Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بلوچستان دہشتگردانہ کاروائیوں پر سیکورٹی فورسز کا جواب،خیبر پختونخوا میں بھی جوابی وار

    بلوچستان دہشتگردانہ کاروائیوں پر سیکورٹی فورسز کا جواب،خیبر پختونخوا میں بھی جوابی وار

    بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشتگردوں کے خلاف سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری ہیں

    ضلع پنجگور کی تحصیل گوَرگو میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک شہری کو اغوا کرلیا اور اسے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق مغوی کی شناخت بختیار احمد ولد محمد عثمان کے نام سے ہوئی ہے۔ اغوا کی وجوہات تاحال معلوم نہیں ہوسکیں، جبکہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔اسی ضلع کے علاقے بالی سوراپ میں 40 سے 50 کے قریب مسلح افراد نے چیک پوسٹیں قائم کرکے گاڑیوں کی تلاشی لی۔ ذرائع کے مطابق مسلح افراد کئی گھنٹوں تک علاقے میں موجود رہے جس سے عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ سرکاری سطح پر واقعے کی تصدیق نہیں کی گئی، تاہم سیکیورٹی ادارے صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔

    ضلع خضدار کے علاقے اورناچ کراس کے قریب کوئٹہ–کراچی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے چیکنگ پوائنٹس قائم کر کے گاڑیوں کی تلاشی لی۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما سردار علی محمد قلندارانی اور مولانا منظور احمد مینگل کے قافلے کو کچھ دیر کے لیے روکے رکھا، تاہم ابتدائی پوچھ گچھ کے بعد انہیں جانے دیا گیا۔ انتظامیہ کی جانب سے واقعے کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔ضلع نصیرآباد کے علاقے لندھی میں جیکب آباد سے گنداواہ جانے والی مسافر وین کو مسلح افراد نے لوٹ لیا۔ عینی شاہدین کے مطابق حملہ آوروں نے وین کو اسلحے کے زور پر روکا، مسافروں سے نقدی اور قیمتی سامان چھین کر فرار ہوگئے۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاہم تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔کلی جمالدینی روڈ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے حاجی ثناءاللہ ولد عطااللہ جمالدینی اور نوربخش ولد میر احمد جمالدینی زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو ٹیچنگ اسپتال نوشکی منتقل کیا گیا، جہاں سے انہیں مزید علاج کے لیے کوہلو ریفر کردیا گیا ہے۔ پولیس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے تحقیقات شروع کردی ہیں۔

    ضلع خاران کے علاقے کرم کاریز سے ایک شخص کی گولیوں سے چھلنی لاش برآمد ہوئی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق مقتول کی شناخت نادر ولد الہی بخش حسنی کے نام سے ہوئی، جسے گزشتہ رات نامعلوم مسلح افراد نے موٹر سائیکل پر سوار ہو کر کلی دشتکین سے اغوا کیا تھا۔ پولیس نے لاش قبضے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

    میرانشاہ روڈ کے قریب نامعلوم حملہ آوروں نے ایک شخص پر فائرنگ کر کے اسے موقع پر ہلاک کر دیا۔ پولیس کے مطابق مقتول کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔تحصیل مٹہ کے علاقے شکردرہ میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے رہنما ممتاز علی خان کی گاڑی کے قریب دھماکہ ہوا۔ پولیس کے مطابق دھماکے سے گاڑی کو معمولی نقصان پہنچا جبکہ ممتاز علی خان محفوظ رہے۔ ڈی پی او سوات کے مطابق سڑک کنارے نصب بارودی مواد ریموٹ کنٹرول کے ذریعے اڑایا گیا۔ دھماکے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے سردی خیل علاقے میں خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ ذرائع کے مطابق کارروائی ایک سہولت کار کے گھر کے احاطے میں کی گئی۔ موقع سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا۔ بعض حلقوں نے ہلاک شدگان کو شہری قرار دیا، تاہم سیکیورٹی ذرائع نے ایسی تمام افواہوں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ آپریشن خالصتاً انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیا گیا تھا اور کوئی شہری نقصان نہیں ہوا۔اسی ضلع میں پولیس کے سابق ایس ایچ او سب انسپکٹر عابد وزیر کی شہادت نے حافظ گل بہادر گروہ کے اندرونی اختلافات کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق عابد وزیر کو برطرفی کے بعد اغوا کیا گیا اور جرگہ مذاکرات کے باوجود حافظ گل بہادر نے رہائی سے انکار کرتے ہوئے ان کی ہلاکت کا حکم دیا۔ سیکیورٹی اداروں کے مطابق یہ واقعہ گروہ کے اندرونی اختلافات اور پولیس کے خلاف دشمنی کا نتیجہ ہے۔مزید برآں، حوید پولیس اسٹیشن کی حدود سے چار مقامی تاجروں کو نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا، جن پر حالیہ حملے میں پولیس کی مدد کا الزام تھا۔ اغوا شدگان میں نعیم اللہ اور برکت اللہ شامل ہیں۔ چند روز قبل اسی علاقے میں سابق پولیس افسر عابد وزیر کو بھی اغوا کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔

    خیبر پختونخوا امن جرگہ نے 15 نکاتی اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں صوبائی خودمختاری، امن، اور معاشی حقوق پر زور دیا گیا ہے۔ اعلامیے میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان بہتر رابطوں، صوبائی وسائل کے تحفظ، اور عوامی شمولیت کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ جرگے نے تجویز دی کہ ہر سیکیورٹی آپریشن سے قبل اسمبلی کو ان کیمرہ بریفنگ دی جائے اور ایک جامع "صوبائی ایکشن پلان” تشکیل دیا جائے۔ اعلامیے میں صوبائی مالیاتی حقوق کے نفاذ، مقامی حکومتوں کے استحکام، اور بھتہ خوری و دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف سخت اقدامات کی بھی سفارش کی گئی۔

    سیکیورٹی فورسز نے ضلع کرّم میں دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی خفیہ اطلاع پر کی گئی، جس کے دوران دہشت گردوں کے زیر استعمال کئی کمپاؤنڈز کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا۔ کارروائی کے دوران علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

  • اسلام آباد دھماکہ،حملہ آور پاکستانی نہیں تھا، طلال چوہدری

    اسلام آباد دھماکہ،حملہ آور پاکستانی نہیں تھا، طلال چوہدری

    وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں خود کش حملہ کرنے والا دہشتگرد پاکستانی نہیں تھا۔

    نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد میں خودکش حملہ کرنے والا دہشتگرد پاکستانی نہیں تھا، وانا اور اسلام آباد کے حملوں میں شواہد دیکھ کر ہم نے بھارت اور افغانستان کا نام لیا، معلومات ثالثوں سے شیئرکریں گے۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کا فرض ہے کہ وفاق کے ساتھ ایک پیج پر رہے، سہیل آفریدی نے کبھی نہیں کہا کہ وہ دہشتگردی کے معاملے پر اپنے لیڈر سے ملنا چاہتے ہیں، وانا اور اسلام آباد کے حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کے لیے کیا ملاقات کی ضرورت ہے؟

    واضح رہے کہ 2 روز قبل اسلام آباد کے جی الیون سیکٹر میں کچہری کے نزدیک خودکش دھماکے کے نتیجے میں 12 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوگئے تھے

  • تہران میں پانی کا شدید بحران

    تہران میں پانی کا شدید بحران

    ایران کے دارالحکومت تہران میں پانی کا شدید بحران پیدا ہوگیا۔ ایرانی ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے صدر مسعود پرشکیان نےکہا کہ آنے والے دنوں میں بارش نہ ہوئی تو تہران میں پانی کی شدید قلت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ نومبر کے آخر یا دسمبر کے شروع میں تہران میں پانی کی راشننگ شروع کریں گے اور راشننگ کے دوران بھی بارش نہ ہوئی تو تہران خالی کرانا پڑسکتا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق تہران کے مرکزی ذخائر میں صرف 2 ہفتوں کا پانی باقی ہے اور لوگوں اس حوالے سے آگاہ کیا گیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ اس سال ایران میں بارش میں 40 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، ایران کے کئی صوبوں میں 50 سے 80 فیصد پانی کی کمی کا سامنا ہے اور ملک کے دیگر کئی علاقے بھی خشک سالی کا سامنا کررہے ہیں۔

