Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • کسی کو تاحیات استثنیٰ دیناآئین و شریعت کیخلاف ہے،خالد مسعود سندھو

    کسی کو تاحیات استثنیٰ دیناآئین و شریعت کیخلاف ہے،خالد مسعود سندھو

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم پر تحفظات ہیں، حکومت نے دھونس اور دھاندلی سے سینیٹ سے ترمیم پاس کروائی،کلمہ کے نام پر بنائے گئے ملک کے آئین میں ترامیم ملکی مفاد میں ہونی چاہیے،کسی کو تاحیات استثنیٰ دینا جمہوری اور آئینی و شرعی اعتبار سے درست نہیں.

    خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ 27 ویں آئینی ترمیم حکومتی اتحاد نے جس انداز میں سینیٹ میں پیش کر کے منظور کروائی یہ ہمارا جمہوری کلچر اور روایات نہیں،حکومتی اتحاد کے پاس ان ترامیم کو پاس کروانے کا مینڈیٹ ہی نہیں تھا لیکن دھونس اور دھاندلی سے اپوزیشن کی آواز کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ،قوم سے مشاورت کیے بغیر تجاویز ترمیم میں پیش کی گئیں، جس طرح عدلیہ کے حوالہ سے ترامیم کی گئی ہیں یہ عدلیہ کے نظام کو تباہ کرنے کے مترادف ہیں، عدلیہ کی آزادی پر بہت بڑی قدغن ہے، مرکزی مسلم لیگ 27 ویں آئینی ترمیم کو پیش کرنے والوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ قانون سازی جو ملکی مفاد میں نہ ہو اس سے باز رہا جائے مرکزی مسلم لیگ کو 27 ویں ترمیم پر شدیدتحفظات ہیں.

  • 27 ویں آئینی ترمیم، صدر مملکت نے دستخط کر دیئے

    27 ویں آئینی ترمیم، صدر مملکت نے دستخط کر دیئے

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے 27 ویں آئینی ترمیم کے بل پر دستخط کردیے۔

    27ویں آئینی ترمیم کا بل دونوں ایوانوں سے منظور ہو چکا ہے اور صدر مملکت کے دستخط کے بعد یہ بل اب آئین کا حصہ بن گیا ہے۔خیال رہے کہ سینیٹ نے 27 ویں آئینی ترمیم کی نئی ترامیم کو دو تہائی اکثریت سے منظور کیا تھا۔

    سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں ہوا جس میں 27 ویں آئينی ترمیم کا نیا متن پیش کیا گیا۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27 ویں ترمیم کے نئے متن کو سینیٹ میں پیش کیا جس کے بعد ترامیم کو شق وار منظور کیا گیا۔27 ویں آئينی ترمیم کل قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت سے منظور کی گئی تھی، 27 ویں ترمیم کی منظوری کے لیے حکومت کے پاس درکار 224 سے زیادہ 234 ارکان موجود تھے تاہم جے یو آئی ف نے مخالفت میں ووٹ دیا۔

    قومی اسمبلی میں 27 ویں ترمیم میں 8 نئی ترامیم شامل کی گئی تھیں، حکومت نے تجاویز پر آرٹیکل 6 کی کلاز 2 میں تبدیلی کردی کلاز 2 کے تحت سنگین غداری کا عمل کسی بھی عدالت کے ذریعے جائز قرار نہیں دیا جاسکے گا، آرٹیکل 6 کی کلاز 2 میں ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے ساتھ آئینی عدالت کے لفظ کا اضافہ کیا گيا۔

    موجودہ چیف جسٹس کو عہدے کی مدت پوری ہونے تک چیف جسٹس پاکستان کہا جائے گا، اس کے بعد چیف جسٹس سپریم کورٹ اور چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت میں سے سینئر ترین جج چیف جسٹس پاکستان ہوگا۔

