Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • صمود فلوٹیلا پر حملہ اور کارکنان کی گرفتاریاں کھلی دہشت گردی ہیں، خالد مسعود سندھو

    صمود فلوٹیلا پر حملہ اور کارکنان کی گرفتاریاں کھلی دہشت گردی ہیں، خالد مسعود سندھو

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہاہےکہ اسرائیل کی جانب سے صمود فلوٹیلا پر حملہ اور کارکنان کی گرفتاریاں کھلی دہشت گردی ہیں، غزہ کے باسیوں کو امداد پہنچانا جرم نہیں،صمود فلوٹیلا کے شرکا کی رہائی کے لئے عالمی برادری کردار ادا کرے، اہل غزہ کو امدادی سامان پہنچایا جائے.

    خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج کا غزہ کیلیے امدادی قافلے صمود فوٹیلاکے شرکا کو حراست میں لینا قابل مذمت،انتہائی شرمناک عمل ہے، ایک طرف امریکہ امن معاہدہ کی بات کر رہا تو وہیں دوسری جانب اہل غزہ تک امداد پہنچانے والے قافلے کو اسرائیل نے روک لیا، امریکی شہہ پر اسرائیل کھلی دہشت گردی کا ارتکاب کر رہا ہے،امدادی قافلے کے شرکا کو روکنا،حراست میں لینا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے،اسرائیلی اقدام پر عالمی دنیا آواز بلند کرے۔ اقوام متحدہ، عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ فلوٹیلا کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ پاکستان مرکزی مسلم اہل غزہ کے ساتھ کھڑی ہے.

  • پاکستان کا فلوٹیلا میں سوار تمام کارکنان کی فوری رہائی کا مطالبہ

    پاکستان کا فلوٹیلا میں سوار تمام کارکنان کی فوری رہائی کا مطالبہ

    ترجمان دفتر خارجہ نےکہا ہےکہ پاکستان نے1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت کی جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

    دفتر خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں گلوبل صمود فلوٹیلا روکنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ فلوٹیلا میں40 سے زائد کشتیوں پر 500 بین الاقوامی کارکنان محصور غزہ کے عوام کے لیے امداد لے جارہے تھے، اسرائیل کا انسانی ہمدردی کےکارکنان کو حراست میں لینا عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے اور نہتے شہریوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے،غزہ پر غیرقانونی محاصرہ 2 ملین سے زائد فلسطینیوں کو اذیت اور محرومی میں مبتلا کیےہوئے ہے، امدادی سامان کی راہ میں رکاوٹ چوتھے جنیوا کنونشن کی سنگین خلاف ورزی ہے،پاکستان نے فوری اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ دہرایا اورغزہ کا غیرقانونی محاصرہ ختم کرنے اورانسانی امداد کی آزادانہ ترسیل پر زور دیا جب کہ پاکستان نے فلوٹیلا میں سوار تمام کارکنان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے عالمی قوانین، انسانی حقوق اورانسانی ہمدردی کے قوانین کے احترام پر زور دیا، اسرائیل کو اس کے بار بار کے جرائم پر جوابدہ بنانے کا مطالبہ کیا جب کہ پاکستان نے آزاد، خودمختار اور قابل عمل ریاستِ فلسطین کے قیام کی حمایت کی ہے جو 1967 کی سرحدوں کے مطابق قائم ہو اور اس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو،

  • آزاد کشمیر ، احتجاج کی آڑ میں عوامی ایکشن کمیٹی کے شرپسند عناصر کا تشدد

    آزاد کشمیر ، احتجاج کی آڑ میں عوامی ایکشن کمیٹی کے شرپسند عناصر کا تشدد

    آزاد کشمیر میں احتجاج کی آڑ میں عوامی ایکشن کمیٹی کے شرپسند عناصر اشتعال اور تشدد پر اتر آئے۔

