Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • حمزہ شہباز کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع، شہباز شریف بارے عدالت نے کیا حکم دیا؟

    حمزہ شہباز کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع، شہباز شریف بارے عدالت نے کیا حکم دیا؟

    حمزہ شہباز کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع، شہباز شریف بارے عدالت نے کیا حکم دیا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق احتساب عدالت میں رمضان شوگر ملز ریفرنس میں حاضری سے استثنیٰ کے لی دی گئی حمزہ شہباز کی درخواست پر قومی احتساب بیورو(نیب) سے جواب طلب کر لیا ہے۔احتساب عدالت کے جج امجد نذیر چودھری نے کیس کی سماعت کی اور ملزم حمزہ شہباز کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ ختم ہونے پر عدالت میں پیش کیا گیا۔

    قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف اپنے بھائی نواز شریف کے علاج کے سلسلے میں بیرون ملک ہونے کے باعث پیش نہیں ہوئے اور لاہور ہائیکورٹ کے حکم کے مطابق حاضری سے استثنی دینے کیلئے درخواست دی گئی۔ وکیل نیب نے مؤقف اپنایا کہ ملزم شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر فرد جرم عائد کی جا چکی ہے، عدالت نے رمضان شوگر ملز ریفرنس میں ایک گواہ کا بیان بھی قلمبند کر رکھا ہے۔

    نیب کے مطابق حمزہ شہباز رمضان شوگر ملز کے سی ای او ہیں اور ملزم نے ایم پی اے مولانا رحمت اللہ سے درخواست دلوا کر قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا،نیب کے وکیل نے کہا کہ رمضان شوگر ملز کیلئے تحصیل بھوانہ کے قریب سیوریج نالہ بنوایا گیا، 2015 میں 36 کروڑ روپے سے مقامی آبادیوں کے نام پر رمضان شوگر ملز کیلئے نالہ تعمیر کیا گیا۔ حکومتی محکموں نے شہباز شریف، حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کی خوشنودی کیلئے مقامی آبادیوں کے فنڈز رمضان شوگر ملز کیلئے استعمال کیے۔

    پانچ کمپنیوں میں 19 کروڑ کی منتقلی،حمزہ شہباز نیب کو مطمئن نہ کر سکے

    شہباز شریف کو لائف ٹائم ایوارڈ برائے کرپشن دیا جائے: شہباز گل

    حمزہ شہباز کے پروڈکشن آرڈر کے خلاف درخواست دائر

    نیب نے عدالت میں کہا کہ قانون عوامی نمائندوں کو اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر کام کرنے کی اجازت دیتا ہے، تجاوز کی نہیں۔عدالت نے آئندہ سماعت پر ملزم شہبازشریف کو طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 12 دسمبر تک ملتوی کر دی.

    آپ یہاں پریس کانفرنس کرنے نہیں آئے، عدالت برہم، حمزہ شہباز نے کیا جواب دیا؟

    حمزہ شہباز کی عدالت پیشی کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، احتساب عدالت کے اطراف پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی ،عدالت کی جانب جانے والے تمام راستے بند کئے گئے تھے،

  • سنگین غداری کیس، خصوصی عدالت نے وفاقی حکومت کو کیا حکم دے دیا؟

    سنگین غداری کیس، خصوصی عدالت نے وفاقی حکومت کو کیا حکم دے دیا؟

    سنگین غداری کیس، خصوصی عدالت نے وفاقی حکومت کو کیا حکم دے دیا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق خصوصی عدالت میں جسٹس وقار احمد سیٹھ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پرویز مشرف سنگین غداری کیس پر سماعت کی۔ عدالت نے آج فیصلہ سنانا تھا تا ہم اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کے بعد فیصلہ نہ سنا سکی،

    جسٹس سیدوقار سیٹھ نے کہا ہائی کورٹ کے اختیار سماعت پرکوئی تبصرہ نہیں کرناچاہتے، ہم سلمان صفدرکوپیش ہونے کی اجازت دینے کے پابند نہیں، سلمان صفدرکے حوالے سے ہمارے پاس سپریم کورٹ کاحکم موجود ہے، سلمان صفدرآپ چاہیں توہمارے مقرر کردہ وکیل کی معاونت کرسکتے ہیں۔

