Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • الیکشن کمیشن نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو طلب کر لیا

    الیکشن کمیشن نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو طلب کر لیا

    الیکشن کمیشن نے وزیر اعلی خیبر پختونخوا ہ سہیل آفریدی اور امیدوار شہرناز عمر ایوب کو الیکشنز ایکٹ 2017ء اور ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی پر کل مورخہ 21 نومبر 2025 کو طلب کرتے ہوئے نوٹس جاری کر دیے ہیں

    الیکشن کمیشن نے سہیل آفریدی کو کل طلب کر لیا،الیکشن کمیشن نے چیف منسٹر خیبر پختونخوا ہ جناب سہیل آفریدی کےحویلیاں جلسے کے خطا ب کے دوران دیئے گئے بیان جس میں اُنہوں نے ضلعی انتظامیہ ، پولیس اور الیکشن میں تعینات عملہ کو دھمکایا اور جلسے میں موجود پبلک اور عمومی طور پرعوام کو اُکسانے پر نوٹس لیا ہے، اس موقع پر اُن کے ساتھ ایک مفرور مجر م بھی کھڑاتھا جس کی زوجہ الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں۔ صوبے کے چیف ایگزیٹو کے اس غیر ذمہ دارانہ اور رویہ کی وجہ سے نہ صرف این اے 18 ہری پور میں پُرامن ضمنی ا نتخاب کا انعقاد مشکل ہو گیا ہے ، بلکہ ضلعی انتظامیہ ، پولیس اور الیکشن ڈیوٹی پر مامور عملہ اورووٹروں کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہواہے۔ کمیشن نے حالات کی نزاکت کو سامنے رکھتے ہوئے صوبائی الیکشن کمشنر خیبر پختو نخوا کو حکم دیا کہ وہ اس سلسلے میں فوری طور پر چیف سیکرٹری اور آئی جی سے میٹنگ کریں اورضروری حفاظتی اقدامات کرنے کے بعد ا پنی رپورٹ الیکشن کمیشن کو پیش کریں۔الیکشن کمیشن نے معاملے کی سنگینی کو مدِنظر رکھتے ہوئے چیف منسٹر خیبر پختونخوا ہ سہیل آفریدی اور امیدوار مسماۃ شہرناز عمر ایوب کو الیکشنز ایکٹ 2017ء اور ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی پر کل مورخہ 21 نومبر 2025 کو طلب کرتے ہوئے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔مزید یہ بھی فیصلہ کیا کہ فوری طور پر سیکرٹری وزارت داخلہ کو چِٹھی ارسال کی جائے کہ حلقہ میں وفاقی سیکورٹی اداروں کی مدد سے فول پروف سیکورٹی انتظامات کیئے جائیں،تاکہ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر ، ریٹرننگ ، دیگر انتخابی اہلکاروں ، ووٹروں اور پبلک کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔ اور Presiding Officers کی پولنگ سٹیشنز کی طرف اور الیکشن کے بعد ROآفس کی طرف اُنکی اور الیکشن مٹیریل کی Movement کو تحفظ دیا جاسکے۔ کمیشن نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ ضمنی انتخابات کے دوران کسی فرد، شخصیت یا پبلک آفس ہولڈر نے الیکشن کے پُرامن انعقاد میں مداخلت یا خلل ڈالنے کی کوشش کی تو اُنکے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لائے جائے گی۔صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب کو بھی اسی طرح ہدایات جاری کردی گئی ہیں کہ اگر فیڈرل یا صوبائی حکومت کا کو ئی بھی عہدیدار ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرے یا ضمنی الیکشن کوInfluence کرنے کی کوشش کرےتو آئین اور قانون کے مطابق سخت سے سخت کاروائی کی جائے۔

  • بیوی، بچوں یا گھر میں رہنے والے دیگر افراد کو گالی دینا جرم قرار،قومی اسمبلی سے بل منظور

    بیوی، بچوں یا گھر میں رہنے والے دیگر افراد کو گالی دینا جرم قرار،قومی اسمبلی سے بل منظور

    قومی اسمبلی میں بیوی بچوں کے سماجی تحفظ سے متعلق اہم قانون ڈومیسٹک وائلنس بل 2025 منظور کر لیا گیا۔

    نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق قومی اسمبلی سے ڈومیسٹک وائلنس بل 2025 کی منظوری کے بعد اب بل کا مسودہ سینیٹ میں پیش ہوگا، بل میں بیوی، بچوں یا گھر میں رہنے والے دیگر افراد کو گالی دینا جرم قرار دیا گیا،متن کے مطابق بیوی، بچے یا گھر میں موجوددیگر افراد کو جذباتی، نفسیاتی طور پر پریشان کرنا بھی جرم ہوگا، مرتکب افراد کو تین سال تک کی سزا، ایک لاکھ روپے تک کا جرمانہ بھی عائد کیا جا سکے گا، بیوی، بچوں کے علاوہ گھر میں معذور افراد یا بزرگ افراد کا تعاقب کرنا بھی جرم ہوگا، بیوی کو مرضی کے بغیر گھر میں دیگر افراد کے ساتھ رکھنا بھی قابل سزا جرم ہوگا، خاندان کے افراد کی پرائیویسی یا عزت نفس مجروح کرنا بھی جرم قرار دیا گیا، بیوی یا گھر میں رہنے والے دیگر افراد کو جسمانی تکلیف پہنچانے کی دھمکی بھی قابل سزا جرم ہوگا، گھر میں ایک ساتھ رہنے والے کسی بھی فریق پر الزام لگانے پر بھی سزا ہوگی، بیوی بچوں یا گھر میں رہنے والی دیگر فریق کا خیال نہ کرنا بھی قابل سزا جرم ہے۔

    قومی اسمبلی سے پاس ہونے والے ڈومیسٹک وائلنس بل میں جنسی اور معاشی استحصال کو بھی کور کیا گیا ہے، بل کا اطلاق بیوی، بچوں، گھر کے بزرگ افراد، لے پالک، ٹرانس جینڈر جو ایک ساتھ رہتے ہوں ان پر ہوگا،واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی شرمیلا فاروقی نے یہ بل قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا۔

  • ایک پولیس آفیسر کیسے لڑکی کی تصویر کو ٹک ٹاک پر لے کر آیا،عدالت کا اظہار برہمی

    ایک پولیس آفیسر کیسے لڑکی کی تصویر کو ٹک ٹاک پر لے کر آیا،عدالت کا اظہار برہمی

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے کاہنہ سے خاتون کے مبینہ اغوا پر ڈی آئی جی انوسٹی گیشن پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریکارڈ اپنی تحویل میں لے لیا۔

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے کاہنہ سے خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں حمیداں بی بی کی درخواست پر سماعت کی،دورانِ سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ والدین نے بچوں کا اندراج نادرا میں کیوں نہیں کروایا، اگر نادرا میں بچوں کا ریکارڈ موجود ہوتا تو کہیں نہ کہیں سے ٹریس ہو جاتے، والدین کیوں اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتے، ڈی آئی جی انوسٹی گیشن ذیشان رضا نے آگاہ کیا کہ ہم نے رحیم یار خان اور راجن پور کے علاقوں میں ٹیمیں بھیجی ہیں، ہیومن ٹریفکنگ کے اینگل سے بھی کیس پر تفتیش کی ہے، اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ ابھی بھی آپ کی ٹیم تفتیش کر رہی ہے؟ڈی آئی جی نے بتایا کہ تین مختلف جگہوں پر ہماری ٹیمز موجود ہیں، جن پولیس افسران نے پہلے رسپانڈ کیا ان سے بھی دوبارہ پوچھ گچھ کی، عدالت نے پوچھا کہ آپ کی ٹیم جو جامشورو گئی ہوئی ہے اس کے لیے کتنا ٹائم چاہئے، ایسا نہیں ہو سکتا کہ دنیا میں کسی نے بھی اس خاتون کو دیکھا نہ ہو۔

