Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بلاول زرداری قومی اسمبلی پہنچ گئے

    بلاول زرداری قومی اسمبلی پہنچ گئے

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی پر ہمیشہ ہی سب سے زیادہ تنقید ہوتی ہے۔

    بلاول بھٹو زرداری اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی ملاقات ہوئی،میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج تقریر میں ہی تمام گفتگو کروں گا۔بعد ازاں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور خاتون اول و رکن قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے

    علاوہ ازیں اعظم نذیر تارڑ نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایوان میں آج ترمیم کے حوالے سے ووٹنگ ہوگی، اگر اس میں ترمیم کی ضرورت ہوئی تب سینیٹ میں پیش ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کہیں پر ابہام ہے تو بہتر ہے کہ اس پر بحث ہو، آج اس کو ایوان میں لے جائیں گے اور اس پر بحث ہوگی، آئین کو تبدیل کرنے کا اختیار صرف پارلیمان کے پاس ہے۔وزیر قانون کا کہنا تھا کہ آئینی کورٹ بھی اس کو دوبارہ نہیں لکھ سکتی۔

  • قومی اسمبلی اجلاس، محمود اچکزئی نے ترمیمی بل کی کاپی پھاڑ دی

    قومی اسمبلی اجلاس، محمود اچکزئی نے ترمیمی بل کی کاپی پھاڑ دی

    قومی اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن رہنما محمود خان اچکزئی نے 27 ویں ترمیم کے بل کی کاپی پھاڑ دی۔

    27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے قومی اسمبلی کے اجلاس میں محمود خان اچکزئی اظہار خیال کے لیے کھڑے ہوئے تو انہوں نے 27 ویں ترمیم کے بل کی کاپی پھاڑ دی۔محمود اچکزئی نے کہا کہ یہ حکومت فارم 47 پر قائم کی گئی ہے، اب یہ بتائیں ایسی پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم کا اختیار دیا جا سکتا ہے۔

    دوسری جانب میڈیا سے گفتگو میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ترامیم کا حصہ نہیں بنیں گے، واک آوٹ اور احتجاج بھی کریں گے جب کہ تقریریں بھی کریں گے۔نواز شریف کی پارلیمنٹ میں متوقع آمد کے سوال پر بیرسٹر گوہر نے جواب دیا کہ نواز شریف آئیں نا آئیں وہ اب پاکستانی سیاست سے غیر متعلق ہو چکے ہیں، پارلیمان میں نواز شریف کے لیے کسی نے بھی ریڈ کارپٹ نہیں بچھائی۔

  • ٹک ٹاک کا کری ایٹرز کو محفوظ تر، بااختیار بنانے کا نیا فیچرز متعارف

    ٹک ٹاک کا کری ایٹرز کو محفوظ تر، بااختیار بنانے کا نیا فیچرز متعارف

    ٹک ٹاک نے حال ہی میں اپنے پلیٹ فارم کو تمام صارفین کے لیے مزید محفوظ، معاون اور بااختیار بنانے کے لیے نئے فیچرز کا ایک جامع سلسلہ متعارف کرایا ہے۔ ٹک ٹاک پاکستان میں کری ایٹرز کو حفاظتی اور پیداواری ٹولز فراہم کر رہا ہے تاکہ وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں پر توجہ مرکوز کر سکیں، اپنے مداحوں سے بہتر رابطہ قائم کر سکیں، اور پلیٹ فارم پر زیادہ کنٹرول محسوس کریں۔ یہ فیچرز کری ایٹرز کو غیر مطلوب رویوں سے محفوظ رکھتے ہیں اور انہیں اپنے کنٹنٹ اور مداحوں کے تعاملات کو بہتر طور پر منظم کرنے کے قابل بناتے ہیں۔