    عدالت نے ایڈووکیٹ سلمان صفدرکو پیشی کی اجازت دینے کی بجائے سختی سے خاموش رہنے کی ہدایت کی ، ایڈووکیٹ شبررضا نے کہا میرامقدمہ خارج کیے جانے کی میری درخواست پر سماعت کی جائے، جس پر عدالت نے کہا مقدمہ خارج کرنے کیے جانےکی پہلی درخواست پرآرڈر ہوچکا ہے ، دوسری درخواست پرنیا بیان حلفی یا دلائل پیش کرنے کی اجازت نہیں۔عدالت کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق وزارت داخلہ 5دسمبر تک ٹیم مقرر کردے، وزارت خارجہ چاہے 50رکنی ٹیم مقرر کرے لیکن ہم سنیں گے ،صرف ایک کو، عدالت نے شبررضاکو ہدایت کی آپ 5تاریخ سے پہلے اپنے تحریری دلائل جمع کرائیں۔

    پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس، عدالت نے کس کو وکیل مقرر کیا؟ اہم خبر

    پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس ،روزانہ سماعت کا حکم

    پرویزمشرف کا کیس سنگین غداری کا کیسے بنتا ہے؟ عدالت نے کس سے پوچھ لیا؟

    جسٹس شیخ وقار نے کہا ہائی کورٹ کے حکم میں آرٹیکل10کا تذکرہ ہے،اس پر مکمل عمل کرچکے ہیں، ملزم کو متعدد بار اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا، آج بھی ملزم عمارت کے کسی کونے میں موجود ہیں توآجائے ہم سن لیں گے۔ عدالت نے پرویز مشرف سنگین غداری کیس پر سماعت ملتوی کردی۔ عدالت نے کہا کہ پانچ دسمبر سے روزانہ سماعت ہو گی، کیس میں کسی صورت التوا نہیں ہو گا،

    واضح رہے کہ گذشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزارت داخلہ کی درخواست منظور کرلی تھی اور خصوصی عدالت کو آئین شکنی کیس کا فیصلہ سنانے سے روک دیا تھا ، ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا کہ خصوصی عدالت کچھ دیر کیلئے پرویز مشرف کامؤقف سن لے اور پھر فیصلہ دے۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا فیصلہ 19 نومبر کو محفوظ کیا تھا جو 28 کو سنایا جانا تھا تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے خصوصی عدالت کو فیصلہ سنانے سے روک دیا ہے۔

  • آرمی چیف مدت ملازمت توسیع،وزیراعظم سے اہم شخصیات کی ملاقات، عمران خان نے کیا کہا؟

    آرمی چیف مدت ملازمت توسیع،وزیراعظم سے اہم شخصیات کی ملاقات، عمران خان نے کیا کہا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے اٹارنی جنرل انور منصور خان اور سابق وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کی ملاقات ہوئی ہے، اٹارنی جنرل نے وزیراعظم کو سپریم کورٹ کی کاروائی سے متعلق تفصیلی طور پر آگاہ کیا، وزیراعظم عمران خان نے اٹارنی جنرل کو سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں سمری تیار کرنے کی ہدایت کی . اس حوالہ سے اٹارنی جنرل اور فروغ نسیم نے وزیراعظم عمران خان سے مشاورت بھی کی.اٹارنی جنرل نے وزیراعظم عمران خان کو سپریم کورٹ کے ریمارکس کے بارے میں بھی بریف کیا،

    چیف جسٹس نے قانون میں کون کونسی ترامیم کا کہہ دیا؟ فروغ نسیم نے عدالت میں کیا کہا؟

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، بحث کے بعد فیصلہ محفوظ، کب سنایا جائیگا؟

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، ایک اور سمری کی تیاری جاری

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں نئی سمری بنائی جائے جس میں غلطیاں نہیں ہونی چاہئے. جو قانونی تقاضے ہیں وہ پورے کئے جائیں ، حکومت اپنے فیصلے پر مکمل طور پر قائم ہیں، سیکورٹی صورتحال کی وجہ سے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی تھی، اپنے فیصلے پر قائم ہیں.

    واضح رہے کہ آرمی چیف مدت ملازمت میں توسیع کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتےہوئے کہا کہ آپ بوجھ خود اٹھائیں ہمارے کندھے کیوں استعمال کرتے ہیں، چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ”آپ نے کہا کہ قانون سازی میں تین ماہ چاہئیں‘۔ہم تین ماہ کیلئے اس میں توسیع کردیتے ہیں۔اگر 3 ماہ میں قوانین تیار ہوگئے تو پھر آرمی چیف کو 3 ماہ کی توسیع مل جائے گی۔ چیف جسٹس نے کہا کیا ہم آپ کی بات پرلکھ دیں کہ 3 ماہ میں قوانین بنادیں گے،اٹارنی جنرل نے کہا قانون سازی کیلئے چھ ماہ کا وقت دیاجائے۔نیا قانون بنانے کے لیے وقت لگے گا جس پر چیف جسٹس نے کہا آپ سے 72 سال میں قانون نہیں بنا اتنی جلدی کیسے ہوگا۔ چیف جسٹس نے کہا جنہوں نے ملک کی خدمت کی ہمارے لئے ان کا بڑا احترام ہے۔لیکن ہم آئین اور قانون کا سب سے زیادہ احترام کرتے ہیں

