Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • لاہور، فضائی آلودگی کی سنگین صورتحال برقرار

    لاہور، فضائی آلودگی کی سنگین صورتحال برقرار

    لاہور سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں فضائی معیار بدستور انتہائی مضرِ صحت قرار دیا گیا ہے، جس کے باعث شہریوں کی صحت کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔

    ہفتہ کی علی الصبح ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) کی صورتِ حال انتہائی تشویشناک رہی، جب لاہور 439 اے کیو آئی کے ساتھ دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر رہا۔محکمہِ ماحولیات کے مطابق شہر کی فضا میں معلق آلودہ ذرات (Particulate Matter) حدِ معیار سے کئی گنا زیادہ پائے گئے، جس کے سبب شہریوں کو سانس کی تکالیف، آنکھوں میں جلن اور گلے کی خراش جیسے مسائل کا سامنا ہے۔پنجاب کے دیگر اضلاع میں بھی صورتحال مختلف نہ تھی۔ گوجرانوالہ میں فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ گئی، جہاں پارٹیکیولیٹ میٹرز کی تعداد 808 ریکارڈ کی گئی، جو انتہائی مضر صحت سطح تصور کی جاتی ہے۔ فیصل آباد میں بھی حالات تشویشناک رہے، اور اے کیو آئی 507 تک پہنچ گیا، جو عالمی معیار کے مطابق ’ہیزرڈس زون‘ میں آتا ہے۔
    عالمی ماحولیاتی ویب سائٹ کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں بھارتی دارالحکومت نئی دہلی پہلے نمبر پر ہے، جہاں آج اے کیو آئی انڈیکس 519 ریکارڈ کیا گیا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ فضائی آلودگی کی اس بڑھتی ہوئی لہر کے پیش نظر شہری غیر ضروری سفر سے گریز کریں، ماسک کا استعمال بڑھائیں اور بچوں، بزرگوں اور سانس کے مریضوں کو خصوصی احتیاط کی ہدایت کی گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے اسموگ کنٹرول کرنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔

  • عمران خان "بشریٰ بی بی” کا غلام کیسے بنا، برطانوی جریدے کا انکشاف

    عمران خان "بشریٰ بی بی” کا غلام کیسے بنا، برطانوی جریدے کا انکشاف

    برطانوی جریدے "دی اکانومسٹ” نے سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر خصوصی رپورٹ میں لکھا کہ سابق وزیراعظم کی بشریٰ بی بی سے تیسری شادی نے ناصرف ان کی ذاتی زندگی بلکہ ان کے انداز حکمرانی پر بھی سوالات کھڑے کیے۔

    سینئر صحافی اوون بینیٹ جونز نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ سابق وزیراعظم کے قریبی حلقوں کے مطابق بشریٰ بی بی اہم تقرریوں اور روزمرہ سرکاری فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتی تھیں، جس سے عمران خان کے فیصلہ سازی کے عمل پر روحانی مشاورت کا رنگ غالب ہونے کی شکایت پیدا ہوئی۔بشریٰ بی بی کے روحانی اثر کے نتیجے میں عمران خان اپنے اعلان کردہ اصلاحاتی ایجنڈے کو نافذ کرنے میں ناکام رہے۔ بعض مبصرین کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ حساس ادارے کے کچھ افراد مبینہ طور پر ایسی معلومات بشری بی بی تک پہنچاتے تھے جنہیں بشریٰ بی بی عمران خان کے سامنے اپنی روحانی بصیرت سے حاصل معلومات کے طور پر پیش کرتی تھیں۔

    رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی کے آنے کے بعد عمران خان کے گھر میں عجیب و غریب رسومات شروع ہوئیں، جیسے عمران خان کے سر کے گرد کچے گوشت کو گھمانا، روزانہ سیاہ بکرے یا مرغیوں کے سر قبرستان میں پھینکوانا اور کبھی کبھار زندہ سیاہ بکرے منگوانا۔پاکستانی سیاست میں ایک کردار ایسا ہے جو منظرِ عام پر کم نظر آیا لیکن اُس کا پسِ پردہ اثر و رسوخ موضوعِ بحث بنا رہا۔ یہ کردار ہے بشریٰ بی بی کا، جو سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ ہیں، اُن کی روحانی رہنما بھی اور مبصرین کے مطابق وہ شخصیت جنہوں نے عمران خان کی سیاسی زندگی پر سب سے گہرا اثر ڈالا۔ دی اکانومسٹ نے لکھا ہے کہ بشریٰ بی بی سے شادی نے ناصرف عمران خان کی ذاتی زندگی بلکہ اُن کے انداز حکمرانی پر بھی سوالات کھڑے کیے۔رپورٹ کے مطابق 2018 میں عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد بشریٰ بی بی کا کردار تیزی سے سیاسی بحث کا حصہ بن گیا، مخالفین نے اُن ہر حکومتی فیصلوں پر حد سے زیادہ مداخلت کا الزام لگایا۔عمران خان کی کابینہ کے ایک رکن نے تو یہاں تک بتایا کہ بشریٰ بی بی کا وزیرِاعظم ہاؤس پر مکمل کنٹرول تھا۔ سینِئر صحافی اوون بینیٹ جونز نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ سابق وزیراعظم کے قریبی حلقوں کے مطابق بشری بی بی اہم تقرریوں اور روزمرہ کے سرکاری فیصلوں پر اثرانداز ہوتی تھیں، جس سے عمران خان کی فیصلہ سازی پر روحانی مشاورت کا رنگ غالب ہونے کی شکایت پیدا ہوئی۔ اور نتیجاً عمران خان اپنے اعلان کردہ اصلاحاتی ایجنڈے کو نافذ کرنے میں ناکام رہے۔

    رپورٹ کے مطابق عمران خان کے ڈرائیور اور گھر کے سابق ملازمین نے دعویٰ کیا کہ بشریٰ بی بی کے آنے کے بعد گھر میں عجیب و غریب رسومات شروع ہوئیں، جیسے عمران خان کے سر کے گرد کچے گوشت کو گھمانا، لال مرچیں جلانا، روزانہ سیاہ بکرے یا مرغیوں کے سر قبرستان میں پھنکوانا اور کبھی کبھار زندہ سیاہ بکرے منگوانا، علاقے کے قصائی نے بھی ایسے آرڈرز کی تصدیق کی۔دی اکانومسٹ کی رپورٹ کے مطابق بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا کے ایک رشتے دار نے جہانگیر ترین کو بتایا کہ وہ کالا جادو کرتی ہیں، تاہم پی ٹی آئی نے ان باتوں کو ناراض ملازمین کی پھیلائی ہوئی بے بنیاد کہانیاں قرار دیا۔رپورٹ کے مطابق کچھ عرصے بعد ایک دعوت میں جہانگیر ترین سے ملاقات کے دوران بشریٰ بی بی نے خود جہانگیر ترین سے کہا کہ انہوں نے سفید کپڑے اس لیے پہنے ہیں تاکہ آپ مجھے کالے جادو والی عورت نہ سمجھیں۔ جہانگیر ترین نے کہا کہ انہوں نے اسی رات سمجھ لیا کہ پی ٹی آئی میں ان کا مستقبل نہیں، اور بعد میں پارٹی چھوڑ دی، جلد ہی پی ٹی آئی کے اندر بھی یہ تاثر پھیل گیا کہ اگر کسی نے بشریٰ بی بی پر تنقید کی تو وہ پارٹی سے نکال دیا جائے گا۔

