Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، پارلیمنٹ ترمیم کر سکتی ہے یا نہیں؟ مولانا کا بڑا دعویٰ

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، پارلیمنٹ ترمیم کر سکتی ہے یا نہیں؟ مولانا کا بڑا دعویٰ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سکھر میں جے یو آئی کے زیر اہتمام جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے پارلیمنٹ سے آرمی چیف کی مددت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر نیا مطالبہ کر دیا۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ یہ پارلیمنٹ آئین میں ترمیم کا مینڈیٹ نہیں رکھتی۔ ترمیم نئی حکومت ہی کرے گی ،فوری انتخابات کا وعدہ فوری پورا کیا جائے نہیں تو ہم دوبارہ اسلام آباد آئیں گے۔

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، مولانا فضل الرحمان بھی خاموش نہ رہ سکے، کیا کہا؟

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ ملک کو نااہلوں کی سازشوں کا شکار نہیں ہونے دیں گے۔ احتساب کے نام پر ملک کی معیشت کا پہیہ جام کر کے رکھ دیا ہے۔ جو دوسروں کو بدعنوان کہہ رہے ہیں انہیں اپنی چوری نظر ہی نہیں آ رہی ۔ فارن فنڈنگ کیس اب تک التوا کا شکار ہے اور دوسروں کو چور کہنے والے خود اربوں روپے باہر سے فنڈنگ لے چکے ہیں۔ ریاست مدینہ کی بات کرنے خود اپنی چوری کا جواب نہیں دے رہے۔ ایسے حکمرانوں سے نجات حاصل کرنا ہی بہتر ہے جو کشمیر کو بیچ کر اب مگر مچھ کے آنسو بہا رہے ہیں۔

    اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی ختم، پلان اے ،بی، سی ختم پھر بھی مولانا امید سے

    فارن فنڈنگ کیس، شیخ رشید نے بھی بڑا مطالبہ کر دیا

    فارن فنڈنگ کیس سماعت سے قبل وزیراعظم عمران خان کے لئے ایک اور مشکل

    غیر ملکی فنڈنگ کیس میں تحریک انصاف کو ملی عدالت سے ملی بڑی کامیابی

    فارن فنڈنگ کیس، مریم اورنگزیب نے الیکشن کمیشن سے بڑا مطالبہ کر دیا

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ ناروے میں پولیس کی موجودگی میں قرآن پاک کو جلایا گیا، امت مسلمہ کے ساتھ نفرت کا مظاہرہ کون کر رہا ہے ؟ میں ناروے کے اس مسلمان نوجوان کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں جس نے قرآن پاک کی حفاظت کے لیے دفاع کیا۔

    مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ ہم جس آئین و قانون کا احترام کرنا چاہتے ہیں اس کی قدر کرو وگرنہ داستاں تک بھی نہ ہوگی تمہاری داستانوں میں۔اب تک قبول اور برداشت کرتے رہے ہیں لیکن اب نہیں کریں گے۔ انصاف میں تاخیر بھی انصاف کے قتل کے مترادف ہے۔ ہم نےاس ملک کو سنبھالنا ہے ، تمام حزب اختلاف متفق ہے کہ کسی ناجائز حکمران کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

  • نیدرلینڈ کی ملکہ کے بعد اردن کی شہزادی ، وزیراعظم سے ملاقات میں کس کی تعریف کرتی رہیں؟

    نیدرلینڈ کی ملکہ کے بعد اردن کی شہزادی بھی وزیراعظم سے ملاقات میں کس کی تعریف کرتی رہیں؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے زچہ و بچہ کی خوراک کے بارے میں ورلڈ فوڈ پروگرام کی خصوصی مشیر اور اردن کی شہزادی سارہ زید نے جمعرات کو وزیراعظم ہاﺅس میں ملاقات کی۔

    وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے معزز مہمان کا خیرمقدم کرتے ہوئے زچہ و بچہ کی خوراک سے متعلق آگاہی میں اضافہ کیلئے ان کے عزم کو سراہا۔ وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت پاکستان میں خوراک کی کمی کے مسئلہ سے نمٹنے کیلئے پرعزم ہے۔

    خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے کیا کرنا ہو گا؟ وزیراعظم کی موجودگی میں ملکہ میکسیما کی تجویز

    اب ڈومور ختم،کوئی طاقت پاکستان کو آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی، وزیراعظم عمران خان

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ انہوں نے قوم سے اپنے خطاب میں خوراک کی کمی کے مسئلہ بشمول ملک میں بچوں کی نشوونما میں کمی سے نمٹنے کے عزم کا اعادہ کیا جو کہ موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزیراعظم نے شہزادی کو خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے احساس پروگرام اور غربت کے خاتمہ کے دیگر پروگراموں کے تحت اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔

    بہت ہو گیا،اب ہو گی قانونی کاروائی، مگر کس کیخلاف، فروغ نسیم پھٹ پڑے

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع،وزیراعظم نے کیا کہا تھا؟ اٹارنی جنرل نے اندر کی بات بتا دی

    آرمی چیف کی مدت ملازمت، عدالتی فیصلہ کے بعد وزیراعظم کا انتہائی اہم بیان

    ریاست مدینہ کی جانب ایک قدم اور،پناہ گاہ، احساس، دسترخوان کے بعد وزیراعظم لا رہے ہیں ایسا پروگرام کہ اپوزیشن بھی ہوئی حیران

    اردن کی شہزادی سارہ زید نے وزیراعظم کو اپنے دورہ کے دوران پاکستان میں اپنی مصروفیات سے آگاہ کیا اور زچہ و بچہ کی خوراک سے متعلق حکومت پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے خوراک کی کمی سے متعلق وزیراعظم کی شاندار  قیادت کی تعریف کی اور اسے متاثر کن اور انتہائی اہم قرار دیا۔

  • بہت ہو گیا،اب ہو گی قانونی کاروائی، مگر کس کیخلاف، فروغ نسیم پھٹ پڑے

    بہت ہو گیا،اب ہو گی قانونی کاروائی، مگر کس کیخلاف، فروغ نسیم پھٹ پڑے

    بہت ہو گیا،اب ہو گی قانونی کاروائی، مگر کس کیخلاف، فروغ نسیم پھٹ پڑے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیر قانون و انصاف بیرسٹر فروغ نسیم نے وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 243 کے تحت سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو توسیع دی گئی۔ اس تعیناتی کو عدالت میں چیلنج کیا گیا لیکن بعد ازاں اس کا فیصلہ نہیں ہو سکا۔ عدالت نے اس معاملے پر موجودہ حکومت کی رہنمائی کی ہے جس پر چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ سمیت اعلیٰ عدلیہ کے تمام ججوں کے شکر گزار ہیں۔

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع،وزیراعظم نے کیا کہا تھا؟ اٹارنی جنرل نے اندر کی بات بتا دی

    فروغ نسیم کا مزید کہنا تھا کہ ججوں اور وکلاءکے درمیان بحث مباحثہ ہوتا ہے، اس بحث کو فیصلہ نہیں کہہ سکتے، میڈیا کو چاہیے کہ وہ خبریں جاری کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کر لیا کرے۔ بعض چینلز نے میرے اور وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر پر وزیراعظم کی برہمی کے حوالے سے خبریں چلائیں جو کہ جھوٹی تھیں، ہم ان چینلز کے خلاف قانونی چارہ جوئی پر غور کر رہے ہیں، اسی طرح میرے لائسنس سے متعلق بھی غلط خبریں چلائی گئیں، یہ اہم مقدمہ تھا، اس معاملے پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ماضی کی حکومتوں نے اس حوالے سے قانون سازی کر کے اسے ٹھیک کیوں نہیں کیا۔

    فروغ نسیم کا مزید کہنا تھا کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ زبردست جرنیل ہیں، وہ دشمنوں کے سامنے چٹان بن کر کھڑے ہیں، دشمن انہیں ہٹانا چاہتا ہے لیکن ہم جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ کھڑے ہیں، ان کا بھرپور ساتھ دینا ہے۔ حکومت جمہوریت، آئین اور قانون کے ساتھ کھڑی ہے، عدلیہ اور فوج ہمارے ادارے ہیں، ان پر سیاست نہیں کرنی چاہیے۔

    سابق وفاقی وزیر قانون کا مزید کہنا تھا کہ ججز قانون کے محافظ ہیں، ہم نے بھی عدالتوں کا احترام کیا ہے، میڈیا کو بھی ججوں، فوج اور وکلاءکا احترام کرنا چاہیے۔ چیف جسٹس صاحبان اور آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ سے پہلے ان عہدوں پر ان کے پیش رو کے ناموں کے نوٹیفکیشن جاری کئے جاتے ہیں۔

    فروغ نسیم کا مزید کہنا تھا کہ رضا کارانہ طور پر وزیر قانون و انصاف کے عہدے سے استعفیٰ دیا ہے، وزیراعظم عمران خان نے کابینہ اجلاس کے دوران میرے اس فیصلے کا اعلان کیا جس کو کابینہ نے سراہا.