    حکومت کی جانب سے کئی بار مذاکرات کی دعوت کے باوجود عوامی ایکشن کمیٹی کا احتجاج جاری ہے۔آزاد کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی میں شامل چند شرپسندوں نے پولیس اہلکاروں پر حملے کرکے پولیس اہلکاروں سے اسلحہ اور دیگر سامان بھی چھین لیا،شرپسندوں کے ہاتھوں زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کا کہنا تھا کہ عوامی ایکشن کمیٹی نے حملہ کیا اور ہمیں یرغمال بنا کر وردیاں پھاڑ دیں ،پتھر اور ڈنڈے بھی مارے۔ ہم سے اسلحہ چھین لیا گیا اور پولیس والوں پر فائرنگ بھی کی گئی ۔عوامی ایکشن کمیٹی سے پولیس اہلکاروں نے کہا کہ آپ پر امن احتجاج کریں، ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ہمارے منع کرنے کے باوجود مظاہرین پہاڑوں پر چڑھ گئے اور اوپر سے ہم پر فائرنگ کی۔

    زخمی پولیس اہلکاروں کے مطابق فائرنگ کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے آنسو گیس بھی پھینکی۔عوامی ایکشن کمیٹی والوں نے کیل لگے ڈنڈوں سے پولیس ملازمین کو مارا۔عوامی ایکشن کمیٹی کے مظاہرین نے تشدد کیا جس سے ایس پی بھی زخمی ہوئے۔عوامی ایکشن کمیٹی کے پر تشدد مظاہرین نے ہماری کوئی بات نہیں سنی۔ایک زخمی اہلکار نے بتایا کہ ہم ڈڈیال کے چھوٹے سے شہر چکسواری کے علاقے پلاک میں ڈیوٹی کر رہے تھے۔ شرپسند مظاہرین نے ہماری رہائش گاہوں کا گھیراؤ کیا ہمارا سامان تک جلا دیا۔شر پسند مظاہرین کے پاس 30 بور، نائن ایم ایم پسٹل تھے۔اللہ نے ہماری جان بچائی کیونکہ شر پسند مظاہرین نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ شر پسند مظاہرین نے کنٹینر ہٹا دیا ،جس ایمبولینس میں میں جا رہا تھا اس کو بھی تباہ کردیا ۔عوامی ایکشن کمیٹی احتجاج کے نام پر امن و امان کو خراب کرنے کی مذموم سازش میں مصروف ہے۔

  • مودی راج میں جرائم کی شرح خطرناک حد تک بلند ، عوام  بے یار و مددگار

    مودی راج میں جرائم کی شرح خطرناک حد تک بلند ، عوام بے یار و مددگار

    بے حس مودی راج میں جرائم کی شرح خطرناک حد تک بلند ، عوام بے یار و مددگار ہے

    نام نہاد "وشو گروبھارت” میں شہریوں کا استحصال معمول ، نااہل مودی حکومت خاموش تماشائی ہے،بی جے پی کی حکمرانی میں بڑھتے قتل، زیادتی، اغوا اور چوری بھارت میں سماجی بحران کا پیش خیمہ ہیں،بھارتی نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی حالیہ رپورٹ کے مطابق بھارت میں جرائم کی شرح میں 7.2فیصد اضافہ،62لاکھ سے زائد کیسز درج ہوئے،بھارت میں سائبر کرائم کیسز کی تعداد 86 ہزار سے تجاوز کر گئی، ایک لاکھ 81ہزار سے زائد کیسز جعل سازی ، دھوکہ دہی ، فراڈ اور بلیک میلنگ سے متعلق ہیں ،بھارت میں اغوا کے7لاکھ 9ہزار880سے زائد کیسز سامنے آئے ، شادی پر مجبور کرنے کیلئے نابالغ لڑکیوں کو اغوا کرنے کے 14,637 واقعات ہوئے، بھارت میں معاشی جرائم کے 2 لاکھ 4 ہزار 973 کیس درج ہوئے ، بھارت میں بچوں کے خلاف جرائم میں 9.2 فیصد اضافہ ہوا اور 1 لاکھ 77 ہزار سے زائد کیس درج ہوئے، بھارت میں40ہزار سے زائد بچے اور بچیاں جنسی زیادتی جیسے سنگین جرائم کا شکار بنے،

