Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پاکستان اور چین کی آزمودہ دوستی مزید مضبوط ہو رہی ہے،صدر مملکت

    پاکستان اور چین کی آزمودہ دوستی مزید مضبوط ہو رہی ہے،صدر مملکت

    صدر آصف علی زرداری نے چین کے 76ویں قومی دن پر مبارکباد کے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان اور چین کی آزمودہ دوستی مزید مضبوط ہو رہی ہے،پاکستان کے عوام چین کی خوشیوں میں شریک ہیں۔

    صدر زرداری کا کہنا تھا کہ صدر شی جن پنگ کی بصیرت افروز قیادت چین کو ترقی کی نئی بلندیوں تک لے گئی ہے۔مشترکہ خوشحالی اور عالمی تعاون کے وژن کو پاکستان کی حمایت حاصل ہے۔چین کا ترقی، اتحاد اور اختراع کا شاندار سفر قابلِ فخر ہے،میرے حالیہ دوروں سے، تجارت اور بنیادی ڈھانچے کے روابط کے فروغ کے ساتھ ساتھ اسٹریٹجک اور سیکیورٹی تعاون کے عزم کو مزید تقویت ملی۔سائنس، تعلیم، ٹیکنالوجی اور ثقافت میں تعاون کے ذریعے مضبوط عوامی تعلقات ہماری دیرپا شراکت داری کی بنیاد ہیں۔

  • ڈیموکریٹس کا ریپبلکن فنڈنگ ​​پلان کی حمایت سے انکار ، امریکی حکومت بند

    ڈیموکریٹس کا ریپبلکن فنڈنگ ​​پلان کی حمایت سے انکار ، امریکی حکومت بند

    امریکی کانگریس کی جانب سے فنڈنگ بِل منظور نہ ہونے پر اکثر امریکی محکمے بند ہونے لگے،غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ریاستی اداروں کی بندش سے روزگار سے متعلق اہم اعداد و شمار جاری نہیں ہوں گے، امریکا میں شٹ ڈاون سے فضائی سفر متاثر ہوگا اور سائنسی تحقیق معطل ہو جائے گی۔

    محکمے بند ہونے سے امریکی فوجیوں کو تنخواہوں کی ادائیگی نہیں ہو سکے گی، محکمے بند ہونے پر 7 لاکھ 50 ہزار وفاقی ملازمین کو جبری چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے جبکہ امریکی محکموں کے شٹ ڈاون ہونے سے روزانہ تقریباً 400 ملین ڈالر کا نقصان ہوگا،یاد رہے کہ سینیٹ نے21 نومبر تک سرکاری کام کے لیے درکار عارضی اخراجاتی بل مسترد کر دیا ہے، ڈیموکریٹس نے صحت عامہ سے متعلق امور شامل نہ کرنے پر اس بل کی مخالفت کی تھی، ریپبلکنز نے لاکھوں امریکیوں کے لیے ختم ہونے والے ہیلتھ بینیفٹس کی توسیع سے بھی انکار کیا تھا،خبر ایجنسی کے مطابق ریپبلکنز کا مؤقف تھا کہ ہیلتھ سہولتوں کا معاملہ الگ سے حل کیا جائے، سرکاری ایجنسیوں کے لیے 1.7 کھرب ڈالر مختص کیا جانا اختلافات کا سبب ہے۔

    امریکی حکومت بدھ کی رات بارہ بجے کے بعد فنڈنگ معاہدہ نہ ہونے کے باعث باضابطہ طور پر بند ہوگئی۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب ڈیموکریٹس نے ریپبلکنز کے پیش کردہ فنڈنگ پلان کی حمایت سے انکار کردیا اور مطالبہ کیا کہ صحت عامہ کے حوالے سے متعدد چھوٹیں دی جائیں۔

    ریپبلکنز، جو سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں پر قابض ہیں، نے ڈیموکریٹس کے ان مطالبات کو سختی سے مسترد کردیا، جس کے بعد کانگریس میں قانون سازی کا عمل منگل کی رات گئے تک جاری رہا، مگر دونوں جماعتیں اپنے اپنے بلز کو آگے بڑھانے میں ناکام رہیں۔ نتیجتاً حکومت کے فنڈز ختم ہوگئے اور وفاقی ادارے بندش کا شکار ہوگئے۔یہ پہلا موقع ہے جب دسمبر 2018 میں شروع ہونے والی 35 روزہ شٹ ڈاؤن کے بعد دوبارہ وفاقی حکومت رُکی ہے۔ موجودہ بحران ایسے وقت آیا ہے جب ڈیموکریٹس گزشتہ انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے بعد اپنی سیاسی پوزیشن بحال کرنے کی کوشش میں ہیں۔