    چیف جسٹس نے قانون میں کون کونسی ترامیم کا کہہ دیا؟ فروغ نسیم نے عدالت میں کیا کہا؟

    وفاقی کابینہ میں کس وفاقی وزیر کا استعفیٰ منظور کر لیا گیا؟ اہم خبر

    آرمی چیف کی مدت ملازمت،عدالتی فیصلے پر بابر اعوان کا دو لفظی تبصرہ

    سابق وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کو دوبارہ وزرات دی جائے گی یا نہیں؟ اہم خبر

    واضح رہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں سپریم کورٹ نے چھ ماہ توسیع کر دی ہے،چیف جسٹس نے  فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عدالت نے آرٹیکل 243 بی کا جائزہ لیا،حکومت نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع آرٹیکل 243 فور بی کے تحت کی ہے،جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفکیشن جمع کرایا گیا،ہمارے سامنے یہ سوال آیا کہ کیا توسیع دی جاسکتی ہے یا نہیں،آرمی ایکٹ اور اس کے رول کا جائزہ لیا،اٹارنی جنرل نے عدالتی سوالوں کا جواب دیا، دستاویزات کے مطابق پاک آرمی کا کنٹرول وفاقی حکومت سنبھالتی ہے،

  • آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع،وزیراعظم نے کیا کہا تھا؟ اٹارنی جنرل نے اندر کی بات بتا دی

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع،وزیراعظم نے کیا کہا تھا؟ اٹارنی جنرل نے اندر کی بات بتا دی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اٹارنی جنرل انور منصور خان نے سابق وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم، مشیر برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 1973ءکے آئین کے تناظر میں ماضی میں چیف آف آرمی سٹاف تعینات کئے گئے، موجودہ حکومت نے بھی اسی طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے چیف آف آرمی سٹاف کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کیا، قانون میں کہیں بھی چیف آف آرمی سٹاف کی تعیناتی اور اس کے حوالے سے ٹی او آرز کا ذکر نہیں، سپریم کورٹ میں تین روز کے دوران تفصیلی بحث سے کئی چیزیں سامنے آئیں، آرٹیکل 243 اور آرمی ریگولیشنز کا سیکشن 255 کا بار بار ذکر ہوا، آرٹیکل 243 چیف آف جنرل سٹاف کی تعیناتی سے متعلق ہے جبکہ آرمی ریگولیشنز کا سیکشن 255 اس کے عہدے اور رینک سے متعلق ہے، دونوں کو الگ الگ انداز میں دیکھا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ ماضی میں تعینات کئے گئے چیف آف آرمی سٹاف کے نوٹیفکیشن میں آرمی ریگولیشنز کے سیکشن 255 کا ذکر ہے، وزیراعظم عمران خان نے دو ٹوک انداز میں کہا تھا کہ آئین اور قانون پر عملدرآمد کریں گے، عدالت نے نوٹیفکیشن میں جو ترامیم کرائیں وہ آرٹیکل 243 کے حوالے سے تھیں، آخری نوٹیفکیشن میں سے عدالت کے حکم پر اس کا نام نکال دیا گیا ہے، اس آخری نوٹیفکیشن کو عدالت نے تسلیم کیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 1973ءکے بعد اس حوالے سے کوئی قانون سازی نہیں کی گئی، عدالت نے حکم دیا ہے کہ اس حوالے سے چھ ماہ کے اندر قانون سازی کی جائے جس میں چیف آف آرمی سٹاف کی تعیناتی کے طریقہ کار سمیت دیگر امور کا احاطہ ہو تاکہ مستقبل میں اس قانون سازی کے تحت تعیناتی کی جا سکے۔

    انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق قانون سازی موجودہ حکومت کے لئے اعزاز کی بات ہو گی اور اس سے مستقبل میں آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق درست سمت متعین ہو گی۔ ملک کے باہر مخالفین اور دشمن اس حوالے سے ٹی وی چینلز پر بحث کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں، پاکستان ہم سب کا ہے، اس کے خلاف کوئی بات نہ کریں جس سے دوسروں کو ہمارے خلاف بات کرنے کا موقع ملے۔

    چیف جسٹس نے قانون میں کون کونسی ترامیم کا کہہ دیا؟ فروغ نسیم نے عدالت میں کیا کہا؟

    وفاقی کابینہ میں کس وفاقی وزیر کا استعفیٰ منظور کر لیا گیا؟ اہم خبر

    آرمی چیف کی مدت ملازمت،عدالتی فیصلے پر بابر اعوان کا دو لفظی تبصرہ

    سابق وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کو دوبارہ وزرات دی جائے گی یا نہیں؟ اہم خبر