    ٹک ٹاک نے "کری ایٹر کیئر موڈ” کے نام سے ایک نیا فیچر متعارف کرایا ہے، جو پاکستانی کری ایٹرز کو اپنے کمنٹس سیکشن کو بہتر طور پر منظم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ جب یہ فیچر فعال کیا جاتا ہے تو کری ایٹر کیئر موڈ خودکار طریقے سے اُن تبصروں کو چھپا دیتا ہے جو توہین آمیز، ہراساں کرنے والے یا فحش نوعیت کے ہوں، خاص طور پر ایسے کمنٹس جنہیں کری ایٹرز پہلے ہی رپورٹ یا حذف کر چکے ہوں۔اس سے کری ایٹرزکو یہ سہولت ملتی ہے کہ وہ تبصروں کی نگرانی میں زیادہ وقت ضائع کرنے کی بجائے ویڈیوز بنانے توجہ دیں۔اس فیچر کواسمارٹ ٹیکنالوجی کی طاقت حاصل ہے جو ہر کری ایٹرسے سیکھتی ہے اور طرزِ عمل کے نمونوں کی بنیاد پر ایک محفوظ اور زیادہ مثبت کمیونٹی ماحول کو یقینی بناتی ہے۔

    کنٹنٹ چیک لائٹ (Content Check Lite) کے نام سے بھی ، کری ایٹرز کے لیے، ایک اور مفید ٹول متعارف کرایا گیا ہے، جو صرف ٹک ٹاک اسٹوڈیو کے ویب ورژن میں دستیاب ہے۔یہ فیچر کری ایٹرز کو یہ چیک کرنے کی سہولت دیتا ہے کہ اُن کی ویڈیوز کی رسائی محدود تو نہیں ہوگی یعنی ان کی ویڈیوز”فور یو(For You) “ پیج پر ظاہر ہوں گی یا نہیں، تاکہ وہ پوسٹ کرنے سے پہلےاُن میں ضروری تبدیلیاں کر سکیں۔ممکنہ مسائل کی ابتدائی نشاندہی کے ذریعے، کری ایٹرز اپنے کنٹنٹ میں ایسی تبدیلیاں کر سکیں گے جو کمیونٹی گائیڈ لائنزکے مطابق ہوں، جبکہ اُن کی تخلیقی آزادی بھی برقرار رہے۔اس کے علاوہ، پلیٹ فارم نے کری ایٹر اِن باکس (Creator Inbox) بھی متعارف کرایا ہے جو یہ ایک پیشہ ورانہ میسجنگ ہب ہے، جس میں فوری جوابات کے ٹیمپلیٹس اور میسیجز جو ابھی تک پڑھے نہیں گئے ہیں اور اسٹار لگائے گئے پیغامات کے لیے الگ فولڈرز شامل ہیں۔یہ سہولت کری ایٹرزکے لیے اپنے مداحوں کے ساتھ رابطے کو مزید آسان اور تیز بناتی ہے۔

    یہ ٹولز اِس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ٹک ٹاک کری ایٹرز کو آن لائن کمیونٹیز بنانے کے سفر میں محفوظ، بااعتماد اور معاون ماحول فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔پلیٹ فارم پاکستانی کری ایٹرزکو ترغیب دیتا ہے کہ وہ اِن ٹولز سے فائدہ اٹھائیں، اِن کے استعمال کا طریقہ سیکھیں، اور پھر اِنہیں استعمال کرتے ہوئے ایک مثبت، بامقصد اور محفوظ تخلیقی تجربہ تشکیل دیں۔

  • نواز شریف پاکستانی سیاست سے غیر متعلقہ ہو چکے ہیں،بیرسٹر گوہر

    نواز شریف پاکستانی سیاست سے غیر متعلقہ ہو چکے ہیں،بیرسٹر گوہر

    تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ ہم واک آؤٹ بھی کریں گے، احتجاج بھی کریں گے اور تقریریں بھی کریں گے۔ ہم نے اعلان کیا ہوا ہے کہ ہم ان ترامیم کا حصہ نہیں بنیں گے۔

    اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کے دوران بیرسٹر گوہر سے ایک صحافی نے سوال پوچھا کہ نواز شریف کی پارلیمنٹ آمد پر پر پی ٹی آئی کیسے ویل کم کرے گی،اس پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ نواز شریف آئیں یا نہ آئیں وہ اب پاکستانی سیاست سے غیر متعلقہ ہو چکے ہیں۔ نواز شریف تو خیال کر رہے تھے کہ مجھے لا کر ریڈ کارپٹ بچھائی جائے گی، پارلیمان میں نواز شریف کے لیے کسی نے بھی ریڈ کارپٹ نہیں بچھائی، نواز شریف نے پارلیمان میں صرف تین الفاظ بولے ہیں، جو بندہ ریٹائر ہو جاتا ہے یہ اس کے خلاف ہو جاتے ہیں، خواجہ آصف سے پوچھیں پرویز اشرف حکومت کے خلاف کیا آپ پٹیشن لے کر افتخار چوہدری کے پاس نہیں گئے؟ میاں صاحب خود وکیل بن کر ممیو گیٹ کمیشن بنوانے نہیں گئے؟

