Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ڈی آئی خان ،پولیس گاڑی پر حملہ،دو اہلکار شہید،چار زخمی

    ڈی آئی خان ،پولیس گاڑی پر حملہ،دو اہلکار شہید،چار زخمی

    ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشتگردی کا دل خراش واقعہ پیش آیا جہاں پولیس کی بکتربند گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں دو اہلکار شہید اور چار شدید زخمی ہوگئے۔

    ضلعی پولیس سربراہ (ڈی پی او) سجاد احمد کے مطابق یہ حملہ ہتھالہ گلوٹی روڈ پر گاؤں ملنگ کے قریب اُس وقت پیش آیا جب معمول کی گشت پر مامور پولیس کی بکتربند گاڑی گزر رہی تھی۔ابتدائی رپورٹ کے مطابق دہشتگردوں نے سڑک کے کنارے ریموٹ کنٹرولڈ ڈیوائس نصب کر رکھی تھی جسے گاڑی کے قریب پہنچتے ہی دھماکے سے اڑا دیا گیا۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ بکتربند گاڑی بری طرح متاثر ہوئی اور قریبی علاقوں میں دھماکے کی آواز سنائی دی۔ڈی پی او نے بتایا کہ دھماکے میں شہید ہونے والے بہادر اہلکاروں کی شناخت ڈرائیور محمد رمضان،کانسٹیبل سیف الرحمان کے طور پر ہوئی،دونوں اہلکار فرض کی ادائیگی کے دوران جام شہادت نوش کر گئے۔واقعے میں چار اہلکار زخمی ہوئے جن میں حوالدار شاہد،کانسٹیبل محبوب عالم،کانسٹیبل آصف،کانسٹیبل کفایت شامل ہیں،تمام زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

    حملے کے فوراً بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کر کے تلاش اور کلیئرنس آپریشن شروع کردیا۔ سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں نے منصوبہ بندی کے تحت گھات لگا کر حملہ کیا، جبکہ ممکنہ سہولت کاروں کے بارے میں بھی تحقیقات جاری ہیں۔ڈی پی او سجاد احمد نے شہید اہلکاروں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگرد اس طرح کے بزدلانہ حملوں سے پولیس کا حوصلہ پست نہیں کر سکتے۔ انہوں نے بتایا کہ مستقبل میں علاقے کی سکیورٹی مزید سخت کی جائے گی اور دہشتگرد عناصر کے خلاف کارروائیاں تیز کی جائیں گی۔

  • ٹک ٹاک کانیا ” وقت اور فلاح و بہبود “کے نام سے نیا فیچر متعارف

    ٹک ٹاک کانیا ” وقت اور فلاح و بہبود “کے نام سے نیا فیچر متعارف

    ٹاک ٹاک (TikTok) نے وقت اور فلاح و بہبودکے نام سے ایک نیا فیچر متعارف کیا ہے، جو صارفین کو آرام کرنے، ذہنی سکون حاصل کرنے، اور زیادہ متوازن ڈیجیٹل عادات اپنانے کے لیےبحال کیے گئے ٹولز فراہم کرتا ہے۔ یہ اپ ڈیٹ ٹک ٹاک کی کمیونٹی کی فلاح و بہبود،اور بالخصوص نوعمر صارفین اور خاندانوں کے لیے جاری عزم کا حصہ ہے۔

    سیفٹی اور کمیونٹی گائیڈ لائنز پر زور دیتے ہوئے، ٹک ٹاک اپنے فیچرز میں توسیع کر رہا ہے، جن میں حال ہی میں بہتر بنائے گئے فیملی پیئرنگ (Family Pairing)فیچرز اور ٹائم اَوے (Time Away) فیچر کے ذریعے نوعمر افراد کی رسائی روکنے کی صلاحیت شامل ہے۔ اس سال کے اوائل میں، ٹک ٹاک نے نوعمر صارفین کے لیے ایک مراقبے (meditation) کا فیچر بھی متعارف کروایا تھا تاکہ وہ رات کے وقت آرام کر سکیں اور اب اپنے صارفین کو ذہن یکسوئی (mindfulness) کی مشق، سکون حاصل کرنے، اور صحت بخش ڈیجیٹل عادات اپنانے کے لیے مخصوص ٹولز کے ساتھ مزید بہتر تجربات فراہم کر رہا ہے۔