  • شہباز شریف کے بعد پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ کس کو مل گئی؟

    شہباز شریف کے بعد پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ کس کو مل گئی؟

    شہباز شریف کے بعد پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ کس کو مل گئی؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما،سابق وفاقی وزیر رانا تنویر حسین متفقہ طور پر پارلیمانی پبلک اکاونٹس کمیٹی کے نئے چئیرمین منتخب ہو گئے ہیں۔ پبلک اکاونٹس کمیٹی کے چیئرمین کا انتخاب سیکرٹری قومی اسمبلی سہیل لودھی کی زیر صدارت اجلاس کے دوران ہوا۔سردار نصراللہ دریشک نے رانا تنویر کا نام تجویز کیا جس کی سینیٹر مشاہد حسین سید اور راجہ پرویز اشرف نے تائید کی۔

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین منتخب ہونے کے بعد رانا تنویر حسین نے کہا کہ پی اے سی میں سب کو ساتھ لیکر چلوں گا کمیٹی کی کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔پی اے سی کی ذیلی کمیٹیوں نے توقعات کے مطابق کام نہیں کیا، اس کی کارکردگی میں بہتری کیلئے کام میں تیزی لائی جائے گی،

    فارن فنڈنگ کیس، شیخ رشید نے بھی بڑا مطالبہ کر دیا

    فارن فنڈنگ کیس سماعت سے قبل وزیراعظم عمران خان کے لئے ایک اور مشکل

    غیر ملکی فنڈنگ کیس میں تحریک انصاف کو ملی عدالت سے ملی بڑی کامیابی

    فارن فنڈنگ کیس، مریم اورنگزیب نے الیکشن کمیشن سے بڑا مطالبہ کر دیا

    فارن فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے سنایا بڑا فیصلہ

    تحریک انصاف اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنا چاہتی ہے، ایسا کس نے کہہ دیا

    واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی جانب سے شہباز شریف کا بطور چئیرمین پبلک اکاؤٹس کمیٹی (پی اے سی) استعفیٰ منظور کیا گیا تھا،گزشتہ 6 ماہ سے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس نہیں ہوا ۔ شہباز شریف نے اپنا استعفی دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ یہ ذمہ داری ادا نہیں کرسکتے میری جگہ رانا تنویر کو پی اے سی کا چیئرمین لگایا جائے۔

     شہباز شریف نے پی اے سی کی چیئرمین شپ سے استعفیٰ کا اعلان کیا تھا تو حکومت نے اس فیصلے پر سخت تنقید کی تھی کہ پہلے منتیں کر کے چیئرمین شپ مانگتے رہے اب استعفیٰ دے رہے ہیں، فواد چودھری اور شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ پی اے سی کا چیرمین اپوزیشن لیڈر ہوتا ہے اگر شہباز شریف استعفیٰ دیں گے تو پھر نئے چیئرمین کی تقرری کا اختیار مسلم لیگ ن کے پاس نہیں ہو گا. پیپلز پارٹی نے بھی رانا تنویر کی نامزدگی پر اعتراض کیا تھا,سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ رانا تنویر بندہ اچھا ہے لیکن پی اے سی کی چیئرمین شپ پر مشاورت کریں گے

  • پرویزمشرف کا کیس سنگین غداری کا  کیسے بنتا ہے؟ عدالت نے کس سے پوچھ لیا؟

    پرویزمشرف کا کیس سنگین غداری کا کیسے بنتا ہے؟ عدالت نے کس سے پوچھ لیا؟

    پرویزمشرف کا کیس سنگین غداری کا کیسے بنتا ہے؟ عدالت نے کس سے پوچھ لیا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے وفاق کے وکیل کو ہدایت کی ہے کہ معاونت کی جائے سابق صدر پرویزمشرف کا کیس سنگین غداری کا کیس کیسے بنتا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے پرویز مشرف کی درخواست پر سماعت کی درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ خصوصی عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔

    سماعت کے دوران جج نے ریمارکس دیے کہ آپ کے کلائنٹ کو اسلام آباد ہائی کورٹ سےریلیف تو مل گیا ہے۔وکیل پرویز مشرف ایڈوکیٹ اظہر صدیق نے عدالت کو آگاہ کیا کہ یہاں جو درخواست ہے وہ تھوڑی مختلف ہے، وفاقی حکومت کی عدالت نے وزارت داخلہ کی درخواست پر فیصلہ سنایا ہے جس میں فیصلہ روکنے کی استدعا کی گئی تھی۔جسٹس مظاہرعلی اکبر نقوی نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم امتناعی بھی دے دیا اور فئیر ٹرائل کا بھی کہ دیا ہے، یہ عدالت کسی بھی بات سے گھبراتی نہیں ہے۔