  • کراچی، فتنہ الخوارج کا انتہائی مطلوب دہشتگرد  گرفتار

    کراچی، فتنہ الخوارج کا انتہائی مطلوب دہشتگرد گرفتار

    کراچی کے علاقے شیر شاہ میں خفیہ اطلاع پر رینجرز اور سی ٹی ڈی کی کارروائی، فتنہ الخوارج کا انتہائی مطلوب دہشتگرد محمد نور گرفتار کرلیا گیا۔

    ترجمان کے مطابق ملزم گرفتاری سے بچنے کیلئے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں روپوش رہا۔رپورٹ کے مطابق مطلوب دہشتگرد محمد نور عرف خم 2010ء میں قیوم محسود کے گروپ میں شامل ہوا، ملزم نے ٹارگٹ کلنگ، بم دھماکوں اور اغواء برائے تاوان کی وارداتوں کا اعتراف کرلیا۔ترجمان کا کہنا ہے کہ دہشتگرد کے بیشتر ساتھی کراچی آپریشن کے دوران مارے جاچکے یا گرفتار کرلیے گئے، گرفتار دہشتگرد سے بڑی تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا ہے۔رینجرز ترجمان کے مطابق دہشتگرد کے خلاف تھانہ منگھو پیر اور خواجہ اجمیر نگری میں مقدمات درج ہیں۔

  • ‏کیڈٹ کالج وانا کے اساتذہ اور کیڈٹس کے حوصلے بلند،فیلڈ مارشل کی لمحہ بہ لمحہ آپریشن پر نظر

    ‏کیڈٹ کالج وانا کے اساتذہ اور کیڈٹس کے حوصلے بلند،فیلڈ مارشل کی لمحہ بہ لمحہ آپریشن پر نظر

    ‏کیڈٹ کالج وانا کے اساتذہ اور کیڈٹس کے حوصلے بلند، دہشتگردی کے خلاف سیسہ پلائی دیوار کا عزم دیکھنے کو ملا

    ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے لمحہ بہ لمحہ آپریشن پر نظر رکھی- فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ہدایت کی تھی کہ “قوم کے یہ معمار ہمارا سرمایہ ہیں، ہر گز کوئی آنچ نہ آنے پائے” کیڈٹس کا کہنا ہے کہ پاک فوج کے جوان 24 گھنٹے سے زیادہ کیڈٹس اور خوارج کے درمیان ڈھال بن کر کھڑے رہے، شہادتیں دے کر بچوں کو بچایا ،

    افغان خوارج کا کیڈٹ کالج وانا پر حملہ ناکام بنانے والے آپریشن کمانڈر کرنل محمد طاہر کا کہنا تھا کہ "10نومبر کو 5 افغانی خوارج نے کیڈٹ کالج وانا پر حملہ کر دیا "خوارج نے وانا کیڈٹ کالج کو، جو کہ پاک فوج کی طرف سے ساؤتھ وزیرستان کی عوام کے لئے قیمتی تحفہ ہے ، نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی،ایک خود کش حملہ آور نے دھماکہ کیا جبکہ دیگر خورج نے گیٹ میں داخل ہونے کی کوشش کی،خوارج نے پہلے زیر تعلیم بچوں کو یرغمال بنا نے کی کوشش کی ،سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی نے خوارج کے اس حملے اور مذموم عزائم کو ناکام بنا دیا ، ہم نے دہشتگردوں کو مخصوص بلاک میں محدود کر کے طالب علموں کی حفاظت کو یقینی بنایا ،رات 10سے ساڑھے 10 بجے کے قریب خوارج کے خلاف بھرپور آپریشن کے بعد تمام خوارج کو جہنم واصل کر دیاگیا

