Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • داتا دربار بم دھماکہ کیس، عدالت نے فیصلہ سنا دیا، ملزم کو کتنی سزا سنائی؟

    داتا دربار بم دھماکہ کیس، عدالت نے فیصلہ سنا دیا، ملزم کو کتنی سزا سنائی؟

    داتا دربار بم دھماکہ کیس، عدالت نے فیصلہ سنا دیا، ملزم کو کتنی سزا سنائی؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق داتا دربارکے باہر بم دھماکہ کیس کا عدالت نے فیصلہ سنا دیا،عدالت نے مجرم محسن کو 22 بار سزائے موت کی سزا سنا دی، انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے فیصلہ سنایا. عدالت نے ملزم کو 22 بار سزائے موت سنا دی.

    داتا دربار دھماکہ، شہید پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ کو پلاٹ دیے جائیں گے. وزیر اعلیٰ پنجاب کا اعلان

    داتا دربار، جوتوں کی حفاظت کا ٹھیکہ کتنے کروڑ کا؟ جان کر ہوں حیران

    واضح رہے کہ داتا دربار کے قریب ایلیٹ فورس کی گاڑی کے قریب جو داتا دربار کے گیٹ نمبر 2 کے پاس کھڑی تھی دھماکا ہواتھا ،جس سے گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی. داتا دربار پر ہونے والے خود کش حملہ کے نیتجے میں گیارہ افراد شہید ہوئے. دہشت گرد نے پولیس کی گاڑی کو نشانہ بنایا تھا، اس کے بارے میں تحقیقاتی ٹیم نے انکشاف کیا ہے کہ حملہ آور نے جو جوتا پہنا تھا وہ بھارتی برانڈ کاتھا،

    داتا دربار میں پولیس کی گاڑی پر ہونیوالے حملے کا مقدمہ سی ٹی ڈی کےانسپکٹر عابد بیگ کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا ،مقدمہ میں انسداد دہشتگردی ایکٹ سمیت دیگرسنگین دفعات کےتحت درج کیا گیاتھا.

  • آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کتنی مدت کے لئے توسیع کی؟

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کتنی مدت کے لئے توسیع کی؟

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کتنی مدت کے لئے توسیع کی؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالہ سے دوبارہ درخواست پر سماعت ہوئی،اٹارنی جنرل نے نئی سمری سپریم کورٹ میں پیش کردی جس کا عدالت نے جائزہ لیا، بعد ازاں فیصلہ لکھوایا،

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں6 ماہ کی مشروط توسیع کر دی گئی،عدالت نے کہا کہ آرمی چیف کی موجودہ تقرری 6 ماہ کیلئے ہوگی،

    سپریم کورٹ نے مختصر فیصلے میں کہا کہ آرمی چیف کی تقرری چیلنج کی گئی تھی،ہمارے سامنے آرمی چیف کی تقرری کا معاملہ آیا،آج مختصر فیصلہ سنارہے ہیں، تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کریں گے،حکومت نے ایک موقف سے دوسرا موقف اختیار کیا،حکومت آرمی چیف کو 28 نومبر سے توسیع دے رہی ہے، حکومت عدالت میں آرٹیکل 243 ون بی انحصار کررہی ہے،

    چیف جسٹس نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عدالت نے آرٹیکل 243 بی کا جائزہ لیا،حکومت نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع آرٹیکل 243 فور بی کے تحت کی ہے،جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفکیشن جمع کرایا گیا،ہمارے سامنے یہ سوال آیا کہ کیا توسیع دی جاسکتی ہے یا نہیں،آرمی ایکٹ اور اس کے رول کا جائزہ لیا،اٹارنی جنرل نے عدالتی سوالوں کا جواب دیا، دستاویزات کے مطابق پاک آرمی کا کنٹرول وفاقی حکومت سنبھالتی ہے،

    عدالت نے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف کا تقرر صدر وزیراعظم کی مشاورت سے کرتا ہے،آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی کے حوالے سے قانون خاموش ہے،حکومت نے مسلح افواج سے متعلق قوانین میں ترامیم کیلئے6 ماہ کا وقت مانگا،ہم معاملہ پارلیمنٹ اور حکومت پر چھوڑتے ہیں،توسیع کےمعاملےکوقانون سازی مکمل ہونے کے بعد دیکھا جائے گا،

    سپریم کورٹ نے درخواست گزار حنیف راہی کی پٹیشن خارج کرتے ہوئے نمٹا دی.

    چیف جسٹس نے قانون میں کون کونسی ترامیم کا کہہ دیا؟ فروغ نسیم نے عدالت میں کیا کہا؟

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، بحث کے بعد فیصلہ محفوظ، کب سنایا جائیگا؟

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، ایک اور سمری کی تیاری جاری

    واضح رہے کہ آرمی چیف مدت ملازمت میں توسیع کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتےہوئے کہا کہ آپ بوجھ خود اٹھائیں ہمارے کندھے کیوں استعمال کرتے ہیں، چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ”آپ نے کہا کہ قانون سازی میں تین ماہ چاہئیں‘۔ہم تین ماہ کیلئے اس میں توسیع کردیتے ہیں۔اگر 3 ماہ میں قوانین تیار ہوگئے تو پھر آرمی چیف کو 3 ماہ کی توسیع مل جائے گی۔

    چیف جسٹس نے کہا کیا ہم آپ کی بات پرلکھ دیں کہ 3 ماہ میں قوانین بنادیں گے،اٹارنی جنرل نے کہا قانون سازی کیلئے چھ ماہ کا وقت دیاجائے۔نیا قانون بنانے کے لیے وقت لگے گا جس پر چیف جسٹس نے کہا آپ سے 72 سال میں قانون نہیں بنا اتنی جلدی کیسے ہوگا۔ چیف جسٹس نے کہا جنہوں نے ملک کی خدمت کی ہمارے لئے ان کا بڑا احترام ہے۔لیکن ہم آئین اور قانون کا سب سے زیادہ احترام کرتے ہیں

    چیف جسٹس پاکستان نے کہا آج سے تعیناتی 28 نومبر سے کر دی، کیا آرمی چیف کا عہدہ آج خالی ہے، آج تو جنرل باجوہ پہلے ہی آرمی چیف ہیں، آرمی چیف کا عہدہ آئینی عہدہ ہے، جو عہدہ خالی ہی نہیں اس پر تعیناتی کیسے ہو سکتی ہے، عدالت کی ایڈوائس والا حصہ سمری سے نکالیں، صدر اگر ہماری ایڈوائس مانگیں تو وہ الگ بات ہے، آپ ادھر ادھر گھومتے رہے ہم نے کسی کو ایڈوائس نہیں کرنا، لگتا ہے اس بار کافی سوچ بچار کی گئی ہے۔

    اٹارنی جنرل نے کہا آرٹیکل 243 کے تحت آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی کر دی گئی ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا آج ہونے والی تعیناتی پہلے سے کیسے مختلف ہے ؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا نئی تعیناتی آرٹیکل 243 ون بی کے تحت کی گئی ہے۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا مطمئن کرنا ہوگا اب ہونیوالی تعیناتی درست کیسے ہے ؟ اس عہدے کو پُر کرنا ہے تو ضابطے کے تحت کیا جانا چاہیے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا جو سمری پیش کی گئی اس میں تنخواہ اور مراعات کا ذکر نہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا سمری میں اگر خلا رہ گیا ہے تو اسے بہتر کریں گے، بھارتی میڈیا نے سارے معاملے کو غلط انداز میں پیش کیا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا آرمی چیف کی تعیناتی قانون کے مطابق ہونی چاہیے، قانون میں تعیناتی کی مدت کہیں نہیں لکھی ہوئی۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا آرمی ایکٹ اور ریگولیشنز کی کتاب آپ نے سینے سے لگا کر رکھی ہے۔

    چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ اگر زبردست جنرل مل گیا تو شاید مدت 30 سال لکھ دی جائے، ایک واضح نظام ہونا چاہیے جس کا سب کو علم ہو، تین سال تعیناتی اب ایک مثال بن جائے گی، ہو سکتا ہے اگلے آرمی چیف کو حکومت ایک سال رکھنا چاہتی ہو، کل آرمی ایکٹ کا جائزہ لیا تو بھارتی اور سی آئی اے ایجنٹ کہا گیا، ہمیں ففتھ جنریشن وار کا حصہ ٹھہرایا گیا، ہمارا حق ہے کہ سوال پوچھیں۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا واضح ہونا چاہیے جنرل کو پنشن ملتی ہے یا نہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا مدت مکمل ہونے کے بعد جنرل ریٹائر ہو جاتا ہے۔ جسٹس منصور علی خان کل آپ کہہ رہے تھے جنرل ریٹائر نہیں ہوتا، پارلیمنٹ سے بہتر کوئی فورم نہیں جو سسٹم ٹھیک کر سکے۔ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ پارلیمنٹ آرمی ایکٹ کو اپڈیٹ کرے تو نئے رولز بنیں گے۔

    اٹارنی جنرل نے کہا آئین میں 18 مختلف غلطیاں مجھے نظر آتی ہیں۔ جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا غلطیوں کے باوجود آئین ہمیں بہت محترم ہے۔ جسٹس مظہر عالم نے کہا یہ بھی طے کر لیا جائے آئندہ توسیع ہو گی یا نئی تعیناتی۔ اٹارنی جنرل نے کہا آرمی ایکٹ کابینہ کے سامنے رکھ کر ضروری تبدیلیاں کریں گے۔ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ حکومت پہلی بار آئین پر واپس آئی ہے، جب کام آئین کے مطابق ہو تو ہمارے ہاتھ بندھ جاتے ہیں۔

    چیف جسٹس آصف سعید نے کہا آرٹیکل 243 میں 3 سال تعیناتی کا ذکر نہیں، 3 سال کی تعیناتی کی مثال ہوگی لیکن یہ قانونی نہیں، عدالت نے توسیع کر دی تو یہ قانونی مثال بن جائے گی۔ اٹارنی جنرل نے کہا مدت کا ذکر نہ ہو تو حالات کے مطابق مدت مقرر ہوتی ہے۔

    اٹارنی جنرل نے کہا اس وقت میرے پاس کوئی بھی قانون نہیں سوائے ایک دستاویز کے، قانون بنانے کے لئے ہمیں 3 ماہ کا وقت چاہیے۔ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ ابھی جا کر قانون بنا کرآئیں، جو قانون 72 سال میں نہیں بن سکا وہ اتنی جلدی نہیں بن سکتا۔

    چیف جسٹس پاکستان نے کہا آرمی چیف کو توسیع دینا آئینی روایت نہیں، گزشتہ 3 آرمی چیفس میں سے ایک کو توسیع ملی دو کو نہیں، اب تیسرے آرمی چیف کو توسیع ملنے جا رہی ہے، آرٹیکل 243 کے مطابق تعیناتی کرنی ہے تو مدت نکال دیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کم از کم آرٹیکل 243 پر تو مکمل عمل کریں۔ اٹارنی جنرل نے کہا غیر معینہ مدت کے لیے بھی تعیناتی نہیں ہو سکتی۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا پہلے بھی جنرل باجوہ کو غیر معینہ مدت کیلئے تعینات کیا گیا۔ اٹارنی جنرل نے کہا آرمی چیف سے متعلق الگ قانون بنایا جائے گا۔

    اٹارنی جنرل انور منصور خان نے عدالت کو بتایا کہ فروغ نسیم کا بھی مسئلہ حل ہوگیا۔ جس پر چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس  دیئے کہ عدالت کی مداخلت سے مسئلے حل ہو جائیں گے، ہمارے پاس ریاض راہی آئے، ہم نے جانے نہیں دیا، لوگ کہتے ہیں عدالت خود نوٹس لے، ہمیں جانا نہ پڑے، عدالت کے دروازے کھلے ہیں، کوئی آئے تو سہی۔

    چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے اٹارنی جنرل نے استفسار کیا قوانین 3 ماہ میں تیار کرلیں گے ؟ 3 ماہ میں قوانین تیار ہوگئے تو پھر آرمی چیف کو 3 ماہ کی توسیع مل جائے گی، کیا آپ کی بات پر لکھ دیں کہ 3 ماہ میں قوانین بنا دیں گے۔ اٹارنی جنرل نے کہا فیصلےمیں مدت کا تعین نہ لکھیں، وہ کام ہم کرلیں گے، قوانین بنانے کے بعد انہیں پارلیمنٹ میں بھی پیش کرنا ہے۔

  • فارن فنڈنگ کیس، تحریک انصاف کے وکلا نے سکروٹنی کمیٹی میں کیا جمع کروا دیا؟

    فارن فنڈنگ کیس، تحریک انصاف کے وکلا نے سکروٹنی کمیٹی میں کیا جمع کروا دیا؟

    فارن فنڈنگ کیس، تحریک انصاف کے وکلا نے سکروٹنی کمیٹی میں کیا جمع کروا دیا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکمران جماعت تحریک انصاف نے مبینہ غیر ملکی فنڈنگ کیس میں ثبوت الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی کو جمع کروا دیئے ہیں،ڈی جی لا کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کی اسکروٹنی کمیٹی تحریک انصاف کے خلاف تحقیقات کررہی ہے۔تحریک انصاف کی جانب سے انکے وکیل شاہ خاور کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے جب کہ درخواست گزار اکبر ایس بابر بھی الیکشن کمیشن کے آفس پہنچ چکے ہیں۔

    صحافی کے سوال پر پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ کہ تمام مطلوبہ دستاویزات اس بکس میں ہیں جو اسکروٹنی کمیٹی کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ سکروٹنی کمیٹی آج سماعت کرے گی.

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے اپوزیشن جماعتوں کی درخواست پر تحریک انصاف فارن فنڈنگ کیس کی 26 نومبر سے روزنہ کی بنیاد پر سماعت کرنے کا فیصلہ کیا تھا

    فارن فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے سنایا بڑا فیصلہ

    پی ٹی آئی نے درخواست میں مؤقف اختیار کیاہے کہ الیکشن کمیشن کی تشکیل مکمل نہ ہونے کے باعث 10 اکتوبر کے حکم کا کوئی قانونی جواز نہیں،درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن کا 10 اکتوبر کا آرڈر کاالعدم قرار دیا جائے۔

    تحریک انصاف اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنا چاہتی ہے، ایسا کس نے کہہ دیا

    فارن فنڈنگ کیس، شیخ رشید نے بھی بڑا مطالبہ کر دیا

    فارن فنڈنگ کیس سماعت سے قبل وزیراعظم عمران خان کے لئے ایک اور مشکل

    غیر ملکی فنڈنگ کیس میں تحریک انصاف کو ملی عدالت سے ملی بڑی کامیابی

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اپنے فیصلے میں غیر ملکی فنڈنگ کیس سے متعلق چار درخواستیں مسترد کرتے ہوئے اسکروٹنی کمیٹی کو کام جاری رکھنے کا حکم دیا تھا۔ تحریک انصاف نے اسکروٹنی کمیٹی کی کارروائی لیک ہونے کے خلاف 4 درخواستیں جمع کرائی تھیں ،فیصلہ چیف الیکشن کمشنر جسٹس سردار رضا کی سربراہی میں تین رکنی کمیشن نے سنایا

  • گنے کے کاشتکاروں کے لئے بڑی خوشخبری ، وزیراعظم نے بڑا حکم دے دیا

    گنے کے کاشتکاروں کے لئے بڑی خوشخبری ، وزیراعظم نے بڑا حکم دے دیا

    گنے کے کاشتکاروں کے لئے بڑی خوشخبری ، وزیراعظم نے بڑا حکم دے دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت گنے کی قیمت کی سرکاری قیمت مقرر کرنے کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا، اجلاس میں وزیرِ منصوبہ بندی اسد عمر، وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی مخدوم خسرو بختیار، وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، ترجمان ندیم افضل چن، وزیرِ خوراک پنجاب سمیع اللہ چوہدری، صوبائی وزیر زراعت پنجاب نعمان احمد لنگڑیال، وزیرِ خوراک خیبر پختونخواہ حاجی قلندر خان لودھی، متعلقہ محکموں کے وفاقی و صوبائی سیکرٹری صاحبان، چیئرپرسن مسابقتی کمیشن ودیا خلیل و دیگر افسران شریک تھے.

    اجلاس میں گنے کی سرکاری قیمت کے تعین کے حوالے سے مختلف محرکات کا جائزہ اور صوبوں کو اس حوالے سے عملی اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی،وزیرِ اعظم کو گندم کی قیمت مقرر کرنے کے حوالے سے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلے سے بھی آگاہ کیا گیا۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے گندم کی قیمت فی من 1365روپے مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس سے کسان خوشحال ہوگا۔ وزیرِ اعظم نے ای سی سی کے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے گندم کی سرکاری قیمت کا اعلان کیا جائے گا۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ ہوا کہ ایکس -مل اور ریٹیل کی سطح پر چینی کی قیمت میں استحکام کو یقینی بنانے کے لئے حکومت پنجاب کی جانب سے تمام ضروری انتظامی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت پنجاب شوگر ملوں کے ذمے کسانوں کے واجبات کی ادائیگیوں کو یقینی بنائے گی۔ اس ضمن میں تمام ڈپٹی کمشنر اپنے متعلقہ علاقوں میں واقع شوگر ملوں کی جانب سے کسانوں کو ادائیگی کیے جانے کا سرٹیفیکیٹ جمع کرائیں گے۔

    اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے قانون میں ترمیم کی جائے گی اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ شوگر ملوں کی جانب سے مقررہ وقت پر کسانوں کو ادائیگی نہ کی جانے کی صورت میں ان پر جرمانے کا اطلاق کیا جائے۔ وزیرِ اعظم نے حکومت پنجاب کو ہدایت کی کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کاشتکار کو پورا وزن اور اس کے مطابق رقم کی پوری ادا ئیگی ہو۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ شوگر سس فنڈ کا آڈٹ کرایا جائے گا تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ یہ پالیسی کے مطابق اکٹھا کیا جا رہا ہے اور قانون کے مطابق استعمال کیا جا رہا ہے۔

    وزیرِ اعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں زرعی شعبے کا فروغ خصوصاً چھوٹے کسانوں کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے اس کے ساتھ ساتھ حکومت اس بات پر بھی خصوصی توجہ دے رہی ہے کہ زرعی اور صنعتی شعبے کی ترقی کو مساوی طور پر یقینی بنایا جائے اور عام آدمی کو ریلیف فراہم کیا جائے۔گنے کی سرکاری قیمت مقرر کرنے کے حوالے سے وزیرِ اعظم نے کہا کہ گنے کی قیمت مقرر کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ گنے کی مقرر کردہ سرکاری قیمت سے جہاں کسانوں کی حوصلہ افزائی ہو وہاں وہ تمام اقدامات کیے جائیں کہ چینی کی قیمت میں استحکام کو بھی یقینی بنایا جاسکے۔

    وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ اشیائے ضروریہ کی طلب و رسد، قیمتوں کے تعین، کسانوں کی لاگت کو کم کرنے اور انہیں سازگار ماحول فراہم کرنے کے لئے طویل مدتی پالیسی تشکیل دی جائے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ کسانوں کے لاگتی اخراجات کو کم کرنے کے لئے پالیسی تشکیل دینے کا عمل ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔

    وزیرِ اعظم نے مسابقتی کمیشن کو ہدایت کی کہ موجودہ قوانین کا جائزہ لیکر ان میں ضروری ترامیم لائی جائیں تاکہ جہاں مختلف اشیاء کی قیمتوں کے استحکام کو یقینی بنایا جا سکے وہاں مارکیٹ میں اجارہ داری و استحصال کے خاتمے کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔وزیرِ اعظم نے زور دیا کہ اس مقصد کے لئے ٹیکنالوجی کو برؤے کار لانے پر فوری توجہ دی جائے

  • دانت میں درد،نواز شریف کے بھتیجے کو ہسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر عدالت نے کیا کہا؟

    دانت میں درد،نواز شریف کے بھتیجے کو ہسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر عدالت نے کیا کہا؟

    دانت میں درد،نواز شریف کے بھتیجے کو ہسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر عدالت نے کیا کہا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق احتساب عدالت نے چوہدری شوگرملز کیس میں زیرحراست شریف خاندان کے فرد نواز شریف کے بھتیجے یوسف عباس کی اسپتال منتقلی کی درخواست مسترد کردی ہے، عدالت نے یوسف عباس کا جیل میں چیک اپ کروانے کی ہدایت کر دی ہے۔

    ن لیگی رہنماؤں کی عدالت میں پیشی، مریم نواز کے شوہر کو پولیس نے کیا کہا؟

    مریم نواز کو کٹہرے میں لایا جائے، عدالت کا حکم

    اہل یا نااہل ، مریم نوز کو ایک اور موقع مل گیا

    حلال کی کمائی ہے، 5 ٹکے بھی ان کو نہ دیں، کیپٹن ر صفدر کا دعویٰ

    احتساب عدالت کے جج چوہدری امیر خان نے درخواست پر سماعت کی جس میں استدعا کی گئی تھی دانتوں میں تکلیف ہے اس لیے اسپتال منتقل کیا جائے۔ درخواستگزار نے موقف اپنایا کہ دانتوں میں تکلیف کے باعث کھانا کھانے میں مشکلات کا سامنا ہے، عدالت اسپتال منتقل کرنے کا حکم دے تاکہ مکمل علاج ہو سکے۔

    دوسری جانب یوسف عباس کی درخواست ضمانت پر لاہور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی، عدالت نے نیب سے 16 دسمبر تک جواب طلب کر لیا.

    واضح رہے کہ یوسف عباس 6 دسمبر تک جوڈیشیل ریمانڈ پر نیب کی حراست میں ہیں اور انہیں چوہدری شوگر ملز کیس میں زیر حراست رکھا گیا ہے، نیب نے چودھری شوگر ملز کیس میں یوسف عباس کو گرفتار کیا تھا،مریم نواز اس کیس میں ضمانت پر ہیں.

    نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ چودھری شوگر مل کےلیے آف شور کمپنی سے 40 کروڑ روپےبطورقرض لیے گیے ،میسرز چیرڈن جرسی نامی آف شور کمپنی کے نام سے قرض ظاہر کیا گیا، چودھری شوگر مل کے قیام کے لیے شریف فیملی نے 70 کروڑ روپے سے زائد رقم لگائی، چودھری شوگر مل میں نواز شریف، شہباز شریف، مریم نواز، حمزہ شہباز سمیت متعدد افراد شراکت داررہے .

  • آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، مولانا فضل الرحمان بھی خاموش نہ رہ سکے، کیا کہا؟

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، مولانا فضل الرحمان بھی خاموش نہ رہ سکے، کیا کہا؟

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، مولانا فضل الرحمان بھی خاموش نہ رہ سکے، کیا کہا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سکھر پہنچ گئے ہیں وہ سکھر میں آج شام جلسہ سے خطاب کریں گے، سکھر پہنچنے پر مولانا فضل الرحمان کا شاندار استقبال کیا گیا، مولانا فضل الرحمان نے سکھر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم وزیراعظم کے استعفیٰ اور نئے الیکشن کے مطالبے پر قائم ہیں، قوم جلد خوشخبری سنے گی

    مولانا فضل الرحمان نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالہ سے سوال کے جواب میں کہا کہ عدالت میں اس پر سماعت ہو رہی ہے کوئی بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن ہم چاہتے ہیں کہ قانون اور آئین کی پاسداری ہو،تمام ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں.

    اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی ختم، پلان اے ،بی، سی ختم پھر بھی مولانا امید سے

    فارن فنڈنگ کیس، شیخ رشید نے بھی بڑا مطالبہ کر دیا

    فارن فنڈنگ کیس سماعت سے قبل وزیراعظم عمران خان کے لئے ایک اور مشکل

    غیر ملکی فنڈنگ کیس میں تحریک انصاف کو ملی عدالت سے ملی بڑی کامیابی

    فارن فنڈنگ کیس، مریم اورنگزیب نے الیکشن کمیشن سے بڑا مطالبہ کر دیا

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں وزیراعظم کے استعفیٰ پر متحد ہیں، اس پر کوئی دوسری رائے نہیں، نااہلوں کی حکومت سے چھٹکارا حاصل کرنا ہو گا، نااہلوں نے ملکی معیشت تباہ کر کے رکھ دی، غریبوں کو نوکریاں دینے کی بجائے بھکاری بنایا جا رہاہے، ہم اس حکومت کو مزید چلتا نہین دیکھ سکتے.

    سکھر میں کانفرنس کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں، سکھر پہنچنے پر جے یو آئی سندھ کے رہنماؤں نے مولانا فضل الرحمان کا استقبال کیا.

  • آرمی چیف مدت ملازمت توسیع کیس، سماعت سے قبل کمرہ عدالت میں کون پہنچ گیا؟ سب حیران

    آرمی چیف مدت ملازمت توسیع کیس، سماعت سے قبل کمرہ عدالت میں کون پہنچ گیا؟ سب حیران

    آرمی چیف مدت ملازمت توسیع کیس، سماعت سے قبل کمرہ عدالت میں کون پہنچ گیا؟ سب حیران

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالہ سے درخواست پر سماعت دوبارہ ہونی ہے، سابق وفاقی وزیرفروغ نسیم اور وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہزاد اکبر کمرہ عدالت میں پہنچ گئے، اٹارنی جنرل انور منصور خان ور ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل بھی عدالت میں پہنچ گئے. تھوڑی دیر میں عدالت میں دوبارہ کیس کی سماعت ہو گی.

    عدالت آمد سے قبل اٹارنی جنرل انور منصور خان اور فروغ نسیم نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی جس میں وزیراعظم سے قانونی امور پر مشاورت کی گئی، وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں سمری تیار کی جائے.

    چیف جسٹس نے قانون میں کون کونسی ترامیم کا کہہ دیا؟ فروغ نسیم نے عدالت میں کیا کہا؟

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، بحث کے بعد فیصلہ محفوظ، کب سنایا جائیگا؟

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، ایک اور سمری کی تیاری جاری

    واضح رہے کہ آرمی چیف مدت ملازمت میں توسیع کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتےہوئے کہا کہ آپ بوجھ خود اٹھائیں ہمارے کندھے کیوں استعمال کرتے ہیں، چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ”آپ نے کہا کہ قانون سازی میں تین ماہ چاہئیں‘۔ہم تین ماہ کیلئے اس میں توسیع کردیتے ہیں۔اگر 3 ماہ میں قوانین تیار ہوگئے تو پھر آرمی چیف کو 3 ماہ کی توسیع مل جائے گی۔

    چیف جسٹس نے کہا کیا ہم آپ کی بات پرلکھ دیں کہ 3 ماہ میں قوانین بنادیں گے،اٹارنی جنرل نے کہا قانون سازی کیلئے چھ ماہ کا وقت دیاجائے۔نیا قانون بنانے کے لیے وقت لگے گا جس پر چیف جسٹس نے کہا آپ سے 72 سال میں قانون نہیں بنا اتنی جلدی کیسے ہوگا۔ چیف جسٹس نے کہا جنہوں نے ملک کی خدمت کی ہمارے لئے ان کا بڑا احترام ہے۔لیکن ہم آئین اور قانون کا سب سے زیادہ احترام کرتے ہیں

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں آج آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف سماعت کا تیسرا روز ہے، تین دن سے مسلسل سماعت جاری ہے، اس حوالہ سے حکومت 3 سمریاں عدالت میں پیش کر چکی ہے، وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کیس لڑنے کے لئے استعفی دے دیا ہے آج انہوں نے عدالت میں کہا کہ ہم بیان حلفی جمع کرواتے ہیں کہ چھ ماہ میں قانون میں تبدیلی کر لیں گے

  • مفتاح اسماعیل کی درخواست ضمانت پر عدالت نے نیب کو دیا بڑا حکم

    مفتاح اسماعیل کی درخواست ضمانت پر عدالت نے نیب کو دیا بڑا حکم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایل این جی اسکینڈل میں مسلم لیگ ن کے رہنما مفتاح اسماعیل کی ضمانت کی درخواست پرنیب کونوٹس جاری کر دیئے گئے، اسلام آبا دہائیکورٹ میں ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے نیب نے 10 دسمبر تک جواب طلب کر لیا

    عدالت نے نیب کو درخواست ضمانت بعد از گرفتاری پر پیراوائز کمنٹس جمع کرانے کی ہدایت بھی کی،اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 10 دسمبر تک ملتوی کردی.

    واضح رہے کہ مفتاح اسماعیل کو نیب نے ایل این جی کیس میں گرفتار کر رکھا ہے، مفتاح اسماعیل جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ سے ضمانت کی درخواست مسترد ہونے پر نیب نے مفتاح اسماعیل کو گرفتار کر لیا تھا.

  • سندھ کے بعد پنجاب میں کتے کاٹنے لگے،دس سالہ بچے کو پنجاب کے کس بڑے ہسپتال میں ویکسین نہ ملی؟

    سندھ کے بعد پنجاب میں کتے کاٹنے لگے،دس سالہ بچے کو پنجاب کے کس بڑے ہسپتال میں ویکسین نہ ملی؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے علاقے تحصیل فیروزوالا میں ایک ہفتہ قتل کتے کے کاٹنے سے زخمی دس سالہ بچہ جاں بحق ہوگیا۔ دس سالہ علی کو شاہدرہ اورمیو اسپتال میں بروقت ویکسین نہیں لگائی جاسکی۔شیخوپورہ کی تحصیل فیروزوالہ میں کتے کے کاٹنے سے دس سالہ بچہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا۔

    ایک ہفتے قبل کمسن علی کو کوٹ عبدلمالک میں کتے نے کاٹا تھا۔ ورثا کے مطابق بچے کو پہلے شاہدرہ اسپتال لیجایا گیا پھر میو اسپتال لایا گیا مگر دونوں اسپتالوں میں بچے کو ویکسین فراہم نہیں کی گئی. بچے کی موت پر ورثا نے شدید احتجاج کیا اور حکومتی بے حسی کا رونا رویا.

    وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارنے کتے کے کاٹنے سے فیروز والا کے رہائشی دس سالہ لڑکے کے جاں بحق ہونے کے واقعہ کا نوٹس لے لیا ہے،وزیراعلیٰ نے لڑکے کے جاں بحق ہونے پر دکھ اورافسوس کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین سے دلی ہمدردی واظہارتعزیت کی.

    وزیر اعلیٰ نے کمشنر لاہور ڈویژن سے رپورٹ طلب کر لی۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے شاہدرہ ہسپتال اورمیو ہسپتال میں لڑکے کو بروقت ویکسین نہ لگانے پر برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ واضح ہدایات کے باوجود ویکسین کی عدم موجودگی متعلقہ حکام کی غیر ذمہ داری کا ثبوت ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے ہسپتالوں اوردیہی و بنیادی مراکز صحت میں ویکسین کی دستیابی ہر صورت یقینی بنانے کی ہدایت کی اور کہا کہ آوارہ کتوں سے شہریوں کو بچانے کیلئے موثر مہم چلائی جائے۔انتظامیہ اس ضمن میں ہر ممکنہ اقدام کرے۔

  • پاکستان کے آئین میں کتنی غلطیاں؟ اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کو کیا بتایا؟

    پاکستان کے آئین میں کتنی غلطیاں؟ اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کو کیا بتایا؟

    پاکستان کے آئین میں کتنی غلطیاں؟ اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کو کیا بتایا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت سے متعلق کیس کی سماعت کی،دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ پارلیمنٹ آرمی ایکٹ کو اپڈیٹ کرے تو نئے رولز بنیں گے،اٹارنی جنرل انور منصور خان نے جواب میں کہاکہ آئین میں 18 مختلف غلطیاں نظر آتی ہیں،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ غلطیوں کے باوجود آئین ہمیں بہت محترم ہے،

    اٹارنی جنرل نے کہاکہ آرمی ایکٹ کابینہ کے سامنے رکھ کر ضروری تبدیلیاں کریں گے،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ ابھی قانون بنا کرآئیں،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ جوقانون 72 سال میں نہیں بن سکا وہ اتنی جلدی نہیں بن سکتا۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس وقت میرے پاس کوئی بھی قانون نہیں سوائے ایک دستاویزکے،کوشش کررہے ہیں کہ اس معاملے پر کوئی قانون بنائیں،قانون بنانے کیلئے3 ماہ کا وقت چاہیے،

    چیف جسٹس نے قانون میں کون کونسی ترامیم کا کہہ دیا؟ فروغ نسیم نے عدالت میں کیا کہا؟

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، بحث کے بعد فیصلہ محفوظ، کب سنایا جائیگا؟

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، ایک اور سمری کی تیاری جاری

    چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ جب کوئی کام آئین کے مطابق ہو جائے تو ہمارے ہاتھ بندھ جاتے ہیں،عدالت کاکندھا استعمال نہ کریں آئندہ بھی سپریم کورٹ کا نام استعمال ہو گا،آرٹیکل 243میں 3 سال تعیناتی کا ذکر نہیں،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ عدالت نے توسیع کر دی تو یہ قانونی مثال بن جائے گی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ جہاں مدت کا ذکر نہ ہو وہاں حالات کے مطابق مدت مقرر ہوتی ہے

    واضح رہے کہ آرمی چیف مدت ملازمت میں توسیع کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتےہوئے کہا کہ آپ بوجھ خود اٹھائیں ہمارے کندھے کیوں استعمال کرتے ہیں، چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ”آپ نے کہا کہ قانون سازی میں تین ماہ چاہئیں‘۔ہم تین ماہ کیلئے اس میں توسیع کردیتے ہیں۔اگر 3 ماہ میں قوانین تیار ہوگئے تو پھر آرمی چیف کو 3 ماہ کی توسیع مل جائے گی۔

    چیف جسٹس نے کہا کیا ہم آپ کی بات پرلکھ دیں کہ 3 ماہ میں قوانین بنادیں گے،اٹارنی جنرل نے کہا قانون سازی کیلئے چھ ماہ کا وقت دیاجائے۔نیا قانون بنانے کے لیے وقت لگے گا جس پر چیف جسٹس نے کہا آپ سے 72 سال میں قانون نہیں بنا اتنی جلدی کیسے ہوگا۔ چیف جسٹس نے کہا جنہوں نے ملک کی خدمت کی ہمارے لئے ان کا بڑا احترام ہے۔لیکن ہم آئین اور قانون کا سب سے زیادہ احترام کرتے ہیں