    ڈی آئی جی نے کہا کہ ایک ٹک ٹاک اکاونٹ کو دیکھا جس پر اس خاتون کی تصویر لگی ہوئی تھی، یہ ایک کانسٹیبل کا اکاونٹ تھا جس نے بطور مزاح یہ تصویر وہاں اپلوڈ کی تھی،عدالت عالیہ نے استفسار کیا کہ یہ اکاونٹ کب بنا اور یہ تصویر اس پر کب لگی، یہ پولیس اہلکار ہے تو اس سے تفتیش کا طریقہ کار بھی مختلف ہی ہو گا، میں نے صرف یہ پوچھا کہ ٹک ٹاک اکاونٹ کب بنا، آپ نے کہا چھ ماہ پہلے، ایک پولیس آفیسر کیسے لڑکی کی تصویر کو ٹک ٹاک پر لے کر آیا ، یہ تصویر سوشل میڈیا پر کیسے موجود تھی؟ کیا آپ لوگوں کا ریکارڈ محفوظ نہیں ہے؟ کیا حساس ریکارڈ ہر ایک کی رسائی میں ہوتا ہے؟ آپ خواتین کا مذاق بناتے ہیں اور پھر ریکارڈ کو استعمال کرتے ہیں؟ آپ جنرل پبلک کی طرف ڈھونڈ رہے ہیں کبھی اپنی طرف بھی دیکھ لیا کریں، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے اظہارِ برہمی کرتے ہوئے کہا کہ سارے کیس کی فائل میرے حوالے کریں، پہلے میں کیس کی ساری فائل دیکھوں گی پھر تاریخ دوں گی۔بعدازاں عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کر دی۔

  • ڈمپر جلانے کا کیس،آفاق احمد کو عدالت نے بری  کر دیا

    ڈمپر جلانے کا کیس،آفاق احمد کو عدالت نے بری کر دیا

    کراچی: انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے مہاجر قومی موومنٹ (ایم کیو ایم حقیقی) کے چیئرمین آفاق احمد کو ڈمپر جلانے اور اشتعال انگیزی کے مقدمے سے بری کرنے کا حکم دے دیا۔

    کراچی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا، لہٰذا آفاق احمد کو مقدمے سے بری کیا جاتا ہے،یہ مقدمہ لانڈھی پولیس کی جانب سے درج کیا گیا تھا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ شہر میں ڈمپر اور ٹرک حادثات میں اضافے کے بعد مختلف علاقوں میں ڈمپرز اور ٹرکوں کو نذرِ آتش کرنے کے واقعات پیش آئے۔ پولیس کے مطابق آفاق احمد کے بعض بیانات کو بنیاد بنا کر ان پر الزام عائد کیا گیا کہ ان کے بیانات سے عوام میں اشتعال پھیلا اور املاک کو نقصان پہنچا۔

    واضح رہے کہ رواں برس کے آغاز میں کراچی میں بھاری گاڑیوں سے متعلق حادثات میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا، جس کے بعد شہر میں مختلف مقامات پر ڈمپرز اور ٹرکوں کو آگ لگانے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ انہی واقعات کے تناظر میں آفاق احمد کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے اور انہیں گرفتار بھی کیا گیا۔

  • دہشت گردوں کی سرپرستی،افغان طالبان رجیم نے ملک کو عالمی تنہائی میں دھکیل دیا

    دہشت گردوں کی سرپرستی،افغان طالبان رجیم نے ملک کو عالمی تنہائی میں دھکیل دیا

    دنیا کے بیشتر ممالک کا افغانستان میں بنیادی انسانی حقوق کے غاصب افغان طالبان پر مکمل عدم اعتماد کا اظہار ۔ عالمی برادری افغان طالبان رجیم کو عالمی فورمز میں بلانےاور تعلقات قائم کرنے سے مکمل طور پر گریزاں ہیں۔

    افغان جریدے ” طلوع نیوز” کے مطابق ماسکو میں شنگھائی تعاون تنظیم( ایس سی او) کے سربراہی اجلاس میں افغانستان کو ایک بار پھر مدعو نہ کیا گیا ۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں افغانستان کا کوئی نمائندہ موجود نہیں تھا۔ روسی سربراہی میں ایس سی او اجلاس میں پاکستان ،چین ،بھارت اور دیگر ممالک نے شرکت کی۔ اجلاس میں اقتصادی، تجارت، سرمایہ کاری، ثقافتی اور انسانی ہمدردی کے تعاون جیسےموضوعات شامل تھے۔اقتصادی امور کے ماہر عبدالظہور مدبر نے کہا کہ افغانستان کو ٹرانزٹ کوریڈور کی اہمیت کے باوجود شدت پسندانہ پالیسیوں کے باعث اجلاس میں شریک نہیں کیا گیا ۔ افغان طالبان کے افغان عوام پر ظلم و جبر اور جبر و استبداد کے بعد ان پر سخت ترین عالمی پابندیاں ناگزیر ہو گئی ہیں۔

