولیس حکام کو ہدایت کی کہ واقعے میں ملوث عناصر کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے اور معاملے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات یقینی بنائی جائے۔ادھر ایف جی ای ایچ اے کے افسران اور ملازمین کی بڑی تعداد اسپتال میں جمع ہو گئی، جنہوں نے احسان الٰہی کے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

    دوسری جانب وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اسلام آباد پولیس سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزیرِ داخلہ نے ہدایت کی کہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جائیں اور ملوث ملزمان کی جلد از جلد گرفتاری یقینی بنائی جائے۔پولیس ذرائع کے مطابق جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں، سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی جا رہی ہے اور ملزمان کی تلاش کے لیے مختلف ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔

  • سیلابی تباہی سے پاکستانی معیشت کو شدید دھچکا، مہنگائی میں اضافے کا امکان

    سیلابی تباہی سے پاکستانی معیشت کو شدید دھچکا، مہنگائی میں اضافے کا امکان

    عالمی بینک نے پاکستان کی معیشت سے متعلق تازہ ترین رپورٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ حالیہ سیلابی تباہ کاریوں کے باعث ملکی معیشت کو شدید منفی اثرات کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں مہنگائی کی شرح میں نمایاں اضافہ اور ترقی کی رفتار میں کمی کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق، ملک بھر میں حالیہ بارشوں اور سیلاب نے انفرااسٹرکچر، زرعی پیداوار، اور عوامی خدمات کے نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ عالمی بینک نے کہا کہ ان نقصانات کے باعث مہنگائی 7.2 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ مالی سال 2024-25 میں شرح نمو 2.6 فیصد رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔عالمی بینک کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب میں زرعی پیداوار میں کم از کم 10 فیصد کمی متوقع ہے۔ سیلاب سے چاول، گنا، کپاس، گندم اور مکئی جیسی اہم فصلیں بری طرح متاثر ہوئیں، جس کے نتیجے میں زرعی شعبہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں اپنا کردار پورا نہیں کر پائے گا۔مزید کہا گیا ہے کہ زرعی نقصانات سے غذائی اجناس کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا، جس سے افراطِ زر پر مزید دباؤ بڑھے گا۔

    عالمی بینک نے اپنی رپورٹ میں زور دیا کہ سیلاب سے تباہ شدہ انفرااسٹرکچر کی جلد بحالی معیشت کے استحکام کے لیے نہایت ضروری ہے۔ بارشوں اور طوفانی ریلوں نے سڑکوں، پلوں اور آبپاشی کے نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس سے عوامی خدمات کی فراہمی متاثر ہوسکتی ہے۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر بحالی کے اقدامات میں تاخیر ہوئی تو بجٹ پر اضافی دباؤ پڑے گا اور مالی خسارہ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔عالمی بینک نے امید ظاہر کی ہے کہ اگر زرعی پیداوار میں بہتری، افراطِ زر میں کمی اور شرح سود میں نرمی کے اقدامات کیے گئے تو اگلے مالی سال یعنی 2025-26 میں شرح نمو 3.4 فیصد تک بحال ہوسکتی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹیرف ریفارمز اور تجارتی پالیسیوں میں بہتری سے برآمدات میں اضافہ ممکن ہے، جس سے ترقی کی رفتار میں بہتری آ سکتی ہے۔

    عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ رواں مالی سال میں افراط زر سنگل ڈیجٹ یعنی ایک ہندسے میں رہنے کی توقع ہے، تاہم سیلاب سے پیدا ہونے والی معاشی غیر یقینی صورتحال کے سبب 2027 تک افراط زر میں اضافے کا خطرہ برقرار رہے گا۔عالمی بینک کی رپورٹ پاکستان کے لیے ایک واضح پیغام رکھتی ہے کہ اگر حکومت فوری طور پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی، زرعی پیداوار میں استحکام، اور مالی نظم و ضبط کے اقدامات نہ کرے تو معیشت پر طویل مدتی منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