    سینیٹ کے ڈیموکریٹک لیڈر چک شومر نے کہا،ریپبلکنز امریکہ کو شٹ ڈاؤن کی طرف دھکیل رہے ہیں، دو جماعتی بات چیت کو رد کر رہے ہیں اور صحت کی سہولتوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔دوسری جانب ریپبلکن سینیٹ لیڈر جان تھون نے الزام عائد کیا کہ انتہا پسند ڈیموکریٹس نے صدر کے ساتھ محاذ آرائی کے لیے امریکی عوام کو قربان کردیا ہے

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متنبہ کیا کہ فنڈز کی کمی کی صورت میں وفاقی اداروں کے ملازمین کی بڑے پیمانے پر برطرفیاں ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا جب حکومت بند ہوتی ہے تو چھانٹیاں کرنا پڑتی ہیں۔ اور ہم بہت سے لوگوں کو فارغ کریں گے ، یہ زیادہ تر ڈیموکریٹس ہوں گے ،وائٹ ہاؤس بجٹ آفس کے ڈائریکٹر رس ووٹ نے ڈیموکریٹس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ “ڈیموکریٹس کے پاگل پن جیسے مطالبات” شٹ ڈاؤن کی اصل وجہ ہیں۔

    ڈیموکریٹس نے مطالبہ کیا ہے کہ "اوباماکیئر” کے تحت ہیلتھ انشورنس ٹیکس کریڈٹس کو سال کے اختتام کے بعد بھی بڑھایا جائے۔میڈیکیڈ اور عوامی میڈیا کے فنڈز میں ریپبلکنز کی جانب سے کی گئی کٹوتیاں واپس لی جائیں۔غیر ملکی امداد میں مزید کمی کرنے کے لیے صدر کے "پاکٹ ریسیشن” اختیارات کو محدود کیا جائے۔ان اقدامات کی مجموعی لاگت تقریباً 1 کھرب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، اور اگر میڈیکیڈ میں کٹوتیاں کی گئیں تو لگ بھگ ایک کروڑ افراد صحت کی سہولتوں سے محروم ہوسکتے ہیں۔

    اگرچہ ڈیموکریٹس نے اپنے موقف پر سختی سے قائم رہنے کا عندیہ دیا ہے، لیکن ان کی صفوں میں اختلافات بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ منگل کی رات تین ڈیموکریٹ سینیٹرز نے ریپبلکن بل کے حق میں ووٹ دیا۔ سینیٹر کیتھرین کورتیز میسٹو نے کہا میں نیواڈا کے عوام کو نقصان پہنچانے والے اور ٹرمپ انتظامیہ کو مزید طاقت دینے والے شٹ ڈاؤن کی حمایت نہیں کر سکتی،اسی طرح انڈیپنڈنٹ سینیٹر اینگس کنگ نے بھی شٹ ڈاؤن کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بند ہونے سے صدر کو مزید اختیارات مل جاتے ہیں۔

    حال ہی میں سامنے آنے والے سرویز میں عوام کی رائے منقسم ہے۔نیویارک ٹائمز،سینا کے سروے کے مطابق صرف 27 فیصد امریکیوں نے ڈیموکریٹس کے شٹ ڈاؤن موقف کی حمایت کی جبکہ 65 فیصد نے مخالفت کی۔میرسٹ کے ایک اور پول میں 38 فیصد ووٹرز نے شٹ ڈاؤن کا ذمہ دار ریپبلکنز کو ٹھہرایا، 27 فیصد نے ڈیموکریٹس کو اور 31 فیصد نے دونوں جماعتوں کو قصوروار قرار دیا۔ سینیٹ ریپبلکنز نے بدھ کی صبح دوبارہ ووٹنگ کرانے کا اعلان کیا ہے تاکہ ڈیموکریٹس کو اپنی پالیسی تبدیل کرنے کا موقع دیا جائے۔ تاہم فی الحال یہ واضح نہیں کہ حکومت کی بندش کتنے دن تک برقرار رہے گی۔

