Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سیلاب،نقصانات کا تخمینہ،پاکستان کا عالمی اداروں سے رابطہ

    سیلاب،نقصانات کا تخمینہ،پاکستان کا عالمی اداروں سے رابطہ

    پاکستان نے بین الاقوامی قرض دہندگان اور ترقیاتی اداروں سے باضابطہ طور پر رابطہ کر لیا ہے تاکہ رواں برس 2025 کے تباہ کن سیلاب سے ہونے والے معاشی و سماجی نقصانات کا درست تخمینہ لگایا جا سکے۔ حکومت نے عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی)، یورپی یونین اور اقوامِ متحدہ ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کو خط لکھتے ہوئے ’’بعد از آفات ضروریات کا جائزہ‘‘ (Post-Disaster Needs Assessment – PDNA) کرانے کی درخواست کی ہے۔

    ذرائع کے مطابق وزارتِ خزانہ نے کہا ہے کہ پاکستان کو ایک مستند اور شفاف تخمینے کی ضرورت ہے تاکہ متاثرہ علاقوں میں بحالی اور تعمیر نو کے منصوبوں کو درست انداز میں تشکیل دیا جا سکے۔وزارتِ خزانہ نے بتایا کہ اگرچہ حکومت پاکستان نے پہلے ہی نقصانات کا ایک ابتدائی تخمینہ تیار کر کے وزیرِاعظم سیکرٹریٹ اور دورہ کرنے والے آئی ایم ایف کے جائزہ مشن سے شیئر کیا تھا، لیکن اس رپورٹ پر اعتراضات اٹھائے گئے۔ تنقید کی بڑی وجہ یہ تھی کہ ابتدائی تخمینے میں کئی غلطیاں موجود تھیں۔ مثال کے طور پر رپورٹ میں بلوچستان کو بھی نقصان زدہ دکھایا گیا، حالانکہ 2025 کے حالیہ سیلابوں نے صوبہ بلوچستان میں کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچایا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی اداروں کی شمولیت سے نقصانات کا تخمینہ زیادہ جامع اور قابلِ اعتماد ہوگا، جس کے بعد عالمی امداد اور فنانسنگ کے حصول میں بھی آسانی پیدا ہوگی۔ پاکستان کو توقع ہے کہ PDNA کے ذریعے ہونے والے تجزیے میں معیشت، بنیادی ڈھانچے، زراعت، صحت اور تعلیم سمیت تمام شعبوں پر سیلاب کے اثرات کو سامنے لایا جائے گا۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی ادارے آئندہ چند ہفتوں میں اپنی ٹیمیں پاکستان بھیج سکتے ہیں جو زمینی حقائق کا جائزہ لے کر تخمینہ رپورٹ تیار کریں گی۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر نہ صرف مالی امداد بلکہ پالیسی اصلاحات اور بحالی منصوبوں کے لیے حکمتِ عملی بھی ترتیب دی جائے گی۔

  • کسی بھی مزاحمتی تحریک نے آزادی سے قبل اپنے ہتھیار نہیں ڈالے،حماس

    کسی بھی مزاحمتی تحریک نے آزادی سے قبل اپنے ہتھیار نہیں ڈالے،حماس

    فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام تک ہتھیار نہ ڈالنے کا اعلان کردیا۔

    حماس کے سینئر رہنما محمد نزال نے ایک انٹرویو کے دوران کہاکہ اسرائیلی مطالبہ ہے کہ حماس فلسطینی ریاست کے قیام سے پہلے غیر مسلح ہو جائے لیکن یہ ہمیں کسی صورت قبول نہیں، دنیا کی کسی بھی مزاحمتی تحریک نے آزادی سے قبل اپنے ہتھیار نہیں ڈالے۔ جنوبی افریقہ، افغانستان، ویتنام، الجزائر اور آئرلینڈ میں کبھی بھی مزاحمتی تحریکوں سے غیر مسلح ہونے کا مطالبہ آزادی سے پہلے نہیں کیا گیا،لسطینی مزاحمتی تنظیم اپنے ہتھیار صرف اسی صورت میں چھوڑے گی جب ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست قائم ہوگی،تنظیم امریکی صدر کے منصوبے پر غور کر رہی ہے اور جلد ہی اپنے مؤقف کا باضابطہ اعلان کرے گی تاکہ جلد اس جنگ کا خاتمہ ہوسکے،حماس بطور فلسطینی مزاحمتی قوت فلسطینی عوام کے مفاد میں فیصلہ کرنے کا حق رکھتی ہے۔