    واضح رہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں سپریم کورٹ نے چھ ماہ توسیع کر دی ہے،چیف جسٹس نے  فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عدالت نے آرٹیکل 243 بی کا جائزہ لیا،حکومت نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع آرٹیکل 243 فور بی کے تحت کی ہے،جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفکیشن جمع کرایا گیا،ہمارے سامنے یہ سوال آیا کہ کیا توسیع دی جاسکتی ہے یا نہیں،آرمی ایکٹ اور اس کے رول کا جائزہ لیا،اٹارنی جنرل نے عدالتی سوالوں کا جواب دیا، دستاویزات کے مطابق پاک آرمی کا کنٹرول وفاقی حکومت سنبھالتی ہے،

    عدالت نے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف کا تقرر صدر وزیراعظم کی مشاورت سے کرتا ہے،آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی کے حوالے سے قانون خاموش ہے،حکومت نے مسلح افواج سے متعلق قوانین میں ترامیم کیلئے 6 ماہ کا وقت مانگا، ہم معاملہ پارلیمنٹ اور حکومت پر چھوڑتے ہیں ،توسیع کےمعاملےکوقانون سازی مکمل ہونے کے بعد دیکھا جائے گا،

  • اب ڈومور ختم،کوئی طاقت پاکستان کو آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی، وزیراعظم عمران خان

    اب ڈومور ختم،کوئی طاقت پاکستان کو آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی، وزیراعظم عمران خان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان تمام ممالک سے تعلقات بہتر کرنے کا خواہاں اور مصالحت کا کردار ادا کر رہا ہے، امداد کے لئے دوسروں کی جنگ میں کود کر ملک نے بہت نقصان اٹھایا، اب ہم دنیا کے ساتھ سیدھی بات کرتے ہیں اور ایسا وعدہ نہیں کرتے جو پورا نہ کر سکیں، ملک میں جمہوریت مستحکم ہو رہی ہے، ادارے ایک دوسرے کی عزت کرتے ہیں، اداروں میں مثالی ہم آہنگی پائی جاتی ہے، ملک میں عدم استحکام کی خواہش رکھنے والوں کو مایوسی ہوئی، پاکستان مشکل وقت سے نکل کر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور کوئی طاقت اسے آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں دو روزہ افریقی ممالک کے لئے پاکستان کے سفراءکی کانفرنس کی اختتامی نشست سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت نے ملک میں میرٹ کو فروغ دیا ہے، ماضی میں میرٹ کی بجائے سیاسی بنیادوں پر لوگوں کی تقرریاں کی گئیں، ہم نے بیورو کریسی میں ترقیاں بھی میرٹ پر دیں اور تقرریاں میرٹ پر کیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر ادارے میں میرٹ پر لوگوں کو لگائیں گے کیونکہ جس ملک میں میرٹ ہو وہی آگے جاتا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں چین کی مثال دی جہاں میرٹ کے نظام کے ذریعے لوگ اوپر آتے ہیں۔

    آرمی چیف کی مدت ملازمت، عدالتی فیصلہ کے بعد وزیراعظم کا انتہائی اہم بیان

    ریاست مدینہ کی جانب ایک قدم اور،پناہ گاہ، احساس، دسترخوان کے بعد وزیراعظم لا رہے ہیں ایسا پروگرام کہ اپوزیشن بھی ہوئی حیران

    وزیراعظم نے کہا کہ ساٹھ کی دہائی میں پاکستان کی بیورو کریسی میرٹ کی بنیاد پر کام کر رہی تھی، کھیلوں میں بھی وہی ٹیمیں آگے جاتی ہیں جو میرٹ پر منتخب کی جاتی ہیں ، جمہوریت کی خوبی ہی یہ ہے کہ اس میں میرٹ کی بیناد پر لوگوں کو لایا جاتا ہے جبکہ اس کے برعکس بادشاہت میں پسند و ناپسند کی بنیاد پر نظام چلتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مدینہ کی ریاست میں بھی جمہوری کلچر تھا۔ انہوں نے کہا کہ سمندر پار پاکستانیز ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہیں، شرح نمو جتنا مرضی بڑھ جائے اگر کرنسی نیچے جائے گی تو خسارہ بڑھ جائے گا اور کرنسی گرنے سے ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے، کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ بڑھنے سے ملک غریب ہو جاتے ہیں کیونکہ سرمایہ نہیں آتا، ہمارے لئے ہماری برآمدات اور ترسیلات زر کی بڑی اہمیت ہے، یہ ہماری معیشت کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے سمندر پار پاکستانیوں کا ہماری معیشت میں بڑا حصہ ہے، اس لئے ہماری سفارتکاری میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔

    کامیاب جوان پروگرام،20 روز میں کتنے لاکھ درخواستیں موصول ہوئیں؟ وزیراعظم کو بریفنگ