    اپوزیشن پارٹی کانگریس نے اس صورتحال کو "شرمناک” قرار دیا اور حکومت پر شدید تنقید کی، کانگریس نے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی رپورٹ شیئر کرتے ہوئے لکھاکہ دن دیہاڑے قتل، گینگ وار ، ڈکیتی، اغوا اور تاوان کی مانگ ریاست کی پہچان بن گئی

    انتہا پسند مودی کی سرپرستی میں ریاستی ادارے مجرموں کی پشت پناہی کرنے میں مصروف ہیں ،نااہل مودی کی ناقص حکمرانی اور اقدامات نے بھارتی عوام کی زندگیوں کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا

  • برطانیہ، گرومنگ گینگ کے سرغنہ محمد زاہد کو 35 سال قید کی سزا

    برطانیہ، گرومنگ گینگ کے سرغنہ محمد زاہد کو 35 سال قید کی سزا

    برطانیہ میں گرومنگ گینگ کے سرغنہ محمد زاہد کو 35 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔

    برطانوی عدالت کی جانب سے گرومنگ گینگ کے دیگر 6 ممبران کو بھی طویل قید کی سزا سنائی گئی ہے،
    عدالت کے مطابق "باس مین” نے 13 سال کی عمر سے لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی، لڑکیوں کو جنسی غلام کی طرح استعمال کیا گیا،عدالت کو بتایا گیا تھا کہ متاثرہ لڑکیاں منشیات، شراب اور سگریٹ نوشی میں مبتلا تھیں، گینگ نے لڑکیوں کو رہائش اور سہولتیں فراہم کر کے قابو رکھا، گینگ میں دیگر ملزمان بھی شامل ہیں، برطانیہ میں ایسے گینگز کے خلاف ایک عرصے سے کاروئیاں جاری ہیں، بھارتی اور پاکستانی شہری بھی ان گینگز میں شامل ہیں

  • پاکستان ہاکی فیڈریشن کا جونیئر ورلڈکپ کے میچ بھارت سے منتقل کرنے کا مطالبہ

    پاکستان ہاکی فیڈریشن کا جونیئر ورلڈکپ کے میچ بھارت سے منتقل کرنے کا مطالبہ

    اسلام آباد: پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) نے بھارت میں شیڈول جونیئر ہاکی ورلڈکپ میں قومی ٹیم کے میچز دوسرے ملک منتقل کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق پی ایچ ایف نے انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن (ایف آئی ایچ) کو ایک باضابطہ خط ارسال کیا ہے جس میں پاکستان ٹیم کے لیے بھارت میں سکیورٹی خدشات کو نمایاں کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ قومی جونیئر ٹیم کے میچز بھارت کے بجائے کسی غیر جانبدار مقام پر کرائے جائیں۔پی ایچ ایف حکام کا کہنا ہے کہ بھارت میں حالیہ سیاسی اور سکیورٹی صورتحال کے باعث پاکستانی کھلاڑیوں کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، اس لیے بین الاقوامی فیڈریشن کو چاہیے کہ کھلاڑیوں کے جان و مال کے تحفظ کو ترجیح دے اور میچز کا انعقاد کسی ایسے ملک میں کرے جہاں غیر جانبدار ماحول میسر ہو۔

    جونیئر ہاکی ورلڈکپ رواں برس 28 نومبر سے بھارت میں شروع ہوگا اور 11 دسمبر تک جاری رہے گا۔ پاکستان کی شرکت اس بار بھی غیر یقینی نظر آ رہی ہے کیونکہ اس سے قبل قومی ٹیم نے بھارت میں ہونے والا ایشیا کپ بھی سکیورٹی وجوہات کی بنا پر نہیں کھیلا تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ایچ ایف کی جانب سے بھیجے گئے خط پر ایف آئی ایچ غور کرے گی اور آئندہ چند روز میں اس حوالے سے فیصلہ متوقع ہے۔

  • آزاد کشمیر مظاہروں میں ناخوشگوار واقعات،وزیراعظم کا تحقیقات کا حکم

    آزاد کشمیر مظاہروں میں ناخوشگوار واقعات،وزیراعظم کا تحقیقات کا حکم

    وزیراعظم شہباز شریف نے آزاد کشمیر میں مظاہروں کے دوران پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے معاملے کی شفاف تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

    اپنے پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مظاہرین کے ساتھ تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کریں، عوامی جذبات کا احترام یقینی بنائیں اور غیر ضروری سختی سے اجتناب برتیں،حکومت اپنےکشمیری بھائیوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہے، وزیراعظم نے مظاہروں کے دوران ناخوشگوار واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی شفاف تحقیقات کا حکم دیا اور احتجاجی مظاہروں سے متاثرہ خاندانوں تک فوری امداد پہنچانے کی ہدایت کی۔

    حکومتی سطح پر مسئلے کے پُرامن حل کے لیے وزیراعظم نے مذاکراتی کمیٹی کی توسیع کا فیصلہ کیا ہے، مذاکراتی کمیٹی میں راناثنااللہ، وفاقی وزرا سردار یوسف اور احسن اقبال سمیت سابق صدر آزاد جموں و کشمیر مسعود خان اور قمر زمان کائرہ کو بھی شامل کیا گیا ہے،وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ مذاکراتی کمیٹی مظفر آباد جائے اور مسائل کا فوری اور دیرپا حل نکالے، وزیراعظم نے کشمیر ایکشن کمیٹی کے ارکان اور قیادت سے اپیل کی ہے کہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی سے تعاون کریں،وزیراعظم شہباز شریف نے وطن واپسی پر مذاکرات کے عمل کی نگرانی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی اپنی سفارشات اور مجوزہ حل بلا تاخیر وزیراعظم آفس کو بھجوائے گی۔

  • گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملہ،یونان،اٹلی،ترکیہ میں احتجاج

    گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملہ،یونان،اٹلی،ترکیہ میں احتجاج

    اسرائیلی حملے اور کارکنوں کو حراست میں لینے کے بعد گلوبل صمود فلوٹیلا نے فلسطین کے حامیوں کو احتجاج کی کال دے دی

    گلوبل صمود فلوٹیلا نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا کہ اُن کے قافلے پر اسرائیل کے حملے شروع ہوچکے ہیں اور اب وقت آگیا ہے کہ اسرائیل کو رد عمل دیا جائے،گلوبل صمود فلوٹیلا نے مطالبہ کیا کہ سفارتخانوں، پارلیمان کے سامنے مظاہرے کئے جائیں تاکہ فلسطین کے حق میں عالمی دباؤ بڑھایا جا سکے۔ان کمپنیوں کے سامنے بھی مظاہرے کیے جائیں جو فلسطینیوں کی نسل کشی میں اسرائیل کےساتھ ملوث ہیں۔

    گلوبل صمود فلوٹیلا کی جانب سے احتجاج کی کال کے بعد یونان میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے،اٹلی اور ترکیہ میں بھی عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل کر فلوٹیلا اور غزہ پر حملوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

    یاد رہے کہ اسرائیلی بحریہ نے گلوبل صمود فلوٹیلا کی کئی کشتیوں پر دھاوا بول کر تحویل میں لے لیا جس کے بعد جہازوں اور کشتیوں میں سوار افراد کو حراست میں لے کر اسرائیلی پورٹ منتقل کردیا،اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا کہ تمام کارکن محفوظ ہیں۔ حکام کے مطابق اسرائیل پہنچنے کے بعد تمام گرفتار کارکنوں کو ملک بدر کر دیا جائے گا۔
    اسرائیل نے اب تک گلوبل صمود فلوٹیلا میں شامل 13 کشتیوں کو روکا ہے اور ان پر سوار افراد کو حراست میں لیکر اسرائیلی بندر گاہ پر منتقل کیا گیا۔ اسرائیل کے اس ایکشن پر اب تک ترکی، اٹلی، فرانس سمیت کم از کم پندرہ ممالک میں احتجاج جاری ہے۔