    برطانوی جریدے کی رپورٹ کے مطابق عون چوہدری بھی اسی وجہ سے زیرِ عتاب آئے، عمران خان نے انہیں حلف برداری سے چند گھنٹے پہلے پیغام بھیجا کہ بشریٰ بی بی نے خواب میں دیکھا ہے کہ اگر وہ تقریب میں موجود ہوں تو وہ شریک نہیں ہوں گی، اور اگلے دن عون چوہدری کو عہدے سے ہٹا دیا گیا، گھر کے عملے اور قریبی ساتھیوں کے مطابق عمران خان سیاسی اور سرکاری فیصلوں سے پہلے بشریٰ بی بی سے رائے لیتے تھے اور ان کے کہنے پر لوگوں کی تصاویر بھیج کر چہرہ شناسی کرواتے تھے، یہاں تک کہ ایک بار فلائٹ چار گھنٹے تک رکی رہی، کیونکہ بشریٰ بی بی کے مطابق اڑان کا وقت موزوں نہیں تھا۔دی اکانومسٹ کی رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ پاکستان کے حساس ادارے کی بشریٰ بی بی میں دلچسپی کی پہلی علامت اُن کی عمران خان کے ساتھ خفیہ شادی کے فوراً بعد سامنے آئی،رپورٹ کے مطابق اگرچہ آئی ایس آئی نے یہ رشتہ نہیں کروایا تھا، لیکن ایسے اشارے ضرور موجود تھے کہ ادارہ اس تعلق سے فائدہ اٹھا رہا تھا، سابق انٹیلی جنس سربراہ جنرل فیض حمید نے بشریٰ بی بی کو نہایت باریک مگر مؤثر طریقے سے استعمال کیا،حساس ادارہ اپنے ایک افسر کے ذریعے آئندہ ہونے والے واقعات کی معلومات بشریٰ بی بی کے کسی پیر تک پہنچاتا، جو اُسے آگے بشریٰ بی بی تک منتقل کرتا اور یہ انفارمیشن بشریٰ بی بی عمران خان کے سامنے اپنی روحانی بصیرت سے حاصل معلومات کے طور پر پیش کرتی تھیں، جب وہ پیش گوئیاں درست ثابت ہوتیں تو عمران خان کا اپنی اہلیہ کی بصیرت پر یقین مزید پکا ہو جاتا۔

    بشریٰ بی بی کے کردار پر اختلاف صرف سیاسی حلقوں تک محدود نہیں تھا، فوجی قیادت کے ساتھ عمران خان کے تعلقات بھی ایک مرحلے پر شدید کشیدگی کا شکار ہوگئے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض سینئر اہلکاروں حتیٰ کہ جنرل باجوہ کو بھی شکایت تھی کہ عمران خان اپنی اہلیہ کی بات زیادہ سنتے ہیں، یہی وجہ تھی کہ 2019 میں اُس وقت کے آئی ایس آئی چیف جنرل عاصم منیر کی برطرفی کو بھی بشریٰ بی بی سے جوڑا جاتا ہے، 2022 میں اقتدار سے محرومی کے بعد عمران خان اور بشریٰ بی بی دونوں کے خلاف متعدد مقدمات قائم ہوئے، آج دونوں جیل میں ہیں۔پی ٹی آئی کے کچھ رہنما سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی عمران خان کو فوج کے ساتھ مصالحت پر آمادہ کر سکتا ہے تو وہ بشریٰ بی بی ہی ہیں جو فوج سے مصالحت کی جانب جھکاؤ رکھتی ہیں لیکن عمران خان کے قریبی حلقے بتاتے ہیں کہ ان کی بہن علیمہ خان سمیت پارٹی کے سخت گیر عناصر مصالحت کے خلاف ہیں۔

  • سعودی ولی عہد کی آئندہ ہفتے ملاقات،ٹرمپ کی تصدیق

    سعودی ولی عہد کی آئندہ ہفتے ملاقات،ٹرمپ کی تصدیق

    مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد سے آئندہ ملاقات کی تصدیق کردی۔

    ائیر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آئندہ ہفتے سعودی ولی عہد سے ہونے والی ملاقات صرف ملاقات نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر ہوگی۔صحافی کے سوال پر کہ کیا سعودی عرب کو ایف-35 طیارے فروخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے؟ اس پر امریکی صدر نے کہا کہ سعودی عرب بہت سے طیارے خریدنا چاہتا ہے، سعودی عرب بڑی تعداد میں ایف-35 اور دیگر لڑاکا طیارے خریدنے کا خواہش مند ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا دنیا کے بہترین طیارے اور بہترین میزائل بناتا ہے۔