    انہوں نے کہا کہ پریس اتاشیوں کا دوسرے ملکوں سے تعلقات میں کلیدی کردار ہوتا ہے۔ انہوں نے پریس اتاشیوں کو ہدایت کی کہ وزارت خارجہ سے رابطے میں رہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں افریقہ کو نظر انداز کیا گیا، قومیں بڑی سوچ کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں، ساٹھ کی دہائی میں ہمارے اندر خود اعتمادی تھی اور ہماری بیورو کریسی کا مقابلہ دنیا میں کسی کے ساتھ بھی کیا جا سکتا تھا، پاکستان ہر میدان میں بہت ترقی کر رہا تھا، ہمارے سفارتکار، بیورو کریٹس اور افسران اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل تھے اور دنیا میں ان کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا جاتا تھا، آہستہ آہستہ وہ اعتماد ختم ہوتا گیا، اب ہمیں اسے واپس حاصل کرنا ہے اور اپنے مقام کو سمجھنا ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ جب میں نیلسن منڈیلا سے ملا تو انہوں نے پاکستان کی بہت تعریف کی، وہ قائداعظم سے بہت متاثر تھے، ہم نے اپنی جگہ خود کھوئی ہے، اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو اہم جغرافیائی حیثیت دی ہے اور وسائل سے مالا مال کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت مستحکم ہو گئی ہے، پاکستانی روپے کی قدر اور سٹاک ایکس چینج میں، باوجود اس کے کہ عدم استحکام کی کوششیں کی گئیں، بہتری آئی ہے۔ وزیراعظم نے افریقہ پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ترکی کی مثال ہمارے سامنے ہے، ترکی بھی افریقہ میں گیا ہے، ہم نے بھی اپنی پوری کوششیں کرنی ہیں ، ہمارے سفارتکاروں میں بہت صلاحیت ہے، وہ خود کو مشن پر سمجھیں اور پاکستان کے لئے سرمایہ کاری اور تجارت کے مواقع لے کر آئیں۔

    پاکستان میں داعش کا وجود نہیں، ہمسایہ میں داعش کی موجودگی پرتحفظات ہیں، پاکستان

    مودی کے خلاف وزیراعظم عمران خان کا بڑا اعلان، کیا کہا؟ بھارت ہوا پریشان

    وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی جو خارجہ پالیسی اب ہے، یہ بہت پہلے ہونی چاہیے، پاکستان کو کسی کے لئے استعمال نہیں ہونا چاہیے تھا اور ہمیں آزاد خارجہ پالیسی پر گامزن رہنا چاہیے تھا، لیکن ہم نے امداد کے لئے دوسروں کی جنگ میں کود کر بہت نقصان اٹھایا، اب ہم نے سب سے تعلقات بہتر کرنے ہیں، ایران سے ہم نے اپنے تعلقات بہتر کئے ہیں، سعودی عرب سے ہمارے تعلقات پہلے سے بہتر ہیں، ترکی اور ملائیشیا سے بھی تعلقات ہم نے مضبوط کئے ہیں۔ اب ہم فریق بننے کی بجائے ثالث کا کردار ادا کرنے کی کوشش کریں گے۔ افغان جنگ سے ہم نے بہت نقصان اٹھایا اور اس کے نتیجہ میں پاکستان کے حصے میں صرف بربادی آئی اور پاکستان پر دہرا کھیل کھیلنے کا الزام لگایا گیا۔ ماضی میں ڈو مور کے لئے دباﺅ کا سامنا کرنا پڑا، اب ہم سیدھی بات کرتے ہیں اور ایسا غلط وعدہ نہیں کرتے جو پورا نہیں کر سکتے، ماضی میں وہ وعدے کئے گئے جو ہم پورے نہیں کر سکتے تھے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ملکی استحکام کو دھرنے اور مقدمے کے ذریعے عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوشش کی گئی۔ دھرنے کے باعث کشمیر کا مسئلہ پس پشت چلا گیا، کشمیر کا معاملہ اس سے پہلے کبھی اس طرح نہیں اٹھایا گیا جس طرح اب اٹھایا جا رہا ہے، بھارت میں خوشیاں منائی گئیں اور عدم استحکام اور اداروں میں لڑائی کی خواہشات وابستہ کی گئیں، پاکستان کے مضبوط ادارے بھارت کو کھٹکتے ہیں، بھارت کی نسل پرست جماعت بی جے پی اور ملکی دولت لوٹ کر باہر رکھنے والے مافیا کو بڑی مایوسی ہوئی جو عدم استحکام کی توقع لگائے بیٹھے تھے تاکہ ان کا پیسہ اور لوٹی ہوئی دولت محفوظ رہے۔ پاکستان مشکل وقت سے نکل کر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور کوئی طاقت پاکستان کو آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی۔