    یاد رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے رواں ہفتے 20 نکاتی منصوبہ پیش کیا تھا جس میں فوری جنگ بندی، یرغمالیوں اور قیدیوں کا تبادلہ، اسرائیلی فوج کا مرحلہ وار انخلا، حماس کا غیر مسلح ہونا اور ایک عبوری حکومت کا قیام شامل ہے،ٹرمپ نے منگل کو حماس کو 3 سے 4 دن کا الٹی میٹم دیا تھا کہ وہ اس منصوبے پر آمادگی ظاہر کرے

  • اسرائیلی وزیر دفاع کا غزہ کے باسیوں‌کو انخلا کا حکم

    اسرائیلی وزیر دفاع کا غزہ کے باسیوں‌کو انخلا کا حکم

    اسرائیل اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہ آیا، وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ایک بار پھر غزہ شہر کے تمام شہریوں کو علاقے سے انخلا کا حکم دیدیا۔

    وزیردفاع نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں وارننگ دی کہ یہ غزہ سٹی کے رہائشیوں کے لیے آخری موقع ہے کہ وہ اس شہر سے نکل کر جنوبی غزہ پٹی کی طرف چلے جائیں۔انہوں نے لکھا کہ اس کے بعد جو بھی فلسطینی وہاں موجود رہیں گے، انہیں دہشت گرد اور دہشت گردوں کا حامی تصور کیا جائے گا، اس تنبیہ کے بعد بھی جو فلسطینی غزہ شہر میں مقیم رہیں گے تو انہیں بھرپور طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    رپورٹس کے مطابق گزشتہ ماہ بڑے فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد سے قحط زدہ غزہ شہر سے اب تک تقریباً 4 لاکھ فلسطینی نقل مکانی کرچکے ہیں،غزہ کے باسیوں نے بتایا کہ نقل مکانی کے دوران راستے میں بھی صیہونی فوج کی اندھا دھند بمباری کا سلسلہ جاری رہتا ہے،ایک متاثرہ فلسطینی حسین الدل کا کہنا تھا کہ ہم گھروں سے ننگے پاؤں نکلے، اسرائیلی فوج کے حملوں کے باعث بچا کچا سامان بھی نہیں اٹھاسکے

  • آئی سی سی ویمن  ورلڈکپ،تیسرا میچ،بنگلہ دیش  نے پاکستان کو 7 وکٹوں سے ہرا دیا

    آئی سی سی ویمن ورلڈکپ،تیسرا میچ،بنگلہ دیش نے پاکستان کو 7 وکٹوں سے ہرا دیا

    آئی سی سی ویمن ورلڈکپ کے تیسرے میچ میں بنگلادیش ویمن ٹیم نے پاکستان ویمن ٹیم کو 7 وکٹوں سے ہرادیا۔
    سری لنکا کے شہرکولمبو میں کھیلےگئے میچ میں پاکستانی کپتان فاطمہ ثنا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا جو کہ غلط ثابت ہوا۔ پاکستان کی پوری ٹیم 39 ویں اوور میں صرف 129 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی،گرین شرٹس کی اننگ کا آغاز ہی تباہ کن تھا، معروفہ اختر نے پہلے اوور میں ہی عمیمہ سہیل اور سدرہ امین کو صفر پر آؤٹ کر دیا،اس کے بعد منیبہ علی اور رامین شمیم نے 42 رنز کی محتاط شراکت قائم کی، لیکن دونوں جلد ہی آؤٹ ہو گئیں اور پاکستان کا اسکور 13.4 اوورز میں 4 وکٹ کے نقصان پر 47 ہوگیا،رامین شمیم 39 گیندوں پر 2 چوکوں کی مدد سے 23 رنز کے ساتھ پاکستان کی ٹاپ اسکورر رہیں جب کہ منیبہ نے 35 گیندوں پر 17 رنز بنائے،ان کے بعد عالیہ ریاض 13، سدرہ نواز 15 اور کپتان فاطمہ 22 رنز بناسکیں اور اسکور 29.3 اوورز میں7 وکٹوں کے نقصان پر 100 ہوگیا،نمبر 9 پر آنے والی بیٹر ڈیانا بیگ نے ناقابل شکست 16 رنز کی اننگ کھیل کر پاکستان کا اسکور 129 تک پہنچایا۔