    زیر تعلیم کیڈٹ کا کہنا تھا کہ ہم عصر کے وقت ڈرل کمپٹیشن کی تیاری کر رہے تھے کہ خود کش دھماکہ ہوا، ہمیں معلوم ہو چکا تھا کہ حملہ تعلیم کے دشمنوں نے کیا ہے ، جو ہمیں تعلیم سے روکنا چاہتے ہیں، پاک فوج کے جوانوں نے ہمیں بحفاظت کالج سے محفوظ مقام پر منتقل کیا ،تعلیم کے دشمن کچھ بھی کر لیں ، ہمیں تعلیم سے نہیں روک سکتے، جب خودکش دھماکہ ہوا تو سارے کیڈٹس ڈرل کر رہے تھے، اساتذہ نے کہا کہ آپ پر سکون ہو جائیں اب پاک فوج آگئی ہے ،

    الحمدالللہ، بر وقت کاروائی کی وجہ سے ایک خوفناک دہشتگردی کا ارادہ خاک میں مل گیا۔ پاکستان زندہ باد

  • قومی اسمبلی اجلاس جاری،27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کا امکان

    قومی اسمبلی اجلاس جاری،27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کا امکان

    قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت جاری ہے

    قومی اسمبلی اجلاس: بیرسٹر گوہر علی خان نے نقطہ اعتراض پر اظہارِ خیال کیا، بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ ہم نے مذاکرات میں حصہ لینے کی ہر ممکن کوشش کی، ہمارے ایم این ایز کو پارلیمنٹ ہاؤس سے اٹھایا گیا،چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ 26 نومبر کو ہمارے لوگوں کی شہادتیں ہوئیں،ہم پاکستان کے ساتھ تھے اور ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑے رہیں گے، ہمارے وزیر اعلیٰ کو اپنے لیڈر کے ساتھ ملنے نہیں دیا جا رہا،میرا کام مذاکرات کی سہولت کاری کرنا ہے،

    قومی اسمبلی اجلاس میں محمود اچکزئی اور ایاز صادق کی گفتگوہوئی ہے، ایاز صادق نے کہا کہ اچکزئی صاحب حکومت نے آپ کو کئی مرتبہ مذاکرات کی دعوت دی ،محمود اچکزئی نے کہا کہ آپ لوگ عوام کے منتخب نمائندہ نہیں ہیں،ایاز صادق نے کہا کہ اچکزئی صاحب میں نے آپ کے لیڈر کو 2 مرتبہ شکست دی ہے،اور میرے خلاف کوئی انتخابی پٹیشن بھی نہیں،

    دوسری جانب بتایا جا رہا ہے حکومت 27 ویں ترمیم میں مزید ترمیم کرنے جا رہی ہے، اسمبلی سے اضافی ترمیم کی منظوری پر بل دوبارہ سینیٹ بھجوایا جائیگا، حکومت اضافی ترمیم کی منظوری کابینہ سے لےگی اِسی لئے کابینہ کا ہنگامی اجلاس بھی بلایا گیا اور سینیٹ کا کل ہونے والا اجلاس بھی آج طلب کیا گیا۔

    قومی اسمبلی اجلاس،اسلام آباد دھماکے کی مذمت،جانی نقصان پر گہرے دکھ،افسوس کا اظہار
    اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے قومی اسمبلی اجلاس کے دوران جوڈیشل کمپلیکس جی-ایلون اسلام آباد میں خود کش بم دھماکے اور کیڈٹ کالج وانا میں دہشت گردوں کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ یہ ایوان قیمتی انسانی جانوں کے نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتا ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے یہ ایوان اپنے ریاستی اداروں کے عزم اور قربانیوں کو سلام پیش کرتا ہے۔اسپیکر سردار ایاز صادق نے جاں بحق افراد کے اہلخانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔اجلاس میں جاں بحق افراد کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی گئی۔

  • دہشتگردوں  کیخلاف سیکورٹی فورسزکی کاروائیاں جاری،کراچی،گوادر سے مشتبہ  گرفتار

    دہشتگردوں کیخلاف سیکورٹی فورسزکی کاروائیاں جاری،کراچی،گوادر سے مشتبہ گرفتار

    پاکستان بھر میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں،دہشت گردوں اور مشتبہ عناصر کی گرفتاریاں کی گئی ہیں،دہشت گردوں کیخلاف آپریشن جاری ہیں،

    قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کراچی ایئرپورٹ پر انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائی کرتے ہوئے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق زیرِ حراست شخص سے بلوچستان میں تخریبی سرگرمیوں سے متعلق تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار فرد کو قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ تحقیقاتی اداروں کے حوالے کیا جا رہا ہے۔

    بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں سیکیورٹی فورسز نے ایک اہم کارروائی کے دوران مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا۔ حکام کے مطابق یہ آپریشن علاقے میں سرگرم منظم نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈاؤن کا حصہ تھا۔ زیرِ حراست شخص سے جبری گمشدگیوں سے متعلق حالیہ رپورٹس پر تفتیش کی جا رہی ہے۔ ضلع بھر میں چیک پوسٹوں اور گشت میں اضافہ کر دیا گیا ہے تاکہ مزید واقعات کو روکا جا سکے۔

    پولیس اور نیم فوجی اداروں نے پنجگور کے علاقے گچک میں کارروائی کے دوران کئی افراد کو گرفتار کر لیا۔ یہ کارروائی ایئرپورٹ روڈ کے قریب ایک لاش کی دریافت کے بعد کی گئی۔ حکام کے مطابق ملزمان سے قتل کے محرکات اور ممکنہ دہشت گرد یا جرائم پیشہ نیٹ ورکس سے روابط کی چھان بین کی جا رہی ہے۔ فرانزک ٹیموں کو جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

    تربت (ضلع کیچ)سیکیورٹی حکام نے گِنا اور کوشکلات کے علاقوں میں ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران کئی مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق یہ افراد حالیہ پرتشدد واقعات میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ سرچ آپریشن کے دوران شواہد اکٹھے کیے گئے جنہیں فرانزک معائنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔ گرفتار افراد سے مزید تفتیش جاری ہے اور انہیں مقامی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

    سیکیورٹی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ کالعدم تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی (BRA) کے کمانڈرز نے بلوچ لبریشن فرنٹ (BLF) کی مدد سے ڈیرہ بگٹی میں مشترکہ کیمپ قائم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اطلاعات کے مطابق BLF نے BRA کو اسلحہ و گولہ بارود فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ 13 نومبر کو یومِ شہدائے بلوچستان کے موقع پر ممکنہ حملوں کے خدشے کے باعث ضلع میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ بڑھا دی گئی ہے

    سبی میں فرنٹیئر کور کے کنٹونمنٹ کے اطراف سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اسپتال کے قریب ممکنہ دہشت گرد حملے کی اطلاع کے بعد گشت اور ناکوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات اہلکاروں، تنصیبات اور عوام کے تحفظ کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

    دیذیگ–گومزی کے پہاڑی علاقے میں 9 نومبر کی شام فورسز اور مسلح عناصر کے درمیان جھڑپ ہوئی۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق جوابی کارروائی میں دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کر دیے گئے اور علاقے کو کلیئر کر لیا گیا۔

    بلوچستان حکومت نے صوبے بھر میں سیکورٹی خدشات کے پیشِ نظر بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ بند اور موبائل انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی ہیں۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق 10 سے 16 نومبر تک صوبے کے 36 اضلاع میں 3G اور 4G سروس بند رہے گی جن میں کوئٹہ، گوادر، خضدار، مستونگ، پنجگور، کیچ، سبی، نصیرآباد، زیارت، نوشکی، جھل مگسی، بولان اور ڈیرہ بگٹی شامل ہیں۔ بلوچستان ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے 12 سے 14 نومبر تک بین الاضلاعی سروس معطل رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ خضدار کے نال تحصیل میں بینکوں کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔

    نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے پولیس کانسٹیبل الیاس شہید ہو گئے۔ شہید اہلکار تفتیشی عملے کے رکن تھے۔ واقعہ کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔گزشتہ شب دہشت گردوں نے گورنمنٹ پرائمری اسکول عبدالقیوم، پہاڑ خیل پکا میں گھس کر فرنیچر کو آگ لگا دی۔ تعلیمی ادارہ بند کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ ذاتی رنجش کا شاخسانہ ہے، تاہم اسکول کو نشانہ بنانا سنگین جرم ہے۔ محکمہ تعلیم نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے تمام اسکولوں میں سیکیورٹی بڑھانے کی ہدایت کی ہے۔درہ زندہ کے علاقے میں کسٹمز کی موبائل ٹیم پر حملہ، ایک اہلکار زخمی، پانچ محفوظ رہے۔ نامعلوم حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہو گئے۔ علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے جبکہ فرانزک ٹیمیں شواہد جمع کر رہی ہیں۔

    پولیس کے بہادر جوانوں نے احمدزئی تھانے پر دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنا دیا۔ پولیس کے مطابق حملہ آور چھوٹے اور بھاری ہتھیاروں سے لیس تھے تاہم جوانوں کی جوابی کارروائی میں دہشت گرد بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔ ڈی آئی جی سجاد خان اور ڈی پی او سلیم عباس نے اہلکاروں کی بہادری کو سراہا جبکہ آئی جی خیبر پختونخوا ظلفیقار حمید نے انعامات کا اعلان کیا۔

    کچی کمر کے علاقے میں سیکورٹی فورسز نے کارروائی کر کے کالعدم تنظیم کے مطلوب کمانڈر حارث نواز عرف ضرار مروت کو ہلاک کر دیا۔ پولیس کے مطابق ہلاک دہشت گرد، مطلوب دہشت گرد مزدہری مروت کا بھائی تھا۔ آپریشن خفیہ اطلاعات پر کیا گیا، علاقے میں مزید سرچ آپریشن جاری ہے۔گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج بنوں کے لیکچرار منہاج الدین کو نامعلوم دہشت گردوں نے اغوا کر لیا۔ پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے بازیابی کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) اور بنوں پولیس کے مشترکہ آپریشن میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (فتنہ الخوارج) کے دو خطرناک دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ سی ٹی ڈی ذرائع کے مطابق ہلاک دہشت گرد بڑے حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ فائرنگ کے تبادلے کے بعد دونوں دہشت گرد مارے گئے جبکہ دو فرار ہو گئے۔ہلاک ہونے والوں میں فضل الرحمن عرف حنظلہ اور صفیر الرحمن شامل ہیں۔ ان کے قبضے سے کلاشنکوف، پستول، دستی بم اور موبائل فون برآمد ہوئے۔ آئی جی پولیس اور ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی نے اہلکاروں کی بہادری کو سراہا اور دہشت گردی کے خاتمے تک آپریشنز جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

  • اسلام آباد خودکش حملے کی ذمہ داری پر دہشتگردگروہوں میں اختلاف

    اسلام آباد خودکش حملے کی ذمہ داری پر دہشتگردگروہوں میں اختلاف

    اسلام آباد میں حالیہ خودکش حملے کے بعد مختلف دہشت گردگروہوں کے متضاد بیانات نے صورتحال کو الجھا دیا ہے۔

    ابتدائی طور پر تحریکِ طالبان پاکستان (سابق جماعت الاحرار) کے عمر خالد خراسانی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ نشانہ ججز، وکلاء اور عدالتی عملہ تھا۔ تاہم چند گھنٹوں بعد جماعت الاحرار نے ایک وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے اس ذمہ داری سے لاتعلقی اختیار کی اور پہلے بیان کو جعلی اور من گھڑت قرار دیا۔دوسری جانب ایک اور گروہ اتحاد المجاہدین پاکستان (IMP) نے بھی اسلام آباد کی ضلعی عدالت اور وانا کیڈیٹ کالج پر ہونے والے حملوں سے خود کو مکمل طور پر الگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اُن کی تنظیم تعلیمی یا عوامی اداروں کو نشانہ نہیں بناتی۔