  • نواز شریف کا ہسپتال میں ایک بار پھر معائنہ، ٹیسٹ ہوا یا نہیں؟ اہم خبر

    سابق وزیراعظم نواز شریف کی صحت بدستور خراب ہے،انکا ہسپتال میں ٹیسٹ ہوا یا نہیں؟ اہم خبر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کا لندن میں علاج جاری ہے، نواز شریف کا لندن کے گائیز ہسپتال میں پی ای ٹی سکین کیا جانا تھا تا ہم طبیعت کی ناسازی کے باعث ای ٹی سکین نہ ہو سکا۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کافی دیر تک ہسپتال میں موجود رہے۔ نواز شریف اپنے صاحبزادے حسین نواز اور ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کے ساتھ ہسپتال پہنچے جہاں انہوں نے کئی گھنٹے گزارے۔

    مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہا ای ٹی سکین کروانا ضروری ہے،ٹیسٹ سے مرض کی تشخیص اور علاج میں مدد ملے گی۔ پی ای ٹی انتہائی اہم ٹیسٹ ہے۔ برقی شعاعوں کے تجزیہ کا مقصد کینسر کے خدشات کو دور کرنا ہے۔ جدید ترین ٹیکنالوجی کی مدد سے پلیٹ لیٹس گرنے کی تشخیص ممکن ہوگی۔

    نواز شریف کی حالت نازک مگر بیماری کی رپورٹ سامنے کیوں نہیں آئی؟ اہم خبر

    نواز شریف کی صحت، ڈاکٹرز نے وارننگ دے دی، خطرے کی گھنٹی

    بانڈ نہیں ہم یہ چیز دے سکتے ہیں،ن لیگ نے عدالت میں کیا کہا؟ سماعت دوسری بار ملتوی

    نوازان ای سی ایل، وفاقی حکومت کیا کرنے جا رہی؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتا دیا

    شہباز اگر مگر کے بغیر واضح طور پہ بتائیں کہ نواز شریف واپس آئیں گے؟ عدالت

    مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ ٹیسٹ کے نتیجے میں نواز شریف کے مرض کی تشخیص اور علاج میں خاصی مدد ملنے کی امید ہے۔

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کا لندن میں معروف ڈاکٹرز معائنہ کر چکے ہیں جبکہ معالجین کی تجویز پرنواز شریف کی گھر میں فزیو تھراپی کے سیشن بھی کئے جا رہے ہیں۔

    سابق وزیراعظم نواز شریف کوٹ لکھپت جیل میں قید تھے اور العزیزیہ ریفرنس کیس کی سزا کاٹ رہے تھے، تا ہم بیماری کے بعد انہیں ہسپتال اور پھر گھر منتقل کیا گیا بعد ازاں نواز شریف علاج کے لئے لندن روانہ ہو گئے اب انکا لندن گھر میں علاج جاری ہے. طبی بنیادوں پر نواز شریف کی اسلام آباد ہائیکورٹ نے آٹھ ہفتوں کے لئے ضمانت منظور کر رکھی ہے

    نوازشریف و زرداری کو چھوڑنے کا اعلان، پاکستانی سیاست میں ہلچل مچ گئی

    العزیزیہ ریفرنس،نوازشریف کی سزا کے خلاف اپیل سماعت کے لئے مقرر

    واضح رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نمبر دو کے جج محمد ارشد ملک نے دونوں ریفرنسز پر فیصلے سنائے تھے اور العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں نواز شریف کو سات سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں عدم شواہد کی بناء پر بری کر دیا تھا۔

  • فروغ نسیم کو دوبارہ وزرات دی جائے گی یا نہیں؟ اہم خبر

    فروغ نسیم کو دوبارہ وزرات دی جائے گی یا نہیں؟ اہم خبر

    سابق وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کو دوبارہ وزرات دی جائے گی یا نہیں؟ اہم خبر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کل دوبارہ وزرات کا حلف اٹھائیں گے، ان کو دوبارہ وفاقی وزیر قانون بنائے جانے کا امکان ہے،

    فروغ نسیم نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالہ سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست کے پہلے روز سماعت کے بعد وفاقی کابینہ کے اجلاس میں استعفیٰ دیا تھا، وزیراعظم عمران خان نے انکا استعفیٰ منطور کر لیا تھا، وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کابینہ اجلاس کے بعد بریفنگ مین کہا تھا کہ فروغ نسیم نے استعفیٰ دیا ہےا ور وہ عدالت میں آرمی چیف کا کیس لڑیں گے.