    ایڈوکیٹ اظہر صدیق نے درخواست میں موقف اپنایا کہ کابینہ کی منظوری کے بغیر خصوصی عدالت بنائی گئی جو غیر قانونی ہے۔ لاہور ہائی کورٹ نے وفاق کے وکیل کو مکمل ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت تین دسمبر تک ملتوی کر دی ہے۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا فیصلہ 19 نومبر کو محفوظ کیا تھا جو 28 کو سنایا جانا تھا تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے خصوصی عدالت کو فیصلہ سنانے سے روک دیا ہے۔

    پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس، عدالت نے کس کو وکیل مقرر کیا؟ اہم خبر

    پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس ،روزانہ سماعت کا حکم

    لاہور ہائی کورٹ میں بھی سابق صدر کی جانب سے درخواست دائر کی گئی تھی ،‏درخواست میں حکومت،وزارت قانون،ایف آئی اے اور خصوصی  عدالت کے رجسٹرارکوفریق بنایا گیا ہے، درخواست گزار پرویز مشرف نے درخواست میں کہا کہ خصوصی عدالت  نے 19نومبرکوموقف سنے بغیرغداری کیس کافیصلہ محفوظ کیا،بیماری کی وجہ سےبیرون ملک مقیم ہوں،

    درخواست میں پرویز مشرف نے استدعا کی کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کے مطابق کیس کودوبارہ سماعت کے لئےشروع کیا جائے ،خصوصی عدالت کا فیصلہ محفوظ کرنے کا حکم معطل کیا جائے،عدالت غداری کیس کی سماعت تندرست ہونے تک ملتوی کرنے کاحکم دے،

  • تینوں ججز سی آئی اے کے ایجنٹ، چیف جسٹس نے دوران سماعت ایسا کیوں کہا؟

    تینوں ججز سی آئی اے کے ایجنٹ، چیف جسٹس نے دوران سماعت ایسا کیوں کہا؟

    تینوں ججز سی آئی اے کے ایجنٹ، چیف جسٹس نے دوران سماعت ایسا کیوں کہا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی توسیع سے متعلق سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ہم اس کیس کو کیا سنیں، ہم نے کیس سنا تو پراپیگنڈا شروع ہوگیا، کہا گیا کہ ججز سی آئی اے کے ایجنٹ ہیں۔ہمیں ففتھ وار جنریش کا حصہ قرار دیا گیا۔ہمیں پوچھنا پڑا کہ یہ ففتھ جنریشن وار کیا ہوتی ہے۔بھارت میں بھی اس معاملے کو اچھالا گیا۔عدالت نے کہا کہ ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ہمیں قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔جس پر اٹارنی جنرل نے کہا سوشل میڈیا کسی کے کنٹرول میں نہیں ہے۔

    چیف جسٹس نے قانون میں کون کونسی ترامیم کا کہہ دیا؟ فروغ نسیم نے عدالت میں کیا کہا؟

    چیف جسٹس نے کہا کہ کل آرمی ایکٹ کا جائزہ لیا تو بھارتی اور سی آئی اے ایجنٹ کہا گیا،جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہماری بحث کا بھارت میں بہت فائدہ اٹھایا گیا،چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں 5th جنریشن وار کا حصہ ٹھہرایا گیا ہماراحق ہے کہ سوال پوچھیں،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے بھی کل پہلی بار آرمی قوانین پڑھیں ہوں گے،آپ تجویز کریں آرمی قوانین کو کیسے درست کریں؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمارے پاس الجہاد ٹرسٹ کی مثال موجود ہے،اس کیس میں اس کا حوالہ دینا ضروری ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پارلیمنٹ سے بہترکوئی فورم نہیں جو نظام کو ٹھیک کرسکے،واضح ہونا چاہیے جنرل کو پنشن ملتی ہے یا نہیں؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ مدت مکمل ہونے کے بعد جنرل ریٹائر ہو جاتا ہے،

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، بحث کے بعد فیصلہ محفوظ، کب سنایا جائیگا؟

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، ایک اور سمری کی تیاری جاری