  • کالعدم تحریک لبیک  کی جائیدادیں اور اثاثے منجمد کرنے کا حکم

    کالعدم تحریک لبیک کی جائیدادیں اور اثاثے منجمد کرنے کا حکم

    پنجاب حکومت نے کالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے خلاف ایک اہم اور فیصلہ کن قدم اٹھاتے ہوئے اس کی تمام منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادیں، اثاثے اور بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق یہ احکامات محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے باضابطہ طور پر جاری کیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں سیکریٹری داخلہ پنجاب نے صوبے بھر کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں ٹی ایل پی کی ملکیتی جائیدادوں اور مالیاتی اثاثوں کی نشاندہی کر کے انہیں فوری طور پر منجمد کریں۔مزید برآں، بورڈ آف ریونیو، سیکریٹری ہاؤسنگ، سیکریٹری كوآپریٹو سمیت دیگر متعلقہ محکموں کو بھی اس ضمن میں باضابطہ مراسلہ بھیج دیا گیا ہے۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ "پنجاب بھر میں تحریک لبیک پاکستان کی تمام جائیدادوں اور اثاثوں کی تفصیلات مرتب کر کے رپورٹ محکمہ داخلہ کو ارسال کی جائے۔”

    محکمہ داخلہ کے مطابق یہ فیصلہ چیئرمین سب کیبنٹ کمیٹی برائے امن و امان خواجہ سلمان رفیق کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں مختلف حساس اداروں کی رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد اتفاق رائے سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دی گئی تنظیموں کے خلاف قانونی کارروائی کو مزید مؤثر اور عملی شکل دی جائے۔

    یاد رہے کہ تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دیا جا چکا ہے، جس کے بعد تنظیم کے دفاتر، فلاحی اداروں، فنڈز اور دیگر مالی ذرائع کی نگرانی پہلے ہی کی جا رہی تھی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مرحلے میں ٹی ایل پی کے مالی معاملات کی تفصیلی چھان بین اور ان سے وابستہ افراد کے اکاؤنٹس کی بھی جانچ کی جائے گی، تاکہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔

  • بھارت  افغانستان کی پشت پناہی کررہاہے۔خواجہ آصف

    بھارت افغانستان کی پشت پناہی کررہاہے۔خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہےکہ افغانستان دہشتگردی کی اور بھارت افغانستان کی پشت پناہی کررہا ہے۔

    اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ کچھ دن پہلے کے حملے میں بھی افغان شہری ملوث تھے اور اب اسلام آباد دھماکے میں بھی افغان شہری نکل آئے ہیں۔ ہم بار بار افغانستان کو بتا رہے ہیں مگر کابل ذمہ داری نہیں بھی لیتا تو یہ شہادت ساری دنیا کے سامنے ہے، افغانستان دہشتگردی کی پشت پناہی کررہا ہے اور بھارت افغانستان کی پشت پناہی کررہاہے۔ ہم نے جنگ بھی جیتی ہے اور دہشتگردی کے خلاف جنگ بھی جیتیں گے، دہشتگردی کے پیچھے عناصر کا زمین کے آخری کونے تک پیچھا کریں گے۔

  • اسلام آباددھماکہ، خودکش بمبار کی شناخت، افغان نژاد عثمان عرف قاری نکلا

    اسلام آباددھماکہ، خودکش بمبار کی شناخت، افغان نژاد عثمان عرف قاری نکلا

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور وانا میں حالیہ خودکش دھماکوں کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکام نے ایک خودکش بمبار کی شناخت کر لی ہے، جس کا نام عثمان عرف قاری بتایا گیا ہے۔ تحقیقات کے مطابق مبینہ حملہ آور افغانستان کا رہائشی تھا۔اور اسی نے اسلام آباد میں دھماکہ کیا