    پورےپاکستان میں لوگ ٹک ٹاک کا استعمال اپنی دلچسپیوں کو دریافت کرنے اور کمیونٹیز مثلاً JournalTok# اور NatureTok # سے جڑنے کے لیے کرتے ہیں۔ اب ’ وقت اور فلاح و بہبود‘ کے نام سے نیا فیچر ہماری کمیونٹی کے لیے آرام کرنے اور ذہنی سکون حاصل کرنے کو پہلے سے کہیں زیادہ آسان بنا دیتا ہے۔ اسےگزشتہ اسکرین ٹائم مینجمنٹ پیج کی جگہ متعارف کرایا گیا ہے اور یہ نئے فیچرز فراہم کرتا ہے، جن میں شامل ہیں:
    • تصدیقی جرنل جس میں 120 سے زائد ایسے کارڈز شامل ہیں جنہیں ڈاؤن لوڈ کیا جا جا سکتا ہے اور دیگر افراد کے ساتھ شیئر بھی کیا جا سکتا ہے۔
    • بارش، پانی کی لہروں اور مسلسل آوازوں پر مشمتل سکون بخش آواز پیدا کرنے والا ٹولز۔سروے کے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹک ٹاک استعمال کرنے والے افراد نیند یا سکون کے لیے موسیقی سننے میں، استعمال نہ کرنے والوں کے مقابلے میں 14فیصد زیادہ امکان رکھتے ہیں۔
    • سانس لینے کی مشقیں، جن میں محتاط اور پر دانشمندی پرمبنی مختلف اقسام کی تکنیکیں شامل ہیں۔

    اس فیچر کو متعارف کرانے کا مقصدٹک ٹاک کی موجودہ حفاظتی کوششوں کو مزید بہتربناتا ہے۔نوعمر صارفین کے اکاؤنٹس میں خودکار طور پر 50 سے زیادہ حفاظتی اور پرائیویسی سیٹنگز فعال ہوتی ہیں۔ اس سال کے اوائل میں،ٹک ٹاک نے مراقبے کا فیچربھی متعارف کرایا تھا جسے نوعمر صارفین کے لیے رات کے وقت بطورِ ڈیفالٹ استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے، اب تک، تقریباً تین چوتھائی عالمی کمیونٹی اپنا چکی ہے۔ فیملی پیئرنگ کے استعمال میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے، اور گزشتہ ماہ کے دوران 10 لاکھ سے زائدوالدین اور سرپرستوں نے اسے استعمال کیا۔

    ڈیجیٹل فلاح و بہبود اور دانشمندی پر مبنی مزیدتجربات
    ایسے موقع پر ،جب ہم نیا وقت اور فلاح و بہبودفیچر متعارف کرا رہے ہیں، تو ہم چار نئے فلاح و بہبود مشن بھی متعارف کرا رہے ہیں۔ یہ مختصر اور دلچسپ مشنوں پر مشتمل ایک سیریز ہے جن کا مقصد لوگوں کو طویل مدتی متوازن ڈیجیٹل عادات اپنانے میں مدد فراہم کرنا ہے۔لوگ جیسے ہی یہ مشن مکمل کرتے ہیں، انہیں بیج ملتے ہیں جو ذہنی یکسوئی پر مبنی رویوں کی حوصلہ افزائی اور مضبوطی میں مدد دیتے ہیں۔

    • ان فیچرز میں آٹھ ہفتوں پر مشتمل (Sleep Hour) سونے کے اوقات مشن شامل ہے، جس میں صارفین ایک ورچوئل ”ویل بینگ ٹری“ کو بڑھا سکتے ہیں، روزانہ کا اسکرین ٹائم بیج جو مقررہ حدود کے اندر رہنے پر دیا جاتا ہے، اور ہفتہ وار مشن جس کے ذریعے اسکرین ٹائم رپورٹس چیک کر کے پلیٹ فارم پر گزارا گیا وقت دیکھا جا سکتا ہے۔
    • صارفین اپنے دوستوں کو بھی حصہ لینے کی دعوت دے سکتے ہیں تاکہ وہ فلاح و بہبود ایمبیسیڈر مشن فیچر کے ذریعے ان فیچرز کا تجربہ کر سکیں۔