    ماہرینِ امورِ دفاع و سلامتی کے مطابق ان متضاد بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کے درمیان انتظامی کمزوری، اندرونی اختلافات اور نظریاتی تقسیم بڑھتی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق مختلف گروہوں میں اعتماد کی کمی اور عوامی ردِعمل کے خوف نے ان تنظیموں کی صفوں میں انتشار پیدا کر دیا ہے، جو ملک میں موجود انتہا پسند نیٹ ورکس کی مزید ٹوٹ پھوٹ اور تقسیم کی نشاندہی کرتا ہے۔سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے تناظر میں انٹیلی جنس شیئرنگ اور کوآرڈی نیشن مزید بڑھائی جا رہی ہے تاکہ ان بکھرے ہوئے گروہوں کی ممکنہ کارروائیوں کو قبل از وقت ناکام بنایا جا سکے۔

  • حکومتِ سندھ نے کراچی کے لیے ہائی الرٹ جاری کردیا

    حکومتِ سندھ نے کراچی کے لیے ہائی الرٹ جاری کردیا

    حکومتِ سندھ کے ہوم ڈیپارٹمنٹ، سیکیورٹی ڈویژن نے کراچی شہر کے لیے 12 نومبر سے 30 نومبر 2025 تک اعلیٰ سطحی سیکیورٹی الرٹ جاری کردیا ہے۔

    یہ اقدام وفاقی و صوبائی خفیہ اداروں سے موصول ہونے والی مصدقہ اطلاعات کے بعد کیا گیا ہے جن کے مطابق شہرِ قائد میں دہشت گردی یا تخریب کاری کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔نوٹیفکیشن نمبر HD/Sec/Alert-11/2025 کے مطابق، 12 نومبر کی رات 00:01 بجے سے 30 نومبر کی رات 23:59 بجے تک شہر میں سیکیورٹی سخت رہے گی، اور تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔حکومتی اعلامیے میں درج ہے کہ درج ذیل مقامات پر خصوصی نگرانی اور سخت چیکنگ کی جائے گی

    شاپنگ مالز و تجارتی مراکز
    ملینیم مال، ڈولمین مال کلفٹن، لکی ون مال، ایٹریئم مال، اور گلستانِ جوہر، نارتھ ناظم آباد، طارق روڈ و صدر کے بڑے شاپنگ سینٹرز۔

    عوامی اجتماعات کی جگہیں
    کلفٹن بیچ، سی ویو، ایمپریس مارکیٹ، فریئر ہال، قائدِ اعظم کا مزار، پورٹ گرینڈ اور قریبی تفریحی مقامات۔

    نقل و حمل کے مراکز
    جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ، کراچی کنٹونمنٹ ریلوے اسٹیشن، سٹی اسٹیشن سمیت کراچی ڈویژن کے تمام ریلوے اسٹیشن۔

    تعلیمی ادارے
    جامعہ کراچی، این ای ڈی یونیورسٹی، ڈاؤ یونیورسٹی، اقراء یونیورسٹی، اور شہر کے تمام سرکاری و نجی اسکول، کالجز، اکیڈمیز۔

    اعلان میں کہا گیا ہے کہ تعلیمی ادارے چھٹیوں، ویک اینڈز اور آف ٹائمنگز کے دوران بھی ہائی الرٹ رہیں، اور شام 7 بجے کے بعد غیر مجاز داخلے کی اجازت نہ دیں۔مالز اور مارکیٹس میں واک تھرو گیٹس، میٹل ڈیٹیکٹرز، اور 100 فیصد چیکنگ کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔تمام داخلی راستوں پر اضافی مسلح گارڈز تعینات کیے جائیں، جبکہ سی سی ٹی وی فیڈ قریبی پولیس اسٹیشن سے منسلک ہو۔تعلیمی اداروں کے لیے صرف ایک گیٹ کھلا رکھنے، لیڈی سرچرز کی تعیناتی، گیٹ سے 100 میٹر کے اندر پارکنگ پر پابندی، اور مشکوک گاڑیوں یا افراد کی فوری اطلاع دینے کے احکامات دیے گئے ہیں۔

    عوام کے لیے ہدایات کی گئی ہیں کہ غیر ضروری طور پر ہجوم والی جگہوں پر جانے سے گریز کریں۔گاڑیوں کو غیر محفوظ مقامات پر کھڑا نہ کریں۔مشکوک بیگز یا اشیاء کی فوری اطلاع 15 یا رینجرز واٹس ایپ نمبر 1101 پر دیں،چیکنگ کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں سے مکمل تعاون کریں۔