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین و قانون کو کیا دیکھا ہمارے خلاف پراپیگنڈہ شروع ہوگیا،کہہ دیا گیا کہ تینوں ججز سی آئی اے کے ایجنٹ ہیں،آئینی اداروں کے بارے میں ایسا نہیں ہونا چاہیے،جس پر اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا کہ سوشل میڈیا کسی کے کنڑول میں نہیں

  • آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، ایک اور سمری کی تیاری جاری

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، ایک اور سمری کی تیاری جاری

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، ایک اور سمری کی تیاری جاری

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدمت ملازمت میں توسیع کے حوالہ سے چوتھی سمری کی تیاری جاری ہے، یہ چوتھی سمری عدالت میں پیش کی جائے گی، عدالت نے سمری پیش کرنے کا کہا تھا اور حکم دیا تھا کہ سپریم کورٹ کو سمری میں شامل نہ کیا جائے، سپریم کورٹ کا کندھا استعمال نہ کیا جائے،

    چیف جسٹس نے کہا کہ ایک بجے تک سمری جمع کروا دیں، فل بینچ اسکو دیکھے گا اور شام کو مختصر فیصلہ جاری کریں گے، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ رولز میں ترمیم کر سکتے ہیں اب سمری ججز کی تعیناتی اور توسیع کے متعلق ہو گی، اگر تاخیر کریں گے تو اسکے ذمہ دار آپ ہوں گے، جو چکھ ہوا اس کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے گا،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں آج آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف سماعت کا تیسرا روز ہے، تین دن سے مسلسل سماعت جاری ہے، اس حوالہ سے حکومت 3 سمریاں عدالت میں پیش کر چکی ہے، وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کیس لڑنے کے لئے استعفی دے دیا ہے آج انہوں نے عدالت میں کہا کہ ہم بیان حلفی جمع کرواتے ہیں کہ چھ ماہ میں قانون میں تبدیلی کر لیں گے

  • نئے آئی جی پنجاب نے چارج سنبھالتے ہی ایسا اعلان کر دیا کہ عوام پریشان ہو گئی

    نئے آئی جی پنجاب نے چارج سنبھالتے ہی ایسا اعلان کر دیا کہ عوام پریشان ہو گئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نئے آئی جی پنجاب شعیب دستگیر نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو کام کرے گا وہ رہے گا کرائم کنٹرول نہ کرنے والے آفسران اپنا بندوبست کرلیں،لاہور میں بڑھتے ہوئے کرائم پر کنڑول کیا جائے گا خدا کا شکر گزار ہوں جس نے عزت بخشی .پولیس کا کام ریاست کی اہم ذمہ داریوں میں سے ایک ادا کرنا ہے ،پولیس کا کام قانون کی برابری اور قانون کا اجراء اور عمل داری ہے ،پروفیشنلزم میں احتساب بھی شامل ہے ،قانون کی کتاب واضع ہے کہ کیا غلط اور صحیح ہے

    آئی جی پنجاب کا مزید کہنا تھا کہ جو قانون کی کتاب کو تسلیم نہیں کرتا اسے ہمارے ساتھ رہنے کا کوئی حق نہیں ،جو یہ سمجھتا ہے کہ وردی کے زور پر سب کچھ کرسکتا ہوں اس کا احتساب ہونا ضروری ہے ، پولیس کا احتساب میڈیا بھی کرتا ہے ، ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس احتساب کے موجودہ نظام کو مزید بہتر بنائے ، گیارہ کروڑ لوگوں کی حفاظت کوئی معمولی کام نہیں ، مجھے یقین ہے کہ جیسا بھی کام ہورہا ہے اسے مزید بہتر کیا جاسکتا ہے

    آئی جی پنجاب کا مزید کہنا تھا کہ پالیسی ڈائریکشن وقت کے ساتھ جاری کی جائیں گی ،جو پالیسیوں موجود ہیں ان پر عمل کیا جائے گا، ہمارے وسائل کے ساتھ ہمارا موازنہ کیا جائے ، یہ نہ ہو کہ امریکہ اور دیگر ممالک سے ہمارا موازنہ شروع کردیا جائے ، وسائل میں صرف بندوقیں اور گاڑیاں نہیں تعلیم بھی شامل ہے کوشش کریں کہ تنقید اصلاح پر مبنی ہو، ہرزہ سرائی سے شہریوں کی سکیورٹی خطرے میں پڑتی ہے