    ان مشنوں کو مکمل کرنے پر، صارفین ڈیجیٹل بیج حاصل کرتے ہیں جو اُن کی ذہن یکوسی پر مبنی شمولیت کو انعام دیتے اور مضبوط کرتے ہیں۔ یہ مشن ڈیجیٹل ویلنیس لیب (Digital Wellness Lab)کے مشاہدات، ٹک ٹاک کی اپنی تحقیق، اور اس کی یوتھ کونسل کی آراء کی بنیاد پر تیار کیے گئے ہیں۔ یہ اسپیس پابندیوں کی بجائے مثبت ترغیب پر زور دیتی ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ دو تہائی نوعمر صارفین ڈیجیٹل وقت کو منظم کرنے کے ٹولز کو مفید سمجھتے ہیں۔ ابتدائی ٹیسٹنگ میں مضبوط انگیجمنٹ سامنے آئی ہے، جہاں صارفین پچھلے اسکرین ٹائم مینو کے مقابلے میں زیادہ بار واپس آرہے ہیں، اور تصدیقی جرنل سب سے مقبول فیچر کے طور پر سامنے آیا ہے۔

    زیادہ سے زیادہ لوگوں کو وقت اور فلاح و بہبوداسپیس میں شامل ہونے میں مدد فراہم کرنا
    لوگ نئے وقت اور فلاح و بہبوداسپیس تک باآسانی پہنچ سکیں، ہم اسے اُس وقت ک ساتھ لنک بھی کریں گے جب کوئی صارف اپنے روزانہ اسکرین ٹائم کی حد تک پہنچے یا اُس کے سونے کے اوقات فعال ہوں۔ ہم نے اپنے ”ٹیک اے بریک (Take A Break) “ ویڈیوز میں بھی ایک پرامپٹ (prompt) شامل کیا ہے تاکہ نئے وقت اور فلاح و بہبود پیج کو مزید فروغ دیا جا سکے۔ ہمارا مقصد اسے،اسپیس کمیونٹی کے لیے،زیادہ قابل رسائی اور نظر آنے والا بنانا ہے۔ ہم مزید فیچرز متعارف کرانے کا ارادہ بھی رکھتے رہے ہیں تاکہ یہ ٹولز روزمرہ استعمال کےفعال حصہ بن جائیں۔ان فیچرز میں اس بات پر بھی توجہ دی جائے گی کہ اُنہیں ٹک ٹاک کے تجربے میں مزید کہاں اور کیسے شامل کیا جا سکتا ہے۔

    ٹک ٹاک نے نوعمر صارفین کی رائے سنی، جس میں ہماری یوتھ کونسل بھی شامل ہے، اور تحقیق کو مدنظر رکھا، جس سے معلوم ہوا کہ دو تہائی نوعمر صارفین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا پر اپنا وقت منظم کرنے میں مدد دینے والے ٹولز مفید ہیں۔

    ٹک ٹاک کا مقصد ان وسائل کو پلیٹ فارم کے تجربے میں باآسانی شامل کرنا ہے، تاکہ کمیونٹی کو آرام کرنے، ذہنی سکون حاصل کرنے، اور ٹیکنالوجی کے ساتھ متوازن تعلق قائم کرنے کا موقع ملے۔ اس کے ذریعے، ٹک ٹاک نہ صرف اپنی کمیونٹی کو تفریح فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے بلکہ یہ بھی یقینی بناتا ہے کہ پلیٹ فارم ایک ایسا ماحول رہے جو صارفین کی فلاح و بہبود کی حمایت کرتا ہو۔

  • خیبر پختونخوا، 3 الگ الگ کاروائیوں میں‌7 خارجی جہنم واصل

    خیبر پختونخوا، 3 الگ الگ کاروائیوں میں‌7 خارجی جہنم واصل

    سکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا میں 3الگ الگ کارروائیوں میں بھارتی سپانسرڈ7خوارج ہلاک ہو گئے ہیں

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے 18اور19نومبر کو خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کی گئیں،مہمند میں انٹیلی جنس آپریشن کے دوران4خوارج جہنم واصل ہوئے ،سکیورٹی فورسز کی جانب سے خوارج کے ٹھکانے کو موثر انداز میں نشانہ بنایاگیا،آئی ایس پی آر کے مطابق لکی مروت 2اور ٹانک میں بھارتی سپانسرڈ ایک خارجی مارا گیا،تینوں کارروائیاں انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کی گئیں،علاقوں میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کے چار ججز کا 27 ویں آئینی ترمیم چیلنج کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چار ججز کا 27 ویں آئینی ترمیم چیلنج کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے 4 ججز نے 27 ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