  • چین میں ہم جنس پرستوں بارے ڈیٹنگ ایپس حذف

    چین میں ہم جنس پرستوں بارے ڈیٹنگ ایپس حذف

    چین میں ایل جی بی ٹی کیو کمیونٹی کے لیے بنائی گئی دو مقبول ترین ڈیٹنگ ایپس “بلوڈ” (Blued) اور “فنکا” (Finka) کو ملک بھر کے ایپ اسٹورز سے ہٹا دیا گیا ہے، جس سے یہ خدشہ مزید گہرا ہوگیا ہے کہ بیجنگ آن لائن اور سماجی سطح پر اس برادری پر اپنا کریک ڈاؤن وسیع کر رہا ہے۔

    منگل کے روز تک ایپل کے ایپ سٹور پر یہ دونوں ایپس دستیاب نہیں تھیں، جبکہ اینڈرائیڈ صارفین کے لیے مقامی ایپ اسٹورز سے بھی انہیں مکمل طور پر حذف کر دیا گیا۔ چین میں گوگل پلے اسٹور پہلے ہی حکومت کے سخت سنسرشپ نظام معروف “گریٹ فائر وال” کے تحت بند ہے۔چین دنیا کے سب سے وسیع آن لائن سنسرشپ اور نگرانی کے نظاموں میں سے ایک رکھتا ہے، جس کے تحت حکومتی پالیسیوں، کمیونسٹ پارٹی کی قیادت یا اس کی آئیڈیالوجی پر تنقید برداشت نہیں کی جاتی۔ گزشتہ برسوں میں حکومت نے پاپ کلچر میں مردانہ کرداروں کی "نسوانی تصویر کشی” کے خلاف بھی مہم تیز کی تھی۔

    چین میں ایل جی بی ٹی کمیونٹی پر دباؤ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔گزشتہ دہائی میں پرائیڈ پریڈز منسوخ کر دی گئیں، فلموں اور ٹی وی شوز میں ہم جنس پرستی کے موضوعات پر پابندی لگا دی گئی، جبکہ وی چیٹ (WeChat) نے درجنوں ایل جی بی ٹی گروپس کے اکاؤنٹس بند کر دیے۔حکومت کی جانب سے ایپس کو ہٹانے کے فیصلے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ تاہم سی این این کے مطابق، معاملے سے واقف ایک ذریعے نے بتایا کہ یہ کارروائی غالباً “ریگولیٹری تعمیل” کے مسائل سے متعلق ہے۔ذرائع نے مزید کہا کہ ایپس پر “فحش یا غیر شائستہ مواد” نشر کرنے کے الزامات بھی لگائے گئے ہیں۔

    ٹیک ویب سائٹ وائرڈ (Wired) کے مطابق، ایپل نے ان ایپس کو Cyberspace Administration of China کی ہدایت پر اپنے چین اسٹور سے ہٹایا۔ایپل کے ترجمان نے بیان میں کہا “ہم نے ان ایپس کو صرف چین کے اسٹور فرنٹ سے ہٹایا ہے۔ ہم ہر ملک کے قوانین کے مطابق عمل کرتے ہیں جہاں ہم کاروبار کرتے ہیں۔”

    بلوڈ کی بین الاقوامی ورژن HeeSay اب بھی چین سے باہر کے اسٹورز پر دستیاب ہے، جبکہ فنکا صرف چین کے اندر ہی کام کرتا ہے۔بلوڈ کے تقریباً 5 کروڑ 40 لاکھ رجسٹرڈ صارفین دنیا بھر میں ہیں، جبکہ فنکا کے 27 لاکھ صارفین ہیں۔

    چین نے 1997 میں ہم جنس پرستی کو جرم کے زمرے سے نکال دیا تھا، تاہم ملک اب بھی ہم جنس شادیوں کو قانونی حیثیت نہیں دیتا۔یہ پہلا موقع نہیں کہ چین نے اس نوعیت کی ایپس پر پابندی لگائی ہو۔ Grindr جیسی بین الاقوامی ایپ کو 2022 میں حذف کیا گیا تھا۔ایک صارف، جس کا خاندانی نام ژاؤ بتایا گیا، نے سی این این کو بتایا کہ ان ایپس نے کم شہری علاقوں میں ہم جنس پرستوں کو آپس میں رابطے کا نایاب موقع فراہم کیا تھا۔ان کا کہنا تھا “آن لائن جگہ پہلے ہی محدود تھی، اب جب یہ پلیٹ فارم بھی بند ہو رہے ہیں تو لگتا ہے کہ ہماری برادری کی جگہ سکڑتی جا رہی ہے۔”