    آئی جی پنجاب کا مزید کہنا تھا کہ تھانوں کی انسپکشن بڑا ٹیکنکل کام ہے ،غیر قانونی حراست کی روک تھام کے لئے سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہیں جہاں مثبت چیز دیکھیں تو ان کو بھی نشر کیا جائے ریاست مدینہ کا سفر ایک دن یا دو ماہ میں طے نہیں ہوسکتا یہ دیکھ لیں کہ مدینہ کا یہاں سے فاصلہ کتنا ہے ہم ریاست مدینہ کی طرف کام کریں گے ریاست مدینہ ویلفئیر سٹیٹ کی مثال ہے معاشرے میں اعتماد کا فقدان ہے اور پولیس بھی اسی کا حصہ ہے ہمارا کام کرائم کو کم کرنا ہے اگر کرائم بڑھا ہے تو اسے ٹھیک کریں گے اور بہتری لائیں گے سانحہ ساہیوال پر جے آئی ٹی بنی ہے وہ آپنا کام کر رہی ہے

  • چیف جسٹس نے قانون میں کون کونسی ترامیم کا کہہ دیا؟ فروغ نسیم نے عدالت میں کیا کہا؟

    چیف جسٹس نے قانون میں کون کونسی ترامیم کا کہہ دیا؟ فروغ نسیم نے عدالت میں کیا کہا؟

    چیف جسٹس نے قانون میں کون کونسی ترامیم کا کہہ دیا؟ فروغ نسیم نے عدالت میں کیا کہا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق دوران سماعت سابق وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے سپریم کورٹ میں کہا کہ عدالت کو یقین دلاتا ہوں کہ 243 میں بہتری کرلیں گے،حلفیہ بیان دیتے ہیں کہ آرٹیکل 243 میں تنخواہ،الاوَنس اور دیگر چیزیں شامل کریں گے،اس کا بیان حلفی بھی دینے کےلیے تیار ہیں

    جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ ہمیں بیان حلفی دیں کہ 6 ماہ میں قانون میں ترمیم کردیں گے،قانون میں ترمیم چیف آف آرمی اسٹاف کی تقریر،دوبارہ تعیناتی اور توسیع سے متعلق ہوگی،

    قبل ازیں اٹارنی جنرل نے عدالت میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالہ سے عدالت میں دلائل دیئے، عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا، مختصر فیصلہ آج ہی سنایا جائے گا

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، بحث کے بعد فیصلہ محفوظ، کب سنایا جائیگا؟

    دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ پارلیمنٹ آرمی ایکٹ کو اپڈیٹ کرے تو نئے رولز بنیں گے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین میں 18 مختلف غلطیاں نظر آتی ہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ غلطیوں کے باوجود آئین ہمیں بہت محترم ہے،جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرمی ایکٹ کابینہ کے سامنے رکھ کر ضروری تبدیلیاں کریں گے،چیف جسٹس نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ ابھی قانون بنا کرآئیں،جوقانون 72 سال میں نہیں بن سکا وہ اتنی جلدی نہیں بن سکتا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ کوشش کررہے ہیں کہ اس معاملے پر کوئی قانون بنائیں،قانون بنانے کیلئے3 ماہ کا وقت چاہیے

  • آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، بحث کے بعد فیصلہ محفوظ، کب سنایا جائیگا؟

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، بحث کے بعد فیصلہ محفوظ، کب سنایا جائیگا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابقسپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔عدالت مختصر فیصلہ آج سنائے گی چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ کی سبراہی میں 3 رکنی بینج آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے کہا اٹارنی جنرل کہتے ہیں کہ جنرل ریٹائرڈ نہیں ہوتا، جنرل ریٹائرڈ نہیں ہوتا تو پنشن بھی نہیں مل سکتی۔

    وقفے کے بعد جب دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ سمری میں تو عدالتی کارروائی کا بھی ذکر کر دیا گیا ہے، آپ بوجھ خود اٹھائیں ہمارے کندھے کیوں استعمال کرتے ہیں، اپنا کام خود کریں، ہمیں درمیان میں کیوں لاتے ہیں، عدالت کا نام استعمال کیا گیا تاکہ ہم غلط بھی نہ کہہ سکیں، سمری میں سے عدالت کا نام نکالیں، تعیناتی قانونی ہے یا نہیں وہ جائزہ لیں گے۔

    چیف جسٹس پاکستان نے کہا آج سے تعیناتی 28 نومبر سے کر دی، کیا آرمی چیف کا عہدہ آج خالی ہے، آج تو جنرل باجوہ پہلے ہی آرمی چیف ہیں، آرمی چیف کا عہدہ آئینی عہدہ ہے، جو عہدہ خالی ہی نہیں اس پر تعیناتی کیسے ہو سکتی ہے، عدالت کی ایڈوائس والا حصہ سمری سے نکالیں، صدر اگر ہماری ایڈوائس مانگیں تو وہ الگ بات ہے، آپ ادھر ادھر گھومتے رہے ہم نے کسی کو ایڈوائس نہیں کرنا، لگتا ہے اس بار کافی سوچ بچار کی گئی ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا 3 سال کی مدت کا ذکر تو قانون میں کہیں نہیں ہے۔