    ذرائع کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے 4 ججز کی جانب سے آئینی ترمیم کے خلاف درخواست کا ڈرافٹ تیار کر لیا گیا ہے،جسٹس محسن اختر کیانی سمیت 4 ججز کی جانب سے آئینی ترمیم کو چیلنج کیا جائے گا،ذرائع کے مطابق ترمیم چیلنج کرنے کے لیے ڈرافٹ تیار کر کے سپریم کورٹ کو بھجوا دیا گیا، سپریم کورٹ میں آج ہی 27 ویں ترمیم کے معاملے کو چیلنج کیا جائے گا،جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار، جسٹس ثمن رفعت امتیاز اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق درخواست گزاروں میں شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی و سینیٹ سے 27 ویں ترمیم پاس ہو چکی ہے جس کے بعد صدر مملکت نے بھی دستخط کر دیئے ہیں.

  • ٹرمپ تو اپنی ہر تقریر میں پاکستان کی تعریف کرتے ہیں،وزیراعظم

    ٹرمپ تو اپنی ہر تقریر میں پاکستان کی تعریف کرتے ہیں،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ جنگ کے میدان میں افواج پاکستان نے بھارت کو زناٹے دار تھپڑ رسید کیا جس پر امریکی کانگریس نے بھی مہر لگادی۔

    دانش اسکول باغ کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب میں شہباز شریف کہا کہ ٹرمپ تو اپنی ہر تقریر میں پاکستان کی تعریف کرتے ہیں اور وہ ہر تقریر میں کہتے ہیں کہ 7 نئے جہاز گرائے گئے، ہماری ائیر فورس اور بری فوج نے 4 روز میں بھارت کی فوج کو گھٹنےکے بل گرایا،جنگ کے میدان میں افواج پاکستان نے بھارت کو زناٹے دار تھپڑ رسید کیا جس پر امریکی کانگریس نے بھی مہر لگادی۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آج دانش اسکول باغ کا سنگ بنیاد رکھ کر خوشی ہورہی ہے کہ یہ سفر پنجاب سے شروع کیا تھا آج پورے پاکستان میں یہ دانش گاہیں پھیل رہی ہیں، اب باغ میں بھی دانش اسکول کا افتتاح 23 مارچ 2026 کو کریں گے، فارورڈ کہوٹہ میں دانش اسکول کی فرمائش پوری کرنے کابھی اعلان کرتا ہوں، یہ وہ دانش گاہیں ہیں جن کا مقابلہ پاکستان میں کسی بھی تعلیم گاہ سے کرسکتے ہیں، دانش گاہوں نے بند راستے کھول دئے ہیں کیونکہ آپ کے بچے یہاں میرٹ پر تعلیم مفت حاصل کریں گے،بچوں کی تعلیم، رہائش گاہ، یونیفارم سب مفت ہوگا اور کوشش ہوگی آپ کے ہی اساتذہ کو یہاں نوکریاں ملیں۔

  • 17غیرمنتخب جج پارلیمان سے زیادہ ذہین اور بااختیار نہیں ہوسکتے،وزیر قانون

    17غیرمنتخب جج پارلیمان سے زیادہ ذہین اور بااختیار نہیں ہوسکتے،وزیر قانون

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پارلیمان کی گئی ترمیم کو کسی عدالت کے سامنےچیلنج نہیں کیا جا سکتا۔

    اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ آئینی عدالت کا قیام کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ پارلیمان بالادست ہے اور پارلیمان کو بالادست ہونا چاہیے، سیاست میں اگر انتشار اور انتہا پسندی آئے گی پھر نہ ملک آگے چلے گا اور نہ نظام، پھر سیاست دانوں کی بساط لپیٹی جاتی ہے،آئین میں ترمیم کرنے کا طریقہ کار بھی درج کیا گیا ہے، پارلیمان آئین میں ترمیم کر سکتی ہے، پارلیمان کی ترمیم کو کسی عدالت کے سامنے چیلنج نہیں کیا جائے گا، آئین میں لکھ دیا گیا کہ ملک کو منتخب کیے گئے نمائندوں نے چلانا ہے، یہی بات سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھی، فیصلے میں کہا گیا کہ 17غیرمنتخب جج پارلیمان سے زیادہ ذہین اور بااختیار نہیں ہوسکتے، انہیں ہونا بھی نہیں چاہیے،پاکستان آئینی طریقے سے چل رہا ہے، آئینی عدالت کا قیام کوئی نئی چیز نہیں، موجودہ آئینی ترمیم میں ایسی عدالت بنائی گئی ہے جس میں چاروں اکائیوں کی برابر نمائندگی ہوگی۔