  • اسلام آباد دھماکا کیس میں اہم پیشرفت،حملہ آور کو لانے والا رائیڈر گرفتار

    اسلام آباد دھماکا کیس میں اہم پیشرفت،حملہ آور کو لانے والا رائیڈر گرفتار

    اسلام آباد کے جی الیون سیکٹر میں جوڈیشل کمپلیکس کے قریب ہونے والے خودکش دھماکے کی تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنے آ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق پولیس نے یہ پتہ لگا لیا ہے کہ خودکش حملہ آور جوڈیشل کمپلیکس تک کیسے پہنچا۔

    تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ حملہ آور کو کچہری تک ایک آن لائن موٹرسائیکل رائیڈر نے پہنچایا، جسے محض 200 روپے کرایہ ادا کیا گیا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ رائیڈر کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور اس سے تفتیش جاری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا وہ حملہ آور کے منصوبے سے باخبر تھا یا نہیں۔ذرائع کے مطابق حملہ آور کے گولڑہ سے جی الیون تک پہنچنے کے سفر کے تمام راستوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور سیف سٹی کیمروں کی مدد سے اس کی نقل و حرکت کو ٹریس کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔اس سے قبل تحقیقاتی اداروں کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ خودکش حملہ آور جمعہ کے روز اسلام آباد پہنچا تھا اور پیرودھائی کے علاقے سے موٹر سائیکل پر سوار ہو کر جی الیون کی کچہری پہنچا۔

    یاد رہے کہ یہ دل دہلا دینے والا واقعہ گزشتہ روز دوپہر ساڑھے بارہ بجے پیش آیا جب جی الیون سیکٹر کی کچہری کے قریب ایک زوردار دھماکا ہوا۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی، جب کہ موقع پر بھگدڑ مچ گئی۔پولیس کے مطابق حملہ آور موٹرسائیکل پر سوار تھا اور پولیس کی گاڑی کے قریب پہنچتے ہی اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ اس ہولناک دھماکے میں 12 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے، جب کہ قریب کھڑی گاڑیوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ خودکش حملہ آور کے اعضا دور تک بکھر گئے، جو کچہری کے اندر بھی جاگرے۔سیکیورٹی اداروں نے واقعے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کر لیے ہیں، جبکہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (JIT) تشکیل دینے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ دہشت گرد نیٹ ورک اور سہولت کاروں کا سراغ لگایا جا سکے۔

    ابتدائی شواہد کی روشنی میں یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حملے کے پیچھے منظم دہشت گرد نیٹ ورک ملوث ہے، جس کے روابط ملک کے دیگر حصوں تک پھیل سکتے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس تعاون حاصل کیا جا رہا ہے۔

  • 27 ویں‌ترمیم،قومی اسمبلی  سے دو تہائی اکثریت سے منظور

    27 ویں‌ترمیم،قومی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت سے منظور

    قومی اسمبلی نے 234ووٹوں کے ساتھ 27ویں آئینی ترمیم منظور کرلی، جےیوآئی ف کے 4ارکان کا مخالف میں ووٹ ، پی ٹی آئی ،پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نےبائیکاٹ کیا،27 ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور کر لی گئی

    قبل ازیں قومی اسمبلی میں 27 ویں آئینی ترامیم کی شق وارمنظوری کا عمل مکمل ہوگیا اور تمام 59 شقیں منظور کرلی گئیں۔قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیرصدارت جاری ہے جس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27 ویں آئینی ترمیم کی تحریک پیش کی اور کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم کے خدوخال سینیٹ میں پیش کردیے تھے، قانون اور آئین میں ترمیم ایک ارتقائی عمل ہے۔انہوں نے کہا کہ جسٹس یحییٰ آفریدی ہی چیف جسٹس پاکستان رہیں گے۔اس کے بعد 27 ویں آئینی ترامیم پر شق وار ووٹنگ کی گئی اور تمام 59 شقیں منظور کرلی گئیں، ترمیم کی حمایت میں 233 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ مخالفت میں 4 ووٹ آئے۔جمعیت علمائے اسلام نے مخالفت میں ووٹ دیا۔حکومتی بینچز پر 233 اراکین موجود ہیں اور حکومت کو ترمیم کیلئے224 اراکین کی حمایت درکار ہے۔حکومت کی قومی اسمبلی سے آئینی ترمیم منظور کرانےکیلئے پوزیشن مستحکم ہے