  • مصری پہلوان نے دانتوں سے 1150 ٹن وزنی جہاز کھینچ کر سب کو حیران کردیا

    مصری پہلوان نے دانتوں سے 1150 ٹن وزنی جہاز کھینچ کر سب کو حیران کردیا

    مصر کے معروف پہلوان اور طاقت کے عالمی مقابلوں میں شہرت حاصل کرنے والے اشرف مہروس عرف "اسٹرونگ مین” نے ایک اور ناقابلِ یقین کارنامہ انجام دے کر دنیا کو حیران کردیا۔

    بحیرۂ احمر کے مشہور سیاحتی مقام ہُرغادہ میں اشرف مہروس نے اپنے دانتوں کی مدد سے 700 ٹن وزنی بحری جہاز کھینچ کر شائقین کو دنگ کر دیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ پہلوان نے یہاں ہی ہمت نہیں ہاری بلکہ مزید دو جہاز بھی ساتھ باندھ کر کھینچنے کی کوشش کی اور کامیاب ہوئے۔ تینوں جہازوں کا مجموعی وزن تقریباً 1150 ٹن تھا۔

    44 سالہ اشرف مہروس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا مقصد اپنے ہی 2018ء میں بنائے گئے ریکارڈ کو توڑنا تھا، جس میں انہوں نے 614 ٹن وزنی جہاز کھینچنے کا کارنامہ سرانجام دیا تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ اس تازہ ترین کارکردگی کو گنیز ورلڈ ریکارڈ میں درج کروانے کے لیے درخواست دی جائے گی۔

    اشرف مہروس کی قامت 6 فٹ 3 انچ اور وزن 155 کلوگرام ہے۔ اپنی فٹنس کے راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ روزانہ کم از کم 6 گھنٹے کی سخت ورزش کرتے ہیں، جو دو سیشنز پر مشتمل ہوتی ہے۔ اشرف نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی قسم کے سپلیمنٹس استعمال نہیں کرتے بلکہ قدرتی غذا پر انحصار کرتے ہیں۔ ان کی خوراک میں زیادہ تر انڈے، چکن اور مچھلی شامل ہیں جو پروٹین اور آئرن سے بھرپور ہوتی ہیں۔یہ پہلا موقع نہیں کہ اشرف مہروس نے اپنی طاقت سے دنیا کو حیران کیا ہو۔ رواں سال مارچ میں بھی انہوں نے اپنے دانتوں سے 279 ٹن وزنی ٹرین کو 10 میٹر تک گھسیٹ کر گنیز سرٹیفکیٹ حاصل کیا تھا۔

  • مقبوضہ کشمیر کے ہنگاموں نے آمر مودی کی نام نہاد جمہوریت کا پردہ فاش کر دیا

    مقبوضہ کشمیر کے ہنگاموں نے آمر مودی کی نام نہاد جمہوریت کا پردہ فاش کر دیا

    مقبوضہ کشمیر کے ہنگاموں نے آمر مودی کی نام نہاد جمہوریت کا پردہ فاش کر دیا

    نااہل اور فاشسٹ مودی کی انتہا پسندی نے بھارت کے زیر تسلط علاقوں کو انتشار کی طرف دھکیل دیا،ظالم اور مکار مودی نے فریب دے کرآرٹیکل 370 منسوخ کرکے کشمیر میں اپنی آمریت قائم کی،فاشسٹ مودی کے 5 اگست کے دھوکے نے کشمیری عوام کے حقوق سلب کیے،جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے ایم پی آغا سید روح اللہ مہدی نے مودی کی آمریت اور مکاری کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا،لہہ میں ہونے والے پرتشدد احتجاج پر جے کے این سی کےایم پی آغا سید روح اللہ مہدی نے کہا "کچھ طبقوں کو یہ دھوکہ ہوا کہ 5 اگست 2019 کے فیصلے ان کے حق میں ہوں گے”آج انہیں پتا چلا ہے کہ 2019 کے فیصلے نہ صرف کشمیری بلکہ لداخ کے عوام کے بھی خلاف تھے،2019 کے فیصلے نے کشمیری عوام سے ان کے اختیارات اور فیصلہ کرنے کا حق چھین لیا،سب سے بڑے مجرم وہ لوگ ہیں جو دہلی میں اقتدار میں ہیں اور عوام کی آواز سنے بغیر فیصلے کرتے ہیں، اب ہمارے جائز مطالبات اور جدوجہد کو بدنام کیا جا رہا ہے،

    فاشسٹ مودی کا نام نہاد "فیصلہ” اب دھوکے اور فریب کے طور پر بے نقاب ہو چکا ہے،غاصب مودی کی جابرانہ پالیسیوں نے کشمیر کو کھلی جیل اور انسانی حقوق کے قبرستان میں بدل دیا ہے