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس بات کی تصدیق کی کہ اسلام آباد میں ہونے والے خود کش حملے میں افغان شہری ملوث تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ تفتیشی اداروں کو حاصل شواہد اور ڈی این اے رپورٹ سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ حملہ آور افغانستان سے پاکستان داخل ہوئے اور انہوں نے اسلام آباد میں دہشتگردی کی کارروائیاں کیں۔محسن نقوی نے بتایا کہ حملہ آوروں کے افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے کے راستے اور سہولت کاروں کے حوالے سے بھی تحقیقات جاری ہیں۔ وزیر داخلہ کے مطابق سکیورٹی اداروں نے اب تک کئی اہم شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور سہولت کاروں تک پہنچنے کے لیے آپریشنز کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کسی صورت بھی اپنی سرزمین پر دہشتگردی برداشت نہیں کرے گا، اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی جو بیرونِ ملک سے آ کر ملک کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے۔محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بارڈر مینجمنٹ سسٹم کو مزید سخت کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔

    ذرائع کے مطابق، خودکش بمبار عثمان عرف قاری کی باقیات کو فرانزک لیبارٹری میں بھیجا گیا تھا جہاں سے ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے اس کی شناخت کی تصدیق ہوئی۔ تحقیقاتی ٹیموں کو امید ہے کہ جلد ہی ان حملوں کے پس پردہ نیٹ ورک تک رسائی حاصل کر لی جائے گی۔سکیورٹی ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان میں جاری انسدادِ دہشتگردی مہم کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے، کیونکہ اس سے ملک دشمن عناصر کے نیٹ ورک اور ان کے غیر ملکی روابط کے بارے میں اہم معلومات حاصل ہو سکیں گی۔

  • پارٹی لائن کے خلاف ووٹ دینا انحراف ہے،اسحاق ڈار

    پارٹی لائن کے خلاف ووٹ دینا انحراف ہے،اسحاق ڈار

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پارٹی لائن کے خلاف ووٹ دینا انحراف ہے مگر ضمیر کے مطابق ووٹ دیا جائے تو شمار ہوگا۔

    سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ منحرف ہونےکے حوالے سے کلاز کلیئر ہے، پارٹی لائن کے خلاف ووٹ دینا انحراف ہے مگر ضمیر کے مطابق ووٹ شمار ہوتا ہے،رکن کو معلوم ہوتا ہے کہ انحراف کی قیمت کیا ہوتی ہے، سیف اللہ ابڑو کو معلوم تھا کہ قیمت ادا کرنی ہے لیکن انہوں نے ضمیر کے مطابق ووٹ دیا، جب تک تحریری استعفی نہیں آتا اعلان کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی، جب تک الیکشن کمیشن سے ڈی نوٹیفائی نہیں ہوجاتا رکنیت برقرار رہتی ہے اور پروسیجر مکمل ہونے تک سیف اللہ ابڑو اس ایوان کے رکن ہیں۔

    پی ٹی آئی کے احتجاج پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ان لوگوں نے سیاست کرنی ہوتی ہے جس کی ویڈیو بن کر پھر اڈیالہ جیل جاتی ہے۔

  • عمران خان کا خیر خواہ ہوں اور چاہتا ہوں کہ وہ باہر آئیں،فیصل واوڈا

    عمران خان کا خیر خواہ ہوں اور چاہتا ہوں کہ وہ باہر آئیں،فیصل واوڈا

    سابق وفاقی وزیر سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہےکہ وہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خیر خواہ ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ باہر آئیں۔

    پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے پی، وزیراعظم اورصدر سے ملیں، وہ بانی پی ٹی آئی کے لیے راہ ہموار کریں جب کہ میں عمران خان کا خیر خواہ ہوں اور چاہتا ہوں کہ وہ باہر آئیں،سیف اللہ ابڑو اور احمدخان میرے بھائی ہیں ابھی ان کے ساتھ ناشتہ کرکے آرہا ہوں۔صحافی نے فیصل واوڈا سے سوال کیا کہ دونوں کے ساتھ ناشتہ کہاں کیا آپ نے؟ اس پر فیصل واوڈا نے کہاکہ وہ دونوں اس وقت میرے گھر میں ہیں۔سابق وزیر کا کہنا تھا کہ ہمیں لکھنے پڑھنے کی عادت نہیں، اس لیے غلطیاں ہوجاتی ہیں، یہ ہمارا جمہوری حق ہے، کوئی کومہ فل اسٹاپ کی غلطیاں ہیں تو درست کردیں۔ہ چیف منسٹر کے پی نے امن جرگہ والا اچھا کام کیا، صوبائی حکومت کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ آئندہ دنوں میں چائے کی پیالی میں طوفان لانے کی کوشش کی جائے گی۔

  • 27 ویں آئینی ترمیم کی نئی ترامیم سینیٹ سے بھی منظور

    27 ویں آئینی ترمیم کی نئی ترامیم سینیٹ سے بھی منظور

    سینیٹ نے 27 ویں آئینی ترمیم کی نئی ترامیم کو دو تہائی اکثریت سے منظور کرلیا۔

    سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں ہوا جس میں 27 ویں آئينی ترمیم کا نیا متن پیش کیا گیا۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27 ویں ترمیم کے نئے متن کو سینیٹ میں پیش کیا جس کے بعد ترامیم کو شق وار منظور کیا گیا۔وزیر قانون کی جانب سے ترمیم پیش کیے جانے کے موقع پر اپوزیشن نے ایوان میں ڈیسک بجاکر احتجاج کیا جب کہ ترامیم کی شق وار منظوری کے دوران بھی اپوزیشن ارکان نے احتجاج کرتے ہوئے نعرے بازی کی۔اپوزیشن اراکین نے عدلیہ کی تباہی نامنظور کے نعرے لگائے جس پر چیئرمین سینیٹ نے انہیں نعرے بازی سے منع کیا۔پی ٹی آئی کی فلک ناز ، مرزا آفریدی اور فیصل جاوید نے چیئرمین ڈائس کے سامنے دھرنا دے دیا جب کہ پی ٹی آئی ارکان ووٹنگ کا حصہ نہیں بنے۔

    جے یو آئی کے 4 ارکان نے بل کے خلاف ووٹ دیا جب کہ سینیٹر سیف اللہ ابڑو اور احمد خان نے ووٹ آئینی ترمیم کے حق میں دیا، کلاز 2 میں ترمیم کے حق میں 64 ووٹ آئے اور ترمیم کے خلاف 4 ووٹ آئے۔27 ویں آئینی ترمیم کی شق وار منظوری کے بعد تقسیم کے ساتھ ووٹنگ کا عمل کیا گیا اور سینیٹ میں گھنٹیاں بجائی گئیں جب کہ اس دوران سینیٹ ہال کے داخلی اور خارجی راستے بند کردیے گئے۔بعد ازاں چیئرمین سینیٹ نے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ 27 ویں ترمیم کی نئی ترامیم کی ووٹنگ کے دوران 64 ووٹ بل کی حمایت میں اور 4 مخالفت میں آئے۔چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے ترامیم کی دو تہائی اکثریت سے منظوری کا اعلان کیا۔

    اعظم نذیر نے ایوان کو بتایا کہ آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میں جو سینئر ہوگا وہ چیف جسٹس پاکستان ہوگا، صدر کا حلف چیف جسٹس پاکستان لیں گے اور الیکشن کمیشن کا حلف چیف جسٹس پاکستان لیں گے۔

  • کیڈٹ کالج وانا حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں،دہشتگرد افغانی تھے،انکشاف

    کیڈٹ کالج وانا حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں،دہشتگرد افغانی تھے،انکشاف

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ کیڈٹ کالج وانا حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی، حملہ کرنے والے تمام دہشت گرد افغان شہری تھے۔

    سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ حملے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا حتمی حکم خارجی نور ولی محسود نے دیا، دہشت گرد پوری کارروائی کے دوران افغانستان سے ملنے والی ہدایات پر عمل کر رہے تھے۔ذرائع نے کہا کہ حملے کی منصوبہ بندی خارجی ’زاہد‘ نے کی، خارجی نور ولی محسود کے حکم پر حملے کی ذمے داری ’جیش الہند‘ کے نام سے قبول کی۔ خارجی نورولی فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی سے ذمہ داری ہٹانا چاہتا تھا، اِسی لئے حملے کے دوران بنائی گئی ویڈیو میں خارجی بار بار جیش الہند کا نام لیتا رہا۔ افغان طالبان کی طرف سے فتنہ الخوارج پر دباؤ رہتا ہے کہ اپنی اصلی شناخت استعمال نہ کریں کیونکہ ان پر پاکستان اور دوست ممالک کا دباؤ بڑھتا ہے ۔آڈیو میں سنا جا سکتا ہے کہ خوارج "جیش الہند” کا متعدد بار نام لیتے ہوئے اردو میں بات کر رہا ہے تا کے اصل شناحت سامنے نہ آئے۔ اس حملے کیلئے تمام سازوسامان افغانستان سے فراہم کیا گیا ۔جس میں امریکی ساختہ ہتھیار شامل تھے ۔کیڈٹ کالج وانا پر حملے کا مقصد پاکستان میں سیکورٹی خدشات بڑھانا تھا جو کہ بھارتی ایجنسی را کی ڈیمانڈ تھی۔ حملے میں مارے گئے افغان دہشتگردوں کی شناخت نے تمام شکوک و شبہات ختم کر دیے۔نیشنل ایکشن پلان اور عزم اے استحکام کے تحت آخری دہشتگرد ختم ہونے تک انشاءاللہ آپریشن جاری رہیں گے.

    واضح رہے کہ جنوبی وزیرستان میں وانا کیڈٹ کالج کے تمام 627 طلبہ اور اساتذہ کو 14 گھنٹے بعد بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا تھا، آپریشن کے دوران 2سیکیورٹی اہلکار شہید ہوگئے تھے، کالج کے اندر چھپے چاروں خارجی دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا تھا

  • بلاول ہاؤس کےقریب سیف سٹی کیمرے کا ڈسٹری بیوشن باکس چوری

    بلاول ہاؤس کےقریب سیف سٹی کیمرے کا ڈسٹری بیوشن باکس چوری

    کراچی میں بلاول ہاؤس کےقریب سیف سٹی کیمرے کا ڈسٹری بیوشن باکس چوری ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ڈسٹری بیوشن باکس سیف سٹی کیمروں کو بہتر سروس فراہم کرنے میں مدد کرتا ہے جس کی چوری ہونے کی واردات 6 نومبر کو ہوئی تاہم اس حوالے سے تاحال کچھ پتا نہیں چل سکاہے۔نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے کہا کہ ڈسٹری بیوشن باکس کافی اونچا اور وزنی ہے اسے چوری کرنا آسان عمل نہیں، ڈسٹری بیوشن باکس کیسے غائب ہوا اس کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کررہے ہیں۔

    ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق عینی شاہدین کا بتانا ہے کہ ایک گاڑی کی مدد سے ڈسٹری بیوشن باکس پرکام کیا جارہا تھا، سیف سٹی کیمروں اورا س سے منسلک سامان میں کوئی سکیورٹی یا الارم سسٹم بھی نہیں،علاوہ ازیں ڈی جی سیف سٹی پروجیکٹ آصف اعجاز شیخ کا کہنا ہے کہ ڈسٹری بیوشن باکس چوری کے بعد سیف سٹی کیمرے اتارلیےگئے ہیں، ڈسٹری بیوشن باکس میں لاکھوں روپے مالیت کا سامان ہوتا ہے،