  • کالعدم تحریک طالبان پاکستان  ایک سنگین علاقائی خطرہ بن چکی،سلامتی کونسل

    کالعدم تحریک طالبان پاکستان ایک سنگین علاقائی خطرہ بن چکی،سلامتی کونسل

    سلامتی کونسل کی پابندیوں سے متعلق کمیٹی کی سربراہ نے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کو ایک سنگین علاقائی خطرہ قرار دے دیا۔

    سلامتی کونسل کی پابندیوں سے متعلق کمیٹی کی سربراہ اور ڈنمارک کی مندوب نے بریفنگ میں کہا کہ ٹی ٹی پی کے تقریباً 6 ہزار جنگجو افغانستان میں سرگرم ہیں جنہیں مقامی حکام کی جانب سے لاجسٹک اور عملی معاونت حاصل ہے،سلامتی کونسل کی پابندیوں سے متعلق کمیٹی کی سربراہ کے مطابق کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان ایک سنگین علاقائی خطرہ بن چکی ہے، سربراہ کمیٹی کا مزید کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی نے افغان سرزمین سے پاکستان میں کئی بڑے اور ہائی پروفائل حملے کیے ہیں جن میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا۔

  • عدالتی فیصلہ آنے تک اپوزیشن لیڈر کی تقرری نہیں ہو سکتی،پی ٹی آئی کو جواب مل گیا

    عدالتی فیصلہ آنے تک اپوزیشن لیڈر کی تقرری نہیں ہو سکتی،پی ٹی آئی کو جواب مل گیا

    اسلام آباد: قومی اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف کی تقرری کا معاملہ ایک بار پھر قانونی موڑ لے گیا ہے۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے چیف وہپ پاکستان تحریک انصاف عامر ڈوگر کو باضابطہ خط ارسال کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کی تقرری سے متعلق فیصلہ ابھی نہیں کیا جاسکتا۔

    ترجمان قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی نے محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر مقرر کرنے کی تجویز مسترد کردی ہے۔ سیکرٹریٹ کا کہنا ہے کہ جب تک عدالتِ عظمیٰ اور پشاور ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت معاملات طے نہیں ہوتے، اپوزیشن لیڈر کی تقرری ممکن نہیں۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے پشاور ہائی کورٹ کو ہدایت کی ہے کہ وہ پہلے پی ٹی آئی رہنما اور نامزد اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کی درخواست کے قابلِ سماعت ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرے۔ عدالت کی جانب سے یہ تعین کیے بغیر اسمبلی کے اندر قائدِ حزب اختلاف کی تقرری آگے نہیں بڑھ سکتی۔سیکرٹریٹ کا کہنا ہے کہ پٹیشن کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ آنے تک کسی نئے اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی یا منظوری نہیں دی جا سکتی۔

    مزید برآں، اسپیکر قومی اسمبلی نے تاحال قواعدِ کار کے تحت اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے لیے رول 39 کے مطابق تاریخ، وقت اور مقام کا اعلان بھی نہیں کیا، جس کے باعث ایوان میں قائدِ حزب اختلاف کی سیٹ عملاً خالی ہے۔

  • معرکہ حق پر امریکی کمیشن کی رپورٹ اور بھارت کا حقائق کے منافی پروپیگنڈا بے نقاب

    معرکہ حق پر امریکی کمیشن کی رپورٹ اور بھارت کا حقائق کے منافی پروپیگنڈا بے نقاب

    معرکہ حق پر امریکی کمیشن کی رپورٹ اور بھارت کا حقائق کے منافی پروپیگنڈا بے نقاب ہو گیا

    بھارتی حکومت گودی میڈیا کے ذریعے امریکی کمیشن رپورٹ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش کرنے لگی،بھارت اپنی ہتک آمیز شکست کو چھپانے کیلئے پاکستان کی جانب سے چینی ٹیکنالوجی کے استعمال کا منفی پروپیگنڈا کر رہا ہے،امریکی کمیشن کی رپورٹ میں بھارت کی شکست کا اعتراف مودی حکومت کیلئے سبکی کا باعث بن گیا ہے،
    امریکی کانگریس میں پیش کی گئی امریکہ- چین اکنامک اینڈ سیکیورٹی ریویو کمیشن رپورٹ میں پاکستان کی فتح پر مہر ثبت کی ہے