    بنگلا دیش کی جانب سے نشیتا اختر نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے 3.3 اوورز میں صرف 5 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں۔ معروفہ اختر اور ناہیدہ اختر نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں جب کہ ربیعہ خان نے بھی ایک وکٹ لی۔

    پاکستان کی جانب سے دیےگئے 130 رنز کے آسان ہدف کو بنگلا دیش نے صرف 3 وکٹوں کے نقصان پر پورا کرلیا،بائیں ہاتھ کی اوپنر روبیہ حیدر نے 77 گیندوں پر 8 چوکوں کی مدد سے ناقابل شکست 54 رنز بنا کر ٹیم کی جیت کو یقینی بنایا،کپتان نگار سلطانہ نے 44 گیندوں پر 5 چوکوں کی مدد سے 23 رنز اسکور کیے۔ دونوں کے درمیان تیسری وکٹ کے لیے 62 رنز کی میچ وننگ شراکت بنی،اس کے علاوہ، مڈل آرڈر بیٹر سوبھانا موستاری نے بھی 19 گیندوں پر 6 چوکوں کی مدد سے 24 رنز بنا کر ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کیا،پاکستان کی جانب سے رامین شمیم، ڈیانا بیگ اور کپتان فاطمہ ثنا نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔

  • پولیس تشدد کے واقعے پر صحافیوں سے غیر مشروط معافی مانگتا ہوں،طلال چوہدری

    پولیس تشدد کے واقعے پر صحافیوں سے غیر مشروط معافی مانگتا ہوں،طلال چوہدری

    وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ، اسلام آباد پولیس کی طرف سے معافی مانگتا ہو۔

    نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ مجھے وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے بھیجا ہے، پولیس تشدد کے واقعے پر صحافیوں سے غیر مشروط معافی مانگتا ہوں،

    خیال رہے کہ اسلام آباد پولیس نیشنل پریس کلب میں داخل ہوگئی تھی، جہاں کیفے ٹیریا میں توڑ پھوڑ کی اور صحافیوں پر تشدد بھی کیا گیا تھا،صدر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (پی ایف یو جے) افضل بٹ کا کہنا ہے کہ پریس کلب کے عہدیداروں سے رابطہ نہیں کیا گیا، پریس کلب کے عہدیداروں اور ملازمین پر تشدد کیا گیا،افضل بٹ نے کہا کہ پولیس کو پریس کلب میں داخل ہونے پر جواب دینا ہوگا، پولیس کی اس کارروائی کے خلاف بھرپور احتجاج کریں گے، پولیس نے کیمرا مینز کے کیمرے اور موبائل فون چھیننے کی کوشش کی

  • سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظرِ ثانی درخواستوں کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظرِ ثانی درخواستوں کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی درخواستوں کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔

    47 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل عباسی کا اختلافی نوٹ اور جسٹس صلاح الدین پنہور کا سماعت سے الگ ہونے کی وجوہات پر الگ نوٹ بھی شامل ہے۔جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس محمد علی مظہر الگ وجوہات تحریر کریں گے۔سپریم کورٹ نے نظرِ ثانی درخواستیں منظور کرتے ہوئے 27 جون کو فیصلہ سنایا تھا۔تفصیلی فیصلے کے مطابق ریویو پٹیشنز صرف آئینی بینچ ہی سن سکتا ہے، 13 رکنی آئینی بینچ کے سامنے نظرِ ثانی درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کی گئیں، آئینی بینچ کے 11 ججوں نے فریقین، اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرلز کو بھی نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا۔تفصیلی فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ بینچ کے 2 ارکان نے مختلف رائے دی اور ریویو پٹیشنز مسترد کر دیں جبکہ 2 ججز نے حتمی فیصلہ سنا کر مزید کارروائی میں حصہ نہیں لیا۔تفصیلی فیصلے کے مطابق مخصوص نشستوں کے 12 جولائی 2024ء کے اکثریتی فیصلے میں نئی ٹائم لائنز مقرر کی گئیں، نئی ٹائم لائنز انتخابی شیڈول، الیکشن ایکٹ کی دفعات اور آئین کے آرٹیکل 51 اور 106 کے منافی تھیں، آئین اور قانون کے برخلاف ماضی سے مؤثر، نئی ٹائم لائنز مقننہ کا اختیار ہے عدالت کا نہیں، نئی ٹائم لائنز مقرر کر کے ہدایات کے ذریعے عدالت نے عدالتی اختیار کی حد سے تجاوز کیا۔

    تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے دائرہ اختیار سے باہر جا کر اقدام کیا اور آئین کے آرٹیکل 175(2) کی خلاف ورزی کی، نئی ٹائم لائنز، ہدایات ناصرف آئینی اور قانونی دفعات کی خلاف ورزی تھے، اس میں آئین میں درج اختیارات کی علیحدگی کے اصول کو بھی پامال کیا گیا، عدالت نے اپنی واضح حدود سے آگے بڑھ کر قانون سازی کے میدان میں مداخلت کی۔تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ 12 جولائی 2024ء کا اکثریتی فیصلہ آئین میں دیے گئے جمہوری اقدار اور اصولوں کی بھی کھلی خلاف ورزی تھا، مخصوص نشستوں پر انتخابات، بلاشبہ بالواسطہ اور بلاشبہ تناسبی نمائندگی کے اصول پر مبنی تھے، 12 جولائی کے اکثریتی فیصلے میں عوام کی مرضی اور آئین کے حکم کو نظر انداز کیا گیا، 12 جولائی 2024ء کے اکثریتی فیصلے میں آئین قانون کو نظر انداز کیا گیا،تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ سنی اتحاد کونسل اور اس کے چیئرمین کا کنڈکٹ قابلِ ستائش نہیں تھا، سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے 2 دن ابتدائی دلائل دیے اور کیس میں تاخیر کے لیے 2 درخواستیں دیں، مخصوص نشستوں کے کیس کو پریس نے بہت توجہ دی حالانکہ قانون بالکل واضح ہے اور کیس آسان تھا، سنی اتحاد کونسل نے نظرِ ثانی دائر ہی نہیں کی، سنی اتحاد کونسل کے وکیل تو یہ کہتے رہے کہ اس ہار میں بھی میری جیت ہے۔

    سپریم کورٹ نے تفصیلی فیصلے میں کہا ہے کہ پی ٹی آئی نہ سپریم کورٹ، نہ پشاور ہائی کورٹ اور نہ ہی الیکشن کمیشن میں فریق تھی، پی ٹی آئی کے جن امیدواروں کو آر او نے آزاد قرار دیا انہوں نے عدالت سے رجوع نہیں کیا، سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہیں نہیں کہا کہ پی ٹی آئی الیکشن نہیں لڑ سکتی، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور کچھ امیدواروں نے پی ٹی آئی سے الیکشن لڑا،تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ 2024ء کے عام انتخابات میں نامور وکلاء نے پی ٹی آئی کی طرف سے الیکشن لڑا، تعجب ہے کہ ان میں سے کسی وکیل نے آزاد قرار دینے کے فیصلے کو چیلنج نہیں کیا، پی ٹی آئی کے امیدواران نے غلط سمجھا کہ انہیں آزاد قرار دے دیا گیا ہے، پی ٹی آئی کے امیدواران فیصلے کو غلط سمجھنے کے برابر کے ذمے دار ہیں، سپریم کورٹ مکمل انصاف 184 کے تحت کر سکتی ہے،فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مکمل انصاف کے نام پر اس فریق کو ریلیف نہیں دیا جا سکتا جو مقدمے میں فریق ہی نہ ہو، مخصوص نشستوں کے مرکزی کیس میں پی ٹی آئی کو وہ ریلیف دیا گیا جس کا اختیار ہی نہیں تھا، اکثریتی ججز کا اقلیتی ججوں کو نکال کر خصوصی بینچ تشکیل دینا غیر قانونی ہے، آئین میں دی ہوئی ٹائم لائن تو پارلیمنٹ آئینی ترمیم کے ذریعے ہی تبدیل کر سکتا ہے،سپریم کورٹ کا اپنے تفصیلی فیصلے میں کہنا ہے کہ واضح ٹائم لائنز کو تبدیل کرنا اختیارات کی تقسیم کی تکون کے نظریے کے خلاف ہے، سپریم کورٹ کو یہ اختیار کسی نے نہیں دیا کہ تشریح میں آئین کو ہی دوبارہ تحریر کر ڈالے، کسی جج کو قطعی یہ اختیار نہیں کہ وہ اپنی پسند یا ناپسند کی بنیاد پر آئین کی تشریح کرے۔