    اٹارنی جنرل نے کہا آرٹیکل 243 کے تحت آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی کر دی گئی ہے۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا مطمئن کرنا ہوگا اب ہونیوالی تعیناتی درست کیسے ہے ؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا پیش کی گئی سمری میں تنخواہ اور مراعات کا ذکر نہیں، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا سمری میں اگر خلا رہ گیا ہے تو اسے بہتر کریں گے، بھارتی میڈیا نے سارے معاملے کوغلط انداز میں پیش کیا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا آرمی چیف کی تعیناتی قانون کے مطابق ہونی چاہیئے، قانون میں تعیناتی کی مدت کہیں نہیں لکھی۔

    چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کہا آپ نے آرمی ایکٹ اور ریگولیشنز کی کتاب سینے سے لگا رکھی ہے، نوٹیفکیشن میں مدت 3 سال لکھی گئی، اگر زبردست جنرل مل گیا تو شاید مدت 30 سال لکھ دی جائے، ایک واضح نظام ہونا چاہیئے جس کا سب کو علم ہو۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کی ایڈوائس والا حصہ سمری سے نکالیں صدر اگر ہماری ایڈوائس مانگیں تو وہ الگ بات ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ 3سال کی مدت کا ذکر تو قانون میں کہیں نہیں ،اتنے بڑے آفس کی تعیناتی ہورہی ہے قواعد پرعمل کرنا ہوگا،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے سمری میں 3 سال کا لفظ لکھا ہے،اب ہرکوئی مستقبل میں ایسا ہی لکھے گا، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ پہلے جو سمریاں جاری کی گئی تھیں ان میں مدت ملازمت لکھی ہوتی تھی، جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کے معاملے پرکل آپ واضح نہیں تھے؟

    چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اس معاملے پرابہام دور کرنے کا فورم کون سا ہے؟جس پر اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا کہ ابہام دور کرنے کا فورم وفاقی حکومت ہے،اگر مدت مقرر نہ کریں تو تاحکم ثانی آرمی چیف تعینات ہو گا،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے آرمی ایکٹ اور ریگولیشنز کی کتاب سینے سے لگا کر رکھی ہے،آرمی رولز کی کتاب پر لکھا ہے غیر متعلقہ شخص نہ پڑھے،آئین کی کتاب ہمارے لیے بہت محترم ہے،اسی کتاب سے ہم مسائل کا حل ڈھونڈتے ہیں،جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین کی کتاب ملک کیلئےبائبل کی حیثیت رکھتی ہے،سمری میں تنخواہ،مراعات اورمدت ملازمت واضح کردیں گے،

    چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ پہلے توسیع ہوتی رہی اور کسی نے جائزہ نہیں لیا،کوئی دیکھ نہیں رہاکہ کنٹونمنٹ میں کیا ہو رہا ہے،کام کس قانون کے تحت ہو رہا ہے،اب آئینی ادارہ اس مسئلے کا جائزہ لے رہا ہے،آئینی عہدے پر تعیناتی کا طریقہ کار واضح لکھا ہونا چاہیے،آپ نے پہلی بارکوشش کی ہے کہ آئین پرواپس آئیں،اس معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ نہیں دینا چاہیے،سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دے کر ایسا لگتا ہے کہ ہمارا کندھا استعمال کیا جارہا ہے،ہم کبھی بھی مشکل میں نہیں رہے،ہمیشہ آئین اور قانون کی پابندی کرنے والے رہے ہیں،آرٹیکل 243کےتحت جوسمری آپ نے بنائی ہے اس میں 3 سال مدت ملازمت لکھ دی ہے

    چیف جسٹس نے کہا کہ کل آرمی ایکٹ کا جائزہ لیا تو بھارتی اور سی آئی اے ایجنٹ کہا گیا،جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہماری بحث کا بھارت میں بہت فائدہ اٹھایا گیا،چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں 5th جنریشن وار کا حصہ ٹھہرایا گیا ہماراحق ہے کہ سوال پوچھیں،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے بھی کل پہلی بار آرمی قوانین پڑھیں ہوں گے،آپ تجویز کریں آرمی قوانین کو کیسے درست کریں؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمارے پاس الجہاد ٹرسٹ کی مثال موجود ہے،اس کیس میں اس کا حوالہ دینا ضروری ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پارلیمنٹ سے بہترکوئی فورم نہیں جو نظام کو ٹھیک کرسکے،واضح ہونا چاہیے جنرل کو پنشن ملتی ہے یا نہیں؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ مدت مکمل ہونے کے بعد جنرل ریٹائر ہو جاتا ہے،