    قبل ازیں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ 27 ویں آئینی ترمیم پر ووٹ دینے کے لیے وھیل چیئر پر پارلیمنٹ پہنچ گئے۔مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف اپنی نشست سے اٹھ کر خورشید شاہ کے پاس گئے اور ان کا حال احوال دریافت کیا۔ان کے علاوہ وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بھی خورشید کے پاس جا کر انہیں خوش آمدید کہا اور ان کی خیریت دریافت کی۔خیال رہے کہ خورشید شاہ گزشتہ کچھ ماہ سے علیل ہیں۔ 2 ماہ قبل انہیں این آئی سی وی ڈی سکھر میں داخل کیا گیا تھا جس کے بعد انہیں مزید علاج کے لیے کراچی منتقل کیا گیا تھا۔انہیں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی خصوصی ہدایت پر حکومت سندھ کے خصوصی طیارے کے ذریعے کراچی بھیجا گیا تھا۔

  • آئینی ترمیم کو کسی کا باپ بھی ختم نہیں کرسکتا، بلاول

    آئینی ترمیم کو کسی کا باپ بھی ختم نہیں کرسکتا، بلاول

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ ہم فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئینی تحفظ دلا رہے ہیں، مودی کو شکست دینے پر پاکستان کے فیلڈ مارشل کو دنیا بھر میں سراہا جارہا ہے ، کسی قانون سازی کی مضبوطی اکثریت سے نہیں اتفاق رائے سے ظاہر ہوتی ہے۔

    قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ دہشتگرد ایک بار پھر سر اٹھا رہے ہیں، پاکستانی قوم نے پہلے بھی دہشتگردی کو شکست دی تھی ایک بار پھر شکست دینگے، دہشتگردوں اور ملک دشمنوں کے خلاف متحد ہونا ہوگا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ 26ویں ترمیم میں کئی ماہ محنت کی کہ اتفاق رائے سے قانون سازی ہو، مولانا فضل الرحمان نے 26ویں ترمیم پر ووٹ ڈالنے کیلیے پی ٹی آئی سے اجازت مانگی تھی، اٹھارویں ترمیم سے صوبائی خود مختاری اور صوبوں کو حقوق ملے ، کسی کا باپ بھی اٹھارویں ترمیم ختم نہیں کر سکتا، اٹھارویں ترمیم پر پیپلزپارٹی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے دستخط ہیں۔آئینی عدالت میں تمام صوبوں کو برابرنمائندگی دینے کی پیپلزپارٹی کی تجویز منظور کرنے پر حکومت وقت کے شکر گزار ہیں،انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی سی ای سی نے 27ویں ترمیم پر حکومت کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا، ہم نے فیصلہ کیا آئینی عدالت قائم کرکے رہیں گے۔

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ وانا اور اسلام آباد میں دہشتگردی کی شدید مذمت کرتے ہیں، دہشتگردوں کیخلاف سب کو متحد ہونا ہوگا، قوم فتنہ الخوارج کیخلاف متحد ہے، دہشتگردوں کو پہلے بھی شکست دی، اب بھی دیں گے، 26 ویں آئینی ترمیم بھی اتفاق رائے سے منظور کرائی تھی، 27 ویں آئینی ترمیم میں میثاق جمہوریت کے نامکمل وعدے پورے کرنے جارہے ہیں، کسی آئینی ترمیم کی مضبوطی کثرت رائے سے نہیں، اتفاق رائے سے ہوتی ہے، کسی کا باپ بھی چاہے تو 18ویں ترمیم کو ختم نہیں کرسکتا، اپوزیشن کا کام صرف اپنے قیدی کو رہا کرانا نہیں، آئینی عدالت قائم کرکے رہیں گے، 27 ویں آئینی ترمیم تاریخی کامیابی ہے، 26 ویں ترمیم میں پی ٹی آئی کی رضا مندی سے آئینی بینچ بنے، مولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی سے اجازت لے کر حمایت کی تھی، آئینی عدالت میں تمام صوبوں کی نمائندگی ہوگی، محمود اچکزئی سمیت سب کو ماننا پڑے گا آئینی عدالت میں تمام صوبوں کی نمائندگی ہماری کامیابی ہے،سوموٹو کی تلوار ہر حکومت پر لٹکائی گئی، 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد اب کوئی سوموٹو نہیں لے سکے گا، میثاق جمہوریت کے دیگر نکات پر بھی عملدرآمد کیا جائے،وزیراعظم شہبازشریف محنت کررہے ہیں، ڈیلیور بھی کررہے ہیں، جب تک سیاستدان اپنی قسمت کا فیصلہ خود نہیں کریں گے یہ ملک نہیں چلے گا، اپوزیشن احتجاج کرے لیکن سیاسی میدان نہ چھوڑے، پی پی نے این ایف سی میں صوبوں کا حصہ کم کرنے کی تجویز مسترد کی، ایف بی آر کی ناکامی صوبوں پر نہ ڈالی جائے، صوبوں کو اختیار ملا تو ایف بی آر سے زیادہ ٹیکس جمع کریں گے۔