  • مودی کا نیا بھارت، منی پور کے بعد لداخ بھی خونریز ہنگاموں کی لپیٹ میں

    مودی کا نیا بھارت، منی پور کے بعد لداخ بھی خونریز ہنگاموں کی لپیٹ میں

    مودی کا نیا بھارت، منی پور کے بعد لداخ بھی خونریز ہنگاموں کی لپیٹ میں آ گیا

    بی جے پی اور آر ایس ایس کی ہندوتوا پالیسیوں نے بھارت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا،منی پور کے بعد لداخ بھی خونریز ہنگاموں کی لپیٹ میں آ گیا ، حالات مودی حکومت کے کنٹرول سے باہر ہوتے جارہے ہیں،لداخ کی خودمختاری اور چھٹے شیڈول کے مطالبے اب احتجاجی مظاہروں میں تبدیل ہو گئے، مودی حکومت کا احتجاجی مظاہروں پر وحشیانہ کریک ڈاؤن جاری ہے،کارگل جنگ کے سابق فوجی سمیت چار نوجوان ہلاک، سینکڑوں زخمی،پچاس سے زائد افراد گرفتار کر لئے گئے،لداخ کی خودمختاری کی جدوجہد کے علمبردار سونم وانگچک نیشنل سیکیورٹی ایکٹ کے تحت گرفتارکر لئے گئے،

    راہول گاندھی نے لداخ میں جاری مودی حکومت کی بربریت و سفاکیت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اپنے پیغام میں کہا”لداخ کے عظیم لوگ، ان کی ثقافت اور روایات آج بی جے پی اور آر ایس ایس کے وحشیانہ حملوں کی لپیٹ میں ہیں”لداخ کے لوگوں نے خودمختاری مانگی، بی جے پی نے 4 نوجوانوں کو مار کر جواب دیا،
    لداخ کو آواز دو، انہیں چھٹا شیڈول دو،

    کارگل جنگ کے سابق فوجی تسیوانگ تھرچین کے والد نے مودی حکومت سے دردناک سوال کرتے ہوئے پوچھا؛ "میرا بیٹا کارگل جنگ میں گولیوں سے بچ گیا، مگر آج اپنی ہی فوج نے اسے مار ڈالا”

    منی پور میں بھی کارگل جنگ کے ایک سابق فوجی کے خاندان کو سرِعام برہنہ گھما کر تزلیل کی گئی،مودی حکومت نے لداخ جیسے پرامن خطے کو آج جبر اور استحصال کی آماجگاہ بنا دیا ہے ،مودی نے پرامن آوازوں کو دبانے کے لیے ظلم کو ریاستی پالیسی بنا لیا ہے،

  • ملتان اور گرد و نواح میں سیلاب کی تباہ کاریاں برقرار، متاثرین مشکلات کا شکار

    ملتان اور گرد و نواح میں سیلاب کی تباہ کاریاں برقرار، متاثرین مشکلات کا شکار

    ملتان کی تحصیل جلالپور پیروالا کی درجنوں بستیاں گزشتہ انیس روز سے سیلابی پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں، جہاں پانی کی نکاسی نہ ہونے کے باعث مکین شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ مسلسل کھڑے پانی نے مقامی افراد کی املاک، گھر اور کھڑی فصلیں تباہ کر دی ہیں، جس کے باعث متاثرہ خاندان کھلے آسمان تلے کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

    مقامی افراد کا کہنا ہے کہ بار بار متعلقہ اداروں کو آگاہ کرنے کے باوجود اب تک خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پانی کی فوری نکاسی اور متاثرین کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔ادھر انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ نوراجہ بھٹہ بند میں پڑنے والے شگاف کو پُر کر لیا گیا ہے، جس کے بعد دریائے ستلج کا پانی جلالپور پیروالا کی بستیوں میں داخل ہونا رک گیا ہے۔ اس اقدام کے بعد علاقے میں ریلیف اور ٹرانسپورٹ آپریشن جاری ہے، تاہم پانی کی سطح کم نہ ہونے کے باعث صورتحال تاحال سنگین ہے۔

    سیلاب کی وجہ سے ایم 5 موٹر وے بھی 18 روز سے ملتان سے جھانگڑا انٹرچینج تک بند ہے، اور حکام کے مطابق جیسے ہی پانی کی سطح میں کمی آئے گی، بحالی کا آپریشن شروع کر دیا جائے گا۔دریں اثنا، ملتان کے قریب موضع ہمروٹ بھی زیرِ آب آگیا ہے۔ مقامی افراد نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ علاقے میں مسلسل کھڑے پانی کے باعث بخار، جلدی امراض اور دیگر وبائی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔

    دوسری جانب دریائے سندھ میں کوٹری بیراج پر سیلابی صورتحال دم توڑ گئی ہے، اور وہاں بہاؤ درمیانے درجے سے کم ہو کر دو لاکھ 90 ہزار کیوسک رہ گیا ہے۔ ملک کے دیگر دریا معمول کے مطابق بہہ رہے ہیں۔ادھر منگلا ڈیم 99 فی صد اور تربیلا ڈیم 100 فی صد تک بھر چکے ہیں، جس سے پانی کے مزید دباؤ کا اندیشہ ہے اور ماہرین نے صورتحال پر کڑی نظر رکھنے کی ہدایت دی ہے۔

  • وزیر اعلیٰ  پنجاب  کے بیان پر   سندھ  بار کونسل میں ہڑتال

    وزیر اعلیٰ پنجاب کے بیان پر سندھ بار کونسل میں ہڑتال

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بیان پر سندھ بارکونسل کی جانب سے احتجاج کیا گیا، سندھ بار کونسل نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے بیانات واپس لینے اور معافی ما نگنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    سندھ بار کونسل کی جانب سے مریم نواز کے بیان پر آج ہڑتال اور عدالتی کارروائی کےبائیکاٹ کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ مریم نواز نے فیصل آباد میں تقریب سے خطاب میں مخالفین کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا تھا کہ میرا پانی میرا پیسا، کسی کو اس سے کیا تکلیف ہے، پنجاب کو مشورہ دینے والے اپنے مشورے اپنے پاس رکھیں۔مریم نواز کا کہنا تھا این ایف سی میں چاروں صوبوں کو ایک جیسے پیسے ملتے ہیں، آپ پیسے کہاں لگاتے ہیں؟ مانگنے والا سلسلہ اب بند ہو جانا چاہیے، پنجاب نے آپ کے معاملات میں کبھی مداخلت نہیں کی، آپ بھی نہ کریں، آپ کے پاس ہر چیز کا حل کشکول لیکر کھڑے ہو جانا ہے؟

    علاوہ ازیں پاکستان پیپلزپارٹی نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بیان پر قومی اسمبلی اور سینیٹ سے واک آؤٹ کیا۔قومی اسمبلی اجلاس میں نوید قمر نے اعتراض اٹھایاکہ یہ میرا پانی میرا پیسہ کا کیا مطلب ہے؟ مریم نواز کی تقریر پر بہت افسوس ہوا، پنجاب میں پہلی بار ایسا سیلاب آیا لیکن سندھ کو اس کا تجربہ ہے۔

  • پاکستان نے 500 ملین ڈالر   یوروبانڈ کی بروقت ادائیگی کردی

    پاکستان نے 500 ملین ڈالر یوروبانڈ کی بروقت ادائیگی کردی

    پاکستان نے 500 ملین ڈالر یوروبانڈ کی بروقت ادائیگی کردی۔

    مشیرخزانہ خرم شہزاد نے کہا ہے کہ 2015 میں جاری کردہ 10 سالہ یوروبانڈ 30 ستمبر 2025 کو میچور ہوا جس کے بعد پاکستان نے 500 ملین ڈالر یوروبانڈ کی بروقت ادائیگی کردی، قرضوں کی بروقت ادائیگی پاکستان کے مالی نظم و ضبط کا ثبوت ہے، لیکویڈیٹی میں بہتری آئی ہے، عالمی اداروں نے پاکستان کی خودمختار ریٹنگ میں بہتری کی، سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھ رہا ہے، بانڈز پریمیئم پر ٹریڈ ہو رہے ہیں، قرض کا جی ڈی پی تناسب 77 فیصد سے کم ہو کر 70 فیصد پر آگیا، کُل سرکاری قرض میں بیرونی قرض کا حصہ 38 سے کم ہو کر 32 فیصد رہ گیا ہے مالی سال 2025 میں قرض کے بڑھنے کی رفتار نمایاں طور پر کم رہی، عالمی سطح پر قرض لینے کی لاگت میں کمی سے پاکستان کو فائدہ ہوگا۔