  • گلوبل صمود  فلوٹیلا میں پاکستان کے شہریوں کی باوقار شرکت کو سراہتا ہوں۔وزیراعظم

    گلوبل صمود فلوٹیلا میں پاکستان کے شہریوں کی باوقار شرکت کو سراہتا ہوں۔وزیراعظم

    وزیر اعظم شہباز شریف نے گلوبل صمود فلوٹیلا میں پاکستانی وفد کی شمولیت کو پاکستانی عوام کی امنگوں اور جذبے کی نمائندگی قرار دے دیا۔

    سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں وزیر اعظم نے کہا میں گلوبل صمود فلوٹیلا میں پاکستان کے شہریوں کی باوقار شرکت کو سراہتا ہوں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ مشتاق احمد خان صاحب، مظہر سعید شاہ صاحب، وہاج احمد صاحب، ڈاکٹر اسامہ ریاض صاحب، اسماعیل خان صاحب، سید عزیز نظامی صاحب اور فہد اشتیاق صاحب سمیت دیگر پاکستانیوں نے انسانی ہمدردی کے اصولوں کے عین مطابق اس عظیم امدادی مشن میں حصہ لیا۔ شہباز شریف نے مزید کہا کہ یہ اقدام پاکستانی عوام کی امن پسند امنگوں، انصاف کے لیے جدوجہد اور ضرورت مندوں کی مدد کے جذبے کی نمائندگی کرتا ہے،حکومتِ پاکستان انسانی جان کے احترام، محفوظ رسائی، اور بلا تعطل امداد کے اصولوں کی حمایت کرتی ہے، اور اپنے شہریوں کی واپسی کا بھرپور مطالبہ کرتی ہے اور ان کی سلامتی، وقار اور جلد از جلد وطن واپسی کے لیے دعاگو اور کوشاں ہے۔

    خیال رہےکہ اسرائیلی وزارت خارجہ کے مطابق فلوٹیلا میں موجود تمام کشتیوں کو اسرائیلی فوج نے قبضے میں لے لیا ہے اور فلوٹیلا میں موجود تمام افراد کو اسرائیل منتقل کیا جارہا ہے جہاں سے انہیں یورپ ڈی پورٹ کیا جائے گا،اسرائیلی فوجی کشتیوں نے گزشتہ شب 40 سے زائد کشتیوں پر مشتمل گلوبل فلوٹیلا کو گھیرے میں لینا شروع کیا اور کئی کشتیوں پر پانی کی توپیں چلائیں۔غزہ کے قحط زدہ عوام کے لیے امداد لے جانے والے اس فلوٹیلا پر پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد اور عالمی شہرت یافتہ سماجی رہنما گریٹا تھنبرگ سمیت 500 کے قریب افراد سوار ہیں۔

  • پنجاب کی تذلیل، نشانہ بنانے والوں کو جواب دوں گی،مریم نواز کا پھر وار

    پنجاب کی تذلیل، نشانہ بنانے والوں کو جواب دوں گی،مریم نواز کا پھر وار

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ میں پنجاب کی تذلیل اور نشانہ بنانے والوں کو جواب دوں گی، پنجاب کی بات وزیراعلیٰ نہیں کرے گی تو اور کون کرے گا۔