  • پاکستانی ٹی وی چینلز پر بھارتی مواد نشر کرنے کے کیس کی سماعت ملتوی

    پاکستانی ٹی وی چینلز پر بھارتی مواد نشر کرنے کے کیس کی سماعت ملتوی

    وفاقی آئینی عدالت نے پاکستانی ٹی وی چینلز پر بھارتی مواد نشر کرنے کے حوالے سے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی

    چیف جسٹس جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی اور فریقین کو نوٹس جاری کیے،یاد رہے کہ 2016 میں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے ایک اجلاس میں فیصلہ کیا تھا کہ پاکستانی چینلز پر بھارتی مواد نشر نہیں کیا جائے گا۔ تاہم، لائسنس کی ابتدائی شرائط کے تحت چینلز کو 10 فیصد بھارتی مواد نشر کرنے کی اجازت دی گئی تھی،2017 میں جسٹس منصور علی شاہ نے لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی حیثیت سے پیمرا کا یہ نوٹیفکیشن معطل کر دیا تھا، جس کے بعد یہ معاملہ آئینی عدالت میں زیر سماعت ہے۔

  • دفعہ 144 میں نرمی،جماعت اسلامی کو مینار پاکستان اجتماع کی اجازت مل گئی

    دفعہ 144 میں نرمی،جماعت اسلامی کو مینار پاکستان اجتماع کی اجازت مل گئی

    مینار پاکستان پر دینی، دعوتی اور اصلاحی اجتماع کی اجازت کا معاملہ ،محکمہ داخلہ نے ضلعی انتظامیہ کی سفارش پر دینی اجتماع کی اجازت دے دی

    ضلعی انٹیلیجنس کمیٹی نے دفعہ 144 کے حکمنامے میں مخصوص نرمی کی سفارش کی تھی،جماعت اسلامی نے 21 سے 23 نومبر تک دینی، دعوتی، اصلاحی اجتماع کیلئے این او سی کی درخواست کی تھی،ڈپٹی کمشنر لاہور کی سفارش پر دفعہ 144 میں مخصوص نرمی کا فیصلہ کیا گیا،مخصوص اور محدود اجازت کو دفعہ 144 کے حکم نامے کا حصہ بنا دیا گیا،ضلعی انتظامیہ نے اصلاحی اجتماع کیلئے 20 اکتوبر کو این او سی جاری کیا تھا جس کی توثیق کیلئے درخواست کی گئی ،اجتماع کی اجازت سخت شرائط و ضوابط کے ساتھ مشروط قرار دی گئی ہے،منتظمین کو ضلعی انتظامیہ کے جاری کردہ قواعد و ضوابط پر من و عن عملدرآمد کرنا ہوگا،اجتماع کی اجازت منتظمین کے حلف نامے اور ذمہ داری قبول کرنے کی بنیاد پر دی گئی،انتظامیہ سٹیج سکیورٹی، خواتین و حضرات کیلئے علیحدہ انکلوژرز اور ہنگامی راستوں کی ذمہ دار ہوگی،انتظامیہ ہجوم اور بھگدڑ سے بچاؤ کیلئے مناسب پارکنگ اور رضاکار فراہم کرے گی ،تمام سکیورٹی ضروریات اسپیشل برانچ کے آڈٹ کے مطابق پوری کی جائیں گی،اجتماع کے دوران ساؤنڈ سسٹم صرف گراؤنڈ کے اندر اور کم والیوم پر استعمال ہوگا،کم عمر بچوں کو اجتماع میں لانے کی اجازت نہیں ہوگی،کسی دکاندار کو زبردستی کاروبار بند کرانے کی اجازت نہیں ہوگی،کسی قسم کا جلوس یا ریلی سڑکوں پر نہیں نکالی جائے گی،آئینی اداروں، عدلیہ یا افواج کے خلاف تقاریر مکمل طور پر ممنوع ہیں ،کسی قسم کے اسلحے یا لاٹھی کی اجازت نہیں دی جائے گی،کسی مذہبی گروہ یا فرقے کی توہین پر مبنی گفتگو کی اجازت نہیں ہوگی ،اجتماع کے اعلان کیلئے موبائل وین یا کسی بھی گاڑی کا استعمال نہیں ہوگا،شہر میں کہیں بھی وال چاکنگ کی اجازت نہیں ہوگی،اجتماع کے دوران مکمل پرامن ماحول برقرار رکھا جائے گا،قابل اعتراض اور اشتعال انگیز نعروں پر پابندی ہوگی،منتظمین کسی بھی ناگہانی واقعے کی تمام ذمہ داری خود اٹھائیں گے،پولیس عام شہریوں اور شرکاء کی مکمل سکیورٹی یقینی بنائے گی،