    چیف جسٹس نے کہا کہ پارلیمنٹ آرمی ایکٹ کو اپڈیٹ کرے تو نئے رولز بنیں گے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین میں 18 مختلف غلطیاں نظر آتی ہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ غلطیوں کے باوجود آئین ہمیں بہت محترم ہے،جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرمی ایکٹ کابینہ کے سامنے رکھ کر ضروری تبدیلیاں کریں گے،چیف جسٹس نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ ابھی قانون بنا کرآئیں،جوقانون 72 سال میں نہیں بن سکا وہ اتنی جلدی نہیں بن سکتا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ کوشش کررہے ہیں کہ اس معاملے پر کوئی قانون بنائیں،قانون بنانے کیلئے3 ماہ کا وقت چاہیے

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب کوئی کام آئین کے مطابق ہو جائے تو ہمارے ہاتھ بندھ جاتے ہیں،عدالت کاکندھا استعمال نہ کریں آئندہ بھی سپریم کورٹ کا نام استعمال ہو گا،آرٹیکل 243میں 3 سال تعیناتی کا ذکر نہیں،3سال کی تعیناتی کی مثال ہوگی لیکن یہ قانونی نہیں،عدالت نے توسیع کر دی تو یہ قانونی مثال بن جائے گی،لگتا ہے تعیناتی کےوقت حکومت نے آرٹیکل 243 پڑھتے ہوئے اس میں اضافہ کر دیا،جو دستاویزات صبح منگوائی تھیں وہ آئی ہیں؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ جی ایچ کیو میں کہہ دیا ہے ،کچھ دیر میں آجائیں گی، چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے پاس کوئی بھی نہیں آتا پہلی بار ریاض حنیف راہی آیا ہے اس کوچھوڑیں گے نہیں،سب کہتے ہیں عدالت ازخود نوٹس لے

    چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا تین ماہ میں قوانین تیار کر لیں گے،اگر 3 ماہ میں قوانین تیار ہوگئے تو پھر آرمی چیف کو 3 ماہ کی توسیع مل جائے گی،جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ آپ اپنے فیصلے میں مدت کا تعین نہ کریں وہ ہم کرلیں گے،قوانین بنانے کے بعد انہیں پارلیمنٹ میں بھی پیش کرنا ہے

    جنرل (ر)کیانی اورراحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق نوٹیفکیشن عدالت میں پیش کر دیا گیا،چیف جسٹس نے کہا کہ جنرل (ر)کیانی کےنوٹیفکیشن میں بھی نہیں لکھا کہ توسیع کس نے دی؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ نوٹیفکیشن سے پہلے سمری تیار کی جاتی ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ نوٹیفکیشن تو وہ دستاویز ہوتی ہے جو غلطیوں سے پاک ہونی چاہیے،جن جن لوگوں نے ملک کی خدمت کی وہ ہمارے لیے محترم ہیں،آئین اورقانون سب سے مقدم ہے،گزشتہ 3 آرمی چیفس میں سے ایک کو توسیع ملی دوسرے کو نہیں،اب تیسرے آرمی چیف کو توسیع ملنے جا رہی ہے،آرٹیکل 243 کے مطابق تعیناتی کرنی ہے تو مدت نکال دیں،پہلے بھی جنرل باجوہ کو غیر معینہ مدت کے لیے تعینات کیا گیا،

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین و قانون کو کیا دیکھا ہمارے خلاف پراپیگنڈہ شروع ہوگیا،کہہ دیا گیا کہ تینوں ججز سی آئی اے کے ایجنٹ ہیں،آئینی اداروں کے بارے میں ایسا نہیں ہونا چاہیے،جس پر اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا کہ سوشل میڈیا کسی کے کنڑول میں نہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ تین سال کے لیے توسیع دے رہے ہیں،جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ پہلے تو کسی کو ایک سال کسی کو دو سال کی توسیع دی گئی، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ رولز میں ترمیم کرتے رہے ہیں، پھر ہم نے ایڈوائزری کردار لکھ دیا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ فروغ نسیم کا بھی مسئلہ حل ہو گیا ہے،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کی مداخلت سے مسئلے حل ہو جائیں گے،عدالت کے دروازے کھلے ہیں کوئی آئے تو سہی،آرمی چیف کے حوالے سے تیار کی گئی سمری میں ہمارا ذکر بالکل نہ کریں،یہ کام وزارت دفاع کا ہے،وزارت دفاع کی جانب سے جو سمری آئی ہے اس میں سپریم کورٹ کا ذکر ہے،ہمارا ان سمریوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے