Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بی بی سی نے ٹرمپ سے معافی مانگ لی

    بی بی سی نے ٹرمپ سے معافی مانگ لی

    برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اُن کی تقریر کی غلط ایڈیٹنگ کرنے پر معافی مانگ لی تاہم معاوضہ دینے سے انکار کردیا۔

    بی بی سی نے تسلیم کیا کہ 6 جنوری 2021 کی ٹرمپ کی تقریر کے مختلف حصوں کو اس انداز میں جوڑا گیا کہ ایسا غلط تاثر پیدا ہوا جیسے ٹرمپ نے براہِ راست تشدد پر اکسانے کی اپیل کی ہو،بی بی سی نے واضح کیاکہ ادارہ غلط ایڈیٹنگ پر افسوس کا اظہار کرتا ہے، ساتھ ہی یقین دہانی کرائی کہ 2024 میں نشر ہونے والی ٹرمپ کی ایڈٹ شدہ دستاویزی فلم دوبارہ نہیں دکھائی جائےگی، اس معاملے پر ڈائریکٹر جنرل ٹِم ڈیوی اور ہیڈ آف نیوز ڈیبرہ ٹرنس پہلے ہی اپنے عہدوں سے مستعفی ہو چکے ہیں۔

    یاد رہے کہ امریکی صدر نے دستاویزی فلم میں اُن کی تقریر کی متنازع ایڈیٹنگ کے معاملے پر بی بی سی کو ایک ارب ڈالر ہرجانے کی دھمکی دی تھی،بی بی سی کے وکلا نے بتایاکہ انہوں نے ٹرمپ کی قانونی ٹیم کی جانب سے موصول ہونے والے خط کا جواب دے دیا ہے ، میڈیا رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کے وکلا نے بی بی سی کو خط کا جواب دینے کیلئے آج شام 5 بجے تک کی مہلت دی تھی۔

  • کوہاٹ،کرک،پولیس کاروائیوں کے دوران 4 دہشتگرد ہلاک

    کوہاٹ،کرک،پولیس کاروائیوں کے دوران 4 دہشتگرد ہلاک

    خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ اور کرک میں پولیس نے کارروائیوں کے دوران 4 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔

    کوہاٹ میں پولیس نے کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، یہ کارروائی کوہاٹ میں بازید خیل کے قریب کی گئی،ڈی پی او کوہاٹ شہباز الہٰی کے مطابق تھانہ صدر کے ایس ایچ او ریاض اپنے دستے کے ساتھ معمول کے گشت پر تھے کہ دہشت گردوں نے ان کے دستے پر اچانک فائرنگ کر دی،پولیس نے فوری طور پر بھرپور جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں تینوں دہشت گرد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، لاشوں کو مقامی اسپتال منتقل کر دیا گیا، پولیس کا کہنا ہے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کے بارے میں مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    ادھر کرک کے علاقے میر کلام بانڈہ میں پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں ایک دہشت گرد ہلاک ہوگیا،ترجمان سی ٹی ڈی پولیس کے مطابق تحصیل بانڈہ داؤد شاہ کے علاقے میر کلام بانڈہ میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس نے کارروائی کی جہاں شدید فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشت گرد مارا گیا،ترجمان سی ٹی ڈی پولیس نے بتایا کہ ہلاک دہشت گرد مختلف سنگین مقدمات میں نامزد تھا۔

  • منشیات کے بڑے سپلائرز اور ڈیلرز پر ہاتھ ڈالنا ضروری ہے۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    منشیات کے بڑے سپلائرز اور ڈیلرز پر ہاتھ ڈالنا ضروری ہے۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے صوبے میں منشیات بنانے اور فراہم کرنے والوں کے سخت خلاف کارروائی کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ منشیات بالخصوص ہیروئن اور آئس کا جڑ سے خاتمہ ناگزیر ہے۔

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی صدارت اجلاس میں منشیات کے سپلائرز اور مینوفیکچررز کےخلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا،وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا تھا منشیات کی لعنت جامعات تک پہنچ چکی ہے، ہم مزید غفلت کے متحمل نہیں ہو سکتے، نوجوان نسل کو منشیات کی لعنت سےمحفوظ رکھنے کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے، منشیات بالخصوص ہیروئن اور آئس کا جڑ سےخاتمہ ناگزیر ہے،انہوں نے کہا کہ منشیات کی تیاری اور ترسیل کیخلاف کارروائی کیلئےمربوط حکمت عملی اختیار کی جائے، کارروائی کیلئےمحکموں اور اداروں پرمشتمل مشترکہ ٹیم تشکیل دی جائے، منشیات کے بڑے سپلائرز اور ڈیلرز پر ہاتھ ڈالنا ضروری ہے۔

    سہیل آفریدی کا کہنا تھا منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اور نتیجہ خیز کارروائی ہونی چاہیے، خواہ مخواہ کسی کو تنگ نہ کریں، حقیقی بنیادوں پر کارروائی کریں، حکومت تعاون فراہم کرے گی، ضبط شدہ منشیات کو تلف کرنا ناگزیراور دوبارہ مارکیٹ میں نہیں آنی چاہیے۔

  • جسٹس امین الدین خان وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس مقرر

    جسٹس امین الدین خان وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس مقرر

    وزیراعظم اور صدرِ مملکت کے درمیان مشاورت مکمل ہونے کے بعد وفاقی آئینی عدالت کے قیام کا تاریخی مرحلہ طے پا گیا ہے۔ اس سلسلے میں جسٹس امین الدین خان کو وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس کے طور پر مقرر کر دیا گیا ہے۔

    حلف برداری کی تقریب کل صبح 10 بجے ایوانِ صدر اسلام آباد میں منعقد ہو گی، جہاں صدرِ مملکت جسٹس امین الدین خان سے حلف لیں گے۔ذرائع کے مطابق، وفاقی آئینی عدالت کا قیام ملکی عدالتی نظام میں ایک نئی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔حلف برداری کی تقریب میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ججز، سینئر وکلا، اٹارنی جنرل، وزیر قانون، اور دیگر اعلیٰ حکومتی شخصیات شرکت کریں گی۔ تقریب کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں،

    تجزیہ کاروں کے مطابق، وفاقی آئینی عدالت کا قیام آئینی تنازعات کے جلد از جلد حل کے لیے ایک مؤثر پیش رفت ہے، جس سے عدالتی نظام پر عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔

  • قومی اسمبلی سے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2025 منظور

    قومی اسمبلی سے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2025 منظور

    قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2025 منظور کر لیا

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2025 کے تحت مقدمات سننے کے لیے بینچ بنانے کا اختیار چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی کو دیا گیا ہے،کمیٹی میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس علاوہ سینیئر ترین جج شامل ہوں گے، بینچز بنانے والی کمیٹی کے تیسرے رکن جج چیف جسٹس کے نامزد کردہ ہوں گے،ایکٹ کے تحت کمیٹی کے کسی رکن کی عدم موجودگی میں چیف جسٹس کسی اور جج کو رکن نامزد کر سکیں گے جبکہ کمیٹی بینچ بنانے کا فیصلہ اکثریت سے کرے گی۔

    قومی اسمبلی میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی بل وزیرقانون اعظم نذیرتارڑ نے پیش کیا جسے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا

    علاوہ ازیں قومی اسمبلی نے 27ویں آئینی ترمیم کے بعد آرمی ایکٹ 2025 کی منظوری دے دی، آرمی چیف کا بطور چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیا نوٹیفکیشن جاری ہوگا، نئے نوٹیفکیشن کے مطابق مدت دوبارہ سے شروع ہوگی، یہ مدت پانچ سال ہوگی.

  • آرمی چیف اب چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہونگے، عہدے کی مدت 5 سال ،ترمیم منظور

    آرمی چیف اب چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہونگے، عہدے کی مدت 5 سال ،ترمیم منظور

    قومی اسمبلی نے 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد آرمی ایکٹ 2025 کی منظوری دے دی۔

    مجوزہ آرمی ایکٹ کے مطابق آرمی چیف کا بطور چیف آف ڈیفنس فورسز نیا نوٹی فکیشن جاری ہو گا، نئے نوٹی فکیشن کے بعد آرمی چیف کی مدت دوبارہ سے شروع ہوگی،مجوزہ آرمی ایکٹ میں کہا گیا کہ آرمی چیف، چیف آف ڈیفنس پاک فوج کے تمام شعبوں کی ری اسٹرکچرنگ اور انضمام کریں گے، وزیراعظم آرمی چیف، چیف آف ڈیفنس کی سفارش پر کمانڈر نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ تعینات کریں گے۔ مجوزہ آرمی ایکٹ کے مطابق کمانڈر نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کی مدت ملازمت 3 سال ہو گی، کمانڈر نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کو 3 سال کے لیے دوبارہ تعینات کیا جا سکے گامجوزہ آرمی ایکٹ میں کہا گیا کہ 27 نومبر سے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم ہو جائے گا۔

    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آرمی چیف اب چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہوں گے،عہدے کی مدت 5 سال ہو گی۔ وزیر اعظم چیف آف ڈیفنس فورسز کی تعیناتی کریں گے۔ان کی تقرری کی مدت اس دن سے شروع ہوگی جب تعیناتی ہو گی،اعظم نذیر نے کہا کہ قانون نے وضاحت کی ہے چیف آف ڈیفنس کا عہدہ اپوائنٹمنٹ سے5 سال کا ہوگا۔چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کردیا گیا ہے۔اس کے علاوہ قومی اسمبلی نے پاکستان ایئر فورس ایکٹ 2025 کی بھی منظوری دے دی ہے۔پاکستان ایئر فورس ایکٹ میں سے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے الفاظ نکالے گئے ہیں۔

  • جسٹس منیب اختر اور جسٹس عائشہ ملک کا بھی مستعفی ہونے پر غور

    جسٹس منیب اختر اور جسٹس عائشہ ملک کا بھی مستعفی ہونے پر غور

    سپریم کورٹ کے ججز جسٹس منیب اختر اور جسٹس عائشہ ملک نے 27ویں آئینی ترمیم پر شدید تحفظات اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مبینہ طور پر اپنے عہدوں سے مستعفی ہونے پر غور شروع کر دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق دونوں ججز نے ترمیم کے مجوزہ مسودے میں عدلیہ کے اختیارات اور ججز کی خودمختاری سے متعلق شقوں پر گہری تشویش ظاہر کی ہے،جسٹس منیب اختر اور جسٹس عائشہ ملک نے اپنے قریبی ساتھیوں سے مشاورت شروع کر دی ہے دونوں ججز مستعفی ہو سکتے ہیں

    واضح رہے کہ اس سے قبل جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہرمن اللہ مستعفیٰ ہو چکے ہیں

  • استعفےکے بعد جسٹس اطہرمن اللہ،منصور علی شاہ کی آج رات کینیڈا روانگی متوقع

    استعفےکے بعد جسٹس اطہرمن اللہ،منصور علی شاہ کی آج رات کینیڈا روانگی متوقع

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے دعویٰ کیا ہے کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللّٰہ اور جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے، دونوں جج صاحبان مبینہ طور پر آج رات کینیڈا روانہ ہونے والے تھے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اس معاملے پر غور کر رہی ہے کہ دونوں جج صاحبان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) میں ڈالنے پر غور کیا جائے۔ مبشر لقمان نے سوال اٹھایا کہ دیکھتے ہیں وہ نکل پاتے ہیں یا نہیں

    واضح رہے کہ جسٹس اطہر من اللّٰہ اور جسٹس منصور علی شاہ نے 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد استعفیٰ دے دیا ہے۔سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ نے 13 صفحات پر مشتمل اپنا استعفیٰ صدر مملکت کو بھجوا دیا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے 27 ویں آئینی ترمیم پر تحفظات کا اظہار کیا تھا اور اس سلسلے میں چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس یحییٰ آفریدی کو 2 خطوط بھی لکھے تھے۔اپنے استعفے میں جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا ہےکہ 27 ویں آئینی ترمیم آئین پاکستان پر سنگین حملہ ہے،27 ویں آئینی ترمیم نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا ہے۔

  • جسٹس منصور علی شاہ، اطہر من اللہ مستعفی

    جسٹس منصور علی شاہ، اطہر من اللہ مستعفی

    سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

    ان کے علاوہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ بھی مستعفی ہوگئے ہیں۔ذرائع کے مطابق دونوں جج صاحبان نے سپریم کورٹ میں اپنے چیمبرز خالی کر دیے ہیں۔سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ نے 13 صفحات پر مشتمل اپنا استعفیٰ صدر مملکت کو بھجوا دیا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے 27 ویں آئینی ترمیم پر تحفظات کا اظہار کیا تھا اور اس سلسلے میں چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس یحییٰ آفریدی کو 2 خطوط بھی لکھے تھے۔اپنے استعفے میں جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا ہےکہ 27 ویں آئینی ترمیم آئین پاکستان پر سنگین حملہ ہے،27 ویں آئینی ترمیم نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا ہے۔