    چیف جسٹس نے قانون میں کون کونسی ترامیم کا کہہ دیا؟ فروغ نسیم نے عدالت میں کیا کہا؟

    وفاقی کابینہ میں کس وفاقی وزیر کا استعفیٰ منظور کر لیا گیا؟ اہم خبر

    آرمی چیف کی مدت ملازمت،عدالتی فیصلے پر بابر اعوان کا دو لفظی تبصرہ

    واضح رہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں سپریم کورٹ نے چھ ماہ توسیع کر دی ہے،چیف جسٹس نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عدالت نے آرٹیکل 243 بی کا جائزہ لیا،حکومت نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع آرٹیکل 243 فور بی کے تحت کی ہے،جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفکیشن جمع کرایا گیا،ہمارے سامنے یہ سوال آیا کہ کیا توسیع دی جاسکتی ہے یا نہیں،آرمی ایکٹ اور اس کے رول کا جائزہ لیا،اٹارنی جنرل نے عدالتی سوالوں کا جواب دیا، دستاویزات کے مطابق پاک آرمی کا کنٹرول وفاقی حکومت سنبھالتی ہے،

    عدالت نے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف کا تقرر صدر وزیراعظم کی مشاورت سے کرتا ہے،آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی کے حوالے سے قانون خاموش ہے،حکومت نے مسلح افواج سے متعلق قوانین میں ترامیم کیلئے6 ماہ کا وقت مانگا،ہم معاملہ پارلیمنٹ اور حکومت پر چھوڑتے ہیں،توسیع کےمعاملےکوقانون سازی مکمل ہونے کے بعد دیکھا جائے گا،

     

  • آرمی چیف کی مدت ملازمت،عدالتی فیصلے پر بابر اعوان کا دو لفظی تبصرہ

    آرمی چیف کی مدت ملازمت،عدالتی فیصلے پر بابر اعوان کا دو لفظی تبصرہ

    آرمی چیف کی مدت ملازمت،عدالتی فیصلے پر بابر اعوان کا دو لفظی تبصرہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے کہا ہے کہ بہت سے لوگ اداروں کے درمیان تصادم چاہتے تھے تاہم موجودہ حالات میں پاکستان تصادم کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

    بابراعوان نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا مقدمہ تھا۔ آل از ویل، نتیجہ ٹھیک نکلا۔ اداروں کو اب آگے چلنا چاہیے۔ عدالت نے حکومت نہیں پارلیمنٹ کو قانون سازی کا کہا کہ پارلیمنٹ طے کرے گی مدت ملازمت کتنی ہونی چاہیے، معاملہ آسانی کے ساتھ حل ہو جائے گا

    چیف جسٹس نے قانون میں کون کونسی ترامیم کا کہہ دیا؟ فروغ نسیم نے عدالت میں کیا کہا؟

    واضح رہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں سپریم کورٹ نے چھ ماہ توسیع کر دی ہے،چیف جسٹس نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عدالت نے آرٹیکل 243 بی کا جائزہ لیا،حکومت نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع آرٹیکل 243 فور بی کے تحت کی ہے،جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفکیشن جمع کرایا گیا،ہمارے سامنے یہ سوال آیا کہ کیا توسیع دی جاسکتی ہے یا نہیں،آرمی ایکٹ اور اس کے رول کا جائزہ لیا،اٹارنی جنرل نے عدالتی سوالوں کا جواب دیا، دستاویزات کے مطابق پاک آرمی کا کنٹرول وفاقی حکومت سنبھالتی ہے،

    عدالت نے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف کا تقرر صدر وزیراعظم کی مشاورت سے کرتا ہے،آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی کے حوالے سے قانون خاموش ہے،حکومت نے مسلح افواج سے متعلق قوانین میں ترامیم کیلئے6 ماہ کا وقت مانگا،ہم معاملہ پارلیمنٹ اور حکومت پر چھوڑتے ہیں،توسیع کےمعاملےکوقانون سازی مکمل ہونے کے بعد دیکھا جائے گا،

    سپریم کورٹ نے درخواست گزار حنیف راہی کی پٹیشن خارج کرتے ہوئے نمٹا دی.