  • 27ویں آئینی ترمیم، نواز شریف قومی اسمبلی پہنچ گئے

    27ویں آئینی ترمیم، نواز شریف قومی اسمبلی پہنچ گئے

    حکومت نے 27ویں آئینی ترمیم میں 3 نئی ترامیم شامل کرنے پر غور شروع کردیا، مسودے کی شقیں 59 سے بڑھ کر 62 باسٹھ ہونے کا امکان ہے۔

    رپورٹ کے مطابق 27 ویں آئینی ترمیم کی شقوں میں اضافے کی تجویز سامنے آئی ہے، حکومت نے 3 نئی ترامیم شامل کرنے پر غور شروع کردیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مسودے کی شقیں 59 سے بڑھ کر 62 ہونے کا امکان ہے۔

    دوسری جانب مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف قومی اسمبلی اجلاس میں پہنچ گئے۔سابق وزیراعظم نواز شریف 27ویں آئینی ترمیم پر بحث کے دوران قومی اسمبلی پہنچ گئے، انہوں نے اراکین سے مصافحہ کیا۔ لیگی رہنماؤں نے پارلیمنٹ پہنچنے پر نواز شریف کا ڈیسک بجاکر شاندار استقبال کیا،نواز شریف نے ایوان میں ارکان اسمبلی سے ہاتھ ملایا جبکہ بلاول بھٹو زرداری نے نواز شریف کی نشست پر جا کر ان سے مصافحہ کیا۔اس سے قبل نواز شریف آج اسلام آباد پہنچے اور اپنے قریبی ساتھی سینیٹر عرفان صدیقی کے انتقال پر ان کے گھر گئے اور اہل خانہ سے تعزیت کی۔

    اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے جس میں آج 27 آئینی ترمیم، مختلف ترامیم کے ساتھ منظور ہونے کا امکان ہے۔

  • جب اداروں پر انگلی اٹھائی جاتی ہے تو بہت دکھ ہوتا ہے،عطا تارڑ

    جب اداروں پر انگلی اٹھائی جاتی ہے تو بہت دکھ ہوتا ہے،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمان ملک کا سب سے بڑا ادارہ ہے،اپوزیشن حقائق پس پشت ڈال رہی ہے، حقیقی قانون سازی اپوزیشن کو برداشت نہیں ہو رہی،