    ابراہیمی معاہدوں سے متعلق سوال پر امریکی صدر نے کہا یہ معاہدے بھی بات چیت کا حصہ ہوں گے، امید ہے سعودی عرب جلد ابراہیمی معاہدے میں شامل ہو جائے گا۔

  • مبشر لقمان کا بڑا اعزاز، لائف اچیومنٹ ایوارڈ کیلئے نامزد،ہفتہ کو دیا جائے گا

    مبشر لقمان کا بڑا اعزاز، لائف اچیومنٹ ایوارڈ کیلئے نامزد،ہفتہ کو دیا جائے گا

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کو 15 نومبر بروز ہفتہ کو ایک تقریب میں لائف اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا جائے گا

    لائف اچیومنٹ ایوارڈ کی تقریب مقامی ہوٹل میں ہو گی،تقریب میں وفاقی وزیر برائے پبلک افیئرز رانا مبشر اقبال بطور مہمانِ خصوصی شرکت کریں گے جبکہ سینئر صحافی و اینکرپرسن مبشر لقمان کو بھی مہمانِ اعزاز کے طور پر مدعو کیا گیا ہے۔تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو ایوارڈ دیئے جائیں گے،تقریب کا مقصد مختلف شعبہ جات میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو ایوارڈز سے نوازنا اور کاروباری کمیونٹی کے درمیان روابط کو مضبوط بنانا ہے۔ تقریب کے منتظمین میں سی ای او ایونٹس میڈیا سید نسیم نقوی اور صدر ویلنیس کلب آف پاکستان ڈاکٹر اظہار خان شامل ہیں

    سینئر صحافی ،اینکر پرسن مبشر لقمان پاکستانی میڈیا کیان شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی بے باک گفتگو، دوٹوک مؤقف، اور جرات مندانہ صحافتی سوالات کے ذریعے ایک منفرد مقام حاصل کیا ہے۔ ان کی شخصیت میں ایک ایسی فکری توانائی جھلکتی ہے جو کسی بھی سچ کو پردوں میں چھپا رہنے نہیں دیتی۔ ان کی گفتار کا اُتار چڑھاؤ، سوالات کی چبھن اور اندازِ بیان کی کاٹ ایک ایسا امتزاج پیدا کرتی ہے جو ناظرین کو نہ صرف متوجہ رکھتا ہے بلکہ انہیں سوچنے پر بھی مجبور کرتا ہے۔مبشر لقمان کا ٹی وی پروگرام کھرا سچ صرف ایک ایسا آئینہ ہے جس میں سماج، سیاست، بیوروکریسی اور طاقت کے ایوانوں کی اصل تصویر دکھائی دیتی ہے۔ وہ اپنے پروگرام میں ایسے سوال اٹھاتے ہیں جو عمومی طور پر لوگ پوچھنے سے گھبراتے ہیں، اور یہی ان کی شناخت کا حقیقی جوہر ہے۔ مبشر لقمان کا "کھرا سچ” اپنے نام کی طرح کھرا، صاف، بے لاگ اور بنا لگی لپٹی کے پیش کیا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ حکمران ہو یا اپوزیشن سب ان سے "نالاں” رہتے ہیں،نصف سنچری کے قریب ان پر کیسز ہو چکے ہیں جن میں سے اکثر وہ جیت چکے ہیں،مبشر لقمان باغی ٹی وی کے سی ای اوکی حیثیت سے اس ادارے کو ایسے دور میں کامیابی سے آگے بڑھا رہے ہیں جب میڈیا میں شدید بحران پایا جا رہا ہے،
    award

  • اردن کے شاہ عبداللہ دوم دو روزہ دورے پر کل پاکستان آئیں گے

    اردن کے شاہ عبداللہ دوم دو روزہ دورے پر کل پاکستان آئیں گے

    ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ اردن کے شاہ عبداللّٰہ دوم کل سے پاکستان کا سرکاری دورہ کریں گے، شاہ اردن وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر 15، 16 نومبر کو دورہ کریں گے۔

    طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ اعلیٰ سطح کا یہ دورہ پاکستان اور اردن کے درمیان دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کا مظہر ہے، دورہ پاکستان اور اردن کے درمیان برسوں پر محیط برادرانہ تعلقات کا عکاس ہے، شاہ اردن کے دورے سے دونوں ملکوں کے تعلقات کو مزید تقویت ملے گی، دورے سے پاکستان اردن تعلقات کی اسٹریٹجک سمت مزید مضبوط ہوگی، یہ تعلقات سیاسی، معاشی اور ثقافتی شعبوں میں جامع اور وسیع شراکت داری کی جانب گامزن ہوں گے، اپنے دورے کے دوران شاہ عبداللّٰہ دوم صدرِ پاکستان اور وزیرِاعظم سے ملاقاتیں کریں گے، دونوں برادر ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، ایوانِ صدر میں ایک خصوصی تقریب منعقد ہوگی، جس میں شاہ عبداللّٰہ دوم کو پاکستان کا اعلیٰ ترین سول ایوارڈ عطا کیا جائے گا، یہ دورہ پاکستان اور اردن کے دیرینہ تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا، یہ دورہ دوطرفہ تعاون کے دائرہ کار اور شعبوں میں وسعت پیدا کرے گا۔

  • 27ویں ترمیم سے عدلیہ کمزور نہیں بلکہ اور مضبوط ہوئی ،احسن اقبال

    27ویں ترمیم سے عدلیہ کمزور نہیں بلکہ اور مضبوط ہوئی ،احسن اقبال

    وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ میثاق جمہوریت میں ہم نےاپنا وعدہ پوراکر دیا ،27ویں ترمیم سے عدلیہ کمزور نہیں بلکہ اور مضبوط ہوئی ہے۔

    اسلام آباد میں وزارت منصوبہ بندی کی جانب سےترقیاتی رپورٹ پیش کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر آبادی میں منصوبہ بندی کے لیے سٹیک ہولڈرز کا اجلاس کیا ہے،ترقیاتی منصوبوں کی مانیٹرنگ سے ان میں شفافیت لانے میں مدد ملی ہے، پاکستان کی فوج نے اور عوام نےمعرکہ حق کو انٹیگریشن کے ساتھ لڑا اور کامیابی حاصل کی،آج کے دور میں کامیابی کا پیمانہ یہی ہے کہ معاشی اور سیاسی استحکام سے ملک کی تمام اکائیوں کو محفوظ کیا جائے، افغان مہاجرین کو ہم نے 40 سال تک پناہ دی، اپنی روٹی میں شریک کیا لیکن آج افغان حکومت بھارت کے ہاتھوں میں ایک مہرہ بن چکی ہے،افغان حکومت دہشت گردوں کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کی اجازت نہ دے،افغانستان ہمارا ہمسایہ ہے اور ہم پاکستان کی طرح افغانستان میں بھی امن کے خواہاں ہیں۔

  • جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفے منظور

    جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفے منظور

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفے منظور کر لیے۔

    گزشتہ روز 27 ویں ترمیم کے معاملے پر جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہرمن اللہ نے سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا،ایوان صدر کے اعلامیے کے مطابق صدرِ آصف زرداری نے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کےاستعفے منظور کر لیے۔

    خیال رہے کہ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہرمن اللہ نےگزشتہ رات ساتھی ججز سے ان کےچیمبرز میں جاکر الوداعی ملاقاتیں کیں، ساتھی ججز نے جسٹس منصور اور جسٹس اطہرمن اللہ کو استعفیٰ نہ دینے کا مشورہ دیا اور ساتھی ججز آخری وقت تک دونوں کو مستعفی نہ ہونے پر قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے،ذرائع کے مطابق ساتھی ججز کے اصرار کے باوجود دونوں ججز اپنے فیصلے پر قائم رہے اور ساتھی ججز سے ملاقاتیں کرنے کے بعد استعفیٰ دیا پھر سپریم کورٹ سے روانہ ہوگئے۔

  • چنئی کے قریب بھارتی فضائیہ کا تربیتی طیارہ گر کر تباہ

    چنئی کے قریب بھارتی فضائیہ کا تربیتی طیارہ گر کر تباہ

    چنئی: بھارتی فضائیہ کا پیلٹس PC-7 بنیادی تربیتی طیارہ جمعہ کے روز معمول کی تربیتی پرواز کے دوران تامبرم کے قریب گر کر تباہ ہوگیا۔ حادثہ دوپہر تقریباً 2 بجے پیش آیا۔

    بھارتی فضائیہ کے مطابق طیارہ تامبرم ایئر بیس کے نزدیک معمول کی ٹریننگ مشن پر تھا جب اسے حادثہ پیش آیا۔ ترجمان کے مطابق پائلٹ نے بروقت طیارے سے چھلانگ لگا کر اپنی جان بچالی اور وہ مکمل طور پر محفوظ ہے۔واقعے کے بعد بھارتی فضائیہ نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے کورٹ آف انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔

  • پشاور ہائیکورٹ،سیاسی سرگرمیوں میں سرکاری وسائل کا استعمال روکنے کا حکم

    پشاور ہائیکورٹ،سیاسی سرگرمیوں میں سرکاری وسائل کا استعمال روکنے کا حکم

    پشاور ہائیکورٹ نے سیاسی سرگرمیوں میں سرکاری وسائل کا استعمال روکنے کا حکم دے دیا،

    ریلیوں، جلسوں اور ملین مارچ میں سرکاری مشینری کے استعمال کے خلاف درخواست پر سماعت پشاور ہائیکورٹ میں ہوئی،درخواست گزارکے مطابق صوبائی حکومت جلسوں اور ملین مارچ میں سرکاری وسائل کا استعمال کرتی ہے، فریقین سیاسی سرگرمیوں میں سرکاری ملازمین اور مشینری کا استعمال کرتے ہیں، احتجاج میں استعمال ہونے والی صوبائی حکومت کی مشینری اب بھی وفاق کے قبضے میں ہے۔

    عدالت نے 4 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے سیاسی سرگرمیوں میں سرکاری وسائل کا استعمال روکنے کا حکم دے دیا،عدالتی حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ جلسوں اور ملین مارچ میں سرکاری وسائل کا استعمال نہ کیا جائے۔درخواست گزار کے مطابق سرکاری وسائل کا استعمال آرٹیکل 4، 5 اور 25 کے خلاف ہے، سیاسی سرگرمیوں میں سرکاری وسائل کا استعمال قومی خزانےکا ضیاع ہے،ریاست سرکاری اور سیاسی تقریبات میں تفریق کرے، سیاسی سرگرمیوں میں سرکاری وسائل کا استعمال اختیارات کے ناجائز استعمال کے زمرے میں آتا ہے۔

  • وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا 9 مئی ریڈیو پاکستان حملے پر تحقیقات کیلئے انکوائری کمیشن کا اعلان

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا 9 مئی ریڈیو پاکستان حملے پر تحقیقات کیلئے انکوائری کمیشن کا اعلان

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے ریڈیو پاکستان پر 9 مئی حملے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیشن قائم کرنے کا اعلان کر دیا۔

    سہیل آفریدی کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ کمیشن سی سی ٹی وی سمیت تمام شواہد جمع کر کے رپورٹ کابینہ کو پیش کرے گی، سود سے پاک خیبرپختونخوا موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، ہم خیبرپختونخوا کو سود کے ناسور سے پاک کرنے کے لیے پالیسی بنا رہے ہیں، ہم اسلامک انوسٹمنٹ متعارف کرائیں گے، اسمبلی کی متفقہ قرارداد ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سے جیل میں ناروا سلوک ہورہا ہے،ہ 4.5 کروڑ عوام کے منتخب وزیراعلیٰ کو اپنے لیڈر سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کر کے پالیسی گائیڈ لائنز لینا چاہتا ہوں، بانی پی ٹی آئی اور اہلیہ کو ذاتی معالج سے ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی، حکومت کے تمام اقدامات اور اصلاحات منتخب نمائندوں کی مشاورت سے کی جائیں گی، صوبائی حکومت کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل کرے گی۔