    امریکی کانگریس رپورٹ کے مطابق 7سے10مئی کی چار روزہ جنگ میں پاکستان نے بھارت پر فتح حاصل کی،بھارتی رافیل طیارے گرنے کے باوجود بھارت نے جھوٹا بیانیہ گھڑا مگر امریکی رپورٹ نے من گھڑت پروپیگنڈا کا پول کھول دیا،معرکہ حق میں پاکستان نے بہترین عسکری حکمت عملی سے بھارت کا غرور خاک میں ملا کر واضح برتری حاصل کی،شواہد، رپورٹس اور عالمی میڈیا معرکہ حق پر پاکستانی مؤقف کو سچ ثابت کر رہا ہے

    عالمی جریدہ ” ٹی آر ٹی ” کے مطابق؛امریکی کمیشن کی رپورٹ نے مئی میں ہونے والی جھڑپ میں بھارت کے خلاف پاکستان کی عسکری فتح کا اعتراف کیا ہے ،امریکی رپورٹ نے اعتراف کیا کہ7 سے 10مئی کی چار روزہ جنگ میں پاکستان نے بھارت پر فتح حاصل کی ،

    امریکی صدر ٹرمپ بھی بارہا معرکہ حق میں پاکستان کی فتح اور بھارتی طیارے مار گرائے جانے کا برملا اعتراف کرچکے ہیں ،حقیقت یہ ہے کہ معرکہ حق میں پاکستان نے ہتھیاروں کے موثر استعمال سے بھارت کو شکست دی ،شکست خوردہ مودی پاکستان کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈا کے باعث پہلے بھی عالمی سطح پر جگ ہنسائی کا سامنا کرچکا ہے،

  • ملزمہ بیمار ہے یا کوئی اور مسئلہ ہے تو قانون موجود ہے،علیمہ کی پیشی پر عدالت کے ریمارکس

    ملزمہ بیمار ہے یا کوئی اور مسئلہ ہے تو قانون موجود ہے،علیمہ کی پیشی پر عدالت کے ریمارکس

    بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان 11 مرتبہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہونے بعد عدالت کے سامنے پیش ہو گئیں۔

    علیمہ خان 26 نومبر کے احتجاج پر درج مقدمے میں پیشی کے لیے عدالت پہنچیں۔ مقدمے کی سماعت راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی،علیمہ خان کے وکیل فیصل ملک اور اسپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ بھی اپنی قانونی ٹیم کے ہمراہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے،دورانِ سماعت عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ قانونی طور پر علیمہ خان اس وقت گرفتار ہیں، علیمہ خان نے ہر عدالتی حکم کو نظر انداز کیا، علیمہ خان ضمانتی مچلکے خارج ہونے کے باوجود عدالت میں پیش نہ ہوئیں،عدالت نے استفسار کیا کہ علیمہ خان کے ضمانتی مچلکے خارج ہوئے تو نئے مچلکے داخل کیوں نہیں کروائے گئے؟ ایک ماہ گزر گیا ملزمہ علیمہ خان عدالت میں پیش نہیں ہو رہی تھیں،اس پر وکیلِ صفائی نے کہا کہ ہمیں عدالتی آرڈر کی کاپی دی جائے، آج ہی نئے مچلکے داخل کروا دیں گے، ہم بھاگ نہیں رہے مناسب تاریخ اور وقت کی استدعا کر رہے ہیں، ملزمہ علیمہ خان بیمار ہونے کے باوجود آج عدالت کے احترام میں پیش ہوئیں۔

    عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ملزمہ بیمار ہے یا کوئی اور مسئلہ ہے تو قانون موجود ہے، استثنیٰ کی درخواست دے دیں، آپ نے عدم پیشی، فرد جرم، عدالتی نوٹسز اور تفتیش کو کسی بھی اسٹیج پر کیوں چیلنج نہیں کیا،پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزمہ اور وکیل صفائی عدالت میں موجود ہیں، لکھ کر دیں کہ وہ 26 نومبر کو پیش ہوں گے، سماعت کے دوران علیمہ خان نے عدالت کو یقین دلایا وہ آئندہ سماعت پر عدالت پیش ہوں گی،علیمہ خان نے دورانِ سماعت نمل یونیورسٹی میانوالی کا اکاؤنٹ ڈی فریز کرنے کی بھی استدعا کی۔