    عطاء اللہ تارڑکا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی دور میں آئین کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا، جب قاسم سوری آئین شکنی کر رہے تھے تو یہ کیوں چپ تھے؟، نفرت کے بیج بونے والوں کو کوئی فراموش نہیں کر سکتا، پی ٹی آئی والے مشرف کے ریفرنڈم میں پیش پیش تھے، کاش ہمیں سیاسی اپوزیشن ملی ہوتی، پی ٹی آئی نے 27 ویں ترمیم کے لئے کوئی بھی تجویز پیش نہیں کی، کاش اپوزیشن والے شق وار مزید بہتری کی تجاویز دیتے، پی ٹی آئی نے اپنے دور حکومت میں ہمیں دیوار کے ساتھ لگائے رکھا،اداروں کی تضحیک کرنے والے کس منہ سے گفتگو کر رہے ہیں، جب اداروں پر انگلی اٹھائی جاتی ہے تو بہت دکھ ہوتا ہے، اپوزیشن والے صرف ہیڈ لائن کے چکر میں اسمبلی کا فلور استعمال کرتے ہیں، کوئی تو رکن بتائے کہ اس نے آئین کو پڑھا ہو،کوئی تو بتائے کہ آئین میں عدلیہ اور مقننہ کا کیا کردار ہے؟ ویڈیو بنا کر صرف فیض احمد فیض کے چند اشعار وائرل کرتے ہیں،میثاق جمہوریت کے لئے گزشتہ تیس سال سے کام جاری ہےوانا میں 500 سے زائد کیڈٹس کو بحفاظت بازیاب کرایا گیا ہے، کیا کسی پی ٹی آئی والے نے وانا کیڈٹ کالج حملے پر مذمتی بیان دیا؟پی ٹی آئی والے اپنی محدود یادداشت سے باہر نکلیں، نو مئی کا سانحہ پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے، کور کمانڈر ہاوس، ریڈیو پاکستان پر حملوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا، شہداء کی یادگاروں کی بے حرمتی کو قوم کبھی بھول نہیں پائے گی، یہ وہ سیاسی کردار ہیں جن کے گناہوں کی فہرست بہت طویل ہےصرف سوشل میڈیا پر ویوز، لائیک اور سبسکرائب کے لئے یہ لوگ بولتے

  • من گھڑت خبروں اور بے بنیاد رپورٹنگ کے باعث بھارتی میڈیا کی ساکھ زمین بوس

    من گھڑت خبروں اور بے بنیاد رپورٹنگ کے باعث بھارتی میڈیا کی ساکھ زمین بوس

    من گھڑت خبروں اور بے بنیاد رپورٹنگ کے باعث بھارتی میڈیا کی ساکھ زمین بوس ہو گئی

    غیر مصدقہ خبروں کی بھرمار کی وجہ سے بھارتی میڈیا ایک مرتبہ پھر کڑی تنقید کی زد میں ہے،دہلی دھماکہ کے دوران کی گئی غیر ذمہ دار رپورٹنگ نے بھارت کےفالس فلیگ بیانیہ کا پول کھول دیا ،میڈیا ریٹنگ کی لالچ میں بھارتی نیوز رپورٹرز نے اہم شواہد کو جائے وقوعہ سے اٹھا لیا ، بھارتی عوام کی کڑی تنقید سامنے آ گئی،

    مودی سرکار کے جھوٹے بیانیہ کو رد کر کے بھارتی عوام کا کہنا تھا کہ ایسے نازک وقت میں جب لوگ پہلے ہی خوف و ہراس میں مبتلا تھے بھارتی چینل نے ایک نہیں دو دھماکوں کی خبر پھیلا دی،کسی سرکاری ادارے، پولیس یا قابلِ اعتماد ذرائع نے اب تک اصل صورتحال کے بارے میں کوئی انکشاف نہیں کیا ،بھارتی شہری ڈاکٹر دیوندر سنگھ نے بھی نااہل مودی کی سازش اور فالس فلیگ آپریشن کا پردہ چاک کر دیا،بھارتی شہری ڈاکٹر دیوندر سنگھ کا کہنا تھا کہ دہلی اوربہار والو !اگر کوئی شخص جلسے میں دہلی دھماکہ کے نام پر ووٹ مانگے تو سمجھ جانا دھماکہ اسی نے کرایا ہے ،اگر دہلی دھماکہ کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں تو اس کے تانے بانے حکومت سے جڑتے نظر آئیں گے، دہلی دھماکہ کوئی دہشت گرد حملہ نہیں بلکہ کرایا گیا ہے، عوام نے سیاسی ریلیوں میں دھماکہ کے نام پر ووٹ مانگنے والوں پر نظر رکھنی ہے،آپ (عوام) نے سیاسی جلسوں پر نظر رکھنی ہے کہ یہ دھماکہ کو کس طرح کسی اور سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں،

    آپریشن سندور میں بھی من گھڑت اور بے بنیاد رپورٹنگ کے باعث گودی میڈیا دنیا بھر میں جگ ہنسائی کرا چکا ہے ،گودی میڈیا اب خبروں کا نہیں بلکہ جھوٹ اور مضحکہ خیز خبروں کا تھیٹر بن چکا ہے،بھارت کے عوام سفاک مودی کے مکروہ عزائم اور اوچھے ہتھکنڈوں کو پہچان چکے ہیں