  • گلوبل صمود فلوٹیلاپر اسرائیلی دھاوا،تمام شرکا گرفتار،پاکستان کی مذمت

    گلوبل صمود فلوٹیلاپر اسرائیلی دھاوا،تمام شرکا گرفتار،پاکستان کی مذمت

    غزہ کی طرف امداد لے کر جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیل نے دھاوا بول دیا اور فلوٹیلا میں موجود پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد سمیت متعدد افراد کو اسرائیلی فورسز نے حراست میں لے لیا ہے۔

    اسرائیلی فوجی کشتیوں نے 40 سے زائد کشتیوں پر مشتمل گلوبل فلوٹیلا کو گھیرے میں لیا اور کئی کشتیوں پر پانی کی توپیں چلا دیں،غزہ کے قحط زدہ عوام کے لیے امداد لے جانے والے اس فلوٹیلا پر پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد اور عالمی شہرت یافتہ سماجی رہنما گریٹا تھنبرگ سمیت 500 کے قریب افراد سوار ہیں،فلوٹیلا منتظمین کے مطابق اسرائیلی فوجی ایک جہاز میں داخل ہوئے اور جہاز پر سوار تمام ارکان کو حراست میں لے لیا۔

    پاک فلسطین فورم کی جانب سے سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ کیا گیا کہ سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کو قابض اسرائیلی فورسز نے حراست میں لے لیا ہے،پاک فلسطین فورم نے مشتاق احمد خان اور گلوبل صمود فلوٹیلا پر موجود دیگر افراد کی گرفتاری کے خلاف نیشنل پریس کلب اسلام آباد پر دھرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

    وزیر اعظم پاکستان شہبازشریف نے اسرائیل کی جانب سے غزہ امداد لیکر جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حراست میں لیے گئے تمام افراد کو فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے مطابق مسافروں کو اسرائیلی پورٹ پر منتقل کیا جا رہا ہے، حراست میں لیے گئے افراد میں معروف سویڈش ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی شامل ہیں، اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے ویڈیو بھی جاری کی ہے،اسرائیلی حکام کے مطابق اسرائیل پہنچنے کے بعد تمام گرفتار کارکنوں کو ملک بدر کر دیا جائے گا.
    منتظمین نے بتایا کہ اسرائیلی بحری فوج نے گلوبل صمود فلوٹیلا کی کشتی ‘دیر یاسین’ سمیت دیگر کشتیوں پر دھاوا بول دیا جس کے بعد کشتی سے براہِ راست نشریات اور تمام رابطے منقطع ہو گئے ہیں، کشتی میں سوار افراد کی صورتحال بھی غیر واضح ہے،گلوبل صمود فلوٹیلا کی جانب سے بتایا گیا کہ اسرائیلی بحریہ کی مسلسل کارروائیوں کے باوجود گلوبل صمود فلوٹیلا کی 30 کشتیاں اب بھی غزہ کی جانب رواں دواں ہیں۔ یہ کشتیاں غزہ سے صرف 46 ناٹیکل میل یعنی85 کلو میٹر کی دوری پر ہے۔

    فلوٹیلا کے منتظمین کا کہنا ہے کہ کشتیوں پر امدادی سامان موجود ہے اور ان کا مقصد محصور غزہ کے عوام تک انسانی امداد پہنچانا ہے۔ بین الاقوامی کارکنان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی رکاوٹوں اور دباؤ کے باوجود ان کا مشن جاری رہے گا۔

    اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری ویڈیو میں فلوٹیلا کو ریڈیو کے ذریعے خبردار کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے فلوٹیلا کو کہا گہا ہے کہ اگر وہ غزہ کو امداد پہنچانا چاہتے ہیں تو اپنا رخ اشدود کی بندرگاہ کی جانب موڑلیں جہاں سے امداد کو غزہ پہنچادیا جائے گا،اسرائیلی وزارت خارجہ کی جانب سے بھی کہا گیا کہ اسرائیلی فوج فلوٹیلا تک پہنچ گئی ہے اور فلوٹیلا کو راستہ تبدیل کرنے کا کہا جارہا ہے۔فلوٹیلا کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے رکن تیاغو اویلا نے اپنے جہاز سے بھیجے گئے ایک آڈیو پیغام میں کہا کہ ’ہم اپنے مشن کے ایک فیصلہ کن مرحلے پر پہنچ رہے ہیں۔ اس وقت ہم ان (اسرائیل) کی فوجی ناکہ بندی کے قریب بڑھ رہے ہیں‘۔