  • اسلامک سالیڈیریٹی گیمز ،ارشد ندیم گولڈ میڈل جیت گئے،وزیراعظم کی مبارکباد

    اسلامک سالیڈیریٹی گیمز ،ارشد ندیم گولڈ میڈل جیت گئے،وزیراعظم کی مبارکباد

    پاکستان کے اولمپک گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم نے اسلامک سالیڈیریٹی گیمز کے جیولن تھرو مقابلے میں گولڈ میڈل جیت لیا۔

    ارشد ندیم نے 83.05 میٹر کی تھرو پھینک کر طلائی تمغہ جیتا، پاکستان ہی کے محمد یاسر سلطان نے 76.04 میٹر تھرو کے ساتھ سلور میڈل اپنے نام کیا جیکہ نائیجیریا کے سیموئل ایڈمز تیسرے نمبر پر رہے،اسلامک سالیڈریٹی گیمز کے جیولن تھرو مقابلے اولمپک گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم نے ایک بار پھر سب کو پیچھے چھوڑتے ہوئے 83.05 کی لمبی تھرو کے ساتھ طلائی تمغہ اپنے نام کیا،پاکستان کے یاسر سلطان نے اپنی چھٹی باری میں 76.04 میٹر تھرو کرکے سلور میڈل جیتا۔ نائیجیریا کے سیموئل ایڈمز 76.01 میٹر کی تھرو کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ریاض میں منعقدہ اسلامی یکجہتی کھیلوں (Islamic Solidarity Games) میں پاکستانی جیولن ٹیم کی شاندار کارکردگی پر کھلاڑیوں کو مبارکباد دی،وزیرِ اعظم نے ارشد ندیم کی گولڈ اور محمد یاسر کی سلور میڈل جیتنے پر پزیرائی کی اور کہا کہ پاکستانی جیولن کھلاڑی پوری دنیا میں ملک و قوم کا نام روشن کر رہے ہیں. ارشد ندیم اور محمد یاسر نے کمال محنت اور ہنر سے اسلامی یکجہتی کھیلوں میں کامیابی حاصل کی.کھلاڑیوں اور انکے کوچز کی محنت سے ملک و قوم کا نام روشن ہوا.خوش آئند ہے کہ مختلف فارمیٹس میں کھلاڑی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں.نوجوانوں کو کھیلوں کے بہترین مواقع فراہم کرنے کیلئے حکومت ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے.

  • بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشتگردوں کیخلاف کاروائیاں جاری،کرم میں 22 ہلاک

    بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشتگردوں کیخلاف کاروائیاں جاری،کرم میں 22 ہلاک

    بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے قبائلی و سرحدی اضلاع میں دہشتگردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں۔ کئی حملوں کی ذمہ داری کالعدم تنظیموں نے قبول کی ہے، جبکہ کئی مقامات پر سیکیورٹی فورسز نے دہشت گرد عناصر کے خلاف کامیاب آپریشن کیے۔

    کالعدم یونائیٹڈ بلوچ آرمی نے دعویٰ کیا ہے کہ 4 نومبر کو ضلع کلات کے علاقے کوہ نگئی میں ڈرون حملہ ہوا، جس میں تنظیم کے چار افراد اور بلوچ لبریشن فرنٹ کا ایک رکن متاثر ہوا۔ترجمان مزار بلوچ کے مطابق حملے کے بعد علاقے میں آگ بھڑک اٹھی اور بعض چٹانوں پر "کیمیکل مادوں کے نشانات” دیکھے گئے۔تاہم سرکاری سطح پر نہ حملے کی تصدیق کی گئی ہے اور نہ کسی قسم کے جانی نقصان کی، جبکہ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے بھی تصدیق نہیں ہوسکی۔

    بلوچ لبریشن آرمی (BLA) نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس نے مستونگ شہر میں ایک فوجی کیمپ پر گرینیڈ لانچر سے حملہ کیا۔حکومتی ذرائع نے اس واقعے کی تصدیق نہیں کی اور معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔کیچ کے علاقے بیلیدہ گلی میں سیکیورٹی قافلوں کی حفاظت پر مامور اہلکاروں پر حملے کی ذمہ داری BLA نے قبول کی، مگر انتظامیہ نے بھی اس واقعے کی تصدیق نہیں کی ہے۔کالعدم بی ایل ایف نے 18 نومبر کو دو مختلف کارروائیوں کا دعویٰ کیا،بلگتر، کیچ،سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، مگر کوئی سرکاری تصدیق نہیں۔بازداد، آواران،ایک نجی ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور کو دھماکے سے نقصان پہنچانے کا دعویٰ۔ مقامی انتظامیہ نے نقصان کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔دونوں واقعات کی تحقیقات جاری ہیں۔بیلیدہ کے ریکو ندی کے قریب سے ایک نامعلوم شخص کی شدید مسخ شدہ لاش برآمد ہوئی ہے، جسے پولیس نے شناخت کے لیے اسٹیشن منتقل کردیا ہے۔پولیس کے مطابق لاش کئی روز پرانی معلوم ہوتی ہے۔

    قلعہ عبداللہ میں چیک پوسٹ پر مسلح افراد نے راکٹ لانچر اور خودکار اسلحے سے حملہ کیا جس میں لیویز افسر سعد اللہ شہید ہوگئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اہلکار چوری کی واردات روک رہے تھے کہ حملہ آور، مبینہ طور پر سردار فقیر محمد کی سربراہی میں، فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگئے۔واقعے کے بعد شہریوں نے کوئٹہ-چمن شاہراہ پر احتجاج کیا اور حملہ آوروں کی چھوڑ کر بھاگ جانے والی گاڑی کو آگ لگا دی۔

    مہمند: سرحدی علاقے سے 5 مبینہ دہشتگردوں کی لاشیں برآمد
    سرحدی بیلٹ تورا ناؤ کے علاقوں سورانڈنڈہ اور بہادر کلے میں 5 مبینہ دہشتگردوں کی لاشیں ملیں جنہیں مقامی افراد نے دفنا دیا۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ افراد افغانستان سے پاکستان داخل ہونے کی کوشش کے دوران جھڑپ یا بارودی مواد کی زد میں آئے۔شناخت اور اصل وجۂ موت کی تحقیقات جاری ہیں۔

    وانا کے علاقے قلندرآباد ٹاور کے نزدیک سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے 14 IEDs برآمد کرلیں، جن کا تعلق مبینہ طور پر کالعدم تنظیم کے کمانڈر مالنگ وزیر سے بتایا جاتا ہے۔
    تمام دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنادیا گیا۔

    دومیل سوداخیل میں دہشتگردوں کی فائرنگ کے بعد فورسز کا آپریشن جاری ہے۔علاقہ مکمل محاصرے میں ہے اور مزید تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔پولیس نے انٹیلی جنس اطلاعات پر شمشی خیل میں مختلف ٹھکانوں پر کارروائیاں کیں۔علاقہ جزوی طور پر گھیرے میں ہے۔توئی خلہ، شراکنی میں نامعلوم افراد نے ایک موٹر سائیکل سوار سے پیسے مانگے، انکار پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں کمسن بچہ عبیداللہ شہید،ایک شخص زخمی ہو گیا،علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا گیا۔تیراہ وادی کے علاقے برجمبرخیل نرہاﺅ میں نامعلوم سمت سے داغا گیا مارٹر شیل ایک گھر کے قریب آکر پھٹ گیا، جس سے بچہ محمد جاں بحق،والد استن گل اسپتال منتقلی کے دوران دم توڑ گئے،ایک بچی زخمی ہوئی،تحقیقات جاری ہیں۔