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے لوگوں کی عزت نفس کی بات کی، اس پر کبھی معافی نہیں مانگوں گی،سیلاب آگیا تو مانگنا شروع کردو، پنجاب کے پاس وسائل ہیں، باقی تمام صوبوں کے پاس بھی یکساں وسائل ہیں، وہ کہاں جاتے ہیں، اپنے وسائل سے لاکھوں سیلاب متاثرین کو گھروں میں آباد کریں گے، کبھی لوگوں کو کشکول پکڑنے کا نہیں کہوں گی، ہر چیز کا علاج بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام نہیں ہوتا، این ایف سی کے پیسے سب کو یکساں ملتے ہیں، آپ اپنے پیسے کہاں لگاتے ہیں،پنجاب نہریں نکالنے کی بات کرے تو تکلیف ہو جاتی ہے، پانی چوری نہیں کرنا تھا، چولستان کی زمین کو آباد کرنا تھا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب میں سفارش اور دھاندلی کو فل اسٹاپ لگایا، آج صوبے کے تعلیمی اداروں میں نا پوزیشن بکتی ہے اور نا ہی میرٹ کی پامالی ہوتی ہے، جس ملک میں اتنے ٹاپر ہوں اسے کبھی زوال نہیں آ سکتا، بچوں نے پنجاب اور پاکستان کا نام روشن کیا، پرائیویٹ اور سرکاری اسکولوں کی پڑھائی میں بہت فرق آگیا ہے، میں نے عہد کیا کہ پرائیویٹ سرکاری اسکول کی تعلیم کا فرق ختم کروں گی، آج کل ٹیکنالوجی کا دور ہے، کتاب، پینسل سے گزارہ نہیں، پنجاب میں 80 ہزار بچے اسکالرشپ پر تعلیم حاصل کر رہے ہیں،مجھے خوشی کے بچوں کے خواب چھوٹے نہیں آسمانوں تک پہنچے ہیں، خوشی ہے پنجاب کے بیٹوں سے بڑھ کر بیٹیوں نے پرفارم کیا ہے، ٹاپ کرنے والے مسلمان بچے کا استاد اقلیتی برادری سے تعلق رکھتا ہے، میں نے سفارش اور دھاندلی کو فل اسٹاپ لگایا، آج پوزیشن بکتی ہے نا ہی میرٹ کی پامالی ہوتی ہے، آج پنجاب میں ایگزامینشین سینٹر بکتے نہیں ہیں،کسی بھی سرکاری افسر کا تقرر کرنا ہوتو میں پینل کا انٹرویو خود کرتی ہوں، اگر پینل میں کوئی میرٹ پر نہیں اترتا تو پورا پینل واپس بھیجتی ہوں، آج تک میں نےکسی سفارشی اورمن پسند شخص کا تقرر نہیں کیا،ج میرٹ کی بنیاد رکھ کر جارہی ہوں تاکہ کل کوئی مشکل نہ ہو، اگر آپ کے اندر ٹیلنٹ ہے تو آپ کو کسی سفارش کی ضرورت نہیں، میرے پاس سفارش کے لیے کوئی نہیں آتا،میں اللہ تعالیٰ کو جوابدہ ہوں اور اس کے بعد پنجاب کے عوام کو جوابدہ ہوں، پہلے ہوتا تھا کہ یہ میرا دوست ہے اس کو ٹھیکا دے دو، وہ سارے ٹھیکے میں نے کینسل کردیے،میں آج میرٹ کا راستہ نہیں کھولوں گی تو آپ کو رکاوٹ آئے گی، سرکاری اسکول کو معیاری اسکول بنانا چاہتی ہوں، چاہتی ہوں سرکاری اسکول میں پرائیویٹ اسکول سے بہترین تعلیم ملے، میرا پرائم فوکس نوجوانوں پر ہے۔

  • سیلابوں سےمتعلق فیصلہ کیا کہ فوری طور پر امداد نہیں مانگیں گے ،وزیرخزانہ

    سیلابوں سےمتعلق فیصلہ کیا کہ فوری طور پر امداد نہیں مانگیں گے ،وزیرخزانہ

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ سیلابوں سےمتعلق فیصلہ کیا ہےکہ فوری طور پر امداد نہیں مانگیں گے اور کوشش ہےکہ اپنے زور بازو پر معاملات ٹھیک کریں۔