    ترک خبر رساں ادارے سے فلوٹیلا کے ایک جہاز پر موجود کارکن زین العابدین اوزکان نے بتایا کہ رات بھر فلوٹیلا کے اوپر ڈرونز کی پروازیں جاری رہیں اور صبح تقریباً 5 بجے فلوٹیلا میں شامل ’الما‘ نامی مرکزی کشتی کے جی پی ایس اور انٹرنیٹ سسٹم پر سائبر حملہ کر کے اس سے رابطہ منقطع کر دیا گیا۔’الما‘ پر موجود ترک کارکن متیہان ساری نے کہا کہ ’یہ اب تک کی سب سے بڑی ہراسانی تھی جس کا ہمیں سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے ہمیں ڈرانے کی کوشش کی لیکن ہم خوفزدہ نہیں ہوئے اور انہیں بتایا کہ ہم خوفزدہ نہیں ہوں گے‘۔متیہان ساری کے مطابق اسرائیلی بحری جہاز ’الما‘ سے صرف 5 سے 10 میٹر کے فاصلے تک آگئے تھے۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے گلوبل صمود فلوٹیلا کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔

  • قطر پر حملہ ہوا تو امریکا جواب دے گا،ٹرمپ

    قطر پر حملہ ہوا تو امریکا جواب دے گا،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قطر کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے، جس کے مطابق اگر آئندہ کسی ملک نے قطر پر حملہ کیا تو اس کا جواب براہِ راست امریکا دے گا۔

    ایگزیکٹو آرڈر میں واضح کیا گیا ہے کہ قطر پر کسی بھی حملے کو امریکا کے امن اور سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ سمجھا جائے گا۔ اس کے مطابق امریکا قطر کے دفاع کے لیے ہر طرح کے اقدامات کر سکتا ہے، جن میں سفارتی، اقتصادی اور فوجی کارروائی سمیت تمام قانونی اقدامات شامل ہوں گے۔

    یاد رہے کہ 9 ستمبر کو اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ پر فضائی حملہ کیا تھا۔ صیہونی فوج کا دعویٰ تھا کہ ہدف فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کی قیادت تھی۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس حملے میں دوحہ میں موجود حماس کے مذاکراتی رہنماؤں کو دھماکے سے نشانہ بنایا گیا۔تل ابیب سے جاری بیان میں اسرائیلی فوج نے بھی اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ دوحہ میں بم دھماکے کے ذریعے حماس کے سینئر رہنماؤں کو ہدف بنایا گیا۔ عرب میڈیا کے مطابق اس وقت حماس کی اعلیٰ قیادت ایک اجلاس میں مصروف تھی، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پیش کردہ غزہ جنگ بندی کی تجویز پر غور کیا جا رہا تھا۔

    دوسری جانب، اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے بعد ازاں قطر کے وزیراعظم محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم الثانی سے دوحہ حملے پر معافی مانگی۔ یہ رابطہ 29 ستمبر کو وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کے دوران کیا گیا، جہاں نیتن یاہو نے قطری وزیراعظم سے کئی منٹ فون پر گفتگو کی۔اسرائیلی وزیراعظم نے قطر کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور حملے میں ایک قطری سیکیورٹی اہلکار کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔ تاہم قطری ذرائع کے مطابق معافی کے باوجود دوحہ اس واقعے کو "سنگین جارحیت” قرار دیتا ہے اور اس پر عالمی سطح پر احتجاج ریکارڈ کرانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق صدر ٹرمپ کے اس نئے ایگزیکٹو آرڈر سے امریکا خلیجی خطے میں براہِ راست "سلامتی ضامن” کے طور پر سامنے آ گیا ہے، جو مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