     

  • کرتار پورراہداری کا آڈٹ کس نے شروع کروا دیا؟ اہم خبر

    کرتار پورراہداری کا آڈٹ کس نے شروع کروا دیا؟ اہم خبر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں وزارت مذہبی امور کے آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔ آڈٹ حکام کے مطابق منیٰ اور عرفات میں حج انتظامات پر غیر مجاز ادائیگی کی گئی جس پر کمیٹی کی جانب سے کہا گیا کہ وزارت معاملے کی تحقیقات کر کے 30 دن میں رپورٹ پیش کرے۔

    کرتارپور، وزیراعظم پہنچ گئے، سکھ برادری کی خصوصی تصاویر باغی ٹی وی پر

    آج جپھی رنگ لے آئی،عمران خان وہ سکندر ہیں جو لوگوں کے دلوں میں راج کرتے ہیں،نوجوت سنگھ سدھو

    وزیراعظم نے سدھو سے جو وعدہ کیا وہ پورا کر دیا، نورالحق قادری

    آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ کرتار پور راہداری کا آڈٹ بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ سینیٹر مشاہد حسین نے کہا کہ کرتار پور کوریڈور بہت اہم پروجیکٹ ہے۔ بھارت کو اس پروجیکٹ پر سب سے زیادہ تکلیف ہوئی۔

    خطے میں امن کیلئے وزیراعظم کی ہدایت پر تعمیر کئے گئے کرتار پور رہداری منصوبے کے اخراجات پاکستان نے ادا کیے، پاک بھارت معاہدے کے مطابق منصوبہ مرحلہ وار مکمل ہوگا، ابتدائی مرحلے میں پل اور سرنگ سمیت عمارت تعمیر کی گئی ہے، دوسرے مرحلے میں عمارت کی توسیع، یاتریوں کیلئے رہائشگاہیں تعمیر ہوں گی، کرتار پور آنیوالے یاتریوں کی سہولت کیلئے بازار بھی قائم کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ 18 اگست 2018 کو وزیر اعظم عمران خان کی تقریب حلف برداری میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کو کرتارپور راہداری کھولنے کی خوشخبری سنائی۔ 28 نومبر 2018 کو وزیر اعظم عمران خان نے کرتار پور راہداری کا سنگ بنیاد رکھا۔

  • آرمی چیف کی مدت ملازمت، عدالتی فیصلہ کے بعد وزیراعظم کا انتہائی اہم بیان

    آرمی چیف کی مدت ملازمت، عدالتی فیصلہ کے بعد وزیراعظم کا انتہائی اہم بیان

    آرمی چیف کی مدت ملازمت، عدالتی فیصلہ کے بعد وزیراعظم کا انتہائی اہم بیان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اداروں کوآپس میں لڑانے کی خواہش رکھنے والوں کو آج بہت مایوسی ہوئی ہوگی۔ اداروں کے درمیان تصادم سے عدم استحکام لانے والے ہار گئے ہیں

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مافیا ملک کوغیرمستحکم کرکے لوٹ کے مال کی حفاظت کے لیے کوشاں ہے۔ 23 سال قبل پی ٹی آئی آزاد عدلیہ اور قانون کے حکمرانی کی وکالت کرنے والی پہلی پارٹی تھی۔ 2007 میں بھی تحریک انصاف عدلیہ کی آزادی کے لئے پیش پیش تھی اور انہیں جیل بھیج دیا گیا تھا۔

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ وہ چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ کی بے حد عزت کرتے ہیں۔ بیرونی دشمنوں اور اندرونی مافیا کے لئے آج مایوسی کا دن ہے.

    واضح رہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں سپریم کورٹ نے چھ ماہ توسیع کر دی ہے،چیف جسٹس نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عدالت نے آرٹیکل 243 بی کا جائزہ لیا،حکومت نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع آرٹیکل 243 فور بی کے تحت کی ہے،جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفکیشن جمع کرایا گیا،ہمارے سامنے یہ سوال آیا کہ کیا توسیع دی جاسکتی ہے یا نہیں،آرمی ایکٹ اور اس کے رول کا جائزہ لیا،اٹارنی جنرل نے عدالتی سوالوں کا جواب دیا، دستاویزات کے مطابق پاک آرمی کا کنٹرول وفاقی حکومت سنبھالتی ہے،

    عدالت نے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف کا تقرر صدر وزیراعظم کی مشاورت سے کرتا ہے،آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی کے حوالے سے قانون خاموش ہے،حکومت نے مسلح افواج سے متعلق قوانین میں ترامیم کیلئے6 ماہ کا وقت مانگا،ہم معاملہ پارلیمنٹ اور حکومت پر چھوڑتے ہیں،توسیع کےمعاملےکوقانون سازی مکمل ہونے کے بعد دیکھا جائے گا،

    سپریم کورٹ نے درخواست گزار حنیف راہی کی پٹیشن خارج کرتے ہوئے نمٹا دی.

    چیف جسٹس نے قانون میں کون کونسی ترامیم کا کہہ دیا؟ فروغ نسیم نے عدالت میں کیا کہا؟