    پشاور میں پاکستان بزنس سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ ایف بی آر کا کام اب صرف ٹیکس اکٹھا کرنا ہوگا، اگلے سال کا بجٹ ٹیکس پالیسی آفس کی جانب سےدیا جائےگا اور یہ بجٹ مستحکم بجٹ ہوگا،کسی بھی ملک کی ترقی میں پرائیویٹ سیکٹر کا اہم کردار ہوتا ہے، حکومت نے پرائیویٹ سیکٹر کو سازگار ماحول فراہم کرنا ہے، ریگولیٹری میٹریل کی قیمتوں کو کم کیا تاکہ انڈسٹریز چل سکیں، پرائیویٹ سیکٹرکو آگے لے جانا ہے تو ٹیکسز اور دیگر معاملات کو دیکھنا ہوگا تاکہ لوگوں کا اعتماد معیشت پرقائم ہو، گزشتہ چند ہفتوں میں چین، سعودی عرب اور دیگر ممالک کےدورے کیے، ہم نے صرف چین میں 24 معاہدے کیے، امریکا میں ابھی مختلف شعبوں میں معاہدے کیے گئے، یہ سرمایہ کاری بہت اہم ہے، یہ اب امداد نہیں ہے بلکہ تجارت کی جارہی ہے،ہمیں موسمیاتی تبدیلی اور اپنی بڑھتی ہوئی آبادی کےچیلنج کو دیکھنا ہوگا، آبادی 2.3 فیصد شرح سے بڑھ رہی ہے، ہمارے بچوں کی بڑی تعداد غذائی کمی کا سامنا کر رہی ہے،سیلابوں سےمتعلق فیصلہ کیا ہےکہ فوری طور پر امداد نہیں مانگیں گے، کوشش ہےکہ پہلے سیلاب متاثرہ علاقوں میں اپنے زور بازو پر معاملات کو ٹھیک کریں۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ ملک میں معاشی استحکام آگیا ہے، گزشتہ سال ترسیلات زر ساڑھے3 کروڑ ڈالرز کی تھیں، ہمیں امید ہے اس سال ترسیلات زر مزید بڑھیں گی جب کہ نجکاری کے عمل کو حکومتی سطح پر بہتر بنایا جا رہا ہے تاکہ سرمایہ کاری کے مثبت نتائج مرتب ہوں۔

  • گلوبل صمود فلوٹیلا،40 جہاز اسرائیلی تحویل میں، ایک غزہ کے قریب پہنچ گیا

    گلوبل صمود فلوٹیلا،40 جہاز اسرائیلی تحویل میں، ایک غزہ کے قریب پہنچ گیا

    یکم اکتوبر 2025 سے اب تک اسرائیلی فورسز نے غزہ جانے والے امدادی بیڑے "صمود فلوٹیلا” پر کارروائی کرتے ہوئے 46 ممالک کے 500 افراد کو حراست میں لیا ہے ،یہ کارکنان مختلف ممالک سے فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور محصور غزہ کے لیے امداد لے کر روانہ ہوئے تھے۔

    بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فورسز نے غیر قانونی طور پر 20 سے زائد مرتبہ فلوٹیلا کے جہازوں کو روکا اور کارکنان کو گرفتار کیا۔ تاہم اس تمام دباؤ اور رکاوٹوں کے باوجود ایک جہاز میکینو اسرائیلی ناکہ بندی توڑنے میں کامیاب ہوگیا اور بالآخر فلسطینی پانیوں میں داخل ہو گیا،اب یہ انکلیو کے ساحلوں سے تقریباً 20 کلومیٹر دور ہے اور اس وقت غزہ کی پٹی کے قریب ترین جہاز ہے۔صمود فلوٹیلا کی 40 کشتیاں اسرائیل نے تحویل میں لی ہیں، 12 کشتیاں اب بھی غزہ کی طرف رواں دواں ہیں اور اسرائیلی جہاز انکو بھی تحویل میں لینے کی کوشش کر رہے ہیں.

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ "صمود فلوٹیلا” کا مقصد غزہ کی ناکہ بندی کے خلاف عالمی توجہ مبذول کرانا اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر محصور شہریوں تک امداد پہنچانا ہے۔ اس قافلے میں شامل کارکنان میں انسانی حقوق کے کارکن، صحافی اور مختلف ممالک کے سماجی رہنما شامل تھے۔بین الاقوامی برادری نے اسرائیلی کارروائیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کی ناکہ بندی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے اور عالمی قوانین کے منافی ہے۔ فلوٹیلا کے منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اور دنیا کو غزہ میں جاری انسانی بحران سے آگاہ کرتے رہیں گے۔