    دوران سماعت وکیل صفائی فیصل ملک اور پراسیکیوٹر ظہیر شاہ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا،پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ علیمہ خان پر فرد جرم ہوئے ایک ماہ سے زائد گزر چکا ہے لیکن وہ مسلسل غیرحاضر ہیں، 11سماعتوں سے غیر حاضری پر استثنیٰ کی کوئی درخواست بھی نہیں آئی، 11سماعتوں سے وکیل صفائی بھی غائب ہیں، علیمہ خان نے عدالتی احکامات کے باوجود جان بوجھ کر ضمانت کا غلط استعمال کیا، علیمہ خان اور ان کے وکلاء نے جان بوجھ کر قانون کا مذاق بنایا،پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے مزید کہا کہ وکلاء صفائی نے 15 اکتوبر کو عدالتی دائرہ اختیار کو چیلنج کیا تھا، عدالت کے موقع دینے کے باوجود وکلاء صفائی نے اپنی درخواست پر دلائل نہیں دیے، وکلاء صفائی میڈیا پر عدالتی دائرہ اختیار کو ہائی لائٹ کرتے رہے لیکن عدالت نہیں آئے، علیمہ خان وارنٹ گرفتاری پر دستخط کرنے کے باوجود پیش نہ ہوئیں، اگر علیمہ خان عدالتی کارروائی اور تفتیش سے مطمئن نہیں تو متعلقہ فورم پر چیلنج کریں، علیمہ خان نے آج تک کسی بھی عدالت میں ٹرائل اور تفتیش کو چیلنج نہیں کیا،پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے دورانِ سماعت کہا کہ ایک سال سے مقدمہ زیرِ سماعت ہے، رکاوٹ صرف علیمہ خان کا غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے، علیمہ خان اور وکلاء صفائی میڈیا کے بجائے عدالت میں اپنی بے گناہی ثابت کریں، علیمہ خان کہتی ہیں بانی کا پیغام میڈیا کو دیا اور میڈیا نے چلایا لہٰذا اسے بھی شامل مقدمہ کیا جائے، کیا میڈیا نے علیمہ خان کو دعوت دی تھی کہ وہ کیمروں پر آکر کر بات کریں۔

    وکیلِ صفائی محمد فیصل ملک نے عدالت میں اپنے مؤقف میں کہا کہ ملزمہ علیمہ خان کے خلاف ہر شہر میں مقدمات درج ہیں، ملزمہ لاہور، راولپنڈی اور کبھی اسلام آباد کی عدالتوں میں پیش ہوتی ہیں، اتنے مقدمات ہیں کہ ہر عدالت پیش ہونا ممکن نہیں، عدالت سے استدعا کی تھی کہ ہمیں مناسب تاریخ اور مناسب وقت دیا جائے،سماعت کے دوران علیمہ خان کے وکیل تابش فاروق نے فیض احمد فیض کا شعر پڑھا۔ اس پر عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ لگتا ہے پی ٹی آئی وکلاء نے فیض احمد فیض کی ساری شاعری پڑھی ہے،دورانِ سماعت وکلاء صفائی نے عدالتی دائرہ اختیار اور ملزمہ کے اکاؤنٹ ڈی فریز کرنے کی درخواستیں دائر کی ہیں جس پر عدالت نے وکلاء صفائی کی دونوں درخواستوں پر فریقین سے آئندہ سماعت پر دلائل طلب کر لیے،عدالت نے سماعت 26 نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے علیمہ خان کی پراپرٹی سے متعلق بھی تفصیلات طلب کر لیں۔

    واضح رہے کہ مسلسل غیرحاضری پر عدالت نے علیمہ خان کے 37 بینک اکاؤنٹ منجمد اور ضمانتی مچلکے خارج کر دیے تھے،علیمہ خان کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج پر تھانہ صادق آباد میں مقدمہ درج ہے۔ان پر کارکنان کو پُرتشدد احتجاج پر اکسانے، جلاؤ گھیراؤ اور کارِ سرکار میں مداخلت کا الزام ہے۔