  • پی سی بی کی جانب سے پی ایس ایل اپریل ،مئی میں کروائے جانے کا امکان

    پی سی بی کی جانب سے پی ایس ایل اپریل ،مئی میں کروائے جانے کا امکان

    پاکستان کرکٹ بورڈ آئندہ سال بھی پاکستان سپر لیگ رمضان کے بعد اپریل اور مئی میں کراناچاہتا ہے،

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل فرنچائز اور پی سی بی کے درمیان بہت سارے معاملات حل طلب ہیں اور ابھی تک باضابطہ ایسی میٹنگ نہیں ہوئی جس میں اگلی پی ایس ایل پر بات چیت ہو،اگلے سال کے شروع میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی وجہ سے پی ایس ایل فروری مارچ میں کرانا ممکن نہیں ہے، ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی تیاریوں کے سلسلے میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان 3 ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز ہوگی جس کے بعد پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان دو ٹیسٹ کی سیریز ہوگی،ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور پی ایس ایل کے بعد پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تین ون ڈے انٹرنیشنل کی سیریز ہوگی۔ بنگلا دیش کی ٹیسٹ سیریز کے بعد وائٹ بال سیریز مئی کے بعد ہوگی،پاکستان ٹیم بنگلا دیش میں تین ون ڈے اور تین ٹی ٹوئنٹی انٹر نیشنل میچ کھیلے گی۔ پاکستان اور زمبابوے کے درمیان بھی تین ون ڈے اور تین ٹی ٹوئنٹی انٹر نیشنل میچ ہوں گے۔

    اس لیے پاکستان کرکٹ بورڈ آئندہ سال اپریل اور مئی میں دو اضافی ٹیموں کے ساتھ پی ایس ایل کراناچاہتا ہے،دوسری جانب آئی پی ایل کا اگلا ایڈیشن 15 مارچ سے 31 مئی تک کھیلا جائے گا اس لیے اس بار بھی قوی امکان ہے کہ دونوں بڑی لیگز کے میچز کی تاریخوں میں ٹکراؤ ہو اور بہت سے انٹرنیشنل کھلاڑی دونوں میں سے کسی ایک لیگ کا انتخاب کر سکیں۔

  • آزاد کشمیر کے عوام کی خدمت کرتے رہیں گے.وزیراعظم

    آزاد کشمیر کے عوام کی خدمت کرتے رہیں گے.وزیراعظم

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے آزاد کشمیر میں مذاکرتی عمل کی کامیابی کے بعد حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی اسلام آباد میں ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات میں راجہ پرویز اشرف، مشیر وزیرِ اعظم رانا ثناء اللہ، وفاقی وزراء احسن اقبال، محمد اورنگزیب، سردار محمد یوسف، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، احد خان چیمہ اور چیئرمین یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان شریک تھے. وزیراعظم نے مذاکراتی کمیٹی کے اراکین کی کشمیر میں معاملات کو احسن طور سے حل کرنے کیلئے کوششوں کی پزیرائی کی اور کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے بھی کشمیر کی ترقی و خوشحالی کیلئے معاملہ فہمی کا مظاہرہ کیا جس کیلئے وہ لائق تحسین ہیں. کشمیر میں تمام معاملات خوش اسلوبی سے حل ہوئے، کشمیری عوام کے تمام تحفظات کو دور کیا جائے گا.
    حکومت اپنے کشمیری بھائیوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔ عوامی مفاد اور امن ہماری ترجیح ہے اور آزاد کشمیر کے عوام کی خدمت کرتے رہیں گے.پہلے بھی کشمیری بہن بھائیوں کے حقوق کے محافظ تھے اور آئندہ بھی انکے حقوق کا تحفظ کرتے رہیں گے.آزاد کشمیر کے مسائل پر ہمیشہ توجہ رہی ہے اور میری حکومت نے ہمیشہ ترجیحی بنیادوں پر ان مسائل کو حل کیا ہے۔کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق انکی ترقی و خوشحالی کیلئے اقدامات اٹھاتے رہیں گے.