  • نکاح رجسٹراروں کو پابند کیا جائے کہ وہ 18 سال سے کم عمر کی شادی نہ کریں،عدالت

    نکاح رجسٹراروں کو پابند کیا جائے کہ وہ 18 سال سے کم عمر کی شادی نہ کریں،عدالت

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے 15 سال کی لڑکی کو اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محمد اعظم خان نے 24 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے،عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ کم عمری کی شادی شریعت میں باطل نہیں، مگر قانون کے تحت جرم ہے، مدیحہ بی بی نے عدالت میں دیے گئے بیان میں والدین کے پاس نہ جانے اور شوہر کے ساتھ رہنے کی خواہش ظاہر کی، کرائسز سینٹر میں قیام کے دوران بھی لڑکی نے اپنی مرضی سے شوہر کے ساتھ رہنے کا کہا، اگرچہ شریعت کے مطابق بلوغت اور رضامندی کے بعد نکاح درست ہے، اسلام آباد چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2025 کے تحت 18 سال سے کم عمر میں شادی جرم ہے، نکاح نامے میں دلہن کی عمر تقریباً 18 سال درج کی گئی، نادرا ریکارڈ میں عمر 15 سال ہے۔

    عدالتی فیصلے میں چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 1929 اور مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کے حوالہ جات شامل کیے گئے ہیں،عدالت نے فیصلے میں سفارشات دیتے ہوئے اس کی کاپی تمام متعلقہ وزارتوں اور فیملی کورٹس کے ججز کو بھجوانے کی ہدایت کی،اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے فیصلے میں سفارش کی گئی ہے کہ شادی، نابالغی اور فوجداری قوانین میں ہم آہنگی پیدا کی جائے، نکاح رجسٹراروں کو پابند کیا جائے کہ وہ 18 سال سے کم عمر کی شادی نہ کریں، نادرا کے سسٹم کو اس طرح بہتر بنایا جائے کہ عمر کی تصدیق کے بغیر نکاح نامہ جاری نہ ہو،عوام میں آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ کم عمری کی شادی کے نقصانات سے بچا جا سکے، فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان، وزارت قانون اور وزارت انسانی حقوق کو بھجوائی جائے۔ وزارت داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد، ڈی جی نادرا اور سیکریٹری اسلامی نظریاتی کونسل کو بھی فیصلے کی کاپی بھجوائی جائے،

  • امریکی معاہدہ سے فلسطینیوں کی لازوال قربانیاں ضائع ہونے کا اندیشہ ہے،خالد مسعود سندھو

    امریکی معاہدہ سے فلسطینیوں کی لازوال قربانیاں ضائع ہونے کا اندیشہ ہے،خالد مسعود سندھو

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ فلسطین کے مستقبل کے فیصلے کا اختیار صرف فلسطینی عوام کو ہے،اسرائیل ماضی میں بھی کبھی معاہدوں کا پابند نہیں رہا، اس مرتبہ بھی وہ وقت حاصل کر کے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے ، امریکی معاہدہ سے فلسطینیوں کی لازوال قربانیوں کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے،حماس کو فلسطین کے لوگوں نے منتخب کیا ہے، انہیں امت دہشت گرد نہیں سمجھتی.

    خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ جنگ بندی اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ہے تا کہ غزہ کے لوگوں کی نسل کشی کو روکا جائے،ٹرمپ کے پیش کردہ معاہدے سے آنے والے دنوں میں واضح ہو جائے گا کہ کس حد تک یہ امن قائم کرنے میں مؤثر ثابت ہوگا،بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس معاہدے کی آڑ میں اسرائیل صرف وقت کا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے،اور اپنی شکست کے داغ مٹانا چاہتا ہے،حماس اس مسئلے کی فریق ہے، اسکا ردعمل آنا باقی ہے،اسرائیل اور اسکی تمام تر انتظامیہ بشمول نیتن یاہو جنگی مجرم ہیں جن کا احتساب ہونا چاہئے،

    خالد مسعود سندھو کا مزید کہنا تھا کہ یہ بات بالکل واضح ہونی چاہیے کہ جب فلسطین و کشمیر کی تحریکیں دہشتگردی نہیں تو کشمیری و فلسطینی دہشتگرد کیسے ہو گئے،اسرائیل دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ہے، اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے اور اس پر بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا مؤقف واضح ہے ،پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا، فلسطینیوں کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی، انہیں اپنی زمین کے فیصلے کرنے کا حق حاصل ہے،مسلمان افواج کو بیت المقدس اور فلسطین کی آزادی کے لئے بھر پور جدوجہدکرنی چاہئے.