    سری ناؤرنگ میں سی ٹی ڈی بنوں اور مقامی پولیس کے مشترکہ آپریشن میں 2 خطرناک دہشتگرد ہو گئے،محمد سہیل عرف احمد،عظمت اللہ عرف حافظ ہلاک ہوگئے۔دونوں اہلکاروں کے قتل اور متعد کارروائیوں میں ملوث تھے۔برآمد ہونے والے سامان میں کلاشنکوف،9 ایم ایم پستول،موبائل فون،کالعدم تنظیم کا موادشامل ہے۔

    وسطی کرّم کے میناٹو اور مرزئی علاقوں میں کارروائی کے دوران دہشتگردوں کے ٹھکانے میں موجود بارودی مواد پھٹنے سے عمارت منہدم ہوگئی اور 22 دہشتگرد مارے گئے،کوٹ اعظم میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مقابلے کے دوران 2 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔حیدر خیل میں کارروائی کے دوران ٹی ٹی پی کے خصوصی سوسائیڈ یونٹ کے کارندے ہیواد ابرار کو ہلاک کردیا گیا، جو متعدد حملوں میں مطلوب تھا۔

    بنوں کے علاقے نری مر عباس سے ارمان ولد شاہ قیاض خان کو نامعلوم افراد نے اغوا کرلیا۔اغواکاروں نے 20 لاکھ روپے تاوان طلب کیا ہے۔فورسز نے مغوی کی بازیابی کیلئے کارروائیاں شروع کردی ہیں۔

  • آئی ایم ایف مطمئن نہ ہوا،پاکستان میں گورننس،بدعنوانی بارے رپورٹ جاری

    آئی ایم ایف مطمئن نہ ہوا،پاکستان میں گورننس،بدعنوانی بارے رپورٹ جاری

    عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان میں گورننس اور بدعنوانی سے متعلق رپورٹ جاری کر دی، گورننس اینڈ کرپشن رپورٹ میں پاکستان میں مسلسل بدعنوانی کے خدشات کی نشاندہی کی گئی ہے۔

    15 نکاتی اصلاحاتی ایجنڈا فوری شروع کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے آئی ایم ایف نے کہا کہ اصلاحات سے پاکستان کی معیشت 5 سے 6.5 فیصد تک بہتر ہوسکتی ہے،رپورٹ میں اہم سرکاری اداروں کو حکومتی ٹھیکوں میں خصوصی مراعات ختم کرنے، ایس آئی ایف سی کے فیصلوں میں شفافیت بڑھانے اور حکومت کے مالیاتی اختیارات پر سخت پارلیمانی نگرانی کی سفارش کی گئی ہے۔

    آئی ایم ایف نے انسدادِ بدعنوانی اداروں میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پالیسی سازی اور عملدرآمد میں زیادہ شفافیت اور جواب دہی ضروری ہے، گورننس بہتر بنانے سے نمایاں معاشی فائدے حاصل ہوں گے، ٹیکس سسٹم پیچیدہ، کمزور انتظام اور نگرانی بدعنوانی کا باعث ہے، عدالتی نظام کی پیچیدگی اور تاخیر معاشی سرگرمیوں کو متاثر کرتی ہے۔

    نجی ٹی وی کے مطابق آئی ایم ایف نے ایس آئی ایف سی کی جانب سے سالانہ رپورٹ فوری جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے تمام سرکاری خریداری 12 ماہ میں ای گورننس سسٹم پر لانے کی ہدایت کی ہے،ایس آئی ایف سی کے اختیارات، استثنیٰ اور شفافیت پر آئی ایم ایف نے سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب میں کمی بدعنوانی کے خطرات کی علامت ہے، بجٹ اور اخراجات میں بڑے فرق سے حکومتی مالیاتی شفافیت پر سوالات ہیں، حکومتی اور بیورو کریسی کے زیر اثر اضلاع کو زیادہ ترقیاتی فنڈ ملے،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوری 23 تا دسمبر 24 نیب کی 5.3 ٹریلین روپے کی ریکوری معشیت کو پہنچے نقصان کا کم حصہ ہے، پی ٹی آئی حکومت کی 2019 میں چینی برآمد کی اجازت ظاہر کرتی ہے اشرافیہ اپنے مفاد کے لیے پالیسوں پر قابض ہیں۔