  • شرجیل میمن الیکٹرک، پنک ٹیکسی سروس منصوبوں پر تیزی کیلئے مسلسل متحرک

    شرجیل میمن الیکٹرک، پنک ٹیکسی سروس منصوبوں پر تیزی کیلئے مسلسل متحرک

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن الیکٹرک ٹیکسی سروس اور پنک ٹیکسی سروس منصوبوں پر تیزی سے پیش رفت کے لئے مسلسل متحرک ہیں

    صوبے میں جدید اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ نظام کے لیے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کاوشیں تیز کردیں ،معروف ملٹی نیشنل برقی گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنی کے وفد کی سینئر وزیر شرجیل انعام میمن سے ملاقات ہوئی ہے،ملاقات میں کمپنی کے نمائندوں نے اپنی برقی گاڑیوں کے ماڈلز، خصوصیات اور ٹیکنالوجی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی،ملاقات میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کی ایم ڈی کنول نظام بھٹو اور سی ای او ٹرانس کراچی فواد غفار سومرو بھی شریک تھے

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ حکومتِ سندھ پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں جدت لانا چاہتی ہے، سندھ میں برقی گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ شہریوں کو صاف، محفوظ اور پائیدار سفری سہولیات میسر آسکیں، ہم چاہتے ہیں کہ سندھ میں برقی ٹرانسپورٹ کا مضبوط نظام قائم ہو، الیکٹرک گاڑیوں کے ساتھ ساتھ ان کے چارجنگ اسٹیشنز، مینٹیننس سینٹرز اور دیگر بنیادی انفرا اسٹرکچر کی تعمیر میں بھی سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں،حکومت سندھ نجی شعبے کے ساتھ مل کر ایک ایسا فریم ورک تشکیل دے رہی ہے جس سے سرمایہ کاروں کو مکمل تعاون اور تحفظ فراہم کیا جائے گا،حکومت سندھ نے سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا ہے، دھابیجی اسپیشل اکنامک زون سرمایہ کاروں کے لیے ایک بہترین موقع ہے، دھابیجی اسپیشل اکنامک زون میں سرمایہ کاروں کو دس سالہ ٹیکس استثنا سمیت متعدد مراعات دی جا رہی ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ بین الاقوامی کمپنیاں سندھ آئیں اور یہاں سرمایہ کاری کریں،سندھ میں ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بین الاقوامی معیار کی سروسز متعارف کروانے کے لیے حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی،ہمارا ہدف ہے کہ کراچی سمیت سندھ کے تمام بڑے شہروں میں الیکٹرک ٹیکسی سروس جلد از جلد شروع کی جائے، تاکہ عوام کو جدید اور ماحول دوست سفری سہولیات میسر آئیں،

  • سیکیورٹی فورسز فتنہ الخوارج کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں،ایاز صادق

    سیکیورٹی فورسز فتنہ الخوارج کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں،ایاز صادق

    اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ضلع اورکزئی میں 19 بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کو جہنم حاصل کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے

    ایاز صادق کا کہنا تھا کہ آپریشن میں لیفٹیننٹ کرنل جنید عارف اور میجر طیب راحت سمیت گیارہ شہید ہونے والے جوانوں کو بھی خراج عقیدت پیش کرتا ہوں،لیفٹیننٹ کرنل جنید عارف نے لیڈنگ فرام فرنٹ کی عظیم مثال قائم کی جو پاک فوج کی روایت ہے ۔پاک افواج اور سیکیورٹی فورسز فتنہ الخوارج کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں،دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،دہشتگرد عناصر کبھی اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہوں گے،

    اسپیکر سردار ایاز صادق نےشہداء کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور مکمل یکجہتی کا اظہارکیا اور کہا کہ اللہ شہداء کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے،سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں لازوال قربانیاں پیش کی ہیں، پوری قوم پاک افواج کی قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے،

  • چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست،حامد خان کی فُل کورٹ کرنےکی استدعا

    چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست،حامد خان کی فُل کورٹ کرنےکی استدعا

    چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران جسٹس امین امین الدین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب تک آئین میں ترمیم نہیں ہوتی موجودہ آئین پر ہی انحصار کرنا ہو گا۔

    سپریم کورٹ میں چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں پر سماعت شروع ہوئی،جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 8 رکنی آئینی بینچ کر رہا ہے، بینچ میں جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم افغان اور جسٹس شاہد بلال شامل ہیں۔دوران سماعت جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ ہم آئین پر انحصار کرتے ہیں، وکلاء بھی آئین پر انحصار کرتے ہیں، جب تک آئین میں ترمیم نہیں ہوتی موجودہ آئین پر ہی انحصار کرنا ہو گا،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ چھبیسویں آئینی ترمیم ٹھیک ہے یاغلط فی الحال عدالت نے معطل نہیں کی، آپ چھبیسویں آئینی ترمیم کو آئین کا حصہ سمجھتے ہیں تب ہی چیلنج کیا ہے

    لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکیل حامد خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فل کورٹ دستیاب ہے، موجودہ آئینی بینچ کے 8 ججز بھی 26ویں آئینی ترمیم کے پاس ہونے کے وقت سپریم کورٹ میں موجود تھے، بقیہ 8 ججز کو بھی آئینی بینچ کا حصہ ہونا چاہیے جو 26 ویں آئینی ترمیم پاس ہونے کے وقت سپریم کورٹ کا حصہ تھے،چھبیسویں آئینی ترمیم سینیٹ میں غیر معمولی طریقے سے لائی گئی تھی، چھبیسویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ میں رات کے وقت پاس کی گئی، سپریم کورٹ میں 21 اکتوبر کو 17 ججز موجود تھے، 25 اکتوبر کو چیف جسٹس ریٹائر ہو گئے، ججز کی تعداد 16 رہ گئی، چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست کی سماعت فُل کورٹ کرنےکی استدعا ہے، چھبیسویں آئینی ترمیم سے قبل بھی جوڈیشل کمیشن موجود تھا، چھبیسویں آئینی ترمیم سے جوڈیشل کمیشن کی فارمیشن پر اثر پڑا، چھبیسویں آئینی ترمیم سے قبل جوڈیشل کمیشن میں ججز اکثریت میں تھے لیکن آئینی ترمیم میں جوڈیشل کمیشن میں ججز اقلیت میں آگئے،چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد جوڈیشل کمیشن میں اکثریت ایڈمنسٹریٹوسائیڈ پر چلی گئی جس سےآزاد عدلیہ پر اثر پڑا،جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا فی الحال میرٹ پر نہ بتائیں، آئینی بینچ کے اختیارات کے حوالے سے بتائیں،جسٹس محمدعلی مظہر نے ریمارکس دیے کہ جوڈیشل کمیشن میں پارلیمینٹری کمیٹی کو شامل کر دیا گیا ہے جبکہ جسٹس امین الدین نے استفسار کیا عدالت کو بتا دیں کیوں 16 رکنی بینچ بنا دیں ،ہم کس اختیار سے فل کورٹ تشکیل دیں؟ جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ جوڈیشل آرڈر سے فل کورٹ کی تشکیل پر کوئی قدغن نہیں، 26ویں ترمیم میں کہاں لکھا ہے جوڈیشل آرڈر نہیں ہوسکتا؟عام مقدمات میں ایسا کیا جا رہا ہے تو اس کیس میں کیوں نہیں؟ جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ فل بنچ کے لیے آپ کو پارلیمنٹ سے رجوع کرنا پڑے گا ،