    جسٹس اطہر من اللّٰہ نے اپنے استعفے میں کہا کہ ہمیشہ پوری دیانتداری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینے کی کوشش کی، آج وہی حلف مجھے اس نتیجے پر پہنچنے پر مجبور کرتا ہے اپنا استعفیٰ پیش کروں، آئین، جس کی پاسداری کا میں نے حلف لیا تھا، اب موجود نہیں رہا،11 سال قبل اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے طور پر حلف اٹھایا، چار سال بعد اسی عدالت کے چیف جسٹس کے طور پر حلف لیا، مزید 4 سال بعد سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کے طور پر حلف اُٹھایا، تمام حلفوں کے دوران میں نے ایک ہی وعدہ کیا آئین سے وفاداری کا، میرا حلف کسی فرد یا ادارے سے نہیں، بلکہ آئینِ پاکستان سے تھا، 27ویں آئینی ترمیم سے قبل، میں نے اُس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان کو ایک خط لکھا تھا، خط میں اس ترمیم کے ممکنہ اثرات پر آئینی تشویش ظاہر کی تھی، اُس وقت کے خدشات، خاموشی اور بے عملی کے پردے میں آج حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں خود کو یہ یقین دلانے کی کتنی ہی کوشش کروں، حقیقت یہی ہے آئین کی روح پر حملہ ہو چکا ہے، نئے ڈھانچے جن بنیادوں پر تعمیر ہو رہے ہیں، وہ آئین کے مزار پر کھڑے ہیں، جو عدالتی چُغے ہم پہنتے ہیں، وہ محض رسمی لباس نہیں، یہ اُس مقدس اعتماد کی علامت ہے جو قوم نے عدلیہ پر کیا، تاریخ گواہ ہے اکثر اوقات یہ لباس خاموشی اور بے عملی کی علامت بن گیا، آنے والی نسلوں نے ان کو مختلف طور پر نہ دیکھا، تو ہمارا مستقبل بھی ہمارے ماضی جیسا ہی ہوگا، امید ہے آنے والے دنوں میں عدل کرنے والے سچائی کے ساتھ فیصلے کریں گے، اسی امید کے ساتھ میں آج یہ چُغہ آخری بار اتار رہا ہوں، سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کے عہدے سے اپنا استعفیٰ فوری طور پر پیش کرتا ہوں، اللّٰہ کرے، جو انصاف کریں، وہ سچائی کے ساتھ کریں۔

  • وفاقی کابینہ نے تینوں سروسز ایکٹس میں ترامیم کی منظوری دے دی

    وفاقی کابینہ نے تینوں سروسز ایکٹس میں ترامیم کی منظوری دے دی

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا

    اجلاس میں متعلقہ قوانین کو ستائیسویں آئینی ترمیم سے ہم آہنگ کرنے کے حوالے سے اہم فیصلے کئے گئے،وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج پارلیمنٹ ہاؤس ، اسلام آباد میں منعقد ہوا ۔وفاقی کابینہ نے پاکستان آرمی ایکٹ، پاکستان ایئر فورس ایکٹ اور پاکستان نیوی ایکٹ میں ترامیم کی منظوری دے دی۔ ان ترامیم کا مقصد افواج پاکستان سے متعلق قوانین کو ستائیسویں آئینی ترمیم سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 243 میں جو ترامیم کی گئی ہیں ان کی بنیاد پر ضروری قانون سازی کی گئی ہیں جس میں چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے کی معیاد بھی شامل ہے. ان ترامیم کے تحت چیرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ موجودہ چیئرمین کی ریٹائرمنٹ کے بعد ختم ہو جائے گا۔اسی طرح سے ان قوانین میں فیلڈ مارشل، مارشل آف دی ایئر فورس، ایڈمرل آف دی فلیٹ کے عہدے بھی شامل کئے گئے ہیں ۔یہ اسکیم اور متعلقہ قوانین میں ترمیم ہمعصر اور جدید جنگی تقاضوں کو سامنے رکھ کر تجویز کی گئیں ہیں۔وفاقی کابینہ نے فیڈرل کانسٹی ٹیوشنل کورٹ (پروسیجر اینڈ پریکٹس) ایکٹ, 2025 کے مسودے کی بھی منظوری دے دی۔ وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 7 نومبر, 2025 کو ہونے والی اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق کر دی ۔